جمعہ

11 پیغامات

1 📘 جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے

امامِ کائنات ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين

“لوگوں کو جمعہ ترک کرنے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا حشر غافلوں میں ہوگا۔”

📖 صحیح مسلم: 865
📖 سنن نسائی: 1370
📖 سنن ابن ماجہ: 794

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/865/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1370/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/794/

سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں:

لقد هممت أن أمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم

“یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم: 254، 652

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/652/

➊ جس گھر کو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ جلانے کا ارادہ فرمائیں، وہ شفاعت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں!

➋ مذکورہ بالا حدیث بھی جمعہ کے فرضِ عین ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

➌ اور جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیے اس میں وعیدِ شدید ہے۔

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

سیدنا حضرت ابو الجعد الضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه

“جو شخص سستی اور لاپرواہی سے مسلسل تین جمعے ترک کر دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔”

📖 ابوداؤد: 1052
📖 جامع ترمذی: 500

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1052/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/500/

📝 نوٹ:
اس فرمانِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوا کہ جمعہ نہ پڑھنے والوں کا دل جہالت، غفلت اور نفاق کی وجہ سے مردہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح مردہ پر وعظ و نصیحت اثر نہیں کرتے، اسی طرح تارکِ جمعہ کی کیفیت ہو جاتی ہے۔

سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة إلا على أربعة عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض

“جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ حق اور واجب ہے، سوائے چار قسم کے افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔”

📖 ابو داؤد: 1067
📖 دارقطنی، باب من يجب عليه الجمعة

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1067/

📌 خلاصۂ مسئلہ:
مندرجہ بالا احادیث سے یقیناً واضح ہوتا ہے کہ جمعہ ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، ماسوائے ان افراد کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں، اور وہ ہیں:

◉ غلام
◉ عورت
◉ نابالغ بچہ
◉ بیمار
◉ مسافر

ان میں سے اگر کوئی شخص جمعہ ادا کر لے تو یہ اس کے لیے بہتر اور اولیٰ ہے، ورنہ ان پر جمعہ فرض نہیں۔

2 📘 یومِ جمعہ کے عظیم فضائل اور برکتیں صحیح احادیث کی روشنی میں

🌿 یومُ الجمعۃ: امتِ اسلامیہ پر خصوصی عنایت

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا وأوتيناه من بعدهم ثم هذا يومهم الذى فرض عليهم أعني يوم الجمعة فاختلفوا فيه فهدانا الله له والناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ہم دنیا میں بعد میں آنے والی امت ہیں، لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، حالانکہ ہم سے پہلے لوگوں کو کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ پھر یہ جمعہ کا دن بھی ان پر فرض کیا گیا تھا، مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن کی ہدایت عطا فرمائی۔ پس اس معاملے میں سب لوگ ہمارے پیچھے ہیں؛ یہودی کل اور عیسائی پرسوں۔”

📖 صحیح بخاری: 876
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/876/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 جمعہ میں شرکت کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب

عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من غسل يوم الجمعة واغتسل وبكر وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام واستمع ولم يلغ كان له من كل خطوة عمل سنة أجر صيامها وقيامها

ترجمہ:
سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، دوسروں کو بھی غسل کی ترغیب دے، جلدی مسجد جائے، ابتدا ہی سے خطبہ میں شریک ہو، پیدل چل کر آئے، سواری پر نہ آئے، امام کے قریب بیٹھے، غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیامِ شب کا ثواب لکھا جاتا ہے۔”

📖 سنن أبي داؤد: 345، جامع الترمذي: 496، سنن النسائي: 1384، سنن ابن ماجه: 1087
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/345/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/496/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1384/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1087/

🖋 حکم الحدیث:
یہ حدیث حسن درجے کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

🖋 راویٔ حدیث:
سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ ثقفی ہیں۔ آپ عمرہ بن اوس کے والد ہیں۔ آپ سے ابوالاشعث السمعانی اور آپ کے بیٹے عمرہ وغیرہ نے روایت نقل کی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 ایک جمعہ میں حاضری سے دس دنوں کے گناہوں کی معافی

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:
من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ عبدالرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص غسل کر کے جمعہ کے لیے آئے، پھر جتنی نفل نماز اس کے لیے مقدر ہو ادا کرے، پھر خاموشی کے ساتھ خطبہ ختم ہونے تک توجہ سے سنے، پھر امام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرے، اس کے اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، بلکہ مزید تین دن کے گناہ بھی معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم: 857
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/857/

3 🌿 خصوصی فہرست میں اندراج اور قربانی کا ثواب

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إذا كان يوم الجمعة وقفت الملائكة على باب المسجد يكتبون الأول فالأول ومثل المهجر كمثل الذى يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كبشا ثم دجاجة ثم بيضة فإذا خرج الإمام طووا صحفهم ويستمعون الذكر

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جب جمعۃ المبارک کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنے والوں کے نام باری باری لکھتے رہتے ہیں۔ جو سب سے پہلے آتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے ایک اونٹ قربان کیا۔ پھر اس کے بعد آنے والے کی مثال گائے قربان کرنے والے کی سی ہے، پھر مینڈھا، پھر مرغی، پھر انڈا قربان کرنے والے کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔”

📖 صحیح بخاری: 929
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/929/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ کی اولیت کا سبب

عن حذيفة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
أضل الله عن الجمعة من كان قبلنا فكان لليهود يوم السبت وكان للنصارى يوم الأحد فجاء الله بنا فهدانا الله ليوم الجمعة فجعل الجمعة والسبت والأحد وكذلك هم تبع لنا يوم القيامة نحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق

ترجمہ:
سیدنا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ سے محروم رکھا۔ چنانچہ یہودیوں کے لیے ہفتہ اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لے آیا اور ہمیں یومُ الجمعہ کی ہدایت عطا فرمائی، اور اس نے دنوں کی ترتیب اس طرح رکھی کہ پہلے جمعہ، پھر ہفتہ، پھر اتوار۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ ہمارے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے آخری ہیں، لیکن قیامت کے دن پہلے ہوں گے، اور تمام مخلوق سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔”

📖 صحیح مسلم: 856
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/856/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 جمعہ المبارک: اس امت کے لیے خصوصی امتیاز

جمعہ المبارک کا امتیاز، شان اور فضیلت کے ساتھ عطا کیا جانا صرف امتِ محمدیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی مناسبت سے دینِ اسلام کی تکمیل بھی اسی مبارک دن میں ہوئی۔

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

ترجمہ:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”

🖋 وضاحت:
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان میدانِ عرفات میں 9 ہجری کو جمعہ کے دن نازل ہوا۔

📖 سورۃ المائدہ: 3

4 🌿 یومُ الجمعہ: سیدُ الایام اور افضلُ الایام

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها ولا تقوم الساعة إلا فى يوم الجمعة

ترجمہ:
امام المحدثین سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رؤفٌ رحیم، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔”

📖 صحیح مسلم: 854، جامع ترمذی: 488
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/854/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ: یومِ عید

اور صحیح بخاری میں طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

قال رجل من اليهود لعمر يا أمير المؤمنين لو أن علينا نزلت هذه الآية اليوم أكملت….. الخ لاتخذنا ذلك اليوم عيدا فقال عمر إني لأعلم أى يوم نزلت هذه الآية نزلت يوم عرفة فى يوم الجمعة

ترجمہ:
ایک یہودی نے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:
“اے امیر المؤمنین! اگر یہ آیتِ کریمہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔”
تو جواباً خلیفۂ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی۔ یہ آیت میدانِ عرفہ میں جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی۔”

سیدنا ابن عباس اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دونوں آثار سے جمعہ کے دن کے عید ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

📖 صحیح بخاری: 6726
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6726/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ: یومِ عید اور یومِ طہارت

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إن هذا يوم عيد جعله الله للمسلمين فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل وإن كان طيب فليمس منه وعليكم بالسواك

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“بے شک یہ عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بنایا ہے، لہٰذا جو شخص نمازِ جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو اسے ضرور لگائے، اور تم پر مسواک لازم ہے۔”

📖 سنن ابن ماجه: 1098
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1098/

🖋 حکم الحدیث:
اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔

5 📘 جمعہ کی رخصت

❀ درج ذیل حالتوں میں جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے:

➊ حالتِ سفر میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے دوران میدانِ عرفات میں جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر پڑھی تھی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حج النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث: 1218

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

➋ خوف کی حالت میں

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب في التشديد في ترك الجماعة، حدیث: 1001

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1001/

➌ بارش کی وجہ سے مسجد جانا مشکل ہو

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب الرخصة إن لم يحضر الجمعة في المطر، حدیث: 901
📖 صحیح مسلم، حدیث: 699

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/901/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/699/

➍ عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جائیں

عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہو جائیں تو عید کی نماز پڑھنے والوں کے لیے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت ہے۔ البتہ امام کو جمعہ پڑھانا چاہیے، تاکہ جو لوگ جمعہ پڑھنا چاہتے ہیں، وہ اس سے محروم نہ رہیں۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الجمعۃ، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد، حدیث: 1070
📖 سنن النسائی، حدیث: 1592 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1070/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1592/

❀ جو لوگ نمازِ جمعہ میں شریک نہ ہو سکیں، انہیں نمازِ ظہر ادا کرنی چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 شرعی عذر کے بغیر جمعہ ترک کرنا

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ﴾

ترجمہ:
لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب التغليظ في ترك الجمعة، حدیث: 865

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/865/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ﴾

ترجمہ:
جس شخص نے محض سستی اور لاپروائی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الجمعۃ، باب التشديد في ترك الجمعة، حدیث: 1052
📖 جامع الترمذی، حدیث: 500
📖 سنن النسائی، حدیث: 1370
📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 1125 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1052/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/500/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1370/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1125/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ﴾

ترجمہ:
یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر جا کر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو بلا عذر جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة وبيان التشديد في تركها، حدیث: 652

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/652/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جمعہ کے دن نمازِ فجر کی قراءت

❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۃ السجدہ اور سورۃ الإنسان کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب ما يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة، حدیث: 891
📖 صحیح مسلم، حدیث: 880

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/891/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/880/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ﴾

ترجمہ:
جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرے، اسے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک نور کی روشنی نصیب ہوتی ہے۔

📖 مستدرک حاکم: 368/2، حدیث: 3392
📖 إرواء الغلیل، حدیث: 626 — صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 یومِ جمعہ کے ممنوعات

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ﴾

ترجمہ:
تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، ہاں اگر وہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی ساتھ ملا لے تو درست ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم يوم الجمعة، حدیث: 1985
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1144

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1985/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1144/

❀ جمعہ کی رات کو عبادت اور قیام کے لیے خاص نہیں کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي﴾

ترجمہ:
دوسری راتوں کو چھوڑ کر جمعہ کی رات کو قیام کے لیے مخصوص نہ کرو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب كراهة إفراد يوم الجمعة بصوم، حدیث: 1144/148

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1144/

6 📘 نمازِ جمعہ کہاں ادا ہو سکتی ہے؟

نمازِ جمعہ کی فرضیت کے لیے کوئی اضافی شرط نہیں، بلکہ استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی تخصیص کے بغیر فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾

ترجمہ:
”اے اہلِ ایمان! جب جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر، یعنی خطبہ اور نماز، کی طرف جلدی آؤ اور کاروبار چھوڑ دو۔“

📖 سورۃ الجمعۃ: 9

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی شرط کا ذکر کیے بغیر فرمایا:

«عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ»

”ہر بالغ شخص پر نمازِ جمعہ کے لیے جانا فرض ہے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب فی الغسل للجمعة، حدیث: 342 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/342/

بعض لوگوں نے نمازِ جمعہ کے لیے کئی شرائط مقرر کر رکھی ہیں، مثلاً:

➊ اسلامی حکومت کا قائم ہونا
➋ شہر کا ہونا
➌ کم از کم چالیس آدمیوں کا جمعہ پڑھنے کے لیے موجود ہونا

ان کے نزدیک اگر ان شرائط میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو نمازِ جمعہ درست نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ تمام شرائط خود ساختہ ہیں، ان کا کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ شرعی دلائل کے خلاف ہیں۔

آئیے! ان شرائط کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 کافر ممالک میں نمازِ جمعہ

نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا شرط نہیں، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ادا کیا جا سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ملک۔

درج ذیل روایات اس بات پر شاہد ہیں:

➊ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن کفار کی شدید مخالفت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ میں جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ تھی۔

لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو، جو مدینہ منورہ میں نمائندۂ رسول کی حیثیت سے موجود تھے، خط لکھ کر جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نمازِ جمعہ کا آغاز کر دیا۔“

📖 إرواء الغلیل: 68/3، تحت الحدیث: 601 — حسن

➋ مدینہ منورہ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر واقع بستی بنو بیاضہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ہی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ جمعہ کا آغاز کر دیا تھا۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب فی فرض الجمعة، حدیث: 1082
📖 سنن ابی داود، حدیث: 1069 — حسن
📖 المنتقیٰ: 25/1، حدیث: 21
📖 مستدرک حاکم: 280/1–281، حدیث: 1038

🔗https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1082/

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1069/

➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہجرت کے بعد پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔

📖 أخبار المدینة النبویة: 68/1

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➤ مذکورہ بالا تینوں روایات اس بات پر واضح طور پر شاہد ہیں کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے اسلامی حکومت کا قائم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ اس وقت مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت کے ابتدائی خدوخال بھی قائم نہیں ہوئے تھے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مکہ مکرمہ میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نمازِ جمعہ ادا نہیں کی گئی، تو اس کا جواب خود حدیث میں موجود ہے۔

مکہ مکرمہ میں نمازِ جمعہ ادا نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی شدید مخالفت کے باعث اس کی قوت اور استطاعت نہیں رکھتے تھے، نہ کہ اس کی وجہ اسلامی حکومت کا قائم نہ ہونا تھا۔

7 📘 دیہات وغیرہ میں نمازِ جمعہ

نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے شہر کا ہونا شرط نہیں، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ادا کیا جا سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ شہر ہو یا چند گھروں پر مشتمل کوئی بستی۔

بنو بیاضہ اور بنو سالم میں نمازِ جمعہ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اس مسئلے کے مزید دلائل درج ذیل ہیں:

➊ مسجدِ نبوی کے بعد سب سے پہلے بحرین کے گاؤں جواثیٰ میں مسجدِ عبد القیس میں نمازِ جمعہ کا آغاز ہوا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، حدیث: 892، 4371
📖 سنن ابی داود، حدیث: 1068

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/892/

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/4371/

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1068/

➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بنیاد پر رُزَیق بن حکیم رحمہ اللہ نے امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے اپنے کھیت میں کام کرنے والے ملازموں کو نمازِ جمعہ پڑھانے کے متعلق پوچھا، تو امام ابن شہاب رحمہ اللہ نے انہیں جمعہ پڑھانے کا حکم دیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، حدیث: 893

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/893/

➌ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بحرین سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر نمازِ جمعہ کے متعلق پوچھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«جَمِّعُوا حَيْثُمَا كُنْتُمْ»

”تم جہاں کہیں بھی رہتے ہو، وہیں نمازِ جمعہ ادا کرو۔“

📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 440/1، حدیث: 5068
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

➍ ثقہ اور متقن محدث امام لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ہر شہر اور گاؤں، جہاں نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو، وہاں کے رہنے والوں کو نمازِ جمعہ کا حکم دیا گیا ہے۔ شہر اور اس کے ساحلی علاقوں کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جمعہ پڑھا کرتے تھے، جبکہ شہر اور ساحلی دیہات دونوں جگہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔“

📖 السنن الکبریٰ للبیہقی: 254/3، حدیث: 5612

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➤ مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہوا کہ دیہات، کھیت یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، وہاں انہیں جمعہ ادا کرنا چاہیے۔

اس کے برعکس بعض لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ دیہات میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز نہیں اور جمعہ کے لیے شہر کا ہونا ضروری ہے۔

ان کے نزدیک شہر وہ جگہ ہے جس کی بڑی مسجد میں وہ تمام لوگ نہ سما سکیں جن پر نمازِ جمعہ واجب ہو، اگرچہ وہ لوگ عملاً مسجد میں نہ بھی آئیں۔

📖 الفقہ علی المذاہب الأربعۃ: 379/1

ان کی دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ قول ہے:

«لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ»

”نمازِ جمعہ اور نمازِ عید صرف بڑے شہر ہی میں ادا ہو سکتی ہیں۔“

📖 مصنف عبدالرزاق، حدیث: 5175
📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 439/1، حدیث: 5059

یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کے مخالف ہے۔

بلکہ یہ قول مذکورہ مرفوع روایات کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات کے مقابلے میں اسے کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

ان دلائل کے نادرست ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان دلائل کو ماننے والے آج خود بھی دیہات میں نمازِ جمعہ پڑھا رہے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 میدان میں نمازِ جمعہ

❀ نمازِ جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی ایسی جگہ نمازِ جمعہ ادا کی جا سکتی ہے جہاں لوگ جمع ہو سکتے ہوں۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔

📖 أخبار المدینة النبویة: 68/1

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📙 بحری جہاز میں نمازِ جمعہ

❀ مسافر ہونے کی وجہ سے بحری جہاز میں سوار لوگوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں، لیکن اگر وہ جمعہ ادا کرنا چاہیں تو ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے کہ جب وہاں دیگر نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں تو نمازِ جمعہ بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📕 فوجی چھاؤنیوں میں نمازِ جمعہ

❀ فوجی چھاؤنیوں میں نمازِ جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجمعۃ میں تمام مسلمانوں کو نمازِ جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾

ترجمہ:

”اے اہلِ ایمان! جب جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر، یعنی خطبہ اور نماز، کی طرف جلدی آؤ اور کاروبار چھوڑ دو۔“

📖 سورۃ الجمعۃ: 9

حدیث میں چند لوگوں کو نمازِ جمعہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، مثلاً:

➊ عورت
➋ بچہ
➌ غلام
➍ مریض

لیکن اس حدیث میں فوجی چھاؤنیوں کا کوئی ذکر نہیں۔

بعض لوگوں نے نمازِ جمعہ کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے کہ جمعہ صرف ایسی جگہ ادا ہو سکتا ہے جہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت ہو۔

حالانکہ یہ شرط قرآن و سنت میں کہیں موجود نہیں، لہٰذا شرعاً اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

8 📘 نمازِ جمعہ کے لیے نمازیوں کی تعداد

بعض علماء نے نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے نمازیوں کی تعداد متعین کی ہے، لیکن پھر اس تعیین میں بھی ان کا آپس میں اختلاف ہے۔

➊ بعض علماء چالیس افراد کی شرط لگاتے ہیں۔
➋ بعض کے نزدیک بارہ افراد ضروری ہیں۔
➌ بعض کے نزدیک تین افراد کا ہونا ضروری ہے۔
➍ جبکہ بعض کے نزدیک ایک مقتدی کی موجودگی ہی کافی ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے قرآن و سنت نے کوئی عدد متعین نہیں کیا۔ اگر کسی حدیث میں تعداد کی شرط عائد کی گئی ہے تو وہ حدیث ضعیف ہے۔“

📖 إرواء الغلیل: 69/3

❀ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”نمازِ جمعہ عام نماز ہی کی طرح ہے۔ جس طرح عام نماز کے لیے کسی مخصوص تعداد کی شرط نہیں، اسی طرح جمعہ کے لیے بھی کوئی عددی شرط نہیں۔ بس خطبہ دینے والا اور اسے سننے والا موجود ہو تو جمعہ منعقد ہو جائے گا۔“

📖 نیل الأوطار: 276/3، بعد الحدیث: 1188

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 خطبۂ جمعہ کے لیے حاکمِ وقت کا ہونا

❀ بعض لوگوں نے یہ شرط عائد کی ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ حاکمِ وقت خود جمعہ پڑھائے، یا اس کی طرف سے مقرر کردہ خطیب جمعہ پڑھائے، یا حاکم نے اس کے انعقاد کی اجازت دی ہو۔

یہ شرط بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ مزید یہ کہ جو لوگ یہ شرط عائد کرتے ہیں، آج وہ خود بھی عملاً اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📙 نمازِ جمعہ کا وقت

❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي الْجُمُعَةَ»

”جب سردی زیادہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جمعہ جلدی پڑھا دیتے اور جب گرمی زیادہ ہوتی تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں ادا کرتے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب إذا اشتد الحر یوم الجمعة، حدیث: 906

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/906/

❀ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ»

”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج ڈھلتے ہی نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حدیث: 859

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/859/

❀ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں:

”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھتے، پھر واپس جاتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، حدیث: 4168
📖 صحیح مسلم، حدیث: 860/32

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/4168/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/860/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📕 جمعہ کی اذان کا مسئلہ

❀ عہدِ نبوی میں نمازِ جمعہ کے لیے ایک ہی اذان ہوتی تھی۔

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«أَنَّ الْأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرُوا أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ»

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، جبکہ دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔

پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب مدینہ منورہ کی آبادی بڑھ گئی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمعہ کی اصل اذان سے پہلے مقامِ زوراء پر ایک اضافی اذان دی جانے لگی، اور بعد میں یہی دستور جاری رہا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب التأذین عند الخطبة، حدیث: 916

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/916/

اس اضافی اذان کا مقصد لوگوں کو متنبہ کرنا تھا کہ نمازِ جمعہ کا وقت قریب آ گیا ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار سمیٹ لیں اور جمعہ کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس اذان کو بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک انتظامی اقدام تھا۔

آج بھی اگر ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو مسجد سے باہر کسی مناسب جگہ ایک اضافی اذان دی جا سکتی ہے، لیکن مسجد کے اندر ہی دو اذانیں دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

واللہ اعلم

9 📘 نمازِ جمعہ کہاں ادا ہو سکتی ہے؟

نمازِ جمعہ کی فرضیت کے لیے کوئی اضافی شرط نہیں، بلکہ استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی تخصیص کے بغیر فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾

ترجمہ:
”اے اہلِ ایمان! جب جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر، یعنی خطبہ اور نماز، کی طرف جلدی آؤ اور کاروبار چھوڑ دو۔“

📖 سورۃ الجمعۃ: 9

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی شرط کا ذکر کیے بغیر فرمایا:

«عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ»

”ہر بالغ شخص پر نمازِ جمعہ کے لیے جانا فرض ہے۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الطہارة، باب فی الغسل للجمعة، حدیث: 342 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/342/

بعض لوگوں نے نمازِ جمعہ کے لیے کئی شرائط مقرر کر رکھی ہیں، مثلاً:

➊ اسلامی حکومت کا قائم ہونا
➋ شہر کا ہونا
➌ کم از کم چالیس آدمیوں کا جمعہ پڑھنے کے لیے موجود ہونا

ان کے نزدیک اگر ان شرائط میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو نمازِ جمعہ درست نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ تمام شرائط خود ساختہ ہیں، ان کا کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ شرعی دلائل کے خلاف ہیں۔

آئیے! ان شرائط کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 کافر ممالک میں نمازِ جمعہ

نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا شرط نہیں، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ادا کیا جا سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ملک۔

درج ذیل روایات اس بات پر شاہد ہیں:

➊ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن کفار کی شدید مخالفت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ میں جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ تھی۔

لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو، جو مدینہ منورہ میں نمائندۂ رسول کی حیثیت سے موجود تھے، خط لکھ کر جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نمازِ جمعہ کا آغاز کر دیا۔“

📖 إرواء الغلیل: 68/3، تحت الحدیث: 601 — حسن

➋ مدینہ منورہ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر واقع بستی بنو بیاضہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ہی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ جمعہ کا آغاز کر دیا تھا۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب فی فرض الجمعة، حدیث: 1082
📖 سنن ابی داود، حدیث: 1069 — حسن
📖 المنتقیٰ: 25/1، حدیث: 21
📖 مستدرک حاکم: 280/1–281، حدیث: 1038

🔗https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1082/

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1069/

➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہجرت کے بعد پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔

📖 أخبار المدینة النبویة: 68/1

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➤ مذکورہ بالا تینوں روایات اس بات پر واضح طور پر شاہد ہیں کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے اسلامی حکومت کا قائم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ اس وقت مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت کے ابتدائی خدوخال بھی قائم نہیں ہوئے تھے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مکہ مکرمہ میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نمازِ جمعہ ادا نہیں کی گئی، تو اس کا جواب خود حدیث میں موجود ہے۔

مکہ مکرمہ میں نمازِ جمعہ ادا نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی شدید مخالفت کے باعث اس کی قوت اور استطاعت نہیں رکھتے تھے، نہ کہ اس کی وجہ اسلامی حکومت کا قائم نہ ہونا تھا۔

10 📘 دیہات وغیرہ میں نمازِ جمعہ

نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے شہر کا ہونا شرط نہیں، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ادا کیا جا سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ شہر ہو یا چند گھروں پر مشتمل کوئی بستی۔

بنو بیاضہ اور بنو سالم میں نمازِ جمعہ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اس مسئلے کے مزید دلائل درج ذیل ہیں:

➊ مسجدِ نبوی کے بعد سب سے پہلے بحرین کے گاؤں جواثیٰ میں مسجدِ عبد القیس میں نمازِ جمعہ کا آغاز ہوا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، حدیث: 892، 4371
📖 سنن ابی داود، حدیث: 1068

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/892/

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/4371/

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1068/

➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بنیاد پر رُزَیق بن حکیم رحمہ اللہ نے امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے اپنے کھیت میں کام کرنے والے ملازموں کو نمازِ جمعہ پڑھانے کے متعلق پوچھا، تو امام ابن شہاب رحمہ اللہ نے انہیں جمعہ پڑھانے کا حکم دیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، حدیث: 893

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/893/

➌ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بحرین سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر نمازِ جمعہ کے متعلق پوچھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«جَمِّعُوا حَيْثُمَا كُنْتُمْ»

”تم جہاں کہیں بھی رہتے ہو، وہیں نمازِ جمعہ ادا کرو۔“

📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 440/1، حدیث: 5068
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

➍ ثقہ اور متقن محدث امام لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ہر شہر اور گاؤں، جہاں نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو، وہاں کے رہنے والوں کو نمازِ جمعہ کا حکم دیا گیا ہے۔ شہر اور اس کے ساحلی علاقوں کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جمعہ پڑھا کرتے تھے، جبکہ شہر اور ساحلی دیہات دونوں جگہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔“

📖 السنن الکبریٰ للبیہقی: 254/3، حدیث: 5612

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➤ مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہوا کہ دیہات، کھیت یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں مسلمان موجود ہوں اور نمازِ جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، وہاں انہیں جمعہ ادا کرنا چاہیے۔

اس کے برعکس بعض لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ دیہات میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز نہیں اور جمعہ کے لیے شہر کا ہونا ضروری ہے۔

ان کے نزدیک شہر وہ جگہ ہے جس کی بڑی مسجد میں وہ تمام لوگ نہ سما سکیں جن پر نمازِ جمعہ واجب ہو، اگرچہ وہ لوگ عملاً مسجد میں نہ بھی آئیں۔

📖 الفقہ علی المذاہب الأربعۃ: 379/1

ان کی دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ قول ہے:

«لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ»

”نمازِ جمعہ اور نمازِ عید صرف بڑے شہر ہی میں ادا ہو سکتی ہیں۔“

📖 مصنف عبدالرزاق، حدیث: 5175
📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 439/1، حدیث: 5059

یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کے مخالف ہے۔

بلکہ یہ قول مذکورہ مرفوع روایات کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات کے مقابلے میں اسے کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

ان دلائل کے نادرست ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان دلائل کو ماننے والے آج خود بھی دیہات میں نمازِ جمعہ پڑھا رہے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 میدان میں نمازِ جمعہ

❀ نمازِ جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی ایسی جگہ نمازِ جمعہ ادا کی جا سکتی ہے جہاں لوگ جمع ہو سکتے ہوں۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔

📖 أخبار المدینة النبویة: 68/1

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📙 بحری جہاز میں نمازِ جمعہ

❀ مسافر ہونے کی وجہ سے بحری جہاز میں سوار لوگوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں، لیکن اگر وہ جمعہ ادا کرنا چاہیں تو ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے کہ جب وہاں دیگر نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں تو نمازِ جمعہ بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📕 فوجی چھاؤنیوں میں نمازِ جمعہ

❀ فوجی چھاؤنیوں میں نمازِ جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجمعۃ میں تمام مسلمانوں کو نمازِ جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾

ترجمہ:

”اے اہلِ ایمان! جب جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر، یعنی خطبہ اور نماز، کی طرف جلدی آؤ اور کاروبار چھوڑ دو۔“

📖 سورۃ الجمعۃ: 9

حدیث میں چند لوگوں کو نمازِ جمعہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، مثلاً:

➊ عورت
➋ بچہ
➌ غلام
➍ مریض

لیکن اس حدیث میں فوجی چھاؤنیوں کا کوئی ذکر نہیں۔

بعض لوگوں نے نمازِ جمعہ کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے کہ جمعہ صرف ایسی جگہ ادا ہو سکتا ہے جہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت ہو۔

حالانکہ یہ شرط قرآن و سنت میں کہیں موجود نہیں، لہٰذا شرعاً اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

11 📘 نمازِ جمعہ کے لیے نمازیوں کی تعداد

بعض علماء نے نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے نمازیوں کی تعداد متعین کی ہے، لیکن پھر اس تعیین میں بھی ان کا آپس میں اختلاف ہے۔

➊ بعض علماء چالیس افراد کی شرط لگاتے ہیں۔
➋ بعض کے نزدیک بارہ افراد ضروری ہیں۔
➌ بعض کے نزدیک تین افراد کا ہونا ضروری ہے۔
➍ جبکہ بعض کے نزدیک ایک مقتدی کی موجودگی ہی کافی ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”نمازِ جمعہ کے انعقاد کے لیے قرآن و سنت نے کوئی عدد متعین نہیں کیا۔ اگر کسی حدیث میں تعداد کی شرط عائد کی گئی ہے تو وہ حدیث ضعیف ہے۔“

📖 إرواء الغلیل: 69/3

❀ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”نمازِ جمعہ عام نماز ہی کی طرح ہے۔ جس طرح عام نماز کے لیے کسی مخصوص تعداد کی شرط نہیں، اسی طرح جمعہ کے لیے بھی کوئی عددی شرط نہیں۔ بس خطبہ دینے والا اور اسے سننے والا موجود ہو تو جمعہ منعقد ہو جائے گا۔“

📖 نیل الأوطار: 276/3، بعد الحدیث: 1188

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 خطبۂ جمعہ کے لیے حاکمِ وقت کا ہونا

❀ بعض لوگوں نے یہ شرط عائد کی ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ حاکمِ وقت خود جمعہ پڑھائے، یا اس کی طرف سے مقرر کردہ خطیب جمعہ پڑھائے، یا حاکم نے اس کے انعقاد کی اجازت دی ہو۔

یہ شرط بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ مزید یہ کہ جو لوگ یہ شرط عائد کرتے ہیں، آج وہ خود بھی عملاً اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📙 نمازِ جمعہ کا وقت

❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي الْجُمُعَةَ»

”جب سردی زیادہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جمعہ جلدی پڑھا دیتے اور جب گرمی زیادہ ہوتی تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں ادا کرتے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب إذا اشتد الحر یوم الجمعة، حدیث: 906

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/906/

❀ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ»

”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج ڈھلتے ہی نمازِ جمعہ ادا کرتے تھے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حدیث: 859

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/859/

❀ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں:

”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھتے، پھر واپس جاتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، حدیث: 4168
📖 صحیح مسلم، حدیث: 860/32

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/4168/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/860/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📕 جمعہ کی اذان کا مسئلہ

❀ عہدِ نبوی میں نمازِ جمعہ کے لیے ایک ہی اذان ہوتی تھی۔

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«أَنَّ الْأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرُوا أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ»

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، جبکہ دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔

پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب مدینہ منورہ کی آبادی بڑھ گئی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمعہ کی اصل اذان سے پہلے مقامِ زوراء پر ایک اضافی اذان دی جانے لگی، اور بعد میں یہی دستور جاری رہا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب التأذین عند الخطبة، حدیث: 916

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/916/

اس اضافی اذان کا مقصد لوگوں کو متنبہ کرنا تھا کہ نمازِ جمعہ کا وقت قریب آ گیا ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار سمیٹ لیں اور جمعہ کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس اذان کو بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک انتظامی اقدام تھا۔

آج بھی اگر ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو مسجد سے باہر کسی مناسب جگہ ایک اضافی اذان دی جا سکتی ہے، لیکن مسجد کے اندر ہی دو اذانیں دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

واللہ اعلم