قرأت کے بعد ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کریں، پھر رکوع میں جائیں۔ رکوع کے بعد دوبارہ ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کریں اور سیدھے کھڑے ہو جائیں، اسے قومہ کہا جاتا ہے۔
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے تھے۔“
📖 بخاری، کتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى من الافتتاح سواء: 735
📖 مسلم: 390
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/735/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/390/
مسئلہ رفع یدین سے متعلق مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں:
🔗 https://tohed.com/e83257
🔗 https://tohed.com/bce625
━━━━━━━━━━━━━━━
📘 رکوع کا طریقہ
❀ اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائیں۔
📖 بخاری، کتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين يسجد: 803
📖 مسلم: 392
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/803/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/392/
❀ ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں اور انہیں مضبوطی سے پکڑیں۔
❀ ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر رکھیں اور بازو کمان کی طرح تان کر رکھیں۔
❀ پیٹھ بالکل سیدھی ہو، ذرا بھی خم نہ آئے، سر بھی متوازی ہو، نہ اونچا ہو، نہ نیچا۔
❀ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ
اور ایک روایت میں ہے:
وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر مضبوطی سے جما لیتے، اپنی انگلیوں کو کھولتے، پھر اپنی کمر کو اس طرح جھکاتے کہ سر نہ اوپر اٹھا ہوتا اور نہ بالکل جھکا ہوتا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
”اور ہاتھ کمان کی طرح مضبوط کر لیتے کہ بازو پہلوؤں سے جدا کرتے۔“
📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 731، 734
📖 ترمذی: 260 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/731/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/734/
❀ اطمینان سے رکوع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا
”پھر رکوع کر حتیٰ کہ رکوع میں اطمینان کر لے۔“
📖 بخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي صلى الله عليه وسلم ….. الخ: 793
📖 مسلم: 397
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/397/
❀ جو شخص رکوع میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
”آدمی کی نماز کفایت نہیں کرتی جب تک وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ کو بالکل سیدھا نہیں کرتا۔“
📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه من الركوع: 855 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/855/
━━━━━━━━━━━━━━━
📘 رکوع کی دعائیں
رکوع میں مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی پڑھ لیں:
➊ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو ہر عیب سے پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“
📖 بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع: 794
📖 مسلم: 484
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/794/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/484/
➋ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ
”میرا پروردگار پاک ہے، ہر عیب سے، سب سے بلند ہے۔“
📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/772/
➌ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! تو ہر عیب سے پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 485
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/485/
➍ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي
”اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا ہی فرماں بردار بنا، تیرے ہی لیے ڈر کر عاجز ہو گئے میرے کان، میری آنکھیں، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرے اعصاب۔“
📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ودعائه بالليل: 771
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/771/
➎ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
”فرشتوں اور روح، یعنی جبریل، کا رب بہت پاکیزگی والا، بہت مقدس ہے۔“
📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 487
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/487/
➏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
”پاک ہے بہت بڑی قدرت و طاقت والا، بہت بڑے ملک والا، بڑائی اور عظمت والا۔“
📖 أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده: 873 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/873/
━━━━━━━━━━━━━━━
📘 رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت کا حکم
❀ رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا
”غور سے سنو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے۔“
📖 مسلم، کتاب الصلاة، باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود: 479
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/479/
❀ رکوع و سجدہ میں قراءتِ قرآن منع ہے، قرآنی دعا پڑھنا منع نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے:
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📖 المائدة: 118
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں بھی یہی آیت پڑھتے رہے۔“
📖 مسند أحمد: 21386 — صحیح
لہٰذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجدہ میں قرآن بطورِ دعا پڑھنا جائز ہے اور دعا پڑھنا جائز ہے بطورِ قراءت جائز نہیں۔