جمعہ

1 پیغامات

1 📘 جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے

امامِ کائنات ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين

“لوگوں کو جمعہ ترک کرنے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا حشر غافلوں میں ہوگا۔”

📖 صحیح مسلم: 865
📖 سنن نسائی: 1370
📖 سنن ابن ماجہ: 794

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/865/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1370/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/794/

سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں:

لقد هممت أن أمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم

“یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم: 254، 652

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/652/

➊ جس گھر کو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ جلانے کا ارادہ فرمائیں، وہ شفاعت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں!

➋ مذکورہ بالا حدیث بھی جمعہ کے فرضِ عین ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

➌ اور جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیے اس میں وعیدِ شدید ہے۔

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

سیدنا حضرت ابو الجعد الضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه

“جو شخص سستی اور لاپرواہی سے مسلسل تین جمعے ترک کر دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔”

📖 ابوداؤد: 1052
📖 جامع ترمذی: 500

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1052/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/500/

📝 نوٹ:
اس فرمانِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوا کہ جمعہ نہ پڑھنے والوں کا دل جہالت، غفلت اور نفاق کی وجہ سے مردہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح مردہ پر وعظ و نصیحت اثر نہیں کرتے، اسی طرح تارکِ جمعہ کی کیفیت ہو جاتی ہے۔

سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة إلا على أربعة عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض

“جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ حق اور واجب ہے، سوائے چار قسم کے افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔”

📖 ابو داؤد: 1067
📖 دارقطنی، باب من يجب عليه الجمعة

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1067/

📌 خلاصۂ مسئلہ:
مندرجہ بالا احادیث سے یقیناً واضح ہوتا ہے کہ جمعہ ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، ماسوائے ان افراد کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں، اور وہ ہیں:

◉ غلام
◉ عورت
◉ نابالغ بچہ
◉ بیمار
◉ مسافر

ان میں سے اگر کوئی شخص جمعہ ادا کر لے تو یہ اس کے لیے بہتر اور اولیٰ ہے، ورنہ ان پر جمعہ فرض نہیں۔

البتہ مسافر اگر کسی جگہ ٹھہرا ہوا ہو تو اس پر جمعہ فرض ہے، جبکہ دورانِ سفر مسافر کو رخصت حاصل ہے۔