❀ مذی کا مسئلہ
مذی وہ لیس دار پانی ہے جو شہوت کے وقت عضوِ مخصوص سے نکلتا ہے۔
❀ ودی کا مسئلہ
ودی وہ گاڑھا سفید پانی ہے جو پیشاب سے پہلے یا بعد میں خارج ہوتا ہے۔ یہ بیماری ہے، ہمارے ہاں اسے قطرے نکلنے کا نام دیا جاتا ہے۔
❀ مذی اور ودی نکلنے سے استنجا اور وضو کرنا چاہیے، ان سے غسل فرض نہیں ہوگا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب غسل المذي والوضوء منه: 269
📖 صحیح مسلم: 303
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/269/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/303/
❀ لیکوریا عورتوں کے مرض کا بھی یہی حکم ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📘 حیض و نفاس کا بیان
❀ حیض وہ سیاہی مائل خون ہے جو بالغ عورتوں کو ہر ماہ آتا ہے۔ عام طور پر اس کی مدت تین سے سات دن تک ہوتی ہے۔
❀ نفاس وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش پر جاری ہوتا ہے۔ عموماً اس کی مدت چالیس دن ہے، لیکن بعض اوقات پہلے بھی ختم ہو جاتا ہے۔
📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب ما جاء في وقت النفساء: 312 — صحیح
📖 إرواء الغليل: 201
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/312/
❀ حیض اور نفاس سے غسل فرض ہو جاتا ہے، غسل خون بند ہونے پر کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي﴾
ترجمہ:
”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره: 320
📖 صحیح مسلم: 334/65
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/320/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/334/
❀ اس خون کی بو دور کرنے کے لیے خوشبو استعمال کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي ثَلَاثًا﴾
ترجمہ:
”خوشبو کا پھایا لے اور اس سے تین مرتبہ طہارت حاصل کر۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب غسل المحيض: 315
📖 صحیح مسلم: 749
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/315/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/749/
━━━━━━━━━━━━━━
📘 حیض و نفاس میں ممنوع کام
❀ حیض اور نفاس والی عورت مندرجہ ذیل چار کام نہیں کرے گی:
➊ نماز
➋ روزہ
➌ جماع
➍ بیت اللہ کا طواف
❀ حیض و نفاس والی عورت باقی تمام کام کر سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ﴾
ترجمہ:
”بلاشبہ مومن کسی حالت میں بھی ناپاک نہیں ہوتا۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب عرق الجنب وأن المسلم لا ينجس: 283
📖 صحیح مسلم: 371
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/283/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/371/
❀ نماز، روزہ اور طواف کے دوران میں حیض یا نفاس شروع ہو جائے تو وہ عبادت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ فرض روزہ اور فرض طواف کی قضا دی جائے گی، جبکہ نماز کی قضا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
﴿أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّىٰ تَطْهُرِي﴾
ترجمہ:
”تو طواف نہ کرتی کہ پاک ہو جائے۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت: 305
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/305/
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
﴿كَانَ يُصِيبُنَا ذٰلِكَ فَتُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ﴾
ترجمہ:
”ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب وجوب قضاء الصوم على الحائض دون الصلاة: 335/69
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/335/
❀ حیض و نفاس شروع ہونے سے پہلے جو نماز فرض ہو چکی تھی، یعنی جس نماز کا وقت ہو چکا تھا، لیکن اس نے سستی کی بنا پر ابھی تک اسے ادا نہیں کیا تھا تو اس نماز کی قضا حیض و نفاس کے بعد دینی ہو گی، کیونکہ وہ نماز اس پر فرض ہو چکی تھی۔
❀ حیض یا نفاس کا خون وقت سے پہلے ختم ہو جائے تو تمام پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور نماز و روزہ فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي﴾
ترجمہ:
”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره: 320
📖 صحیح مسلم: 334/65
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/320/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/334/
━━━━━━━━━━━━━━
📘 کیا حائضہ قرآن پڑھ سکتی ہے؟
حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں تلاوتِ قرآن کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان حالات میں حرمتِ تلاوتِ قرآن کے متعلق کوئی صحیح و واضح حدیث نہیں ہے۔ جب حرمت کی کوئی واضح و صحیح دلیل نہیں تو ان حالات میں تلاوت سے منع کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں قرآن مجید کو چھونے سے منع کرنا بھی کسی واضح و صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے، لیکن اگر کسی صاف کپڑے وغیرہ سے قرآن کو چھوا جائے اور اسی کے ذریعے سے ورق گردانی کی جائے تو بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مسجد سے مصلیٰ پکڑانے کا حکم دیا، انہوں نے حیض کا عذر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ﴾
ترجمہ:
”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها: 298
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/298/
تو معلوم ہوا کہ حیض کا اثر ہاتھوں میں نہیں ہوتا، ان سے کوئی بھی چیز پکڑی جا سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📘 ایامِ حیض کے علاوہ پانی کی حیثیت
❀ مخصوص دنوں کے علاوہ پانی نکلنے کے احکام حیض و نفاس والے نہیں ہیں۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
﴿كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا﴾
ترجمہ:
”ہم مٹیالے اور زرد رنگ کے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب الصفرة والكدرة في غير أيام الحيض: 326
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/326/