1 📘 مہمان نوازی اور کھانا کھلانے کی فضیلت
➊ مہمان نوازی کی ترغیب
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ
اس بندے میں بھی کوئی خیر و بھلائی نہیں، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
(صحیح الجامع: 7492)
https://tohed.com/hadith/silsilah-sahihah/2573/
➋ کھانا کھلانے اور دیگر اعمال کی جامع نصیحت
عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے لوگوں سے جو بات کہی یہ تھی، آپ فرماتے تھے:
أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو، (ایسا کرنے سے) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے۔
(ابن ماجہ: 3251)
https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3251/
➌ صحابہ کرام میں کھانا کھلانے کا عملی جذبہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے۔ آپ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتا ہے۔
(صحیح مسلم: 1028)
https://tohed.com/hadith/muslim/1028/