واٹساپ دعوتی مواد نماز تہجد، احکام و فضائل

نماز تہجد، احکام و فضائل

16 پیغامات

1 ✿ نماز تہجد کی اہمیت اور فضیلت

✿ نماز تہجد کی اہمیت اور فضیلت

░ لغوی و شرعی تعریف

→ لغوی: تہجد کا مطلب ہے: کچھ دیر سونا اور پھر بیدار ہونا۔
→ شرعی: رات کے کسی حصے میں (خصوصاً آخری حصہ) پڑھی جانے والی نفل نماز۔
→ افضل وقت: اذانِ فجر سے ایک دو گھنٹے پہلے۔

░ رسول اللہ ﷺ کی ہدایت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«صلوا بالليل والناس نيام»
”رات کو اُس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں۔“
📚 (ابن ماجہ: 3251)

░ تہجد کے اہتمام کی تدابیر

✦ عشاء کے بعد غیر ضروری مصروفیات سے بچیں۔
✦ موت کو یاد رکھیں۔ (صحیح بخاری: 6415)
✦ بیدار ہوکر ذکر کریں، وضو کریں اور نماز پڑھیں۔ (صحیح بخاری: 1142)
✦ سونے سے پہلے اذکار اور آیت الکرسی پڑھیں۔
✦ زیادہ کھانے سے پرہیز اور دن میں قیلولہ کریں۔

░ نوافل کے چار اصول

★ نوافل کی وجہ سے فرائض نہ چھوٹیں۔
★ نوافل کو فرائض پر غالب نہ سمجھیں۔
★ کبھی کبھار رخصت پر بھی عمل کریں۔
★ مختلف سنتوں پر مختلف مواقع پر عمل کریں۔

░ قرآن و صحابہ کی تربیت تہجد کے ذریعے

ابتداء میں تہجد فرض تھی۔ یہ صحابہ کرام کی علمی و روحانی تربیت کا ذریعہ بنی:
→ توحید کو راسخ کیا گیا۔
→ رسالت کے مقام کو واضح کیا گیا۔
→ آخرت پر یقین مضبوط کیا گیا۔
→ صبر و برداشت کی صفات پیدا ہوئیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ﴾ (المزمل: 20)
”یقیناً آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں، اور آپ کے ساتھ ایک جماعت بھی (یہ عمل کرتی ہے)۔“

░ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أفضل الصلاة بعد الصلاة المكتوبة، الصلاة في جوف الليل»
”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے درمیانی حصے کی نماز (تہجد) ہے۔“
📚 (صحیح مسلم: 1163)

🌸 تہجد مومن کی پہچان ہے، قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور نوافل میں سب سے افضل عبادت ہے۔

2 ✿ قرآن مجید میں نماز تہجد کا ذکر

✿ قرآن مجید میں نماز تہجد کا ذکر

قرآن کریم میں آٹھ (8) مقامات پر نماز تہجد کا ذکر آیا ہے:

➊ سورۃ بنی اسرائیل (آیت: 79)
نماز تہجد کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود پر فائز کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

➋ سورۃ الفرقان (آیات: 64-66)
”عباد الرحمن“ کی صفات میں ذکر ہے کہ وہ راتوں کو طویل سجدوں اور قیام میں جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔

➌ سورۃ الذاریات (آیت: 17)
متقین تہجد میں استغفار کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کے لیے جنت کے باغات اور چشموں کا ذکر کیا گیا۔

➍ سورۃ السجدہ (آیات: 15-16)
اہل ایمان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، خوف اور امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں۔

➎ سورۃ المزمل (آیت: 20)
رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے قیام اللیل کی تعریف کی گئی کہ رب ان کے عمل کو جانتا ہے۔
اسی سورت کی آیت 6 میں تہجد کے دو مقصد بیان ہوئے:
→ نفس سرکش پر قابو پانا
→ قرآن میں تدبر کے لیے بہترین ماحول میسر آنا۔

➏ سورۃ الدھر (آیت: 26)
رات کو طویل قیام اور تسبیح کے ساتھ عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔

➐ سورۃ الانشراح (آیت: 8)
رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا: جب فارغ ہو جائیں تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

➑ سورۃ الزمر (آیت: 9)
نماز تہجد پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کی مثال دے کر فرق واضح کیا گیا۔

✿ تہجد اور مقام محمود

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جنت میں ایک اعلیٰ ترین درجہ ’مقام محمود‘ ہے، یہ صرف ایک شخص کو دیا جائے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں۔“
📚 (صحیح مسلم، کتاب الصلوة، حدیث: 384)

قرآن میں فرمایا گیا:
﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾
📚 (بنی اسرائیل: 79)

ترجمہ:
”رات کو تہجد پڑھیں، یہ آپ کے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کر دے۔“

✦ اس سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد اور مقام محمود کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور یہ درجہ خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔

🌸 تہجد بندے کو اللہ سے قریب کرتا ہے، دل کو نور عطا کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی یاد دلاتا ہے۔

3 ✿ نماز تہجد عباد الرحمن کا وظیفہ ہے

✿ نماز تہجد عباد الرحمن کا وظیفہ ہے

نماز تہجد عباد الرحمن کا وظیفہ ہے، یعنی رحمن کے خاص بندوں کا معمول، جو اُس کی رحمت کے مستحق ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا ‎۝٦٤‏ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ‎۝٦٥‏ إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ‎۝٦٦﴾
📚 (الفرقان: 64-66)

ترجمہ:
”(رحمن کے خاص بندے وہ ہیں) جو اپنے رب کے حضور سجدوں اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں، اور یوں دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! جہنم کے عذاب سے ہمیں بچا لے، اس کا عذاب تو لازماً چمٹ جانے والا ہے، بے شک وہ بہت بُرا ٹھکانا اور مقام ہے۔“

✦ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تہجد کے وقت طویل قیام اور طویل سجدے مطلوب ہیں۔

✿ تہجد میں عذابِ دوزخ سے نجات کی دعا

اوپر دی گئی آیت کے الفاظ ﴿رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ اس بات کی رہنمائی کرتے ہیں کہ تہجد کے وقت بندے کو جہنم سے پناہ مانگنے کی دعا لازماً کرنی چاہیے۔

✿ تہجد سے تقربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے

نماز دراصل ذکر اللہ (اللہ کی یاد) ہے۔ سجدے میں انسان اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أقرب ما يكون الرب من العبد فى جوف الليل الآخر، فإن استطعت أن تكون ممن يذكر الله فى تلك الساعة، فكن»
📚 (ترمذی: 3579)

”اللہ تعالیٰ بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، لہٰذا اگر تم ان بندوں میں شامل ہو سکو جو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ضرور شامل ہو جاؤ۔“

✦ معلوم ہوا کہ تہجد کا ہر لمحہ ذکر و یادِ الٰہی سے معمور ہونا چاہیے۔

✿ نوافل سے تقرب الٰہی

حدیث قدسی (صحیح بخاری) میں ہے:
«ولا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه…»
”میرا بندہ نفل عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔“
📚 (صحیح بخاری: 6502)

✦ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقرب بندہ اپنی زندگی کے ہر گوشے میں اللہ کی رضا کے مطابق چلتا ہے۔ یہی اللہ کی خوشنودی اور اس کے قرب کا اعلیٰ مقام ہے۔

🌸 تہجد، ذکر، دعا اور استغفار کے ذریعے بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اور جہنم سے نجات کے لیے دعائیں کرتا ہے۔ یہی عباد الرحمن کی اصل صفت ہے۔

4 ✿ نماز تہجد: تشکر و عبودیت کی مظہر

✿ نماز تہجد: تشکر و عبودیت کی مظہر

رسول اللہ ﷺ طویل قیام اللیل فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج گئے۔ پوچھا گیا:
”آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں؟“

آپ ﷺ نے فرمایا:
«أفلا أكون عبدا شكورا»
”کیا میں ایک شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
📚 (صحیح مسلم: 2819)

✦ غور کیجیے! آپ ﷺ نے تہجد کی دو وجوہات بیان کیں:
→ عبودیت (بندگی)
→ تشکر (شکر گزاری)

➤ معلوم ہوا کہ نماز تہجد تشکر اور عبودیت کی عظیم علامت ہے۔

✿ نماز تہجد کے دو بنیادی مقاصد

➊ نفس پر قابو پانا

رات کی خاموشی اور سکون میں اٹھ کر نماز پڑھنا سرکش نفس کو قابو میں لانے کا مؤثر طریقہ ہے۔

اس وقت مخلوق سو رہی ہوتی ہے، بندہ تازگی و نشاط کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے، گویا قرآن اسی پر نازل ہو رہا ہے۔

یہ ہے ﴿أَشَدُّ وَطْئًا﴾ یعنی نفس پر قابو پانے کا بہترین ذریعہ۔

➋ فہمِ قرآن

تہجد کا ماحول قرآن کی سمجھ اور تدبر کے لیے سب سے موزوں ہے۔

دل یکسو ہو جاتا ہے، خیالات منتشر نہیں ہوتے۔

یہ ہے ﴿أَقْوَمُ قِيلًا﴾ یعنی قرآن ٹھیک پڑھنے اور سمجھنے کے لیے سب سے موزوں وقت۔

✿ قرآنی دلیل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا﴾
📚 (المزمل: 6)

ترجمہ:
”در حقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے نہایت مؤثر اور قرآن کو ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“

🌸 لہٰذا تہجد ایک ایسی عبادت ہے جو بندے کو شکر گزاری، عبودیت، نفس پر قابو اور فہمِ قرآن کی منزلوں تک پہنچاتی ہے۔

5 ✿ تہجد کے وقت تین اہم کام: دعا، سوال اور استغفار

✿ تہجد کے وقت تین اہم کام: دعا، سوال اور استغفار

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (حدیث قدسی):

«ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر فيقول: من يدعوني فأستجيب له، من يسألني فأعطيه، من يستغفرني فأغفر له»
📚 (صحیح مسلم: 758)

ترجمہ:
”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات جب آخری تہائی حصہ باقی رہتا ہے قریبی آسمان پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں معاف کر دوں؟“

✦ اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کا وقت دعا، سوال اور استغفار کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے۔

✿ تہجد میں استغفار کا اہتمام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ‎۝١٥‏ آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ‎۝١٦‏ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ‎۝١٧‏ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ‎۝١٨‏ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ‎۝١٩﴾
📚 (الذاریات: 15-19)

ترجمہ:
”بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے، جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا خوشی سے لے رہے ہوں گے، وہ اس دن سے پہلے نیکوکار تھے۔ وہ رات کا تھوڑا حصہ ہی سوتے تھے اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے، اور ان کے مال میں سائل اور محروم کے لیے حق مقرر تھا۔“

✿ ان آیات سے تین تعلیمات

➊ نماز تہجد کا اہتمام (رات کو کم سونا)۔
➋ تہجد کے وقت استغفار کرنا۔
➌ سائلین اور محرومین پر دل کھول کر خرچ کرنا (اسے اپنا حق سمجھنا)۔

✦ یہی صفات انسان کو محسن کے مرتبے تک لے جاتی ہیں اور جنت کا مستحق بناتی ہیں۔

🌸 پس تہجد کا وقت بندے کی زندگی میں سب سے بابرکت گھڑیاں ہیں، جنہیں دعا، ذکر اور استغفار سے بھرنا چاہیے۔

6 ✿ نماز تہجد: اہل علم اور اہل عقل کا وظیفہ

✿ نماز تہجد: اہل علم اور اہل عقل کا وظیفہ

اللہ تعالیٰ نے ناشکروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا ہے کہ وہ مصیبت میں اللہ کو پکارتے ہیں، لیکن نعمت ملنے پر شرک کرنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس اہلِ ایمان رات کو قیام و سجدوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
📚 (الزمر: 9)

ترجمہ:
”(کیا مشرک برابر ہے) اس شخص کے جو رات کو سجدے اور قیام میں عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہہ دیجیے! کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔“

✦ اس آیت سے یہ باتیں معلوم ہوئیں:
→ عقل مند نصیحت قبول کرتے ہیں، بیوقوف رد کر دیتے ہیں۔
→ اہلِ توحید ہی حقیقی عقل والے ہیں، اہلِ شرک بیوقوف ہیں۔
→ علم والے اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
→ اہلِ ایمان آخرت سے ڈرتے ہیں اور رحمت کے امیدوار بن کر تہجد کا اہتمام کرتے ہیں۔

✿ نماز تہجد: مؤمن کا شرف و اعزاز

حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
«يا محمد صلى الله عليه وسلم شرف المؤمن قيام الليل، وعزه استغناؤه عن الناس»
📚 (المستدرک للحاکم)

”اے محمد ﷺ! رات کا قیام مؤمن کا شرف ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔“

✿ تہجد گزار اور فیاض شخص قابلِ رشک

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لا حسد إلا فى اثنتين: رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار»
📚 (صحیح بخاری: 73، صحیح مسلم)

”حسد جائز نہیں مگر دو شخصوں میں: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ دن رات اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ دن رات خرچ کرتا ہے۔“

✿ تہجد گزار کے درجات

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جو دس آیات کے ساتھ قیام کرے اس کا نام غافلین میں نہیں لکھا جاتا۔

جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے اس کا نام قانتین (فرمانبرداروں) میں لکھا جاتا ہے۔

جو ایک ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے اس کا نام مقنطرین (خزانے جمع کرنے والوں) میں لکھا جاتا ہے۔
📚 (سنن ابوداؤد: 1398)

🌸 تہجد اہل علم، اہل عقل اور اہل ایمان کا خاص وظیفہ ہے، جو انہیں شرف، عزت اور قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔

7 ✿ تہجد گزاروں کے لیے جنت کے محل

✿ تہجد گزاروں کے لیے جنت کے محل

نماز تہجد اللہ کا قرب عطا کرتی ہے، درجات بلند کرتی ہے اور جنت میں اعلیٰ شان محلات کا سبب بنتی ہے۔

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَلَانَ الْكَلَامُ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ»
📚 (جامع ترمذی، صفة الجنة، حدیث: 2527)

”جنت میں ایسے (شفاف شیشوں کے) محل ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ یہ محل اُن لوگوں کے لیے تیار ہیں جو: لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں، نرم گفتگو کرتے ہیں، کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہیں، سلام کو عام کرتے ہیں اور رات کے وقت (جب مخلوق سو رہی ہو) تہجد کا اہتمام کرتے ہیں۔“

✿ تہجد میں طویل سجدے اور کثرتِ تسبیح

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا﴾
📚 (الانسان: 26)

”اور رات کو اس کے آگے سجدہ کرو اور رات کے طویل حصے میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔“

رسول اللہ ﷺ کے سجدے اتنے طویل ہوتے کہ ایک سجدہ پچاس آیات کی تلاوت کے برابر ہوا کرتا تھا۔
📚 (صحیح مسلم: 1074)

✿ سجدے کی ثابت تسبیحات

➤ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى»
📚 (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، حدیث: 1814)
”میں اپنے ربِ اعلیٰ کی بے عیبی بیان کرتا ہوں۔“

➤ «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ»
📚 (صحیح مسلم، کتاب صلاة، حدیث: 1091)
”پاکیزہ اور بے عیب ہے ربِ فرشتگان اور روح (یعنی جبرائیل) کا رب۔“

✦ غور کیجیے! فرشتے جو کبھی نافرمانی نہیں کرتے، ان کے رب کا مقام کس قدر عظیم ہے۔

✿ تہجد میں خوف و طمع سے دعائیں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ‎۝١٥‏ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
📚 (السجدہ: 15-16)

”ہمارے بندے وہ ہیں جو آیات سن کر سجدے میں گر پڑتے ہیں، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں۔“

✿ ان آیات سے تعلیمات

→ اہل ایمان کے لیے صبح سویرے اٹھنا مشکل نہیں ہوتا، وہ تہجد پڑھتے ہیں اور خوف و طمع کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں۔
→ تہجد گزار مغرور اور متکبر نہیں ہوتے بلکہ عاجز بندے ہیں۔
→ وہ بستروں کو چھوڑ کر وضو کرتے ہیں اور سجدوں میں حمد اور تسبیح کرتے ہیں۔
→ وہ صرف بدنی عبادت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے مال میں سے بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

🌸 تہجد گزار بندے نہ صرف اپنے رب کے قریب ہوتے ہیں بلکہ جنت کے عالی شان محلات، عاجزی و انکساری اور رحمتِ الٰہی کے سب سے بڑے امیدوار بھی بن جاتے ہیں۔

8 ✿ آخر شب دعا کی قبولیت

✿ آخر شب دعا کی قبولیت

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ»
📚 (صحیح مسلم: 757)

”ہر رات ایک گھڑی ایسی ہے، جب کوئی مسلمان بندہ دنیا یا آخرت کی بھلائی مانگے تو اللہ اسے عطا کرتا ہے۔“

رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا:
«أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ»
📚 (صحیح بخاری: 1145)

”میں بادشاہ ہوں! جو مجھے پکارے گا میں جواب دوں گا، جو مانگے گا میں عطا کروں گا، جو مغفرت چاہے گا میں معاف کروں گا۔“

✦ تہجد کا وقت دعا، سوال اور استغفار کے لیے سب سے قیمتی گھڑی ہے۔

✿ تہجد کے وقت فرشتوں کا نزول

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ»
📚 (صحیح مسلم: 755)

”رات کی نماز (تہجد) میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہی افضل ہے۔“

حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جب رات کو سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے تو فرشتے ان کی خوش الحانی سے قریب آگئے، یہاں تک کہ بادلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ»
📚 (صحیح بخاری: 5018)

”یہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سننے کے لیے قریب آگئے تھ

✿ حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ»
📚 (صحیح بخاری: 1131)

”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور سب سے محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“
(نصف رات سونا، تہائی رات قیام، اور چھٹا حصہ پھر سونا۔)

✿ تہجد: پچھلی امتوں کے صالحین کا شعار

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ»
📚 (ترمذی: 3549)

”قیام اللیل (تہجد) کی پابندی کرو، یہ تم سے پہلے کے صالحین کا طریقہ ہے، یہ رب کی قربت کا ذریعہ ہے، گناہوں کو مٹانے والا اور معاصی سے روکنے والا ہے۔“

✿ نماز تہجد کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے

نماز تہجد کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ترغیب دی اور گھر والوں کے ساتھ پڑھنے کی تاکید فرمائی۔

◈ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا، كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ»
📚 (ابو داود، کتاب الصلاة، باب قیام اللیل، حدیث: 1114)

”جب آدمی رات کو اٹھ کر اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے، پھر دونوں مل کر نماز پڑھتے ہیں تو انہیں ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“

➤ ﴿الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ﴾ سے مراد وہ خوش نصیب مرد و خواتین ہیں جن کا ذکر سورۃ الاحزاب (آیت: 35) میں ہوا ہے اور ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہے۔

✿ بیویوں کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی

رسول اللہ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کی نماز تہجد کے بارے میں بھی بہت فکر مند رہتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1126)

”تہجد کے وقت اللہ کے خزانے نازل ہوتے ہیں۔ صواحب الحجرات (یعنی حجرات کی عورتوں کو) کون بیدار کرے گا؟“

✿ بیٹی اور داماد کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی

رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فکر مند رہتے۔ ایک رات آپ ﷺ ان کے گھر گئے اور فرمایا:

«أَلَا تُصَلِّيَانِ؟»
📚 (صحیح بخاری: 1127)

”کیا تم دونوں تہجد نہیں پڑھتے؟“

✿ صحابہ کی نماز تہجد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی

رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی تہجد کے بارے میں بھی بہت فکر مند رہتے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1122)

”اگر عبداللہ رات کو تہجد پڑھنے لگے تو کتنا اچھا آدمی ہے۔“

✿ ایک صحابی کی نماز تہجد کے بارے میں فکر مندی

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک صحابی کی نماز تہجد کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے فرمایا:

«كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ»
📚 (صحیح بخاری: 1152)

”وہ پہلے قیام اللیل کیا کرتا تھا (یعنی تہجد پڑھتا تھا) پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔“

➤ معلوم ہوا کہ نفل عمل جب شروع کر دیا جائے تو اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»
📚 (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، حدیث: 1830)

”اللہ تعالیٰ کو وہ عمل پسند ہے جو مستقل ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔“

✅ تہجد کے فضائل سے متعلق بیان مکمل ہوا۔ اب ان شاء اللہ اگلے حصے میں ہم نماز تہجد کے احکام و مسائل پیش کریں گے۔

9 ✿ نماز تہجد کے مکمل احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

✿ نماز تہجد کے مکمل احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

░ تہجد کا شرعی حکم

نماز تہجد نفل ہے، فرض نہیں ہے۔ فرض تو صرف پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خمس صلوات فى اليوم والليل»
”دن اور رات میں صرف پانچ نمازیں فرض ہیں۔“
اس پر ایک شخص نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ مجھ پر فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
«لا، إلا أن تطوع»
”نہیں، مگر یہ کہ تم اپنی خوشی سے نوافل پڑھو۔“
📚 (صحیح بخاری: 2678)

➤ تہجد نفل ہے، لیکن امت کی قیادت اور خواصِ امت کے لیے یہ ایک ضروری نصاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے رئیس التابعین حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین رحمہما اللہ اس کے التزام کے قائل تھے۔

░ تہجد کا وقت

وقت: عشاء کے بعد سے فجر تک۔
📚 (صحیح مسلم: 736)

تہجد رات کے آغاز، وسط یا آخر میں پڑھ سکتے ہیں، لیکن آخری تہائی رات افضل ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہم رات کے جس حصے میں چاہتے نبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے تھے۔“
📚 (صحیح بخاری: 1141)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نبی ﷺ کے تہجد کا کوئی معین وقت نہیں تھا، آپ اپنی سہولت کے مطابق پڑھتے تھے، لیکن افضل آخر شب ہے۔“

░ با جماعت نماز تہجد بھی مسنون ہے

نفل نمازیں انفرادی بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور با جماعت بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے تہجد اکیلے بھی پڑھی اور صحابہ کے ساتھ بھی۔ رمضان میں تراویح کی جماعت اسی کی مثال ہے۔

◈ صحیح احادیث کے دلائل:

آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ با جماعت قیام اللیل کیا۔
📚 (صحیح بخاری: 859)

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ رات کی نماز پڑھی۔
📚 (صحیح مسلم: 772)

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز تہجد ادا کی۔
📚 (صحیح بخاری: 860)

آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ 12 رکعت تہجد پڑھی، پھر فجر سے پہلے دو رکعت سنت ادا کیں۔
📚 (موطا امام مالک: حدیث 245)

رمضان میں آپ ﷺ نے قیام اللیل کی جماعت بھی کرائی۔
📚 (صحیح بخاری: 1129)

دیگر نفل نمازیں جیسے خسوف، کسوف اور استسقاء بھی جماعت کے ساتھ ادا کی گئیں۔
📚 (صحیح مسلم: 797، 414)

➤ علاوہ ازیں آپ ﷺ نے متعدد صحابہ جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت انس اور ان کی والدہ و خالہ، حضرت عتبان بن مالک، حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی تہجد با جماعت ادا کی۔

░ نتیجہ

تہجد کا با جماعت ادا کرنا سنت سے ثابت ہے۔

اسے بدعت یا مکروہ کہنا درست نہیں۔

انفرادی پڑھنا افضل ہے، لیکن تربیت، تعلیم یا دینی مصلحت کے پیش نظر جماعت بھی جائز ہے۔

نفل کو چھپانا بہتر ہے لیکن قرآن نے اظہار اور اخفاء دونوں کو پسند فرمایا:
﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾
📚 (البقرہ: 271)

░ تراویح اور تہجد

اکثر محدثین کے نزدیک تراویح اور تہجد ایک ہی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رمضان اور غیر رمضان میں رسول اللہ ﷺ 8 رکعت پڑھتے تھے۔“
📚 (صحیح بخاری: 1147)

➤ لہذا تراویح کی جماعت بھی تہجد کی جماعت ہے اور دونوں سنت سے ثابت ہیں۔

🌸 خلاصہ:
نماز تہجد نفل ہے مگر اس امت کے صالحین کے لیے ایک عظیم نصاب ہے۔ انفرادی طور پر افضل ہے، لیکن جماعت کے ساتھ پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ یہ علمی و روحانی تربیت کی بہترین عبادت ہے جسے صحابہ کرام اور اکابر امت نے اپنایا۔

10 ░ سوتے وقت تہجد کی نیت کر لینا

░ سوتے وقت تہجد کی نیت کر لینا

رات کو سوتے وقت تہجد کے لیے نیت کرنی چاہیے، تاکہ اگر بالفرض آنکھ نہ کھلے تب بھی ثواب ملے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى أَصْبَحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى، وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ»
📚 (نسائی، کتاب قیام اللیل، حدیث: 1765)

”جو شخص یہ نیت کر کے سو جائے کہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر نیند غالب آ جائے تو اس کے نامہ اعمال میں وہی لکھا جاتا ہے جس کی اس نے نیت کی تھی، اور اللہ تعالیٰ اس پر نیند کو صدقہ بنا دیتا ہے۔“

░ بیدار ہونے کی مسنون دعا

نیند سے اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»
📚 (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6325)

”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں نیند کی موت کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے۔“

░ سورۃ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

”ایک رات میں اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے رات کے آخری حصے میں بیدار ہو کر آسمان کی طرف دیکھا اور سورۃ آل عمران کی آخری آیات (190 تا 200) تلاوت فرمائیں:

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾ … (آیت کے آخر تک)
📚 (صحیح بخاری: 4580)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیدار ہو کر مسواک کی اور وضو کرتے وقت یہ آیات تلاوت فرمائیں۔
📚 (صحیح مسلم: 376)

░ نماز تہجد کی مخصوص دعا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:

«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
📚 (صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیث: 1120)

ترجمہ:
”اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور ان میں جو کچھ ہے۔ تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور ان میں جو کچھ ہے۔ تو ہی حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، انبیاء حق ہیں، محمد ﷺ حق ہیں، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنے آپ کو یکسو کیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے سہارے جھگڑا کرتا ہوں اور تیرے پاس فیصلہ لاتا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے، چھپے اور ظاہر گناہ معاف فرما۔ تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“

🌸 غور کیجیے! اس دعا میں اللہ کی حمد بھی ہے، ایمان اور یقین کا اعتراف بھی، اللہ سے وابستگی اور انابت کا اعلان بھی، استغفار بھی اور آخر میں توحید کا اقرار بھی۔

11 ░ تہجد کی مخصوص دعائے استفتاح

░ تہجد کی مخصوص دعائے استفتاح

نماز تہجد میں تکبیرِ تحریمہ اور ثناء کے بعد، سورۃ الفاتحہ سے پہلے یہ دعا پڑھنی مسنون ہے:

«اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ»
📚 (صحیح مسلم: 1811)

ترجمہ:
”اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے زمین و آسمان کے خالق! اے غیب و شہادت کے جاننے والے! تو ہی بندوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اختلافی معاملات میں مجھے حق کی طرف ہدایت دے، بے شک تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔“

░ پہلی دو رکعتیں ہلکی پڑھنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
📚 (صحیح مسلم: 1807)

”جب تم میں سے کوئی رات کو (تہجد کے لیے) کھڑا ہو تو اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔“

➤ ان دو ہلکی رکعتوں کے بعد طویل قیام اور لمبی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

░ نیند کا غلبہ ہو تو کیا کریں؟

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَرْقُدْ، حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ»
📚 (صحیح مسلم: 1836)

”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھنے لگے اور سمجھ نہ سکے کہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ وہ سمجھنے کے قابل ہو جائے۔“

✦ اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
→ جب نیند کا غلبہ ہو تو قرآن صحیح نہیں پڑھا جا سکتا، ایسے میں سو جانا بہتر ہے۔
→ ایک نیک آدمی اپنی جسمانی اور ذہنی حالت کے مطابق اپنے معمولات میں ردوبدل کر سکتا ہے۔ کبھی سنت کو وقتی طور پر چھوڑ دینا بھی سنت کے مطابق ہے۔

🌸 خلاصہ:
نماز تہجد بندگی، خشوع اور قربِ الٰہی کی علامت ہے۔ اس کے آداب میں نیت، ہلکی دو رکعتوں سے آغاز، مسنون دعائیں، لمبے قیام اور سجدے شامل ہیں۔ لیکن اگر نیند حاوی ہو جائے تو عبادت پر اصرار کرنے کے بجائے آرام کرنا سنت کے مطابق ہے۔

12 ✿ نماز تہجد کی رکعتوں کی تعداد (صحیح احادیث کی روشنی میں)

✿ نماز تہجد کی رکعتوں کی تعداد (صحیح احادیث کی روشنی میں)

رسول اللہ ﷺ سے نماز تہجد مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔ اس معاملے میں آپ ﷺ کی کئی سنتیں ہیں۔ اپنی جسمانی حالت، صحت اور سہولت کے مطابق کسی بھی سنت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

➤ ہر ثابت شدہ مستند سنت پر کبھی کبھار عمل کر لینا افضل ہے اور ہر سنت پر عمل کرنے میں ثواب ہی ثواب ہے۔

░ رکعات کی تعداد

◈ نماز تہجد کم از کم چار (4) اور زیادہ سے زیادہ بارہ (12) رکعتیں ہیں۔

(1) چار، چھ، آٹھ، دس یا گیارہ رکعتیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ کبھی چار تہجد اور تین وتر (کل سات)، کبھی چھ تہجد اور تین وتر (کل نو)، کبھی آٹھ تہجد اور تین وتر (کل گیارہ) اور کبھی دس تہجد اور تین وتر (کل تیرہ رکعتیں) پڑھتے۔ آپ ﷺ کی رات کی نماز سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔“
📚 (ابو داود: 1155)

(2) سات، نو اور گیارہ رکعتیں

حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا:
”رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں کے علاوہ سات رکعتیں، کبھی نو رکعتیں اور کبھی گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے (جن میں ایک وتر شامل ہوتی تھی)۔“
📚 (صحیح بخاری: 1139)

(3) آٹھ رکعتیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے آٹھ رکعتیں تہجد، اور پانچ رکعتیں وتر کی ہوتیں اور آپ ﷺ ان پانچ رکعتوں میں آخری رکعت کے سوا کسی میں نہ بیٹھتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 1720)

(4) آٹھ رکعتیں (چار + چار)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ کبھی چار طویل رکعتیں پڑھتے، پھر چار مزید طویل رکعتیں پڑھتے (یعنی کل آٹھ رکعتیں)، پھر تین رکعت وتر ادا فرماتے۔“
📚 (صحیح بخاری: 1147)

(5) دس رکعتیں + وتر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور آخر میں ایک وتر پڑھتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 736، 1718)

(6) کل تیرہ رکعتیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ دس رکعتیں پڑھتے، پھر ایک وتر اور پھر فجر کی دو رکعتیں ادا فرماتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 738)

(7) بارہ رکعتیں (قضا کی صورت میں)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
”رسول اللہ ﷺ کی تہجد اگر کسی تکلیف کی وجہ سے فوت ہو جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 1744)

░ تہجد کی رکعتوں کا طریقہ

نماز تہجد کو دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے، تاہم چار چار کر کے پڑھنا بھی ثابت ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا: "رات کی نماز کیسے ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
«صَلاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ، صَلَّى رَكْعَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى»
📚 (صحیح بخاری: 1137)

”رات کی نماز دو دو رکعت کر کے ہے، اور جب صبح کا اندیشہ ہو تو ایک وتر پڑھ لے، یہ ساری نماز کے لیے وتر ہو جائے گی۔“

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى»
📚 (صحیح بخاری: 990)

”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ»
📚 (صحیح مسلم: 736)

”رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔“

🌸 خلاصہ:

تہجد کی رکعات 4 سے 12 تک ہیں۔

افضل یہ ہے کہ دو دو رکعت کر کے پڑھی جائے۔

آخر میں ایک وتر پڑھنا مسنون ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے سہولت و حالت کے مطابق مختلف تعداد میں رکعات ادا کیں، اور ان سب سنتوں پر عمل کرنا باعثِ اجر ہے۔

13 ✿ نماز تہجد میں مسنون قراءت (صحیح احادیث کی روشنی میں)

✿ نماز تہجد میں مسنون قراءت (صحیح احادیث کی روشنی میں)
░ سورۃ المزمل کی رہنمائی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾
📚 (المزمل: 20)

➤ یعنی تہجد میں سہولت کے مطابق قرآن پڑھا جائے۔ تاہم لمبا قیام اور طویل تلاوت افضل ہے۔

░ طویل قیام کے فضائل

1️⃣ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات تہجد میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ پاؤں پر ورم آجاتا۔
📚 (صحیح مسلم: 2819)

2️⃣ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا:
«طُولُ الْقُنُوتِ»
”وہ نماز جس میں قیام لمبا ہو۔“
📚 (صحیح مسلم: 1258)

3️⃣ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک رات آپ ﷺ نے صبح تک صرف ایک آیت بار بار دہراتے ہوئے قیام فرمایا:

﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
📚 (نسائی: 1000)

”اے اللہ! اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف فرما دے تو تو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔“

░ طویل قراءت کی مثال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں نے ایک رات آپ ﷺ کے ساتھ نماز تہجد پڑھی۔ آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی۔ میں نے سمجھا سو آیات کے بعد رکوع کریں گے، لیکن آپ پڑھتے رہے، پھر سورۃ النساء اور سورۃ آل عمران بھی مکمل پڑھ ڈالی۔“
📚 (صحیح مسلم: 1814)

░ طویل سجدے اور دعائیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً»
📚 (صحیح مسلم: 1074)

”رسول اللہ ﷺ سجدہ اتنا لمبا کرتے جتنا تم میں سے کوئی پچاس آیات پڑھ لے۔“

➤ رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
رکوع میں اللہ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں خوب دعائیں مانگو:
«فَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
📚 (صحیح بخاری: 1123)

░ نماز کا حسن و جمال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ ثَلَاثًا»
📚 (صحیح بخاری: 1147)

”رسول اللہ ﷺ چار رکعت پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کی نہ پوچھیے، پھر چار رکعت اسی طرح پڑھتے، پھر تین وتر ادا کرتے۔“

✦ افسوس! آج ہم صرف تعداد پر توجہ دیتے ہیں، معیار (خشوع و خضوع) کی طرف نہیں۔

░ تفقہ فی القرآن

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سورۃ المزمل کی آیت ﴿وأقوم قيلاً﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«أَجْدَرُ أَنْ يُفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ»
📚 (ابو داود: 1109)

”رات کے وقت قرآن پڑھنا فہم و تدبر کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“

░ حق المقدور عمل

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا»
📚 (صحیح بخاری: 451)

”اتنا ہی عمل کرو جتنا کر سکو، اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں تھکتا جب تک تم خود تھک نہ جاؤ۔“

░ تہجد کی قضاء

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ کی تہجد اگر بیماری یا تکلیف کی وجہ سے رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعتیں ادا کرتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 1744)

🌸 خلاصہ:

تہجد میں حسب استطاعت قرآن پڑھا جائے، لیکن لمبی قراءت افضل ہے۔

طویل قیام، طویل سجدے اور کثرتِ دعا سے نماز میں روحانیت پیدا ہوتی ہے۔

تہجد تفقہ فی القرآن اور قربِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔

طاقت کے مطابق معمول بنائیں اور اگر کبھی رہ جائے تو قضا کریں۔

14 ✿ نماز تہجد میں آدابِ قراءت و تلاوت

✿ نماز تہجد میں آدابِ قراءت و تلاوت

نماز تہجد میں قرآن کی تلاوت کے چند مسنون آداب یہ ہیں:
1️⃣ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھنا۔
2️⃣ ہر لفظ اور ہر حرف کو واضح کر کے پڑھنا۔
3️⃣ ہر آیت کے بعد رکنا۔
4️⃣ آیت کے آخری لفظ کو کھینچ کر پڑھنا۔
5️⃣ جہاں حمد، تسبیح یا استعاذہ کا حکم آئے وہاں جواب دینا۔
6️⃣ اللہ کے کلام سے متاثر ہو کر خوفِ الٰہی کے ساتھ رونا۔

░ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾
📚 (المزمل: 4)
”اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو۔“

░ ایک ایک حرف واضح کر کے پڑھنا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«أَنَّهَا وَصَفَتْ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرْفًا حَرْفًا»
📚 (ترمذی: 2927)
”رسول اللہ ﷺ ایک ایک حرف واضح کر کے پڑھتے تھے۔“

░ ہر آیت کے بعد رکنا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول اللہ ﷺ ایک ایک آیت الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھہرتے:

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ پر رکتے،
پھر ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ پر،
اس کے بعد ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ پر رکتے۔“
📚 (ابو داود: 3487)

░ تسبیح، دعا اور استعاذہ پر جواب دینا

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، آپ تسبیح کے موقع پر تسبیح، دعا کے موقع پر دعا اور استعاذہ کے موقع پر پناہ مانگتے۔“
📚 (صحیح مسلم: 772)

مثلاً:

سورۃ التین کی آخری آیت پر:
﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾
آپ ﷺ جواب دیتے:
«بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ»
📚 (ترمذی: 3270)

سورۃ القیامۃ کی آخری آیت پر آپ ﷺ فرماتے:
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ فَبَلَى»
📚 (ابن ابی حاتم)

░ نماز میں رونا اور خشوع

حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی آواز ایسے نکل رہی تھی جیسے ابلتے ہوئے برتن سے آواز آتی ہے۔“
📚 (ابو داود: 799، نسائی: 1199)

░ رسول اللہ ﷺ پر قرآن سن کر آنسو

جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ النساء کی آیت 41 پر پہنچے:

﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾
📚 (النساء: 41)

تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ نے فرمایا:
«حَسْبُكَ الْآنَ»
”بس کرو عبد اللہ!“
📚 (صحیح بخاری: 4582)

░ غزوہ بدر کی رات کا قیام

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”غزوہ بدر کی رات رسول اللہ ﷺ درخت کے نیچے تہجد پڑھتے رہے اور اتنا روئے کہ صبح ہو گئی۔“
📚 (صحیح ابن حبان)

✦ اس واقعے میں حکمرانوں اور سپہ سالاروں کے لیے سبق ہے کہ کامیابی صرف مادی اسباب پر نہیں بلکہ اللہ کی نصرت اور بندگی پر بھی منحصر ہے۔

🌸 خلاصہ:
نماز تہجد میں ترتیل، تدبر، خشوع اور رقت قلبی کے ساتھ قرآن پڑھنا سنت ہے۔

ہر آیت پر ٹھہرنا،

تسبیح اور دعا کے مقامات پر جواب دینا،

اور کلامِ الٰہی سے متاثر ہو کر رونا،
یہ سب رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔

15 ✿ انبیاء، علماء اور صحابہ کی آہ و بُکا (قرآن و سنت کی روشنی میں)

✿ انبیاء، علماء اور صحابہ کی آہ و بُکا (قرآن و سنت کی روشنی میں)
░ انبیاء کی آہ و بُکا

اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا﴾
📚 (مریم: 58)

”جب رحمن کی آیات ان پر تلاوت کی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے۔“

➤ یہ انبیاء کے کمال خشوع اور قلبی تاثر کا اظہار ہے کہ اللہ کی آیات صرف زبان پر نہیں بلکہ دل کو بھی جھنجھوڑ دیتی تھیں۔

░ علماء کی آہ و بُکا

اہلِ علم کی کیفیت قرآن نے یوں بیان فرمائی:

﴿إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ‎۝١٠٧‏ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ‎۝١٠٨‏ وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ‎۝١٠٩‏﴾
📚 (بنی اسرائیل: 107-109)

”جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا، وہ جب آیات سنتے ہیں تو منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں اور کہتے ہیں: پاک ہے ہمارا رب! اس کا وعدہ تو ہونا ہی تھا۔ اور وہ منہ کے بل روتے ہیں اور اس سے ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے۔“

➤ یہاں علم و خشوع کا باہمی تعلق واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی علم دل کو رقت و خشیت کی طرف لے جاتا ہے۔

░ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قراءت اور رونا

صحیح بخاری میں آتا ہے:

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں نماز اور تلاوت کرتے تو زور زور سے روتے۔ ان کے رونے کی آواز سن کر مشرکین کے بچے اور عورتیں بھی جمع ہو جاتیں، جس پر سردارانِ قریش کو تکلیف ہوتی۔
📚 (صحیح بخاری، کتاب المناقب: 3905)

➤ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قیادت کا نصاب قرآن کے ساتھ قلبی تعلق ہے، محض رسمی یا زبانی نہیں۔

░ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قراءت اور رونا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ الطور کی یہ آیت پڑھی:

﴿إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾
📚 (الطور: 7)

”یقیناً آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔“

➤ یہ آیت سن کر اتنا روئے کہ بیمار ہوگئے، حتیٰ کہ لوگ ان کی عیادت کو آنے لگے۔
📚 (الجواب الکافی لابن القیم)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رات کے آخری حصے میں اہلِ خانہ کو اٹھاتے اور یہ آیت پڑھتے:

﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ﴾
📚 (طٰہ: 132)

”اپنے اہل کو نماز کا حکم دیجئے اور اس پر صبر کیجیے۔ ہم آپ سے رزق نہیں چاہتے، ہم ہی آپ کو رزق دیتے ہیں، اور اچھا انجام تقویٰ ہی کا ہے۔“

░ خشیتِ الٰہی سے معمور قراءت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ»
📚 (ابن ماجہ: 1101)

”سب سے بہتر قاری وہ ہے جسے سنو تو محسوس ہو کہ وہ اللہ کی خشیت سے لبریز ہے۔“

➤ اس حدیث سے واضح ہے کہ حسنِ قراءت کا معیار صرف لحن اور نغمگی نہیں، بلکہ خشیت و اخبات ہے۔

✦ خلاصہ

انبیاء کرام، علماء راسخین اور صحابہ کرام کی زندگیوں میں تلاوت کے ساتھ آہ و بُکا ایک نمایاں صفت تھی۔

ان کی قراءت سننے والے کو یہ احساس دلاتی تھی کہ یہ اللہ کے سامنے جھکے اور ڈرے ہوئے ہیں۔

آج ہمیں بھی اپنی نماز اور قراءت کو محض آواز یا فن کا مظاہرہ بنانے کے بجائے خشیت الٰہی کے رنگ میں رنگنے کی ضرورت ہے۔

16 ✿ قیادت، قرآن کا علم اور نماز تہجد (قرآن و سنت کی روشنی میں)

✿ قیادت، قرآن کا علم اور نماز تہجد (قرآن و سنت کی روشنی میں)
░ سیاسی عہدے اور تعلیم قرآن

اسلامی ریاست میں سیاسی و انتظامی مناصب کا معیار عمر یا دنیاوی ڈگریاں نہیں بلکہ قرآن کا عمیق علم تھا۔

◈ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ (م 51ھ) کو طائف کا گورنر مقرر فرمایا، حالانکہ وہ اپنے وفد کے سب سے کم عمر فرد تھے۔ سبب صرف یہ تھا کہ وہ سورۃ البقرۃ کے عالم تھے۔
📚 (السنن الکبری للبیہقی)

➤ یہ ثبوت ہے کہ اہل قرآن کو قیادت دینا سنتِ نبوی ہے۔

░ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس شوریٰ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مشاورت کے لیے قرآن کے علماء کو منتخب کیا تھا، چاہے وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«كان القراء أصحاب مجالس عمر، ومشاورته كهولا كانوا أو شبانا»
📚 (صحیح بخاری، کتاب التفسیر: 4642)

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس شوریٰ قرآن کے علماء پر مشتمل تھی، چاہے بوڑھے ہوں یا جوان۔“

➤ غور کیجیے! کیا آج ہماری حکومتوں کے وزراء و مشیران میں فہم قرآن معیار ہے؟

░ عصرِ حاضر کی قیادت

سیاسی قیادت،

عسکری قیادت،

دینی قیادت،

اقتصادی قیادت،

ادیب، شاعر، صحافی اور میڈیا کے نمائندے —

کیا یہ سب قرآن کے فہم اور عربی زبان سے واقف ہیں؟
کیا یہ نماز تہجد میں قرآن سنتے اور روتے ہیں؟
کیا یہ قیادت اُسی نصاب سے وابستہ ہے جس سے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وابستہ تھے؟

✦ علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کہا تھا:
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحرگاہی

➤ اُمت کا عروج و زوال قرآن اور خشوع و خضوع سے وابستہ ہے۔

░ عام مسلمان اور قائد کا نصاب
◈ عام مسلمان کا نصاب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا:
«لا أزيد على هذا ولا أنقص منه»
”میں ان (فرائض) پر نہ اضافہ کروں گا نہ کمی۔“
آپ ﷺ نے فرمایا:
«من سرَّه أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا»
📚 (متفق علیہ)

➤ اس کے لیے بس توحید، نماز، روزہ اور زکوٰۃ ہی کافی ہیں۔

◈ قائد کا نصاب

قائد کی ذمہ داریاں عام فرد سے کہیں زیادہ ہیں:

خلیفۃ المسلمین کی بیعت: کتاب و سنت پر عمل کی شرط۔

اسلامی جج و قاضی: تمام فقہی و آئینی نصوص۔

سپہ سالار: صلح و جنگ کے قرآنی و نبوی احکام۔

ماہرینِ معیشت: قرآن و سنت کے اقتصادی اصول۔

➤ ہر شعبہ کے رہنما کا نصاب قرآن و سنت ہے، محض دنیاوی قابلیت نہیں۔

░ ابتدائی ایام میں تہجد اور بعد میں تخفیف
◈ ابتدائی حکم

مکہ کے ابتدائی دور میں پانچ نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں، اس وقت تہجد کا طویل قیام فرض کے قریب تھا:
﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا • نِصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا • أَوْ زِدْ عَلَيْهِ﴾
📚 (المزمل: 2–4)

◈ تخفیف

تقریباً دس سال بعد سورۃ المزمل کی آخری آیت نازل ہوئی:
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾
📚 (المزمل: 20)

➤ تخفیف کی وجوہات:

مریضوں کی رعایت۔

رزقِ حلال کی تلاش میں سفر کرنے والوں کی رعایت۔

اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی رعایت۔

✦ سبق: نوافل میں حالات کے مطابق لچک اسلام کی شناخت ہے۔

░ وتر: آخری حصۂ شب میں افضل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترًا»
📚 (نسائی، قیام اللیل: 1661)

➤ وتر 1، 3، 5، 7 یا 9 رکعت۔
➤ ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔

░ نور کی جامع دعا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهُمَّ اجعل في قلبي نورًا، وفي سمعي نورًا، وفي بصري نورًا، ومن فوقي نورًا، ومن تحتي نورًا، وعن يميني نورًا، وعن شمالي نورًا، ومن أمامي نورًا، ومن خلفي نورًا، واجعل لي نورًا»
📚 (صحیح بخاری، کتاب الدعوات: 3316)

”اے اللہ! میرے دل میں نور فرما، میری سماعت میں نور، میری بصارت میں نور، میرے اوپر اور نیچے نور، میرے آگے اور پیچھے نور، دائیں اور بائیں نور عطا فرما، اور میرے لیے ہر طرف نور بنا دے۔“

🌸 خلاصہ:

اسلامی قیادت قرآن فہمی پر مبنی ہونی چاہیے۔

عام مسلمان کے لیے فرائض پر دوام جنت کا سبب ہے۔

قائد کا نصاب: قرآن و سنت کا عمیق علم۔

تہجد: ابتدا میں لازمی نصاب، بعد میں تخفیف، مگر افضل عمل۔

آخر شب میں وتر اور دعائے نور، مؤمن کی تکمیلِ روحانیت کا نشان ہیں۔