1 🌿 دعا میں وسیلہ اور اس کی اقسام
اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اسے قبولیت کے درجے تک پہنچانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اسے وسیلہ کہا جاتا ہے۔
چونکہ دعا بذاتِ خود عبادت ہے اور ہر عبادت کا طریقہ قرآن و سنت سے ہی معلوم ہوتا ہے، لہٰذا دعا میں وسیلے کے بارے میں بھی قرآن و سنت کی تعلیمات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
✅ جو طریقے کتاب و سنت سے ثابت ہیں وہی جائز و مشروع ہیں، جبکہ باقی طریقے ناجائز اور غیر مشروع ہیں۔
✿ وسیلے کی اقسام
➊ اللہ کے اسماء و صفات کا وسیلہ دینا
📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا
”اور اللہ ہی کے اچھے اچھے نام ہیں، تو انہی کے ساتھ اسے پکارو۔“
📚 [الاعراف: 180]
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اطلبوا منه بأسمائه، فيطلب بكل اسم ما يليق به، تقول : يا رحيم ارحمني …
”یعنی اس سے اس کے ناموں کے وسیلے سے مانگو۔ ہر نام کے مطابق چیز طلب کرو، جیسے: اے رحیم! مجھ پر رحم فرما۔“
📚 [الجامع لأحکام القرآن 7/327]
➋ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دینا
📖 فرمانِ الٰہی:
رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
”اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔“
📚 [آل عمران: 16]
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بإيماننا بك وبما شرعته لنا، فاغفرلنا ذنوبنا…
”یعنی ہم نے تیرے ساتھ ایمان اور تیری شریعت کو تسلیم کرنے کے طفیل یہ دعا کی۔ پس ہمارے گناہ معاف فرما۔“
📚 [تفسير ابن کثير 2/23]
دیگر آیات:
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ… [آل عمران: 53]
رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا… [آل عمران: 193]
📌 ان آیات سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا جائز ہے۔
حدیث: اصحابِ غار نے اپنی مصیبت کے وقت اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل دور فرما دی۔
📚 [بخاري 5974، مسلم 2743]
➌ زندہ و صالح بندے سے دعا کرانا
📖 قرآن میں ارشاد ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
📚 [النساء: 64]
حدیث:
ایک نابینا صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے لیے دعا کرائی تھی۔
📚 [ترمذي 3578، حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارش کے لیے نبی ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی۔
📚 [بخاري 1010]
🌸 صراحت اور خلاصہ:
قرآن و سنت سے وسیلے کی صرف یہ تین قسمیں ثابت ہیں:
اللہ کے اسماء و صفات کا وسیلہ۔
اپنے نیک اعمال کا وسیلہ۔
زندہ، صالح اور موحد بندے سے دعا کروانا۔
ان کے علاوہ کوئی اور وسیلہ جائز نہیں۔
کسی فوت شدہ یا غائب نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا، یا کسی اور طریقے سے دعا میں واسطہ دینا ناجائز اور غیر مشروع ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کا ہمیشہ انہی تین پر عمل رہا ہے اور مسلمانوں کو بھی انہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔