واٹساپ دعوتی مواد مہمان نوازی

مہمان نوازی

12 پیغامات

1 📘 مہمان نوازی اور کھانا کھلانے کی فضیلت

➊ مہمان نوازی کی ترغیب

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ

اس بندے میں بھی کوئی خیر و بھلائی نہیں، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔

(صحیح الجامع: 7492)
https://tohed.com/hadith/silsilah-sahihah/2573/

➋ کھانا کھلانے اور دیگر اعمال کی جامع نصیحت

عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے لوگوں سے جو بات کہی یہ تھی، آپ فرماتے تھے:

أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو، (ایسا کرنے سے) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے۔

(ابن ماجہ: 3251)
https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3251/

➌ صحابہ کرام میں کھانا کھلانے کا عملی جذبہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ

آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے۔ آپ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتا ہے۔

(صحیح مسلم: 1028)
https://tohed.com/hadith/muslim/1028/

2 📘 مہمان کی تکریم اور ضیافت بطورِ ایمان و حق

➊ مہمان کی تکریم کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ

جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔

(صحیح البخاري: 6138)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6138/

➋ مہمان کی ضیافت کو بطورِ حق متعین فرمایا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا

اور بے شک تم پر تمہارے مہمان کا بھی حق ہے۔

(ترمذی: 2413)
https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2413/

➤ مہمان کے حق کی مدت اور حدود کی تعیین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ
قِيلَ: وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟
قَالَ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذٰلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ

جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے؟ فرمایا: ایک دن اور ایک رات، اور میزبانی تین دن کی ہے، اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔

(صحیح البخاري: 6019)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6019/

➤ مہمانی نہ کرنے والوں کے بارے میں رہنمائی

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں (تبلیغ وغیرہ کے لیے) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ

جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پر تم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو، اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو۔

(صحیح البخاري: 6137)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6137/

➤ ایک رات کی مہمانی بطورِ حق

ابو کریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ

ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

(صحیح أبي داود: 3750)
https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3750/

❀ وضاحت

یہاں معلوم رہے کہ جس مہمان کی واجبی دعوت کرنی ہے وہ سفر یا دور سے آنے والا مسافر، یا رشتہ دار یا اجنبی شخص ہے، البتہ قریبی رشتہ داروں کی ضیافت صلہ رحمی اور دیگر مسلمانوں کی دعوت احسان و سلوک کے درجے میں ہے۔

3 📘 دعوت قبول کرنا اور مہمان کے لیے انتظام

➊ دعوت قبول کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق اور فرض

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے ہیں:

حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ

مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر (اس کے «الحمد للہ» کہنے کے جواب میں) «یرحمک اللہ» کہنا۔

(صحیح البخاري: 1240)

➋ ولیمے کی دعوت قبول کرنے کا حکم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ

جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔

(صحیح مسلم: 1429)
https://tohed.com/hadith/bukhari/1240/

➌ دعوت میں روزہ دار اور غیر روزہ دار کا حکم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ

جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے، اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے۔

(صحیح مسلم: 1431)
https://tohed.com/hadith/muslim/1429/

📘 مہمان کے لیے پہلے سے انتظام کی ترغیب

➊ مہمان کے لیے بستر کا انتظام

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ

ایک بستر مرد کے لیے ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا بستر مہمان کے لیے، اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔

(صحیح مسلم: 2084)
https://tohed.com/hadith/muslim/2084/

❀ وضاحت

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں پہلے سے مہمان کے لیے ضروری اسباب مہیا ہونے چاہئیں (جیسے بستر، اور سہولت کی صورت میں مہمان خانہ، ٹوائلٹ وغیرہ)، تاکہ کوئی مہمان کسی کے گھر ٹھہر سکے، اور گھر میں ضرورت سے زیادہ سامان جمع نہ ہو۔

4 📘 دعوت میں فقراء کو شامل کرنا اور ضیافت میں عدمِ تکلف

➊ دعوت میں مالداروں کے ساتھ فقراء و مساکین کو بھی بلانے کی ترغیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے، اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

(صحیح البخاري: 5177)
https://tohed.com/hadith/bukhari/5177/

➋ ضیافت میں تکلف سے منع کیا گیا

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:

نَهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ

ہمیں تکلف اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

(صحیح البخاري: 7293)
https://tohed.com/hadith/bukhari/7293/

➌ مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کی نبوی ہدایت

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

نَهَانَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کے لیے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(السلسلة الصحيحة: 512/5)

➤ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی دعوت کا واقعہ

شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے (بطور میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمہاری خاطر میں تکلف کرتا۔
میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔
انہوں نے کوئی لوٹا نما برتن بطورِ گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔
جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا

ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔

(سلسلہ صحیحہ: 2834)
https://tohed.com/hadith/silsilah-sahihah/2834/

5 📘 کھانے کے بعد دعا، نبی ﷺ کی سخاوت اور مہمان نوازی کا عملی نمونہ

➊ کھانے کے بعد میزبان کو دعا دینے کی ترغیب

کھانا کھا لینے کے بعد مہمان کو چاہیے کہ میزبان کو اچھی دعائیں دے، اور یہ دعائیں بھی دے سکتا ہے:

اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ

اے اللہ! ان کی روزی میں برکت دے، ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔

(صحیح مسلم: 2042)
https://tohed.com/hadith/muslim/2042/

اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي

اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا، تو اس کو بھی کھلا، اور جس نے مجھے پلایا، تو اس کو بھی پلا۔

(صحیح مسلم: 2055)
https://tohed.com/hadith/muslim/2055/

➋ ان فرامین نبوی کے ذکر کا مقصد

مہمان نوازی سے متعلق چند فرامین نبوی پیش کیے گئے، ان فرامین کے ذکر کا مقصد مہمان نوازی کے آداب بیان کرنا ہے، ساتھ ہی یہ بتانا مقصود ہے کہ ان تعلیمات پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمل پیرا تھے، کیونکہ آپ مہمانوں کے یہ حقوق و آداب متعین فرمائیں اور ان پر عمل پیرا نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں ہے، اور اللہ نے ایسے لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو اپنے قول کے مطابق عمل نہیں کرتے، فرمانِ الٰہی ہے:

﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾

لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟

(البقرة: 44)
https://tohed.com/tafsir/2/44/

➌ نبی کریم ﷺ کی سادگی اور اہلِ بیت کے لیے دعا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:

اللَّهُمَّ ارْزُقْ آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا

اے اللہ! آلِ محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔

(صحیح البخاري: 6460)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6460/

➊ گھر میں کھانے کی قلت کے باوجود مہمانوں کا خیال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:

إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا، مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ

ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔

(صحیح مسلم: 7449)
https://tohed.com/hadith/muslim/2042/

➋ نبی ﷺ کی بے مثال سخاوت

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَأَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، لِأَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں تو آپ کی سخاوت کی کوئی حد نہ تھی، کیونکہ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ سے ملتے تھے، یہاں تک کہ رمضان ختم ہو جاتا، ان ملاقاتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، اور جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔

(صحیح البخاري: 4997)
https://tohed.com/hadith/bukhari/4997/

➌ سخاوت، حسنِ اخلاق اور شجاعت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت، سب انسانوں سے بڑھ کر سخی، اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔

(صحیح مسلم: 2307)
https://tohed.com/hadith/muslim/2307/

❀ عربوں میں سخاوت کا مفہوم

عربوں کے ہاں سخاوت سے مراد مہمانوں کی ضیافت اور دوسروں کو کھلانا پلانا ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عربوں میں سب سے زیادہ مہمانوں کا خیال رکھنے والے اور لوگوں کو کھلانے پلانے والے تھے۔

6 📘 نبی کریم ﷺ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ (صحیح احادیث کی روشنی میں)

➊ بغیر کسی بدلے کی نیت سے کھلاتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ ہم کسی کو کھلاتے پلاتے ہیں تو اس کے معاوضہ کی توقع نہ رکھیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴾

ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری۔

(الإنسان: 9)
https://tohed.com/tafsir/76/9/

ہاں کھانے والے کا حق بنتا ہے کہ اپنے محسن کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے دعا دے۔

➋ مہمانوں کا خود استقبال کرتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مہمانوں اور وفود کا ترجیبی کلمات کے ذریعے بہترین طریقے سے استقبال کرتے تھے، تاکہ آنے والا اجنبیت کے بجائے اپنائیت، محبت اور مسرت محسوس کرے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرحبا ان لوگوں کو جو آئے، نہ وہ ذلیل ہوئے اور نہ شرمندہ۔

(صحیح البخاري: 6176)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6176/

➌ دعوت میں تکلف نہیں کرتے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴾

کہہ دیجئے: میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔

(ص: 86)
https://tohed.com/tafsir/38/86/

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے تمام امور میں تکلف سے اجتناب فرماتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اس سے منع فرماتے تھے، بلکہ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی میں تکلف سے منع فرمایا۔ ہاں، اگر استطاعت ہو تو اچھے سے اچھا کھانا پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن استطاعت نہ ہونے کی صورت میں تکلف ممنوع ہے۔

لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر، یا بنی منتفق کے وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہمارے لیے کھانا تیار کیا گیا اور تھالی لائی گئی، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہیں تھے۔ پھر جب آپ تشریف لائے تو اپنے چرواہے سے فرمایا کہ ایک بکری ذبح کرو۔ پھر آپ نے لقیط سے فرمایا:

لَا تَحْسَبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا، لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً

یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جنہیں ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔

(صحیح أبي داود: 142)
https://tohed.com/hadith/abu-dawud/142/

7 📘 نبی کریم ﷺ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ

④ کبھی دعوت میں آپسی کھانا ملا کر کھاتے پیتے

غزوۂ خیبر کے موقع پر سفر ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اور ولیمہ کی دعوت کے وقت اپنے ساتھیوں سے فرمایا:

مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ
قَالَ: وَبَسَطَ نِطْعًا
قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جس کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہو تو وہ اسے لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان بچھوا دیا۔ پھر کوئی آدمی پنیر لے آیا، کوئی کھجور لے آیا اور کوئی گھی لے آیا۔ پھر لوگوں نے (کھجور، پنیر اور گھی کو) اچھی طرح ملا کر حلوہ تیار کیا، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔

(صحیح مسلم: 3497)
https://tohed.com/hadith/muslim/3497/

نبوی ضیافت میں کبھی کبھی ایسی مشترکہ ضیافت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

⑤ مہمانوں کی خود خدمت کرتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کو خود کھانا پیش کرتے، ان کی خدمت کرتے، ان کے ساتھ کھاتے اور ان سے بات چیت فرماتے تھے۔

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ: مَالَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ، وَقَامَ يُصَلِّي
زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي قَدْ طَالَ فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ

میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا۔ آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری رکھ دی اور فرمایا: اسے کیا ہو گیا؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔
انباری کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میری مونچھیں بڑھ گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے نیچے ایک مسواک رکھ کر انہیں کتر دیا، یا فرمایا: میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کاٹ دوں گا۔

(صحیح أبي داود: 188)
https://tohed.com/hadith/abu-dawud/188/

جب آپ کو سہولت ہوتی تو آپ مہمانوں کی بہترین ضیافت فرماتے تھے۔

⑥ مہمان سے بات چیت کرتے اگرچہ عشاء کے بعد ہی کیوں نہ ہو

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد بلا ضرورت بات چیت نہیں فرماتے تھے، جیسا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے نہ سوتے تھے اور نہ ہی اس کے بعد (بلا ضرورت) بات چیت فرماتے تھے۔

(صحیح ابن ماجه: 701)
https://tohed.com/hadith/ibn-majah/701/

اس کے باوجود مہمانوں کی تکریم اور ضرورت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد بھی گفتگو فرماتے تھے، جیسا کہ اصحابِ صفہ کی دعوت سے متعلق حدیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب مواقیت الصلاة میں باب قائم کیا ہے:

باب السمر مع الضيف والأهل
باب: اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو (عشاء کے بعد) گفتگو کرنا۔

یہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 602 ہے، اور اصحابِ صفہ کی دعوت سے متعلق حدیث آگے آ رہی ہے۔
https://tohed.com/hadith/bukhari/602/

8 📘 نبی کریم ﷺ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ

⑦ رسول اللہ ﷺ کے مہمان اور ایثار کی عمدہ مثال

ایک مرتبہ ایک مہمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مگر گھر میں کچھ نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مہمان کو صحابہ کی جماعت پر پیش فرمایا تاکہ کوئی اس کی ضیافت کرے۔ واقعہ کی تفصیل یوں ہے:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواجِ مطہرات کے پاس بھیجا کہ وہ ان کی ضیافت کریں، لیکن ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔

اس پر ایک انصاری صحابی (ابو طلحہ رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں۔
پھر وہ انہیں اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کر نہ رکھنا۔
بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس بچوں کے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں۔
انصاری صحابی نے کہا: اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا، اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔
چنانچہ بیوی نے ایسا ہی کیا۔

صبح کے وقت وہ انصاری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں انصاری اور ان کی بیوی کے عمل کو پسند فرمایا، یا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسکرایا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾

اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود فاقہ میں ہوں۔

(صحیح البخاري: 4889)
https://tohed.com/hadith/bukhari/4889/

سبحان اللہ! رسول اللہ ﷺ کا مہمان بننا کتنے نصیب کی بات ہے، اور پھر میاں بیوی نے ضیفِ رسول کی کس انداز میں ضیافت کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کو پسند فرمایا اور ان کی شان میں قرآن کی آیت نازل فرمائی۔

⑧ مہمانوں کی کثرت کا حسنِ انتظام کرتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کھانوں میں فقراء و مساکین کا خاص خیال رکھتے تھے، اور جب کبھی مہمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی تو انہیں اپنے اور صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیتے، تاہم سب کے کھانے کا انتظام فرماتے۔

اصحابِ صفہ جو فقراء و مساکین کی جماعت تھی اور مسجد نبوی میں رہتی تھی، ان کے کھانے کا اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح فرماتے تھے:

عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ، أَوْ كَمَا قَالَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ

اصحابِ صفہ محتاج اور غریب لوگ تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لے جائے، اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچویں یا چھٹے کو بھی اپنے ساتھ لے جائے (راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے)۔ چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ تین اصحابِ صفہ کو اپنے ساتھ لے گئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے۔

(صحیح البخاري: 3581)
https://tohed.com/hadith/bukhari/3581/

⑨ کافر مہمان کی بھی ضیافت کراتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافر مہمان کی بھی ضیافت فرماتے تھے، اور اس میں تالیفِ قلب اور دعوت الی اللہ کا مقصد بھی ہوتا تھا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا، وہ کافر تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، اس نے وہ دودھ پی لیا۔
پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، اس نے وہ بھی پی لیا۔
پھر تیسری، یہاں تک کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔

پھر جب اس نے صبح کی تو اسلام لے آیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، اس نے وہ دودھ پی لیا، پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، مگر وہ اس کا سارا دودھ نہ پی سکا۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ

مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے، جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔

(صحیح مسلم: 2063)
https://tohed.com/hadith/muslim/2063/

9 📘 نبی کریم ﷺ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ

⑩ فاقہ کشوں اور ضرورت مندوں کی مہمان نوازی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مہمانی کا اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، وہ کافی طویل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:
اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں (زمانۂ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا، اور کبھی بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔
اصحابِ رسول میں سے کوئی مجھے کھلانے والا نہ ملا، بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پہچان لیا، اور اپنے ساتھ گھر لے گئے۔
گھر میں تحفہ کے طور پر ایک پیالہ دودھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اصحابِ صفہ کو بھی بلا لاؤ۔
بظاہر مجھے لگ رہا تھا کہ یہ دودھ ان کے لیے بھی ناکافی ہے، مگر جب اصحابِ صفہ آئے تو سب ایک ایک کر کے پیتے گئے، آخر میں میں نے پیا یہاں تک کہ شکم سیر ہو گیا، اور پھر بچا ہوا دودھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا۔

(صحیح البخاري: 6452)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6452/

اسی طرح سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

میں اور میرے دو ساتھی آئے، اور فاقہ و مشقت کی وجہ سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی۔ ہم نے اپنے آپ کو صحابہ پر پیش کیا، مگر کسی نے ہمیں قبول نہ کیا۔
آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے۔ وہاں تین بکریاں تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا دودھ دوہو، ہم سب پئیں گے۔
چنانچہ ہم دودھ دوہتے، ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ الگ رکھ دیتے تھے۔

(صحیح مسلم: 5362)
https://tohed.com/hadith/muslim/5362/

⑪ دارُ الضیافہ اور وفود کے لیے مال مختص کرنا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمانوں اور آنے والے وفود کے لیے مہمان خانہ کا اہتمام فرمایا تھا، جہاں آپ کے مہمان قیام کرتے تھے، اور ان کے لیے الگ سے مال بھی مختص کر کے رکھا جاتا تھا۔

بشیر بن یسار رحمہ اللہ (جو انصار کے غلام تھے) بعض اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھ حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر حصے میں سو حصے تھے۔
ان میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تھا، اور باقی نصف آنے والے وفود، دیگر کاموں، اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں پر خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا گیا۔

(ابو داؤد: 3012، قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد)
https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3012/

⑫ ناگواری محسوس ہونے کے باوجود مہمان کے قلبی احساسات کا خیال رکھتے

ایک مرتبہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر صحابہ کرام آپ کے گھر تشریف لائے، مگر وہ دیر تک بیٹھے رہے۔
یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار محسوس ہوئی، لیکن آپ نے مہمانوں کا لحاظ رکھا۔
اسی پس منظر میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ﴾

اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو، کھانے کے لیے اس کے پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں، بلکہ جب بلایا جائے تو جاؤ، اور جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ، اور باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، بے شک یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے، مگر وہ تم سے حیا کرتے ہیں، اور اللہ حق بیان کرنے میں کسی کی حیا نہیں کرتا۔

(الأحزاب: 53)
https://tohed.com/tafsir/33/53/

⑬ مہمانوں کے ساتھ بے تکلفی اور کھانے پینے میں احتیاط

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہمانوں کے ساتھ بے تکلفی فرماتے تھے، اور اگر کھانے میں ان کے لیے کوئی احتیاط ضروری ہوتی تو اس کی وضاحت بھی فرما دیتے تھے۔

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:

قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ فَكُلْ
قَالَ: فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ؟
قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَمْضَغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ۔
میں کھجوریں کھانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے؟
میں نے عرض کیا: میں دوسری طرف سے چبا رہا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔

(ابن ماجه: 3443، وصححه الألباني)
https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3443/

10 📘 نبی کریم ﷺ کا میزبانوں کے ساتھ برتاؤ (صحیح احادیث کی روشنی میں)

نبیﷺ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاو ہم نے ملاحظہ کر لیا، اب دیکھتے ہیں کہ نبیﷺ کا میزبانوں کے ساتھ برتاو کیسا تھا۔

➊ رسول اللہ ﷺ ایک متواضع مہمان ہوتے اور معمولی دعوت بھی قبول فرما لیتے

جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے یہاں مہمان بنتے تو نہایت تواضع کا ثبوت دیتے، اور جو کچھ بھی پیش کیا جاتا خواہ معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو، اسے قبول فرما لیتے تھے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ أَوْ كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ أَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ

اگر مجھے بازو یا پائے (کے گوشت) پر بھی دعوت دی جائے تو میں قبول کر لوں گا، اور اگر مجھے بازو یا پائے (کے گوشت) کا تحفہ بھیجا جائے تو میں اسے بھی قبول کر لوں گا۔

(صحیح البخاري: 2568)
https://tohed.com/hadith/bukhari/2568/

➋ میزبان ناراض نہ ہو تو اپنے ساتھ دوسرے کو بھی دعوت پر لے جاتے

کبھی کبھار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت پر تشریف لے جاتے اور راستے میں کوئی اور مل جاتا، اور آپ کو یقین ہوتا کہ میزبان ناراض نہ ہوگا، تو آپ اسے بھی اپنے ساتھ لے لیتے تھے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ دونوں بھوکے تھے اور آپ خود بھی بھوکے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو۔
آپ ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے، مگر وہ اس وقت گھر پر موجود نہ تھے، ان کی زوجہ موجود تھیں، انہوں نے آپ کا استقبال کیا۔ پھر انصاری آئے اور آپ کو دیکھ کر خوشی سے کہا:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنِي الْيَوْمَ بِأَكْرَمِ أَضْيَافٍ

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن مجھے سب سے معزز مہمان نصیب ہوئے۔

پھر انہوں نے بکری ذبح کر کے دعوت کی۔

(صحیح مسلم: 2038)

اسی بنا پر امام مسلم رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے:

باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحقيقا تاما واستحباب الاجتماع على الطعام

یعنی: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان کسی اور کو ساتھ لانے پر ناراض نہ ہوگا تو اس کے ساتھ لے جانا جائز ہے، اور مل کر کھانا مستحب ہے۔

https://tohed.com/hadith/muslim/2038/

➌ غلام کی بھی دعوت قبول فرما لیتے

ایک غلام جس کا پیشہ درزی کا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، تو آپ نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا، جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔
میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔

(صحیح البخاري: 5436)
https://tohed.com/hadith/bukhari/5436/

➍ میزبان کے ساتھ بے تکلفی

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ فَكُلْ
قَالَ: فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ؟
قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أَمْضَغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ۔
میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے؟
میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔

(ابن ماجه: 3443)
https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3443/

11 📘 نبی کریم ﷺ کا میزبانوں کے ساتھ برتاؤ

⑤ بسا اوقات اپنے ساتھ دوسرے کی ضیافت کے لیے کہتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میزبانوں کے ساتھ اس قدر بے تکلف ہوتے تھے کہ بسا اوقات جب کوئی دعوت دینے آتا تو ساتھ میں کسی اور کی دعوت کے لیے بھی اجازت لیتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربہ تیار کیا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

أَهَذِهِ؟

کیا ان کی بھی دعوت ہے؟

اس نے کہا: نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (میں بھی تمہاری دعوت قبول نہیں کرتا)۔

وہ دوبارہ آیا اور دعوت دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:

أَهَذِهِ؟

اس نے کہا: نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔

وہ تیسری مرتبہ آیا اور دعوت دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَهَذِهِ؟

اس مرتبہ اس نے کہا: ہاں۔
پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر پہنچ گئے۔

(صحیح مسلم: 2037)
https://tohed.com/hadith/muslim/2037/

⑥ کھانے میں کبھی عیب نہ نکالتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے یہاں کھاتے ہوئے کھانے میں عیب نہیں نکالا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے، اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے۔

(صحیح البخاري: 5409)
https://tohed.com/hadith/bukhari/5409/

⑦ تالیفِ قلب کے لیے یہودی کی دعوت قبول کی

ایک مرتبہ ایک یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعوت قبول فرما لی۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ وَإِهَالَةٍ سَنْخَةٍ، فَأَجَابَهُ

ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا۔

(مسند أحمد: 13201، وصححه شعيب الأرناؤوط)
https://tohed.com/hadith/musnad-ahmad/13201/

⑧ دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیتے، خواہ ادنیٰ آدمی ہی کیوں نہ ہو

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے اور کھانے پینے کی چیز پیش کی جاتی تو آپ دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیتے، خواہ دائیں جانب کوئی ادنیٰ درجے کا آدمی ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، ہم نے اسے دوہا، پھر اس میں کنویں کا پانی ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے، عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے، اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے اور پیالے میں کچھ دودھ باقی رہ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ دیہاتی کو عطا فرمایا، پھر فرمایا:

الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ

دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔

اور فرمایا:

فَابْدَؤُوا بِالْأَيْمَنِ

پس خبردار! دائیں طرف سے ہی شروع کیا کرو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، یہی سنت ہے (انہوں نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا)۔

(صحیح البخاري: 2571)
https://tohed.com/hadith/bukhari/2571/

12 📘 نبی کریم ﷺ کا میزبانوں کے ساتھ برتاؤ

⑨ دعوت کھانے کے بعد اہلِ خانہ کے لیے دعا دیتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی کسی کے یہاں کھانا نوش فرماتے تو آخر میں میزبان اور اہلِ خانہ کے لیے دعائیہ کلمات کہتے۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث منقول ہیں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گھرانے میں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں کھانا کھایا۔ جب واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے گھر کے ایک حصے میں چٹائی پر پانی چھڑکا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور اہلِ خانہ کے لیے دعا فرمائی۔

(صحیح البخاري: 6080)
https://tohed.com/hadith/bukhari/6080/

اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، انہوں نے آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر یہ دعا فرمائی:

أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ

تمہارے پاس روزے دار افطار کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعائیں کریں۔

(ابو داود: 3854، وصححه الألباني)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ (بنو سلیم سے) بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے ہاں قیام فرمایا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ پھر انہوں نے ایک مشروب پیش کیا، پھر پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، اور جو آپ کے دائیں جانب تھا اسے دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکتے رہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا فرما دیجئے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ

اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں دیا ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرما۔

(ابو داود: 3729، وصححه الألباني)
https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3729/

⑩ اپنے ساتھیوں کی بھی ضیافت کراتے اور خود بھی خدمت کرتے

کبھی ایسا ہوتا کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور آپ کے ساتھ کئی اصحاب بھی موجود ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کی ضیافت کا انتظام بھی فرما دیتے، اور خود بھی خدمت میں شریک ہوتے۔

غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینا چاہی اور عرض کیا کہ کھانا کم ہے، آپ ایک دو آدمیوں کو ساتھ لے آئیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی کیفیت دریافت فرمائی اور فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہو ہانڈی چولہے سے نہ اتارے اور روٹیاں پکاتی رہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انصار و مہاجرین کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔
حضرت جابر کی بیوی نے اس ازدحام کو دیکھ کر کہا کہ اب کیا ہوگا؟
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دستِ مبارک سے روٹی کا چورا کرتے اور اسے گوشت پر ڈالتے جاتے رہے، یہاں تک کہ تمام لوگ شکم سیر ہو کر کھا گئے، بلکہ کھانا بچ بھی گیا۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے: صحیح البخاري: 4101)
https://tohed.com/hadith/bukhari/4101/

ہم نے اختصار کے ساتھ اس موضوع کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس قدر وضاحت ضرور کر دی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مہمانوں اور میزبانوں کے ساتھ برتاؤ بخوبی واضح ہو جائے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوۂ مبارک پر صحیح طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس کے ساتھ ہی یہ موضوع اختتام پذیر ہوا۔ الحمدللہ۔