✿ آخر شب دعا کی قبولیت
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ»
📚 (صحیح مسلم: 757)
”ہر رات ایک گھڑی ایسی ہے، جب کوئی مسلمان بندہ دنیا یا آخرت کی بھلائی مانگے تو اللہ اسے عطا کرتا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا:
«أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ»
📚 (صحیح بخاری: 1145)
”میں بادشاہ ہوں! جو مجھے پکارے گا میں جواب دوں گا، جو مانگے گا میں عطا کروں گا، جو مغفرت چاہے گا میں معاف کروں گا۔“
✦ تہجد کا وقت دعا، سوال اور استغفار کے لیے سب سے قیمتی گھڑی ہے۔
✿ تہجد کے وقت فرشتوں کا نزول
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ»
📚 (صحیح مسلم: 755)
”رات کی نماز (تہجد) میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہی افضل ہے۔“
حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جب رات کو سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے تو فرشتے ان کی خوش الحانی سے قریب آگئے، یہاں تک کہ بادلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ»
📚 (صحیح بخاری: 5018)
”یہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سننے کے لیے قریب آگئے تھ
✿ حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ»
📚 (صحیح بخاری: 1131)
”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور سب سے محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“
(نصف رات سونا، تہائی رات قیام، اور چھٹا حصہ پھر سونا۔)
✿ تہجد: پچھلی امتوں کے صالحین کا شعار
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ»
📚 (ترمذی: 3549)
”قیام اللیل (تہجد) کی پابندی کرو، یہ تم سے پہلے کے صالحین کا طریقہ ہے، یہ رب کی قربت کا ذریعہ ہے، گناہوں کو مٹانے والا اور معاصی سے روکنے والا ہے۔“
✿ نماز تہجد کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے
نماز تہجد کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ترغیب دی اور گھر والوں کے ساتھ پڑھنے کی تاکید فرمائی۔
◈ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا، كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ»
📚 (ابو داود، کتاب الصلاة، باب قیام اللیل، حدیث: 1114)
”جب آدمی رات کو اٹھ کر اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے، پھر دونوں مل کر نماز پڑھتے ہیں تو انہیں ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“
➤ ﴿الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ﴾ سے مراد وہ خوش نصیب مرد و خواتین ہیں جن کا ذکر سورۃ الاحزاب (آیت: 35) میں ہوا ہے اور ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہے۔
✿ بیویوں کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی
رسول اللہ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کی نماز تہجد کے بارے میں بھی بہت فکر مند رہتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1126)
”تہجد کے وقت اللہ کے خزانے نازل ہوتے ہیں۔ صواحب الحجرات (یعنی حجرات کی عورتوں کو) کون بیدار کرے گا؟“
✿ بیٹی اور داماد کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی
رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فکر مند رہتے۔ ایک رات آپ ﷺ ان کے گھر گئے اور فرمایا:
«أَلَا تُصَلِّيَانِ؟»
📚 (صحیح بخاری: 1127)
”کیا تم دونوں تہجد نہیں پڑھتے؟“
✿ صحابہ کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی
رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی تہجد کے بارے میں بھی بہت فکر مند رہتے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1122)
”اگر عبداللہ رات کو تہجد پڑھنے لگے تو کتنا اچھا آدمی ہے۔“
✿ ایک صحابی کی نماز تہجد کے بارے میں فکر مندی
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک صحابی کی نماز تہجد کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے فرمایا:
«كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1152)
”وہ پہلے قیام اللیل کیا کرتا تھا (یعنی تہجد پڑھتا تھا) پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔“
➤ معلوم ہوا کہ نفل عمل جب شروع کر دیا جائے تو اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
«أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»
📚 (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، حدیث: 1830)
”اللہ تعالیٰ کو وہ عمل پسند ہے جو مستقل ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔“
✅ تہجد کے فضائل سے متعلق بیان مکمل ہوا۔ اب ان شاء اللہ اگلے حصے میں ہم نماز تہجد کے احکام و مسائل پیش کریں گے۔