واٹساپ دعوتی مواد نماز میں سترہ

نماز میں سترہ

11 پیغامات

1 🕌 نماز میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث کی روشنی میں

🕌 نماز میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث کی روشنی میں

لفظ ”سترہ“ لغت میں اوٹ یا پردہ کے معنی میں ہے۔
شرعی اصطلاح میں: نماز میں ہر وہ چیز سترہ ہے جسے سامنے رکھ کر نمازی اپنی آڑ بنائے، جیسے لکڑی، نیزہ، دیوار، ستون، سواری وغیرہ۔

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ رسول اللہ ﷺ کا فرمان
عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:
«لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ»
📚 صحیح مسلم (506)؛ صحیح ابن خزیمہ (800)

ترجمہ: ”سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو، اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے روکنے کے لیے سختی کرو، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“

━━━━━━━━━━━━━━━
2️⃣ سترے کے قریب ہونا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا»
📚 سنن أبي داود (698)

ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترے کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو جائے۔“

━━━━━━━━━━━━━━━
3️⃣ نبی ﷺ کا ستون کے پاس نماز پڑھنا
قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ:
«كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ… فَقَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا»
📚 صحیح بخاری (502)

ترجمہ: یزید بن ابی عبید کہتے ہیں: میں سلمہ بن اکوعؓ کے ساتھ مسجد نبوی میں حاضر ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ قرآن والے ستون کے پاس نماز پڑھتے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا: میں نے نبی ﷺ کو اسی ستون کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
4️⃣ نبی ﷺ کا سواری یا پالان کو سترہ بنانا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا:
«أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتْ الزَّكَابُ؟ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيَعْدِلُهُ، فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ، أَوْ قَالَ: مُؤَخَّرَهُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ»
📚 صحیح بخاری (507)

ترجمہ: نبی ﷺ اپنی سواری کو سامنے کر لیتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ اگر سواری ہٹ جاتی تو پالان کو کھڑا کر لیتے اور اس کی لکڑی کو سترہ بنا لیتے۔ حضرت ابن عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
5️⃣ سیدنا عمرؓ کی تاکید
عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ:
«رَآنِي عُمَرُ وَأَنَا أُصَلِّي بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي إِلَى سُتْرَةٍ فَقَالَ: صَلِّ إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (7502)

ترجمہ: قرہ بن ایاس کہتے ہیں: عمرؓ نے مجھے دو ستونوں کے بیچ نماز پڑھتے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ کر سترے کے قریب کر دیا اور فرمایا: "اس کی طرف نماز ادا کرو۔“

━━━━━━━━━━━━━━━
6️⃣ صحابہ کا ستونوں کی طرف دوڑنا
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
«لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ… حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ ﷺ»
📚 صحیح بخاری (503، 481)

ترجمہ: انسؓ کہتے ہیں: میں نے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف دوڑتے تاکہ ان کو سترہ بنا لیں، یہاں تک کہ نبی ﷺ تشریف لے آتے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
7️⃣ انسؓ کا عمل مسجد حرام میں
قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ:
«رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2853)

ترجمہ: یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: میں نے انس بن مالکؓ کو مسجد حرام میں دیکھا کہ انہوں نے ایک لاٹھی گاڑ دی اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
8️⃣ ابن عمرؓ کا طریقہ
عَنْ نَافِعٍ قَالَ:
«كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلًا إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، قَالَ لِي: وَلِّني ظَهْرَكَ»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2878)

ترجمہ: نافع کہتے ہیں: جب ابن عمرؓ کو مسجد میں کوئی ستون نہ ملتا تو وہ مجھے کہتے: اپنی پشت میری طرف کر دو (یعنی مجھے سترہ بنا دو)۔

🔎 اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن وہ تب تک اپنی جگہ پر ٹھہرا رہے جب تک نمازی نماز ختم نہ کرے۔

📌 خلاصہ:

سترہ کے بغیر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

قریب ہو کر پڑھنے کی تاکید ہے۔

ستون، دیوار، سواری، پالان، لاٹھی، حتی کہ کسی شخص کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے۔

صحابہ کرام اور نبی ﷺ کا عمل اس پر واضح دلیل ہے۔

2 🕌 کس کس چیز کو سترہ بنایا جا سکتا ہے؟ احادیث سے راہنمائی

🕌 کس کس چیز کو سترہ بنایا جا سکتا ہے؟ احادیث سے راہنمائی

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ يزيد بن أبى عبيد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كنت آتي مع سلمة بن الأكوع فيصلي عند الأسطوانة التى عند المصحف، فقلت: يا أبا مسلم أراك تتحرى الصلاة عند هذه الأسطوانة، قال: فإني رأيت النبى ﷺ يتحرى الصلاة عندها»
📚 صحیح بخاری (502)

ترجمہ: میں سلمہ بن اکوعؓ کے ساتھ مسجد نبوی آتا تھا۔ وہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن رکھا رہتا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا: میں نے نبی ﷺ کو اسی ستون کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
2️⃣ «إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُرْكِزُ لَهُ الْحُرْبَةَ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا»
📚 صحیح بخاری (498)

ترجمہ: نبی ﷺ کھلے میدان میں نیزہ گاڑ لیتے اور اس کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے، اور صحابہؓ ان کے پیچھے نماز ادا کرتے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
3️⃣ «إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ»
📚 صحیح مسلم (1111)

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنا کوئی سترہ رکھ لے اور اس کی طرف نماز پڑھ لے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
4️⃣ باب: الصلاة إلى الراحلة والبعير والشجر والرحل
📚 صحیح بخاری (507)

ترجمہ: نبی ﷺ کبھی اونٹ کی کاٹھی کی پچھلی لکڑی کو سترہ بنا لیتے، کبھی سواری، درخت یا کوئی اور چیز جو سامنے ہو، اس کو سترہ بنا لیتے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
5️⃣ حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
«لقد رأيتنا ليلة بدر وما منا إنسان إلا نائم إلا رسول الله ﷺ فإنه كان يصلي إلى شجرة ويدعو حتى أصبح…»
📚 مسند احمد (1161)، حدیث صحیح

ترجمہ: میں نے غزوہ بدر کی رات دیکھا، ہم سب سو گئے تھے مگر رسول اللہ ﷺ ایک درخت کو سامنے کر کے نماز پڑھتے رہے اور صبح تک دعا کرتے رہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
⭐ خلاصہ کلام:

نماز میں سترہ لینا سنت مؤکدہ ہے۔

دیوار، ستون، درخت، لاٹھی، نیزہ، پالان، سواری—جو چیز بھی سامنے آڑ بن سکے اسے سترہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہاں تک کہ بیٹھا ہوا شخص بھی سترہ بن سکتا ہے۔

📌 شرط یہ ہے کہ سترہ زمین کے ساتھ جڑا ہو اور نمازی کے سامنے ہو۔

3 🕌 سترہ اور نمازی کے درمیان مسنون فاصلہ — احادیث کی روشنی میں

🕌 سترہ اور نمازی کے درمیان مسنون فاصلہ — احادیث کی روشنی میں

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ:
«كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ»
📚 صحیح بخاری (496)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کے برابر جگہ تھی۔

2️⃣ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ:
قال رسول الله ﷺ:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا»
📚 سنن ابی داود (698)

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو۔

3️⃣ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما:
«كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قُبُلَ وَجْهِهِ… حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قُبُلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّى»
📚 صحیح بخاری (506)

ترجمہ: جب ابن عمرؓ کعبہ میں داخل ہوتے تو سامنے کی دیوار کی طرف چلتے اور جب ان کے اور دیوار کے درمیان تین ہاتھ (تقریباً ساڑھے چار فٹ) کا فاصلہ رہ جاتا تو نماز پڑھتے۔

⭐ وضاحت:

بکری کے گزرنے جتنا فاصلہ یعنی تقریباً ڈیڑھ فٹ۔

ابن عمرؓ کا عمل: تین ہاتھ (تقریباً 4.5 فٹ)۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ سترہ سجدے کی جگہ کے قریب ہونا چاہیے، زیادہ دوری نہیں۔

📌 خلاصہ:
نمازی اور سترے کے درمیان مسنون فاصلہ اتنا ہو کہ بکری گزر سکے یا تقریباً 3 ہاتھ (4.5 فٹ) سے کم۔

4 🕌 سترہ کی اونچائی کی مسنون مقدار — احادیث کی روشنی میں

:

🕌 سترہ کی اونچائی کی مسنون مقدار — احادیث کی روشنی میں

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ ابو ذر رضی اللہ عنہ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ»
📚 صحیح مسلم (510)

ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اگر اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنا اونچا سترہ ہو تو وہ کافی ہے۔“

2️⃣ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«إِذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ»
📚 سنن أبي داود (685)

ترجمہ: ”جب تم اپنے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لو تو پھر تمہارے آگے سے گزرنے والا تمہیں نقصان نہیں دے گا۔“

3️⃣ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا:
«سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ: مِثْلُ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ»
📚 صحیح مسلم (500)

ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کی کاٹھی کی پچھلی لکڑی کے برابر۔“

4️⃣ تابعی عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ:
«آخِرَةُ الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ»
📚 سنن أبي داود (686، 689)

ترجمہ: ”پالان کا پچھلا حصہ ایک ذراع یا اس سے زیادہ اونچا ہوتا ہے۔“

⭐ وضاحت:

"ذراع" یعنی ہتھیلی کے سرے سے کہنی تک کا حصہ ≈ ڈیڑھ فٹ۔

لہٰذا سترے کی مسنون اونچائی کم از کم ڈیڑھ فٹ ہے۔

چوڑائی کی کوئی قید نہیں، لیکن اونچائی ضروری ہے۔

اس سے کم اونچائی سترے کے لیے کافی نہیں۔

5 🕌 کیا مسجد میں بھی سترہ ضروری ہے؟ — صحیح احادیث

🕌 کیا مسجد میں بھی سترہ ضروری ہے؟ — صحیح احادیث

❗ جی ہاں: صحرا ہو یا مسجد، سفر ہو یا حضر (گھر)، نماز فرض ہو یا نفل — ہر جگہ نماز کے لیے سترہ ضروری ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ نبی ﷺ مسجد میں بھی ستون کو سترہ بناتے تھے
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ:
«كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ، قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا»
📚 صحیح بخاری (502)

ترجمہ: یزید بن ابی عبید کہتے ہیں: میں سلمہ بن اکوعؓ کے ساتھ آتا اور دیکھتا کہ وہ قرآن والے ستون کے پاس نماز پڑھتے۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔

2️⃣ صحابہؓ بھی مسجد میں ستون کو سترہ بناتے تھے
عَن أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
«لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ…»
📚 صحیح بخاری (503)

ترجمہ: انسؓ کہتے ہیں: میں نے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مغرب کی نماز سے پہلے نفل ادا کرنے کے لیے ستونوں کی طرف جلدی کرتے اور ان کو سترہ بناتے۔

3️⃣ انسؓ مسجد حرام میں بھی سترہ لیتے تھے
قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ:
«رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2853)

ترجمہ: یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: میں نے انس بن مالکؓ کو مسجد حرام میں دیکھا کہ انہوں نے ایک لاٹھی گاڑ دی اور اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے۔

4️⃣ ابن عمرؓ مسجد میں انسان کو بھی سترہ بناتے تھے
قَالَ نَافِعٌ:
«كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلًا إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ قَالَ لِي: وَلِّني ظَهْرَكَ»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2878)

ترجمہ: نافع کہتے ہیں: جب ابن عمرؓ کو مسجد میں ستون نہ ملتا تو مجھے کہتے: میری طرف اپنی پشت کر دو (یعنی مجھے سترہ بنا دو)۔

⭐ خلاصہ:

نبی ﷺ نے مسجد میں بھی سترہ کا اہتمام فرمایا۔

صحابہؓ مسجد کے ستون، لاٹھی یا کسی شخص کو سترہ بناتے تھے۔

سترہ کا حکم مسجد، گھر اور صحراء — ہر جگہ یکساں ہے۔

6 🕌 کھلی جگہ میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث سے

🕌 کھلی جگہ میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث سے

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ نبی ﷺ اور عید کی نماز میں سترہ
عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ:
«إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أُمِرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوْضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ»
📚 صحیح بخاری (494)، صحیح مسلم (501)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب عید کی نماز کے لیے باہر نکلتے تو حکم فرماتے کہ نیزہ گاڑ دیا جائے، آپ ﷺ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے نماز ادا کرتے۔ آپ ﷺ سفر میں بھی ایسا کرتے اور بعد میں امراء نے بھی یہی طریقہ اپنایا۔

2️⃣ نبی ﷺ اور کھلی جگہ میں عنزہ (چھوٹا نیزہ)
قَالَ أَبُو جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ:
«خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا»
📚 صحیح بخاری (499)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس دوپہر کی سخت گرمی میں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے وضو کیا اور ہمیں ظہر و عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ کے سامنے ایک عنزہ (چھوٹا نیزہ) گاڑا ہوا تھا اور عورتیں اور گدھے اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔

3️⃣ غزوہ بدر کی رات کا واقعہ
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
«لَقَدْ رَأَيْتُنَا لَيْلَةَ بَدْرٍ، وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ إِلَّا نَائِمٌ، إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى شَجَرَةٍ وَيَدْعُو حَتَّى أَصْبَحَ…»
📚 مسند احمد (1161)، حدیث صحیح (رقم 599)

ترجمہ: ہم نے غزوہ بدر کی رات دیکھا کہ ہم سب سو گئے تھے، مگر رسول اللہ ﷺ ایک درخت کو سامنے کر کے نماز پڑھتے اور صبح تک دعا کرتے رہے۔

⭐ خلاصہ:

کھلی جگہ ہو یا سفر — سترہ لینا نبی ﷺ کی سنت ہے۔

آپ ﷺ نے عید کی نماز میں نیزہ، سفر میں عنزہ، اور بدر کی رات درخت کو سترہ بنایا۔

اس سے واضح ہے کہ کھلی جگہ میں بھی سترہ لینا ضروری ہے۔

7 🕌 امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے

🕌 امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ امام بخاریؒ کا باب:
«سترة الإمام سترة من خلفه»
(امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے سترہ ہے)

2️⃣ حدیث ابن عباسؓ:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ:
«أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ»
📚 بخاری، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الامام سترۃ من خلفہ (494)؛ صحیح مسلم (503)

ترجمہ: ابن عباسؓ فرماتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں دیوار کے علاوہ کسی اور سترے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے کچھ نمازیوں کے آگے سے گزرا، پھر اتر کر گدھی کو چھوڑ دیا اور صف میں شامل ہو گیا۔ کسی نے اعتراض نہ کیا۔

3️⃣ استدلال:

ابن عباسؓ کے عمل پر کسی نے اعتراض نہیں کیا، کیونکہ وہ سب امام کے سترے کے پیچھے تھے۔

امام بخاریؒ نے "غیر جدار" کو صفت مانا کہ وہاں سترہ تھا (جیسے نیزہ، لاٹھی وغیرہ)۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام کا سترہ ہی مقتدیوں کے لیے سترہ ہے۔

4️⃣ ائمہ و محدثین کی تشریحات:
🔹 علامہ عینیؒ: "الي غير جدار" سے ظاہر ہے کہ وہاں کوئی اور سترہ تھا (لاٹھی، نیزہ یا کوئی چیز)۔
🔹 شاہ ولی اللہ دہلویؒ: "امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے، مقتدیوں کے آگے سے گزرنا گناہ نہیں۔"
🔹 مولانا عبید اللہ مبارکپوریؒ: امام بخاریؒ نے "غير" کو صفت کے لیے لیا، اور یہی قول اقرب اور بہتر ہے۔

⭐ خلاصہ:

نبی ﷺ کے عمل سے ثابت ہے کہ امام کا سترہ سب مقتدیوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص امام کے سترے کی موجودگی میں صف کے آگے سے گزر جائے تو اس پر گناہ نہیں۔

8 🕌 نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ — احادیث کی روشنی میں

🕌 نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ — احادیث کی روشنی میں

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ سخت وعید
عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»
📚 صحیح بخاری (510)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو جائے کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس (سال) تک کھڑا رہنا، گزرنے سے بہتر ہے۔

2️⃣ کعب الأحبار کا قول
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ:
«إِنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»
📚 موطأ امام مالک (385) – شیخ سلیم ہلالی نے صحیح کہا ہے۔

ترجمہ: کعب الاحبار کہتے تھے: جو شخص نمازی کے سامنے سے گزرتا ہے اگر وہ جان لے کہ اس پر کتنا وبال ہے تو اس کے لیے زمین میں دھنس جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ نمازی کے سامنے سے گزرے۔

3️⃣ عبداللہ بن عمرؓ کا فتویٰ
قَالَ مَالِكٌ:
«إِنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَاللّٰهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ النِّسَاءِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ»
📚 موطأ امام مالک (386)

ترجمہ: امام مالکؒ فرماتے ہیں: انہیں خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرؓ ناپسند کرتے تھے کہ نماز پڑھتی عورتوں کے آگے سے گزرا جائے۔

⭐ خلاصہ:

نمازی کے سامنے سے گزرنا انتہائی بڑا گناہ ہے۔

حدیث میں فرمایا گیا: گزرنے کے بجائے چالیس سال کھڑا رہنا بہتر ہے۔

صحابہ و سلف نے بھی اسے سختی سے منع فرمایا۔

⚠ افسوس! آج خصوصاً حرمین شریفین میں اس وعید کو بھلا دیا گیا ہے، لوگ بے دریغ نمازیوں کے آگے سے گزرتے ہیں، حالانکہ یہ سخت گناہ ہے۔

9 🕌 سترہ کے اندر سے گزرنے والے کو روکنے کا حکم — صحیح احادیث

🕌 سترہ کے اندر سے گزرنے والے کو روکنے کا حکم — صحیح احادیث

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ رسول اللہ ﷺ کا فرمان:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ»
📚 صحیح بخاری (509)؛ صحیح مسلم (259)

ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی سترہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے روکے، اگر نہ مانے تو اس سے سختی کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“

2️⃣ عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ:
«صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى جِدَارٍ، فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ ﷺ، فَمَا زَالَ يُدَارِيهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجِدَارِ، حَتَّى لَصِقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ، فَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ»
📚 مسند احمد (6852)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ دیوار کو سترہ بنا کر نماز پڑھا رہے تھے، ایک بکری کا بچہ آگے سے گزرنے لگا۔ آپ ﷺ اسے روکتے رہے اور دیوار کے قریب ہوتے گئے حتیٰ کہ آپ ﷺ کا پیٹ دیوار سے لگ گیا اور بکری پیچھے سے گزری۔

3️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيَّ، فَخَنَقْتُهُ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِي… فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ»
📚 سنن دارقطنی (1375)، مسند احمد، معجم طبرانی

ترجمہ: شیطان میرے آگے سے گزرنا چاہتا تھا تو میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتیٰ کہ اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ پر محسوس کی… پس جو شخص استطاعت رکھے کہ اس کے اور قبلے کے درمیان کوئی نہ گزرے، اسے ایسا کرنا چاہیے۔

4️⃣ اثر ابن عمرؓ:
«إِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ تُقَاتِلَهُ فَقَاتِلْهُ»
📚 صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ

ترجمہ: ابن عمرؓ نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکا اور فرمایا: اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑ لو۔

5️⃣ ابو سعید خدریؓ کا واقعہ:
ابو صالح سمان کہتے ہیں:
«رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ، فَأَرَادَ شَابٌّ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ، فَعَادَ، فَدَفَعَهُ أَشَدَّ، فَشَكَا الشَّابُّ إِلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ»
📚 صحیح بخاری (509)

ترجمہ: ابو سعید خدریؓ نماز میں سترہ کے ساتھ تھے۔ ایک نوجوان بار بار آگے سے گزرنے لگا۔ آپ نے اسے دھکا دیا اور کہا: میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اگر کوئی آگے سے گزرنا چاہے تو اسے روک دو، پھر بھی نہ مانے تو اس سے سختی کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔

⭐ خلاصہ:

سترہ ہونے کی صورت میں نمازی کو آگے سے گزرنے نہیں دینا چاہیے۔

اگر گزرنے والا ضد کرے تو اسے ہاتھ سے روکنے کی اجازت ہے۔

نرمی → سختی → دھکا، مگر اتنی حد تک کہ نماز ٹوٹے نہیں۔

10 🕌 نماز کو کون سی چیز توڑتی ہے؟ — صحیح احادیث کی روشنی میں

🕌 نماز کو کون سی چیز توڑتی ہے؟ — صحیح احادیث کی روشنی میں

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ، وَيَقِيهِ ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ»
📚 صحیح مسلم (511)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں، اور ان سب سے بچاؤ پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر سترہ رکھنے سے ہو سکتا ہے۔

2️⃣ حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ»
📚 صحیح مسلم (510)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔

3️⃣ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ردّ:
جب اہل عراق میں یہ روایت مشہور ہوئی کہ عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑتے ہیں تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا:

«شَبَّهْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ؟! لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ يُصَلِّي، فَيُرِيدُ أَنْ يَتَسَوَّرَ الْبَيْتَ فَيَكْرَهُ أَنْ يُوقِظَنِي، فَيَسْتَطِيبُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ»
📚 صحیح بخاری (511)؛ صحیح مسلم (512)

ترجمہ: عائشہؓ نے فرمایا: "اے اہل عراق! کیا تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا ہے؟! میں خود بسا اوقات نبی ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ جب آپ کو تہجد کے لیے کھڑے ہونا ہوتا تو آپ مجھے جگانا پسند نہ کرتے اور مجھ سے اور قبلے کے درمیان ہی سے گزر جاتے۔"

🔎 وضاحت:

حضرت عائشہؓ کا اعتراض اصل حکم پر نہیں تھا بلکہ اس اندازِ بیان پر تھا کہ عورت کا ذکر کتے اور گدھے کے ساتھ ایک ہی فہرست میں کیا گیا۔

ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ عورت کا معاملہ بالکل ویسا نہیں جیسے کتے یا گدھے کا ہے۔

4️⃣ سنن ابی داؤد میں اضافہ ہے:
«الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ»
📚 سنن ابی داؤد (703)

ترجمہ: نماز کو عورت (خصوصاً حائضہ)، گدھا اور کتا توڑ دیتے ہیں۔

⭐ دیگر روایات اور اقوال:

ابو سعید خدریؓ سے مروی: «لا يقطع الصلاة شيء» (ابو داؤد 720) — یہ روایت ضعیف ہے، لہٰذا قابل حجت نہیں۔

سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (3323) میں:
«تُعَادُ الصَّلَاةُ مِنْ مَمَرِّ الْحِمَارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ»
ترجمہ: اگر گدھا، عورت یا کالا کتا آگے سے گزرے تو نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی۔

📌 خلاصہ:

صحیح احادیث کے مطابق عورت، گدھا اور کتا (خصوصاً کالا) نمازی کے آگے سے گزرنے پر نماز کو توڑ دیتے ہیں۔

سترہ رکھنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔

حضرت عائشہؓ نے اصل حکم کی نفی نہیں کی بلکہ اہل عراق کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم عورت کو کتوں اور گدھوں کے برابر کیوں گن رہے ہو، حالانکہ معاملہ تعبیر و بیان کا ہے۔

11 🕌 کیا حرمین (مسجد حرام و مسجد نبویﷺ) میں سترہ کا اہتمام ضروری نہیں؟

🕌 کیا حرمین (مسجد حرام و مسجد نبویﷺ) میں سترہ کا اہتمام ضروری نہیں؟

━━━━━━━━━━━━━━━
❌ بعض لوگ سنن نسائی (759) اور دیگر کتب میں موجود حضرت کثیر بن کثیر عن ابیہ عن جدہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں:

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِحِذَائِهِ فِي حَاشِيَةِ الْمَقَامِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ أَحَدٌ»

📚 نسائی (759)، ابوداؤد (2016)، ابن ماجہ (2958)

ترجمہ: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں اور آپ اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی نہ تھا۔“

🔎 محدثین کا حکم:

اس روایت کے راوی کثیر بن المطلب لین الحدیث ہیں۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: «رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّهُ مَعْلُول» (فتح الباری 1/745)

یعنی یہ روایت ضعیف ہے، لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں۔

✅ صحیح دلائل — حرمین میں بھی سترہ ضروری ہے

1️⃣ بطحاء مکہ میں نبی ﷺ نے سترہ لیا
عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
«صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى عَنَزَةٍ بِالْبَطْحَاءِ»
📚 صحیح بخاری (501)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے بطحاء مکہ میں ایک عنزہ (چھوٹا نیزہ) اپنے سامنے گاڑ کر ہمیں نماز پڑھائی۔

2️⃣ انس بن مالکؓ کا عمل مسجد حرام میں
قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ:
«رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2853)

ترجمہ: یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: میں نے انس بن مالکؓ کو مسجد حرام میں دیکھا کہ انہوں نے لاٹھی گاڑ کر اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے۔

3️⃣ نبی ﷺ کا عمومی حکم
«لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ»
📚 صحیح ابن خزیمہ (800)، صحیح مسلم (506)

ترجمہ: ”سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو۔“

⚠ نمازی کے آگے سے گزرنے کی وعید (حرم ہو یا غیر حرم):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»
📚 صحیح بخاری (510)

ترجمہ: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس (سال) کھڑا رہنا بہتر ہے بنسبت آگے سے گزرنے کے۔

📌 خلاصہ:

وہ روایت جس سے حرمین میں سترے کی نرمی کا استدلال کیا جاتا ہے ضعیف ہے۔

صحیح احادیث اور صحابہ کے آثار واضح کرتے ہیں کہ مسجد حرام و مسجد نبوی میں بھی سترہ ضروری ہے۔

نبی ﷺ نے بطحاء مکہ میں سترہ کے ساتھ نماز پڑھائی۔

انسؓ نے مسجد حرام میں لاٹھی گاڑ کر سترہ بنایا۔

نبی ﷺ نے عام حکم دیا: سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو۔

🕌 اس لیے مکہ و مدینہ سمیت ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جائے۔ البتہ حرمین میں ازدحام اور مجبوری کی حالت میں:
﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن: 16)
"جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو۔"