واٹساپ دعوتی مواد نماز نبویﷺ

نماز نبویﷺ

46 پیغامات

1 🌿 نماز کی اہمیت

قرآنِ مجید میں فلاح پانے والوں کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے:

﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ﴾
📖 سورۃ المؤمنون: 9

ترجمہ:
“اور جو اپنی نمازوں پر محافظت کرتے ہیں۔”

🔗 https://tohed.com/tafsir/23/9/

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا﴾
📖 سورۃ طہٰ: 132

ترجمہ:
“اپنے اہل و عیال کو نماز قائم کرنے کا حکم دیجیے اور خود بھی نماز کی پابندی کیجیے۔”

🔗 https://tohed.com/tafsir/20/132/

نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے، جس کے بغیر کسی مسلمان کا دین مکمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ارشادِ نبوی ہے:

﴿بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَىٰ خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ﴾

ترجمہ:
“اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔”

📖 صحیح البخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 8

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/8/

❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ﴾

ترجمہ:
“تمام معاملات کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔”

📖 جامع الترمذی، کتاب الإيمان، حدیث: 2616
صحیح
مسند أحمد: 231/5

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2616/

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ﴾

ترجمہ:
“بلاشبہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس کی نماز درست اور مکمل ہوئی تو وہ کامیاب ہوا اور نجات پا گیا، اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ ناکام و نامراد ہو گیا۔”

📖 سنن النسائی، کتاب الصلاة، حدیث: 466
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/466/

➤ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ بندے اور اللہ کے درمیان مضبوط تعلق، دین کا ستون، اور کامیابی و نجات کا عظیم ذریعہ ہے۔
➤ جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے، درحقیقت وہ اپنے دین، اپنی آخرت، اور اپنی کامیابی کی حفاظت کرتا ہے۔

2 🌿 نماز کی اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ، كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ﴾

ترجمہ:
”اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس نے ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا، انہیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع کو مکمل کیا اور پورے خشوع کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ وہ اسے ضرور بخش دے گا۔ اور جس نے ایسا نہ کیا، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی عہد نہیں، چاہے اسے معاف کر دے اور چاہے اسے عذاب دے۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب المحافظة على الصلوات، حدیث: 425
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/425/

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

﴿الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، وَاتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾

ترجمہ:
”لوگو! نماز کا خیال رکھنا، لوگو! نماز کا خیال رکھنا، اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب في حق المملوك، حدیث: 5156
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/5156/

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو سب سے پہلے اسے نماز سکھائی جاتی۔

📖 السلسلة الصحيحة: 66/1/7، حدیث: 3030
صحیح

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کی طرف خط لکھا:

”میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم فریضہ اقامتِ صلوٰۃ ہے، کیونکہ جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس پر ہمیشگی اختیار کی، اس نے اپنے دین کی حفاظت کی، اور جس نے نماز ضائع کر دی تو وہ دین کے دیگر امور کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔“

📖 الموطأ، کتاب وقوت الصلاة، باب وقوت الصلاة، حدیث: 6

✨ نماز کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ﴾

ترجمہ:
”پانچوں نمازوں کی پابندی ان کے درمیان ہونے والے تمام صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“

📖 السلسلة الصحيحة: 553/4، حدیث: 1920

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا:

﴿أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ؟﴾
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا﴾

ترجمہ:
”تم میں سے اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ سکتی ہے؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اس کے جسم پر ذرا بھی میل باقی نہیں رہے گی۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب الصلوات الخمس كفارة، حدیث: 528
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1522

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/528/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1522/

➤ نماز اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، دین کا ستون، ایمان کی علامت، اور مغفرت و نجات کا اہم ذریعہ ہے۔
➤ جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے دین، اپنے ایمان، اور اپنی آخرت کی حفاظت کرتا ہے۔

3 ✨ نماز کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا يُنَادِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ: يَا بَنِي آدَمَ! قُومُوا إِلَىٰ نِيرَانِكُمُ الَّتِي أَوْقَدْتُمُوهَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ فَأَطْفِئُوهَا بِالصَّلَاةِ﴾

ترجمہ:
”بے شک ہر نماز کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ صدا لگاتا ہے: اے بنی آدم! اٹھو اپنی اس آگ کو بجھاؤ جسے تم نے اپنے اوپر اپنے گناہوں کی وجہ سے بھڑکا رکھا ہے، اور اسے نماز کے ذریعے بجھا دو۔“

📖 طبرانی أوسط: 11509
📖 طبرانی صغیر: 1131
📖 صحیح الترغيب والترهيب: 86/1، حدیث: 358، 359
حسن

اور صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا أَرَادَ اللَّهُ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ﴾

ترجمہ:
”جب اللہ تعالیٰ جہنم والوں میں سے بعض لوگوں پر رحمت کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جس نے اللہ کی عبادت کی ہے اسے جہنم سے نکال لو۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان کر باہر نکالیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشان کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل السجود، حدیث: 806

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/806/

اور ایک دوسری جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ﴾

ترجمہ:
”میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔“

📖 سنن النسائی، کتاب عشرة النساء، باب النساء، حدیث: 3391
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/3391/

➤ نماز صرف فرض عبادت ہی نہیں بلکہ گناہوں کو مٹانے، دل کو سکون دینے، اور بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا عظیم ذریعہ ہے۔
➤ سجدہ وہ عظیم عبادت ہے جس کی نشانی قیامت کے دن بھی اہلِ ایمان کے لیے رحمت و نجات کا سبب بنے گی۔
➤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز آنکھوں کی ٹھنڈک تھی، اور مومن کے لیے بھی حقیقی سکون، راحت، اور کامیابی کا سرچشمہ یہی نماز ہے۔

4 📘 بے نماز کا حکم

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾
(النساء: 142)

ترجمہ:
”بلاشبہ منافقین اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ اللہ انھیں دھوکا دینے والا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو نہایت سستی سے کھڑے ہوتے ہیں۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/4/142/

❀ سورۂ توبہ میں ہے:

﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾
(التوبة: 5)

ترجمہ:
”مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر کے نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تب انھیں چھوڑ دو۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/9/5/

❀ دوسری جگہ فرمایا:

﴿فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾
(التوبة: 11)

ترجمہ:
”اگر یہ مشرک لوگ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں، وگرنہ نہیں۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/9/11/

❀ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة»

ترجمہ:
”بلاشبہ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز کا چھوڑنا ہے۔“

(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة: 82)

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/82/

❀ اور ایک دوسرے موقع پر فرمایا:

«العهد الذى بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر»

ترجمہ:
”ہمارے اور ان کافروں کے درمیان نماز قائم رکھنے کا عہد ہے، جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔“

(ترمذی، کتاب الإيمان، باب ما جاء في ترك الصلاة: 2621۔ نسائی: 464۔ ابن ماجه: 1069۔ صحیح)

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/464/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1069/

❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”جس نے نماز ترک کر دی اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔“

(مصنف ابن أبي شيبة: 218/7۔ السنن الكبرى للبيهقي: 257/1، ح: 1673)

❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”جو نماز چھوڑ دے اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔“

(مصنف ابن أبي شيبة: 16/6، ح: 30388)

❀ عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ترکِ نماز کے علاوہ کسی گناہ کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔“

(ترمذی، کتاب الإيمان، باب ما جاء في ترك الصلاة: 2622۔ صحیح)

➤ ان تمام آیات، احادیث اور آثارِ صحابہ سے واضح ہوتا ہے کہ نماز اسلام کا عظیم ترین شعار ہے، اور اسے جان بوجھ کر چھوڑ دینا نہایت سنگین جرم بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا عمل ہے۔ مؤمن پر لازم ہے کہ وہ نماز کی پابندی کرے، اس کی حفاظت کرے، اور اپنے آپ کو بے نمازی کے انجام سے بچائے۔

5 📘 بے نماز کا انجام

❀ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾
(مريم: 59)

ترجمہ:
”پھر ان نبیوں کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جنھوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے، وہ عنقریب اس گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/19/59/

❀ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

«من حافظ عليها كانت له نورًا وبرهانًا ونجاةً يوم القيامة، ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نور ولا برهان ولا نجاة، وكان يوم القيامة مع قارون وفرعون وهامان وأبي بن خلف»

ترجمہ:
”جس نے نمازوں کی حفاظت کی، قیامت کے دن یہ نماز اس کے لیے نور، دلیل اور نجات کا سبب ہوگی، اور جس نے اس کی حفاظت نہ کی، اس کے لیے قیامت کے دن نہ کوئی نور ہوگا، نہ دلیل، نہ نجات، اور وہ شخص قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔“

(مسند أحمد: 169/2، ح: 6576۔ صحیح ابن حبان: 1467۔ شعیب الأرنؤوط نے اسے صحیح کہا ہے)

❀ جنتی لوگ جہنم میں جانے والوں سے ان کے جہنم میں جانے کا سبب پوچھیں گے، تو وہ جواباً کہیں گے:

﴿قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ﴾
(المدثر: 43)

ترجمہ:
”وہ کہیں گے: ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہ تھے۔“

➤ ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو ضائع کرنا ہلاکت، گمراہی اور آخرت کے عذاب کا سبب ہے۔ نماز کی حفاظت دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، جبکہ بے نمازی کے لیے سخت وعید وارد ہوئی ہے۔

6 📘 پانچوں نمازوں کے مسنون اوقات صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾
📖 النساء: 103

ترجمہ:
بلاشبہ مومنوں پر نماز اس کے مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔

🔗 https://tohed.com/tafsir/4/103/

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پانچوں نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں، پھر فرمایا:

”ان دونوں اوقات کے درمیان کا وقت نماز کا وقت ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 614
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/614/

❀ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے افضل عمل کے متعلق پوچھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الصلاة فى أول وقتها

”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب المحافظة على وقت الصلوات، حدیث: 426
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/426/

📖 سنن الترمذي، حدیث: 170 — صحیح

❀ بعض لوگ بلا عذر نماز کو لیٹ کر کے ادا کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں، نماز وقت پر فرض کی گئی ہے، لہٰذا انہیں وقت پر ادا کرنی چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🕌 نمازِ فجر کا وقت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس

”نماز فجر کا وقت طلوعِ فجر یعنی فجر پھوٹنے سے طلوعِ آفتاب تک ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 612
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/612/

❀ صبح کے وقت دو قسم کی روشنیاں پیدا ہوتی ہیں:

➊ پہلی روشنی زمین سے سیدھی آسمان کی طرف اوپر چلی جاتی ہے، پھیلتی نہیں۔

➋ جبکہ دوسری روشنی زمین سے بلند ہوتی ہے اور آسمان کے افق یعنی کناروں میں پھیل جاتی ہے۔

➤ اسی دوسری روشنی کے بعد نمازِ فجر کا وقت شروع ہوتا ہے۔

📖 صحیح ابن خزیمہ: 210/3، حدیث: 1927
📖 مستدرک حاکم: 191/1، حدیث: 688

اسے امام حاکم، علامہ ذہبی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1927/

❀ طلوعِ فجر واضح ہونے کے بعد ہی نماز ادا کرنی چاہیے، کہیں پہلی روشنی دیکھ کر نماز ادا نہ کر لی جائے، وہ نماز نہیں ہوگی۔

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے:

أصبحوا بالصبح، فإنه أعظم لأجوركم

”نمازِ فجر صبح کو اچھی طرح واضح ہو جانے پر پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجر میں اضافے کا موجب ہوگی۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب وقت الصبح، حدیث: 424
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/424/

📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 672 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/672/

❀ بعض بھائیوں نے اس حدیث سے یہ سمجھ لیا ہے کہ نمازِ فجر خوب روشنی ہونے پر ادا کرنی چاہیے، جبکہ یہ معنی کئی صحیح احادیث کے خلاف ہے، جن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر اندھیرے میں ادا کرتے تھے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

والصبح كان النبى صلى الله عليه وسلم يصليها بغلس

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھاتے تھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب، حدیث: 560
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/560/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 646
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/646/

❀ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه، ويقرأ بالستين إلى المائة

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر میں ساٹھ سے سو آیات تک ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے تھے، جب فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ساتھ والے شخص کو پہچان سکتا تھا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت العصر، حدیث: 547
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/547/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 647
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/647/

❀ طلوعِ شمس سے پہلے ایک رکعت پڑھ لینے سے بروقت نماز ادا کرنے کا ثواب مل جاتا ہے۔

فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

من أدرك من الصبح ركعة قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح

”جس نے طلوعِ آفتاب سے پہلے ایک رکعت ادا کر لی، اس نے نمازِ فجر کا وقت پا لیا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب من أدرك من الفجر ركعة، حدیث: 579
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/579/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 608
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/608/

7 🕌 نمازِ ظہر کا وقت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله

”نمازِ ظہر کا وقت سورج کے زوال سے لے کر آدمی کا سایہ، اصل سائے کے علاوہ، اس کے قد کے مطابق ہو جانے تک ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 612
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/612/

❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے کے بعد نمازِ ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے، حالانکہ یہ بات صحیح حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر زوال ہوتے ہی پڑھ لیا کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الظهر عند الزوال، حدیث: 540
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/540/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 618
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/618/

❀ لیکن شدید گرمی کے موسم میں نمازِ ظہر ذرا ٹھنڈے وقت میں ادا کرنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة

”جب گرمی کی شدت ہو تو نمازِ ظہر کو ذرا ٹھنڈا وقت ہونے پر ادا کرو۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب الإبراد بالظهر في شدة الحر، حدیث: 533
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/533/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 615
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/615/

❀ گرمیوں میں ظہر کو لیٹ کرنے سے متعلق سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ ظہر کا اندازہ یہ ہوتا تھا کہ گرمیوں میں سایہ تین قدموں سے لے کر پانچ قدموں تک کے مابین ہوتا تھا، اور سردیوں میں پانچ سے سات قدموں کے مابین ہوتا تھا۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ سورج ڈھلتے ہی فوراً نہ پڑھو، بلکہ ذرا لیٹ کر لو۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب وقت صلاة الظهر، حدیث: 400
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/400/

📖 سنن النسائي، حدیث: 504
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/504/

❀ گرمیوں میں ظہر کو تھوڑا سا لیٹ کرنے کا مسئلہ سفر کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ حضر میں بھی یہی حکم ہے۔

📖 صحیح البخاری، حدیث: 533 تا 539
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/533/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/534/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/535/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/536/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/537/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/538/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/539/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 اصل سایہ معلوم کرنے کا طریقہ

❀ کسی کھلی اور ہموار زمین میں زوال سے پہلے ایک لکڑی گاڑ دی جائے۔ اس لکڑی کا سایہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ زوال کے وقت کم سے کم رہ جائے گا۔

➤ اس سائے کو ماپ لیا جائے۔

➤ جب یہ سایہ دوسری سمت بڑھنا شروع ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ زوال کا وقت ہو گیا ہے۔

➤ پھر جب یہ سایہ اس قدر بڑھ جائے کہ لکڑی کے برابر ہو جائے، یعنی زوال کے وقت لکڑی کا ماپا ہوا سایہ الگ کرنے کے بعد، تو اس وقت ایک مثل وقت ہو جائے گا۔

❀ ایک طریقہ یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ دوپہر کے وقت سے پہلے ایک یا دو بالشت زمین کی سطح ہموار کر کے اس پر شمالاً جنوباً ایک سیدھا خط کھینچ دیا جائے۔ قطب نما سے اس خط کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

➊ پھر اس خط کے جنوبی نقطہ پر ایک سیدھی لکڑی گاڑ دیں۔

➋ چونکہ دوپہر سے پہلے کا وقت ہو گا، لہٰذا اس لکڑی کا سایہ عین اس خط پر نہیں ہو گا بلکہ اس سے قدرے مغرب کی جانب مائل ہو گا۔

➌ پھر آہستہ آہستہ اس خط پر آنا شروع ہو جائے گا، حتیٰ کہ بالکل اس خط پر آ جائے گا۔

➍ اس وقت اس سائے کی انتہا پر نشان لگا دیں، اس سائے کو کسی اور لکڑی سے ماپ لیں، اور یہ پیمانہ محفوظ کر لیں۔ یہ وقت عین دوپہر کا ہو گا۔

➎ اس کے بعد وہ سایہ مشرق کی طرف بڑھنے لگے گا۔ یہ ظہر کا اول وقت ہو گا۔

➏ پھر اس کے بعد جب سایہ بڑھتا جائے گا تو جس لکڑی کے ساتھ اصل سائے کی پیمائش کی تھی، اس کے ساتھ اس کے اصل سائے کے نشان سے آگے ایک مثل جب سایہ ہو جائے گا، تو وہ ظہر کا آخری وقت ہو گا اور عصر کا اول وقت۔

📖 أحکام و مسائل از فضیلۃ الشیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ، صفحہ: 149

8 🕌 نمازِ عصر کا وقت

❀ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہونے سے لے کر سورج زرد ہونے تک نمازِ عصر کا وقت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم تحضر العصر، ووقت العصر ما لم تصفر الشمس

”ظہر کا وقت اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے، اور اس وقت تک رہتا ہے جب آدمی کا سایہ اس کے جسم کے برابر ہو جائے، جب تک کہ عصر کا وقت نہ ہو جائے، اور عصر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے کہ سورج زرد نہ ہو۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 612
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/612/

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ سورج اس قدر بلند ہوتا کہ محسوس ہوتا تھا کہ میرے حجرے کے اندر ہے، باہر نہیں گیا۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 611
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/611/

❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی تو اس وقت سورج صاف ستھرا تھا، اس میں ذرا بھی زردی نہ ملی ہوئی تھی، اور بلند و بالا تھا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 613
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/613/

❀ غروبِ آفتاب سے قبل ایک رکعت ادا کر لینے سے بروقت نماز ادا کرنے کا ثواب مل جاتا ہے۔

فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

من أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك العصر

”جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت ادا کر لی، اس نے نمازِ عصر کا وقت پا لیا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب من أدرك من العصر ركعة قبل الغروب، حدیث: 579
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/579/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 608
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/608/

❀ نمازِ عصر کو بلا وجہ آخری وقت تک لیٹ کرنا منافق کی نشانی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تلك صلاة المنافق، يجلس يرقب الشمس، حتى إذا كانت بين قرني الشيطان، قام فنقرها أربعا

”یہ منافق آدمی کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہونے لگتا ہے تو اٹھتا ہے اور جلدی سے چار ٹھونگے مار لیتا ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب التبكير بالعصر، حدیث: 622
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/622/

9 🕌 نمازِ مغرب کا وقت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وقت صلاة المغرب إذا غابت الشمس، ما لم يسقط الشفق

”نمازِ مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب کے بعد والی سرخی غائب ہونے تک ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 612
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/612/

❀ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے تھے، اور نماز کے بعد بھی اتنی روشنی ہوتی کہ ہم میں سے کوئی آدمی جاتا اور تیر پھینکتا تو وہ اس کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب، حدیث: 559
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/559/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 637
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/637/

❀ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں دن نمازِ مغرب ایک ہی وقت، یعنی اول وقت میں پڑھائی۔

📖 سنن النسائي، کتاب المواقيت، باب أول وقت العشاء، حدیث: 527
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/527/

📖 سنن الترمذي، حدیث: 149 — صحیح

📖 سنن أبي داود، حدیث: 394 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/394/

━━━━━━━━━━━━━━

🌙 نمازِ عشاء کا وقت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط

”نمازِ عشاء کا وقت غروبِ آفتاب والی سرخی غائب ہونے سے لے کر ٹھیک آدھی رات تک ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب أوقات الصلوات الخمس، حدیث: 612
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/612/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت العشاء، حدیث: 642
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/642/

❀ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء اس وقت پڑھائی کہ رات گزر گئی، پھر فرمایا:

لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يصلوها هكذا

”اگر میری امت پر مشکل نہ ہو تو میں انہیں حکم دیتا کہ نمازِ عشاء اس وقت، یعنی دیر سے، ادا کیا کریں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل العشاء، حدیث: 571
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/571/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 642
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/642/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء میں نمازیوں کا خیال رکھتے تھے؛ لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جماعت جلدی کرا دیتے، اور اگر لوگ دیر کرتے تو جماعت تاخیر سے کراتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب، حدیث: 560
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/560/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 646
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/646/

10

جن علاقوں میں دن رات عمومی ترتیب سے ہٹ کر ہیں
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وہ چالیس دن دنیا میں رہے گا۔ پہلا دن ایک سال، دوسرا ایک مہینے، اور تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا، باقی ایام عام دنوں کے مطابق ہوں گے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا:
سال کے برابر دن میں ہمیں ایک دن کی، یعنی پانچ نمازیں، کافی ہوں گی؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ اس میں اندازے سے پورے سال کی نمازیں ادا کرتے رہنا۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذكر الدجال، حدیث: 2937
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2937/
❀ اس سے ثابت ہوا کہ جن ممالک میں وقت عام اصول سے ہٹ کر ہے، یعنی جن میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے، یا اس سے کم و بیش، وہاں لوگوں کو اندازے سے ہر روز پانچ نمازیں ادا کرنی چاہییں۔
❀ جن ممالک میں دن رات عام اصول سے ہٹ کر ہیں، ان کی دو صورتیں ہیں:
➊ بعض علاقوں میں معمولی سی روشنی کے ذریعے دن رات کا فرق ہوتا ہے، وہاں اس فرق کے حساب سے نمازوں کے اوقات مقرر کیے جائیں گے۔
➋ بعض علاقوں میں دن رات کا بالکل فرق نہیں ہوتا، وہاں اس قریبی علاقے کے حساب سے، جہاں دن رات عام اصول سے چلتے ہیں، نماز کا وقت مقرر کر لیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
🚫 نمازوں کے ممنوع اوقات
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صل صلاة الصبح، ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع ثم صل، فإن الصلاة مشهودة محضورة، حتى يستقل الظل بالرمح، ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسحر جهنم، فإذا أقبل الفيء فصل، فإن الصلاة مشهودة محضورة، حتى تصلى العصر، ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس
”صبح کی نماز پڑھ، پھر سورج کے طلوع ہو کر بلند ہونے تک نماز سے رک جا، پھر نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی کراماً کاتبین دیں گے اور فرشتے حاضر ہوں گے، پھر جب دوپہر کے وقت نیزے کا سایہ اس کے سر پر آ جائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پھر جب سایہ آگے بڑھنے لگے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز میں فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر ہوں گے، یہاں تک کہ تو نماز عصر پڑھ لے، تو پھر نماز سے رک جا حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب إسلام عمرو بن عبسة، حدیث: 832
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/832/
❀ یعنی نماز تین اوقات میں پڑھنا ممنوع ہے:
➊ جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ مکمل طلوع ہو جائے۔
➋ دوپہر کو سورج کے بالکل سر پر کھڑا ہونے سے لے کر زوال ہونے تک۔
➌ سورج کے غروب ہونے سے لے کر مکمل غروب ہو جانے تک۔
❀ لیکن عصر کے بعد اگر سورج بلند اور صاف ہو تو نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ما ترك النبى صلى الله عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي ما قط
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعات پڑھنا کبھی ترک نہیں کیا۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب ما يصلى بعد العصر من الفوائت نحوها، حدیث: 591
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/591/
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة بعد العصر إلا أن تكون الشمس بيضاء نقية مرتفعة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔“
📖 سنن النسائي، کتاب المواقيت، باب الرخصة في الصلاة بعد العصر، حدیث: 574
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/574/
📖 سنن أبي داود، حدیث: 1274 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1274/
❀ اگر نماز فجر لیٹ ہو گئی کہ سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رکے رہیں، حتیٰ کہ سورج مکمل طلوع ہو جائے۔
اسی طرح اگر عصر لیٹ ہو جائے کہ سورج غروب ہونے لگے تو سورج مکمل غروب ہونے تک نماز سے رکے رہیں۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
إذا بدا حاجب الشمس، فأخروا الصلاة حتى تبرز، وإذا غاب حاجب الشمس، فأخروا الصلاة حتى تغيب
”جب سورج کی ٹکیہ طلوع ہونے لگے تو نماز سے رکے رہو حتیٰ کہ مکمل طلوع ہو جائے، اور جب سورج غروب ہونے لگے تو نماز کو مؤخر کرو حتیٰ کہ مکمل غروب ہو جائے۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها، حدیث: 829
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/829/
❀ جمعہ کے دن زوال کے وقت مسجد میں آ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
➤ تفصیل جمعہ کے باب میں ملاحظہ فرمائیں۔
❀ حرمِ مکی میں کوئی وقت ممنوع نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تمنعوا أحدا يطوف بهذا البيت ويصلي أى ساعة شاء من ليل أو نهار
”تم دن اور رات کے کسی بھی وقت میں اس گھر میں طواف کرنے اور نماز پڑھنے میں اس گھر کے کسی کو نہ روکو۔“
📖 سنن أبي داود، کتاب المناسك، باب الطواف بعد العصر، حدیث: 1894
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1894/
📖 سنن النسائي، حدیث: 2927
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2927/
📖 سنن الترمذي، حدیث: 868 — صحیح
❀ اگر صحیح وقت میں نماز شروع کی، پھر ممنوع وقت شروع ہو گیا تو نماز مکمل کر لے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب من أدرك ركعة من العصر قبل الغروب، حدیث: 556
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/556/
📖 صحیح مسلم، حدیث: 608
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/608/

11 📘 اذان و اقامت کا بیان

❀ اذان اسلام کا شعار اور مسلمانوں کی علامت ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملہ کرنا چاہتے تو صبح ہونے تک حملہ نہ کرتے، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے، یعنی وہاں مسلمان ہیں، شب خون مارنے پر ان کا نقصان ہو گا، اور اگر اذان نہ سنتے تو صبح ہوتے ہی حملہ کر دیتے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجهاد، باب دعاء النبي صلى الله عليه وسلم إلى الإسلام، حدیث: 2943

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2943/

❀ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہنی چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کسی شخص کو اذان کہنی چاہیے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب من قال ليؤذن، حدیث: 628
📖 صحیح مسلم، حدیث: 674

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/628/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/674/

❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اذان سنائی نہ دے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل التأذين، حدیث: 608
📖 صحیح مسلم، حدیث: 389

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/608/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/389/

📘 مؤذن کی فضیلت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ﴾

ترجمہ:
اس شخص سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلاتا ہے۔

📖 حم السجدة: 33

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة

ترجمہ:
قیامت کے دن سب سے لمبی گردنیں مؤذنوں کی ہوں گی، یعنی وہ مرتبے میں سب سے اونچے ہوں گے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل الأذان وهرب الشيطان عند سماعه، حدیث: 387

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/387/

❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور صفِ اول میں کیا اجر ہے، پھر ان کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہتا تو وہ ضرور اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب الاستهام في الأذان، حدیث: 615
📖 صحیح مسلم، حدیث: 437

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/615/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/437/

❀ اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے:

المؤذن يغفر له بمد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس، وله مثل أجر من صلى معه

ترجمہ:
مؤذن کو بلند آواز سے اذان کہنے کی وجہ سے بخش دیا جاتا ہے، اور جو بھی تر یا خشک چیز اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرے گی، یعنی گواہی دے گی، اور اس کے لیے ان لوگوں کے ثواب کے برابر ثواب ہے جو اس کی اذان پر نماز کے لیے آتے ہیں۔

📖 سنن النسائی، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالأذان، حدیث: 647 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/647/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا:

امام ضامن اور ذمہ دار ہے، اور مؤذن امین اور قابلِ اعتماد ہے۔ اے اللہ! اماموں کو صحیح علم و عمل کی ہدایت دے، اور مؤذنوں کی بخشش فرما۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت، حدیث: 517
📖 جامع الترمذی، حدیث: 207 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/517/

❀ اور مؤذن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ عز و جل فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، مجھ سے ڈر کر اذان کہہ رہا ہے اور نماز پڑھ رہا ہے، میں نے اسے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

📖 سنن النسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن يصلى وحده، حدیث: 667
📖 سنن أبي داؤد، حدیث: 1203 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/667/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1203/

12 📘 اذان کہنے کے آداب

❀ نماز اور طواف کے علاوہ کسی کام کے لیے وضو شرط نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مجھے نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الأطعمة، باب في غسل اليدين عند الطعام، حدیث: 3760
📖 جامع الترمذی، حدیث: 1847
📖 سنن النسائی، حدیث: 132 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3760/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/132/

❀ اذان کے لیے وضو والی حدیث ضعیف ہے۔

📖 إرواء الغليل: 222

❀ تاہم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اذان کہنے سے پہلے وضو کیا۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الخراج، باب في الإمام يقبل هدايا المشركين، حدیث: 3055
📖 صحيح ابن حبان، حدیث: 6351 — إسناده حسن لذاته

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3055/

❀ اذان کھڑے ہو کر کہنی چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے بلال! کھڑے ہو اور نماز کے لیے اذان کہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب بدء الأذان، حدیث: 604
📖 صحیح مسلم، حدیث: 377

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/604/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/377/

❀ قبلہ رخ ہونا۔

📖 مسند السراج، حدیث: 61 — إسناده صحيح
قاله الشيخ المحدث الثقة أبو البدر إرشاد الحق الأثري حفظه الله

نیز آج تک امت کا عمل بھی اسی پر ہے۔

❀ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے ہوئے انگلیاں کانوں میں رکھتے تھے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في إدخال الأصبع في الأذن عند الأذان، حدیث: 197
📖 سنن ابن ماجه، حدیث: 711 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/711/

❀ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں حي على الصلاة کہتے ہوئے اپنا چہرہ دائیں طرف، اور حي على الفلاح کہتے ہوئے بائیں طرف پھیرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب هل يتتبع المؤذن فاه، حدیث: 634
📖 صحیح مسلم، حدیث: 503

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/634/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/503/

❀ اذان اس آدمی کو کہنی چاہیے جس کی آواز اچھی اور خوبصورت ہو۔

سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز پسند آئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی۔

📖 صحيح ابن خزيمة: 195/1، حدیث: 377

❀ اذان بلند آواز سے کہنی چاہیے۔

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا:

جب تم نماز کے لیے اذان کہو تو بلند آواز سے کہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالنداء، حدیث: 609

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/609/

❀ اسپیکر نہ ہو تو بلند جگہ پر اذان کہنی چاہیے۔

ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

میرا مکان مسجد کے ارد گرد تمام مکانوں سے بلند تھا، اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس پر چڑھ کر اذان کہتے تھے۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب الأذان فوق المنارة، حدیث: 519 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/519/

❀ مؤذن اگر اذان میں غلطی کر رہا ہو تو اس کی اصلاح کر دینی چاہیے۔

عبد اللہ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش والے دن خطبہ دیا، جب مؤذن حي على الصلاة پر پہنچا تو انہوں نے فرمایا:

اب یہ کہو: الصلاة في الرحال
یعنی: نماز گھروں ہی میں پڑھ لو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب الكلام في الأذان، حدیث: 616
📖 صحیح مسلم، حدیث: 699

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/616/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/699/

❀ غلط وقت پر اذان ہو جائے تو اعلان کر کے لوگوں کو بتانا چاہیے۔

ایک دن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے ہی اذان کہہ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کر دو کہ بندہ سو گیا تھا، یعنی نیند کی وجہ سے غلطی ہو گئی۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب في الأذان قبل دخول الوقت، حدیث: 532 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/532/

❀ اذان کہنے پر اجرت لینے میں اختلاف ہے، کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر مؤذن رکھنے سے منع فرمایا، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان دینے پر ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی۔

امام شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الأوطار میں ان دونوں احادیث میں یہ تطبیق دی ہے کہ اجرت حرام اس وقت ہے جب مشروط ہو، اور اگر مشروط نہ ہو تو جائز ہے۔

❀ منع والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

واتخذوا مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا

ترجمہ:
ایسا مؤذن مقرر کرو جو اذان کہنے کی اجرت نہ لے۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب أخذ الأجر على التأذين، حدیث: 531
📖 جامع الترمذی، حدیث: 209
📖 سنن النسائی، حدیث: 673
📖 سنن ابن ماجه، حدیث: 714 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/531/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/673/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/714/

❀ اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور میں نے اذان کہی، جب میں نے اذان مکمل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی۔

📖 سنن النسائی، کتاب الأذان، باب كيف الأذان، حدیث: 633
📖 مسند أحمد: 409/3، حدیث: 15386 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/633/

📘 اذان سے پہلے خود ساختہ درود

اذان سے پہلے بعض لوگ خود ساختہ درود الصلاة والسلام عليك يا رسول الله وغیرہ پڑھتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے لے کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کے عہد تک کسی بھی وقت میں ایسے الفاظ کا ثبوت نہیں ملتا۔

شیخ محمد بن عبدہ رحمہ اللہ، مفتی مصر، سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

اذان کے کلمات پندرہ ہیں، جن کے آخر میں لا إله إلا الله ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں جو کلمات کہے جاتے ہیں، سب نو ایجاد اور بدعت ہیں۔

📖 بدعات اور ان کا شرعی پوسٹمارٹم: 364

13 📘 اذان کے کلمات

❀ اذان کے کلمات مندرجہ ذیل ہیں:

اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، حدیث: 499
📖 سنن ابن ماجه، حدیث: 706 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/499/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/706/

❀ فجر کی اذان میں حي على الفلاح کے بعد یہ الفاظ بھی کہے جائیں:

الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، حدیث: 500 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/500/

📘 اقامت کے کلمات

اقامت کے کلمات مندرجہ ذیل ہیں:

اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، حدیث: 499
📖 سنن ابن ماجه، حدیث: 706 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/499/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/706/

❀ اقامت میں حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہتے ہوئے دائیں اور بائیں گردن گھمانا ثابت نہیں۔

📘 ترجیع والی اذان

❀ ترجیع سے مراد یہ ہے کہ اذان میں شہادتین والے کلمات چار مرتبہ کہے جائیں۔

پہلی مرتبہ آہستہ آواز میں کہے:

أشهد أن لا إله إلا الله
دو مرتبہ

أشهد أن محمدا رسول الله
دو مرتبہ

پھر دوسری بار بلند آواز میں کہے:

أشهد أن لا إله إلا الله
دو مرتبہ

أشهد أن محمدا رسول الله
دو مرتبہ

باقی الفاظ عام اذان والے ہیں۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، حدیث: 502
📖 سنن النسائی، حدیث: 632 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/502/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/632/

📘 ترجیع والی اقامت

❀ ترجیع والی اقامت میں مندرجہ ذیل کلمات ہیں:

اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّهِ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّهِ
حَيَّ عَلَى ٱلصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى ٱلصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى ٱلْفَلَاحِ
حَيَّ عَلَى ٱلْفَلَاحِ
قَدْ قَامَتِ ٱلصَّلَاةُ
قَدْ قَامَتِ ٱلصَّلَاةُ
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان، حدیث: 502
📖 سنن النسائی، حدیث: 632 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/502/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/632/

❀ بعض لوگوں نے ترجیع والی اذان کا انکار کیا ہے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ترجیع والی اقامت کا نہ صرف اقرار کیا، بلکہ اسے لازم سمجھا ہے، اور بغیر ترجیع والی اقامت کا انکار کر دیا ہے۔

یعنی ترجیع والی اذان کا انکار کر دیا، اور بغیر ترجیع والی اقامت کا انکار کر دیا۔

حالانکہ ترجیع والی اذان اور اقامت بھی ثابت ہے، اور بغیر ترجیع والی اذان و اقامت بھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ اطہر سے خود سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان و اقامت سکھائی۔

❀ ترجیع والی اذان کو رد کرنے کے لیے کئی طرح کے عذر تراشے گئے۔

مثلاً ایک نے کہا:

اہلِ مکہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو شہادتین دو دفعہ کہنے کا حکم دیا، تاکہ اہلِ مکہ کے دلوں میں توحید و رسالت پختہ ہو جائے۔

دوسرے نے کہا:

ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نئے مسلمان ہوئے تھے، ان کے دل میں توحید و رسالت پختہ کرنے کے لیے یہ کلمات دو دو بار کہنے کا حکم دیا گیا، اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے انہیں ہمیشہ اذان کا حصہ بنا لیا۔

نعوذ بالله من ذلك

تیسرے نے کہا:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان سکھا رہے تھے تو انہوں نے اپنے خاندان سے ڈر کر آہستہ آواز میں پڑھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈرو نہیں، اور بلند آواز سے دوبارہ یہ کلمات پڑھنے کا حکم دیا، اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے دوسری مرتبہ والے کلمات کو بھی اذان کا حصہ سمجھ لیا۔

❀ اگر شہادتین دو دفعہ پڑھانے کا مقصد ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کا یا اہلِ مکہ کا ایمان پختہ کرنا تھا، تو ایک مخصوص وقت کے لیے ہونا چاہیے تھا، بعد میں چھوڑنے کا حکم دیا جاتا، لیکن یہ کہیں ثابت نہیں۔

بلکہ اس کے برعکس منقول ہے کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی آخر عمر تک یہی اذان کہتے رہے۔

📖 أسد الغابة: 273/6، ترجمہ: 6229

❀ اگر سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے ان کلمات کو اذان کا حصہ بنایا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصحیح کیوں نہ کی؟

اگر بالفرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہ ہو سکا، تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیتا، لیکن نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، نہ اللہ نے اس سے روکا، اور نہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اس کی اصلاح کی، اور سب کی موجودگی میں اللہ کے گھر اور اسلام کے مرکز میں سالہا سال تک اذان غلط ہوتی رہی؟

معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ غلط اور مسلک کے تحفظ کے لیے ایک عذرِ لنگ کے سوا کچھ نہیں۔

❀ اگر ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان غلط تھی تو ان کی اقامت کیوں تسلیم کر لی گئی؟

اگر ان کی اقامت درست ہے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اقامت کا انکار کس بنیاد پر کیا گیا؟

اس میں کیا خامی تھی؟

ایک عام فہم آدمی بھی ایسی نرالی فقہ نہیں مان سکتا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان لی جائے اور اقامت کا انکار کیا جائے، اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اقامت مان لی جائے اور اذان کا انکار کر دیا جائے، اور کسی ایک بھی حدیث پر مکمل عمل نہ کیا جائے۔

❀ دونوں اذانیں اور دونوں اقامتیں صحیح ہیں، کسی ایک کا بھی انکار درست نہیں۔

اسی طرح یہ بھی یاد رہے کہ جو اذان کہی جائے، اسی کے ساتھ والی اقامت کہی جائے۔

مثلاً اگر اذان سیدنا بلال رضی اللہ عنہ والی کہی ہے تو اقامت بھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ والی کہنی چاہیے۔

اگر اذان سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی کہی ہے تو اقامت بھی انہی والی کہی جائے۔

یعنی جس حدیث پر بھی عمل کریں، مکمل عمل کریں۔

14 📘 سفر، تنہا نماز، دوسری جماعت اور قضا نماز کے لیے اذان و اقامت

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 سفر میں اذان و اقامت

❀ سفر میں اذان، اقامت اور جماعت ایسے ہی ضروری ہے جیسے حضر میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر پر جانے والے دو آدمیوں سے فرمایا:

جب تم سفر پر نکلو تو راستے میں اذان کہنا، پھر اقامت کہنا، پھر تم میں سے جو بڑا ہے وہ جماعت کرائے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافر الخ: 630
📖 مسلم: 674

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/630/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/674/

❀ سفر میں سواری پر بیٹھ کر اذان کہنا جائز ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں سواری پر اذان کہتے اور نیچے اتر کر نماز ادا کرتے۔

📖 إرواء الغليل: 226 — حسن

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اکیلے آدمی کے لیے اذان و اقامت

❀ اکیلے آدمی کو باجماعت نماز پڑھنے کے لیے اذان و اقامت کہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے بہت خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ اذان کہتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے، وہ مجھ سے ڈرتا ہے، یقیناً میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔

📖 نسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن يصلى وحده: 667
📖 أبو داود: 1203 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/667/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1203/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 نمازیں جمع کرنے کی صورت میں اذان و اقامت

❀ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ حج کے حوالے سے فرماتے ہیں:

پھر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، صحابی نے پھر اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔

📖 مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي صلى الله عليه وسلم: 2950

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2950/

➤ یعنی اذان سب نمازوں کے لیے ایک، جبکہ اقامت ہر نماز کے لیے الگ الگ۔

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 دوسری جماعت کے لیے اذان و اقامت

❀ ایک جگہ جماعت ہو چکی ہو، کچھ لوگ دوسری جماعت کرانا چاہتے ہوں تو انہیں اذان و اقامت کہنی چاہیے۔ بخاری میں حدیث ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے، جماعت ہو چکی تھی، تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور جماعت کروائی۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، تعليقاً قبل الحديث: 645
📖 وصله أبو يعلى في مسنده: 468/3، ح: 4338

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/645/

❀ دوسری جماعت اذان کے بغیر بھی جائز ہے۔

📖 شرح معانی الآثار: 392/1

❀ دوسری جماعت والوں کو اقامت ضرور کہنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جماعت کے ساتھ اقامت کہلواتے تھے۔

❀ اگر ایک آدمی نے تنہا نماز شروع کی، لیکن بعد میں ایک اور آدمی جماعت کی نیت سے ساتھ مل گیا اور انہوں نے باجماعت نماز شروع کر دی تو انہیں اذان و اقامت کی ضرورت نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تنہا نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا:

کون اس کے ساتھ نماز پڑھ کر اس پر صدقہ کرے گا؟

تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی، بغیر اذان و اقامت کے۔

📖 ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الجماعة الخ: 220
📖 أبو داود: 574 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/574/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 قضا نمازوں کے لیے اذان و اقامت

❀ نماز قضا ہو جائے تو بھی جماعت کروانے کے لیے اذان اور اقامت کہنی چاہیے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی صبح کے وقت بیدار نہ ہو سکا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان کہہ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر جب سورج بلند ہو کر چمکنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔

📖 بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب الأذان بعد ذهاب الوقت: 595
📖 مسلم: 681

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/595/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/681/

15 📘 فجر سے قبل رات کی اذان، اذان و اقامت کے الفاظ، اوقات اور وقفہ

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 فجر سے قبل رات کو اذان

❀ رات کے وقت فجر سے قبل اذان کہنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے، کیونکہ وہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں، تاکہ جو نمازی نماز پڑھ رہے ہیں وہ رک جائیں اور جو لوگ سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان قبل الفجر: 621
📖 مسلم: 1093

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/621/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1093/

❀ رات اور فجر کی اذان میں کوئی زیادہ وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ مسلم میں راویٔ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا کہ ایک اذان دے کر نیچے اتر رہا ہوتا اور دوسرا اذان دینے کے لیے اوپر چڑھ رہا ہوتا۔

📖 مسلم، کتاب الصيام، باب بيان أن الدخول في الصوم الخ: 1092

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1092/

❀ اذان و اقامت صرف فرض نماز کے لیے ہے، نفل کے لیے نہیں۔

❀ کسی آفت کے وقت اذان کہنا جائز نہیں ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان و اقامت کے الفاظ میں کمی بیشی کرنا

❀ اذان و اقامت کے الفاظ میں کمی بیشی یا تبدیلی کرنا بدعت ہے۔ جناب مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی نے ظہر یا عصر کی اذان میں تحویب کی، یعنی بعد میں “الصلاة خير من النوم” وغیرہ کہا، تو وہ فرمانے لگے: مجھے یہاں سے لے چلو، بلاشبہ یہ بدعت ہے۔

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب في التثويب: 538 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/538/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان و اقامت کب کہنی چاہیے؟

❀ اذان اول وقت ہی میں کہنی چاہیے، بلاوجہ دیر نہیں کرنی چاہیے، لیکن اقامت امام کے آنے پر کہنی چاہیے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے لیٹ نہیں کرتے تھے، لیکن اقامت میں کبھی کبھار تھوڑی بہت تاخیر کر لیتے تھے۔

📖 ابن ماجہ، کتاب الأذان، باب السنة في الأذان: 713 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/713/

❀ اور مسلم میں حدیث ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ زوال کے وقت اذان کہہ دیتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے سے پہلے نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آتا دیکھتے تو اقامت کہتے۔

📖 مسلم، کتاب المساجد، باب متى يقوم الناس للصلاة: 606

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/606/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان و اقامت کے درمیان وقفہ

❀ مذکورہ بالا دونوں احادیث سے پتا چلتا ہے کہ اذان و اقامت میں وقفہ ہونا چاہیے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ثَلَاثًا لِمَنْ شَاءَ

اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہتا ہے پڑھے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب كم بين الأذان الخ: 624

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/624/

❀ اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ اذان اور اقامت میں کچھ وقفہ ہونا چاہیے۔ یہ کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی، جیسا کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھتے کہ لوگ جلدی آ گئے ہیں تو جماعت جلدی کرا دیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے تاخیر کر دی ہے تو جماعت میں تاخیر کر دیتے۔

📖 بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب: 560
📖 مسلم: 636

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/560/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/636/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 کیا اقامت اور جماعت کے درمیان وقفہ جائز ہے؟

❀ اقامت اور جماعت کے درمیان کسی وجہ سے کچھ وقفہ ہو جائے، یا کوئی بات کر لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور صفیں درست ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنے مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ میں جنبی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ تم اپنی جگہ رکے رہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے گھر چلے گئے، پھر ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب هل يخرج من المسجد لعلة؟: 639
📖 مسلم: 605

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/639/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/605/

❀ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت اور جماعت کے درمیان طویل وقفہ بھی ہو جائے تو دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔

16 📘 اقامت کون کہے؟ اذان کے بعد مسجد سے نکلنا، اور اذان کا جواب

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اقامت کون کہے؟

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن ہی اقامت کہتا تھا، اس لیے مؤذن ہی کو اقامت کہنی چاہیے۔

❀ لیکن اگر ایک شخص اذان کہے اور دوسرا اقامت کہے، تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ ایسا کرنا کسی صحیح حدیث سے ممنوع نہیں ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنا

❀ اذان ہو جانے کے بعد بغیر شرعی عذر مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے:

اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔

📖 مسلم، کتاب المساجد، باب النهي عن الخروج الخ: 655

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/655/

❀ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو اذان بلکہ اقامت کے بعد بھی مسجد سے نکلا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اقامت ہونے کے بعد یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً مسجد سے نکل گئے، غسل کیا، پھر آ کر نماز پڑھائی۔

📖 بخاری: 639
📖 مسلم: 605

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/639/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/605/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان کا جواب دینے کی فضیلت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس شخص نے خلوصِ دل سے اذان کا جواب دیا وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ: 385

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/385/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان کا جواب دینے کا طریقہ

❀ مؤذن کے ساتھ ساتھ اذان کے کلمات کا جواب دینا چاہیے۔

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن: 385

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/385/

❀ اذان کے جواب میں وہی کلمات دہرانے چاہییں جو مؤذن کہہ رہا ہو، سوائے حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے۔ جب مؤذن یہ کلمات کہے تو سننے والے کو پڑھنا چاہیے:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول إذا سمع المنادى: 611
📖 مسلم: 383

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/611/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/383/

❀ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ کے جواب میں بھی یہی کلمات دہرائے جاتے ہیں، اور ان کلمات کے جواب میں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا بدعت ہے، کیونکہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص مؤذن کے شہادتین کے کلمات ادا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے، اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے:

وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا

اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوں اللہ کے رب ہونے پر، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، اور اسلام کے دین ہونے پر۔

📖 صحیح ابن خزیمہ: 220/1، ح: 422
📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ: 386

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/386/

❀ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کے جواب میں یہی کلمات کہنے چاہییں، صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ کہنا ثابت نہیں۔

❀ اقامت کا جواب دینا اگرچہ کسی صحیح و صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے، لیکن اقامت کو بھی اذان کہا گیا ہے، اس لیے عموم سے استدلال کرتے ہوئے اگر کوئی اقامت کا جواب دے لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (واللہ اعلم)

❀ اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کے جواب میں أَقَامَ اللَّهُ وَأَدَامَهَا کہنا جائز نہیں، کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے، قابلِ اعتماد نہیں۔

📖 احکام و مسائل از مولانا مبشر احمد ربانی: 142

❀ اقامت ختم ہونے پر آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حق لا إله إلا الله پڑھنا بدعت ہے، یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

17 📘 اذان کے بعد کی دعائیں اور اذان و اقامت کے درمیان دعا

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان کے بعد کی دعائیں

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ

جب تم مؤذن کی اذان سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو، جس نے مجھ پر درود پڑھا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا، پھر میرے لیے اللہ سے مقامِ وسیلہ کا سوال کرو، کیونکہ جس نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گی۔

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه الخ: 384

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/384/

❀ لہٰذا اذان کا جواب دینے کے بعد درود شریف پڑھیں، کیونکہ جو درودِ ابراہیمی پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر یہ دعائے وسیلہ پڑھیں:

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

اے اللہ! اس کامل دعوت اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقامِ محمود پر فائز فرما، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء عند النداء: 614
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 410/1، ح: 1933 — إسناده صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/614/

━━━━━━━━━━━━━━

🟢 اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا

❀ اذان اور اقامت کے درمیان زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ

اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی۔

📖 أبو داود، کتاب الصلاة، باب في الدعاء بين الأذان والإقامة: 521
📖 ترمذی: 212 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/521/

18 📘 نماز میں قبلہ کا حکم قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ اگر قبلہ کے پاس ہوں تو بالکل قبلہ کے سامنے کھڑے ہوں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾
📖 البقرۃ: 144

ترجمہ:
جہاں بھی تم ہو اپنے چہرے مسجدِ حرام کی طرف پھیرو۔

🔗 https://tohed.com/tafsir/2/144/

❀ اگر ایسی جگہ ہوں جہاں قبلہ نظر نہیں آتا تو قبلہ کی سمت نماز پڑھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ سے فرمایا:

ما بين المشرق والمغرب قبلة

ترجمہ:
مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔

📖 سنن الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة: 342 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/342/

❀ اگر قبلہ کی سمت کا علم نہ ہو تو تلاش کریں، اور جس طرف دل زیادہ مطمئن ہو اسی طرف نماز پڑھ لیں۔

❀ اگر نماز کے دوران میں علم ہو جائے کہ سمت غلط ہے، تو فوراً صحیح طرف پھر جانا چاہیے۔

کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط سمت نماز پڑھ رہا ہو تو اسے بتا دینا چاہیے۔

جب قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر بیت اللہ بن گیا، تو کچھ لوگوں کو اس کا علم نہ ہوا۔ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ پاس سے گزرنے والے آدمی نے بلند آواز سے کہا:

میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کی سمت نماز پڑھی ہے۔

تو لوگوں نے نماز کے دوران ہی میں اپنا رخ پھیر لیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 399
📖 صحیح مسلم: 1186

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/399/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1186/

❀ اگر غیر سمت نماز پڑھ لی اور بعد میں معلوم ہوا کہ سمت غلط تھی تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اندھیری رات کی وجہ سے ہمیں قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوئی، ہر شخص نے اپنے ذہن کے مطابق نماز ادا کر لی۔ صبح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی:

﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾
📖 البقرۃ: 115

ترجمہ:
تم جدھر بھی پھرو اسی طرف اللہ کا چہرہ ہے۔

📖 سنن الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الرجل يصلى لغير القبلة في الغيم: 345 — حسن

🔗 https://tohed.com/tafsir/2/115/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/345/

❀ سواری پر نفل نماز پڑھنی ہو تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ضروری نہیں۔

❀ حالتِ خوف میں جب آدمی بھاگتے ہوئے نماز پڑھے، تو قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں۔

[دلائل بعد میں متعلقہ موضوعات کے ساتھ نقل کیئے جائیں گے ان شاء اللہ]

19 📘 نماز کے لیے نیت کا بیان

❀ نماز سے پہلے دل میں نیت کرنا لازمی ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إنما الأعمال بالنيات

ترجمہ:
تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول الله ﷺ: 1

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1/

نیت کا معنی ارادہ ہے، اور ارادہ کرنا دل کا فعل ہے۔

زبان سے نیت کے الفاظ کہنا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی سے، حتیٰ کہ کسی تابعی اور امام نے بھی اسے پسند نہیں کیا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اگر کوئی انسان سیدنا نوح علیہ السلام کی عمر کے برابر تلاش کرتا رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے زبان سے نیت کی ہو تو وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگا، سوائے سفید جھوٹ بولنے کے۔

اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب سے پہلے کرتے اور ہمیں بتا کر جاتے۔

📖 اغاثة اللهفان، الفصل الأول في النية في الطهارة والصلاة: 156
📖 النسخة الأخرى: 1/138

لہٰذا ثابت ہوا کہ نیت دل سے کرنی چاہیے۔

زبان سے نیت کے الفاظ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، اور یہ عمل بے اصل اور بدعت ہے، اس سے پرہیز لازمی ہے۔

❀ نیت نماز شروع کرنے سے پہلے کرنی چاہیے۔

❀ نیت کے دو حصے ہیں:

➊ پہلا یہ کہ کام کس کے لیے کرنا ہے۔

➋ دوسرا یہ کہ کون سا کام کرنا ہے۔

پہلے کا جواب یہ ہے کہ نماز خالص اللہ کے لیے ہے، اسی کو اخلاص کہتے ہیں۔

دوسرے کا جواب یہ ہے کہ فلاں نماز پڑھنے لگا ہوں، مثلاً فجر یا ظہر، یا کوئی دوسری نماز، فرض یا نفل، اتنی رکعات ہیں، ادا ہے یا قضاء؛ یہ پوری تفصیل ذہن میں ہونی چاہیے۔

📖 الکافی لابن قدامہ رحمہ اللہ: 1/275، 276

20 📘 نماز میں خشوع و خضوع کا بیان

❀ خشوع و خضوع نماز کی جان ہے۔ نماز کی قبولیت اور اس کے ثواب میں کمی بیشی کا انحصار اسی پر ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے:

➤ نماز بغیر خشوع کے ایسے ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾
📖 المؤمنون: 1–2

ترجمہ:
ایماندار لوگ کامیاب ہو گئے، وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں۔

🔗 https://tohed.com/tafsir/23/1/

❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

علم میں سے سب سے پہلی چیز جو لوگوں سے اٹھا لی جائے گی، وہ خشوع ہو گا۔ ممکن ہے کہ تو کسی جامع مسجد میں داخل ہو اور تجھے پوری جماعت میں سے ایک شخص بھی خشوع والا نہ ملے۔

📖 سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء في ذهاب العلم: 2653 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2653/

❀ نماز کے تمام ارکان نہایت اہم ہیں، لیکن جو مقام خشوع کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے رکن کو حاصل نہیں۔

خشوع و خضوع سے نماز کا لطف بھی آتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول بھی ہوتی ہے۔
ان شاء اللہ

شریعتِ اسلامیہ نے بہت سارے ایسے اعمال بتائے ہیں، جن کا خیال رکھنے سے نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ حسبِ ذیل ہیں:

➊ جب پیشاب، پاخانہ یا پیٹ میں گیس کا شدید دباؤ ہو تو نماز ادا نہ کریں، پہلے اس سے فارغ ہو جائیں۔

➋ اسی طرح جب بھوک لگی ہو اور کھانا بھی موجود ہو، تو نماز نہ پڑھیں، پہلے کھانا کھا لیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب كراهية الصلاة بحضرة الطعام الخ: 560

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/560/

➌ شدید نیند آ رہی ہو تب بھی نماز نہ پڑھیں، بلکہ پہلے نیند پوری کر لیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب أمر من نعس في صلاته الخ: 786

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/786/

➍ جمائی شیطان کی طرف سے آتی ہے، اس لیے اسے روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے سستی پیدا ہوتی ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب: 2994

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2994/

➎ ایسا لباس پہن کر یا ایسی جگہ اور مصلیٰ پر نماز نہ پڑھیں، جس کی طرف دھیان جانے کا خطرہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب إذا صلى فى ثوب الخ: 373، 374

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/373/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/374/

➏ باتیں کرنے والے لوگوں کے قریب نماز نہ پڑھیں۔

📖 سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، باب الصلاة إلى المتحدثين والقيام: 694 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/694/

➐ نماز ادا کرتے وقت اپنے سامنے سترہ رکھ لیں، اور اس کے قریب کھڑے ہوں۔ کسی کو آگے سے گزرنے نہ دیں۔

➑ جماعت میں ہوں تو ساتھ والے سے اس طرح مل کر کھڑے ہوں کہ بیچ میں جگہ خالی نہ ہو۔

➒ نماز پڑھتے ہوئے دل میں یہ خیال پیدا کریں کہ میں اللہ کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا ہوں۔

اگر یہ خیال پیدا نہ ہو تو کم از کم یہ خیال ضرور پیدا کریں کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الإيمان، باب سؤال جبريل النبي ﷺ عن الإيمان الخ: 50

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/50/

➓ ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھیں۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الزهد، باب الحكمة: 4171 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4171/

⓫ نماز کا ترجمہ یاد کریں، تاکہ ہمیں علم ہو کہ ہم اپنے رب سے کیا کہہ رہے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾
📖 النساء: 43

ترجمہ:
اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ جو کچھ تم کہتے ہو اسے سمجھنے لگو۔

🔗 https://tohed.com/tafsir/4/43/

اس سے ثابت ہوا کہ جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے وہ معلوم ہونا چاہیے۔

اور جب تک دعاؤں کا ترجمہ نہیں آئے گا تو کیسے معلوم ہوگا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں؟

⓬ نماز میں ادھر ادھر ہرگز نہ جھانکیں، اس سے شیطان نمازی کا خیال دوسری طرف لگا دیتا ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب الالتفات في الصلاة: 751

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/751/

⓭ نماز میں بلا وجہ خلافِ نماز حرکت نہیں کرنی چاہیے۔

⓮ نماز کے دوران میں وسوسے اور خیالات آئیں تو أعوذ بالله پڑھ کر بائیں طرف تھوک دیں۔

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں بھولنے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ذاك شيطان يقال له خنزب، فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلاثا

ترجمہ:
یہ شیطان ایسا کرتا ہے، اس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ جب تو اسے محسوس کرے تو أعوذ بالله پڑھ اور بائیں طرف تین بار تھوک دے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب السلام، باب التعوذ من شيطان الوسوسة في الصلاة: 2203

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2203/

❀ تھوکنے سے مراد بائیں طرف منہ کر کے ہلکا سا تھتکارنا ہے کہ پھونک کیساتھ معمولی سا تھوک بھی نکلے۔
❀ بعض لوگ نماز میں خشوع پیدا کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، یہ خلافِ سنت ہے۔

21 📘 نماز میں سترہ: مکمل احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

شیطان آدمی کی نماز خراب کرنے کے لیے اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کے خیالات کو ادھر اُدھر بھٹکاتا ہے، اس لیے شریعت نے شیطانی حملوں سے بچنے کے لیے نمازی کو اپنے سامنے سترہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہو، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز کو توڑ نہ دے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب الدنو من السترة: 695 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/695/

لہٰذا اس معاملے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

سترہ لاٹھی، برچھی، دیوار، ستون، درخت سمیت کسی بھی ایسی چیز کو بنایا جا سکتا ہے جو آڑ بن سکے، اور یہ طول میں ہونا چاہیے، عرض میں نہیں۔

بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایک لمبے بانس وغیرہ کو عرض میں سامنے رکھ لیا جاتا ہے، جو زمین سے ایک ڈیڑھ فٹ اونچا ہوتا ہے، یہ انداز درست نہیں۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ سترہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

يجب أن يكون بالطول لا بالعرض

سترہ طول میں ہونا چاہیے، عرض یعنی چوڑائی میں نہیں۔

📖 ابن حبان، قبل الحديث: 2377

🔗https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2377/

━━━━━━━━━━━━━━

📌 سترہ کی اہمیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا قام أحدكم يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل

تمھارا کوئی جب نماز پڑھنے لگے اور اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی شے ہو تو وہ آڑ کے لیے کافی ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب قدر ما يستر المصلى: 510

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/510/

اور ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تصل إلا إلى سترة

❀ کبھی سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو۔

📖 ابن خزیمہ: 305/3، ح: 775
📖 ابن حبان: 2362
اسے علامہ البانی رحمہ اللہ اور شعیب ارنووط رحمہ اللہ نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

🔗https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2362/

❀ سامنے سترہ رکھ کر نماز پڑھنا افضل ہے، لیکن یہ فرض نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سترہ کے نماز پڑھنا بھی ثابت ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

ایک دفعہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھے سے اترے اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے۔

ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ کے سامنے نیزہ تھا؟

تو انھوں نے فرمایا: نہیں۔

📖 مسند ابی یعلیٰ: 425/2، ح: 2417
📖 النسخة الأخرى: 2423 — صحیح

22 📌 سترہ کے مقاصد و فوائد

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها فإن الشيطان يمر بينه وبينها

جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ رکھے اور اس کے قریب کھڑا ہو، کیونکہ شیطان نماز میں خلل ڈالنے کے لیے نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرتا ہے۔

📖 صحیح ابن حبان: 2375 — حسن

🔗https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2375/

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود، الكلب الأسود شيطان

نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کی مانند سترہ نہ ہو تو گدھا، بالغ عورت اور سیاہ کتا گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، سیاہ کتا شیطان ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب قدر ما يستر المصلى: 510

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/510/

اگر نمازی کے سامنے سترہ نہیں تو مذکورہ بالا تین چیزوں میں سے کسی ایک کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی، اسے نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے، یہی بات اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے۔

ان کے علاوہ کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، کیونکہ اس کے متعلق کوئی صحیح و واضح حدیث موجود نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 سترہ کے اندر سے گزرنے والے کو روکنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس فأراد أحد أن يحتاز بين يديه فليدفعه فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان

جب کوئی شخص کسی ایسی چیز کو سامنے رکھ کر نماز پڑھے، جو اسے لوگوں سے بچائے، پھر اگر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو نمازی اسے روکے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب يرد المصلي من مر بين يديه: 509
📖 صحیح مسلم: 505/259

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/509/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/505/

سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے نقصان نہیں ہوتا۔

📖 صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب سترة المصلى والندب إلى الصلاة إلى سترة الخ: 499

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/499/

━━━━━━━━━━━━━━

📏 سترہ کی مقدار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مثل مؤخرة الرحل

❀ اونٹ کے پالان کے پچھلے حصہ کی اونچائی کے برابر ہونا چاہیے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب سترة المصلى … الخ: 499

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/499/

❀ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

پالان کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے، یعنی ایک ہاتھ کے برابر سترہ کافی ہے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يستر المصلى: 686 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/686/

❀ بیٹھے یا لیٹے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے، اور اس کی حرکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے نماز ادا کی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب التطوع خلف المرأة: 513
📖 صحیح مسلم: 512

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/513/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/512/

❀ جانور کو بھی سترہ بنانا جائز ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب سترة المصلى والندب إلى الصلاة الخ: 502

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/502/

❀ جس روایت میں آتا ہے کہ اگر سترہ کے لیے کوئی چیز نہیں تو سامنے خط کھینچ لیا جائے، یہ ابن ماجہ: 943 اور ابو داؤد: 689 وغیرہ میں ہے۔

اسے علامہ البانی رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

🔗https://tohed.com/hadith/ibn-majah/943/
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/689/

23 📏 سترہ کتنے فاصلے پر ہونا چاہیے؟

❀ سترہ سجدہ والی جگہ کے بالکل قریب ہونا چاہیے۔

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان بين مصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين الحائط ممر الشاة

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلیٰ اور دیوار کے درمیان صرف بکری گزرنے کی جگہ ہوتی تھی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلى والسترة؟: 496
📖 صحیح مسلم: 508

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/496/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/508/

━━━━━━━━━━━━━━

🕌 کیا مسجد میں سترہ کی ضرورت ہے؟

❀ نماز کے لیے سترہ کی ضرورت ہے، صحرا ہو یا مسجد، سفر ہو یا حضر، نماز فرض ہو یا نفل۔

سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ہمیشہ مسجد میں ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔

کسی نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا:

بلاشبہ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں نماز پڑھتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة إلى الأسطوانة: 502
📖 صحیح مسلم: 509

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/502/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/509/

❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن نکلے اور سامنے برچھی گاڑنے کا حکم دیا، پھر اس کی طرف نماز پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب سترة الإمام سترة من خلفه: 494
📖 صحیح مسلم: 501

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/494/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/501/

❀ بعض لوگ سترے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے اور مسجد میں آگے جگہ ہونے کے باوجود پچھلی صفوں بلکہ دروازے کے قریب نماز پڑھنے لگتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔

اگلی صف میں، یا کسی کونے میں، یا کم از کم گزرنے کی جگہ سے ہٹ کر نماز ادا کرنی چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے

❀ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب قائم کیا ہے:

سترة الإمام سترة من خلفه

امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے۔

📖 صحیح البخاری، قبل الحدیث: 493

اس کے تحت وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث لے کر آئے ہیں جس میں ہے کہ وہ صف کے بعض حصے سے گزرے تھے، اور دو حدیثیں مزید بھی ذکر کی ہیں۔

اگر امام کے سامنے سترہ ہے تو اس کے آگے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے مقتدیوں کے آگے کوئی سترہ نہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب سترة الإمام سترة من خلفه: 495
📖 صحیح مسلم: 503

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/495/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/503/

⚠️ نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه

نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو اس کے گناہ کا علم ہو جائے، تو وہ چالیس سال، ماہ یا دن تک ٹھہر جائے، یہ اس کے لیے اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب إثم المار بين يدى المصلى: 510
📖 صحیح مسلم: 507

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/510/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/507/

❀ راوی حدیث سالم بن ابی امیہ ابوالنضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن کہا، یا چالیس مہینے، یا پھر چالیس سال کہا۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے؟

❀ ابو داؤد: 704 کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے بقدر جگہ چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ تین صف کے بقدر فاصلے پر سے گزرنا جائز ہے، اور بعض کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے جہاں عام طور پر نمازی کی نظر نہ پڑے۔

لیکن اس حد بندی کے متعلق کوئی بھی صحیح و واضح حدیث موجود نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع فرمایا ہے اور گزرنے والے کے لیے سخت وعید فرمائی ہے، تو اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا یہی ہے کہ نمازی کے آگے سے کسی بھی صورت میں نہ گزرا جائے۔

24 📘 نماز میں مسنون طریقہ کی اہمیت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر نماز ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ﴾

ترجمہ:
”ذکر یعنی نماز اس طرح پڑھو جس طرح اللہ نے تمہیں سکھائی ہے۔“

📖 سورۃ البقرۃ: 239
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/239/

❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي﴾

ترجمہ:
”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين إذا كانوا جماعة والإقامة: 631
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/631/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 تکبیرِ تحریمہ کا بیان

❀ تکبیرِ تحریمہ سے نماز شروع ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ﴾

ترجمہ:
”نماز کا حرام ہونا تکبیر ہی کے بعد ہے اور اس کا حلال ہونا سلام ہی کے بعد ہے۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء: 61
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/61/

📖 جامع الترمذی: 3
📖 سنن ابن ماجہ: 275 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/275/

یعنی نماز کے دوران بات چیت کا حرام ہونا تکبیر ہی کے بعد ہے، اور اس بات چیت کا حلال ہونا سلام ہی کے بعد ہے۔

❀ نماز شروع کرتے ہوئے ”اللہ اکبر“ کہیں، اس کے علاوہ کوئی بھی جملہ جائز نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 قیام کا بیان

❀ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ﴾

ترجمہ:
”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اس کی طاقت نہ ہو تو پھر لیٹ کر نماز ادا کرو۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب التقصير، باب إذا لم يطق قاعدًا صلى على جنب: 1117
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1117/

❀ اگر کھڑے ہو کر نماز شروع کی، لیکن دورانِ نماز کسی وجہ سے کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی تو بیٹھ جائیں۔

❀ اسی طرح اگر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور کھڑے ہونے کی طاقت آ گئی تو کھڑے ہو جائیں، کیونکہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

25 📘 رفع الیدین کا بیان

❀ دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

﴿رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ﴾

ترجمہ:
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی تکبیر کہتے ہوئے دیکھا کہ آپ تکبیر کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إلى أين يرفع يديه؟: 738
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/738/

📖 صحیح مسلم: 390
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/390/

❀ ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھانا بھی جائز ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين: 391
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/391/

❀ ہاتھوں سے کانوں کو پکڑنا یا چھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

❀ رفع الیدین اور تکبیر میں تینوں شکلیں جائز ہیں:

➊ دونوں ایک ساتھ ہوں۔
➋ پہلے رفع الیدین ہو اور بعد میں تکبیر۔
➌ تکبیر پہلے ہو اور رفع الیدین بعد میں۔

📖 صحیح البخاری: 738
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/738/

📖 صحیح مسلم: 390
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/390/

📖 صحیح ابن خزیمہ: 456
📖 صحیح مسلم: 391
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/391/

❀ رفع الیدین کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہ تو آپس میں ملی ہوئی ہوتیں اور نہ کھلی اور کشادہ ہوتیں۔

📖 المستدرک للحاکم: 234/1
📖 سنن أبي داود: 753
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/753/

📖 جامع الترمذی: 240
📖 صحیح ابن خزیمہ: 233/1، 234، حدیث: 459

━━━━━━━━━━━━━━

📘 رفع الیدین کرنے میں مرد و زن کا فرق

❀ بعض لوگ ہاتھ اٹھانے کی مقدار میں مرد و عورت کا فرق کرتے ہیں کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں کندھوں تک۔

یہ فرق کسی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿التَّفْرِقَةُ لَمْ يَرِدْ مَا يَدُلُّ عَلَى التَّفْرِقَةِ فِي الرَّفْعِ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ﴾

ترجمہ:
”مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث دلالت نہیں کرتی۔“

📖 فتح الباری: 222/2
📖 عون المعبود: 263/1

❀ اور امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿لَمْ يَرِدْ مَا يَدُلُّ عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي مِقْدَارِ الرَّفْعِ﴾

ترجمہ:
”کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے جو مرد و عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقدار کے فرق پر دلالت کرتی ہو۔“

📖 نیل الأوطار: 214/2، بعد الحدیث: 671

********************************

اس مسئلے کی مزید تفصیل ان مضامین میں ملاحظہ کریں:

https://tohed.com/9468b4

https://tohed.com/46087d

26 📘 ہاتھ باندھنے کا بیان

❀ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ﴾

ترجمہ:
”لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب وضع اليمنى على اليسرى: 740
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/740/

❀ ”ذراع“ کہنی کے سرے سے درمیانی انگلی کے سرے تک کے حصے کو کہتے ہیں۔

📖 القاموس الوحید: 568

❀ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا، یوں کہ وہ پہنچے اور کلائی پر بھی آ گیا۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 727 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/727/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 ہاتھ باندھنے کا مقام

❀ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں، یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، جو درج ذیل ہیں:

➊ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ﴾

ترجمہ:
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھے۔“

📖 صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلاة، باب وضع اليمين على الشمال في الصلاة: 243/1، حدیث: 479
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/479/

یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اس لیے کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کی شرائط کے متعلق کتاب کے آغاز میں فرمایا ہے کہ یہ مختصر صحیح احادیث کا مجموعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح اور متصل سند کے ساتھ پہنچتی ہیں، اور بیچ میں کوئی راوی ساقط یا سند میں انقطاع نہیں ہے، اور نہ کوئی راوی مجروح یا ضعیف ہے۔

اس کے علاوہ حافظ ابن حجر، علامہ عینی، علامہ شوکانی، ملا علی قاری سندھی، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، علامہ ابن نجیم حنفی، علامہ ابو الحسن الکبیر سندھی، علامہ محمد حیات سندھی، سید ابو تراب رشد اللہ شاہ راشدی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

➋ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَرَأَيْتُهُ قَالَ: يَضَعُ هَذَا عَلَى صَدْرِهِ﴾

ترجمہ:
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے دائیں اور بائیں طرف پھرتے تھے، اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ ہاتھ سینے پر رکھتے تھے۔“

📖 مسند أحمد: 226/5، حدیث: 22313

قبیصہ صدوق حسن الحدیث ہیں۔ انہیں امام عجلی اور ابن حبان رحمہما اللہ نے ثقہ کہا ہے، امام ترمذی اور امام بغوی رحمہما اللہ نے ان کی حدیث کو حسن کہا ہے، اور امام نووی اور امام ابن عبد البر رحمہما اللہ نے ان کی حدیث کو صحیح کہا ہے۔

اس حدیث کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں، امام ابن سید الناس رحمہ اللہ نے شرح الترمذی میں، اور علامہ نووی رحمہ اللہ نے آثار السنن میں سنداً حسن تسلیم کیا ہے۔

علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الاحوذی میں فرمایا:

﴿رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ﴾

ترجمہ:
”اس حدیث کی سند کے سب راوی ثقہ اور معتبر ہیں، اور اس کی سند متصل ہے۔“

➌ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ﴾

ترجمہ:
”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر انہیں سینے پر باندھ لیا۔“

📖 السنن الكبرى للبيهقي، کتاب الحيض، باب وضع اليدين على الصدر: 30/2، حدیث: 2336
📖 طبقات المحدثين بأصبهان لأبي الشيخ: 432

اسے سید ابو تراب رشد اللہ شاہ راشدی اور شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہما اللہ نے حسن کہا ہے۔

➍ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ، وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ﴾

ترجمہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر انہیں سینے پر باندھا کرتے تھے۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة: 759 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/759/

یہ روایت مرسل ہے۔ احناف کے نزدیک مرسل روایت مطلق حجت ہے۔

📖 اصول سرخسی: 360/1
📖 نور الانوار: 150
📖 کشف الرین: 17
📖 فتح القدیر: 239/1

اور محدثین کے نزدیک متصل روایات کی موجودگی میں مقبول ہوتی ہے۔ اس روایت کے ساتھ دوسری متصل روایات موجود ہیں۔

اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

📖 معرفۃ السنن والآثار للبیہقی
📖 فتح الغفور
📖 درج الدرر
📖 تحفۃ الاحوذی: 216/1

اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

27 📘 زیرِ ناف ہاتھ باندھنے والی روایات کی حقیقت

مندرجہ بالا احادیث کے برعکس زیرِ ناف ہاتھ باندھنے والی روایت انتہائی ضعیف ہے۔

علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا:

﴿مُتَّفَقٌ عَلَى ضَعْفِهِ﴾

ترجمہ:
یعنی اس روایت کے مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

علمائے احناف میں علامہ عبد الحی لکھنوی، ابن الہمام اور ابن نجیم رحمہم اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔

علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ متعین کرنے والی کوئی بھی حدیث صحیح ثابت نہیں، سوائے ابن خزیمہ کی روایت کے۔“

آخر میں حنفی عالم ملا الہداد جونپوری رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ ہو:

”امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، اور علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سنت طریقہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے، یہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔

نیز میں کہتا ہوں کہ اس کے ضعیف ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آیت ﴿وَانْحَرْ﴾ کی تفسیر یہ کی ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں، اور ”النَّاحِر“ سینے کی رگ کو کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ﴿وَانْحَرْ﴾ کا معنی یہ ہو گا کہ ان رگوں کے اوپر ہاتھ رکھے جائیں۔

جو شخص اس روایت کو رد کرے، اس کے لیے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کرنا واجب ہے، اور اس طرح کہنا کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا تعظیم والا فعل ہے، تو یہ بات غلط ہے، کیونکہ یہ حدیث کے خلاف ہے۔“

📖 شرح ہدایہ: 407 قلمی

━━━━━━━━━━━━━━

📘 استفتاحِ نماز کی دعائیں

❀ پھر مندرجہ ذیل میں سے کوئی دعائے استفتاح پڑھیں:

﴿اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ﴾

ترجمہ:
”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب ما يقول بعد التكبير: 744
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/744/

﴿سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ﴾

ترجمہ:
”میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے اللہ! تیری حمد کے ساتھ، اور بہت بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة: 399/52
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/399/

📖 جامع الترمذی: 242

﴿اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾

ترجمہ:
”اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اور تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، اور میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں صبح و شام۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 601
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/601/

❀ دعائے استفتاح نماز کے شروع میں پڑھی جائے گی، بعد میں نہیں۔

یعنی اگر کوئی آدمی قیام کے بعد رکوع یا سجدہ میں جماعت کے ساتھ ملا ہے تو وہ دعائے استفتاح نہیں پڑھے گا، بلکہ اسی حالت میں ساتھ مل جائے گا، اور بعد میں بھی نہیں پڑھے گا، کیونکہ اس کا محل گزر چکا ہے۔

28 📘 قراءت کا بیان

❀ دعائے استفتاح کے بعد یہ تعوذ پڑھیں:

﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ﴾

ترجمہ:
”میں سننے والے، جاننے والے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں مردود شیطان سے، اس کی پھونکوں سے، اس کی تھوک سے اور اس کے چھلکوں سے۔“

📖 أبو داود، كتاب الصلاة، باب من رأى الاستفتاح الخ: 775
📖 ترمذی: 242 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/775/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/242/

❀ پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تعوذ پڑھنا لازمی ہے، بعد میں اختلاف ہے، نہ پڑھنا بہتر ہے، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو بغیر کچھ دیر خاموش رہے اور سورہ فاتحہ سے قراءت شروع کرتے۔“

📖 مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 599

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/599/

❀ لیکن اگر جماعت میں قیام کے بعد ملا ہے اور تعوذ نہیں پڑھ سکا تو پھر جب قیام کے لیے کھڑا ہوگا تو تعوذ پڑھے گا، کیونکہ ایک دفعہ تعوذ پڑھنا ضروری ہے۔

﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾

📖 النحل: 98

🔗 https://tohed.com/tafsir/16/98/

پھر سورہ فاتحہ پڑھیں:

﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿١﴾‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿٢﴾‏ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿٣﴾‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‎﴿٤﴾‏ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ‎﴿٥﴾‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ‎﴿٦﴾‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎﴿٧﴾‏﴾

📖 الفاتحة: 1 تا 7

ترجمہ:
”اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو رب ہے سب جہانوں کا۔ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ مالک ہے جزا و سزا کے دن کا۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا، ان کی راہ پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان کی جو راہ بھول گئے۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/1/1/

❀ ہر نمازی ہر حالت میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے، خواہ امام ہو، مقتدی ہو، یا اکیلا ہو، کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ﴾

ترجمہ:
”جس شخص نے نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم الخ: 756
📖 مسلم: 394

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/756/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/394/

❀ سورہ فاتحہ کے ساتھ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ضرور پڑھیں، یہ جہری پڑھنا بھی ثابت ہے اور سراً بھی۔

📖 نسائی، کتاب الافتتاح، باب قراءة "بسم الله الرحمن الرحيم": 906 — إسناده صحيح
📖 ابن خزیمہ: 249/1 تا 251، حدیث: 499 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/906/

📘 اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا

❀ امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں مذکورہ بالا حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے:

”سورہ فاتحہ کی قراءت امام اور مقتدی پر تمام نمازوں میں فرض ہے، خواہ وہ حضر میں ہو یا سفر میں، اور جہری نماز میں بھی اور سری نمازوں میں بھی۔“

❀ امام کے پیچھے، جب امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو، تو بھی سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَفْعَلُ هَذَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا﴾

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت کرنا مشکل ہو گیا، تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟‘ ہم نے عرض کی: ’ہاں! اے اللہ کے رسول! یقیناً ہم قراءت کرتے ہیں۔‘ آپ نے فرمایا: ’کچھ نہ پڑھا کرو، سوائے سورہ فاتحہ کے، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔‘“

📖 صحیح ابن حبان: 1785 — اسے شیخ شعیب الأرنؤوط نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے
📖 مسند أحمد: 313/5، حدیث: 23047

🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1785/

➤ مسئلہ فاتحہ خلف الامام کی مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:

🔗 https://tohed.com/cab166

🔗 https://tohed.com/e709b4

29 📘 سورہ فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا لازمی ہے

❀ سورہ فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا لازمی ہے، محض ایک رکعت میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا:

﴿إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ﴾

ترجمہ:
”جب قبلہ کی طرف رخ ہو جائے تو تکبیر تحریمہ کہہ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھ، پھر جو تو پڑھنا چاہتا ہے پڑھ، پھر یہ کام نماز کی ہر رکعت میں کر۔“

📖 صحیح ابن حبان: 1787 — شعیب الأرنؤوط نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے
📖 مسند أحمد: 340/4، حدیث: 19204
📖 اس کی اصل بخاری: 793 میں ہے

🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1787/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/

❀ ہر آیت الگ الگ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً﴾

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت کو جدا جدا کر کے پڑھتے تھے۔“

📖 أبو داود، كتاب الحروف والقراءات: 4001
📖 ترمذی: 2927 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4001/

❀ بعض لوگ قراءت کرتے ہوئے دو دو، تین تین آیات کو ملا کر ایک سانس میں پڑھتے ہیں، یہ سنت کے خلاف ہے۔

❀ سورہ فاتحہ کے اختتام پر آمین کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ﴾

ترجمہ:
”جب امام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو تم آمین کہو۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب جهر المأموم بالتأمين: 782
📖 مسلم: 410

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/782/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/410/

❀ جماعت میں امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو امام اور مقتدیوں کو بھی بلند آواز سے ”آمين“ کہنی چاہیے۔

❀ فاتحہ کے بعد جو سورت پڑھنا چاہے وہ پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ﴾

ترجمہ:
”جب تو قبلہ رخ ہو جائے تو تکبیر تحریمہ کہہ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھ، پھر جو تو پڑھنا چاہتا ہے پڑھ۔“

📖 صحیح ابن حبان: 1787 — شعیب الأرنؤوط نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے
📖 اس کی اصل بخاری: 793 میں ہے

🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1787/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/

📘 ایک رکعت میں کتنی قراءت کرنی چاہیے؟

❀ ایک رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں سورۃ بقرہ پڑھی، پھر سورہ نساء، پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔“

📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/

❀ ایک رکعت میں سورت کا کچھ حصہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں نماز فجر پڑھائی اور اس میں سورہ مؤمنون شروع کی، جب موسیٰ اور ہارون علیہما السلام یا عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی اور آپ رکوع میں چلے گئے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة في الصبح: 455

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/455/

❀ کسی وجہ سے بیچ میں قراءت چھوڑی جا سکتی ہے۔

📖 ایضاً

❀ سورۃ فاتحہ کے بعد صرف ایک آیت پڑھنا بھی جائز ہے۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿قَامَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ﴾

ترجمہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ تہجد میں صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے۔“

📖 نسائی، کتاب الافتتاح، باب ترديد الآية: 1011

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1011/

❀ ایک آیت بار بار پڑھی جا سکتی ہے۔

📖 ایضاً

30 📘 ایک سورت دونوں رکعات میں پڑھنا

❀ دو رکعات میں ایک ہی سورت بار بار پڑھنا جائز ہے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا﴾

ترجمہ:
”اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے صبح کی نماز کی دونوں رکعات میں سورت إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ کی تلاوت کی۔“

📖 أبو داود، كتاب الصلاة، باب الرجل يعيد سورة واحدة في الركعتين: 816 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/816/

📘 سورتیں ترتیب سے پڑھنا

❀ نماز میں سورتوں کی قراءت ترتیب سے کی جائے یا بغیر ترتیب کے، دونوں طرح جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح ثابت ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا﴾

ترجمہ:
”ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ بقرہ شروع کی، پھر سورہ نساء اور پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔“

📖 مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/

📘 قرآن مجید سے دیکھ کر قراءت کرنا

❀ فرض نماز میں قراءت زبانی ہی کرنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کے لیے اس شخص کو سب سے زیادہ مستحق قرار دیا ہے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ نیز فرض نماز میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

❀ نفل نماز میں بھی قراءت زبانی کرنی چاہیے، لیکن اگر کوئی قرآن سے دیکھ کر قراءت کرتا ہے تو اس کی گنجائش ہے:

﴿كَانَتْ عَائِشَةُ يُؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ﴾

ترجمہ:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا غلام ذکوان قرآن سے دیکھ کر امامت کرواتا تھا۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، قبل الحديث: 692

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/692/

📘 قراءت کے شروع میں اور بعد میں سکتہ

❀ قراءت کی ابتدا میں اور بعد میں دو سکتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، جو کرنا چاہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان کچھ دیر کے لیے خاموش رہتے تھے، اور اس دوران میں دعائے استفتاح پڑھتے تھے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير: 744
📖 مسلم: 598

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/744/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/598/

❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سکتے فرمایا کرتے تھے: ایک نماز شروع کرتے ہوئے، یعنی قراءت سے پہلے، اور دوسرا جب قراءت سے فارغ ہو جاتے، یعنی رکوع سے پہلے۔

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب السكتة عند الافتتاح: 778 — اسے زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/778/

📘 قرآن مجید کی بعض آیات کا جواب دینا

قرآن مجید میں بعض آیات ایسی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ان کا جواب بھی دینا چاہیے، لیکن یہ فرض نماز میں ثابت نہیں، لہٰذا تفصیل نفل نمازوں کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں۔

❀ مثلاً سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ﴾

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تسبیح والی آیت سے گزرتے تو سبحان اللہ کہتے، جب سوال والی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے، اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو أَعُوذُ بِاللَّهِ پڑھتے تھے۔“

📖 مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/

❀ سورۃ الاعلیٰ کی پہلی آیت کے جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھنا جائز ہے۔

📖 أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة: 883 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/883/

❀ کسی بھی حساب والی آیت کے جواب میں اللَّهُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا پڑھنا چاہیے۔

📖 صحیح ابن خزیمہ: 30/22، 31، حدیث: 849 — صحیح ابن حبان: 7372
📖 مسند أحمد: 48/6، حدیث: 24719
📖 مستدرک حاکم: 249/4، حدیث: 7636
📖 امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

📘 کتنی آواز سے قراءت کرنی چاہیے؟

❀ نمازی کو قراءت اور دعائیں اتنی اونچی آواز سے نہیں پڑھنی چاہییں کہ دوسروں کو تکلیف ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ﴾

ترجمہ:
”قراءت کے وقت تم میں سے کوئی دوسرے پر اپنی آواز بلند نہ کرے کہ اسے تکلیف ہو۔“

📖 أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل: 1332 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1332/

❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہونٹ بند کر کے قراءت کرنی چاہیے، یہ بات غلط ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کرتے تھے تو آپ کی داڑھی مبارک حرکت کرتی تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونٹ بند کر کے قراءت نہیں کرتے تھے۔

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 760

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/760/

31 📘 آخری دو رکعات میں قراءت

تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کرنا جائز ہے، ضروری نہیں۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ﴾

ترجمہ:
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور مزید دو سورتیں پڑھتے تھے، اور آخری دو رکعات میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب يقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب: 776
📖 مسلم: 451

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/776/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/451/

❀ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ﴾

ترجمہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں تیس آیات کے قریب تلاوت کرتے تھے اور آخری دو رکعات میں اس سے آدھی آیات تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعات میں پندرہ آیات کے برابر تلاوت کرتے تھے اور آخری دو رکعات میں اس سے نصف۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة فى الظهر والعصر: 452

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/452/

❀ ابو عبد اللہ صنابحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدینہ میں آیا اور میں نے مغرب کی نماز ان کے پیچھے پڑھی۔ انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ مفصل میں سے ایک سورت پڑھی، پھر جب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو میں ان کے قریب ہو گیا، قریب تھا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو چھو لیتے، میں نے سنا کہ انہوں نے سورہ فاتحہ کی قراءت کی اور پھر اس آیت کی:

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾

📖 آل عمران: 8

📖 الموطأ، كتاب الصلاة، باب القراءة في المغرب والعشاء: 25 — صحیح

❀ نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعتوں میں قراءت کرتے، وہ ہر رکعت میں ام القرآن، یعنی سورہ فاتحہ، کے ساتھ قرآن مجید کی کوئی اور سورت بھی تلاوت فرماتے تھے۔

📖 الموطأ، كتاب الصلاة، باب القراءة في المغرب والعشاء: 26 — صحیح

📘 سجدہ تلاوت کا بیان

❀ نماز میں سجدہ والی آیت تلاوت کی جائے تو سجدہ کرنا چاہیے۔

❀ امام نماز میں سجدہ تلاوت کرے تو مقتدیوں کو بھی سجدہ کرنا چاہیے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی، تو انہوں نے إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا: ’یہ کیا ہے؟‘ انہوں نے فرمایا: ’میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس مقام پر سجدہ کیا ہے۔‘“

📖 بخاری، كتاب سجود القرآن، باب من قرأ السجدة في الصلاة فسجد بها: 1078

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1078/

32 📘 رکوع، رفع یدین اور قومہ کا طریقہ

قرأت کے بعد ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کریں، پھر رکوع میں جائیں۔ رکوع کے بعد دوبارہ ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کریں اور سیدھے کھڑے ہو جائیں، اسے قومہ کہا جاتا ہے۔

❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے تھے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى من الافتتاح سواء: 735
📖 مسلم: 390

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/735/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/390/

مسئلہ رفع یدین سے متعلق مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:

🔗 https://tohed.com/e83257

🔗 https://tohed.com/bce625

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 رکوع کا طریقہ

❀ اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائیں۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين يسجد: 803
📖 مسلم: 392

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/803/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/392/

❀ ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں اور انہیں مضبوطی سے پکڑیں۔

❀ ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر رکھیں اور بازو کمان کی طرح تان کر رکھیں۔

❀ پیٹھ بالکل سیدھی ہو، ذرا بھی خم نہ آئے، سر بھی متوازی ہو، نہ اونچا ہو، نہ نیچا۔

❀ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ

اور ایک روایت میں ہے:

وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ

”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر مضبوطی سے جما لیتے، اپنی انگلیوں کو کھولتے، پھر اپنی کمر کو اس طرح جھکاتے کہ سر نہ اوپر اٹھا ہوتا اور نہ بالکل جھکا ہوتا۔“

اور ایک روایت میں ہے:

”اور ہاتھ کمان کی طرح مضبوط کر لیتے کہ بازو پہلوؤں سے جدا کرتے۔“

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 731، 734
📖 ترمذی: 260 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/731/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/734/

❀ اطمینان سے رکوع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا

”پھر رکوع کر حتیٰ کہ رکوع میں اطمینان کر لے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم ….. الخ: 793
📖 مسلم: 397

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/397/

❀ جو شخص رکوع میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ

”آدمی کی نماز کفایت نہیں کرتی جب تک وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ کو بالکل سیدھا نہیں کرتا۔“

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه من الركوع: 855 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/855/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 رکوع کی دعائیں

رکوع میں مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی پڑھ لیں:

➊ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي

”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو ہر عیب سے پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع: 794
📖 مسلم: 484

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/794/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/484/

➋ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ

”میرا پروردگار پاک ہے، ہر عیب سے، سب سے بلند ہے۔“

📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/

➌ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

”اے اللہ! تو ہر عیب سے پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 485

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/485/

➍ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي

”اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا ہی فرماں بردار بنا، تیرے ہی لیے ڈر کر عاجز ہو گئے میرے کان، میری آنکھیں، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرے اعصاب۔“

📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ودعائه بالليل: 771

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/771/

➎ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

”فرشتوں اور روح، یعنی جبریل، کا رب بہت پاکیزگی والا، بہت مقدس ہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 487

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/487/

➏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ

”پاک ہے بہت بڑی قدرت و طاقت والا، بہت بڑے ملک والا، بڑائی اور عظمت والا۔“

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده: 873 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/873/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت کا حکم

❀ رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا

”غور سے سنو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود: 479

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/479/

❀ رکوع و سجدہ میں قراءتِ قرآن منع ہے، قرآنی دعا پڑھنا منع نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے:

إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📖 المائدة: 118

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں بھی یہی آیت پڑھتے رہے۔“

📖 مسند أحمد: 21386 — صحیح

لہٰذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجدہ میں قرآن بطورِ دعا پڑھنا جائز ہے اور دعا پڑھنا جائز ہے بطورِ قراءت جائز نہیں۔

33 📘 قومہ کا بیان

❀ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کریں، یعنی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں۔
اس کے تفصیلی دلائل پیچھے گزر چکے ہیں۔

❀ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہیں۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى من الافتتاح سواء: 735
📖 مسلم: 865/139

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/735/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/865/

❀ بالکل سیدھے اور اطمینان سے کھڑے ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا

”پھر رکوع سے اٹھ، حتیٰ کہ تو بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم الذي لا يتم ركوعه بالإعادة: 793

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/

❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَامَ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے ہو جاتے، حتیٰ کہ ہم سمجھتے کہ شاید آپ تمام بھول گئے ہیں۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام: 473

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/473/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 قومہ کی دعائیں

❀ رکوع کے بعد قیام کی حالت میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی دعا پڑھیں:

➊ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ

”اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ بہت زیادہ اور پاکیزہ تعریف، جس میں برکت کی گئی ہے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب: 799

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/799/

➋ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

”اے ہمارے اللہ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 476

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/476/

➌ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ

”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان بھر جائیں، زمین بھر جائے، ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر جائے، اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر جائے۔ اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 476/204

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/476/

➍ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، اتنی جس سے آسمان بھر جائیں، زمین بھر جائے، دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر جائے، اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر جائے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی وہ یہ ہے، جبکہ ہم سب تیرے بندے ہیں۔ اے اللہ! کوئی روکنے والا نہیں اس چیز کو جو تو نے عطا کی، اور وہ چیز کوئی دینے والا نہیں جو تو نے روک دی، اور کسی کا مقام و مرتبہ اسے تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع: 477

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/477/

34 📘 سجدہ کے لیے جھکنے کا طریقہ

❀ اللَّهُ أَكْبَرْ کہتے ہوئے سجدہ میں جائیں۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين يسجد: 803

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/803/

❀ جھکتے وقت زمین پر پہلے ہاتھ رکھیں، پھر گھٹنے رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ

”جب تم سجدہ میں جاؤ تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ پہلے ہاتھ رکھو، پھر گھٹنے رکھو۔“

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه: 840
📖 نسائی: 1092

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/840/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1092/

اس حدیث کو امام حاکم، امام ذہبی، امام ابن خزیمہ اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔ امام نووی اور زرقانی رحمہما اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے، اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت سے، جس میں زمین پر پہلے گھٹنے رکھنے کا ذکر ہے، زیادہ قوی ہے۔

📖 المجموع: 421/3
📖 تحفة الأحوذي: 229/1
📖 سبل السلام: 316/1

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی اس حدیث کا شاہد ہے۔

یاد رہے کہ اونٹ اور دیگر چوپایوں کے گھٹنے ان کے ہاتھوں، یعنی اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں۔ لسان العرب میں ہے:

”اونٹ کا گھٹنا اس کے ہاتھ، یعنی اگلی ٹانگ میں ہوتا ہے، اور تمام چوپایوں کے گھٹنے ان کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔“

📖 لسان العرب: 433/1

لہٰذا اونٹ کی طرح نہیں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ وہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھتا ہے، اور ہمیں پہلے ہاتھ رکھنے چاہییں۔

❀ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أَنَّهُ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَفْعَلُ ذَلِكَ

”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ رکھا کرتے تھے، اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“

📖 ابن خزیمہ: 318/1، 319، حدیث: 627
📖 بخاری، قبل الحدیث: 803، معلقاً

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/803/

اس حدیث کو امام حاکم نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

📖 مستدرک حاکم: 226/1

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 گھٹنے پہلے رکھنے کے قائلین کی دلیل

❀ سجدہ کو جاتے ہوئے گھٹنے پہلے رکھنے کے قائلین سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ

”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب وہ سجدہ کرتے تو دونوں گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔“

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه: 838 — ضعیف

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/838/

یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند شریک بن عبد اللہ القاضی راوی کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔

📖 نیز دیکھیے: سلسلة الأحاديث الضعيفة: 329/2

➤ درج بالا تفصیل سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ راجح بات یہی ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے آدمی گھٹنوں کی بجائے پہلے ہاتھ زمین پر رکھے۔

35 📘 سجدہ کرنے کا طریقہ

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، على الجبهة وأشار بيده على أنفه واليدين والركبتين وأطراف القدمين

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں: پیشانی پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا، یعنی پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب السجود على الأنف: 812
📖 مسلم: 490

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/812/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/490/

❀ بعض لوگ سجدہ کرتے ہوئے ناک زمین پر نہیں لگاتے، جبکہ ناک زمین پر لگے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا صلاة لمن لا يصيب أنفه من الأرض ما يصيب الجبين

”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا ناک زمین سے نہ لگے، جس طرح پیشانی لگتی ہے۔“

📖 سنن الدارقطني: 348/1، ح: 1304
📖 المستدرك للحاكم: 271/1، ح: 997-998

➤ امام حاکم نے اسے صحیح بخاری کی شرط پر صحیح کہا ہے، ابن جوزی اور ابن عبد الہادی رحمہما اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔

❀ زمین پر کوئی ایسی چیز، مثلاً تکیہ وغیرہ، نہ رکھیں جس سے پیشانی اور زمین کے درمیان فاصلہ ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کو دیکھا کہ وہ تکیہ پر سجدہ کر رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا:

صل على الأرض إن استطعت

”اگر تجھ میں طاقت ہو تو زمین پر نماز پڑھ۔“

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 306/2، 307
📖 الصحيحة: 323
➤ صحیح

❀ لیکن کپڑا یا مصلیٰ وغیرہ بچھانا جائز ہے۔

📖 بخاری، کتاب الصلاة، باب السجود على الثوب في شدة الحر: 385
📖 مسلم: 620

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/385/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/620/

❀ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھیں۔

📖 أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 734
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/734/

❀ سجدہ میں ہاتھ کانوں کے برابر رکھنا بھی جائز ہے۔

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/726/

❀ حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیوں کو طبعی حالت ہی میں رکھنا چاہیے۔ ایک حدیث میں انگلیاں ملانے کا ذکر ہے، یہ ابن خزیمہ: 642، ابن حبان: 1920 اور مستدرک حاکم: 24471 وغیرہ میں آتی ہے، لیکن اس کی سند ہشیم بن بشیر کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔

❀ بازو زمین سے اٹھا کر اور پہلوؤں سے دور کر کے رکھیں۔ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما

”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو ہاتھ زمین پر رکھتے اور بازو نہ زمین پر بچھاتے اور نہ سمیٹ کر پہلو سے لگا لیتے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/828/

❀ دونوں پاؤں کھڑے کر کے رکھیں۔

❀ پاؤں کی ایڑیاں آپس میں ملا لیں۔

❀ پاؤں کی انگلیاں موڑ کر ان کے سرے قبلہ رخ کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته فوقعت يدي على بطن قدمه وهو فى المسجد وهما منصوبتان راضا عقبيه مستقبلا بأطراف أصابعه القبلة

”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بستر سے گم پایا، میں اندھیرے میں انھیں تلاش کرنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے اندر والے حصے پر لگا اور آپ سجدہ کی حالت میں تھے، آپ کے پاؤں کھڑے تھے، ایڑیاں ملی ہوئی تھیں اور آپ نے پاؤں کی انگلیوں کو موڑ کر قبلہ رخ کیا ہوا تھا۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 486
📖 صحیح ابن خزيمة: 328/1، ح: 654

➤ الاعظمی نے اسے صحیح کہا، شعیب الأرنؤوط نے صحیح علی شرط مسلم کہا، اور امام حاکم و ذہبی نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/486/

❀ پیٹ رانوں سے جدا اور سینہ زمین سے اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ بکری کا بچہ گزر سکے۔

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب الاعتدال في السجود الخ: 496

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/496/

❀ سجدے میں دونوں بازوؤں کو کھلا رکھیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب يبدي ضبعيه ويجافي في السجود: 807
📖 مسلم: 497

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/807/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/497/

❀ کپڑے اور بال مت سمیٹیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أمرنا أن نسجد على سبعة أعظم ولا نكف ثوبا ولا شعرا

”ہمیں اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ ہم سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور اپنے کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب السجود على سبعة أعظم: 810
📖 مسلم: 490

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/810/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/490/

❀ جو شخص سجدہ میں اپنی پیٹھ بالکل سیدھی نہ کرے، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تجزئ صلاة الرجل حتى يقيم ظهره فى الركوع والسجود

”آدمی کی نماز نہیں ہوتی جب تک وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔“

📖 أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع: 855
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/855/

❀ سجدہ اطمینان سے کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا

”پھر سجدہ کر اور اطمینان سے کر۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام الخ: 757

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/757/

❀ جو شخص اطمینان سے سجدہ نہیں کرتا، اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”سب سے بدترین چور نماز کا چور ہے۔“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا:

”وہ کیسے نماز کی چوری کرتا ہے؟“

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”وہ اس کا رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا۔“

📖 مسند أحمد: 310/5، ح: 22708

36 📘 سجدہ کرنے میں مرد و زن کا فرق

عورتوں کے سجدہ کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کے بغیر عورت کا سجدہ نہیں ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لیے کوئی الگ طریقہ نہیں بتایا۔

لیکن بعض لوگوں نے مرد اور عورت کے سجدہ کرنے کے طریقے میں فرق کیا ہے کہ مرد اپنی رانوں کو پیٹ سے دور رکھیں اور عورتیں اپنی رانوں کو پیٹ سے چپکا لیں۔

➤ یہ فرق کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں۔

اس حوالے سے جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ بالکل ضعیف ہے، قطعاً دلیل بنانے کے لائق نہیں ہے۔ وہ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، تو فرمایا:

”جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو، کیونکہ عورتوں کا حکم اس میں مردوں والا نہیں۔“

اس روایت میں کئی خرابیاں ہیں:

➊ اولاً یہ روایت مرسل ہے۔
➋ ثانیاً یہ روایت منقطع ہے۔
➌ ثالثاً اس میں ایک راوی سالم متروک ہے۔
➍ رابعاً یہ صحیح روایات کے بھی خلاف ہے۔

علامہ ابن الترکمانی حنفی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔

📖 الجوهر النقي على السنن الكبرى للبيهقي: 223/2

اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ نہ زمین پر بچھاتے اور نہ پہلوؤں سے ملاتے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/828/

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی بھی ہے:

لا ينبسط أحدكم ذراعيه إنبساط الكلب

”تم میں سے کوئی بھی حالتِ سجدہ میں اپنے بازو کتے کی طرح زمین پر نہ بچھائے۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب لا يفترش ذراعيه في السجود: 822

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/822/

لہٰذا ثابت ہوا کہ مرد اور عورت کے سجدہ کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے، کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔

اور جو خاتون اس کے خلاف، یعنی زمین پر ہاتھ بچھا کر سجدہ کرتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین!

➤ اس مسئلہ کی مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:

🔗 https://tohed.com/a866f4

37 📘 سجدہ کی دعائیں

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فاكثروا الدعاء

”بندہ سجدے میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، لہٰذا اسے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہیے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 482

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/482/

❀ مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی دعا پڑھ لیں:

سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

”میرا پروردگار ہر عیب سے پاک ہے، سب سے بلند ہے۔“

📖 مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي

”اے ہمارے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو ہر عیب سے پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع: 794
📖 مسلم: 484

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/794/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/484/

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ

”اے اللہ! میرے چھوٹے اور بڑے، پہلے اور پچھلے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ بخش دے۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 483

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/483/

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

”اے اللہ! میں تیری رضامندی کے ذریعے تیرے غصے سے، تیری عافیت کے ذریعے تیری سزا سے، اور تیری رحمت کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریف کو شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود بیان فرمائی ہے۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 486

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/486/

سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

”فرشتوں اور روح، یعنی جبریل، کا رب بہت پاک، بہت مقدس ہے۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 487

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/487/

اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

”اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا ہی فرماں بردار بنا۔ میرے چہرے نے اس ہستی کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے۔ برکت والا ہے اللہ، جو تمام بنانے والوں سے اچھا ہے۔“

📖 مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبى ودعائه بالليل: 771

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/771/

سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ

”پاک ہے بہت جبر اور بہت بڑے ملک والا، اور بڑائی اور عظمت والا۔“

📖 أبو داود، كتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده: 873
📖 نسائی: 1050

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/873/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1050/

❀ سجدہ میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا

”مجھے اللہ کی طرف سے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود: 479

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/479/

❀ سجدہ و رکوع میں قراءتِ قرآن منع ہے، قرآنی دعا پڑھنا منع نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے:

إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📖 المائدة: 118

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں بھی یہی آیت پڑھتے رہے۔

📖 مسند أحمد: 149/5، ح: 2386
➤ صحیح

لہٰذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجدہ میں قرآن بطور دعا پڑھنا جائز ہے، اور بطور قراءت جائز نہیں۔

38 📘 سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان

❀ الله أكبر کہتے ہوئے سجدہ سے سر اٹھائیں اور سیدھے ہو کر اطمینان سے بیٹھ جائیں۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبوی طریقہ سکھانے کے لیے نماز پڑھائی، اس میں ہے:

كان إذا رفع رأسه من الركوع انتصب قائما حتى يقول القائل قد نسي وبين السجدتين مكث حتى يقول القائل قد نسي

”جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ لوگ سمجھتے کہ وہ بھول گئے ہیں، اور دو سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ مقتدی سمجھتے کہ شاید بھول گئے ہیں۔“

📖 مسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام: 472
📖 بخاری: 800

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/472/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/800/

❀ دایاں پاؤں کھڑا کر لیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔

📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 730
📖 ترمذی: 304
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/730/

❀ دونوں پاؤں کھڑے کر کے ان پر بیٹھنا بھی جائز ہے۔

📖 مسلم، کتاب المساجد، باب جواز الإقعاء على العقبين: 536

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/536/

❀ مندرجہ ذیل دعا پڑھیں:

رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي

”اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔“

📖 أبو داود، كتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده: 874
📖 ابن ماجه: 897
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/874/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/897/

❀ اس مقام پر ابو داؤد: 850 وغیرہ میں ایک اور دعا بھی ہے:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي

اسے اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، لیکن یہ حبیب بن ابی ثابت کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔

یہی دعا مسلم: 2997 میں بھی ہے، لیکن وہاں اس کا موقع و محل بین السجدتین نہیں ہے۔
➤ واللہ اعلم

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/850/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2997/

❀ پھر دوسرا سجدہ پہلے سجدہ کی طرح کریں۔

📖 أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 730
➤ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/730/

📘 جلسۂ استراحت کا بیان

دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں، پھر زمین پر ہاتھ رکھیں اور زمین پر وزن ڈالتے ہوئے اگلی رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔

❀ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے سنت طریقہ بتانے کے لیے نماز پڑھی، تو اس میں ہے:

إذا رفع رأسه عن السجدة الثانية جلس واعتمد على الأرض ثم قام

”جب وہ پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے اور زمین پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب كيف يعتمد على الأرض الخ: 824

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/824/

❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے زمین کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے، یہ سنت نہیں ہے، لیکن ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ محض بڑھاپے کی وجہ سے تھا۔

پھر اصول یہ ہے کہ بعد والا عمل ناسخ اور قابلِ عمل ہوتا ہے، جبکہ پہلے والا منسوخ اور ناقابلِ عمل ہوتا ہے، اور یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کا ہے۔

تیسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بغیر بیٹھے سیدھا کھڑا ہونے کا طریقہ نہیں بتایا۔

اس کے برعکس سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ، جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں، کو حکم دیا:

”تم اس طرح نماز پڑھو اور سکھاؤ جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے۔“

📖 بخاری، كتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين إذا كانوا الخ: 631

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/631/

39 📘 دوسری رکعت اور پہلے تشہد کا مسنون طریقہ

🔹 دوسری رکعت:

دوسری رکعت سورۃ فاتحہ سے شروع کریں، اس میں دعائے استفتاح نہ پڑھیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نهض من الركعة الثانية استفتح القراءة بـ الحمد لله رب العالمين ولم يسكت

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے قراءت شروع کرتے اور دعائے استفتاح کے لیے خاموش نہ ہوتے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 599

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/599/

سورۃ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ضرور پڑھیں، کیونکہ یہ سورۃ فاتحہ کا جز ہے۔ باقی تمام رکعات بھی اسی طریقے کے مطابق پڑھیں۔

📘 پہلے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ

❀ پہلے تشہد میں، یعنی سلام پھیرنے والے تشہد کے علاوہ، بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں۔

سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ مسنون نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

فإذا جلس فى الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى

”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/828/

❀ بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے دایاں پاؤں کھڑا کرنا مشکل ہو تو اسے بچھانا بھی جائز ہے۔

📖 صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في الصلاة: 827

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/827/

❀ دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھیں، یا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھیں اور اسے گھٹنے پر پھیلا دیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الصلاة في التشهد: 579-580

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/579/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/580/

❀ اس کے علاوہ دونوں بازوؤں کو دونوں رانوں پر رکھنا بھی جائز ہے۔

📖 سنن نسائی، کتاب السهو، باب موضع الذراعين: 1265 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1265/

📘 تشہد میں عورتوں کے بیٹھنے کا طریقہ

بعض لوگ عورتوں کو دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر بیٹھنے، یا انہیں چار زانوں بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں، اور دلیل میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک قول پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنی عورتوں کو چار زانوں بیٹھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔

📖 مسائل أحمد لابنه عبد الله: 71

اس روایت میں عبد اللہ بن عمر العمری راوی ضعیف ہے۔

📖 تقريب التهذيب: 182

جبکہ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل صحیح حدیث میں ہمارے سامنے موجود ہے، اور اس کے علاوہ عورتوں کے لیے کوئی الگ حکم موجود نہیں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا عمل نقل کیا ہے:

كانت أم الدرداء تجلس فى صلاتها جلسة الرجل وكانت فقيهة

”ام درداء رضی اللہ عنہا نماز میں مردوں کی طرح بیٹھا کرتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔“

📖 التاريخ الصغير للبخاري: 90، بسند صحیح
والنسخة الأخرى: 223/1

لہٰذا خواتین کو اسی طریقے پر عمل کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے، اور ان کے بعد صحابیات کا عمل بھی اسی کے مطابق ہے۔

40 📘 تشہد میں انگلی کو حرکت دینا

دائیں ہاتھ کی تمام انگلیاں بند کر لیں، انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھیں، اور شہادت والی انگلی اٹھا کر اس سے اشارہ کریں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

وقبض أصابعه كلها وأشار بإصبعه التى تلي الإبهام

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انگلیاں بند کر لیتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة: 580

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/580/

اس کے علاوہ دو طریقے اور بھی ہیں:

❀ ایک یہ کہ شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی انگلیوں کو بند رکھا جائے، انگوٹھے کو موڑ کر شہادت والی انگلی کے نیچے رکھا جائے، اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا جائے۔ اس شکل کو ترپن کی گرہ بھی کہتے ہیں۔

📖 صحیح مسلم: 579

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/579/

❀ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ چھنگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا جائے، انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو ملا کر حلقہ بنایا جائے، اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا جائے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/726/

شہادت والی انگلی کو شروع سے آخر تک مسلسل حرکت دیتے رہیں۔

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ثم رفع إصبعه فرأيته يحركها يدعو بها

”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو اٹھایا، پھر اسے حرکت دیتے رہے اور دعا کرتے رہے۔“

📖 سنن نسائی، کتاب الافتتاح، باب موضع اليمين من الشمال في الصلاة: 890 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/890/

❀ مولوی سلام اللہ حنفی شرح موطا میں لکھتے ہیں:

وفيه تحريكها دائما إذ الدعاء بعد التشهد

”اس حدیث میں ہے کہ انگلی کو تشہد میں ہمیشہ حرکت دیتے رہنا چاہیے، کیونکہ دعا تشہد کے بعد ہوتی ہے۔“

📖 شرح موطا

علامہ البانی رحمہ اللہ صفة صلاة النبى صلى الله عليه وسلم، ص: 158 میں فرماتے ہیں:

ففيه دليل على أن السنة أن يستمر فى الإشارة وفي تحريكها إلى السلام لأن الدعاء قبله

”اس حدیث میں دلیل ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ انگلی کا اشارہ اور حرکت سلام تک جاری رہے، کیونکہ دعا سلام سے متصل ہے۔“

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الإشارة في التشهد: 991 — صحیح
📖 سنن نسائی: 1161 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/991/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1161/

دورانِ تشہد شہادت والی انگلی کو تھوڑا سا خم دیں، اور وہ قبلہ رخ ہو۔

پورے تشہد میں صرف ایک مرتبہ انگلی اٹھانا، یا صرف أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پر انگلی اٹھانا، کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

اسی طرح انگلی کو حرکت نہ دینے والی روایت ضعیف ہے، اور صحیح احادیث کے خلاف ہے۔

تشہد میں نظر انگشتِ شہادت پر ہونی چاہیے۔

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لا يجاوز بصره إشارته

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ بڑھتی تھی۔“

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الإشارة في التشهد: 990

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/990/

41 📘 مسنون تشہد

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

”زبان کی تمام عبادتیں، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو تجھ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب العمل في الصلاة، باب من سمى قومًا أو سلم في الصلاة: 1202
📖 صحیح مسلم: 402

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1202/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/402/

❀ پھر درود شریف پڑھیں:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

”اے اللہ! صلوۃ بھیج محمد پر اور محمد کی آل پر، جس طرح تو نے صلوۃ بھیجی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقیناً تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔
اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور محمد کی آل پر، جس طرح تو نے برکت نازل کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقیناً تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب الأنبياء، باب: 3370
📖 صحیح مسلم: 406

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3370/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/406/

📘 درود شریف کس تشہد میں پڑھنا چاہیے؟

❀ درود شریف ہر تشہد میں پڑھنا چاہیے، پہلا ہو یا دوسرا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر پڑھتے، تو ان کے درمیان صرف آٹھویں رکعت پر تشہد میں بیٹھتے، اللہ کی تعریف کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور ان میں دعا کرتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ جاتے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“

📖 سنن نسائی، کتاب قيام الليل، باب كيف الوتر بتسع: 1721 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1721/

❀ علامہ البانی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

”یہ حدیث صراحتاً دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ پر پہلے تشہد میں اسی طرح درود پڑھا، جس طرح دوسرے تشہد میں درود پڑھتے تھے۔“

📖 تمام المنة: 224

اس روایت کے برعکس ایسی کوئی صحیح روایت موجود نہیں جس میں پہلے تشہد میں درود پڑھنے سے منع کیا گیا ہو، یا صرف دوسرے تشہد میں درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو۔

بعض علماء کا موقف ہے کہ پہلے تشہد میں درود شریف نہیں پڑھنا چاہیے۔ ان کی دلیل یہ روایت ہے:

إن النبى صلى الله عليه وسلم كان فى الركعتين الأوليين كأنه على الرضف حتى يقوم

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے تشہد میں ایسے ہوتے گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔“

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في تخفيف القعود: 995
امام حاکم اور امام ذہبی رحمہما اللہ نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ اور شعیب الأرنؤوط رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/995/

یہ روایت ضعیف ہے، پھر اس میں درود پڑھنے یا نہ پڑھنے کا بھی ذکر نہیں ہے۔

❀ یزید بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں:

إن كان فى وسط الصلاة نهض حين يفرغ من تشهده وإن كان فى آخرها دعا بعد تشهده بما شاء الله أن يدعو ثم يسلم

”اگر وہ درمیانے تشہد میں ہوتے تو تشہد، یعنی التحيات سے لے کر عبده ورسوله تک، پڑھ کر کھڑے ہو جاتے، اور اگر آخری تشہد میں ہوتے تو جو اللہ توفیق دیتا دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“

📖 صحیح ابن خزیمہ، باب الاقتصار في الجلسة الأولى: 685
📖 مسند أحمد: 459/1، ح: 4382

علامہ شعیب الأرنؤوط اور امام بیہقی رحمہما اللہ نے اسے صحیح، اور مصطفیٰ الأعظمی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔

اس روایت میں درود کا ذکر ہی نہیں، نہ پہلے تشہد میں اور نہ دوسرے تشہد میں، جبکہ اس کے برعکس دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تشہد میں بھی درود شریف پڑھنا چاہیے۔

42 📘 تیسری رکعت کا طریقہ

❀ اگر تین یا چار رکعات والی نماز ہو تو الله أكبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جائیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

يكبر حين يقوم من المثنى بعد الجلوس

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر جب کھڑے ہوتے تو الله أكبر کہتے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب إثبات التكبير في كل خفض ورفع في الصلاة: 392

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/392/

❀ پہلی رکعت کی طرح کندھوں تک رفع الیدین کریں۔

نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإذا قام من الركعتين رفع يديه ورفع ذلك ابن عمر إلى النبى صلى الله عليه وسلم

”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دو رکعات سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے، اور فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين: 739

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/739/

❀ رفع الیدین دو رکعات کے بعد ہی کرنا چاہیے۔

بعض لوگ حالتِ جماعت میں تشہد سے جب بھی کھڑے ہوں تو رفع الیدین کرتے ہیں، یاد رہے کہ حدیث میں رفع الیدین کرنے کے لیے تشہد کا ذکر نہیں، بلکہ دو رکعات کا ذکر ہے کہ ان کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں تو رفع الیدین کریں۔

📘 آخری تشہد کا طریقہ

❀ آخری رکعت مکمل کر کے تشہد کے لیے بیٹھ جائیں۔

❀ دوسرے تشہد کا طریقہ بھی پہلے تشہد والا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کریں، بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر نکالیں، اور زمین پر بیٹھیں۔

سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وإذا جلس فى الركعة الآخرة قدم رجله اليسرى ونصب الأخرى وقعد على مقعدته

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رکعت میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے، بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر نکالتے، اور زمین پر بیٹھ جاتے۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/828/

❀ آخری تشہد میں دائیں پاؤں کو بچھا کر رکھنا بھی جائز ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة: 579

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/579/

❀ دایاں ہاتھ دائیں ران یا گھٹنے پر، اور بایاں ہاتھ بائیں ران یا گھٹنے پر رکھیں، اور دائیں ہاتھ کی کہنی کو دائیں ران سے علیحدہ اور اونچا رکھیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة: 579، 580
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/579/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/580/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/726/

❀ اس کے علاوہ دونوں بازوؤں کو دونوں رانوں پر رکھنا بھی جائز ہے۔

📖 سنن نسائی، کتاب السهو، باب موضع الذراعين: 1265 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1265/

43 📘 تشہد کی دعائیں

❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جب تم میں سے کوئی شخص آخری تشہد سے فارغ ہو تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے۔“

(درج ذیل دعاؤں میں سے پہلی دعا میں انہی چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے)

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب ما يستعاذ منه في الصلاة: 588
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/588/

❀ جو چاہیں دعا مانگیں، بشرطیکہ عربی میں ہو، لیکن مسنون دعا مانگنا ہی افضل ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو

”تشہد اور درود کے بعد دعاؤں میں سے جو دعا اسے زیادہ پسند ہو، وہ دعا کرے۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الأذان، باب ما يتخير من الدعاء بعد التشهد: 835
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/835/

❀ تشہد کی دعائیں مندرجہ ذیل ہیں:

① پہلی دعا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

”اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب المساجد، باب ما يستعاذ منه في الصلاة: 588/128
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/588/

📖 صحیح البخاری: 832
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/832/

➤ مندرجہ بالا دعا ضرور پڑھنی چاہیے، کیونکہ اس کے پڑھنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے، اور اسی لیے بعض علماء نے اسے فرض قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ دعاؤں میں سے جو چاہیں پڑھ لیں۔

② دوسری دعا

اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا، اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا، پس مجھے اپنی خاص مغفرت سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہ تو ہی بخشنے والا، بے حد رحم کرنے والا ہے۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الأذان، باب الدعاء قبل السلام: 834
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/834/

📖 صحیح مسلم: 2705
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2705/

③ تیسری دعا

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

”اے اللہ! تو مجھے بخش دے جو میں نے پہلے گناہ کیے اور جو پیچھے گناہ کیے، اور جو میں نے چھپا کر کیے اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور جو میں نے زیادتی کی، اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، وہ بھی معاف فرما۔ تو ہی عزت میں آگے کرنے والا ہے، اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي ﷺ ودعائه بالليل: 771
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/771/

④ چوتھی دعا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کے ساتھ کہ تو واحد، اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا، نہ جنا گیا، اور نہ اس کا کوئی شریک ہے، تو میرے گناہ معاف فرما دے۔ یقیناً تو ہی بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“

📖 سنن النسائی، کتاب السهو، باب الدعاء بعد الذكر: 1302 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1302/

44 📘 نماز کا اختتام

❀ دعائیں پڑھنے کے بعد دائیں طرف چہرہ پھیریں اور کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

پھر بائیں طرف چہرہ پھیریں اور کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

اور رسول اللہ ﷺ اس حد تک چہرہ پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی جاتی تھی۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في السلام: 996 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/996/

❀ نماز کے سلام پھیرنے کے مندرجہ ذیل دو طریقے مزید بھی ہیں:

➊ دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ

اور بائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

📖 سنن ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب في السلام: 997 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/997/

➤ ابو داؤد کے ایک نسخہ میں دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے وَبَرَكَاتُهُ کا اضافہ ثابت ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیں:

📖 بلوغ المرام، باب صفة الصلاة
📖 نیل الأوطار
📖 سبل السلام

➋ دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

اور بائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ

📖 سنن النسائی، کتاب الصلاة، باب كيف السلام على الشمال: 1322 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1322/

📖 مسند أحمد: 71/2، 72، حدیث: 5402 — صحیح

➌ صرف ایک طرف سلام پھیرنے کے متعلق ابن ماجہ وغیرہ میں جو احادیث ہیں، اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے انہیں صحیح کہا ہے، لیکن وہ ضعیف ہیں۔

شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ان احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔

📖 سنن ابن ماجہ: 919، 920، 918
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/919/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/920/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/918/

📖 ابن ماجہ: 919، طبع دار السلام

45 📘 نماز کے بعد کے اذکار — حصہ اول

❀ سلام پھیرنے کے بعد مندرجہ ذیل اذکار کرنا مسنون ہے:

➊ ایک مرتبہ بلند آواز سے کہیں:

اللَّهُ أَكْبَرُ

”اللہ سب سے بڑا ہے۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة: 842
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/842/

📖 صحیح مسلم: 583
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/583/

➋ تین مرتبہ کہیں:

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

”میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفة: 591
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/591/

➤ یاد رہے حدیث میں مطلق استغفار کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ تین بار استغفار کیا کرتے تھے، اور استغفار کے الفاظ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ اوزاعی والے کے ہیں، لہٰذا اس جگہ استغفار کے کوئی بھی مسنون الفاظ تین دفعہ پڑھے جا سکتے ہیں۔

➌ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

”اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر: 591
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/591/

➍ رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

”اے اللہ! اپنی یاد، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“

📖 سنن ابو داؤد، كتاب الوتر، باب في الاستغفار: 1522 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1522/

📖 سنن النسائی: 1304 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1304/

➎ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو تو نے عطا کی اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة: 844
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/844/

📖 صحیح مسلم: 593
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/593/

➏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ نہ بچنے کی طاقت ہے، نہ کچھ کرنے کی قوت، مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور اس کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ اسی کے لیے نعمت ہے، اسی کے لیے فضل ہے، اور اسی کے لیے اچھی تعریف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اپنی بندگی اسی کے لیے خاص کرنے والے ہیں، خواہ کافروں کو برا ہی لگے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة: 594
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/594/

➐ جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے، اس کے اور جنت کے درمیان رکاوٹ صرف موت ہے، یعنی جیسے ہی موت آئے گی، وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔

📖 عمل اليوم والليلة للإمام النسائی: 100
📖 اسے ابن حبان اور منذری نے صحیح کہا ہے
📖 اتحاف المهرة لابن حجر العسقلاني: 259/6، حدیث: 6480

46 📘 نماز کے بعد کے اذکار — حصہ دوم

➑ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ

”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم اور رنج سے، تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے، تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اور بخل سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے اور لوگوں کے ظلم سے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسير، باب ما يتعوذ من الجبن: 2822، 6374
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2822/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6374/

➒ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

”اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے گناہ کیے اور جو میں نے بعد میں کیے، جو میں نے چھپ کر کیے اور جو اعلانیہ کیے، اور جو میں نے زیادتی کی اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تو ہی عزت میں آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي ﷺ ودعائه بالليل: 771/201-202
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/771/

➓ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ

”اے میرے پروردگار! تو مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب يمين الإمام: 709
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/709/

⓫ جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ، تینتیس مرتبہ الْحَمْدُ لِلَّهِ، تینتیس مرتبہ اللَّهُ أَكْبَرُ اور ایک مرتبہ مندرجہ ذیل دعا پڑھے گا تو اس کے سب صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفة: 597
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/597/

➤ دس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ، دس مرتبہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اور دس مرتبہ اللَّهُ أَكْبَرُ پڑھنا بھی ثابت ہے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الأدب، باب في التسبيح عند النوم: 5065
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/5065/

📖 جامع ترمذی: 3410

⓬ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الوتر، باب في الاستغفار: 1523 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1523/

📖 سنن النسائی: 1337 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1337/

➤ اور آخری تین سورتوں، یعنی سورۃ الإخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو معوذات کہا جاتا ہے۔

📖 فتح الباري: 78/9

⓭ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا

”اے اللہ! میں تجھ سے فائدہ دینے والے علم، پاک رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔“

📖 سنن ابن ماجہ، كتاب إقامة الصلوات، باب ما يقال بعد التسليم: 925 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/925/

➤ یہ دعا نماز فجر کے بعد ضرور پڑھنی چاہیے۔

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

⓮ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“

📖 مسند أحمد: 227/4، حدیث: 18013
📖 جامع ترمذی: 3474 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3474/