واٹساپ دعوتی مواد کپڑے کی جرابوں پر مسح

کپڑے کی جرابوں پر مسح

24 پیغامات

1 🔹 اصطلاحات کی وضاحت


━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 اصطلاحات کی وضاحت

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

الجوربین (الْجَوْرَبَيْنِ) سے مراد وہ موزے ہیں جو:

اون

یا سوتی کپڑے

کے بنے ہوں، اور اردو میں انہیں ”جراب“ کہا جاتا ہے۔

جبکہ:

الخُفَّیْن سے مراد وہ موزے ہیں جو:

چمڑے کے بنے ہوتے ہیں۔

📌 دونوں میں صرف مادّہ (Material) کا فرق ہے،
احکام کے اعتبار سے اصل مسئلہ ایک ہی ہے (پاؤں ڈھانپنے والی چیز پر مسح)۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 خفین پر مسح — متفق علیہ مسئلہ

چمڑے کے موزوں (خفین) پر مسح:

صحیح سند کے ساتھ

صحیح بخاری میں ثابت ہے

اور اس پر اہلِ علم کا کوئی اختلاف نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 کپڑے کی جرابوں (الجوربین) پر مسح — تفصیلی دلائل

البتہ الجوربین یعنی کپڑے کی جرابوں پر مسح کے مسئلے پر:

بعض فقہی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے

اسی لیے اس پر تفصیلی دلائل
✓ صحیح احادیث،
✓ صحابہ،
✓ تابعین،
✓ اور سلف کے آثار

آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں گے — ان شاء اللہ۔

2 📘 مرفوع احادیث سے دلائل — کپڑے کی جرابوں پر مسح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 مرفوع احادیث سے دلائل — کپڑے کی جرابوں پر مسح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ حدیثِ ثوبانؓ — ”العَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ“

عربی متن:

بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ
سنن أبي داود — حدیث 146
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/146/

146 – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:
«بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً، فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ»

ترجمہ:
حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا۔
انہیں سخت سردی پہنچی۔
جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ:

✔ اپنی پگڑیوں (العصائب)
✔ اور پاؤں کو گرم رکھنے والی چیزوں (التساخین = جرابیں/موٹے موزے)

پر مسح کریں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حکمِ حدیث

▪ علامہ البانی: صحیح
▪ شعیب الأرناؤوط: اسناد صحیح
▪ امام حاکم: “صحیح علی شرط مسلم”
▪ حافظ ذہبی: تلخیص اور سیر أعلام النبلاء میں توثیق

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 سند کے رجال

امام احمد بن حنبل — ثقة، حافظ، فقیہ، حجۃ

یحییٰ بن سعید القطان — امام، حافظ، قدوہ

ثور بن یزید الرحبی — ثقة ثبت

راشد بن سعد الحِمصی — ثقة (جیسا بخاری نے التاریخ الکبیر میں ذکر کیا)

ثوبانؓ — صحابی رسول ﷺ

📌 سند کامل اور قوی — جرابوں پر مسح کے مسئلے میں سب سے مضبوط مرفوع دلیل۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ روایت المستدرک للحاکم

602 – أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ …
«هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ… وله شاهد»

(المستدرك للحاکم 602، والتلخیص للذہبی)

ترجمہ:
یہ حدیث صحیح ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے۔
البتہ انہوں نے اسے ان الفاظ میں روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کو دوسری شاہد روایت بھی حاصل ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ روایت سیر أعلام النبلاء (امام ذہبی)

ثور بن یزید → راشد بن سعد → ثوبانؓ سے یہ روایت نقل کی:

«بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَأَمَرَهُم أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى العَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ»
(سیر أعلام النبلاء)

حکم:
🔹 اسنادہ قویّ

3 📘 "التساخین" کی شرح — محدثین و ائمہ کے اقوال

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 "التساخین" کی شرح — محدثین و ائمہ کے اقوال

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ علامہ عینی حنفی — شرح سنن أبي داود

"التساخين: الخفاف، ويقال: أصل ذلك كل ما تسخن به القدم من خف وجورب ونحوهما”
(شرح سنن أبي داود، للعيني)

ترجمہ:
تساخین سے مراد خف (چمڑے کے موزے) ہیں،
اور اس کا اصل معنی یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے پاؤں کو گرمی حاصل ہو—
چاہے وہ خف ہوں، جرابیں ہوں یا اسی جیسی کوئی چیز۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ امام بغوی — شرح السنّة

"أصل التساخين كل ما يسخن القدم من خف وجورب ونحوه.”
(شرح السنة للبغوي 1/430)

ترجمہ:
تساخین کی اصل ہر وہ چیز ہے جو پاؤں کو گرم کرے—
جیسے خف یا جراب وغیرہ۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ ابن الجوزی — غریب الحدیث

"في الحديث: فأمرهم أن يمسحوا على التساخين، قال أبو عبيد: هي الجوارب.”
(غریب الحدیث لابن الجوزي 2/207)

ترجمہ:
حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ تساخین پر مسح کریں۔
ابو عبید نے کہا: تساخین سے مراد جرابیں ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📍 خلاصہ

✔ حدیثِ ثوبانؓ میں نبی ﷺ نے صحابہ کو تساخین پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
✔ محدثین و ائمہ لغت کے مطابق تساخین میں شامل ہیں:

کپڑے کی جرابیں

موٹے موزے

خف (چمڑے کے موزے)

ہر وہ چیز جو پاؤں کو ڈھانپ کر گرم رکھے

✔ لہٰذا یہ حدیث جرابوں پر مسح کے جواز اور مشروعیت کی واضح اور قوی دلیل ہے۔

4 ➊ حضرت علی بن ابی طالبؓ

📘 صحابہ کرامؓ کے آثار اور اجماعی طرزِ عمل

جرابوں (الجوربین) پر مسح صرف مرفوع احادیث سے ہی ثابت نہیں،
بلکہ کئی صحابہ کرامؓ کے آثار بھی اس پر دلیل ہیں۔
اور ان آثار سے پتا چلتا ہے کہ:

✔ صحابہؓ خود جرابوں پر مسح کرتے تھے
✔ اس پر فتویٰ دیتے تھے
✔ ان میں سے کسی صحابی کا اس کے خلاف کوئی قول موجود نہیں

لہٰذا یہ مسئلہ اہلِ سنت کے ہاں اجماعی اور متفق علیہ ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ حضرت علی بن ابی طالبؓ

عربی متن:
«رَأَيْتُ عَلِيًّا بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ»
(الأوسط في السنن والإجماع، ابن المنذر 1/479)

ترجمہ:
عمرو بن حریث کہتے ہیں: میں نے علیؓ کو دیکھا، آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا
اور جرابوں پر مسح کیا۔

📌 حکم: سند صحیح

5 ➋ حضرت انس بن مالکؓ

➋ حضرت انس بن مالکؓ

عربی متن:
«رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ»
(العلل ومعرفة الرجال، امام احمد 2/5644)

ترجمہ:
ابو طفیل کہتے ہیں: میں نے حضرت انسؓ کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔

📌 حکم: سند صحیح

6 ➌ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ

➌ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ

عربی متن:
«أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ»
(مجمع الزوائد 1/1381، طبرانی الکبیر)

ترجمہ:
حضرت ابن مسعودؓ جرابوں اور جوتوں پر مسح کرتے تھے۔

📌 حکم: علامہ ہیثمی: رجالہ موثقون

7 ➍ حضرت عقبہ بن عمروؓ (ابو مسعود انصاری)

➍ حضرت عقبہ بن عمروؓ (ابو مسعود انصاری)
عربی متن:
«أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1987)

ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عمروؓ نے وضو کیا اور اپنی جرابوں پر مسح کیا۔

حکم: سند صحیح۔

8 ➎ حضرت ابو امامہ باہلیؓ

➎ حضرت ابو امامہ باہلیؓ
عربی متن:
«أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ»
(الأوسط لابن المنذر 1/485)

ترجمہ:
حضرت ابو امامہؓ اپنی جرابوں، خفین اور عمامہ پر مسح کیا کرتے تھے۔

حکم: سند صحیح۔

9 ➊ نافع مولیٰ ابن عمرؓ

📘 تابعین اور ائمہ سلف کے اقوال

مرفوع احادیث اور صحابہ کرامؓ کے اجماعی طرزِ عمل کے بعد تابعین اور ائمہ سلف کے آثار بھی جرابوں (الجوربین) پر مسح کے جواز کو واضح کرتے ہیں۔ اس طبقے کے کبار فقہاء اور محدثین نے اسے جائز قرار دیا اور اسے خفین کے حکم پر ہی محمول کیا۔

➊ نافع مولیٰ ابن عمرؓ
عربی متن:
«سَأَلْتُ نَافِعًا، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، فَقَالَ: هُمَا بِمَنْزِلَةِ الْخُفَّيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1992)

ترجمہ:
عباد بن راشد کہتے ہیں: میں نے نافع (شاگرد ابن عمرؓ) سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جرابیں خفین کے حکم میں ہیں۔

حکم: سند صحیح۔

10 ➊ نافع مولیٰ ابن عمرؓ

📘 تابعین اور ائمہ سلف کے اقوال

مرفوع احادیث اور صحابہ کرامؓ کے اجماعی طرزِ عمل کے بعد تابعین اور ائمہ سلف کے آثار بھی جرابوں (الجوربین) پر مسح کے جواز کو واضح کرتے ہیں۔ اس طبقے کے کبار فقہاء اور محدثین نے اسے جائز قرار دیا اور اسے خفین کے حکم پر ہی محمول کیا۔

➊ نافع مولیٰ ابن عمرؓ
عربی متن:
«سَأَلْتُ نَافِعًا، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، فَقَالَ: هُمَا بِمَنْزِلَةِ الْخُفَّيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1992)

ترجمہ:
عباد بن راشد کہتے ہیں: میں نے نافع (شاگرد ابن عمرؓ) سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جرابیں خفین کے حکم میں ہیں۔

حکم: سند صحیح۔

11 ➋ سعید بن جبیرؒ (تابعی کبیر)

➋ سعید بن جبیرؒ (تابعی کبیر)
عربی متن:
«رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1989)

ترجمہ:
فرات کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیرؒ کو دیکھا کہ وہ وضو کرتے اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح کرتے تھے۔

حکم: سند صحیح۔

12 ➌ سعید بن المسیبؒ اور حسن بصریؒ

➌ سعید بن المسیبؒ اور حسن بصریؒ
عربی متن:
«عَن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ أَنَّهُمَا قَالَا: يُمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ إِذَا كَانَا صَفِيقَيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1976)

ترجمہ:
سعید بن المسیبؒ اور حسن بصریؒ دونوں نے فرمایا: اگر جرابیں موٹی ہوں تو ان پر مسح کیا جا سکتا ہے۔

حکم: سند صحیح۔

13 ➍ امام حسن بصریؒ

➍ امام حسن بصریؒ کا قول
عربی متن:
«الْجَوْرَبَانِ وَالنَّعْلَانِ بِمَنْزِلَةِ الْخُفَّيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1993)

ترجمہ:
امام حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے: جرابیں اور جوتے خفین کے حکم میں ہیں۔

حکم: سند صحیح۔



14 ➎ ابراہیم نخعیؒ

➎ ابراہیم نخعیؒ
عربی متن:
«أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ»
(مصنف ابن أبي شيبة 1/1977)

ترجمہ:
ابراہیم نخعیؒ اپنی جرابوں پر مسح کرتے تھے۔

حکم: سند صحیح۔



15 ➏ حضرت عطاء بن ابی رباحؒ

➏ حضرت عطاء بن ابی رباحؒ: "جرابوں پر مسح کرنا خفین پر مسح کرنے کے برابر ہے۔”(مصنف ابن أبي شيبة 1/1991)

📍 خلاصہ:
تابعین کے جلیل القدر فقہاء جیسے نافع، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب، حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطاء بن ابی رباح سب نے جرابوں پر مسح کے جواز کا فتویٰ دیا۔ اس طرح یہ مسئلہ نہ صرف مرفوع احادیث اور آثارِ صحابہ بلکہ تابعین کے اقوال سے بھی متواتر طور پر ثابت ہے۔





16 امام احمد بن حنبلؒ

📘 ائمہ اہلِ حدیث اور فقہاء کا موقف

1) امام احمد بن حنبلؒ

صالح بن احمد کہتے ہیں:
عربی متن:
قُلْتُ: مَنْ مَسَحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ وَنَعْلَيْهِ، وَنِيَّتُهُ الْمَسْحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، أَيَجُوزُ لَهُ أَنْ يَخْلَعَ النَّعْلَيْنِ وَيُصَلِّي؟
قَالَ: إِنْ كَانَ مَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ مَعَ الْجَوْرَبَيْنِ، ثُمَّ خَلَعَ نَعْلَيْهِ، يُعِيدُ الْوُضُوءَ كُلَّهُ، وَإِنْ كَانَ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، وَلَبِسَ نَعْلَيْهِ، وَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى النَّعْلَيْنِ، ثُمَّ خَلَعَهُمَا، فَلَا بَأْسَ.
(مسائل الإمام أحمد بروایۃ صالح بن احمد، رقم 779)

ترجمہ:
میں نے اپنے والد (امام احمد) سے پوچھا: اگر کوئی جرابوں اور جوتوں پر مسح کرے اور اس کی نیت جرابوں پر مسح کرنے کی ہو تو کیا جوتے اُتار کر نماز پڑھ سکتا ہے؟
امام احمدؒ نے فرمایا: اگر جرابوں کے ساتھ جوتوں پر بھی مسح کیا ہو پھر جوتے اُتار دیے تو پورا وضو دوبارہ کرے۔ اور اگر صرف جرابوں پر مسح کیا ہو اور جوتے پہن لیے ہوں، پھر جوتے اُتار دیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔

17 امام اسحاق بن راہویہؒ

2) امام اسحاق بن راہویہؒ (238ھ):

عربی متن:
قَالَ إِسْحَاقُ: مَضَتِ السُّنَّةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ.
(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف 1/302)

ترجمہ:
امام اسحاق بن راہویہؒ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور ان کے بعد تابعین سے یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ جرابوں پر مسح کیا جائے، اور اس بارے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔

18 امام سفیان ثوریؒ

3) امام سفیان ثوریؒ: "جرابیں اور جوتے خفین کی طرح ہیں، ان پر مسح کیا جا سکتا ہے۔” (تاریخ ابن أبي خيثمة)

19 شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ

4) شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ (728ھ):
عربی متن:
نَعَمْ يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ إِذَا كَانَ يَمْشِي فِيهِمَا، سَوَاءٌ كَانَتْ مُجَلَّدَةً أَوْ لَمْ تَكُنْ، فِي أَصَحِّ قَوْلَيْ الْعُلَمَاءِ.
(مجموع الفتاوى 21/174)




ترجمہ:
جی ہاں، جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان میں چلنا ممکن ہو، خواہ وہ چمڑے کی ہوں یا نہ ہوں۔ علماء کے دو اقوال میں سے یہ قول زیادہ صحیح ہے۔

20 امام ابن قدامہ المقدسیؒ

5) امام ابن قدامہ المقدسیؒ (620ھ):

عربی متن:
وَلِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، مَسَحُوا عَلَى الْجَوَارِبِ، وَلَمْ يَظْهَرْ لَهُمْ مُخَالِفٌ فِي عَصْرِهِمْ، فَكَانَ إِجْمَاعًا.
(المغنی 1/215)

ترجمہ:
صحابہ کرامؓ نے جرابوں پر مسح کیا، اور ان کے دور میں کوئی مخالف ظاہر نہ ہوا، لہٰذا یہ اجماع ہے۔

21 احناف کا موقف

📘 احناف کا موقف


قاضی ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ:
عربی متن:
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ: إِذَا مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ أَجْزَأَهُ الْمَسْحُ، كَمَا يَجْزِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفِّ، إِذَا كَانَ الْجَوْرَبَانِ ثَخِينَيْنِ لَا يَشِفَّانِ.
(الأصل المعروف بالمبسوط، 1/104)

ترجمہ:
ابو یوسف اور محمدؒ نے کہا: اگر جرابیں موٹی ہوں اور پاؤں نظر نہ آتے ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز ہے، بالکل اسی طرح جیسے خفین پر مسح کرنا جائز ہے۔

22 امام ابو حنیفہؒ کا رجوع

📘 امام ابو حنیفہؒ کا رجوع

1) علامہ زیلعی حنفی (743ھ):
عربی متن:
وَيُرْوَى رُجُوعُ أَبِي حَنِيفَةَ إِلَى قَوْلِهِمَا قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَقِيلَ بِسَبْعَةِ أَيَّامٍ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.
(تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق 1/217)

ترجمہ:
روایت ہے کہ ابو حنیفہؒ نے اپنی وفات سے تین دن (اور بعض کے قول کے مطابق سات دن) پہلے اپنے پہلے قول سے رجوع کیا اور شاگردوں (ابو یوسف اور محمد) کے قول کو اختیار کیا۔ فتویٰ بھی اسی رجوع پر ہے۔




23 امام کاسانی حنفی

امام کاسانی حنفی (587ھ):
عربی متن:
وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى قَوْلِهِمَا فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ قَالَ لِعُوَّادِهِ: فَعَلْتُ مَا كُنْتُ أَمْنَعُ النَّاسَ عَنْهُ.
(بدائع الصنائع 1/10)

ترجمہ:
ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے آخر عمر میں اپنے قول سے رجوع کر لیا۔ وہ اپنی بیماری میں جرابوں پر مسح کرتے تھے اور کہا کرتے: "میں نے وہی کیا جس سے لوگوں کو روکتا تھا۔”

24 مفتی تقی عثمانی صاحب

مفتی تقی عثمانی صاحب:
"امام صاحب نے آخر میں رجوع فرما لیا تھا، اب اس مسئلے پر سب کا اتفاق ہے کہ جرابوں پر مسح جائز ہے۔” (فتاویٰ عثمانی 1/212)