واٹساپ دعوتی مواد ماہ رجب کی بدعات

ماہ رجب کی بدعات

6 پیغامات

1 📘 صلوٰۃُ الرغائب — حقیقت، حکم اور ائمہ کا موقف

صلوٰۃُ الرغائب ایک خود ساختہ نماز ہے جو بعض لوگ ماہِ رجب کے پہلے جمعہ کی رات
(جمعرات اور جمعہ کے درمیان) مغرب و عشاء کے مابین ادا کرتے ہیں۔

اسے امام غزالی وغیرہ کی طرف منسوب کر کے 12 رکعت کہا جاتا ہے، ہر دو رکعت پر سلام، اور ہر رکعت میں:

➊ سورۃ الفاتحہ ایک مرتبہ
➋ سورۃ القدر تین مرتبہ
➌ سورۃ الاخلاص بارہ مرتبہ

پھر مخصوص اذکار، درود اور سجدوں کی پابندی بتائی جاتی ہے۔
📖 (الابداع في مضار الابتداع، على احياء علوم الدين)

امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

یہ نماز قطعاً بے ثبوت ہے۔
📖 (البداية والنهاية)

ائمہ و محدثین کی تصریحات

علامہ عراقیؒ: احیاء علوم الدین کی تخریج میں اس نماز والی روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا۔
📖 (تخريج احياء علوم الدين)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ:

نبی ﷺ، صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہ سلفؒ میں سے کسی سے بھی اس نماز کا ثبوت نہیں،
اور رجب کی پہلی جمعہ رات کی کوئی فضیلت صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
📖 (الابداع)

فقہائے احناف — رد المحتار میں لکھا ہے:

قد حدثت بعد أربع مائة وثمانين من الهجرة… ولا يغتر بكثرة الفاعلين لها
ترجمہ: یہ نماز 480ھ کے بعد ایجاد ہوئی، علماء نے اس کے رد میں کتابیں لکھیں،
اور مختلف شہروں میں اسے پڑھنے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔

اسی بنا پر اہلِ علم نے اس نماز کے لیے اجتماع سے منع کیا ہے،
اگرچہ بذاتِ خود نماز نیکی ہے، مگر اس خاص رات اور خاص کیفیت کے ساتھ ثابت نہیں۔

حافظ ابن الجوزیؒ:
فلا تصح، وسندها موضوع وباطل
ترجمہ: یہ روایت صحیح نہیں، بلکہ اس کی سند من گھڑت اور باطل ہے۔
📖 (الابداع)

امام نوویؒ — المجموع شرح المهذب:

رجب کی صلوٰۃ الرغائب اور پندرہ شعبان کی مخصوص نماز
منکر ترین بدعات میں سے ہیں؛
قوت القلوب یا احیاء علوم الدین میں ذکر آ جانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے۔

امام طرطوسیؒ:

بیت المقدس میں نہ رجب کی صلوٰۃ الرغائب معروف تھی اور نہ شعبان کی مخصوص نماز؛
یہ سب بعد میں ایجاد کی گئیں۔
📖 (الابداع)

📌 خلاصہ:

صلوٰۃ الرغائب نامی نماز

❌ قرآن سے ثابت نہیں
❌ سنتِ رسول ﷺ سے ثابت نہیں
❌ صحابہؓ و تابعینؒ سے ثابت نہیں
❌ ائمہ سلفؒ کے نزدیک بدعتِ منکرہ ہے

دین میں ثواب کے نام پر نئی عبادت ایجاد کرنا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر قائم اور بدعات سے محفوظ رکھے۔ آمین

2 📘 ماہِ رجب کے روزے — سنت یا بدعت؟

نیکی اور ثواب کا معیار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق ہے۔
کوئی عمل بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے، قبولیت اسی وقت ہے جب وہ
کتاب و سنت اور عملِ صحابہؓ سے ثابت ہو۔

ایسا عمل جس کا موقع نبی ﷺ کے زمانے میں موجود تھا،
کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی،
پھر بھی نہ نبی ﷺ نے کیا،
نہ صحابہؓ نے،
نہ قرونِ خیر میں اس پر عمل ہوا —
تو ایسے عمل میں اجر کی امید رکھنا عبث ہے۔

📌 اصولی مثال

قرآن کی تلاوت عظیم اجر کا کام ہے:

«مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ حَسَنَةٌ…»
ترجمہ:
جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا۔
(ترمذی، دارمی)

اور سجدہ قربِ الٰہی کا مقام ہے:

«أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ»
ترجمہ:
بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ میں ہوتا ہے۔
(مسلم)

لیکن اس کے باوجود سجدہ میں قرآن پڑھنا منع ہے:

«أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا»
ترجمہ:
مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
(مسلم)

👉 معلوم ہوا کہ نیکی کا کام بھی اپنی جگہ اور طریقے کے بغیر بدعت بن جاتا ہے۔

📘 ماہِ رجب کے مخصوص روزے

ماہِ رجب میں بعض لوگ
“معراج روزہ، مریم روزہ، ہزاری روزہ، لکھی روزہ”
جیسے ناموں سے خود ساختہ روزے رکھتے ہیں۔

یہ روزے:
❌ نبی ﷺ سے ثابت نہیں
❌ صحابہؓ سے ثابت نہیں
❌ ائمہ و سلفؒ سے ثابت نہیں

ایک روایت میں آیا ہے:

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ»
ترجمہ:
نبی ﷺ نے رجب کے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔
(ابن ماجہ — سند ضعیف)

لیکن اس مفہوم کی صحیح تائید حضرت عمرؓ کے عمل سے ہوتی ہے:

حضرت عمر فاروقؓ رجب میں لوگوں کو روزہ رکھتے دیکھتے تو
ان کے سامنے کھانا رکھ کر کوڑا مارتے اور فرماتے:

«كُلُوا فَإِنَّهُ شَهْرٌ كَانَتْ تُعَظِّمُهُ الْجَاهِلِيَّةُ»
ترجمہ:
کھاؤ! اس مہینے کی ایسی تعظیم تو جاہلیت کا طریقہ تھا۔
(ارواء الغلیل)

📌 درست بات

اگر کوئی شخص صومِ داودی رکھتا ہے،
یا ایامِ بیض (13،14،15) کے روزے رکھتا ہے،
یا پیر و جمعرات کے روزے رکھتا ہے —
تو وہ جائز اور مسنون ہیں، چاہے رجب ہو یا کوئی اور مہینہ۔

لیکن رجب کے نام سے خاص روزے گھڑ لینا
اور انہیں ثواب کا ذریعہ سمجھنا بدعت ہے۔

3 📘 ستائیس رجب شبِ معراج نہیں — علمی و تاریخی حقیقت

رجب کے روزوں اور خود ساختہ صلوٰۃُ الرغائب کی طرح ہی
بعض لوگ ماہِ رجب کی 27 تاریخ کو شبِ معراج سمجھ کر
جشن، چراغاں اور خود ساختہ عبادات کرتے ہیں۔

کسی عمل کی شرعی حیثیت متعین کرنے سے پہلے
یہ طے کرنا ضروری ہے کہ شبِ معراج کی تعیین واقعی ثابت ہے یا نہیں۔

📌 امام ابن کثیرؒ کی تحقیق

مشہور مؤرخ، مفسر اور محدث امام ابن کثیرؒ
البداية والنهاية میں واقعۂ اسراء و معراج بیان کرنے سے پہلے
متعدد اقوال نقل کرتے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ:

🔹 معراج کے مہینے پر بھی علماءِ تاریخ کا اتفاق نہیں
چہ جائیکہ کسی مخصوص تاریخ (27 رجب) پر!

🔹 حوالہ:
البداية والنهاية لابن كثير
جلد: 3، حصہ: 2، ص: 108–109

📖 امام زہریؒ اور عروہؒ کا قول

أسري برسول الله ﷺ قبل خروجه إلى المدينة بسنة

ترجمہ:
نبی کریم ﷺ کو ہجرتِ مدینہ سے ایک سال پہلے سفرِ معراج کرایا گیا۔

🔹 نتیجہ:
اس قول کے مطابق ماہِ معراج ربیع الاول بنتا ہے، رجب نہیں۔

🔹 حوالہ:
البداية والنهاية لابن كثير
جلد: 3، حصہ: 2، ص: 108

📖 حضرت سُدّیؒ (بحوالہ امام حاکمؒ)

ليلة أُسري به قبل مهاجرته بستة عشر شهراً

ترجمہ:
نبی کریم ﷺ کو ہجرت سے سولہ ماہ قبل معراج کرائی گئی۔

🔹 نتیجہ:
اس حساب سے ماہِ معراج ذوالقعدہ بنتا ہے۔

🔹 حوالہ:
البداية والنهاية لابن كثير
جلد: 3، حصہ: 2، ص: 108–109

📖 ایک اثر (حضرت جابرؓ و ابن عباسؓ)

وُلِدَ رسولُ الله ﷺ عامَ الفيل يومَ الاثنين الثاني عشر من ربيع الأول
وفيه بُعِث، وفيه عُرِجَ به إلى السماء، وفيه هاجر، وفيه مات

ترجمہ:
نبی کریم ﷺ عام الفیل، پیر کے دن، بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے،
اسی دن آپ ﷺ کی بعثت ہوئی،
اسی دن آپ ﷺ کو آسمان کی طرف معراج کرائی گئی،
اسی دن آپ ﷺ نے ہجرت کی،
اور اسی دن آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔

🔹 تنبیہ:
یہ اثر سند کے اعتبار سے منقطع ہے،
اسی لیے امام ابن کثیرؒ کے نزدیک قابلِ استدلال نہیں۔

🔹 حوالہ:
مصنف ابن أبي شيبة
بحوالہ: البداية والنهاية لابن كثير
جلد: 3، حصہ: 2، ص: 108–109

📌 دیگر اقوال

علماءِ تاریخ و سیر کی کتب میں
معراج کے متعلق درج ذیل مہینوں کے اقوال بھی ملتے ہیں:

➊ ربیع الاول
➋ ربیع الثانی
➌ رجب
➍ شوال
➎ ذوالقعدہ

🔹 نتیجہ:
جب ماہِ معراج ہی متفق علیہ نہیں
تو 27 رجب کو یقینی شبِ معراج کہنا
علمی و حدیثی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔

📌 حکمتِ الٰہی

یہ بات حکمتِ الٰہی سے خالی نہیں کہ
ماہ اور تاریخِ معراج پر اتفاق نہ ہو سکا
تاکہ لوگ کسی غیر متعین تاریخ پر
بدعات، جشن اور خود ساختہ عبادات ایجاد نہ کریں۔

اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو
تمام مؤرخین و محدثین کا
ایک تاریخ پر اتفاق ہو جانا
اس کے لیے ہرگز مشکل نہ تھا۔

📌 حتمی خلاصہ

❌ 27 رجب کا شبِ معراج ہونا ثابت نہیں
❌ اس رات کا جشن، چراغاں اور خاص عبادات بے اصل ہیں
✔ واقعۂ اسراء و معراج برحق ہے
❌ مگر اس کی تاریخ و رات متعین نہیں

اللہ تعالیٰ ہمیں
حق بات سمجھنے
اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

4 📘 ماہِ رجب کے کونڈے وغیرہ — بدعت و خرافات

ماہِ رجب میں حضرت امام جعفر صادقؒ کے نام کا حلوہ تقسیم کیا جاتا ہے جو
“رجب کے کونڈوں” کی صورت میں ایک خود ساختہ عبادت بن چکا ہے۔

اسی مہینے میں:
🔹 حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ولادت کی رات کے نام پر مجالس قائم کی جاتی ہیں
🔹 شیخ جیلانیؒ کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں
🔹 اسی طرح خواجہ غریب نواز، خواجہ بندہ نواز، میراں داتا وغیرہ کے نام پر بھی ذبائح پیش کیے جاتے ہیں

ان مجالس میں:
➊ مرد و عورت کا اختلاط
➋ ڈھول، طبلے اور موسیقی
➌ عَلَم اٹھانا
➍ دیگر کئی منکرات

پائے جاتے ہیں، جن کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ افعال نہ صرف شریعت کے خلاف ہیں بلکہ سلیم الفطرت انسان بھی انہیں گوارا نہیں کر سکتا۔

برصغیر میں یہ خرافات سال بھر جاری رہتی ہیں،
جبکہ مصر میں بدوی، رفاعی، دسوقی
عدن میں عدسی
اور یمن میں زیلعی کے نام پر اسی نوعیت کی بدعات رائج ہیں۔

تمام محقق علماءِ اسلام اور اہلِ بصیرت
ان اعمال کے بدعت اور ضلالت ہونے پر متفق ہیں۔

5 📘 بی بی کی صحنک، رجبی وغیرہ — خود ساختہ نیازیں

بعض لوگ ماہِ رجب میں
حضرت بی بی فاطمہ الزہراءؓ کے نام پر “صحنک” تیار کرتے ہیں،
اور اس میں عجیب و غریب شرطیں لگاتے ہیں، مثلاً:


مرد نہ کھائیں
کنیز نہ کھائے
جس عورت نے دوسرا نکاح کیا ہو وہ نہ کھائے
نیچ قوم یا بدکار عورت نہ کھائے
فلاں فلاں ترکاری لازمی ہو
مہندی ضرور ہو

اسی طرح بعض لوگ “رجبی” مناتے ہیں۔

📌 ان تمام امور کی:

◈ قرآن میں کوئی دلیل ہے
◈ نہ حدیث میں
◈نہ صحابہؓ کے عمل میں

بلکہ یہ سب:
🔹 خود ساختہ بدعات
🔹 غیر اللہ کی نیازیں
🔹 اور خالص برصغیر کی ایجاد ہیں۔

📌 نتیجہ:
یہ سب اعمال دین کا حصہ نہیں بلکہ
بدعت، خرافات اور ضلالت ہیں،
جن سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں
سنتِ نبوی ﷺ پر قائم
اور بدعات سے محفوظ رکھے۔
آمین

6 📘 کسی بزرگ یا ولی کے نام کی نذر و نیاز — حرام اور شرک

نذر و نیاز عبادت ہے اور اسلام میں عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔

کسی بزرگ، ولی یا صاحبِ قبر کے نام پر نذر ماننا، چڑھاوے چڑھانا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ مشکل کشائی کرے گا یا سفارش کرے گا، شرک فی العبادت ہے اور حرام ہے۔

📖 قرآنِ مجید کی واضح نصوص

➊ غیر اللہ کے نام پر حصہ مقرر کرنا — مذموم عمل

﴿وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا…﴾

ترجمہ:

انہوں نے اللہ کے لیے بھی اس میں سے حصہ مقرر کیا جو اللہ نے کھیتوں اور مویشیوں میں پیدا کیا…

https://tohed.com/tafsir/6/136

🔹 حوالہ: الأنعام 6:136

یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کا حصہ غیر اللہ کے لیے کرنا باطل اور گمراہ کن عمل ہے۔

➋ غیر اللہ کے نام پر ذبح/نذر — حرام

﴿وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ﴾

ترجمہ:

اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو (حرام ہے)۔

https://tohed.com/tafsir/2/173

🔹 حوالہ: البقرة 2:173

📜 سنتِ نبوی ﷺ سے شرعی اصول

سیدنا ثابت بن ضحاکؓ کی روایت:

نَذَرَ رَجُلٌ… فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ:

هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ؟

هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟

قَالَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

ترجمہ:

ایک شخص نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ نبی ﷺ نے پوچھا:

کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت پوجا جاتا تھا؟

کیا وہاں ان کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟

جب جواب نفی میں ملا تو فرمایا: نذر پوری کرو، کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں ہوتی۔

https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3313

🔹 حوالہ: سنن أبي داود: 3313، المعجم الكبير للطبراني (وسندہ صحیح)

اسی مفہوم کی روایت سیدنا كردم بن سفیانؓ سے:

هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟

https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3315

🔹 حوالہ: سنن أبي داود: 3315 (وسندہ حسن)

سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاصؓ سے روایت:

إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانٍ…

قَالَ: لِصَنَمٍ؟ قَالَتْ: لَا

قَالَ: لِوَثَنٍ؟ قَالَتْ: لَا

قَالَ: أَوْفِي بِنَذْرِكِ

ترجمہ:

ایک صحابیہ نے عرض کیا کہ میں نے فلاں جگہ نذر مانی ہے جہاں اہلِ جاہلیت ذبح کرتے تھے۔

نبی ﷺ نے پوچھا: کیا بت کے لیے؟ کہا: نہیں۔

کیا مورتی کے لیے؟ کہا: نہیں۔

فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔

https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3312

🔹 حوالہ: سنن أبي داود: 3312 (وسندہ حسن)

📌 نبوی ضابطہ (واضح اصول)

نبی ﷺ نے نذر کے بارے میں دو سوالات قائم کیے:

➊ کیا وہاں غیر اللہ کی عبادت ہوتی ہے؟

➋ کیا وہاں مشرکوں کا کوئی میلہ/تہوار لگتا ہے؟

📌 اگر ان میں سے کسی ایک کا جواب ہاں ہو →

نذر پوری کرنا جائز نہیں

یہ شرک اور معصیت کا ذریعہ بن جاتی ہے

📌 حتمی نتیجہ

نذر و نیاز عبادت ہے → عبادت صرف اللہ کے لیے

بزرگوں/اولیاء کے نام پر نذر، چڑھاوے، ذبح → حرام و شرک

ایسی جگہوں پر حتیٰ کہ جائز نذر بھی ممنوع ہو جاتی ہے جہاں شرک یا مشرکانہ میلے ہوں

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر قائم رکھے اور شرک و بدعات سے محفوظ فرمائے۔

آمین