1 📘 صلوٰۃُ الرغائب — حقیقت، حکم اور ائمہ کا موقف
صلوٰۃُ الرغائب ایک خود ساختہ نماز ہے جو بعض لوگ ماہِ رجب کے پہلے جمعہ کی رات
(جمعرات اور جمعہ کے درمیان) مغرب و عشاء کے مابین ادا کرتے ہیں۔
اسے امام غزالی وغیرہ کی طرف منسوب کر کے 12 رکعت کہا جاتا ہے، ہر دو رکعت پر سلام، اور ہر رکعت میں:
➊ سورۃ الفاتحہ ایک مرتبہ
➋ سورۃ القدر تین مرتبہ
➌ سورۃ الاخلاص بارہ مرتبہ
پھر مخصوص اذکار، درود اور سجدوں کی پابندی بتائی جاتی ہے۔
📖 (الابداع في مضار الابتداع، على احياء علوم الدين)
امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
یہ نماز قطعاً بے ثبوت ہے۔
📖 (البداية والنهاية)
ائمہ و محدثین کی تصریحات
علامہ عراقیؒ: احیاء علوم الدین کی تخریج میں اس نماز والی روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا۔
📖 (تخريج احياء علوم الدين)
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ:
نبی ﷺ، صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہ سلفؒ میں سے کسی سے بھی اس نماز کا ثبوت نہیں،
اور رجب کی پہلی جمعہ رات کی کوئی فضیلت صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
📖 (الابداع)
فقہائے احناف — رد المحتار میں لکھا ہے:
قد حدثت بعد أربع مائة وثمانين من الهجرة… ولا يغتر بكثرة الفاعلين لها
ترجمہ: یہ نماز 480ھ کے بعد ایجاد ہوئی، علماء نے اس کے رد میں کتابیں لکھیں،
اور مختلف شہروں میں اسے پڑھنے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔
اسی بنا پر اہلِ علم نے اس نماز کے لیے اجتماع سے منع کیا ہے،
اگرچہ بذاتِ خود نماز نیکی ہے، مگر اس خاص رات اور خاص کیفیت کے ساتھ ثابت نہیں۔
حافظ ابن الجوزیؒ:
فلا تصح، وسندها موضوع وباطل
ترجمہ: یہ روایت صحیح نہیں، بلکہ اس کی سند من گھڑت اور باطل ہے۔
📖 (الابداع)
امام نوویؒ — المجموع شرح المهذب:
رجب کی صلوٰۃ الرغائب اور پندرہ شعبان کی مخصوص نماز
منکر ترین بدعات میں سے ہیں؛
قوت القلوب یا احیاء علوم الدین میں ذکر آ جانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے۔
امام طرطوسیؒ:
بیت المقدس میں نہ رجب کی صلوٰۃ الرغائب معروف تھی اور نہ شعبان کی مخصوص نماز؛
یہ سب بعد میں ایجاد کی گئیں۔
📖 (الابداع)
📌 خلاصہ:
صلوٰۃ الرغائب نامی نماز
❌ قرآن سے ثابت نہیں
❌ سنتِ رسول ﷺ سے ثابت نہیں
❌ صحابہؓ و تابعینؒ سے ثابت نہیں
❌ ائمہ سلفؒ کے نزدیک بدعتِ منکرہ ہے
دین میں ثواب کے نام پر نئی عبادت ایجاد کرنا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر قائم اور بدعات سے محفوظ رکھے۔ آمین