واٹساپ دعوتی مواد نماز کے لیئے مسنون طہارت, غسل و لباس

نماز کے لیئے مسنون طہارت, غسل و لباس

21 پیغامات

1 🟦 نماز کے لیے طہارت اور پانی کے احکام

❀ طہارت نماز کے لیے شرط ہے، اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ

“طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوگی۔”

📚 صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب وجوب الطہارة للصلاة: 224
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/224/

❀ طہارت صرف دو چیزوں سے حاصل ہو سکتی ہے:

➊ پاک پانی سے۔
📖 الأنفال: 11
🔗 https://tohed.com/tafsir/8/11/

➋ پانی نہ ہونے کی صورت میں پاک مٹی سے
(اس کی تفصیل تیمم کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں)۔

❀ پانی خواہ برف ہو یا اولے، کھڑا ہو یا بہتا، کم ہو یا زیادہ، اپنی تمام صورتوں میں پاک ہے، اور ان سے طہارت کرنا جائز ہے۔

❀ مندرجہ ذیل صورتوں میں پانی ناپاک ہے، اس سے طہارت نہیں ہوگی:

➊ تھوڑے پانی میں نجاست گر جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ

“جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔”

📚 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب ما ينجس الماء: 65 (صحیح)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/65/

یعنی مذکورہ مقدار سے کم ہوگا تو نجاست گرنے سے ناپاک ہو جائے گا۔

دو قلّتین میں موجودہ حساب سے پانچ (5) من اور ستائیس (27) سیر پانی آتا تھا۔
📘 اتحاف الکرام اردو: 29

پانی مذکورہ مقدار سے زیادہ ہو تو اس وقت ناپاک ہوگا جب نجاست اس کے رنگ، بو اور ذائقہ میں سے کوئی وصف تبدیل کر دے۔
اس مسئلہ پر علماء کا اجماع ہے۔
📘 دیکھیے: صحیح ابن حبان، تحت الحديث: 1249
📘 سبل السلام: 44/1
🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1249/

➋ کسی برتن سے کتا پانی پی لے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ

“جب تمہارے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس چیز کو بہا دو، پھر اسے سات مرتبہ دھوؤ۔”

📚 صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب حكم ولوغ الكلب: 279
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/279/

➌ جس پانی کے پاک یا ناپاک ہونے میں شک پڑ جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَىٰ مَا لَا يَرِيبُكَ

“جس چیز میں شک پڑ جائے اسے چھوڑ دے، اور اس چیز کو اختیار کر جس میں شک نہیں۔”

📚 سنن نسائی، کتاب الأشربة، باب الحث على ترك الشبهات: 5714 (صحیح)
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/5714/

➍ جنبی مرد یا عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل نہ کریں تو بہتر ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مرد کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے عورت غسل نہ کرے، اور عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے مرد غسل نہ کرے۔”

📚 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب النهي عن ذلك: 81
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/81/

📚 سنن نسائی: 239 (صحیح)
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/239/

2 📘 نماز کے لیے رفعِ حاجت

❀ پیشاب و پاخانہ کی حاجت شدید ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاہیے، بلکہ پہلے حاجت سے فارغ ہو جانا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ

“جب کھانا حاضر ہو اور پیشاب و پاخانہ تنگ کر رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب كراهية الصلاة بحضرة الطعام الخ: 560
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/560/

╭──────────────╮
رفعِ حاجت کے وقت بیٹھنے کے آداب
╰──────────────╯

❀ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے دور جاتے اور چھپ کر بیٹھتے تھے، تاکہ کوئی آپ کو دیکھ نہ سکے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة فى الحبة الشامية: 363
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/363/

❀ ایسی جگہ بیٹھیں کہ پیشاب کے چھینٹے جسم پر نہ پڑیں۔
نبی کریم ﷺ نے دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا:

إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ

“ان دو قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی ایسے بڑے کام پر نہیں ہو رہا جس سے بچنا مشکل ہو، بلکہ ایک کو پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے پر، اور دوسرے کو چغلی کرنے پر عذاب ہو رہا ہے۔”

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب: 218
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/218/

📖 صحیح مسلم: 677
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/677/

❀ رسول اللہ ﷺ جب صحرا میں قضائے حاجت کے لیے جاتے تو زمین نرم کرنے کے لیے ایک نیزہ ساتھ لے جاتے، تاکہ پیشاب کے چھینٹے جسم پر نہ پڑیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب حمل العنزة مع الماء في الاستنجاء: 152
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/152/

📖 صحیح مسلم: 271
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/271/

╭──────────────╮
قبلہ رخ بیٹھنے کا حکم
╰──────────────╯

❀ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے نہ بیٹھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا

“جب تم پیشاب و پاخانہ کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔”

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب قبلة أهل المدينة وأهل الشام والمشرق: 394
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/394/

📖 صحیح مسلم: 264
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/264/

❀ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی ممانعت کھلی فضا میں ہے، البتہ اگر کمرہ ہو یا کوئی اوٹ موجود ہو تو یہ جائز ہے۔
جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کیے ہوئے قضائے حاجت کرتے دیکھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب من تبرز على لبنتين: 145
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/145/

📖 صحیح مسلم: 266
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/266/

3 📘 پیشاب کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر؟

❀ اگر بیٹھنا ممکن نہ ہو تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَتَى النَّبِيُّ ﷺ سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا

“نبی اکرم ﷺ ایک قوم کی کوڑا کرکٹ والی جگہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔”

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب البول قائمًا وقاعدًا: 224
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/224/

📖 صحیح مسلم: 273
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/273/

📖 مسند امام اعظم ابو حنیفہ، ص: 46، مترجم دوست محمد شاکر، و نسخہ دیوبندیہ، ص: 119، باب البول قائماً

⚠️ تنبیہ:
صحیح بخاری میں کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے، دونوں طرح کی روایات موجود ہیں، جبکہ مسند امام اعظم میں صرف کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی روایت مذکور ہے۔

❀ رسول اللہ ﷺ کا عام طریقہ بیٹھ کر پیشاب کرنے کا تھا، البتہ ضرورت کے وقت کھڑے ہو کر پیشاب کرنا بھی جائز ہے۔

╭──────────────╮
بوقتِ قضائے حاجت قریب قریب بیٹھنا
╰──────────────╯

❀ قضائے حاجت کے وقت ایک دوسرے سے چھپ کر بیٹھنا چاہیے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“جب دو آدمی قضائے حاجت کے لیے بیٹھیں تو ایک دوسرے سے چھپ کر بیٹھیں اور وہ آپس میں گفتگو بھی نہ کریں، کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔”

📖 السلسلة الصحيحة، جلد: 7، صفحہ: 321، حدیث: 312

╭──────────────╮
قضائے حاجت کے وقت باتیں کرنا
╰──────────────╯

❀ مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ قضائے حاجت کے وقت باتیں کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے۔

❀ اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے گزرتے ہوئے سلام کیا، لیکن آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب التيمم: 370
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/370/

4 🚻 بیت الخلا کی دعائیں

❀ بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں:

بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ

“اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔”

📖 صحيح البخاري: 142 ، صحیح مسلم: 375
ابتدا میں «بسم اللہ» کا اضافہ سعید بن منصور سے مروی ہے، دیکھیے: فتح الباری: 1/244

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/142/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/375/

╭───────────────╮

❀ بیت الخلا سے باہر نکل کر یہ دعا پڑھیں:

غُفْرَانَكَ

“(اے اللہ!) میں تیری بخشش چاہتا ہوں۔”

📖 سنن أبي داود: 30 ، جامع الترمذي: 7 ، سنن ابن ماجه: 300
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/30/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/300/

╰───────────────╯

🚫 کن مقامات پر پیشاب کرنا ممنوع ہے؟

❀ رسول اللہ ﷺ نے مندرجہ ذیل مقامات پر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے:

➊ لوگوں کے راستے میں اور سایہ دار درخت کے نیچے۔
📖 صحیح مسلم: 269

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/269/

➋ قبرستان میں۔
📖 سنن ابن ماجه: 1567
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1567/

➌ غسل خانہ میں۔
📖 سنن أبي داود: 27
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/27/

➍ کھڑے پانی میں۔
📖 صحیح مسلم: 281

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/281/

5 🚿 استنجا کے مسائل

❀ پانی میسر ہو تو پانی ہی سے استنجا کریں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا کرتے تھے۔”

📖 صحیح البخاری: 152 ، صحیح مسلم: 271

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/152/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/271/

╭───────────────╮

❀ پانی میسر نہ ہو تو پتھر یا مٹی کے ڈھیلوں سے استنجا کریں۔
📖 صحیح البخاری: 156

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/156/

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی موجود ہو تب بھی پہلے ضرور ڈھیلے استعمال کیے جائیں، پھر پانی۔ یہ ضروری والی شرط فضول ہے۔
ہاں، اگر باہر کھیت وغیرہ میں پیشاب کیا اور ڈھیلے استعمال کر لیے، پھر پانی ملنے پر استنجا کر لیا جائے تو یہ اچھی بات ہے۔

╰───────────────╯

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ

“تم میں سے کوئی شخص تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا نہ کرے۔”

📖 صحیح مسلم: 262

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/262/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے، اور اسی طرح دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے بھی منع کیا ہے۔

📖 صحیح مسلم: 262

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/262/

❀ استنجا کے بعد زمین کے ساتھ ہاتھ ملنا مستحب ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے ایک برتن سے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ زمین کے ساتھ ملا۔

📖 سنن ابن ماجہ: 358 ، سنن أبي داود: 45
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/358/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/45/

❀ استنجے اور وضو کے لیے الگ الگ برتن استعمال کرنے چاہییں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کے لیے جاتے تو میں برتن میں پانی لاتا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجا کرتے، پھر دوسرا برتن لاتا، اس سے وضو کرتے تھے۔”

📖 سنن أبي داود: 45
صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/45/

❀ ہوا خارج ہونے سے استنجا کرنے کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے، حدیث میں اس سے صرف وضو کرنے کا ذکر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

💧 استنجا اور وضو کا باہمی تعلق

❀ کچھ لوگ استنجا اور وضو کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں، اور ان میں یہ معروف ہے کہ پیشاب یا پاخانہ کے بعد لازمی طور پر وضو کرنا چاہیے، یہ بات غلط ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوٹے میں پانی لے کر پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا:
’اے عمر! یہ کیا ہے؟‘
عرض کی: ’یہ پانی ہے، وضو کر لیں۔‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’مجھے ہر مرتبہ پیشاب کے ساتھ وضو کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔‘”

📖 سنن أبي داود: 42
حسن
صحیح الجامع: 5551

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/42/

❀ اسی طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وضو کرنے سے پہلے لازمی طور پر استنجا کرنا چاہیے، یہ بات بھی غلط ہے، کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس دلائل موجود ہیں۔

جیسا کہ صحیح بخاری: 859 میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رات بسر کرنے والا واقعہ موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہونے کے بعد صرف وضو کیا۔

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/859/

6 🪥 مسواک کی فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ

“مسواک منہ کی صفائی اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا سبب ہے۔”

📖 سنن النسائی، کتاب الطہارة، باب الترغيب في السواك: 5 (صحیح)
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/5/

❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ

“اگر میں اپنی امت پر مشقت محسوس نہ کرتا تو میں انھیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔”

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب السواك يوم الجمعة: 887
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/887/

📖 صحیح مسلم: 252
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/252/

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب السواك: 253/44
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/253/

❀ روزے کی حالت میں بھی مسواک کی جا سکتی ہے، کیونکہ مذکورہ بالا دونوں احادیث روزے اور افطار دونوں حالتوں کے لیے عام ہیں، اور کسی صحیح حدیث میں روزے کی حالت میں مسواک کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔

❀ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب السواك: 245
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/245/

📖 صحیح مسلم: 255
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/255/

❀ مسواک زبان، اس کے ارد گرد اور گلے تک کرنی چاہیے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب السواك: 244
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/244/

📖 صحیح مسلم: 254
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/254/

❀ مسواک کا لمبا یا چھوٹا ہونا کوئی شرط نہیں۔

7 📘 غسل کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ ہر عمل کی طرح غسل بھی وہی صحیح ہوگا جو مسنون ہوگا، ورنہ نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾

ترجمہ:
”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کی اطاعت سے منہ موڑ کر اپنے اعمال برباد نہ کرو۔“

📖 سورۃ محمد: 33
🔗 https://tohed.com/tafsir/47/33/

❀ ہر کام کا دار و مدار نیت پر ہے، لہٰذا غسل کرتے ہوئے طہارت کی نیت کریں۔

❀ پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھو کر بائیں ہاتھ سے گندگی وغیرہ صاف کریں اور استنجا کریں۔ مٹی یا صابن وغیرہ سے ہاتھ پاک کریں۔

❀ پھر وضو کریں، لیکن سر کا مسح نہ کریں اور پاؤں نہ دھوئیں۔
➤ وضو کا تفصیلی طریقہ وضو کے باب میں پڑھ لیں۔

❀ پھر اپنی انگلیوں کو تر کر کے سر کے بالوں کا خلال کریں اور بعد میں تین چلو بھر کر پانی ڈالیں اور بالوں میں انگلیاں ڈال کر اچھی طرح ملیں، تاکہ بالوں کے نیچے جلد تر ہو جائے۔

❀ تین چلو اس طرح ڈالیں کہ پہلے دائیں طرف، پھر بائیں طرف اور پھر درمیان میں۔

❀ پھر سارا بدن دھو لیں۔

❀ غسل والی جگہ سے ایک طرف ہو کر پاؤں دھو لیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب من توضأ في الجنابة ثم غسل الخ: 248، 272، 274
📖 صحیح مسلم: 316

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/248/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/272/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/274/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/316/

❀ اگر عورت نے غسلِ جنابت کے وقت سر کے بالوں کی مینڈھیاں کی ہوئی ہیں تو انہیں کھولنا ضروری نہیں، بلکہ تین چلو پانی بہا دینا ہی کافی ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب حكم ضفائر المغتسلة: 330
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/330/

❀ غسلِ حیض کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ صحیح مسلم کی مذکورہ بالا اسی حدیث میں ایک دوسری سند سے یہ الفاظ بھی ہیں:

﴿فَانْقُضِيهِ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: لَا﴾

ترجمہ:
”کیا میں بالوں کی مینڈھیاں غسلِ حیض اور غسلِ جنابت کے وقت کھولا کروں؟“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نہیں، کوئی ضرورت نہیں۔“

اور صحیح بخاری: 316 اور سلسلہ صحیحہ: 188 وغیرہ کی جس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سر کے بال کھولنے کا حکم دیا تھا، وہ غسلِ حیض نہیں تھا، بلکہ غسلِ احرام تھا، کیونکہ اس وقت تک تو عائشہ رضی اللہ عنہا پاک نہیں ہوئی تھیں۔

📖 صحیح البخاری: 316
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/316/

8 📘 غسلِ جنابت کے چند اہم مسائل

❀ غسل میں صابن کا استعمال

صابن، شیمپو وغیرہ غسلِ جنابت کے لیے ضروری نہیں، ہاں اگر کوئی صابن یا شیمپو استعمال کرے تو جائز ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

❀ برہنہ ہو کر غسل کرنا

غسل پردے میں کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ کیا جبکہ وہ غسل کر رہے تھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب التستر في الغسل عند الناس: 281
📖 صحیح مسلم: 337

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/281/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/337/

❀ تنہائی میں برہنہ ہو کر غسل کرنا جائز ہے، لیکن تنہائی میں بھی پردہ کیا جائے تو افضل ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب من اغتسل عريانا وحده في الخلوة: 278
📖 سنن أبي داود: 4012 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/278/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4012/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنا

خاوند اور بیوی اکٹھے غسل کر سکتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے ایک برتن سے اس طرح غسل کرتے کہ ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب هل يدخل يده في الإناء: 261
📖 صحیح مسلم: 321/45

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/261/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/321/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ غسل کے بعد دوبارہ وضو کی ضرورت نہیں

غسل والے وضو سے نماز پڑھی جا سکتی ہے، الگ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔“

📖 سنن نسائی، کتاب الطهارة، باب ترك الوضوء من بعد الغسل: 253
📖 ترمذی: 107 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/253/

لیکن دورانِ غسل اگر کسی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا، مثلاً شرم گاہ کو ہاتھ لگنے سے، تو نماز کے لیے نیا وضو کرنا پڑے گا۔

━━━━━━━━━━━━━━

❀ غسل میں جرابوں پر مسح جائز نہیں

غسل فرض ہو جائے تو مسح بھی ختم ہو جاتا ہے، یعنی غسل میں پاؤں پر مسح جائز نہیں۔ سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم سفر میں تین دن رات تک پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے اپنے موزے نہ اتاریں، لیکن جنبی ہونے پر اتارنے ہوں گے۔“

📖 ترمذی، کتاب الطهارة، باب مسح على الخفين للمسافر والمقيم: 96
📖 سنن نسائی: 127
📖 سنن ابن ماجہ: 478 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/127/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/478/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ غسل میں کتنا پانی استعمال کرنا چاہیے؟

طہارت میں پانی بقدرِ ضرورت استعمال کرنا چاہیے، ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا گناہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾

ترجمہ:
”اسراف نہ کرو، کیونکہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

📖 سورۃ الأنعام: 141
🔗 https://tohed.com/tafsir/6/141/

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع، تقریباً دو کلو، سے پانچ مُد، تقریباً تین کلو، تک پانی سے غسل کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء بالمد: 201
📖 صحیح مسلم: 325/51

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/201/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/325/

9 📘 غسل کب فرض ہوتا ہے؟

غسل پانچ صورتوں میں فرض ہوتا ہے:

➊ جماع
➋ احتلام
➌ حیض و نفاس
➍ قبولِ اسلام
➎ موت

━━━━━━━━━━━━━━

❀ جماع سے غسل

جماع سے غسل فرض ہو جائے گا، اگرچہ انزال نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ﴾

ترجمہ:
”جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان جماع کے لیے بیٹھے اور کوشش کرے تو ان پر غسل واجب ہو جاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہو۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب إذا التقى الختانان: 291
📖 صحیح مسلم: 348

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/291/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/348/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ جنابت میں ممنوع کام

❀ حالتِ جنابت میں نماز اور طوافِ بیت اللہ ممنوع ہے، کیونکہ ان کے لیے طہارت شرط ہے۔

❀ بلا وجہ عبادات کو مؤخر کرنا گناہ ہے، لہٰذا جلدی غسل کر کے یہ فرائض ادا کر لینے چاہییں۔

━━━━━━━━━━━━━━

❀ دوبارہ جماع کے لیے غسل اور وضو

دوبارہ جماع کے لیے غسل کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور ہر ایک کے پاس غسل کیا، آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ایک ہی غسل کافی نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاک، زیادہ اچھا اور زیادہ طہارت والا ہے۔“

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الطهارة، باب فيمن يغتسل عند كل واحدة غسلا: 590
📖 سنن أبي داود: 219 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/590/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/219/

دوبارہ جماع کرنا ہو تو وضو کر لینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا أَتَىٰ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ﴾

ترجمہ:
”جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے، پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو اسے وضو کر لینا چاہیے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب جواز النوم الجنب: 308

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/308/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ احتلام سے غسل

❀ احتلام یہ ہے کہ سوتے یا جاگتے میں شہوت سے جوش کے ساتھ منی خارج ہو۔

❀ احتلام مردوں کو عام طور پر اور عورتوں کو کبھی کبھار ہوتا ہے۔

❀ کپڑے پر احتلام کے نشان ہوں تو غسل کرنا چاہیے، اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔

❀ نیند میں احتلام محسوس ہوا، لیکن کپڑے پر منی کے نشانات نہیں تو غسل فرض نہیں ہوگا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكَرُ احْتِلَامًا، قَالَ: يَغْتَسِلُ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَىٰ أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ الْبَلَلَ، قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ﴾

ترجمہ:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو کپڑوں پر تری دیکھے جبکہ اسے احتلام یاد نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے غسل کرنا چاہیے۔ پھر اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جسے نیند میں احتلام محسوس ہو لیکن کپڑوں پر تری نہ دیکھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر غسل نہیں۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب الرجل يجد البلة في منامه: 236
📖 سنن ترمذی: 113
📖 سنن ابن ماجہ: 612 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/236/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/612/

❀ اس کے احکام بھی جماع سے غسل والے ہیں۔

10 📘 مذی، ودی، حیض اور نفاس کے چند اہم مسائل

❀ مذی کا مسئلہ

مذی وہ لیس دار پانی ہے جو شہوت کے وقت عضوِ مخصوص سے نکلتا ہے۔

❀ ودی کا مسئلہ

ودی وہ گاڑھا سفید پانی ہے جو پیشاب سے پہلے یا بعد میں خارج ہوتا ہے۔ یہ بیماری ہے، ہمارے ہاں اسے قطرے نکلنے کا نام دیا جاتا ہے۔

❀ مذی اور ودی نکلنے سے استنجا اور وضو کرنا چاہیے، ان سے غسل فرض نہیں ہوگا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب غسل المذي والوضوء منه: 269
📖 صحیح مسلم: 303

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/269/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/303/

❀ لیکوریا عورتوں کے مرض کا بھی یہی حکم ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 حیض و نفاس کا بیان

❀ حیض وہ سیاہی مائل خون ہے جو بالغ عورتوں کو ہر ماہ آتا ہے۔ عام طور پر اس کی مدت تین سے سات دن تک ہوتی ہے۔

❀ نفاس وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش پر جاری ہوتا ہے۔ عموماً اس کی مدت چالیس دن ہے، لیکن بعض اوقات پہلے بھی ختم ہو جاتا ہے۔

📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب ما جاء في وقت النفساء: 312 — صحیح
📖 إرواء الغليل: 201

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/312/

❀ حیض اور نفاس سے غسل فرض ہو جاتا ہے، غسل خون بند ہونے پر کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي﴾

ترجمہ:
”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره: 320
📖 صحیح مسلم: 334/65

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/320/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/334/

❀ اس خون کی بو دور کرنے کے لیے خوشبو استعمال کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي ثَلَاثًا﴾

ترجمہ:
”خوشبو کا پھایا لے اور اس سے تین مرتبہ طہارت حاصل کر۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب غسل المحيض: 315
📖 صحیح مسلم: 749

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/315/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/749/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 حیض و نفاس میں ممنوع کام

❀ حیض اور نفاس والی عورت مندرجہ ذیل چار کام نہیں کرے گی:

➊ نماز
➋ روزہ
➌ جماع
➍ بیت اللہ کا طواف

❀ حیض و نفاس والی عورت باقی تمام کام کر سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ﴾

ترجمہ:
”بلاشبہ مومن کسی حالت میں بھی ناپاک نہیں ہوتا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب عرق الجنب وأن المسلم لا ينجس: 283
📖 صحیح مسلم: 371

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/283/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/371/

❀ نماز، روزہ اور طواف کے دوران میں حیض یا نفاس شروع ہو جائے تو وہ عبادت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ فرض روزہ اور فرض طواف کی قضا دی جائے گی، جبکہ نماز کی قضا نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

﴿أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّىٰ تَطْهُرِي﴾

ترجمہ:
”تو طواف نہ کرتی کہ پاک ہو جائے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت: 305

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/305/

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿كَانَ يُصِيبُنَا ذٰلِكَ فَتُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ﴾

ترجمہ:
”ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب وجوب قضاء الصوم على الحائض دون الصلاة: 335/69

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/335/

❀ حیض و نفاس شروع ہونے سے پہلے جو نماز فرض ہو چکی تھی، یعنی جس نماز کا وقت ہو چکا تھا، لیکن اس نے سستی کی بنا پر ابھی تک اسے ادا نہیں کیا تھا تو اس نماز کی قضا حیض و نفاس کے بعد دینی ہو گی، کیونکہ وہ نماز اس پر فرض ہو چکی تھی۔

❀ حیض یا نفاس کا خون وقت سے پہلے ختم ہو جائے تو تمام پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور نماز و روزہ فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي﴾

ترجمہ:
”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره: 320
📖 صحیح مسلم: 334/65

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/320/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/334/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 کیا حائضہ قرآن پڑھ سکتی ہے؟

حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں تلاوتِ قرآن کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان حالات میں حرمتِ تلاوتِ قرآن کے متعلق کوئی صحیح و واضح حدیث نہیں ہے۔ جب حرمت کی کوئی واضح و صحیح دلیل نہیں تو ان حالات میں تلاوت سے منع کرنا جائز نہیں۔

اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں قرآن مجید کو چھونے سے منع کرنا بھی کسی واضح و صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے، لیکن اگر کسی صاف کپڑے وغیرہ سے قرآن کو چھوا جائے اور اسی کے ذریعے سے ورق گردانی کی جائے تو بہتر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مسجد سے مصلیٰ پکڑانے کا حکم دیا، انہوں نے حیض کا عذر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ﴾

ترجمہ:
”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها: 298

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/298/

تو معلوم ہوا کہ حیض کا اثر ہاتھوں میں نہیں ہوتا، ان سے کوئی بھی چیز پکڑی جا سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 ایامِ حیض کے علاوہ پانی کی حیثیت

❀ مخصوص دنوں کے علاوہ پانی نکلنے کے احکام حیض و نفاس والے نہیں ہیں۔

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا﴾

ترجمہ:
”ہم مٹیالے اور زرد رنگ کے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحيض، باب الصفرة والكدرة في غير أيام الحيض: 326

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/326/

11 📘 قبولِ اسلام، میت کے غسل اور غسل کے مزید مسائل

❀ قبولِ اسلام کا غسل

جب کوئی شخص اسلام قبول کرنا چاہے تو کلمہ پڑھانے سے پہلے اسے غسل کرایا جائے گا۔

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”میں قبولِ اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے مجھے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا۔“

📖 سنن أبي داود، کتاب الطهارة، باب الرجل يسلم فيؤمر بالغسل: 355 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/355/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ میت کا غسل

جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے تو اسے غسل دینا فرض ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 غسل کے مزید مسائل

❀ غسلِ جنابت جتنی جلدی ہو سکے کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عبادت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت پر جب غسل فرض ہو تو اسی وقت غسل کرنا لازمی ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتی ہیں:

﴿رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ﴾

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز نوم الجنب: 307

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/307/

❀ عام لوگ جنبی آدمی کو بالکل ناپاک سمجھتے ہیں، اور عورت کو تو حیض و نفاس کے دوران میں ایک الگ کمرے میں گھر کے گندے بستر پر ڈال دیا جاتا ہے، اس کے برتن مخصوص کر دیے جاتے ہیں، اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور ملنا جلنا ممنوع قرار پاتا ہے، لیکن اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

❀ جنبی آدمی کوئی کام کرنا چاہے اور غسل کا وقت نہ ہو تو بہتر ہے کہ وضو کر لے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز نوم الجنب: 307

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/307/

اس کے پاس وضو کے لیے بھی وقت یا پانی نہیں تو وضو کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو ہر حال میں پاک قرار دیا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 اگر جنابت کا علم نماز کے بعد ہو

❀ امام نے حالتِ جنابت میں جماعت کرا دی اور اسے بعد میں علم ہوا تو وہ غسل کر کے تنہا اپنی نماز لوٹائے گا۔

سلیمان بن یسار فرماتے ہیں:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نمازِ فجر پڑھائی، پھر جرف میں اپنی زمین کی طرف گئے، تو انہوں نے اپنے کپڑوں میں احتلام کے نشانات دیکھے، فرمانے لگے:

”جب سے ہم چربی استعمال کرنے لگے ہیں تب سے رگیں بہنے لگی ہیں۔“

پھر غسل کیا، اپنے کپڑوں سے منی کو دھویا اور نماز دہرائی، لیکن واپس آ کر مقتدیوں کو نماز دہرانے کا نہیں کہا۔

📖 الموطأ، كتاب الطهارة، باب إعادة الجنب الصلاة: 113
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 170/1، حدیث: 501

━━━━━━━━━━━━━━

📘 اگر زیادہ غسل جمع ہو جائیں

اگر کئی غسل اکٹھے ہو جائیں تو سب کے لیے ایک غسل کافی ہے، کیونکہ مقصد تو طہارت حاصل کرنا ہے، اور وہ حاصل ہو گئی۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 احرام کا غسل

احرام باندھتے وقت غسل کرنا مسنون ہے۔

❀ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ﴾

ترجمہ:
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے سے پہلے غسل کیا۔“

📖 سنن ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في الاغتسال عند الإحرام: 830 — صحیح

━━━━━━━━━━━━━━

📘 مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل

❀ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مسنون ہے۔

نافع فرماتے ہیں:

”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، حتیٰ کہ صبح نماز پڑھتے اور غسل کرتے، پھر مکہ میں دن کے وقت داخل ہوتے اور فرماتے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب استحباب المبیت بذي طوى: 1259

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1259/

12 📘 تیمم کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

پانی کی عدم دستیابی یا استعمال نہ کر سکنے کی صورت میں شریعتِ اسلامیہ نے مٹی کو پانی کے قائم مقام قرار دیا ہے۔

لہٰذا پانی کا استعمال نقصان دہ ہو تو تیمم کیا جا سکتا ہے، پانی کا ملنا مشکل ہو تو بھی تیمم کیا جا سکتا ہے، اور پاک مٹی سے اسی طرح طہارت حاصل کی جا سکتی ہے جس طرح پانی سے طہارت حاصل کی جاتی ہے، اور اسے تیمم کہا جاتا ہے۔

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ﴾

📖 سورۃ المائدہ: 6

ترجمہ:
اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے لوٹے، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی اور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔

🔗 https://tohed.com/tafsir/5/6/

اس آیت میں چند احکام بیان ہوئے ہیں:

➊ تیمم غسل کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور وضو کی بھی۔

➋ پانی کا استعمال نقصان دہ ہو تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔

➌ پانی کا ملنا مشکل ہو تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔

➍ پاک مٹی سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔

➎ تیمم کرنے کا طریقہ بھی اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے۔

پانی نہ ملنے کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً:

➤ آدمی جس جگہ ہے وہاں پانی موجود نہیں۔

➤ پانی وضو سے کم ہے۔

➤ یا پانی صرف پینے کے لیے ہے، اگر اس سے وضو کیا جائے تو پینے کے لیے پانی باقی نہیں بچے گا۔

تو ایسی صورت میں پاک مٹی سے تیمم کیا جائے گا۔

📌 پاک مٹی کی صورتیں

❀ سطحِ زمین کی جتنی شکلیں ہیں، سوائے خالص پتھر کے، وہ مٹی ہی کی قسم شمار ہوتی ہیں۔

مٹی کی تمام صورتوں سے تیمم کیا جا سکتا ہے، مثلاً:

➊ مٹی

➋ ریت

➌ گرد و غبار

➍ کچی دیوار

➎ اور ایسی چیز جس میں مٹی خلط ملط ہو۔

13 📘 تیمم کا مسنون طریقہ

❀ ہر کام کا مدار نیت پر ہے، لہٰذا تیمم کرتے ہوئے طہارت کی نیت کریں۔

❀ وضو کی طرح یہاں بھی پہلے ”بسم الله“ پڑھیں۔

❀ پاک مٹی پر ہاتھ ماریں۔

❀ پھر دونوں ہاتھوں پر پھونک ماریں۔

❀ دونوں ہاتھوں سے پہلے چہرے کا، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا اور بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا مسح کر لیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التیمم، باب المتيمم هل ينفخ فيهما: 338
📖 صحیح مسلم: 368

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/338/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/368/

❀ یا پہلے دونوں ہاتھوں کا مسح کریں، یعنی دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا اور بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا، اور پھر چہرے کا مسح کریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التیمم، باب التيمم ضربة واحدة: 347
📖 صحیح مسلم: 368

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/347/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/368/

📌 کیا ہر نماز کے لیے الگ تیمم کرنا چاہیے؟

❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک تیمم سے صرف ایک نماز پڑھی جا سکتی ہے، دوسری نماز کے لیے دوبارہ تیمم کرنا چاہیے، یہ بات بلا دلیل ہے۔

جب یہ بات طے ہے کہ مٹی پانی کے قائم مقام ہے تو اس کے احکام بھی وہی ہوں گے۔

لہٰذا جب تک تیمم نہ ٹوٹے، نیا تیمم کرنے کی ضرورت نہیں۔

📌 تیمم کے مزید مسائل

❀ مٹی سے تیمم پانی کا قائم مقام ہے، لہٰذا اس کے احکام بھی پانی سے حاصل کی گئی طہارت جیسے ہیں۔

مثلاً اگر کئی غسل اکٹھے ہو جائیں تو سب کے لیے ایک ہی تیمم کافی ہے۔

غسل اور وضو کے لیے بھی ایک ہی تیمم کافی ہے۔

اگر غسل کی جگہ تیمم کیا، پھر وضو ٹوٹ گیا تو اس کا غسل باقی رہے گا۔

یعنی اگر صرف وضو کے لیے پانی مل گیا تو وضو کر لیا جائے، غسل لازم نہیں۔

📖 الکافی لابن قدامہ، فصل: 150

❀ میت کو تیمم کرانے کا بھی یہی طریقہ ہے۔

❀ تیمم کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے، جب تک مذکورہ صورتحال رہے تیمم کرتے رہنا جائز ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ﴾

ترجمہ:
پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے، اگرچہ دس سال تک پانی نہ مل سکے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب الجنب يتيمم: 332
📖 جامع ترمذی: 124 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/332/

❀ تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی ملا تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کوئی دہرائے تو اسے دگنا اجر ملے گا۔

جیسا کہ دو صحابی سفر میں تھے، ایک جگہ پانی نہ ملنے پر دونوں نے تیمم کر کے نماز ادا کر لی، پھر نماز کے وقت ہی میں پانی مل گیا۔

ایک نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھ لی، جبکہ دوسرے نے نماز نہ دہرائی۔

واپسی پر انہوں نے سارا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دہرانے والے سے فرمایا:

”تو نے سنت پر عمل کیا، تیری پہلی نماز تجھے کافی ہے۔“

اور دہرانے والے سے فرمایا:

”تجھے دگنا اجر ملے گا۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب المتيمم يجد الماء: 338 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/338/

14 📘 جن چیزوں سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے

❀ جن چیزوں سے غسل یا وضو ٹوٹ جاتا ہے، ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

❀ پانی ملنے سے بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ﴾

ترجمہ:
تجھے پانی مل جائے تو اسے استعمال کر، کیونکہ اسی میں خیر و بھلائی ہے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب الجنب يتيمم: 332
📖 جامع ترمذی: 124 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/332/

لہٰذا اگر حالتِ نماز میں پانی ملنے کی اطلاع مل گئی اور وہ پانی استعمال کرنے پر قادر ہے تو اسے نماز توڑ کر وضو کر کے نماز ادا کرنی چاہیے۔

📘 مریض اور معذور کی طہارت

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا﴾

📖 سورۃ التغابن: 16

ترجمہ:
جس قدر تم میں طاقت ہو اسی قدر اللہ سے ڈرو، اس کے احکام سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

❀ اور دوسری جگہ فرمایا:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

📖 سورۃ البقرۃ: 286

ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی استطاعت سے بڑا حکم نہیں دیتا۔

📌 زخمی شخص کی طہارت

❀ کسی جگہ زخم ہو تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

”وہ غسل اور وضو میں اس کے ارد گرد جگہ کو دھو لے اور زخم پر مسح کر لے۔“

📖 السنن الکبریٰ للبیہقی: 228/1، حدیث: 1079 — صحیح

❀ اگر پورا جسم زخمی ہو تو تیمم کر لے۔

❀ زخم یا پٹی و پلاسٹر پر مسح کرنے کی کوئی مدت نہیں، جب تک زخم یا پٹی و پلاسٹر برقرار ہے، اس پر مسح ہو سکتا ہے۔

📌 مریض کی طہارت

❀ مریض کے لیے ایسی صورت میں تیمم کرنا جائز ہے جب اس کے لیے پانی کا استعمال نقصان دہ ہو۔

مثلاً آدمی بیمار ہو اور پانی استعمال کرنے سے اس کی بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو، یا شدید سردی میں ٹھنڈا پانی استعمال کرنے سے بیماری کا خطرہ ہو اور پانی گرم کرنے کا انتظام نہ ہو۔

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”مجھے غزوۂ ذات السلاسل میں ایک ٹھنڈی رات میں احتلام ہو گیا، مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ اگر میں نے ٹھنڈے پانی سے غسل کر لیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا، تو میں نے تیمم کر کے ساتھیوں کو نمازِ فجر پڑھا دی۔ میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سارا معاملہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب إذا خاف الجنب البرد أيتيمم: 334 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/334/

📘 استحاضہ کا مسئلہ

❀ استحاضہ خون کی یا زرد رنگ کا خون ہے جو عورتوں کو بیماری کی وجہ سے آتا ہے۔

❀ استحاضہ کی صورت میں عورت پاک ہوتی ہے، لہٰذا وہ پاک عورت کی طرح تمام کام کرے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب الاستحاضة: 306
📖 صحیح مسلم: 333

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/306/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/333/

❀ بعض عورتیں استحاضہ کو بھی حیض سمجھ کر نماز اور روزہ ترک کر دیتی ہیں، یہ شدید غلطی ہے۔

استحاضہ والی عورت ہر نماز کے وقت خون صاف کرے اور وضو کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی عورت کو فرمایا:

﴿فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي﴾

ترجمہ:
خون صاف کر اور نماز پڑھ۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب الاستحاضة: 306
📖 صحیح مسلم: 333

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/306/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/333/

❀ حالتِ استحاضہ میں غسل فرض نہیں، لیکن وہ صفائی کے لیے غسل کرنا چاہے تو اچھا ہے۔

اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق غسل کر لیا کرے، یعنی:

➊ ہر نماز کے لیے غسل کر لے۔

➋ یا دو نمازوں کے لیے ایک غسل کر لے۔

➌ یا دن میں ایک دفعہ غسل کر لے۔

➍ یا حیض سے دوسرے حیض کے دوران ایامِ استحاضہ میں کبھی کبھار غسل کر لیا کرے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب ما روى أن المستحاضة تغتسل لكل صلاة: 291، 287، 303، 301 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/291/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/287/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/303/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/301/

❀ استحاضہ کا خون نکلے تو ہر نماز کے لیے وضو ضرور کرنا پڑے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ﴾

ترجمہ:
ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کر۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الدم: 227

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/227/

❀ مستحاضہ دو نمازوں کے لیے ایک غسل کرنا چاہے تو دو نمازیں جمع کرے، یعنی ظہر کو لیٹ کرے اور عصر کو مقدم کرے، اسی طرح مغرب کو لیٹ کرے اور عشاء کو مقدم کر کے جمع کر لے، اور صبح الگ پڑھ لے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب من قال تجمع بين الصلاتين: 294
📖 جامع ترمذی: 128 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/294/

❀ اگر کوئی عورت حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکے تو وہ دیکھے کہ اگر حیض عادت کے مطابق آتا ہے تو عادت کے مطابق آنے والے خون کو حیض اور بعد والے کو استحاضہ سمجھے۔

اور اگر حیض عادت کے مطابق نہ آتا ہو تو اپنی کسی قریبی عورت، مثلاً ماں یا بہن وغیرہ کی عادت کو دیکھے، اس کے مطابق آنے والے خون کو حیض اور باقی کو استحاضہ شمار کرے۔

📌 مریض کی طہارت کب ٹوٹے گی؟

جنہیں استحاضہ کا خون، لیکوریا کا پانی، پیشاب کے قطرے یا ہوا خارج ہونے کی بیماری ہو، وہ ایک وضو سے ایک نماز مکمل پڑھ سکتے ہیں۔

نماز کے دوران خون، پانی اور ہوا وغیرہ نکلنے سے نہ طہارت ختم ہو گی اور نہ نماز ٹوٹے گی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ خاتون سے فرمایا:

”ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کر۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب ما روى أن المستحاضة: 292

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/292/

15 📘 نماز میں بدن، لباس اور جگہ کی پاکیزگی کا بیان صحیح احادیث کی روشنی میں

نماز کے لیے بدن، کپڑا اور جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔ تفصیل حسبِ ذیل ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 بدن کی طہارت

❀ چند چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے لگنے سے جسم ناپاک ہو جاتا ہے، یعنی:

انسان کا پیشاب و پاخانہ، منی، مذی، ودی، حیض، نفاس اور استحاضہ کا خون، لیکوریا کا پانی، کتے کا لعاب وغیرہ۔

❀ حلال جانوروں کا پیشاب یا گوبر لگنے سے بدن ناپاک نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے:

”قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ میں آ کر مسلمان ہوئے، ان کے پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب ملا کر پینے کا حکم دیا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب أبوال الإبل والدواب والغنم ومرابضها، حدیث: 233

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/233/

❀ شرم گاہ کے علاوہ جسم سے نکلنے والا خون ناپاک نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگوں میں اسی حالت میں نمازیں ادا کرتے تھے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 لباس کی طہارت

❀ مسلمان پر لباس کو پاک رکھنا فرض ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ۝ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾

ترجمہ:
”اپنے کپڑے پاک رکھ اور پلیدگی سے دور رہ۔“

📖 سورۃ المدثر: 4، 5

🔗 https://tohed.com/tafsir/74/4/

نماز کے لیے پاک لباس شرط ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ»

”جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ اسے کھرچ دے اور پانی سے دھو لے، پھر اس میں نماز پڑھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب غسل دم المحیض، حدیث: 307
📖 صحیح مسلم، حدیث: 291

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/307/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/291/

❀ جوتا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا»

”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کی طرف آئے تو اسے اپنا جوتا دیکھ لینا چاہیے، اگر اس میں گندگی یا تکلیف دہ چیز لگی ہو تو اسے زمین پر رگڑے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب الصلاة في النعل، حدیث: 650 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/650/

❀ جن چیزوں کے لگنے سے بدن ناپاک ہو جاتا ہے، ان سے لباس بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔

❀ مردوں کے لیے ریشم کا لباس حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، وَأُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ»

”ریشم کا لباس اور سونا پہنا میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں پر حلال ہے۔“

📖 جامع الترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء في الحرير والذهب للرجال، حدیث: 1720 — صحیح
📖 سنن النسائی، حدیث: 5149، 5147 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/5149/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/5147/

━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 لباس یا بدن پر نجاست کا علم اگر دورانِ نماز میں ہو تو؟

❀ اگر نجاست جوتی وغیرہ کو لگی ہے تو جوتی کو اتار دیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جوتا پہن کر نماز پڑھا رہے تھے کہ نماز کے دوران میں جوتا اتار دیا، پھر وجہ بتاتے ہوئے فرمایا:

«إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا»

”میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ میرے جوتے میں گندگی لگی ہے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب الصلاة في النعل، حدیث: 650 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/650/

❀ اگر گندگی لباس کو لگی ہو تو نماز میں لباس اتارتے ہوئے اگر کندھے سے گھٹنے تک کا حصہ ننگا ہو گیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
(تفصیل آگے لباس کے باب میں ان شاء اللہ)

❀ اگر بدن کو ایسی نجاست لگی ہو جسے صرف اتارنے سے کپڑا اور بدن پاک نہیں ہوگا تو نماز توڑ کر اسے پاک کرے، کیونکہ بدن کا پاک ہونا نماز کی شرط ہے۔

16 📘 بدن اور لباس کو پاک کرنے کا طریقہ

بدن اور لباس کو پاک کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ مذی اگر جسم پر لگی ہو تو اسے دھویا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ»

”وضو کر اور شرم گاہ کو دھو لے، یعنی استنجا کر لے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الغسل، باب غسل المذي والوضوء منه، حدیث: 269
📖 صحیح مسلم، حدیث: 306

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/269/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/306/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ حلال جانوروں کے پیشاب کے چھینٹے پڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ نجس نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ ایسا شیر خوار بچہ جس کی غذا صرف ماں کا دودھ ہو، اس کا پیشاب لگ جائے تو اس جگہ پانی کے چھینٹے مار لینا کافی ہے۔

❀ لیکن اگر شیر خوار بچی کا پیشاب جسم یا کپڑے کو لگ جائے تو اسے دھونا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ»

”بچی کا پیشاب دھویا جائے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں، جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطهارة، باب بول الصبي يصيب الثوب، حدیث: 377 — صحیح
📖 سنن النسائی، حدیث: 305
📖 جامع الترمذی، حدیث: 71
📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 526

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/377/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/305/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/526/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ بڑے، مرد یا عورت، کا پیشاب وغیرہ لگ جائے تو دھویا جائے گا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب صب الماء على البول في المسجد، حدیث: 220
📖 صحیح مسلم، حدیث: 284

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/220/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/284/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ حیض وغیرہ کا خون یا کوئی دوسری غلاظت لگی ہو تو اسے دھویا جائے گا۔

❀ فرمانِ نبوی ہے:

”تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ اسے کھرچ لے اور پانی سے دھو لے، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب غسل دم المحیض، حدیث: 307
📖 صحیح مسلم، حدیث: 291

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/307/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/291/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ منی کپڑے کو لگ جائے تو اگر منی تر ہے تو اسے پانی سے دھویا جائے گا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ»

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سے منی دھوتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھانے کے لیے چلے جاتے تھے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب حكم المني، حدیث: 289

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/289/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ منی لگ کر خشک ہو گئی تو اسے کھرچ کر صاف کر دینے سے وہ پاک ہو جائے گا، اسے دھونا ضروری نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے خشک منی کو ناخن سے کھرچ کر اتار دیا کرتی تھی۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب حكم المني، حدیث: 290

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/290/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ مذی کپڑے کو لگی ہو تو اس پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ»

”تجھے بس اتنا ہی کافی ہے کہ پانی کا ایک چلو لے کر کپڑے میں جہاں مذی لگی ہے، اس پر چھینٹے مار دے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطهارة، باب في المذي، حدیث: 210 — صحیح
📖 جامع الترمذی، حدیث: 115 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/210/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ زمین پر مصلی، صف یا قالین وغیرہ بچھا ہوا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ جوتے میں غلاظت لگی ہو تو اسے زمین پر رگڑ کر صاف کر دیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ»

”تم میں سے کسی کے جوتے کو نجاست لگ جائے تو اس کی طہارت مٹی پر رگڑ کر ہوگی۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطهارة، باب في الأذى يصيب النعل، حدیث: 385 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/385/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ دھونے کے بعد بدن یا کپڑا گیلا ہے اور دھونے کا نشان باقی ہے تو کوئی حرج نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

«كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ ﷺ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ»

”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت، یعنی منی، کو دھوتی، پھر آپ نماز کے لیے چلے جاتے اور آپ کے کپڑے میں پانی کے نشان باقی ہوتے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب غسل المني وفركه، حدیث: 229، 230
📖 صحیح مسلم، حدیث: 289

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/229/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/230/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/289/

━━━━━━━━━━━━━━━

➤ طہارت کا یہ طریقہ مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔

17 📘 فطری طہارت کے مسائل

فطری طہارت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ»

”پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کاٹنا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب قص الشارب، حدیث: 5889
📖 صحیح مسلم، حدیث: 257

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5889/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/257/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ چالیس دنوں میں ایک دفعہ یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ہمارے لیے مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیرِ ناف بال مونڈنے کا وقت مقرر کیا گیا کہ ہم انھیں چالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، حدیث: 258

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/258/

━━━━━━━━━━━━━━━

❀ نو مسلم کے بال کاٹے جائیں گے اور ختنہ کیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو مسلم سے فرمایا:

«أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ»

”اپنے دورِ کفر کے بال کاٹ اور ختنہ کرا۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطهارة، باب الرجل يسلم فيؤمر بالغسل، حدیث: 355، 356 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/355/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/356/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جگہ کی طہارت کا بیان

❀ عام زمین ان اشیا کے لگنے سے ناپاک ہو جاتی ہے جن سے بدن اور کپڑا ناپاک ہوتا ہے۔ اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ پانی بہا دیا جائے، تاکہ نجاست کا اثر ختم ہو جائے، تو زمین پاک ہو جاتی ہے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دیہاتی مسجدِ نبوی میں آ کر پیشاب کرنے لگا، لوگ اسے ڈانٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اسے چھوڑ دو، یعنی پیشاب کر لینے دو۔“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دینے کا حکم دیا اور صحابہ سے فرمایا:

”تمھیں آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، تنگی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب صب الماء على البول في المسجد، حدیث: 220
📖 صحیح مسلم، حدیث: 284

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/220/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/284/

❀ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط جگہ پیشاب کر رہا ہو تو اسے اسی وقت روکنا نہیں چاہیے، بلکہ اسے پیشاب کر لینے دینا چاہیے اور بعد میں احسن طریقے سے سمجھا دینا چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جن مقامات پر نماز پڑھنا جائز نہیں

❀ مزار اور ہر وہ جگہ جہاں لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، یعنی ان کے نام کی نذریں مانتے، چڑھاوے چڑھاتے اور سجدہ کرتے ہیں، وہاں اللہ کی عبادت کرنا جائز نہیں۔

❀ قبرستان میں بھی نماز پڑھنا جائز نہیں اور جہاں ایک ہی قبر ہو وہاں بھی نماز وغیرہ جائز نہیں، کیونکہ وہاں نماز پڑھنے سے مشرکوں سے مشابہت ہوتی ہے۔

❀ فرمانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

«لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا»

”قبروں پر، مجاور بن کر، نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة عليه، حدیث: 972

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/972/

❀ قبرستان میں اس وقت تک نماز نہیں پڑھی جا سکتی جب تک وہاں قبریں موجود ہیں۔

❀ اگر قبریں ختم کر دی جائیں تو وہاں مسجد بنائی جا سکتی ہے اور نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبریں ختم کر کے ہی مسجدِ نبوی تعمیر فرمائی تھی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية، حدیث: 428
📖 صحیح مسلم، حدیث: 524

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/428/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/524/

❀ مندرجہ بالا مقامات کے علاوہ کچھ مقامات اور ہیں جہاں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
(اس کی تفصیل آگے ”مساجد کا بیان“ میں ان شاء اللہ)۔

18 📘 نماز میں لباس کے احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

لباس انسان کی خصوصیت اور امتیاز ہے۔

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا، جو تمھاری ستر پوشی اور زینت کا باعث ہے اور تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔“

📖 سورۃ الأعراف: 26
🔗 https://tohed.com/tafsir/7/26/

❀ اسلام چونکہ تمام دنیا کا دین ہے اور اس کو ماننے والے مختلف علاقوں کے لوگ ہیں، اس لیے اسلام نے مسلمان کو کوئی خاص لباس نہیں دیا، تاکہ کہیں مسلمانوں کے لیے کوئی مشکل نہ ہو، بلکہ کچھ شروط بیان کر دی ہیں۔ جس لباس میں وہ شروط پوری ہوں گی وہ اسلامی لباس کہلائے گا۔ لہٰذا مسلمانوں کو لباس میں ان شروط کا خیال رکھنا چاہیے۔

اسلامی لباس کی شرائط:

❀ اسلامی لباس کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں:

➊ کپڑا اتنا موٹا ہو کہ اس سے جسم نظر نہ آئے۔

➋ اتنا تنگ سلا ہوا نہ ہو کہ اعضا کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب النساء الكاسيات العاريات المائلات المميلات، حدیث: 2128
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2128/

➌ کفار کے لباس کے مشابہ نہ ہو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر، حدیث: 2077
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2077/

➍ ایسا لباس نہ ہو جو بری شہرت کا باعث بن جائے۔

📖 سنن ابو داود، كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة، حدیث: 4029
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4029/

📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 3607 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3607/

➎ یہ اسلامی لباس کی عمومی شرائط تھیں، اب ہم وہ شرائط پیش کرتے ہیں جو مرد یا عورت کے لیے خاص ہیں۔

19 📘 مرد اور عورت کے لباس کے احکام

مرد کا لباس:

❀ مرد کا لباس ریشم کا نہ ہو، ہاں اگر کپڑے کی سلائی یا کڑھائی ریشم کی ہو تو جائز ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب لبس الحرير للرجال وقدر ما يجوز منه، حدیث: 5828
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5828/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 2069/15
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2069/

❀ زعفرانی یعنی زرد رنگ کا لباس نہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب النهي عن التزعفر للرجال، حدیث: 5846
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5846/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 2077
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2077/

❀ نصف پنڈلی سے نیچے اور ٹخنوں سے اوپر تک ہو۔

📖 صحیح البخاری، كتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار، حدیث: 5787
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5787/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 2086
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2086/

❀ مرد کا لباس عورت کے لباس سے مشابہ نہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب المتشبهين والمتشبهات بالرجال، حدیث: 5885
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5885/

عورت کا لباس:

❀ عورت کا لباس مرد کے لباس سے مشابہ نہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب المتشبهين والمتشبهات بالرجال، حدیث: 5885
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5885/

❀ پورے جسم کو چھپانے والا ہو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب النساء الكاسيات العاريات المائلات المميلات، حدیث: 2128
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2128/

❀ عورت گھر سے باہر نکلے تو سر سے پاؤں تک چھپی ہوئی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المرأة عورة

”عورت پوری کی پوری عورہ یعنی چھپانے کے لائق ہے۔“

📖 سنن ترمذی، کتاب الرضاع، باب استشراف الشيطان المرأة إذا خرجت، حدیث: 1173 — صحیح

❀ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:

فكيف يصنع النساء بذيولهن؟ قال: يرخين شبرا، فقالت: إذا تنكشف أقدامهن؟ قال: فيرخينه ذراعا

”عورتیں اپنی اوڑھنی کتنی نیچے لٹکائیں؟“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ایک بالشت لٹکا لیں۔“

انھوں نے عرض کیا:

”تب ان کے پاؤں ننگے ہوں گے؟“

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”پھر وہ ایک ہاتھ تک نیچے لٹکا لیں۔“

📖 سنن ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء في جر ذيول النساء، حدیث: 1731 — صحیح

❀ عورت کا لباس اتنا خوبصورت نہ ہو کہ وہ غیر محرم کی توجہ کا مرکز بن جائے۔

📖 سورۃ النور: 31
🔗 https://tohed.com/tafsir/24/31/

❀ عورت جسم یا لباس پر ایسی خوشبو نہ لگائے جس کی مہک مردوں تک پہنچے۔

📖 سنن نسائی، كتاب الزينة، باب ما يكره للنساء من الطيب، حدیث: 5129 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/5129/

❀ عورت کی کسی بھی چیز سے زینت کا اظہار نہ ہو۔

📖 سورۃ النور: 31

❀ عورت کی زینت کی دو اقسام ہیں: ظاہری زینت اور باطنی زینت۔

ظاہری زینت:
ظاہری زینت میں عورت کی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں اور کپڑوں کی خوبصورتی آتی ہے۔ ان میں سے کوئی چیز غیر محرم کے سامنے ظاہر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن ان کے سامنے بھی ظاہر نہ ہو تو اچھا ہے۔

باطنی زینت:
باطنی زینت میں سر، چہرہ، گردن، بازو، پنڈلیاں اور خوشبو وغیرہ آتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز خاوند اور محرم کے علاوہ کسی کے سامنے ہرگز ظاہر نہیں ہونی چاہیے۔

20 📘 نمازی کا لباس

❀ لباس نماز کے لیے شرط ہے، نماز ادا کرتے ہوئے مرد و عورت کو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے، ورنہ نماز نہیں ہو گی۔

❀ نمازی کو نماز کے دوران میں لباس کے اوپر والے اصولوں کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل اصولوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے:

➊ اپنی استطاعت کے مطابق لباس صاف ستھرا اور اچھا ہو۔

ارشادِ رب العالمین ہے:

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

📖 سورۃ الأعراف: 31
🔗 https://tohed.com/tafsir/7/31/

”اے آدم کی اولاد! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو، یعنی پورا لباس پہنو۔“

لہٰذا نماز کے لیے اچھا اور مکمل لباس پہن کر آنا چاہیے، پھٹا پرانا، میلا کچیلا یا سونے والا لباس پہن کر آنا غیر مناسب ہے۔

نافع تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جسے میں چارہ کاٹنے کے لیے استعمال کرتا تھا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

کیا میں نے تمھیں کپڑے خرید کر نہیں دیے؟ اگر میں تمھیں اسی حالت میں کہیں بازار وغیرہ کی طرف بھیجوں تو تو چلا جائے گا؟

نافع کہتے ہیں کہ میں نے کہا: نہیں!

پھر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے۔“

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 236/2، حدیث: 3273 — إسناده صحیح

➋ لباس اتنا خوبصورت نہ ہو کہ نماز میں اس کی طرف خیال رہے، بلکہ سادہ ہونا چاہیے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوبصورت کپڑے میں نماز پڑھی، فارغ ہوئے تو اسے اتارتے ہوئے فرمایا:

اذهبوا بحميصتي هذه إلى أبى جهم وائتوني بألبحانية أبى جهم، فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي

”میری یہ خوبصورت چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور اس سے انجانیہ والی سادہ چادر لے آؤ، اس نے تو مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الصلاة، باب إذا صلي في ثوب له أعلام، حدیث: 373
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/373/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 556
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/556/

اسی طرح مصلی بھی سادہ ہونا چاہیے اور سامنے بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جس کی طرف نماز میں خیال جانے کا خدشہ ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب إن صلى في ثوب مصلب أو تصاوير، حدیث: 374
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/374/

➌ کپڑا سمیٹا ہوا نہ ہو، یعنی کف یا شلوار وغیرہ کے پانچے اور کمر موڑے ہوئے نہ ہوں۔

❀ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

أمرت أن أسجد على سبعة، لا أكف شعرا ولا ثوبا

”مجھے سات اعضا پر اس طرح سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے کہ نہ میں بال باندھوں اور نہ کپڑے سمیٹوں۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الأذان، باب لا يكف ثوبه في الصلاة، حدیث: 816
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/816/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 490
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/490/

بعض لوگ وضو کر کے آتے ہیں تو ان کے کف اوپر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ اسی حالت میں نماز شروع کر دیتے ہیں، یہ درست نہیں۔

➍ صرف ایک لمبا قمیص پہنا ہو تو نماز پڑھتے ہوئے گریبان بند کر لینا چاہیے، تاکہ رکوع وغیرہ کرتے ہوئے شرمگاہ پر نظر نہ پڑے۔

📖 سنن ابو داود، كتاب الصلاة، باب الرجل يصلي في قميص واحد، حدیث: 632
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/632/

📖 سنن نسائی، حدیث: 766 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/766/

➎ کپڑا کم ہو تو صرف ناف بند باندھ کر ستر ڈھانک لے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب إذا كان الثوب ضيقا، حدیث: 361
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/361/

❀ اب ہم ان باتوں کا ذکر کریں گے جو نماز میں لباس کے حوالے سے مرد یا عورت کے ساتھ خاص ہیں۔ لہٰذا اوپر والے احکام کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل باتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

نماز کے لیے مرد کا لباس:

❀ مرد کے لیے نماز میں ستر کا ڈھانپنا ضروری ہے، مرد کے ستر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ما بين السرة والركبة عورة

”ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ ستر ہے۔“

📖 إرواء الغليل: 271 — حسن
📖 مسند أحمد: 187/2، حدیث: 6756

❀ اس کے علاوہ مرد کے لیے کندھے پر کپڑا رکھنا ضروری ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا يصلي أحدكم فى الثوب الواحد ليس على عاتقيه شيء

”کوئی مرد اس حالت میں ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑا نہ ہو۔“

📖 صحیح البخاری، كتاب الصلاة، باب إذا صلى في الثوب الواحد فليجعل على عاتقيه، حدیث: 359
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/359/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 516
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/516/

مرد کے لیے نماز میں اور نماز کے علاوہ کسی حالت میں بھی اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار، حدیث: 5787
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5787/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 2087
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2087/

❀ چہرہ ننگا ہو۔

📖 مصنف ابن أبي شيبة: 242/2 — إسناده صحیح

❀ نماز میں سدل جائز نہیں۔

سدل یہ ہے کہ کوئی کپڑا سر یا کندھوں پر اس طرح ڈالا جائے کہ اس کے دونوں کنارے چہرے کے سامنے لٹک رہے ہوں۔

سدل سے متعلق ابو داؤد کی مرفوع حدیث اگرچہ الحسن بن ذکوان کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سیدنا علی اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ دونوں بزرگ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے اور اسے یہود کی علامت قرار دیتے تھے۔

📖 مصنف ابن أبي شيبة: 160، 161/2 — إسناده صحیح

21 📘 ننگے سر نماز پڑھنے کا مسئلہ

سر نہ تو اعضائے ستر میں شامل ہے اور نہ کوئی ایسی صحیح و قابلِ عمل حدیث ہے کہ اس میں سر ڈھانپنا ضروری قرار دیا گیا ہو، بلکہ کوئی ایسی حدیث بھی نہیں جس میں سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کو ننگے سر نماز پڑھنے سے افضل قرار دیا گیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دونوں طرح نماز پڑھنا ثابت ہے، لہٰذا ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے۔
علمائے احناف کے فتاویٰ:
➊ ننگے سر نماز پڑھنے سے متعلق بریلوی مکتبِ فکر کے بانی مولوی احمد رضا خان لکھتے ہیں:
”اگر بانیتِ عاجزی ننگے سر نماز پڑھتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔“
📖 احکامِ شریعت: 54/1
➋ پانچ سو 500 حنفی علماء کی مرتب کردہ کتاب فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے:
”ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے جب کہ اس کے پاس عمامہ بھی موجود ہو اور اس نے سستی کرتے ہوئے اور عمامہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ننگے سر نماز پڑھی ہو، اور اگر وہ خشوع و خضوع کے لیے ننگے سر نماز پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔“
علامہ ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ کا اظہارِ تعجب:
❀ دستار و عمامہ یا ٹوپی و پگڑی پر اتنی شدت کے ساتھ عمل کرنے والے لوگوں کی ایک بات انتہائی قابلِ تعجب ہے کہ وہ داڑھی مونڈنے یا منڈوانے کا گناہ تو مسلسل کرتے چلے جاتے ہیں اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انھیں اپنے اس گناہ کے ارتکاب کا شعور تک نہیں ہوتا اور نہ وہ اس سے اپنی نماز میں کوئی کمی محسوس کرتے ہیں، لیکن ٹوپی یا پگڑی کے معاملہ میں سستی ہرگز نہیں کرتے۔
اس طرح ان لوگوں نے شریعت کے احکام کو الٹ کر رکھ دیا ہے کہ جو چیز اللہ کی طرف سے حرام تھی اسے جائز کر لیا اور جو محض جائز تھی اسے واجب یا قریبِ واجب کر لیا ہے۔
📖 سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة، حدیث: 129
━━━━━━━━━━━━━━━
📘 نماز کے لیے عورت کا لباس
❀ دوپٹے کے بغیر عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار
”اللہ تعالیٰ دوپٹے کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں کرتا۔“
📖 سنن ابو داود، كتاب الصلاة، باب المرأة تصلي بغير خمار، حدیث: 641
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/641/
📖 سنن ترمذی، حدیث: 377 — صحیح
📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 655
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/655/
❀ سو عورت کو نماز میں پورا جسم ڈھانپنا چاہیے، سوائے چہرہ اور ہاتھ کے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی شخص کو دیکھتے کہ اس نے نماز میں اپنا منہ ڈھانپ رکھا ہے تو وہ زور سے کپڑا کھینچ کر اس کا منہ ننگا کر دیتے تھے۔
📖 مصنف ابن أبي شيبة: 242/2 — إسناده صحیح
اسی طرح تابعین میں سے مسلم بن بدیل، ابراہیم نخعی، امام شعبی اور محمد بن سیرین رحمہم اللہ وغیرہ بھی نماز میں منہ ڈھانپنا ناپسند کرتے تھے۔
📖 مصنف ابن أبي شيبة: 242/2 — بالأسانيد الحسنة والصحيحة
❀ اگر غیر محرم مرد پاس ہیں تو چہرہ اور ہاتھ چھپانا بھی لازمی ہے۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حالتِ احرام میں اپنے چہروں کو غیر محرم مردوں سے چھپاتی تھیں۔
📖 صحیح ابن خزيمة، حدیث: 2485 — إسناده صحیح
📖 مستدرك حاكم: 454/1، حدیث: 1668 — إسناده صحیح
❀ عورتوں کو عام حالت میں اور بالخصوص نماز میں اپنے بال سر پر باندھنے سے منع کیا گیا ہے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب لا يكف شعرا، حدیث: 815
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/815/
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1095
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1095/