1 🕌 نماز میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث کی روشنی میں
🕌 نماز میں سترہ کا حکم — صحیح احادیث کی روشنی میں
لفظ ”سترہ“ لغت میں اوٹ یا پردہ کے معنی میں ہے۔
شرعی اصطلاح میں: نماز میں ہر وہ چیز سترہ ہے جسے سامنے رکھ کر نمازی اپنی آڑ بنائے، جیسے لکڑی، نیزہ، دیوار، ستون، سواری وغیرہ۔
━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ رسول اللہ ﷺ کا فرمان
عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:
«لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ»
📚 صحیح مسلم (506)؛ صحیح ابن خزیمہ (800)
ترجمہ: ”سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو، اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے روکنے کے لیے سختی کرو، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“
━━━━━━━━━━━━━━━
2️⃣ سترے کے قریب ہونا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا»
📚 سنن أبي داود (698)
ترجمہ: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترے کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو جائے۔“
━━━━━━━━━━━━━━━
3️⃣ نبی ﷺ کا ستون کے پاس نماز پڑھنا
قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ:
«كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ… فَقَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا»
📚 صحیح بخاری (502)
ترجمہ: یزید بن ابی عبید کہتے ہیں: میں سلمہ بن اکوعؓ کے ساتھ مسجد نبوی میں حاضر ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ قرآن والے ستون کے پاس نماز پڑھتے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا: میں نے نبی ﷺ کو اسی ستون کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
4️⃣ نبی ﷺ کا سواری یا پالان کو سترہ بنانا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا:
«أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتْ الزَّكَابُ؟ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيَعْدِلُهُ، فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ، أَوْ قَالَ: مُؤَخَّرَهُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ»
📚 صحیح بخاری (507)
ترجمہ: نبی ﷺ اپنی سواری کو سامنے کر لیتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ اگر سواری ہٹ جاتی تو پالان کو کھڑا کر لیتے اور اس کی لکڑی کو سترہ بنا لیتے۔ حضرت ابن عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
5️⃣ سیدنا عمرؓ کی تاکید
عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ:
«رَآنِي عُمَرُ وَأَنَا أُصَلِّي بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي إِلَى سُتْرَةٍ فَقَالَ: صَلِّ إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (7502)
ترجمہ: قرہ بن ایاس کہتے ہیں: عمرؓ نے مجھے دو ستونوں کے بیچ نماز پڑھتے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ کر سترے کے قریب کر دیا اور فرمایا: "اس کی طرف نماز ادا کرو۔“
━━━━━━━━━━━━━━━
6️⃣ صحابہ کا ستونوں کی طرف دوڑنا
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ:
«لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ… حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ ﷺ»
📚 صحیح بخاری (503، 481)
ترجمہ: انسؓ کہتے ہیں: میں نے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف دوڑتے تاکہ ان کو سترہ بنا لیں، یہاں تک کہ نبی ﷺ تشریف لے آتے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
7️⃣ انسؓ کا عمل مسجد حرام میں
قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ:
«رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2853)
ترجمہ: یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: میں نے انس بن مالکؓ کو مسجد حرام میں دیکھا کہ انہوں نے ایک لاٹھی گاڑ دی اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
8️⃣ ابن عمرؓ کا طریقہ
عَنْ نَافِعٍ قَالَ:
«كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلًا إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، قَالَ لِي: وَلِّني ظَهْرَكَ»
📚 مصنف ابن أبي شيبة (2878)
ترجمہ: نافع کہتے ہیں: جب ابن عمرؓ کو مسجد میں کوئی ستون نہ ملتا تو وہ مجھے کہتے: اپنی پشت میری طرف کر دو (یعنی مجھے سترہ بنا دو)۔
🔎 اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن وہ تب تک اپنی جگہ پر ٹھہرا رہے جب تک نمازی نماز ختم نہ کرے۔
📌 خلاصہ:
سترہ کے بغیر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
قریب ہو کر پڑھنے کی تاکید ہے۔
ستون، دیوار، سواری، پالان، لاٹھی، حتی کہ کسی شخص کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے۔
صحابہ کرام اور نبی ﷺ کا عمل اس پر واضح دلیل ہے۔