واٹساپ دعوتی مواد مسنون وضو

مسنون وضو

12 پیغامات

1 📘 وضو کی اہمیت و فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ

”پاکیزگی ایمان کا نصف حصہ ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء: 223
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/223/

اور فرمایا:

لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ

”وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب وجوب الطهارة للصلاة: 224
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/224/

❀ وضو وہی صحیح ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہو، اس کے علاوہ صحیح نہیں ہوتا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَ اللهُ تَعَالَى، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ

”جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکمل وضو کیا، تو اس کی فرض نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں جو ان کے درمیان سرزد ہوں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء والصلاة عقبه: 231
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/231/

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هٰذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

”جس نے میرے اس طریقے کے مطابق وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، اس طرح کہ ان میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء ثلاثًا ثلاثًا: 159
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/159/

❀ وضو کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ

”جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے، اس کے جسم سے گناہ نکل جاتے ہیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء: 245
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/245/

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ

”قیامت کے دن میری امت کو اس حال میں بلایا جائے گا کہ ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے نشانات کی وجہ سے سفید چمکتے ہوں گے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء: 136
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/136/

📖 صحیح مسلم: 246
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/246/

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے:

تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ

”(جنت میں) مومن کو وہاں تک زیور پہنایا جائے گا، جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب تبلغ الحلية حيث يبلغ الوضوء: 250
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/250/

2 📘 وضو شروع کرنے سے پہلے

❀ وضو سے پہلے طہارت کی نیت کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

”ہر کام کا مدار نیت پر ہے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول الله ﷺ: 1
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1/

📖 صحیح مسلم: 1907
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1907/

❀ وضو کی نیت زبان سے کرنا بدعت ہے، کیونکہ یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

❀ نیند سے جاگنے والا آدمی پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے انہیں دھوئے۔ نبی کریم ﷺ کا حکم ہے:

إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ

”جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگے تو وہ پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے انہیں دھوئے، کیونکہ اسے علم نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الاستجمار وتراً: 162
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/162/

📖 صحیح مسلم: 278
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/278/

❀ اگر ہاتھ وغیرہ پر پینٹ لگا ہو، جس سے پانی جلد تک نہ پہنچے، تو اسے وضو سے پہلے اتارنا فرض ہے، کیونکہ اگر جلد تک پانی نہ پہنچے تو وضو نہیں ہوتا۔

❀ اسی طرح نیل پالش بھی پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہے، اسے بھی وضو سے پہلے اتارنا فرض ہے۔

3 📘 وضو کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

تَوَضَّؤُوا بِاسْمِ اللهِ

”بسم اللہ پڑھ کر وضو کریں۔“

📖 سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب التسمیة عند الوضوء: 78
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/78/
📖 صحیح مسند أحمد: 12724

مزید فرمایا:

”بسم اللہ پڑھے بغیر وضو نہیں ہوتا۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في التسمية على الوضوء: 101
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/101/

📖 سنن الترمذی: 25
📖 سنن ابن ماجہ: 397

❀ وضو کرتے ہوئے ہر عضو میں پہلے دائیں طرف، پھر بائیں طرف دھوئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ

”نبی اکرم ﷺ کو طہارت میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب يبدأ بالنعل اليمنى: 5854
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5854/

📖 صحیح مسلم: 268
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/268/

❀ دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھوئیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت انگلیوں کے پوروں کو اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں“ اور انگلیوں کے پوروں کو دھونا ان میں سے ایک ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرة: 261
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/261/

📖 سنن أبي داود: 53
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/53/

❀ ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في الاستنثار: 142
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/142/

📖 سنن الترمذی: 38
📖 سنن النسائی: 114

❀ ایک چلو میں پانی لیں، آدھے سے کلی کریں اور آدھا ناک میں ڈالیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 555
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/555/

❀ منہ اور ناک کے لیے الگ الگ پانی لینا بھی جائز ہے۔

📖 التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 1410 (حسن)

❀ ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کریں، یعنی اوپر تک پانی چڑھائیں۔ البتہ اگر روزہ ہو تو پھر مبالغہ نہ کریں۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب في الاستنثار: 142
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/142/

📖 سنن النسائی: 87
📖 سنن ابن ماجہ: 407

❀ نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب وضو کیا جائے تو پانی چڑھا کر تین بار ناک جھاڑنا چاہیے، کیونکہ شیطان ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے۔ البتہ ایک یا دو بار بھی جائز ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده: 3295
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3295/

📖 صحیح مسلم: 238
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/238/

❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں سنت ہے، جبکہ غسل میں فرض ہے، لہٰذا غسل میں مبالغہ کرنا چاہیے، وضو میں نہیں۔ یہ بات درست نہیں، کیونکہ مندرجہ بالا حدیث کے مطابق مبالغہ کرنے کا حکم غسل اور وضو دونوں کے لیے عام ہے۔

❀ ناک کو بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ جھاڑیں اور صاف کریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ پھر تین مرتبہ چہرہ دھوئیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب مسح الرأس كله: 185
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/185/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ ایک چلو پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے داڑھی میں داخل کریں اور خلال کریں۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب تخليل اللحية: 145
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/145/

📖 سنن الترمذی: 31
📖 سنن ابن ماجہ: 432
📖 إسناده حسن

❀ پھر دایاں ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں، پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ پھر سر کا مسح کریں، اس طرح کہ دونوں ہاتھ پانی سے تر کر کے سر کے اگلے حصے پر رکھیں، پھر انہیں گدی تک لے جائیں، اس کے بعد پیچھے سے آگے اسی جگہ واپس لے آئیں جہاں سے شروع کیا تھا، اور یہ ایک ہی مرتبہ کریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الطہارۃ، باب مسح الرأس كله: 185، 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/185/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ سر کا مسح تین مرتبہ کرنا بھی جائز ہے۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب صفة وضوء النبي: 107، 110
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/107/

❀ صحیح مسلم (236) میں سر کے مسح کے لیے الگ پانی لینے کا ذکر ہے، اور ابو داود کی جس روایت میں بچے ہوئے پانی سے مسح کرنے کا ذکر ہے، اسے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

📖 صحیح مسلم: 236
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/236/

📖 سنن أبي داود: 130
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/130/

❀ اپنی شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر کانوں کے اندرونی راستوں میں گھمائیں، پھر جب آخر تک پہنچ جائیں تو کانوں کی پشت پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کر لیں۔

📖 سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب مسح الأذنين مع الرأس: 102
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/102/
📖 سنن ابن ماجہ: 439
📖 سنن الترمذی: 36

❀ سر کے مسح کے لیے لیے گئے پانی سے کانوں کا مسح کرنا درست ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

”کان سر کا حصہ ہیں۔“

📖 سنن الدارقطني: 327
📖 السلسلة الصحيحة: 36

❀ تاہم کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ سر کے مسح کے لیے جو پانی لیتے تھے، کانوں کے مسح کے لیے اس سے الگ پانی لیتے تھے۔

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 308
📖 إسناده صحیح

❀ بعض علماء کے نزدیک یہ حدیث شاذ ہے، لیکن راجح یہی ہے کہ یہ صحیح ہے۔

❀ بعض لوگ مکمل سر کا مسح نہیں کرتے بلکہ آدھے یا چوتھائی سر کا مسح کرتے ہیں، یہ درست نہیں؛ کیونکہ قرآن میں مکمل سر کے مسح کا حکم ہے اور سنت سے بھی پورے سر کا مسح ثابت ہے۔

❀ وضو میں گردن کا مسح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس کے متعلق روایات موضوع ہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”گردن کے مسح کے بارے میں قطعاً کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔“

📖 زاد المعاد: 1/195

❀ پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلين إلى الكعبين: 186
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/186/

📖 صحیح مسلم: 235
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب غسل الرجل: 148
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/148/

📖 سنن الترمذی: 40

4 📘 وضو کے بعد کرنے والے اعمال

❀ وضو کے بعد شرم گاہ کی طرف چھینٹے مارنے چاہییں، اس سے پیشاب کے قطرے نکلنے کا وسوسہ ختم ہو جاتا ہے۔ حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ تَوَضَّأَ فَنَضَحَ فَرْجَهُ

”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارے۔“

📖 سنن النسائی، کتاب الطہارۃ، باب النضح: 135
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/135/

📖 سنن ابن ماجہ: 461
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/461/

📖 مصنف ابن أبي شيبة: 1/167
📖 صحیح

❀ وضو کے بعد آسمان کی طرف انگلی اٹھانا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ ابو داود (170) کی ایک روایت میں نظر آسمان کی طرف اٹھانے کا ذکر ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔

📖 سنن أبي داود: 170
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/170/

5 🌿 وضو کے اذکار

❀ بعض لوگ وضو کے دوران ہر عضو دھوتے ہوئے دعائیں پڑھتے ہیں، حالانکہ یہ بدعت ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ہر عضو کے لیے مخصوص اذکار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں ہے۔“

📖 الأذكار، باب ما يقول على وضوء: 74/1، جلد 5

❀ وضو کے دوران دعائیں پڑھنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

✨ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ دعا پڑھے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو:

أشهد أن لا إلٰه إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله

ترجمہ:
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضوء: 234

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/234/

❀ وضو کے بعد یہ دعا پڑھنا بھی ثابت ہے:

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»

ترجمہ:
”اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“

📖 السنن الكبرى للنسائي: 9909
📖 صحيح الجامع: 6046

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/9909/

❀ بعض لوگ وضو کے بعد سورۃ القدر کی تلاوت کرتے ہیں، حالانکہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔

📖 احادیث ضعیفہ کا مجموعہ: 167

6 🌿 وضو سے متعلقہ دیگر مسائل

❀ وضو کے تمام اعضا کو ایک ایک، دو دو اور تین تین مرتبہ دھونا جائز ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء مرة مرة: 157، 158، 159

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/157/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/158/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/159/

❀ اعضائے وضو میں سے کسی عضو کو ایک بار، کسی کو دو بار اور کسی کو تین مرتبہ دھونا بھی جائز ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب آخر في صفة الوضوء: 235

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/235/

❀ تین سے زیادہ مرتبہ دھونا ہرگز جائز نہیں۔
ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے دکھایا۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضا دھوئے، پھر فرمایا:

هٰكذا الوضوء، فمن زاد علىٰ هٰذا فقد أساء وتعدىٰ وظلم

ترجمہ:
”یہ وضو کا صحیح طریقہ ہے، پس جس نے اس سے زیادہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔“

📖 سنن النسائي، کتاب الطهارة، باب الاعتداء في الوضوء: 140
📖 سنن ابن ماجه: 422
📖 سنن أبي داود: 135
📖 صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/140/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/422/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/135/

❀ ہر عضو کو مل کر دھونا چاہیے، تاکہ اچھی طرح صفائی ہو جائے۔ محض پانی بہا لینے سے صفائی مکمل نہیں ہوتی۔

❀ تمام اعضا کو ترتیب سے دھونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ترتیب سے وضو کرتے تھے، اور کبھی ترتیب کے خلاف وضو کرنا ثابت نہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ ابو جبیر الکندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا۔ اس نے چہرہ دھونے سے ابتدا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اپنے چہرے سے وضو شروع نہ کرو، کیونکہ یہ طریقہ کافروں کا ہے۔“

📖 ابن حبان: 1089
📖 إسناده حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1089/

7 🌿 اعضائے وضو میں سے کوئی جگہ خشک رہ جائے

❀ اعضائے وضو میں سے کسی جگہ کا خشک رہ جانا باعثِ عذاب ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی ایڑھیاں خشک دیکھ کر فرمایا:

ويل للأعقاب من النار

ترجمہ:
”(خشک) ایڑھیوں کے لیے آگ سے عذاب ہوگا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الأعقاب: 165
📖 صحیح مسلم: 240

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/165/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/240/

❀ اگر اعضائے وضو میں سے ناخن کے برابر بھی کوئی جگہ خشک رہ گئی تو وضو نہیں ہوگا۔

❀ اگر جگہ خشک رہنے کا علم نماز کے دوران یا نماز کے بعد ہو، تو وضو اور نماز دونوں کو دہرانا پڑے گا۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے وضو کیا تو پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا۔“

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الطهارة، باب من توضأ فترك موضعا لم يصبه الماء: 666
📖 سنن أبي داود: 175
📖 صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/666/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/175/

❀ اس لیے ہاتھوں وغیرہ پر پینٹ، نیل پالش یا ایسی کوئی چیز لگی ہو جو پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکتی ہو تو پہلے اسے اتار دیں۔

❀ اسی طرح اگر ہاتھ میں انگوٹھی یا چوڑیاں پہنی ہوں تو انہیں اچھی طرح ہلائیں، تاکہ ان کے نیچے تک بھی پانی پہنچ جائے۔

8 📘 پگڑی، پٹی، موزوں اور جرابوں پر مسح کا بیان

❀ پگڑی پر مسح
اگر سر پر پگڑی بندھی ہو تو اس پر مسح کر لیا جائے، لیکن اس حالت میں مسح پیشانی سے شروع کیا جائے، کیونکہ حدیث میں ہے:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو اپنی پیشانی اور پگڑی پر مسح کیا۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب المسح على الناصية والعمامة: 274

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/274/

❀ پٹی پر مسح
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

“اگر زخم پر پٹی بندھی ہو تو دورانِ وضو پٹی پر مسح کر لیں اور ارد گرد کو دھو لیں۔”

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 228/1، ح: 1079۔ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 موزوں اور جرابوں پر مسح کا بیان

❀ اگر موزے بحالتِ طہارت پہنے ہوں، تو ان پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاشبہ موزوں پر مسح کیا۔”

📖 صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب الرجل يوضى صاحبه: 182
📖 صحیح مسلم: 274

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/182/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/274/

❀ جورب کے مفہوم کی وضاحت
صاحبِ غایۃ المقصود نے لکھا ہے کہ جوربین کے بارے میں اہلِ علم نے اختلاف کیا ہے کہ وہ کھال اور چمڑے کی ہیں یا اس سے عام ہیں، یعنی اون اور روئی کی بھی ہیں؟

صاحبِ قاموس نے اس کی وضاحت “لفافة الرجل” سے کی ہے۔ یہ تفسیر اپنے عموم کے پیشِ نظر پاؤں پر پہننے والے ہر لفافہ پر دلالت کرتی ہے، خواہ وہ کھال اور چمڑے کا ہو یا اون اور روئی کا۔

علامہ طیبی اور قاضی شوکانی نے اسے چمڑے سے مقید کیا ہے، اور شیخ عبد الحق دہلوی کے کلام کا ماحصل بھی یہی ہے۔

جبکہ امام ابو بکر ابن العربی اور علامہ عینی نے تصریح کی ہے کہ وہ اون کا ہے، اور شمس الائمہ الحلوانی نے اسے پانچ انواع پر تقسیم کیا ہے۔

یہ اختلاف — واللہ اعلم — غالباً اس لیے ہوا ہے کہ:
◈ یا تو اہلِ لغت نے اس کی مختلف تفسیر کی ہے،
◈ یا مختلف علاقوں میں جراب کی ہیئت و صورت مختلف ہوتی تھی؛
◈ بعض علاقوں میں وہ چمڑے کی ہوتی تھی،
◈ بعض میں اون کی،
◈ اور بعض میں تمام انواع کی۔

لہٰذا ہر ایک نے اپنے اپنے علاقے میں پائی جانے والی جرابوں کی ہیئت کے لحاظ سے اس کی شرح کر دی، اور بعض نے تمام علاقوں میں پائی جانے والی جرابوں کی تفسیر بیان کر دی، خواہ وہ جس بھی نوع سے تعلق رکھتی ہو۔

📖 غاية المقصود: 36/2، 370

❀ نتیجہ
پس ثابت ہوا کہ جورب پاؤں پر چڑھانے والے لباس کو کہتے ہیں، خواہ وہ:
◈ چمڑے کا ہو،
◈ سوت کا ہو،
◈ یا اون کا۔

لہٰذا ان سب پر مسح ہو سکتا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسح صرف چمڑے کے موزوں پر جائز ہے اور اون، کپڑے وغیرہ کی جرابوں پر مسح جائز نہیں۔ یہ مسئلہ خود ساختہ ہے اور صحیح احادیث کے خلاف ہے۔

اب وہ احادیث ملاحظہ ہوں جن میں واضح طور پر جرابوں کا ذکر ہے، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے:

❀ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں پگڑیوں اور جرابوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔”

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب المسح على العمامة: 146۔ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/146/

❀ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔”

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب المسح على الجوربين: 159۔ صحیح
📖 جامع الترمذی: 99۔ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/159/

❀ سیدنا ابو موسیٰ الأشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔”

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارة، باب ما جاء في المسح على الجوربين والنعلين: 560۔ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/560/

9 📘 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جرابوں پر مسح کرنے کا ثبوت

امام ابو داود، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بعد فرماتے ہیں:

“علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابو امامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم بھی دونوں جرابوں پر مسح کرتے تھے، اور اسی طرح کی روایات عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ہیں۔”

📖 شرح فقہ تحت الحدیث: 159

ان کے علاوہ ابو مسعود الأنصاری، عقبہ بن عمر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔

📖 مصنف ابن أبي شيبة: 613/1

اسی طرح عبد اللہ بن عمرو اور ابو وائل رضی اللہ عنہما سے بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جرابوں پر مسح کرنے کا طریقہ

مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کو پانی سے تر کر کے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کر لیا جائے۔

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر ظاہر والے حصے پر مسح کرتے تھے۔”

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب كيف المسح: 161
📖 جامع الترمذی: 98۔ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/161/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/98/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جرابوں اور جوتوں پر مسح کرنا

جرابوں اور جوتوں پر مسح کرنا جائز ہے۔

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔”

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب المسح على الجوربين: 159
📖 جامع الترمذی: 99
📖 سنن ابن ماجہ: 559، 560، عن أبي موسى الأشعري۔ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/159/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/99/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/559/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/560/

❀ اور ایک حدیث میں ہے:

“بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جوتوں اور پاؤں پر مسح کیا۔”

📖 سنن أبي داود، کتاب الطہارة، باب: 160

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/160/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 مسح کی مدت

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مسح کی مدت مقرر کی۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب التوقيت في المسح على الخفين: 276

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/276/

❀ یعنی اس کے بعد جرابیں وغیرہ اتار کر پاؤں دھونا پڑیں گے۔

❀ مسح کی مدت پہلے مسح سے شمار ہو گی۔

📖 الكافي لإمام ابن قدامة رحمہ اللہ: 80/1

❀ اگر وضو کی حالت میں موزہ اتار دیا تو طہارت ختم نہیں ہو گی، جب تک وضو نہ ٹوٹے گا۔ یعنی اگر وضو ٹوٹنے سے پہلے جرابیں دوبارہ پہن لیں تو ان پر مسح جائز ہے۔

❀ لیکن اگر بغیر وضو کی حالت میں موزہ اتارا، یا وضو کی حالت میں اتارا تھا مگر اسی حالت میں وضو ٹوٹ گیا، پھر موزے یا جرابیں دوبارہ پہن لیں، تو ان پر مسح جائز نہیں۔

❀ اگر موزے پہن کر سفر شروع کر دیا تو مسافر والی مدت تک مسح کریں، اور اگر سفر میں مسح شروع کیا ہے اور گھر آ گئے ہیں تو مقیم کی مدت تک مسح کریں گے۔ یعنی اگر مسح کرتے ہوئے مقیم کی مدت سے اوپر وقت ہو گیا ہے تو پھر مسح نہ کریں۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 حالتِ جنابت میں مسح کا حکم

❀ غسل فرض ہو جائے تو مسح کی مدت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا إذا كنا سفرا أن لا ننزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة، ولٰكن من غائط وبول ونوم

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم سفر میں تین دن رات تک پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے اپنے موزے نہ اتاریں، لیکن جنبی ہونے پر اتارنے ہوں گے۔”

📖 جامع الترمذی، کتاب الطہارة، باب المسح على الخفين للمسافر والمقيم: 96
📖 سنن النسائی: 127
📖 سنن ابن ماجہ: 478۔ حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/96/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/127/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/478/

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 مزید مطالعہ:
جرابوں پر مسح سے متعلق ہم نے کچھ ماہ قبل واٹس ایپ پر ایک تفصیلی سلسلہ شیئر کیا تھا، جو یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:

🔗 https://tohed.com/whatsapp-message/kapray-ki-jarabon-par-masah-ka-sabot/

نیز یہ ویڈیوز:
🔗 https://www.youtube.com/watch?v=aMp9tvZf40g

🔗 https://www.youtube.com/watch?v=FS8hhMy0g_Y&t=72s

10 💧 وضو پر وضو کرنا

❀ ہر نماز کے لیے الگ وضو کرنا ضروری نہیں، بلکہ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:

”اے اللہ کے رسول! آج آپ نے وہ کام کیا جو پہلے نہیں کرتے تھے۔“

تو آپ ﷺ نے فرمایا:

”اے عمر! یہ میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب جواز الصلوات كلها بوضوء واحد: 277

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/277/

❀ اگر وضو باقی ہو تو دوبارہ وضو بھی کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ افضل ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان النبى صلى الله عليه وسلم يتوضأ عند كل صلاة، قلت كيف كنتم تصنعون؟ قال يجزئ أحدنا الوضوء ما لم يحدث

”نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔“

راویِ حدیث کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:

”آپ کیسے کرتے تھے؟“

تو انھوں نے فرمایا:

”ہمارے کسی شخص کے لیے ایک وضو اس وقت تک کے لیے کافی ہے جب تک وہ ٹوٹ نہ جائے۔“

📖 صحیح البخاری 214

https://tohed.com/hadith/bukhari/214/

💧 پانی کے استعمال میں اسراف

❀ طہارت میں پانی بقدرِ ضرورت استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ اسراف گناہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”اور اسراف نہ کرو، کیونکہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

📖 سورۃ الأنعام: 141

🔗 https://tohed.com/tafsir/6/141/

❀ رسول اللہ ﷺ ایک مد (ایک مک) پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء بالمد: 201
📖 صحیح مسلم: 737

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/201/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/737/

🚶 وضو کے بعد ناجائز کام

❀ وضو کے بعد مسجد کی طرف جاتے ہوئے تشبیک، یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، ممنوع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إذا توضأ أحدكم فأحسن وضوءه ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن يديه فإنه فى صلاة

”جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھا وضو کرے، پھر جب وہ مسجد کی طرف جائے تو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة: 562 (صحیح)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/562/

✨ وضو کے بعد دو رکعت کی فضیلت

❀ وضو کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا اجرِ عظیم کا سبب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من توضأ نحو وضوئي هٰذا ثم صلىٰ ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه

”جس نے میرے اس طریقے پر وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، اس طرح کہ ان میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء ثلاثا ثلاثا: 159
📖 صحیح مسلم: 226

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/159/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/226/

11 💧 وضو توڑنے والی چیزیں

❀ نو چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:

➊ پیشاب و پاخانہ سے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب المسح على الخفين: 203

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/203/

➋ ہوا خارج ہونے سے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن: 137

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/137/

➌ منی نکلنے سے، اور اس سے پہلے استنجا بھی کرنا چاہیے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب غسل المذي والوضوء منه: 269

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/269/

➍ استحاضہ سے، یعنی وہ خون جو حیض کے علاوہ کسی بیماری کی وجہ سے آتا ہے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الدم: 228

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/228/

➎ شرم گاہ کو بغیر کپڑے کے ہاتھ لگنے سے۔
📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الطهارة، باب الوضوء من مس الذكر: 479، 481
📖 صحیح ابن حبان: 1118

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/479/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/481/

❀ بعض مرد و خواتین کپڑے تبدیل کرتے ہوئے خیال نہیں کرتے اور ان کا ہاتھ شرم گاہ کو لگ جاتا ہے، پھر بعد میں وہ وضو نہیں کرتے۔ اسی طرح بعض خواتین بچے یا بچی کو صاف کرتی ہیں، لیکن وضو نہیں کرتیں، حالانکہ ان کا ہاتھ بچے یا بچی کی شرم گاہ پر لگتا ہے، لہٰذا انہیں وضو کرنا چاہیے۔

❀ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ برہنہ ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

➏ گہری نیند سے، جو لیٹنے یا ٹیک لگانے کی صورت میں ہو۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الاستجمار: 162
📖 سنن أبي داود: 203

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/162/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/203/

➐ پاگل پن، غم یا نشہ وغیرہ سے بے ہوش ہونے سے، کیونکہ بے ہوشی نیند سے زیادہ بے حس کرتی ہے۔

➑ مرتد ہونے سے، یعنی دینِ اسلام سے خارج ہونے سے، کیونکہ اس کے تمام اسلامی اعمال ختم ہو جاتے ہیں۔
📖 سورۃ الزمر: 65

➒ جناب سفیان ثوری رحمہ اللہ المتوفی 161ھ فرماتے ہیں:

”جب کوئی شخص دینِ اسلام سے پھر جائے تو اس کا کفر پہلی تمام اسلامی عبادات کو ختم کر دیتا ہے۔“

📖 مصنف ابن أبي شيبة: 431/3، ح: 15838
إسناده صحیح

❀ جن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے، یعنی جماع، احتلام، حیض اور نفاس، ان سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

❀ اونٹ کا گوشت کھانے سے رسول اللہ ﷺ نے وضو کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا وضو کرنا ضروری ہے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب الوضوء من لحوم الإبل: 360

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/360/

🌿 مندرجہ ذیل صورتوں میں وضو کر لیا جائے تو بہتر ہے، ضروری نہیں:

➊ اونٹ کے علاوہ کسی اور جانور کا گوشت کھانے سے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب الوضوء من لحوم الإبل: 360
📖 السلسلة الصحيحة: 2322

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/360/

➋ قے آنے سے۔
📖 سنن ترمذی، کتاب الطهارة، باب ما جاء في الوضوء من القيء والرعاف: 87
صحیح

➌ کسی میت کو غسل دینے سے۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الجنائز، باب في الغسل من غسل الميت: 3161
📖 سنن ترمذی: 993
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3161/

💧 مندرجہ ذیل صورتوں میں محض کلی کر لی جائے:

➊ آگ سے پکا ہوا کھانا کھانے سے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء من غير حدث: 215

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/215/

➋ دودھ اور چکنائی والی چیز پینے سے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب هل يمضمض من اللبن؟: 211

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/211/

12 ⚠️ جن چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا

➊ نکسیر پھوٹنے سے۔

➋ قے آنے سے، کیونکہ جس روایت میں قے یا نکسیر سے وضو ٹوٹنے کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔
📖 بلوغ المرام، باب نواقض الوضوء: 68

➌ معمولی نیند سے، جس سے حواس بالکل ختم نہیں ہوتے، مثلاً کھڑے یا بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل العشاء: 566

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/566/

➍ نماز میں محض شک پڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن: 137
📖 صحیح مسلم: 361، 362

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/137/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/361/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/362/

➎ شرم گاہ کے علاوہ باقی جسم کے کسی حصے سے خون، پیپ وغیرہ بہنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب الوضوء من الدم: 198
اور اس روایت کو امام ابن خزیمہ، ابن حبان، امام حاکم اور علامہ ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھیے: ابن خزیمہ: 24/1، 25، ح: 36، ابن حبان: 1096، مستدرك حاكم: 156/1، 157، ح: 557

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/198/

❀ دیوبندیوں کی کتاب ”فضائل اعمال“ (ص: 67) میں لکھا ہے کہ جسم کے کسی بھی حصے سے خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اس مسئلہ سے متعلق کوئی صحیح روایت نہیں ہے، بلکہ یہ مندرجہ بالا صحیح روایت کے بھی خلاف ہے۔

🕌 دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کا مسئلہ

❀ دورانِ نماز اگر وضو ٹوٹ جائے تو وضو کر کے نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے۔
📖 صحیح مسلم: 224، 225

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/224/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/225/

❀ کیونکہ وضو نماز کے لیے شرط ہے، اور جب شرط ختم ہو گئی تو مشروط بھی باطل ہو گیا۔