━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📘 مرفوع احادیث سے دلائل — کپڑے کی جرابوں پر مسح
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
➊ حدیثِ ثوبانؓ — ”العَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ“
عربی متن:
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ
سنن أبي داود — حدیث 146
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/146/
146 – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:
«بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً، فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ»
ترجمہ:
حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا۔
انہیں سخت سردی پہنچی۔
جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ:
✔ اپنی پگڑیوں (العصائب)
✔ اور پاؤں کو گرم رکھنے والی چیزوں (التساخین = جرابیں/موٹے موزے)
پر مسح کریں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📌 حکمِ حدیث
▪ علامہ البانی: صحیح
▪ شعیب الأرناؤوط: اسناد صحیح
▪ امام حاکم: “صحیح علی شرط مسلم”
▪ حافظ ذہبی: تلخیص اور سیر أعلام النبلاء میں توثیق
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📌 سند کے رجال
امام احمد بن حنبل — ثقة، حافظ، فقیہ، حجۃ
یحییٰ بن سعید القطان — امام، حافظ، قدوہ
ثور بن یزید الرحبی — ثقة ثبت
راشد بن سعد الحِمصی — ثقة (جیسا بخاری نے التاریخ الکبیر میں ذکر کیا)
ثوبانؓ — صحابی رسول ﷺ
📌 سند کامل اور قوی — جرابوں پر مسح کے مسئلے میں سب سے مضبوط مرفوع دلیل۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
➋ روایت المستدرک للحاکم
602 – أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ …
«هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ… وله شاهد»
(المستدرك للحاکم 602، والتلخیص للذہبی)
ترجمہ:
یہ حدیث صحیح ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے۔
البتہ انہوں نے اسے ان الفاظ میں روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کو دوسری شاہد روایت بھی حاصل ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
➌ روایت سیر أعلام النبلاء (امام ذہبی)
ثور بن یزید → راشد بن سعد → ثوبانؓ سے یہ روایت نقل کی:
«بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَأَمَرَهُم أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى العَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ»
(سیر أعلام النبلاء)
حکم:
🔹 اسنادہ قویّ
