واٹساپ دعوتی مواد متفرق موضوعات

متفرق موضوعات

17 پیغامات

1 🕌 عورت کے غسلِ جنابت میں بندھے ہوئے بالوں کا حکم اور نبوی طریقۂ غسل

🕌 عورت کے غسلِ جنابت میں بندھے ہوئے بالوں کا حکم اور نبوی طریقۂ غسل

❓ سوال:
کیا عورت غسلِ جنابت میں اپنے سر کے بال کھول کر تر کرے یا بال بندھے ہوں تو بھی غسل ہو جاتا ہے؟ اور غسل کا مکمل نبوی طریقہ کیا ہے؟

📖 احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی

🔹 ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
قلت: يا رسول الله! إني امرأة أشد ضفر رأسي، أفأنقضه لغسل الجنابة؟
قال ﷺ: «لا، إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات من ماء، ثم تفيضين على سائر جسدك الماء فتطهرين»
📚 ترمذی (105)، صحیح مسلم (330/58)، ابو داود (251)

ترجمہ:
ام سلمہؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بال مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسلِ جنابت کے لیے انہیں کھولوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی بہا لو اور پھر پورے جسم پر پانی ڈال دو، تو تمہارا غسل مکمل ہو جائے گا۔

➤ اس حدیث سے واضح ہے کہ عورت کو بال کھولنے کی ضرورت نہیں، البتہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے۔

🔹 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
ثم تصب على رأسها فتدلكه دلكاً شديداً حتى تبلغ شؤون رأسها
📚 ابن ماجہ (642)، ابو داود (314)، مسلم (332/61)، ابن خزیمہ (248)

ترجمہ:
پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے اچھی طرح ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔

✅ دلائل کا خلاصہ:

عورت کو غسلِ جنابت یا حیض میں بال کھولنے کی ضرورت نہیں۔

مقصد یہ ہے کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، ورنہ غسل ناقص رہے گا۔

🛁 نبوی غسل کا مکمل طریقہ

🔹 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا:
كان النبي ﷺ إذا اغتسل من الجنابة بدأ فغسل يديه، ثم توضأ كما يتوضأ للصلاة، ثم يدخل أصابعه في الماء فيخلل بها أصول شعره، ثم يصب على رأسه ثلاث غرف بيديه، ثم يفيض الماء على جلده كله.
📚 بخاری (248)، مسلم (321)، ابو داود (242)، ترمذی (104)

ترجمہ:
نبی ﷺ جب غسلِ جنابت کرتے تو:

پہلے اپنے ہاتھ دھوتے۔

پھر نماز کی طرح وضو کرتے۔

پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔

پھر تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالتے۔

پھر پورے جسم پر پانی بہاتے۔

🔹 حدیثِ میمونہ رضی اللہ عنہا:
توضأ رسول الله ﷺ وضوءه للصلاة غير رجليه، وغسل فرجه وما أصابه من الأذى، ثم أفاض عليه الماء، ثم نحى رجليه فغسلهما.
📚 بخاری (249)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے نماز کی طرح وضو کیا مگر پاؤں نہ دھوئے، پھر اپنی شرمگاہ اور نجاست کی جگہ دھوئی، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر ہٹ کر پاؤں دھوئے۔

🔹 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا (دوسری روایت):
ثم يغسل يديه ثلاثاً ويستنشق ويمضمض، ويغسل وجهه وذراعيه ثلاثاً ثلاثاً، حتى إذا بلغ رأسه لم يمسح وأفرغ عليه الماء.
📚 نسائی (422)

ترجمہ:
آپ ﷺ اپنے ہاتھ تین بار دھوتے، کلی کرتے، ناک میں پانی ڈالتے، چہرہ اور بازو تین تین بار دھوتے، پھر سر پر مسح نہیں کرتے بلکہ اس پر پانی بہاتے۔

📌 اہم نکات:

🔹 غسل سے پہلے شرمگاہ اور نجاست کی جگہ دھونا ضروری ہے۔
🔹 وضو نماز کی طرح کیا جائے، البتہ پاؤں بعد میں بھی دھو سکتے ہیں۔
🔹 بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچنا فرض ہے۔
🔹 آخر میں پورے جسم پر پانی بہانا لازم ہے۔
🔹 تولیہ یا رومال سے پانی خشک کرنا سنت میں ثابت نہیں۔

⭐ خلاصہ:

عورت کو غسلِ جنابت یا حیض کے وقت بال کھولنے کی ضرورت نہیں، لیکن بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔

غسل کا نبوی طریقہ یہ ہے:

🔹 ہاتھ دھوئے،
🔹 شرمگاہ دھوئے،
🔹 نماز کی طرح وضو کرے،
🔹 بالوں کی جڑوں میں پانی ڈالے،
🔹 تین بار سر پر پانی ڈالے،
🔹 پھر پورے جسم پر پانی بہائے۔

➤ یہی طریقہ نبی ﷺ سے تواتر کے ساتھ صحیح احادیث میں ثابت ہے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔

2 خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خون نکل کر بہ جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ صحیح موقف کیا ہے؟

❓ سوال:
خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خون نکل کر بہ جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ صحیح موقف کیا ہے؟

📝 جواب از شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ:

جسم سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس کے کئی ایک دلائل ہیں:

📖 دلائل احادیث و آثار سے

🔹 ➊ واقعہ غزوہ ذات الرقاع
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
انصاری صحابی نماز میں کھڑے تھے، دشمن نے تیر مارا، خون بہہ نکلا لیکن انہوں نے نماز جاری رکھی اور رکوع و سجود مکمل کیے۔ بعد میں ساتھی کو جگایا۔
📚 ابو داود (198)، دارقطنی (1/231، 858)، حاکم (1/156)، ابن خزیمہ (36)

https://tohed.com/hadith/abu-dawud/198/

ترجمہ:
"انہوں نے یکے بعد دیگرے تیر جسم سے نکالے اور نماز جاری رکھی، حتیٰ کہ خون بہہ رہا تھا مگر نماز نہ توڑی۔"

➤ امام حاکم، امام ذہبی، امام ابن خزیمہ اور ابن حبان رحمہم اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

📌 اگر خون وضو توڑنے والا ہوتا تو یہ صحابی نماز توڑ دیتے، اور نبی ﷺ اس کی وضاحت ضرور فرماتے۔

🔹 ➋ اثر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ
ان عمر رضي الله عنه صلى وجرحه يثعب دماً
📚 فتح الباري (1/280)

ترجمہ:
"حضرت عمرؓ نماز پڑھتے رہے، حالانکہ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔"

🔹 ➌ اثر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما
عصر ابن عمر بثرة فخرج منها الدم ولم يتوضأ
📚 ابن أبي شيبة (1/128، ح 1479)، فتح الباري (1/280)

ترجمہ:
"حضرت ابن عمرؓ نے پھنسی دبائی، اس میں سے خون نکلا لیکن وضو نہیں کیا اور نماز پڑھ لی۔"

🔹 ➍ امام طاؤس رحمہ اللہ
انه كان لا يرى في الدم السائل وضوءاً يغسل عنه الدم ثم حسبه
📚 فتح الباري (1/280)

ترجمہ:
"وہ بہتے خون کو ناقض وضو نہیں سمجھتے تھے، بس خون دھو دیتے اور نماز پڑھ لیتے۔"

🔹 ➎ امام حسن بصری رحمہ اللہ
ما زال المسلمون يصلون في جراحاتهم
📚 فتح الباري (1/281)

ترجمہ:
"مسلمان ہمیشہ اپنے زخموں کے ساتھ ہی نماز پڑھتے رہے۔"

🔹 ➏ امام ابو جعفر الباقر رحمہ اللہ
لو سال نهر من دم ما أعدت منه الوضوء
📚 فتح الباري (1/282)

ترجمہ:
"اگر خون کی نہر بھی بہہ جائے تو میں اس کی وجہ سے دوبارہ وضو نہیں کروں گا۔"

⚖ ائمہ و فقہاء کا موقف

خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا:
◈ فقہائے سبعۂ مدینہ
◈ امام مالکؒ
◈ امام شافعیؒ
◈ امام بخاریؒ

➤ امام بخاریؒ نے "باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين" کے تحت یہ مسئلہ ذکر کر کے احناف کا رد کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
و أراد المصنف بهذا الحديث الرد على الحنفية في أن الدم السائل ينقض الوضوء
📚 فتح الباري (1/281)

ترجمہ:
"امام بخاریؒ نے یہ حدیث لا کر احناف کا رد کیا ہے جو بہتے خون کو ناقض وضو کہتے ہیں۔"

⭐ خلاصہ و نتیجہ

خون خواہ کسی بھی سبب سے نکلے:
🔹 زخم، پھنسی، مسوڑھوں، ناک، سینگی یا پچھنے، حادثہ یا فائر لگنے سے۔
🔹 کم ہو یا زیادہ۔
➤ کسی بھی صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا۔

دلائلِ صحیحہ اور آثارِ صحابہ اس بات پر متفق ہیں۔

📚 مزید تفصیل کے لیے: نصب الراية (1/42)، مجلہ الدعوة (ستمبر 1998ء)

3 کیا تحیۃ المسجد پڑھنا ضروری ہے اور کیا یہ رکعات ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں؟

❓ سوال:
کیا تحیۃ المسجد پڑھنا ضروری ہے اور کیا یہ رکعات ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں؟

📝 جواب (شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ) :

تحیۃ المسجد (مسجد میں داخل ہونے کی دو رکعت) بہت اہم سنت ہے اور یہ ہر وقت پڑھی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ ممنوعہ اوقات میں بھی۔

📖 دلائل

1️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ»
“جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرے۔”
📚 بخاری (444)، مسلم (714)

2️⃣ ایک صحابی مسجد میں آئے اور بیٹھ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا:
“تجھے دو رکعت پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟”
📚 مسلم (714)

3️⃣ حتیٰ کہ جمعہ کے خطبہ کے دوران بھی، جب ایک صحابی بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ»
“اٹھو اور دو رکعت پڑھو۔”
📚 مسلم (875)

⚖ استدلال

یہ نماز "سبب والی" ہے، جیسے طواف کی نماز یا کسوف کی نماز۔

سبب والی نمازیں ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جاتی ہیں، کیونکہ ان کا تعلق کسی خاص سبب سے ہوتا ہے۔

⭐ خلاصہ:
مسجد میں داخل ہونے والا شخص کسی بھی وقت بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد ضرور ادا کرے۔ یہ رکعات ممنوعہ اوقات میں بھی جائز ہیں اور ان کی تاکید صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

4 کیا جماعت ختم ہو جانے کے بعد رہ جانے والے افراد مسجد میں دوسری جماعت کر سکتے ہیں؟

❓ سوال:

کیا جماعت ختم ہو جانے کے بعد رہ جانے والے افراد مسجد میں دوسری جماعت کر سکتے ہیں؟

📝 جواب:

ایک ہی مسجد میں دو بار جماعت کرانے کا جواز صحیح احادیث میں موجود ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور فقہاء و محدثین رحمہم اللہ کا اس پر عمل رہا ہے۔

➊ حدیثِ ابو سعید خدریؓ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ:
«أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ»
📚 سنن أبی داود (574)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اکیلا نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا:
"کیا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھ لے؟"

➋ روایتِ ترمذی

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: مَنْ يَتَجَرُ عَلَى هَذَا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ.
📚 جامع الترمذی (220)؛ مسند احمد (3/83، 85)؛ حاکم (4/238)

ترجمہ: ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں: ایک شخص آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"کون ہے جو اس کے ساتھ تجارت کرے؟"
پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھ لی۔

بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ وہ شخص سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے۔

➌ اثرِ انس بن مالکؓ (صحیح بخاری میں تعلیقًا)

جَاءَ أَنَسٌ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ صُلِّيَ فِيهِ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى جَمَاعَةً.
📚 صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة (تعلیقًا)؛ ابن أبي شيبة (1/148)

ترجمہ: انسؓ مسجد میں آئے اور وہاں جماعت ہو چکی تھی، تو آپؓ نے اذان و اقامت کہی اور جماعت سے نماز پڑھائی۔

➍ حدیثِ جعد ابو عثمانؒ (واقعہ انسؓ)

عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي مَسْجِدِ بَنِي ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، وَذَلِكَ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ.
📚 مسند أبي يعلى (4355)؛ ابن أبي شيبة (2/321)؛ بیہقی (3/70)؛ عبدالرزاق (2/291)

ترجمہ: ابو عثمان جعد کہتے ہیں: انس بن مالکؓ بنو ثعلبہ کی مسجد میں ہمارے پاس سے گزرے اور پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں! (اور وہ صبح کی نماز تھی)۔ تو انہوں نے ایک شخص کو اذان و اقامت کا حکم دیا، پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جماعت کروائی۔

➎ اثرِ ابن مسعودؓ (صحیح سند سے)

إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا، فَجَمَعَ بِعَلْقَمَةَ وَمَسْرُوقٍ وَالْأَسْوَدِ.
📚 أبكار المنن ص 253؛ مرعاة شرح مشكاة (4/104)

ترجمہ: ابن مسعودؓ مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، تو آپؓ نے علقمہ، مسروق اور اسود کے ساتھ جماعت کر لی۔

➏ اقوالِ فقہاء و تابعین

امام بغویؒ:
"فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ إِقَامَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ… وَهُوَ قَوْلُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ."
📚 شرح السنۃ (3/436)

امام ابن قدامہؒ:
"لَا يُكْرَهُ إِعَادَةُ الجَمَاعَةِ فِي المَسْجِد… وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَطَاءٍ، وَالحَسَنِ، وَالنَّخَعِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَإِسْحَاقَ."
📚 المغنی (3/10)

✅ ان تمام صحیح احادیث و آثار سے واضح ہوتا ہے کہ:

مسجد میں دوسری جماعت جائز اور مشروع ہے۔

اس پر صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کا عمل رہا ہے۔

فقہاء و محدثین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

5 ❌ مسجد میں دوسری جماعت کو مکروہ سمجھنے والوں کے دلائل اور ان کی وضاحت

❌ مسجد میں دوسری جماعت کو مکروہ سمجھنے والوں کے دلائل اور ان کی وضاحت
📌 پہلی دلیل: اثر ابوبکر صدیقؓ

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل من بعض نواحي المدينة يريد الصلاة، فوجد الناس قد صلوا، فانصرف إلى منزله، فجمع أهله ثم صلى بهم.
📚 مجمع الزوائد (2/48)؛ طبرانی أوسط (4739)؛ الكامل لابن عدي (6/2398)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ مدینہ کے اطراف سے نماز کے لیے آئے، آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، تو آپ ﷺ گھر گئے اور اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ان کے ساتھ نماز ادا کی۔

🔹 علامہ البانیؒ نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔ [تمام المنة، ص155]
🔹 علامہ ہیثمیؒ نے فرمایا: "اسے طبرانی نے معجم کبیر و اوسط میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔"

وضاحت:

یہ روایت اس بات پر صریح دلیل نہیں کہ آپ ﷺ نے مسجد میں دوسری جماعت کو مکروہ جانا۔

مولانا عبیداللہ مبارکپوریؒ فرماتے ہیں:

"ممکن ہے آپ ﷺ نے گھر والوں کو جمع کر کے مسجد ہی میں نماز پڑھائی ہو، نہ کہ گھر میں۔ اگر بالفرض گھر میں نماز پڑھائی بھی ہو، تو اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکیلا شخص چاہے تو گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے، لیکن مسجد میں دوسری جماعت کی کراہت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔"
📚 مرعاة المفاتيح (4/105)

مزید یہ کہ اس روایت کی سند میں بقیہ بن الولید ہے جو مدلس تھا اور سخت قسم کی تدلیس کرتا تھا۔ اس کی تصریح بالسماع یہاں نہیں، اس لیے روایت اتنی قوی نہیں۔

📌 دوسری دلیل: اثر ابن مسعودؓ

عن إبراهيم أن علقمة والأسود أقبلا مع ابن مسعود رضي الله عنه إلى مسجد، فاستقبلهم الناس قد صلوا، فرجع بهم إلى البيت، فجعل أحدهما عن يمينه، والآخر عن شماله، ثم صلى بهما.
📚 عبدالرزاق (2/409، حدیث 3883)؛ طبرانی کبیر (9380)

ترجمہ: ابراہیم نخعی کہتے ہیں: علقمہ اور اسود، ابن مسعودؓ کے ساتھ مسجد کی طرف آئے، تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ ابن مسعودؓ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے، ایک کو دائیں اور دوسرے کو بائیں کھڑا کیا اور ان کے ساتھ نماز ادا کی۔

وضاحت:

اس روایت کی سند میں حماد بن ابی سلیمان ہے جو مدلس اور مختلط تھے۔

روایت معنعن ہے اور مدلس کی عنعنہ روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔

علامہ ہیثمیؒ نے فرمایا:

"حماد کی صرف وہی روایت قبول ہے جو قدیم شاگردوں (شعبہ، سفیان ثوری، ہشام دستوائی) نے لی ہو۔ باقی سب نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے۔"
📚 مجمع الزوائد (1/125)

مزید یہ کہ امام احمدؒ کے نزدیک بھی یہی بات منقول ہے۔ 📚 شرح علل ترمذی لابن رجب (ص326)

دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس روایت میں ابن مسعودؓ نے دو افراد کو دائیں اور بائیں کھڑا کیا۔ یہ طریقہ خود احناف کے نزدیک بھی درست نہیں۔ 📚 كتاب الآثار لمحمد بن حسن (ص69)

جبکہ دوسری صحیح روایت میں یہ موجود ہے:
«دخل المسجد وقد صلوا، فجمع بعلقمة ومسروق والأسود.»
📚 أبكار المنن ص253؛ مرعاة المفاتيح (4/104)
ترجمہ: ابن مسعودؓ مسجد میں داخل ہوئے، جب لوگ نماز پڑھ چکے تھے، تو آپؓ نے علقمہ، مسروق اور اسود کے ساتھ مسجد ہی میں جماعت کر لی۔
➝ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں دوسری جماعت بھی ابن مسعودؓ سے ثابت ہے۔

📌 راجح نتیجہ

صحیح دلائل اور آثار کی روشنی میں:
اگر کوئی شخص مسجد آئے اور امامِ مقرر کے ساتھ جماعت ختم ہو چکی ہو، اور وہ کسی عذر کی وجہ سے جماعت سے محروم رہا ہو، تو اس کے لیے جائز اور مباح ہے کہ وہ وہاں دوسری جماعت کر لے۔
📚 مرعاة المفاتيح (4/107)

⚠ اہم تنبیہ

بلا عذر پہلی جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت کا رواج بنانا درست نہیں۔

اصل سنت یہی ہے کہ سب مل کر ایک جماعت میں نماز ادا کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لقد أعجبني أن تكون صلاة المؤمنين واحدة حتى لقد هممت أن أبث رجالا في الدور ينادون الناس بحين الصلاة.»
📚 أبو داود (506)؛ ابن خزیمة (1/199)
ترجمہ: "مجھے پسند ہے کہ سب مؤمن ایک جماعت میں نماز پڑھیں، یہاں تک کہ میرا ارادہ ہوا کہ چند آدمیوں کو محلوں میں بھیج دوں جو لوگوں کو نماز کے وقت پر پکاریں۔"

🌟 اگر جماعت فوت ہو جائے

«من توضأ فأحسن وضوءه ثم راح فوجد الناس قد صلوا، أعطاه الله مثل أجر من صلاها وحضرها، لا ينقص ذلك من أجرهم شيئا.»
📚 أبو داود (564)؛ نسائی (2/111)؛ حاکم (1/208)

ترجمہ: "جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد آئے، اور دیکھے کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی اجر دے گا جتنا جماعت میں شریک ہونے والوں کو ملا، اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔"

امام حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور امام ذہبیؒ نے موافقت کی۔

✅ خلاصہ کلام

مسجد میں دوسری جماعت کے مکروہ ہونے پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔

صحیح احادیث اور آثار سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہے۔

اصل سنت: ایک ہی جماعت ہو۔

مگر اگر عذر کی وجہ سے پہلی جماعت رہ جائے تو دوسری جماعت بلا کراہت جائز ہے۔

6 ہم جب مسجد میں آتے ہیں تو کچھ لوگ نماز میں مصروف ہوتے ہیں، کیا انہیں سلام کہا جا سکتا ہے؟

❓ سوال

ہم جب مسجد میں آتے ہیں تو کچھ لوگ نماز میں مصروف ہوتے ہیں، کیا انہیں سلام کہا جا سکتا ہے؟

✅ جواب

نماز کی حالت میں سلام کہنا جائز ہے، البتہ نماز پڑھنے والا منہ سے جواب نہیں دے گا بلکہ ہاتھ یا اشارے سے جواب دے گا۔

📌 دلیل 1: نبی ﷺ کا عمل

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بلالؓ سے پوچھا:
"نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی سلام کہتا تو کیسے جواب دیتے تھے؟"

بلالؓ نے کہا:

«كان يشير بيده»
📚 ترمذی، کتاب الصلاة، حدیث 368

ترجمہ: "آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دیتے تھے۔"

➝ اس سے معلوم ہوا کہ سلام کہنا جائز ہے، کیونکہ اگر جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ اشارے سے جواب نہ دیتے بلکہ منع فرما دیتے۔

📌 دلیل 2: پہلے منہ سے جواب دیتے تھے

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں:
"ہم حبشہ جانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو سلام کہتے تو آپ ﷺ نماز ہی کے دوران منہ سے جواب دیتے تھے۔ جب ہم واپس آئے اور سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ نماز کے بعد فرمایا:

«إن الله عز وجل يحدث من أمره ما يشاء، وإن الله تعالى قد أحدث من أمره أن لا تكلموا في الصلاة»
📚 ابوداؤد، کتاب الصلاة، باب رد السلام في الصلاة، حدیث 924

ترجمہ: "اللہ عزوجل اپنے حکم میں جو چاہے نیا حکم دیتا ہے، اور اللہ نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ اب نماز میں کلام نہ کرو۔"

✨ خلاصہ

مسجد میں داخل ہونے والا سلام کہہ سکتا ہے۔

نماز پڑھنے والا منہ سے جواب نہیں دے گا بلکہ ہاتھ یا اشارے سے جواب دے گا۔

نماز کے دوران کلام (زبان سے جواب دینا) ممنوع ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے خود وضاحت فرما دی۔

7 نوافل بیٹھ کر پڑھنے چاہییں یا کھڑے ہو کر؟ بعض لوگ کہتے ہیں عشاء کے بعد بیٹھ کر پڑھنے چاہییں، اس کی وضاحت کریں۔

❓ سوال

نوافل بیٹھ کر پڑھنے چاہییں یا کھڑے ہو کر؟ بعض لوگ کہتے ہیں عشاء کے بعد بیٹھ کر پڑھنے چاہییں، اس کی وضاحت کریں۔

✅ جواب

اصل سنت یہ ہے کہ نوافل کھڑے ہو کر پڑھے جائیں تاکہ پورا اجر ملے۔
بلا عذر بیٹھ کر نفل پڑھنے والے کو آدھا اجر ملتا ہے۔
البتہ رسول اللہ ﷺ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ ﷺ بیٹھ کر بھی پورا اجر پاتے تھے۔

📌 حدیثِ صحیح:

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں:

«بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟ قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي جَالِسًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ.»

📚 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب جواز النافلة قائماً او قاعداً، حدیث 753

✨ ترجمہ:

"مجھے یہ حدیث پہنچی کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا۔
میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، لیکن میں تم میں سے کسی ایک کی مانند نہیں ہوں (مجھے بیٹھ کر پڑھنے پر بھی پورا اجر ملتا ہے)'۔"

⚖ خلاصہ و وضاحت

نوافل کھڑے ہو کر ادا کرنا افضل اور پورے اجر کا سبب ہے۔

بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے نصف اجر ملے گا۔

صرف رسول اللہ ﷺ ایسی ہستی ہیں جنہیں بیٹھ کر پڑھنے پر بھی پورا اجر ملتا تھا۔

فرض نماز بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں، اس میں کھڑا ہونا رکن ہے۔

8 کیا ایک میت کی بار بار نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟

❓ سوال:

کیا ایک میت کی بار بار نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے؟

✅ جواب:

ایک میت کی ایک سے زائد مرتبہ نماز جنازہ پڑھنا جائز اور درست ہے۔ اس پر متعدد صحیح احادیث اور آثار صحابہ دلیل ہیں۔

📖 دلائلِ حدیث

➊ رسول اللہ ﷺ نے رات دفن ہونے والے پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھی
سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں:

«إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ لَيْلًا، فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَارِحَةَ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟ قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ»
(بخاری 1321)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے جسے رات میں دفن کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کب دفن ہوا؟ صحابہ نے کہا: کل رات۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ صحابہ نے عرض کیا: اندھیرا تھا، ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔

➋ رسول اللہ ﷺ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے:

«إِنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقِيلَ: مَاتَتْ، فَقَالَ: أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا. فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ»
(مسلم 956)

ترجمہ: مسجد میں جھاڑو دینے والی ایک سیاہ فام عورت (یا مرد) فوت ہوگئی۔ صحابہ نے اطلاع نہ دی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: یہ قبریں اپنے اہل پر اندھیری ہیں، اللہ تعالیٰ میری نماز کی وجہ سے انہیں منور فرما دیتا ہے۔

📚 اقوالِ ائمہ و آثارِ صحابہ

◈ امام شافعی رحمہ اللہ
ابن الملک لکھتے ہیں:
«وبهٰذا الحديث ذهب الشافعي إلى جواز تكرار الصلاة على الميت» (مرقاة 4/147)
ترجمہ: اس حدیث کی بنیاد پر امام شافعیؒ نے میت پر نماز جنازہ کے تکرار کو جائز قرار دیا ہے۔

◈ امام ابن منذر رحمہ اللہ
انہوں نے نقل کیا:
حضرت علیؓ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا کہ ایک ایسے جنازے پر نماز پڑھائیں جس پر پہلے نماز جنازہ پڑھی جا چکی تھی۔
(الأوسط 5/412، ابن ابی شیبہ 3/239)

◈ حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ
فرماتے ہیں:
جب قبر پر نماز جنازہ جائز ہے تو قبر سے باہر بطریقِ اولیٰ جائز ہے۔ اسے نبی ﷺ کا خاصہ کہنا درست نہیں، کیونکہ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ یہ عام حکم ہے، خاصہ نہیں۔
(فتاوی اہل حدیث 2/461-462)

⚖ خلاصہ:

رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی میت پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھی۔

صحابہ کرامؓ اور ائمہ کرامؒ نے بھی اس کو جائز کہا۔

اس عمل کو نبی ﷺ کا خاصہ قرار دینا غلط ہے۔

📌 نتیجہ:
ایک میت پر بار بار نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے، چاہے قبر پر ہو یا دفن سے پہلے۔ یہ سنتِ رسول ﷺ اور عملِ صحابہؓ سے ثابت ہے۔

9 تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا کیسا ہے، جبکہ بعض اسلاف ایسا کرتے رہے؟

❓ سوال

تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا کیسا ہے، جبکہ بعض اسلاف ایسا کرتے رہے؟

✅ جواب

صحیح اور واضح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم نہیں کیا، بلکہ صحابہ کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا۔

📖 دلائل

➊ سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کی روایت:
نبی ﷺ نے ایک رات نماز میں سورہ بقرہ، پھر سورہ نساء اور پھر آل عمران پڑھی۔
📚 مسلم 772

➝ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لمبی قراءت فرماتے تھے لیکن پورا قرآن ایک رات میں نہیں پڑھتے تھے۔

➋ عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت:
انہوں نے فرمایا:
"میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اتنی لمبی قراءت کی کہ میرا دل چاہا بیٹھ جاؤں اور آپ کو چھوڑ دوں۔"
📚 مسلم 773

➌ سیدہ عائشہؓ کا بیان:
«ولا أعلم نبي ﷺ قرأ القرآن كله في ليلة»
📚 مسلم 746

➝ "میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔"

➍ عبداللہ بن عمروؓ کی روایت:
نبی ﷺ نے فرمایا:
«اقرأ القرآن في شهر»
"قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔"
میں نے کہا: مجھے طاقت ہے زیادہ پڑھنے کی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
«فاقرأه في سبع ولا تزد على ذلك»
"سات دنوں میں پڑھ لو لیکن اس سے کم نہ کرو۔"
📚 بخاری 5054، مسلم 1159

➎ ابوداؤد کی روایت:
«لا يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث»
📚 ابوداؤد 1394

➝ "جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا، وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکا۔"

➏ عبداللہ بن عمروؓ کا عمل:
امام البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا:
"کان ﷺ لا يقرأ القرآن في أقل من ثلاث"
📚 صفة صلاة النبي ص120

➝ "نبی ﷺ تین دن سے کم میں قرآن ختم نہیں کرتے تھے۔"

➐ عبداللہ بن مسعودؓ کا قول:
«اقرأوا القرآن في سبع ولا تقرؤوا في أقل من ثلاث»
📚 فتح الباری 9/97

➝ "قرآن کو سات دن میں ختم کرو، تین دن سے کم میں نہ پڑھو۔"

📚 اقوال ائمہ

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
"وهذا اختيار أحمد وأبي عبيدة وإسحاق بن راهوية وغيرهم"
📚 فتح الباری 9/97
➝ "یہی مذہب امام احمد، ابو عبیدہ اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا ہے۔"

◈ مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ:
"والمختار عندي ما ذهب إليه الإمام أحمد وإسحاق بن راهوية وغيرهما"
📚 تحفۃ الاحوذی 4/63
➝ "میرے نزدیک راجح وہی ہے جو امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ نے اختیار کیا۔"

⚖ خلاصہ

نبی ﷺ اور صحابہ کے عمل سے ثابت ہے کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے کم وقت میں پڑھنے والا قرآن کو سمجھ نہیں پاتا۔

بعض اسلاف سے تین دن سے کم میں پڑھنا منقول ہے لیکن نبی ﷺ کا فرمان اور عمل سب پر مقدم ہے۔

📌 نتیجہ:
راجح بات یہی ہے کہ قرآن مجید کو تین دن سے کم میں ختم نہ کیا جائے۔

10 جمعہ کے دن نمازِ فجر کی مسنون قرات کیا ہے؟

🌿 سوال:
جمعہ کے دن نمازِ فجر کی مسنون قرات کیا ہے؟

🌿 جواب:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ، فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ﴿الٓمّٓ * تَنْزِيْلُ السَّجْدَةَ﴾ ، وَ ﴿هَلْ أَتٰي عَلَي الْإِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ﴾ .

”نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی قرأت فرماتے تھے۔“
📚 [صحيح البخاري: 891، صحيح مسلم: 880]

یہی نمازِ فجر کی مسنون قرأت ہے۔ بعض ائمہ مساجد ان سورتوں کے بعض حصے پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں۔ رسول اکرم ﷺ سے دونوں رکعتوں میں دونوں مکمل سورتیں پڑھنا ہی ثابت ہے۔

◈ امام نووی رحمہ اللہ (631-676ھ):

اَلسُّنَّةُ أَنْ يَّقْرَأَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ، بَعْدَ الْفَاتِحَةِ، فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰي ﴿الٓمّٓ * تَنْزِيلُ﴾ بِكَمَالِهَا، وَفِي الثَّانِيَةِ ﴿هَلْ اَتٰي عَلَي الْاِنْسَان﴾ بِكَمَالِهَا .

”جمعہ کے دن نماز فجر میں سورۂ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں مکمل سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں مکمل سورہ دہر کی قرأت کرنا سنت ہے۔“
📚 [التبيان في آداب حملة القرآن، ص 178]

مزید فرمایا:
وَلْيَجْتَنِبِ الاِقْتِصَارَ عَلَي الْبَعْضِ .

”سورت کے کچھ حصے پر اکتفا کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔“
📚 [ایضاً]

◈ شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (691-751ھ):

وَلَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُّقْرَأَ مِنْ كُلِّ سُورَةٍ بَعْضُهَا، أَوْ يُقْرَأَ إِحْدَاهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنَّهٗ خِلَافُ السُّنَّةِ، وَجُهَّالُ الْأَئِمَّةِ يُدَاوِمُونَ عَلٰي ذٰلِكَ .

”جمعہ کے دن نماز فجر میں کسی سورت کے حصے کی قرأت کرنا یا ایک ہی سورت کو دونوں رکعتوں میں بانٹ لینا مستحب نہیں، بلکہ خلافِ سنت ہے۔ جاہل ائمہ اس پر مداومت کرتے ہیں۔“
📚 [زاد المعاد في هدي خير العباد 1/369]

🌸 خلاصہ:
جمعہ کے دن نمازِ فجر میں پہلی رکعت میں مکمل سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں مکمل سورہ دہر پڑھنا ہی سنت ہے۔ حصوں پر اکتفا کرنا یا تقسیم کر کے پڑھنا خلافِ سنت ہے۔

11 🌿 نماز جمعہ میں مسنون قراءت کے احکام

🌿 نماز جمعہ میں مسنون قراءت کے احکام

رسول اللہ ﷺ سے جمعہ کی نماز میں چار طرح کی سورتوں کی قرأت ثابت ہے:

کبھی آپ ﷺ سورۃ الأعلى (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) اور سورۃ الغاشیہ کی قرأت کرتے۔

اور کبھی سورۃ الجمعة اور سورۃ المنافقون کی قرأت فرماتے۔

یہ دونوں طریقے سنت ہیں اور دونوں پر عمل کرنا درست اور ثابت ہے۔

➊ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ:
نبی کریم ﷺ عیدین اور جمعہ میں:
﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾
اور
﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾
کی قرأت فرماتے۔

📚 [مسلم: 878، أبو داود: 1122، ترمذي: 533، نسائي: 3/112، ابن ماجة: 1281، بيهقي: 3/201، دارمي: 1/315، ابن خزيمة: 2/358، أحمد: 4/271]

➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما:
نبی کریم ﷺ نماز جمعہ میں:
﴿سُوۡرَةُ الْجُمُعَةِ﴾
اور
﴿سُوۡرَةُ الْمُنَافِقُوْنَ﴾
کی قرأت فرماتے۔

📚 [مسلم: 879، أحمد: 1/226، أبو داود: 1074، ترمذي: 520، ابن ماجة: 820، نسائي: 2/159، ابن خزيمة: 533، ابن حبان: 1821، بيهقي: 3/201]

🌸 اہم وضاحت:
قرأت مسنونہ کی تعمیل اس وقت ہوگی جب مکمل سورتیں پڑھی جائیں۔
بعض آیات پر اکتفا کرنے سے سنت ادا نہیں ہو گی، کیونکہ سورہ کا نام پورے پر بولا جاتا ہے، حصے پر نہیں۔

مثال کے طور پر اگر کہا جائے کہ ’’فلاں نے سورہ فاتحہ پڑھی‘‘ تو مطلب یہی ہوگا کہ پوری سورۃ الفاتحہ پڑھی گئی۔

◈ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (691-751ھ):

عربی متن:
وَأَمَّا الجُمُعَةُ فَکَانَ یَقرَأُ فِیهَا بِسُورَةِ الجُمُعَةِ، وَالمُنَافِقِینَ کَامِلَتَینِ، وَسُورَةَ سَبِّح، وَالغَاشِیَةَ۔ وَالاِقتِصَارُ عَلٰی قِرَائَةِ أَوَاخِرِ السُّورَتَینِ مِن ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِینَ …﴾ إِلٰی آخِرِهَا فَلَم یَفعَلهُ قَطُّ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِهَدیِهِ الَّذِی کَانَ یُحَافِظُ عَلَیهِ …

📚 [زاد المعاد 1/53-54]

ترجمہ:
”جہاں تک نمازِ جمعہ کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ اس میں مکمل سورۃ الجمعہ اور مکمل سورۃ المنافقون کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح مکمل سورۃ الأعلى اور مکمل سورۃ الغاشیہ بھی پڑھتے تھے۔
صرف آخری چند آیات پڑھنا آپ ﷺ نے کبھی نہیں کیا، یہ آپ کے اس ہدی (طریقے) کے خلاف ہے جس پر آپ ہمیشہ قائم رہے۔
عیدین میں بھی کبھی آپ ﷺ مکمل سورۃ ق اور اقتربت پڑھتے، اور کبھی سورۃ الأعلى اور الغاشیہ۔ یہی وہ ہدی تھا جس پر آپ ﷺ زندگی بھر قائم رہے، اور خلفائے راشدین نے بھی آپ کے بعد اسی پر عمل کیا۔“

🌸 خلاصہ:

نبی کریم ﷺ سے جمعہ میں چار سورتوں کی قرأت ثابت ہے: الأعلى + الغاشیہ یا الجمعة + المنافقون۔

قرأت ہمیشہ مکمل سورت کی ہو، ٹکڑوں پر نہیں۔

یہی طریقہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کا تھا۔

12 🕌 شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

🕌 شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:
«مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ»

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو (دوبارہ) وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔"

📚 سنن ابی داود (181)
📚 ترمذی (82، 84)
📚 نسائی (163، 164، 445، 448)
📚 موطا امام مالک (58)
📚 مسند احمد (6/406، 407)
📚 سنن الدارمی (751)

✦ یہ حدیث متعدد اسانید کے ساتھ وارد ہوئی ہے اور محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔
✦ جمہور فقہائے محدثین (امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اہل حدیث علما) کے نزدیک یہی اصل دلیل ہے کہ شرم گاہ کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

اسی طرح سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے:

«إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ وَلَا حِجَابٌ، فَلْيَتَوَضَّأْ»

ترجمہ:
"جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو براہِ راست چھوئے اور درمیان میں کوئی کپڑا یا حائل نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔"

📚 صحیح ابن حبان (1118)

✦ یہاں واضح طور پر الفاظ ہیں: "وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ" یعنی اگر کوئی کپڑا یا حائل درمیان میں نہ ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

✅ خلاصہ و نتیجہ:

صحیح احادیث کی روشنی میں شرم گاہ کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

اگر کپڑے یا کسی حائل کے اوپر سے چھوا جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔

یہی جمہور محدثین اور فقہاء کا موقف ہے۔

13 🕌 کیا شرمگاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا؟ (حدیث طلق بن علیؓ کی وضاحت)

🕌 کیا شرمگاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا؟ (حدیث طلق بن علیؓ کی وضاحت)

حضرت طلق بن علیؓ کی روایت ہے:
«هَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْكَ؟»
"وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے نا (یعنی اس سے وضو نہیں ٹوٹتا)"
📚 ابن ماجہ (483)، ابو داود (182)، ترمذی (85)، نسائی (165)، احمد (4/22، 23)

✅ وضاحت:

1️⃣ حضرت طلقؓ ہجرت کے بالکل شروع میں مدینہ آئے، اس وقت مسجد نبوی تعمیر ہو رہی تھی۔ یہ روایت ابتدائی زمانے کی ہے۔
جبکہ حضرت بسرہ بنت صفوانؓ (فتح مکہ 8 ہجری میں مسلمان ہوئیں) اور حضرت ابو ہریرہؓ (7 ہجری میں مسلمان ہوئے) دونوں کی احادیث میں وضاحت ہے کہ شرمگاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

2️⃣ اگر طلقؓ کی حدیث کو منسوخ نہ بھی مانا جائے تو اس میں براہِ راست چھونے کی صراحت نہیں۔ یہ عمومی انداز میں ہے۔

جبکہ ابو ہریرہؓ کی حدیث میں واضح الفاظ ہیں:
«إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ وَلَا حِجَابٌ، فَلْيَتَوَضَّأْ»
📚 صحیح ابن حبان (1118)

"جب کوئی اپنی شرمگاہ کو ہاتھ سے چھوئے اور درمیان میں کوئی کپڑا یا پردہ نہ ہو تو اسے وضو کرنا چاہیے۔"

3️⃣ لہٰذا حدیثِ طلقؓ کو اسی پر محمول کیا جائے گا کہ یہ کپڑے یا حائل کے اوپر سے چھونے کا ذکر ہے۔

⭐ نتیجہ:

کپڑے یا پردے کے ساتھ چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

براہِ راست ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

اس طرح تمام احادیث میں تطبیق ہو جاتی ہے اور کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔

14 کیا بیوی کی وفات سے وہ شوہر کے لیئے نامحرم ہو جاتی ہے؟

⚖ فقہ حنفی کے مطابق اگر بیوی فوت ہو جائے تو نکاح ختم ہونے کی وجہ سے شوہر بیوی کو غسل دینا تو درکنار دیکھ بھی نہیں سکتا۔
(اس پر جامعہ بنوریہ، دارالعلوم دیوبند اور دیگر حنفی مدارس کے فتاویٰ آن لائن ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں)

❗ لیکن فقہ حنفی کا یہ موقف صحیح احادیث اور واضح نصوص کے خلاف ہے۔

📌 دلائل ملاحظہ ہوں:

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا:
«مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ»
📚 ابن ماجہ (1465)، دارقطنی (1809)، بیہقی (6/396)، دارمی (1/39)

ترجمہ: "عائشہ! اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی تو میں تجھے غسل دیتا، کفن پہناتا، جنازہ پڑھتا اور دفنا دیتا۔"

🔎 اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔

2️⃣ سیدہ عائشہؓ کا قول:
«لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ ﷺ إِلَّا نِسَاؤُهُ»
📚 ابن ماجہ (1464)، ابو داؤد (3141)، احمد (6/267)، بیہقی (3/398)

ترجمہ: "اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ کو صرف آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔"

🔎 حضرت عائشہؓ کے اس قول سے بھی یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے اور شوہر بیوی کو۔

قاضی شوکانیؒ:
«فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ يُغَسِّلُهَا زَوْجُهَا، وَهِيَ تُغَسِّلُهُ قِيَاسًا»
📚 نیل الأوطار (4/31)

3️⃣ ابوبکر صدیقؓ کا غسل
«أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ حِينَ تُوُفِّيَ»
📚 موطا امام مالک (كتاب الجنائز: 133)، عبدالرزاق (3/410)، الأوسط لابن المنذر (5/335)

ترجمہ: "جب ابوبکرؓ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیسؓ نے انہیں غسل دیا۔"

🔎 کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، یہ اجماع سکوتی ہے۔

4️⃣ سیدہ فاطمہؓ کی وصیت:
«أَوْصَتْ فَاطِمَةُ أَنْ يُغَسِّلَهَا عَلِيٌّ وَأَسْمَاءُ»
📚 دارقطنی (1833)، بیہقی (3/396)، عبدالرزاق (3/410)

ترجمہ: "سیدہ فاطمہؓ نے وصیت کی کہ انہیں علیؓ اور اسماءؓ غسل دیں، چنانچہ ان دونوں نے غسل دیا۔"

5️⃣ اقوالِ ائمہ:

امام سبُل السلام کے مصنف محمد بن اسماعیل الصنعانیؒ:
«فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُغَسِّلَ زَوْجَتَهُ، وَهُوَ قَوْلُ الْجُمْهُورِ»
📚 سبل السلام (2/741)
"اس میں دلیل ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اور یہی جمہور کا قول ہے۔"

علامہ احمد حسن محدث دہلویؒ:
«يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ يُغَسِّلُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ تُغَسِّلُهُ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ»
📚 حاشیہ بلوغ المرام (ص 105)
"یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ عورت کو اس کا شوہر غسل دے سکتا ہے اور وہ اپنے شوہر کو، اور اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔"

⭐ خلاصہ و نتیجہ:

بیوی کا شوہر کو غسل دینا تمام اہلِ علم کے نزدیک متفق علیہ ہے۔

شوہر کا بیوی کو غسل دینا مختلف فیہ ہے، لیکن صحیح احادیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔

جمہور ائمہ (مالک، شافعی، احمد، اوزاعی، اسحاق بن راہویہ وغیرہ) اور صحابہ کرام کا اجماعی عمل اس کے جواز پر ہے۔

لہٰذا یہ مسئلہ فقہ حنفی کے بیان کردہ موقف کے برعکس صحیح احادیث اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے۔

15 کیا نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد قراءت میں سورتوں کی ترتیب ضروری ہے؟

❓ سوال:
کیا نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد قراءت میں سورتوں کی ترتیب ضروری ہے؟

✅ جواب:
ترتیب ملحوظ رکھنا بہتر ہے، مگر اگر آگے پیچھے ہو جائے تو نماز میں کوئی خرابی نہیں۔ یہ کئی صحیح احادیث اور آثار سے ثابت ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━
1️⃣ حضرت حذیفہؓ کی روایت

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ:
«صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ»
📚 [صحیح مسلم: 772، نسائی: 1665، احمد: 5/382]

ترجمہ: حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کے ساتھ رات کی نماز پڑھی۔ آپ نے سورہ بقرہ شروع کی، میں نے سمجھا سو آیات پر رکوع کریں گے، مگر آگے بڑھ گئے۔ پھر میں نے سوچا ایک رکعت میں ختم کر لیں گے، مگر آپ نے آگے بڑھتے ہوئے سورہ نساء پڑھی، پھر سورہ آل عمران پڑھی۔ آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے، تسبیح والی آیت پر تسبیح، سوال والی پر سوال اور تعوذ والی پر اعوذ باللہ پڑھتے، پھر رکوع کیا۔

🔎 اس سے واضح ہے کہ آپ ﷺ نے ترتیب (بقرہ → آل عمران → نساء) کو الٹا پڑھا، لہٰذا ترتیب لازمی نہیں۔

2️⃣ انصاری امام اور سورہ اخلاص کا واقعہ

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں:
«كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا لَهُمْ فِي الصَّلاَةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا… فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ»
📚 [صحیح بخاری: 774، ترمذی: 2901]

ترجمہ: ایک انصاری امام ہر رکعت میں پہلے سورہ اخلاص پڑھتا، پھر کوئی اور سورت۔ صحابہ نے کہا: یا تو صرف یہی پڑھ یا چھوڑ دے۔ وہ بولا: میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ جب نبی ﷺ سے شکایت کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اس سورت سے تیری محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔"

🔎 اگر ترتیب ضروری ہوتی تو نبی ﷺ منع فرما دیتے، لیکن آپ ﷺ نے اس کو جنت کی بشارت دی۔

3️⃣ حضرت عمرؓ کا عمل

عبداللہ بن شقیقؒ روایت کرتے ہیں:
«صَلَّى بِنَا الأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ الْغَدَاةَ، فَقَرَأَ فِي الأُولَى بِالْكَهْفِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِيُونُسَ، وَزَعَمَ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَرَأَ فِي الأُولَى بِالْكَهْفِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِيُونُسَ»
📚 [بخاری مع الفتح 2/257، تغليق التعليق 2/313]

ترجمہ: احنف بن قیس نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پہلی رکعت میں سورہ کہف اور دوسری میں سورہ یونس پڑھی اور کہا: میں نے سیدنا عمرؓ کے پیچھے بھی نماز پڑھی، انہوں نے بھی پہلی رکعت میں سورہ کہف اور دوسری میں سورہ یونس پڑھی۔

🔎 قرآن میں سورہ کہف (18) بعد میں اور سورہ یونس (10) پہلے ہے، مگر حضرت عمرؓ نے الٹی ترتیب میں پڑھا، اس سے معلوم ہوا کہ ترتیب واجب نہیں۔

📌 خلاصہ:

سورتوں کی ترتیب بہتر ہے مگر لازم نہیں۔

نبی ﷺ اور صحابہ کے عمل سے ثابت ہے کہ ترتیب بدلنے سے نماز میں کوئی خلل نہیں۔

ائمہ حدیث و فقہاء نے بھی اسے جائز کہا ہے۔

لہٰذا اسے "بدعت" کہنا جہالت اور ضد ہے۔

16 ◈ قرآن مجید میں بعض ایسی آیات ہیں جن کی تلاوت پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ کیا یہ سجدہ تلاوت واجب ہے یا سنت ؟

📌 سوالات
━━━━━━━━━━━━━━━
◈ قرآن مجید میں بعض ایسی آیات ہیں جن کی تلاوت پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ کیا یہ سجدہ تلاوت واجب ہے یا سنت ؟

◈ سورہ حج کے آخر میں آیت [77] کے حاشیے پر "السجدة عند الشافعي" لکھا ہوا ہے، اس کا مطلب کیا ہے ؟ کیا قرآن میں شافعی و غیر شافعی والی بات آئی ہے ؟

📖 الجواب
━━━━━━━━━━━━━━━

🌿 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم سجد بالنجم
[صحیح البخاری : 1071]
"بے شک نبی ﷺ نے سورہ نجم پڑھی اور سجدہ کیا۔"
➡ اس سے پتا چلا کہ سجدہ تلاوت کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔

🌿 سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
قرأت على النبى صلى الله عليه وسلم (والنجم) فلم يسجد فيها
[صحیح البخاری : 1073، صحیح مسلم : 577]
"میں نے نبی ﷺ کو سورہ نجم پڑھ کر سنائی تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔"
➡ اس سے واضح ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب یا لازمی نہیں ہے۔

🌿 خلیفہ راشد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
فمن سجد فقد أصاب ومن لم يسجد فلا إثم عليه
[صحیح البخاری : 1077]
"پس جو (تلاوت والا) سجدہ کرے تو اس نے صحیح کام کیا اور جو نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔"
➡ اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے۔ یہی قول امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا ہے۔
[سنن الترمذی : 576]

📖 سورہ حج کے سجدے
━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔
[موطا امام مالک 1/206 ح483، سند صحیح]

◈ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بھی سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔
[السنن الکبری للبیہقی 2/318، سند صحیح]

◈ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں سورہ حج پڑھی اور اس میں دو سجدے کیے۔
[ابن ابی شیبہ 2/11 ح4288، بیہقی 2/317، سند صحیح]

◈ تابعی ابو العالیہ نے کہا:
"سورہ حج میں دو سجدے ہیں۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ 2/12 ح4294، سند صحیح]

◈ ابو اسحاق السبیعی (تابعی) فرماتے ہیں:
أدركت الناس منذ سبعين سنة يسجدون فى الحج سجدتين
[ابن ابی شیبہ 2/12 ح4295، سند صحیح]
"میں نے ستر سال سے لوگوں کو سورہ حج میں دو سجدے کرتے پایا ہے۔"

◈ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا سورہ حج میں دو سجدے ہیں ؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
نعم ومن لم يسجد هما فلا يقر أهما
[سنن ابی داؤد : 1402، سند حسن]
"ہاں! اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ ان دونوں آیتوں کی تلاوت نہ کرے۔"

⚠ اہم نکتہ
یہ کہنا کہ "السجدة عند الشافعي" گویا صرف امام شافعی کے نزدیک ہی یہ سجدہ ہے، درست نہیں۔
کیونکہ اس سجدے پر صحابہ کرام (عمر، ابن عمر، ابو الدرداء، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم) کے واضح عمل اور احادیث موجود ہیں۔
لہٰذا درست الفاظ یہ ہوں گے:
السجدة عند رسول الله ﷺ وعنده عمر وعند ابن عمر وعند أبى الدرداء وغيرهم من الصحابة رضی اللہ عنهم أجمعین

✅ خلاصہ :
سجدہ تلاوت واجب نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے۔
سورہ حج میں دو سجدے ثابت ہیں اور یہ عمل نبی ﷺ اور صحابہ کرام سے صحیح اسانید کے ساتھ منقول ہے۔

17 🌙✨ صلاة الكسوف اور صلاة الخسوف کا مسنون طریقہ ✨🌙

 

 

 

 

 

 

🌙✨ صلاة الكسوف اور صلاة الخسوف کا مسنون طریقہ ✨🌙
(صحیح حدیث کی روشنی میں)

🔹 سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہے۔
🔹 دعائے استفتاح پڑھے۔
🔹 پھر تعوذ (أعوذ بالله…) کہے۔
🔹 سورۃ الفاتحہ پڑھے، اس کے بعد ایک طویل قراءت کرے۔
🔹 پھر ایک لمبا رکوع کرے۔
🔹 رکوع سے سر اٹھائے اور کہے:
سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ
🔹 اس کے بعد کھڑا ہو کر دوبارہ سورۃ الفاتحہ اور قراءت کرے (یہ قراءت پہلی سے کچھ کم ہوگی)۔
🔹 پھر دوسرا رکوع کرے، جو پہلے سے کچھ کم لمبا ہو۔
🔹 دوسرے رکوع کے بعد پھر کھڑے ہو کر کہے:
سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ
اور یہاں قومہ کی مسنون دعائیں پڑھے۔
🔹 اس کے بعد دو لمبے سجدے کرے، اور دونوں کے درمیان کا جلسہ بھی طویل کرے۔
🔹 دوسری رکعت میں بھی یہی عمل کرے، لیکن پہلی رکعت کے مقابلے میں سب کچھ کچھ کم۔
🔹 آخر میں تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔

📚 مراجع: المغنی لابن قدامہ (3/323)، المجموع للنووی (5/48)

✦ دلیل: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ:

خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ﷺ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى. ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ. ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ.

📚 بخاری (1046)، مسلم (2129)

🌿 ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"نبی ﷺ کی زندگی میں سورج کو گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے، لوگ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے۔ آپ نے تکبیر کہی اور لمبی قراءت کی۔ پھر لمبا رکوع کیا۔ پھر فرمایا: سمع الله لمن حمده اور آپ نے دوبارہ قیام کیا اور قراءت کی جو پہلی سے کم تھی۔ پھر دوسرا رکوع کیا جو پہلے سے کچھ کم تھا، پھر ذکر کہا اور اس کے بعد سجدے کیے۔ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ اس طرح آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے۔"

✦ خلاصہ
صلاة الكسوف اور صلاة الخسوف دو رکعت کی نماز ہے، لیکن ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے ہوتے ہیں۔
اس میں قراءت، رکوع اور سجود عام نماز سے زیادہ طویل کیے جاتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ہر رکوع کے بعد قیام کیا جاتا ہے اور وہاں قومہ کی مسنون دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔
ساتھ ذکر، دعا اور استغفار کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ اللہ کی نشانیوں سے عبرت حاصل ہو اور دل خشیتِ الٰہی سے بھر جائے۔