1 🕌 عورت کے غسلِ جنابت میں بندھے ہوئے بالوں کا حکم اور نبوی طریقۂ غسل
🕌 عورت کے غسلِ جنابت میں بندھے ہوئے بالوں کا حکم اور نبوی طریقۂ غسل
❓ سوال:
کیا عورت غسلِ جنابت میں اپنے سر کے بال کھول کر تر کرے یا بال بندھے ہوں تو بھی غسل ہو جاتا ہے؟ اور غسل کا مکمل نبوی طریقہ کیا ہے؟
📖 احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی
🔹 ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
قلت: يا رسول الله! إني امرأة أشد ضفر رأسي، أفأنقضه لغسل الجنابة؟
قال ﷺ: «لا، إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات من ماء، ثم تفيضين على سائر جسدك الماء فتطهرين»
📚 ترمذی (105)، صحیح مسلم (330/58)، ابو داود (251)
ترجمہ:
ام سلمہؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بال مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسلِ جنابت کے لیے انہیں کھولوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی بہا لو اور پھر پورے جسم پر پانی ڈال دو، تو تمہارا غسل مکمل ہو جائے گا۔
➤ اس حدیث سے واضح ہے کہ عورت کو بال کھولنے کی ضرورت نہیں، البتہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے۔
🔹 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
ثم تصب على رأسها فتدلكه دلكاً شديداً حتى تبلغ شؤون رأسها
📚 ابن ماجہ (642)، ابو داود (314)، مسلم (332/61)، ابن خزیمہ (248)
ترجمہ:
پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے اچھی طرح ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔
✅ دلائل کا خلاصہ:
عورت کو غسلِ جنابت یا حیض میں بال کھولنے کی ضرورت نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، ورنہ غسل ناقص رہے گا۔
🛁 نبوی غسل کا مکمل طریقہ
🔹 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا:
كان النبي ﷺ إذا اغتسل من الجنابة بدأ فغسل يديه، ثم توضأ كما يتوضأ للصلاة، ثم يدخل أصابعه في الماء فيخلل بها أصول شعره، ثم يصب على رأسه ثلاث غرف بيديه، ثم يفيض الماء على جلده كله.
📚 بخاری (248)، مسلم (321)، ابو داود (242)، ترمذی (104)
ترجمہ:
نبی ﷺ جب غسلِ جنابت کرتے تو:
پہلے اپنے ہاتھ دھوتے۔
پھر نماز کی طرح وضو کرتے۔
پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔
پھر تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالتے۔
پھر پورے جسم پر پانی بہاتے۔
🔹 حدیثِ میمونہ رضی اللہ عنہا:
توضأ رسول الله ﷺ وضوءه للصلاة غير رجليه، وغسل فرجه وما أصابه من الأذى، ثم أفاض عليه الماء، ثم نحى رجليه فغسلهما.
📚 بخاری (249)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے نماز کی طرح وضو کیا مگر پاؤں نہ دھوئے، پھر اپنی شرمگاہ اور نجاست کی جگہ دھوئی، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر ہٹ کر پاؤں دھوئے۔
🔹 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا (دوسری روایت):
ثم يغسل يديه ثلاثاً ويستنشق ويمضمض، ويغسل وجهه وذراعيه ثلاثاً ثلاثاً، حتى إذا بلغ رأسه لم يمسح وأفرغ عليه الماء.
📚 نسائی (422)
ترجمہ:
آپ ﷺ اپنے ہاتھ تین بار دھوتے، کلی کرتے، ناک میں پانی ڈالتے، چہرہ اور بازو تین تین بار دھوتے، پھر سر پر مسح نہیں کرتے بلکہ اس پر پانی بہاتے۔
📌 اہم نکات:
🔹 غسل سے پہلے شرمگاہ اور نجاست کی جگہ دھونا ضروری ہے۔
🔹 وضو نماز کی طرح کیا جائے، البتہ پاؤں بعد میں بھی دھو سکتے ہیں۔
🔹 بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچنا فرض ہے۔
🔹 آخر میں پورے جسم پر پانی بہانا لازم ہے۔
🔹 تولیہ یا رومال سے پانی خشک کرنا سنت میں ثابت نہیں۔
⭐ خلاصہ:
عورت کو غسلِ جنابت یا حیض کے وقت بال کھولنے کی ضرورت نہیں، لیکن بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
غسل کا نبوی طریقہ یہ ہے:
🔹 ہاتھ دھوئے،
🔹 شرمگاہ دھوئے،
🔹 نماز کی طرح وضو کرے،
🔹 بالوں کی جڑوں میں پانی ڈالے،
🔹 تین بار سر پر پانی ڈالے،
🔹 پھر پورے جسم پر پانی بہائے۔
➤ یہی طریقہ نبی ﷺ سے تواتر کے ساتھ صحیح احادیث میں ثابت ہے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔