جمعہ

4 پیغامات

1 📘 جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے

امامِ کائنات ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين

“لوگوں کو جمعہ ترک کرنے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا حشر غافلوں میں ہوگا۔”

📖 صحیح مسلم: 865
📖 سنن نسائی: 1370
📖 سنن ابن ماجہ: 794

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/865/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1370/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/794/

سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں:

لقد هممت أن أمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم

“یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم: 254، 652

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/652/

➊ جس گھر کو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ جلانے کا ارادہ فرمائیں، وہ شفاعت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں!

➋ مذکورہ بالا حدیث بھی جمعہ کے فرضِ عین ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

➌ اور جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیے اس میں وعیدِ شدید ہے۔

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

سیدنا حضرت ابو الجعد الضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه

“جو شخص سستی اور لاپرواہی سے مسلسل تین جمعے ترک کر دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔”

📖 ابوداؤد: 1052
📖 جامع ترمذی: 500

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1052/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/500/

📝 نوٹ:
اس فرمانِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوا کہ جمعہ نہ پڑھنے والوں کا دل جہالت، غفلت اور نفاق کی وجہ سے مردہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح مردہ پر وعظ و نصیحت اثر نہیں کرتے، اسی طرح تارکِ جمعہ کی کیفیت ہو جاتی ہے۔

سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة إلا على أربعة عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض

“جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ حق اور واجب ہے، سوائے چار قسم کے افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔”

📖 ابو داؤد: 1067
📖 دارقطنی، باب من يجب عليه الجمعة

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1067/

📌 خلاصۂ مسئلہ:
مندرجہ بالا احادیث سے یقیناً واضح ہوتا ہے کہ جمعہ ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، ماسوائے ان افراد کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں، اور وہ ہیں:

◉ غلام
◉ عورت
◉ نابالغ بچہ
◉ بیمار
◉ مسافر

ان میں سے اگر کوئی شخص جمعہ ادا کر لے تو یہ اس کے لیے بہتر اور اولیٰ ہے، ورنہ ان پر جمعہ فرض نہیں۔

البتہ مسافر اگر کسی جگہ ٹھہرا ہوا ہو تو اس پر جمعہ فرض ہے، جبکہ دورانِ سفر مسافر کو رخصت حاصل ہے۔

2 📘 یومِ جمعہ کے عظیم فضائل اور برکتیں صحیح احادیث کی روشنی میں

🌿 یومُ الجمعۃ: امتِ اسلامیہ پر خصوصی عنایت

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا وأوتيناه من بعدهم ثم هذا يومهم الذى فرض عليهم أعني يوم الجمعة فاختلفوا فيه فهدانا الله له والناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ہم دنیا میں بعد میں آنے والی امت ہیں، لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، حالانکہ ہم سے پہلے لوگوں کو کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ پھر یہ جمعہ کا دن بھی ان پر فرض کیا گیا تھا، مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن کی ہدایت عطا فرمائی۔ پس اس معاملے میں سب لوگ ہمارے پیچھے ہیں؛ یہودی کل اور عیسائی پرسوں۔”

📖 صحیح بخاری: 876
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/876/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 جمعہ میں شرکت کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب

عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من غسل يوم الجمعة واغتسل وبكر وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام واستمع ولم يلغ كان له من كل خطوة عمل سنة أجر صيامها وقيامها

ترجمہ:
سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، دوسروں کو بھی غسل کی ترغیب دے، جلدی مسجد جائے، ابتدا ہی سے خطبہ میں شریک ہو، پیدل چل کر آئے، سواری پر نہ آئے، امام کے قریب بیٹھے، غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیامِ شب کا ثواب لکھا جاتا ہے۔”

📖 سنن أبي داؤد: 345، جامع الترمذي: 496، سنن النسائي: 1384، سنن ابن ماجه: 1087
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/345/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/496/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1384/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1087/

🖋 حکم الحدیث:
یہ حدیث حسن درجے کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

🖋 راویٔ حدیث:
سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ ثقفی ہیں۔ آپ عمرہ بن اوس کے والد ہیں۔ آپ سے ابوالاشعث السمعانی اور آپ کے بیٹے عمرہ وغیرہ نے روایت نقل کی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 ایک جمعہ میں حاضری سے دس دنوں کے گناہوں کی معافی

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:
من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ عبدالرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص غسل کر کے جمعہ کے لیے آئے، پھر جتنی نفل نماز اس کے لیے مقدر ہو ادا کرے، پھر خاموشی کے ساتھ خطبہ ختم ہونے تک توجہ سے سنے، پھر امام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرے، اس کے اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، بلکہ مزید تین دن کے گناہ بھی معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم: 857
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/857/

3 🌿 خصوصی فہرست میں اندراج اور قربانی کا ثواب

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إذا كان يوم الجمعة وقفت الملائكة على باب المسجد يكتبون الأول فالأول ومثل المهجر كمثل الذى يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كبشا ثم دجاجة ثم بيضة فإذا خرج الإمام طووا صحفهم ويستمعون الذكر

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جب جمعۃ المبارک کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنے والوں کے نام باری باری لکھتے رہتے ہیں۔ جو سب سے پہلے آتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے ایک اونٹ قربان کیا۔ پھر اس کے بعد آنے والے کی مثال گائے قربان کرنے والے کی سی ہے، پھر مینڈھا، پھر مرغی، پھر انڈا قربان کرنے والے کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔”

📖 صحیح بخاری: 929
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/929/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ کی اولیت کا سبب

عن حذيفة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
أضل الله عن الجمعة من كان قبلنا فكان لليهود يوم السبت وكان للنصارى يوم الأحد فجاء الله بنا فهدانا الله ليوم الجمعة فجعل الجمعة والسبت والأحد وكذلك هم تبع لنا يوم القيامة نحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق

ترجمہ:
سیدنا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ سے محروم رکھا۔ چنانچہ یہودیوں کے لیے ہفتہ اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لے آیا اور ہمیں یومُ الجمعہ کی ہدایت عطا فرمائی، اور اس نے دنوں کی ترتیب اس طرح رکھی کہ پہلے جمعہ، پھر ہفتہ، پھر اتوار۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ ہمارے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے آخری ہیں، لیکن قیامت کے دن پہلے ہوں گے، اور تمام مخلوق سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔”

📖 صحیح مسلم: 856
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/856/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 جمعہ المبارک: اس امت کے لیے خصوصی امتیاز

جمعہ المبارک کا امتیاز، شان اور فضیلت کے ساتھ عطا کیا جانا صرف امتِ محمدیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی مناسبت سے دینِ اسلام کی تکمیل بھی اسی مبارک دن میں ہوئی۔

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

ترجمہ:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”

🖋 وضاحت:
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان میدانِ عرفات میں 9 ہجری کو جمعہ کے دن نازل ہوا۔

📖 سورۃ المائدہ: 3

4 🌿 یومُ الجمعہ: سیدُ الایام اور افضلُ الایام

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها ولا تقوم الساعة إلا فى يوم الجمعة

ترجمہ:
امام المحدثین سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رؤفٌ رحیم، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔”

📖 صحیح مسلم: 854، جامع ترمذی: 488
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/854/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ: یومِ عید

اور صحیح بخاری میں طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

قال رجل من اليهود لعمر يا أمير المؤمنين لو أن علينا نزلت هذه الآية اليوم أكملت….. الخ لاتخذنا ذلك اليوم عيدا فقال عمر إني لأعلم أى يوم نزلت هذه الآية نزلت يوم عرفة فى يوم الجمعة

ترجمہ:
ایک یہودی نے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:
“اے امیر المؤمنین! اگر یہ آیتِ کریمہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔”
تو جواباً خلیفۂ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی۔ یہ آیت میدانِ عرفہ میں جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی۔”

سیدنا ابن عباس اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دونوں آثار سے جمعہ کے دن کے عید ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

📖 صحیح بخاری: 6726
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6726/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 یومُ الجمعہ: یومِ عید اور یومِ طہارت

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إن هذا يوم عيد جعله الله للمسلمين فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل وإن كان طيب فليمس منه وعليكم بالسواك

ترجمہ:
سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“بے شک یہ عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بنایا ہے، لہٰذا جو شخص نمازِ جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو اسے ضرور لگائے، اور تم پر مسواک لازم ہے۔”

📖 سنن ابن ماجه: 1098
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1098/

🖋 حکم الحدیث:
اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔