نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تَوَضَّؤُوا بِاسْمِ اللهِ
”بسم اللہ پڑھ کر وضو کریں۔“
📖 سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب التسمیة عند الوضوء: 78
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/78/
📖 صحیح مسند أحمد: 12724
مزید فرمایا:
”بسم اللہ پڑھے بغیر وضو نہیں ہوتا۔“
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في التسمية على الوضوء: 101
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/101/
📖 سنن الترمذی: 25
📖 سنن ابن ماجہ: 397
❀ وضو کرتے ہوئے ہر عضو میں پہلے دائیں طرف، پھر بائیں طرف دھوئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ
”نبی اکرم ﷺ کو طہارت میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب يبدأ بالنعل اليمنى: 5854
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5854/
📖 صحیح مسلم: 268
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/268/
❀ دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھوئیں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت انگلیوں کے پوروں کو اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں“ اور انگلیوں کے پوروں کو دھونا ان میں سے ایک ہے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرة: 261
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/261/
📖 سنن أبي داود: 53
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/53/
❀ ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في الاستنثار: 142
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/142/
📖 سنن الترمذی: 38
📖 سنن النسائی: 114
❀ ایک چلو میں پانی لیں، آدھے سے کلی کریں اور آدھا ناک میں ڈالیں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 555
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/555/
❀ منہ اور ناک کے لیے الگ الگ پانی لینا بھی جائز ہے۔
📖 التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 1410 (حسن)
❀ ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کریں، یعنی اوپر تک پانی چڑھائیں۔ البتہ اگر روزہ ہو تو پھر مبالغہ نہ کریں۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في الاستنثار: 142
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/142/
📖 سنن النسائی: 87
📖 سنن ابن ماجہ: 407
❀ نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب وضو کیا جائے تو پانی چڑھا کر تین بار ناک جھاڑنا چاہیے، کیونکہ شیطان ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے۔ البتہ ایک یا دو بار بھی جائز ہے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده: 3295
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3295/
📖 صحیح مسلم: 238
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/238/
❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں سنت ہے، جبکہ غسل میں فرض ہے، لہٰذا غسل میں مبالغہ کرنا چاہیے، وضو میں نہیں۔ یہ بات درست نہیں، کیونکہ مندرجہ بالا حدیث کے مطابق مبالغہ کرنے کا حکم غسل اور وضو دونوں کے لیے عام ہے۔
❀ ناک کو بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ جھاڑیں اور صاف کریں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ پھر تین مرتبہ چہرہ دھوئیں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب مسح الرأس كله: 185
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/185/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ ایک چلو پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے داڑھی میں داخل کریں اور خلال کریں۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب تخليل اللحية: 145
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/145/
📖 سنن الترمذی: 31
📖 سنن ابن ماجہ: 432
📖 إسناده حسن
❀ پھر دایاں ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں، پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ پھر سر کا مسح کریں، اس طرح کہ دونوں ہاتھ پانی سے تر کر کے سر کے اگلے حصے پر رکھیں، پھر انہیں گدی تک لے جائیں، اس کے بعد پیچھے سے آگے اسی جگہ واپس لے آئیں جہاں سے شروع کیا تھا، اور یہ ایک ہی مرتبہ کریں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الطہارۃ، باب مسح الرأس كله: 185، 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/185/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ سر کا مسح تین مرتبہ کرنا بھی جائز ہے۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب صفة وضوء النبي: 107، 110
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/107/
❀ صحیح مسلم (236) میں سر کے مسح کے لیے الگ پانی لینے کا ذکر ہے، اور ابو داود کی جس روایت میں بچے ہوئے پانی سے مسح کرنے کا ذکر ہے، اسے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
📖 صحیح مسلم: 236
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/236/
📖 سنن أبي داود: 130
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/130/
❀ اپنی شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر کانوں کے اندرونی راستوں میں گھمائیں، پھر جب آخر تک پہنچ جائیں تو کانوں کی پشت پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کر لیں۔
📖 سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب مسح الأذنين مع الرأس: 102
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/102/
📖 سنن ابن ماجہ: 439
📖 سنن الترمذی: 36
❀ سر کے مسح کے لیے لیے گئے پانی سے کانوں کا مسح کرنا درست ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
”کان سر کا حصہ ہیں۔“
📖 سنن الدارقطني: 327
📖 السلسلة الصحيحة: 36
❀ تاہم کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ سر کے مسح کے لیے جو پانی لیتے تھے، کانوں کے مسح کے لیے اس سے الگ پانی لیتے تھے۔
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 308
📖 إسناده صحیح
❀ بعض علماء کے نزدیک یہ حدیث شاذ ہے، لیکن راجح یہی ہے کہ یہ صحیح ہے۔
❀ بعض لوگ مکمل سر کا مسح نہیں کرتے بلکہ آدھے یا چوتھائی سر کا مسح کرتے ہیں، یہ درست نہیں؛ کیونکہ قرآن میں مکمل سر کے مسح کا حکم ہے اور سنت سے بھی پورے سر کا مسح ثابت ہے۔
❀ وضو میں گردن کا مسح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس کے متعلق روایات موضوع ہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”گردن کے مسح کے بارے میں قطعاً کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔“
📖 زاد المعاد: 1/195
❀ پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئیں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/
📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/
❀ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب غسل الرجل: 148
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/148/
📖 سنن الترمذی: 40