واٹساپ دعوتی مواد جائز اور ناجائز وسیلہ

جائز اور ناجائز وسیلہ

15 پیغامات

1 🌿 دعا میں وسیلہ اور اس کی اقسام

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اسے قبولیت کے درجے تک پہنچانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اسے وسیلہ کہا جاتا ہے۔
چونکہ دعا بذاتِ خود عبادت ہے اور ہر عبادت کا طریقہ قرآن و سنت سے ہی معلوم ہوتا ہے، لہٰذا دعا میں وسیلے کے بارے میں بھی قرآن و سنت کی تعلیمات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

✅ جو طریقے کتاب و سنت سے ثابت ہیں وہی جائز و مشروع ہیں، جبکہ باقی طریقے ناجائز اور غیر مشروع ہیں۔

✿ وسیلے کی اقسام
➊ اللہ کے اسماء و صفات کا وسیلہ دینا

📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا
”اور اللہ ہی کے اچھے اچھے نام ہیں، تو انہی کے ساتھ اسے پکارو۔“
📚 [الاعراف: 180]

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اطلبوا منه بأسمائه، فيطلب بكل اسم ما يليق به، تقول : يا رحيم ارحمني …
”یعنی اس سے اس کے ناموں کے وسیلے سے مانگو۔ ہر نام کے مطابق چیز طلب کرو، جیسے: اے رحیم! مجھ پر رحم فرما۔“
📚 [الجامع لأحکام القرآن 7/327]

➋ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دینا

📖 فرمانِ الٰہی:
رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
”اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔“
📚 [آل عمران: 16]

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بإيماننا بك وبما شرعته لنا، فاغفرلنا ذنوبنا…
”یعنی ہم نے تیرے ساتھ ایمان اور تیری شریعت کو تسلیم کرنے کے طفیل یہ دعا کی۔ پس ہمارے گناہ معاف فرما۔“
📚 [تفسير ابن کثير 2/23]

دیگر آیات:

رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ… [آل عمران: 53]

رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا… [آل عمران: 193]

📌 ان آیات سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا جائز ہے۔

حدیث: اصحابِ غار نے اپنی مصیبت کے وقت اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل دور فرما دی۔
📚 [بخاري 5974، مسلم 2743]

➌ زندہ و صالح بندے سے دعا کرانا

📖 قرآن میں ارشاد ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا
📚 [النساء: 64]

حدیث:

ایک نابینا صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے لیے دعا کرائی تھی۔
📚 [ترمذي 3578، حسن]

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارش کے لیے نبی ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی۔
📚 [بخاري 1010]

🌸 صراحت اور خلاصہ:

قرآن و سنت سے وسیلے کی صرف یہ تین قسمیں ثابت ہیں:

اللہ کے اسماء و صفات کا وسیلہ۔

اپنے نیک اعمال کا وسیلہ۔

زندہ، صالح اور موحد بندے سے دعا کروانا۔

ان کے علاوہ کوئی اور وسیلہ جائز نہیں۔

کسی فوت شدہ یا غائب نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا، یا کسی اور طریقے سے دعا میں واسطہ دینا ناجائز اور غیر مشروع ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا ہمیشہ انہی تین پر عمل رہا ہے اور مسلمانوں کو بھی انہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔

2 ✿ وسیلے کی ناجائز صورتیں

ان مذکورہ تین جائز صورتوں کے علاوہ وسیلے کی تمام قسمیں غیر مشروع، ناجائز اور بدعت ہیں۔

❌ بعض باطل صورتیں یہ ہیں:

حاضر یا غائب، زندہ یا فوت شدہ کی ذات کو وسیلہ بنانا۔

کسی قبر والے سے کہنا: آپ میرے حق میں دعا اور سفارش کریں۔

📌 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں یا آپ کی وفات کے بعد آپ کی ذاتِ اقدس کو وسیلہ نہیں بنایا۔
📌 سلف صالحین اور ائمہ محدثین سے بھی یہ قطعاً ثابت نہیں۔

پھر ایسی غیر مشروع صورتوں کو اپنانا دین کیسے بن سکتا ہے؟

➤ پہلی وجہ: بدعت ہونا

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
”جو آدمی کوئی ایسا کام کرے جس پر ہمارا طریقہ نہ ہو، وہ مردود ہے۔“
📚 [مسلم 1877]

➤ دوسری دلیل: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا:

سمعت ابن عباس يقول : عجبا لترك الناس هذا الإهلال، ولتكبير هم ما بي، الا أن يكون التكبيرة حسنا، ولكن الشيطان ياتي الإنسان من قبل الإثم، فاذا عصم منه جاءه من نحو البر، ليدع سنة وليبتدي بدعة۔

”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگوں کا تلبیہ چھوڑ کر تکبیر کہنا تعجب کی بات ہے۔ میرے نزدیک تکبیر اچھی ہے، لیکن شیطان پہلے گناہ کی طرف بلاتا ہے، جب وہاں کامیاب نہ ہو تو نیکی کے دروازے سے آتا ہے تاکہ انسان سنت چھوڑ کر بدعت کو اپنا لے۔“
📚 [مسند اسحاق بن راهويه 482، سند صحیح]

➤ تیسری وجہ: غلوّ ہونا

نبی ﷺ نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ
”تم دین میں غلوّ سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے امتیں دین میں غلوّ ہی سے ہلاک ہوئیں۔“
📚 [مسند أحمد 1/215، نسائي 3059، ابن ماجه 3029، وسند صحیح]

🌸 خلاصہ:

وسیلے کی صرف وہی تین صورتیں جائز ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔

اس کے علاوہ تمام وسیلے (فوت شدہ یا غائب نبی/ولی کی ذات، قبروں سے سفارش مانگنا وغیرہ) بدعت، ناجائز اور غلوّ ہیں۔

دین میں غلوّ اور بدعت ہلاکت کا سبب ہے، لہٰذا عبادات میں صرف قرآن و سنت پر اکتفا ضروری ہے۔

3 ↰ وسیلہ اور قرآن کریم

بعض لوگ وسیلے کی ان صورتوں کے قائل ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ یہ حضرات اپنے ہمنواؤں کو طفل تسلی دینے کے لیے قرآن کریم سے دلائل گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اختیار کردہ صورتیں صریحاً کتاب و سنت سے متصادم ہیں۔
اصلاحِ احوال کی خاطر ان کے پیش کردہ دلائل کا علمی جائزہ درج ذیل ہے:

✿ دلیل نمبر ➊

قرآن:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔“
📚 [المائدة: 35]

✔ تبصرہ:
تمام مفسرین کے اتفاق سے یہاں وسیلے سے مراد ذاتی نیک اعمال ہیں، جن کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ فوت شدگان کے وسیلے کا اس آیت سے استدلال قرآن کی معنوی تحریف ہے۔

✿ اقوالِ مفسرین

🔹 امام طبری رحمہ اللہ (م 310ھ):
وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ یعنی:
واطلبوا القربة إليه بالعمل بما يرضيه…
”یعنی اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔“
📚 [تفسیر طبری 1/628]

🔹 امام زمخشری رحمہ اللہ (م 538ھ):
الوسيلة : كل ما يتوسل به… من فعل الطاعات وترك المعاصي
”وسیلہ ہر وہ عمل ہے جس کے ذریعے قرب حاصل کیا جائے، جیسے طاعات بجا لانا اور گناہوں سے بچنا۔“
📚 [الكشاف 1/628]

🔹 امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ (م 606ھ):
”یہود اطاعت سے دور ہو کر صرف آباء کے شرف پر فخر کرتے تھے۔ مسلمانو! تم اس کے برعکس اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے تقرب حاصل کرو۔“
📚 [التفسير الكبير 11/348-349]

🔹 امام خازن رحمہ اللہ (م 741ھ):
وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ یعنی:
”اس کی اطاعت و فرماں برداری کے اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش کرو۔“
📚 [لباب التأويل 2/38]

🔹 حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م 774ھ):
وهذا الذى قاله هؤلاء الأئمة، لا خلاف بين المفسرين
”ان ائمہ نے جو کہا یہی مفسرین کا متفقہ قول ہے۔“
📚 [تفسير ابن كثير 2/535]

✿ مزید وضاحت

امام فخر رازی رحمہ اللہ نے فرمایا:
یہود و نصاریٰ اپنے آباء و اجداد کے اعمال پر فخر کرتے تھے:
﴿نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ﴾ [المائدة: 18]
اللہ نے فرمایا: اے ایمان والو! اپنے اسلاف کے شرف پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی اعمال پر فخر کرو اور انہی کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش کرو۔
📚 [التفسير الكبير 11/349]

🌸 خلاصہ:

آیت وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کے بارے میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ وسیلہ سے مراد ذاتی نیک اعمال ہیں۔

اس آیت سے فوت شدگان کے وسیلے کا استدلال سراسر تحریف اور اسلاف کے اجماعی فہم کے خلاف ہے۔

قرآن نے یہود و نصاریٰ کے آباء پر فخر کرنے کو رد کیا، اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ اللہ کا قرب صرف اپنے اعمالِ صالحہ سے تلاش کرو۔

4 ↰ وسیلہ اور قرآن کریم

✿ دلیل نمبر ۲

ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾
”یہ لوگ جنہیں مشرکین پکارتے ہیں، یہ تو اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔“
📚 [الإسراء: 57]

✔ تبصرہ:
یہ آیت اس بات پر بالکل واضح ہے کہ جن نیک لوگوں کو مشرکین معبود بنا کر پکارتے تھے وہ خود اللہ کا قرب نیک اعمال کے ذریعے تلاش کرتے تھے۔
اس سے فوت شدگان یا ذوات کو وسیلہ بنانے کا کوئی تعلق نہیں۔

✿ اقوالِ مفسرین

🔹 امام طبری رحمہ اللہ (310ھ):
يبتغون إلى ربهم القربة والزلفة…
”جنہیں مشرکین معبود سمجھتے تھے، وہ تو خود اللہ کے قریب ہونے کے لیے نیک اعمال کرتے تھے۔“
📚 [جامع البيان 17/471]

🔹 امام سمرقندی رحمہ اللہ (373ھ):
القربة والفضيلة والكرامة بالأعمال الصالحة
”یہ نیک لوگ اپنے رب کے قرب، فضیلت اور کرامت نیک اعمال کے ذریعے تلاش کرتے ہیں۔“
📚 [بحر العلوم 2/317]

🔹 امام قرطبی رحمہ اللہ (671ھ):
يتضرعون إلى الله تعالىٰ فى طلب الجنة، وهى الوسيلة
”یہ نیک لوگ جنت کے لیے اللہ تعالیٰ سے گریہ و زاری کرتے ہیں، یہی وسیلہ ہے۔“
📚 [الجامع لأحكام القرآن 10/279]

🔹 امام بیضاوی رحمہ اللہ (685ھ):
يبتغون إلى الله القرابة بالطاعة
”یہ نیک لوگ اطاعت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔“

🔹 تفسیر جلالین:
القربة بالطاعة
”یعنی نیک اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا۔“
📚 [تفسير الجلالين 372]

🔹 امام زمخشری رحمہ اللہ (538ھ):
يحرصون أيهم يكون أقرب إلى الله وذلك بالطاعة
”وہ اس حرص میں رہتے ہیں کہ کون اللہ کے زیادہ قریب ہو جائے، اور یہ اطاعت کے ذریعے ہوتا ہے۔“

✿ اعترافِ متاخرین

دیوبند کے شیخ الحدیث انور شاہ کشمیری (م 1352ھ) لکھتے ہیں:
لا حجة فيه على التوسل المعروف… ولم يأت بنقل عن السلف
”اس آیت میں ہمارے ہاں رائج وسیلے (توسل بالاموات یا بالذوات) پر کوئی دلیل نہیں، اور نہ ہی سلف سے اس کی کوئی روایت منقول ہے۔“
📚 [فيض الباري 3/434]

🌸 خلاصہ:

آیت ﴿يبتغون إلى ربهم الوسيلة﴾ سے وسیلے کا صحیح مطلب صرف نیک اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔

سلف صالحین میں سے کسی نے بھی اس آیت سے فوت شدہ یا بزرگوں کی ذوات کا وسیلہ مراد نہیں لیا۔

اس آیت سے اموات یا ذوات کے وسیلے کو ثابت کرنا قرآن کی تحریف اور سلف کے اجماعی فہم کے خلاف ہے۔

5 ↰ وسیلہ اور قرآن کریم

✿ دلیل نمبر ۳

آیت:
﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾
📚 [النساء: 64]

ترجمہ:
”اور (اے نبی ﷺ!) اگر یہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ کے پاس آ جاتے، پھر خود اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی دعا کرتے، تو وہ اللہ کو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان پاتے۔“

✔ تبصرہ:

آیت میں بیان ہے کہ گناہگار لوگ نبی ﷺ کی زندگی میں آپ کے پاس آئیں، خود اللہ سے معافی مانگیں اور آپ ﷺ بھی ان کے لیے دعا کریں۔

یہ دراصل مشروع وسیلہ (زندہ صالح سے دعا کروانا) ہے۔

اس میں وفات کے بعد قبر سے استغفار یا سفارش طلب کرنے کا کوئی ذکر یا ثبوت نہیں۔

✿ فہمِ سلف و دلائل

سیاق: خطاب نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے متعلق ہے۔

منافقین کی مذمت:
﴿تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ﴾ [المنافقون: 5]
”جب ان سے کہا جاتا کہ آؤ تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں، تو وہ تکبر سے منہ پھیر لیتے تھے۔“
یہ بھی آپ ﷺ کی زندگی ہی کا واقعہ ہے۔

عملِ صحابہ: نبی ﷺ کے وصال کے بعد کسی صحابی یا تابعی سے یہ عمل ثابت نہیں کہ وہ قبر پر آ کر استغفار کی درخواست کرتے ہوں۔ ان کا معمول صرف سلام کہنا تھا۔

ممانعت: نبی ﷺ نے فرمایا:
«لا تجعلوا قبري عيدًا»
”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔“
📚 [ابوداؤد 2041، سند حسن]

✿ اقوالِ ائمہ

🔹 ابن عبدالہادی رحمہ اللہ:
عربی:
«لم يفهم أحد من السلف إلا المجيء إليه في حياته ليستغفر لهم… ولم يأت أحدٌ قبرَه يسأله الاستغفار بعد وفاته…»
📚 [الصارم المنكي ص 317–321]

ترجمہ:
”سلف میں سے کسی نے بھی اس آیت سے یہی نہیں سمجھا سوائے اس کے کہ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے پاس آ کر استغفار کی درخواست کی جائے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی نے بھی آپ کی قبر پر آ کر استغفار کی درخواست نہیں کی۔“

🔹 ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
عربی:
«سؤال الدعاء والشفاعة عند القبر بعد الموت لا أصل له، ولم يفعله واحد من السلف، ولو كان مستحبًّا لكانوا أسبقَ الناس إليه…»
📚 [مجموع الفتاوی 1/241]

ترجمہ:
”وفات کے بعد قبر کے پاس آ کر دعا یا شفاعت طلب کرنا بے اصل ہے۔ سلف میں سے کسی نے یہ عمل نہیں کیا۔ اگر یہ مستحب ہوتا تو وہ (صحابہ و تابعین) سب سے پہلے اس پر عمل کرتے۔“

🌸 خلاصہ:

یہ آیت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی میں گناہگار آپ کے پاس آئیں، اللہ سے معافی مانگیں اور آپ ﷺ ان کے لیے دعا کریں۔

وفات کے بعد قبر پر آ کر استغفار یا سفارش طلب کرنا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ سلف کے عمل سے۔

لہٰذا یہ آیت بھی مشروع وسیلے (زندہ سے دعا کروانا) پر دلیل ہے، نہ کہ اموات یا ذوات کے وسیلے پر۔

6 🌿 جائز وسیلہ قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآن کریم اور صحیح احادیث سے تین طرح کا وسیلہ ثابت ہے:
1️⃣ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا وسیلہ۔
2️⃣ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ۔
3️⃣ کسی زندہ نیک شخص کی دعا کا وسیلہ۔

لہٰذا وسیلے کی صرف یہی قسمیں جائز اور مشروع ہیں۔ باقی تمام اقسام غیر مشروع، ناجائز اور حرام ہیں۔

✿ زندہ نیک شخص کی دعا کے وسیلے کا جواز

❀ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ:
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ:
أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا، فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا. قال: فيسقون .
📚 [صحيح البخاري 137/1، ح:1010]

”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب قحط پڑتا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (کی دعا) کے وسیلے سے بارش طلب کرتے اور بارش عطا ہو جاتی۔“

✿ اقوالِ ائمہ

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
التوسل به في حياته هو أن يسألوه أن يدعو الله، فيدعو لهم، ويدعون فيتوسلون بشفاعته ودعائه.
”نبی ﷺ کی زندگی میں وسیلہ یہی تھا کہ صحابہ آپ سے دعا کی درخواست کرتے، آپ ﷺ دعا فرماتے، اور وہ لوگ آپ کی دعا کا حوالہ اللہ کے حضور پیش کرتے۔“
📚 [مختصر الفتاوى المصرية، ص 194]

◈ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ:
ويستفاد من قصة العباس من استحباب الاستشفاع بأهل الخير وأهل بيت النبوة.
”سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل خیر اور اہل بیت سے سفارش کروانا مستحب ہے۔“
📚 [فتح الباري 2/497]

✿ اہم وضاحت

✔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قحط کے موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرواتے تھے، نہ کہ ان کی ذات کو بطور وسیلہ پیش کرتے تھے۔

✔ اگر شخصی وسیلہ پیش کرنا مشروع ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مدینہ منورہ میں خود نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک موجود تھی۔ وہ چاہیں تو قبر نبوی پر جا کر دعا کرتے یا کم از کم دعا میں یہ کہتے: ”اے اللہ! ہمیں اپنے نبی کے وسیلے سے بارش عطا فرما“۔

❌ لیکن ایسی کوئی بات کسی صحیح حدیث میں منقول نہیں۔

✅ جو چیز ثابت ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک زندہ شخص یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی گئی۔

🌸 خلاصہ:

قرآن و سنت سے وسیلے کی صرف تین قسمیں ثابت ہیں۔

حدیثِ عمر و عباس رضی اللہ عنہما سے واضح ہے کہ مشروع وسیلہ صرف زندہ نیک شخص کی دعا ہے۔

اگر فوت شدگان یا ذوات کا وسیلہ جائز ہوتا تو سب سے پہلی مثال نبی ﷺ کی قبر مبارک ہی ہوتی، مگر صحابہ کرام نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

7 ✿ استسقاءِ عمر و عباسؓ — صحیح و ضعیف روایات کا تحقیقی جائزہ

✿ صحیح روایت

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1010 میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قحط کے موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی۔
یہی صحیح اور قابلِ حجت روایت ہے، جس سے زندہ نیک شخص کی دعا کا وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔

✿ ضعیف و موضوع روایات
1) روایتِ کلبی (موضوع)

یہ روایت بیان کرتی ہے کہ قحط کے موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دعا کرتے وقت کہا:

متن:
«اللهم إنه لم ينزل بلاء إلا بذنب، ولم يكشف إلا بتوبة، وقد توجه القوم بي إليك لمكاني من نبيك»

ترجمہ:
”اے اللہ! ہر مصیبت گناہ کی وجہ سے نازل ہوتی ہے اور توبہ ہی سے دور ہوتی ہے۔ لوگوں نے میرے ذریعے تیری طرف رجوع کیا ہے، کیونکہ میں تیرے نبی کے ہاں مرتبہ رکھتا تھا۔“

جرح و حکم:

اس کی سند میں محمد بن سائب کلبی ہے:
◈ امام بخاری: منكر الحديث
◈ امام نسائی: متروك الحديث
◈ ابن حبان: كان سبئياً يكذب

اس میں ابو صالح باذام بھی ہے جو ضعیف و مختلط ہے۔

🔴 یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔

2) روایتِ ابن عبدالبر (بے سند)

اس روایت کے مطابق قحط کے وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دعا میں کہا:

متن:
«اللهم إنا نتقرب إليك بعم نبيك ونستشفع به، فاحفظ فينا نبيك كما حفظت الغلامين لصلاح أبيهما»

ترجمہ:
”اے اللہ! ہم تیرے نبی کے چچا کے ذریعے تیرا قرب چاہتے ہیں اور ان کی سفارش تجھ سے کرتے ہیں۔ تو ہمارے بارے میں اپنے نبی کا اسی طرح لحاظ فرما جس طرح تو نے والدین کی نیکی کے سبب دو بچوں کا لحاظ فرمایا تھا۔“

جرح و حکم:

یہ روایت الاستیعاب، التمہید اور الاستذکار میں منقول ہے مگر بغیر سند۔

اصولِ حدیث کے مطابق بے سند روایت حجت نہیں، خاص طور پر عقائد و احکام میں۔

🔴 یہ روایت ناقابلِ اعتبار ہے۔

3) روایتِ ابن عمر (سخت ضعیف)

یہ روایت بیان کرتی ہے کہ عام الرمادہ (قحط کے سال) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارش کی دعا میں کہا:

متن:
«اللهم! هذا عم نبيك العباس، نتوجه إليك به، فاسقنا…»
پھر بارش ہوئی اور اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا:
”لوگو! رسول اللہ ﷺ عباس رضی اللہ عنہ کا احترام اپنے والد کی طرح کرتے تھے، ان کی تعظیم کرتے اور ان کی قسم پوری کرتے تھے، لہٰذا تم بھی ان کی اقتدا کرو اور ان کو وسیلہ بنا کر اللہ سے بارش طلب کرو۔“

ترجمہ:
”اے اللہ! یہ تیرے نبی کے چچا عباس ہیں، ہم ان کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔“

جرح و حکم:

اس روایت کی سند میں داود بن عطاء مدنی ہے:
◈ امام احمد: ليس بشيء
◈ ابوحاتم: ضعيف الحديث، منكر الحديث
◈ ابو زرعہ: منكر الحديث
◈ بخاری: منكر الحديث
◈ دارقطنی: متروك
◈ ابن عدی: في حديثه بعض النكارة
◈ ذہبی: متروك

🔴 لہٰذا یہ روایت شدید ضعیف ہے اور حجت نہیں۔

✿ خلاصہ

صحیح بخاری (1010): زندہ نیک شخص (عباسؓ) کی دعا کا وسیلہ۔

ضعیف روایات: یا موضوع (کلبی)، یا بے سند (ابن عبدالبر)، یا شدید ضعیف (ابن عمر)۔

صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد کبھی بھی قبر یا فوت شدگان کی ذات کو وسیلہ نہیں بنایا؛ ہمیشہ زندہ نیک شخص کی دعا کو وسیلہ بنایا۔

8 ✿ استسقاء سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید بن الاسود رحمہ اللہ کا وسیلہ

صحابی رسول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں بارش کے لیے ایک بہت ہی نیک تابعی یزید بن الاسود رحمہ اللہ کا وسیلہ پکڑا تھا۔

✿ پہلی روایت

إن الناس قحطو ابد مشق، فخرج معاوية يستسقي بيزيد بن الأسود…

”دمشق میں لوگ قحط زدہ ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یزید بن الاسود رحمہ اللہ کے وسیلے سے بارش طلب کرنے کے لیے نکلے۔۔۔“
📚 (تاريخ أبي زرعة الدمشقي:602/1، تاريخ دمشق:112،111/65، وسنده صحيح)

یہاں پر قارئین کرام غور فرمائیں کہ یہ بالکل وہی الفاظ ہیں، جو صحیح بخاری کی حدیث میں ہیں کہ اس میں «استسقي بالعباس بن عبدالمطلب» کے لفظ ہیں اور اس میں «يستسقي بيزيد بن الأسود» کے الفاظ ہیں۔

اب دیکھیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کو جو یزید بن الاسود رحمہ اللہ کا واسطہ دیا تھا، اس سے کیا مراد تھی ؟

إن السماء قحطت، فخرج معاوية بن أبي سفيان و أهل دمشق يستسقون، فلما قعد معاوية على المنبر، قال : أين يزيد بن الأسود الجُرشي ؟ فناداه الناس، فأقبل يتخطى الناس، فأمره معاوية فصعد المنبر، فقعد عند رجليه، فقال معاوية : اللهم إنا نستشفع إليك اليوم بخيرنا و أفضلنا، اللهم ! إنا نستشفع إليك اليوم بيزيد بن الأسود الجرشي، يا يزيد ! إرفع يديك إلى الله، فرفع يديه، ورفع الناس أيديهم، فما كان أوشك أن ثارت سحابة في الغرب، كأنها ترسٌ، وهبَّت لها ريحٌ، فسقتـنا حتى كاد الناس أن لا يبلغوا منازلهم.

”ایک دفعہ قحط پڑا۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور دمشق کے لوگ بارش طلب کرنے کے لیے نکلے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھ گئے تو فرمایا: یزید بن الاسود جرشی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے ان کو آواز دی۔ وہ لوگوں کو پھلانگتے ہوئے آئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا تو وہ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے قدموں کے پاس بیٹھ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یوں دعا کی :
”اے اللہ ! ہم تیری طرف اپنے میں سے سب سے بہتر اور افضل شخص کی سفارش لے کر آئے ہیں، اے اللہ ! ہم تیرے پاس یزید بن الاسود جرشی کی سفارش لے کر آئے ہیں۔“
(پھرفرمایا) یزید! اللہ تعالیٰ کی طرف ہاتھ اٹھائیے (اور دُعا فرمائیے) ، یزید نے ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے۔ جلد ہی افق کی مغربی جانب میں ایک ڈھال نما بادل کا ٹکڑا نمودار ہوا، ہوا چلی اور بارش شروع ہو گئی، حتی کہ محسوس ہوا کہ لوگ اپنے گھروں تک بھی نہ پہنچ پائیں گے۔“

📚 (المعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان الفسوي:219/2، تاريخ دمشق:112/65، وسنده صحيح)

✿ توثیق

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس اثر کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
📚 (الإصابة في تميز الصحابة:697/6)

✿ نتیجہ

معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زندہ نیک لوگوں سے دعا کرا کے اس کا حوالہ اللہ تعالیٰ کو دیتے تھے۔ یہی ان کا نیک لوگوں سے توسل لینے کا طریقہ تھا۔

9 ✿ زندہ نیک شخص کی دعا کا وسیلہ — صحابہ کرام کے عملی دلائل

✿ سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی نیک تابعی کی دعا کا وسیلہ پکڑا تھا، اس روایت کے الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیں:

إن الضحاك بن قيس خرج يستسقي، فقال ليزيد بن الأسود: قم يا بكاء!

”ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ بارش طلب کرنے کے لیے (کھلے میدان میں) نکلے تو یزید بن اسود رحمہ اللہ سے کہا: اے (اللہ کے سامنے) بہت زیادہ رونے والے! کھڑے ہو جائیے (اور بارش کے لیے دعا کیجیے) ۔“
📚 (المعرفة والتاريخ:220/2، تاريخ أبي زرعة الدمشقي:602/1، تاريخ دمشق:220/65، وسنده صحيح)

🔎 قارئین کرام ہی بتائیں کہ کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو وسیلے کے مفہوم کا زیادہ علم تھا یا بعد والے ادوار کے کسی شخص کو؟ پھر کسی ایک بھی صحابی یا تابعی یا ثقہ محدث سے ذات کے وسیلے کا جواز ثابت نہیں ہے۔
کیا اب بھی کوئی ذی شعور انسان صحیح بخاری والی حدیث میں مذکور وسیلے سے ذات کا وسیلہ مراد لے گا؟

✿ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أنهم لما فتحوا تستر، قال : فوجد رجلا أنفه ذراع في التابوت، كانوا يستظهرون ويستبطرون به، فكتب أبو موسى إلى عمر بن الخطاب بذلك، فكتب عمر : إن هذا نبي من الانبياء والنار لا تأكل الانبياء، والارض لا تأكل الانبياء، فكتب أن أنظر أنت وأصحابك – يعني أصحاب أبي موسى – فادفنوه في مكان لا يعلمه أحد غيركما، قال : فذهبت أنا وأبو موسى فدفناه.

”جب صحابہ کرام نے تستر کو فتح کیا تو وہاں تابوت میں ایک شخص کا جسم دیکھا۔ اس کی ناک ہمارے ایک ہاتھ کے برابر تھی۔ وہاں کے لوگ اس تابوت کے وسیلے سے غلبہ و بارش طلب کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا اور سارا واقعہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے ایک نبی ہیں۔ نہ آگ نبی کو کھاتی ہے نہ زمین۔ پھر فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی کوئی ایسی جگہ دیکھو جس کا تم دونوں کے علاوہ کسی کو علم نہ ہو، وہاں اس تابوت کو دفن کر دو۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابو موسیٰ گئے اور اسے (ایک گمنام جگہ میں ) دفن کر دیا۔“
📚 (مصنف ابن أبي شيبه:4/7، الرقم:33819، وسنده صحيح)

🔎 یعنی سیدنا عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیائے کرام کے جسم یا ان کی ذات کو وسیلہ بنانا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ عجمی علاقوں کے کفار اس توسل کے قائل تھے، ان کے اس فعل شنیع کو ختم کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس نبی کے جسم کو کسی گمنام جگہ میں دفن کرنے کا حکم دے دیا۔

✿ علمی خیانت پر تنبیہ

بعض لوگ خیانتِ علمی سے کام لیتے ہوئے ان روایات کے آدھے ٹکڑے سامعین کے سامنے رکھتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ انبیائے کرام کے اجسام اور ان کی قبروں سے توسل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی لیا جاتا تھا۔ یہ لوگ اگلے ٹکڑے ڈکار جاتے ہیں جن میں وضاحت ہے کہ یہ کام عجمی کفار کا تھا اور صحابہ کرام نے ان کے اس کام کو جائز نہیں سمجھا، نہ انہیں اس کام کی اجازت دی، بلکہ اس کے سدباب کے لیے انتہائی اقدامات کیے۔

یہ حرکت بدترین خیانت ہے۔ دنیا میں تو اللہ تعالیٰ نے ایسے نام نہاد سکالرز کو مہلت دی ہوئی ہے، لیکن ایسے لوگ روزِ قیامت عذابِ الٰہی سے نہیں بچ پائیں گے۔ اب بھی موقع ہے، انہیں حشر اور حساب سے ضرور جانا چاہیے۔

10 ✿ قبر نبویﷺ سے توسل والی روایات کا تجزیہ

روایت نمبر ۱

ابوحرب ہلالی کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے فریضہ حج ادا کیا، پھر وہ مسجد نبوی کے دروازے پر آیا، وہاں اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھنے کے بعد مسجد میں داخل ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس آیا اور آپ کے پاؤں مبارک کی جانب کھڑا ہو گیا اور کہا: السلام عليك يا رسول الله ! پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں گناہگار ہوں، اس لیے آیا ہوں تاکہ اللہ کے ہاں آپ کو وسیلہ بنا سکوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کريم میں فرمایا ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ (النساء 4 :64 )
” (اے نبی !) اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو آپ کے پاس آئیں، پھر اللہ سے معافی مانگیں اور ان کے لیے اللہ کا رسول بھی معافی مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحیم پائیں گے.“ (شعب الإيمان للبيھقي:495/3، ح:4178، وفي نسخة:3880)

تبصره :
یہ سخت قسم کی ’’ضعیف ‘‘ روایت ہے، کیونکہ :
(1) محمد بن روح بن یزید مصری راوی کے حالات نہیں مل سکے۔
(2) ابوحرب ہلالی کون ہے؟ معلوم نہیں۔
(3) عمرو بن محمد بن عمرو بن الحسین کے نہ حالات ملے ہیں، نہ توثیق۔
یہ ’’مجہول ‘‘ راویوں میں سے کسی کی کارستانی ہے۔ ایسی روایت سے دلیل لینا اہل حق کا وطیرہ نہیں۔
حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م : ۷۰۵۔۷۴۴ ھ) فرماتے ہیں : باسناد مظلم۔
”یہ واقعہ سخت مجہول سند سے مروی ہے۔“ (الصارم المنكي في الرد علي السبكي، ص : 384)

روایت نمبر ۲

محمد بن حرب ہلالی بیان کرتا ہے:
دخلت المدينة فأتيت قبر النبي صلى الله عليه وسلم فزرته, وجلست بحذائه، فجاء أعرابي فزاره، ثم قال: يا خير الرسل ! إن الله أنزل عليك كتابًا صادقًا، قال فيه: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ﴾إلي قوله ﴿رَحِيمًا﴾ واني جئتك مستغفرًا ربك من ذنوبي، متشفعابك۔۔۔
میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر گیا، اس کی زیارت کی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ایک بدوی شخص آیا اور قبر مبارک کی زیارت کے بعد کہنے لگا: اے خیرالرسل !بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل کی ہے۔ اس میں اللہ نے فرمایا ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ۔۔۔﴾ اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں اور پھر آپ کے پاس آ کر اللہ سے معافی طلب کریں اور آپ بھی ان کے لیے معافی مانگیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کو معاف فرما دے گا)۔۔۔ (وفاء الوفاء بأخبار دارالمصطفٰي للسمھودي:1361/4، اتحاف الزائر لأبي اليمن عبدالصمد بن عبدالوھاب بن عساكر:68،69، أخبار المدينة لابن النجار:147، مثيرالعزم الساكن لابن الجوزي:477، شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام لمحد بن أحمد بن علي الفاسي:369/4، وقد ذكره ابن بشكوال أيضا كما في القول البديع للسخاوي:162، 163)

تبصره:
یہ بھی جھوٹی داستان ہے۔ اس حکایت کے بارے میں علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م : ۷۴۴ھ) فرماتے ہیں :
وهذه الحكاية التي ذكرها بعضهم يرويها عن العتبي، بلا إسناد، وبعضهم يرويها عن محمد بن حرب الهلالي، وبعضهم يرويها عن محمد بن حرب، بلا إسناد، عن أبي الحسن الزعفراني عن الأعرابي. وقد ذكرها البيهقي في كتاب "شعب الإيمان” بإسناد مظلم عن محمد بن روح بن يزيد البصري، حدثني أبو حرب الهلالي، قال: حج أعرابي، فلما جاء إلى باب مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أناخ راحلته فعقلها، ثم دخل المسجد حتى أتى القبر، ثم ذكر نحو ما تقدم. وقد وضع لها بعض الكذابين إسناداً إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه، كما سيأتي ذكره۔ وفي الجملة؛ ليست ھذه الحكاية المذكورة عن الأعرابي مما تقوم به الحجة، وإسنادها مظلم، ولفظها مختلف "أيضاً”، ولو كانت ثابتة لم يكن فيها حجة على مطلوب المعترض، ولا يصلح الاحتجاج بمثل هذه الحكاية، ولا الاعتماد على مثلها عند أهل العلم
اس حکایت کو بعض لوگوں نے عتبی سے بیان کیا ہے اور بعض نے بلاسند ذکر کیا ہے۔ جبکہ بعض نے محمد بن حرب ہلالی سے اسے روایت کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی سند یوں بیان کی ہے: محمد بن حرب، ابوالحسن زعفرانی سے بیان کرتا ہے اور وہ بدوی سے ۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس واقعے کو اپنی کتاب شعب الایمان میں ایک سخت ضعیف سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ وہ سند یوں ہے : محمد بن روح بن یزید بصری کہتے ہیں کہ ہمیں ابوحرب ہلالی نے بیان کیا کہ ایک بدوی نے حج کیا پھر مسجد نبوی کے پاس آ کر اپنا اونٹ باندھ دیا، مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر، مبارک پر آیا۔۔۔ بعض جھوٹے لوگوں نے اس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک سند گھڑ لی ہے ، الغرض بدوی والے اس منکر قصے سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ اس کی سند سخت ضعیف ہے اور اس کی سند و متن دونوں میں اختلاف ہے۔۔۔ اس جیسی حکایت سے دلیل لینا اور اس پر اعتماد کرنا اہل علم کے نزدیک جائز نہیں۔ (الصارم المنكي في الرد علي السبكي، ص:212)

راویوں کا حال:
(1) ابن فضیل نحوی
(2) محمد بن روح
(3) محمد بن حرب ہلالی
تینوں کی توثیق نہیں مل سکی۔ جس کے دین کا علم نہ ہو، اس کی بیان کردہ روایات کو اپنا دین بنانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ داستان انہی تینوں میں سے کسی ایک کی کارروائی لگتی ہے۔

11 ✿ قبر نبویﷺ سے توسل والی روایات کا تجزیہ

روایت: ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ تابعی رحمہ اللہ

متن:
قحط أهل المدينة قحطا شديدا، فشكوا إلى عاشة، فقالت : انظروا قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فاجعلوا منه كوى إلى السما، حتى لا يكون بينه وبين السما سقف، قال : ففعلوا، فمطرنا مطرا حتى نبت العشب، وسمنت الإبل، حتى تفتقت من الشحم، فسمي عام الفتق

”ایک مرتبہ اہل مدینہ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (اس کیفیت کے بارے میں) شکایت کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس جاؤ اور وہاں سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبر اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے اسی طرح کیا تو بہت زیادہ بارش ہوئی یہاں تک کہ خوب سبزہ اُگ آیا اور اونٹ ایسے ہو گئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے، لہٰذا اس سال کا نام عام الفتق (پیٹ پھٹنے والا سال ) رکھ دیا گیا۔“
📚 (مسند الدارمي: 58/1، ح:93، مشكاة المصابيح:5650)

✿ تبصرہ

یہ روایت سنداً ضعیف ہے:

راوی عمرو بن مالک نکری اگرچہ ثقہ ہے لیکن اس کی حدیث ابوالجوزاء سے غیر محفوظ ہے۔

امام ابن عدی نے فرمایا:
«حدث عنه عمرو بن مالك قدر عشرة أحاديث غير محفوظة»
”عمرو بن مالک نے ابوالجوزاء سے تقریباً دس غیر محفوظ احادیث بیان کی ہیں۔“
📚 (تهذيب التهذيب 1/336)

لہٰذا یہ روایت بھی غیر محفوظ شمار ہوتی ہے۔

✿ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ردّ

انہوں نے فرمایا:

«وما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء، لينزل المطر فليس بصحيح، ولا يثبت إسناده…»

”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بارش کے لیے قبر نبوی پر سے روشن دان کھولنے کی جو روایت مروی ہے وہ صحیح نہیں، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔“

پھر وضاحت کی:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حجرہ مبارکہ میں کوئی روشن دان موجود ہی نہ تھا۔

وہ حجرہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا نبی ﷺ کے زمانے میں تھا، یعنی کچھ حصہ مسقوف اور کچھ کھلا۔

صحیح بخاری و مسلم میں ثابت ہے کہ عصر کی نماز کے وقت سورج کی دھوپ حجرے میں آتی تھی۔

بعد میں جب حجرہ مسجد کے اندر شامل ہوا تو اس کے گرد بلند دیوار بنائی گئی اور پھر بعد میں ایک کھڑکی رکھی گئی تاکہ صفائی کے لیے داخل ہوا جا سکے۔

📚 (الرد على البكري، ص 68-74)

✿ اگر صحیح بھی مان لیا جائے

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

«لو صح ذلك لكان حجة ودليلاً على أن القوم لم يكونوا يقسمون على الله بمخلوق، ولا يتوسلون في دعائهم بميت، ولا يسألون الله به، وإنما فتحوا على القبر لتنزل الرحمة عليه…»

”اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نہ تو اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی قسم دیتے تھے، نہ فوت شدگان کا وسیلہ پکڑتے تھے اور نہ ہی ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے۔ انہوں نے تو صرف قبر مبارک پر سے کھڑکی کھولی تاکہ اللہ کی رحمت نازل ہو۔“
📚 (الرد على البكري، ص 74)

یعنی یہ روایت فوت شدگان سے توسل کے قائلین کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔

✿ ایک الزامی جواب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے:

«ومن حدثك أنه يعلم الغيب، فقد كذب، وھو يقول : لا يعلم الغيب إلا الله»
”جو تمہیں یہ کہے کہ محمد ﷺ غیب جانتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ غیب کو صرف وہی جانتا ہے۔“
📚 (صحيح بخاري 2/298، ح:7380، صحيح مسلم 1/98، ح:177)

قبوری حضرات چونکہ اس بات کو ماننے پر تیار نہیں، اس لیے اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

”آپ کا یہ قول اپنی رائے سے ہے، اس پر کوئی حدیث مرفوع پیش نہیں فرماتیں، بلکہ آیات سے استدلال فرماتی ہیں۔“
📚 (جاء الحق 1/124)

❓ سوال یہ ہے کہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول (علم غیب کے بارے میں) محض رائے ہے اور قبول نہیں تو پھر ان کا قبر نبوی سے کھڑکی کھولنے والا قول کیوں کر معتبر ہو سکتا ہے، جب کہ اس پر بھی نہ کوئی آیت ہے نہ حدیث، اور وہ روایت بھی ضعیف ہے؟

🌸 خلاصہ:
یہ اثر ضعیف ہے اور اگر بالفرض صحیح مان بھی لیا جائے تو بھی یہ فوت شدگان کے وسیلے کی دلیل نہیں بنتا، بلکہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بارش کے لیے رحمتِ الٰہی مانگی گئی، نہ کہ قبر یا ذات سے دعا کی گئی۔

12 ✿ کائنات کی تخلیق کس لیے ہوئی؟

✿ قرآنی جواب

اللہ تعالیٰ نے صاف اور واضح اعلان فرمایا:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾
”میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
📚 (الذاريات:56)

یعنی کائنات اور اس کا نظام عبادتِ الٰہی کے لیے تخلیق ہوا، نہ کہ کسی اور مقصد کے لیے۔

✿ من گھڑت صوفیانہ عقیدہ

گمراہ صوفیوں نے ایک جھوٹی روایت مشہور کر رکھی ہے کہ:
”اگر نبی کریم ﷺ نہ ہوتے تو کائنات تخلیق ہی نہ ہوتی“۔
یہ نظریہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور اس بارے میں بیان کی گئی روایات سب کی سب ضعیف، جعلی اور موضوع ہیں۔

✿ باطل روایت

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ اللہ نے فرمایا:
«ولولاك يا محمد ! ما خلقت الدنيا»
”اے محمد ﷺ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا۔“
📚 (تاريخ ابن عساكر 3/518، الموضوعات لابن الجوزي 1/288-289)

✿ محدثین کا حکم

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ: موضوع (من گھڑت)

حافظ سیوطی رحمہ اللہ: ابن الجوزی کے حکم کو برقرار رکھا۔
📚 (اللآلي المصنوعة 1/272)

✿ سند کے رواۃ پر جرح

1️⃣ محمد بن عیسیٰ بن حیان مدائنی

دارقطنی: متروك الحديث، ضعیف (سؤالات الحاكم 171، سنن الدارقطني 1/78)

ابواحمد الحاکم: حدث عن مشايخه ما لم يتابع عليه (تاريخ بغداد 2/399)

لالکائی: ضعیف (تاريخ بغداد 2/398)

ابن الجوزی: ضعیف (الموضوعات 1/289)
✔ صرف ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا، مگر جمہور کی تضعیف راجح ہے۔

2️⃣ محمد بن صباح (کوفی)

ابوحاتم رازی: ليس بقوي (الجرح والتعديل 7/290)

3️⃣ ابراہیم بن ابی حیہ

امام بخاری: منكر الحديث (التاريخ الكبير 1/283)

دارقطنی: متروك (الضعفاء والمتروكين 17)

نسائی: ضعیف

ابوحاتم: منكر الحديث (الجرح والتعديل 2/149)

علی بن مدینی: ليس بشيء (لسان الميزان 1/52)

ابن حبان: يروي المناكير والأوابد، يسبق إلى القلب أنه المتعمد بها (المجروحين 1/103-104)

4️⃣ خلیل بن مرہ

امام بخاری: منكر الحديث، فيه نظر (التاريخ الكبير 3/199، سنن الترمذي 2666، 3474)

ابوحاتم: غير قوي (الجرح والتعديل 3/379)

نسائی: ضعيف (الضعفاء والمتروكين 178)

یحییٰ بن معین: ضعيف

ابن حبان: منكر الحديث عن المشاهير، كثير الرواية عن المجاهيل (المجروحين 1/286)

5️⃣ یحییٰ (ابن ابی صالح یا ابن ابی حیہ کلبی)

اگر ابن ابی صالح ہے تو مجہول (تقريب التهذيب 7569)

اگر ابوجناب کلبی ہے تو ضعیف و مدلس (نصب الراية 2/23، تخريج الإحياء 3708)

✿ خلاصہ

یہ روایت پانچ وجوہات سے باطل ہے:

راوی مجہول،

متروک،

کذاب،

منکر الحدیث،

سند منقطع و مظلم۔

قرآن نے واضح کیا کہ کائنات عبادتِ الٰہی کے لیے تخلیق ہوئی ہے، نہ کہ کسی کے طفیل یا صدقے کے لیے۔

📌 مزید تحقیق کے لیے دیکھیں:
🔗 https://tohed.com/3daa7e

13 ✿ آدم علیہ السلام کے وسیلے پر دلائل: تجزیہ

✿ قرآن کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾ (البقره:37)
”آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے۔ پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔“

وہ کلمات قرآن میں یوں بیان ہوئے:
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الاعراف:23)
”اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔“

➤ یعنی آدم و حواء علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کو اس کی مغفرت اور رحمت کی صفات کا وسیلہ دیا۔

✿ موضوع روایت (باطل حکایت)

بعض لوگوں نے یہ روایت بیان کی ہے:

متن:
«لما أذنب آدم صلى الله عليه وسلم الذنب الذي أذنبه، رفع رأسه إلى العرش، فقال : أسألك بحق محمد، إلاّ غفرت لي… ولولاه يا آدم ما خلقتك»
📚 (المعجم الصغير للطبراني 2/182 ح992، المعجم الأوسط 6502)

ترجمہ:
”جب آدم علیہ السلام سے خطا ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! میں محمد ﷺ کے حق کے واسطے تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد کون ہیں؟ آدم نے کہا: جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش پر لکھا دیکھا: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ میں جان گیا کہ یہ بڑی ہستی ہے۔ اللہ نے فرمایا: وہ تمہاری اولاد میں آخری نبی ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔“

✿ حکم: یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے
✿ سند کے رواۃ پر جرح
1️⃣ عبدالرحمن بن زید بن اسلم

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:
ضعيف – ”یہ ضعیف ہے۔“

امام بخاری رحمہ اللہ:
منكر الحديث – ”منکر الحدیث ہے (یعنی ایسی روایات بیان کرتا ہے جو معروف راویوں کے خلاف ہوں)۔“

امام نسائی رحمہ اللہ:
ضعيف – ”یہ ضعیف ہے۔“

امام دارقطنی رحمہ اللہ:
متروك الحديث – ”ترک کیا گیا راوی ہے۔“

امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ:
ضعيف الحديث، منكر الحديث – ”ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔“

امام ابو زرعہ رحمہ اللہ:
ضعيف – ”یہ ضعیف ہے۔“

امام ابن سعد رحمہ اللہ:
ضعيف – ”یہ ضعیف ہے۔“

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ:
لا أحتج به – ”میں اس کی روایت کو حجت نہیں مانتا۔“

امام ترمذی رحمہ اللہ:
ضعيف – ”یہ ضعیف ہے۔“

امام ابن حبان رحمہ اللہ:
يخطئ كثيرا، يقلب الأسانيد – ”یہ بہت غلطیاں کرتا اور اسانید کو الٹ پلٹ دیتا ہے۔“

حافظ ذہبی رحمہ اللہ:
ضعفه الجمهور – ”جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
متفق على تضعيفه – ”اس کے ضعیف ہونے پر سب محدثین کا اتفاق ہے۔“

🔴 خلاصہ: عبدالرحمن بن زید کو محدثین نے متفقہ طور پر ضعیف، متروک اور کثیر الغلطی راوی قرار دیا ہے۔

2️⃣ محمد بن داود بن عثمان صدفی مصری

اس کی معتبر توثیق محدثین سے ثابت نہیں۔

3️⃣ احمد بن سعید مدنی فہری

اس کی بھی معتبر توثیق نہیں ملی۔

✿ خلاصۂ کلام

یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔

بنیادی علت: عبدالرحمن بن زید بن اسلم، جو جمہور کے نزدیک سخت ضعیف اور متروک ہے۔

قرآن مجید میں خود بیان موجود ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو اس کی صفاتِ مغفرت اور رحمت کا واسطہ دیا، کسی نبی یا مخلوق کی ذات کا نہیں۔

🔗 مزید تحقیق کے لیے ملاحظہ کریں:
👉 https://tohed.com/e2719e

14 ✿ قبر نبویﷺ سے وسیلہ: مالک الدار والی روایت کا تحقیقی جائزہ

✿ روایت کا متن

عن مالك الدار، قال : وكان خازن عمر على الطعام، قال : أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له : ائت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مستقيمون وقل له : عليك الكيس، عليك الكيس، فأتى عمر فأخبره فبكى عمر ثم قال : يا رب ! لا آلو إلا ما عجزت عنه.

”مالک الدار، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں غلے کے خزانچی تھے، روایت کرتے ہیں کہ قحط پڑا تو ایک شخص نبی ﷺ کی قبر پر آیا اور کہا: یا رسول اللہ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا فرمائیے۔ پھر خواب میں نبی ﷺ اس شخص کے پاس آئے اور کہا: عمر کے پاس جاؤ، میرا سلام کہو اور خبر دو کہ بارش ہو گی، اور عمر کو کہو کہ عقلمندی سے کام لیں۔ وہ شخص سیدنا عمر کے پاس آیا اور بتایا تو سیدنا عمر رو پڑے اور کہا: اے اللہ! میں اپنی استطاعت کے مطابق کوتاہی نہیں کرتا۔“
📚 (مصنف ابن أبي شيبه 6/356، تاريخ ابن أبي خيثمه 2/70، دلائل النبوة للبيهقي 7/47، تاريخ دمشق 44/345)

✿ سند پر تبصرہ

1️⃣ الاعمش (سلیمان بن مہران) – مدلس

یہ روایت "عن" سے ہے، سماع کی صراحت نہیں، اس لیے اصولِ محدثین کے مطابق ضعیف ہے۔

🔹 امام شافعی رحمہ اللہ:
«لا نقبل من مدلس حديثا حتى يقول: حدثني أو سمعت»
”مدلس کی روایت اس وقت تک قبول نہیں جب تک وہ سماع کی صراحت نہ کرے۔“
📚 (الرسالة، ص 380)

🔹 امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ:
«لا يكون حجة فيما دلس»
”مدلس کی تدلیس والی روایت حجت نہیں ہوتی۔“
📚 (الكامل لابن عدي 1/34)

🔹 حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ:
«لا يقبل تدليس الأعمش»
”اعمش کی تدلیس قبول نہیں۔“
📚 (التمهيد 1/30)

🔴 لہٰذا اعمش کی اس روایت کو ضعیف کہا گیا ہے۔

2️⃣ مالک الدار – مجہول الحال

سوائے ابن حبان کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔

🔹 حافظ منذری: «لا أعرفه» – ”میں اسے نہیں جانتا۔“ (الترغيب 2/29)
🔹 حافظ ہیثمی: «لم أعرفه» – ”میں اسے نہیں پہچان سکا۔“ (مجمع الزوائد 3/123)

🔴 لہٰذا مالک الدار بھی مجہول ہے۔

3️⃣ خواب کا قصہ

حدیث کی دنیا میں خواب حجت نہیں۔ خواب سے شرعی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہو سکتا۔

✿ محدثین کا کلام

حافظ ابن کثیر (البدایہ 5/167) اور حافظ ابن حجر (الإصابة 3/484) نے اس کو "صحیح" کہا ہے، مگر یہ ان کا تسامح ہے، کیونکہ انہوں نے اصولِ حدیث کے مطابق اعمش کی تدلیس اور مالک الدار کی جہالت پر بحث نہیں کی۔

خود حافظ ابن حجر نے اعمش کی تدلیس کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ روایت معلول ہے۔
📚 (التلخيص الحبير 3/19)

✿ تنبیہ

بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ تھے، لیکن یہ اضافہ بھی سخت ضعیف اور بے بنیاد ہے، کیونکہ اس کی سند میں شعیب بن ابراہیم رفاعی (مجہول) اور سیف بن عمر (وضاع و متروک) جیسے جھوٹے راوی ہیں۔

✿ خلاصہ

مالک الدار کی روایت میں دو بنیادی علتیں ہیں:

اعمش مدلس ہے اور سماع کی تصریح نہیں۔

مالک الدار مجہول الحال ہے۔

اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔

اس سے قبر نبوی سے دعا یا وسیلے کا جواز لینا بالکل غلط ہے۔

📌 مزید تفصیلی تحقیق اور اسی طرح کی دیگر روایات کا علمی جائزہ یہاں پڑھیں:

🔗 وسیلے کی ممنوع اقسام کے 41 دلائل کا تحقیقی جائزہ
https://tohed.com/a79785

15 ✿ وسیلے کے عقلی دلائل کا ردّ

یہ تو بیان ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تین قسم کا وسیلہ جائز ہے، اس کے علاوہ ہر قسم کا وسیلہ، مثلاً کسی مخلوق کی ذات یا فوت شدگان کا وسیلہ ناجائز و حرام ہے۔ بعض حضرات ناجائز وسیلے پر مبنی اپنے خود ساختہ عقائد کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت، جعلی، بناوٹی اور ضعیف روایات پیش کرتے ہیں۔ آئیے اب وسیلے کے حق میں پیش کردہ عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں:

░ پہلی عقلی دلیل: سیڑھی اور چھت والی مثال

کہا جاتا ہے کہ جیسے چھت تک پہنچنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے اللہ تک پہنچنے کے لئے اولیاء کا وسیلہ چاہیے۔

جواب:
پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کے لئے مخلوق کی مثالیں دینا منع ہے، کیونکہ اللہ کی کوئی مثل نہیں:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
ترجمہ: "اس جیسا کوئی بھی نہیں، اور وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔”
📚 (الشورى: 11)

اللہ تو عرش پر ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے:
﴿الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴾
ترجمہ: "رحمٰن عرش پر مستوی ہے۔”
📚 (طٰہ: 5)

تاہم علم و قدرت کے اعتبار سے وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے:
﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ﴾
ترجمہ: "اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔”
📚 (ق: 16)

چونکہ اللہ علم و قدرت کے اعتبار سے ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے اس لئے اس تک پہنچنے کے لئے کسی مخلوق کے شخصی و ذاتی وسیلے کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ سیڑھی والی مثال میں باور کروایا جاتا ہے۔

مزید برآں اللہ نے براہ راست خود کو پکارنے کا حکم دیا ہے:
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
ترجمہ: "اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”
📚 (غافر: 60)

اور قرآن و حدیث میں جتنی بھی دعائیں آئی ہیں وہ سب براہ راست اللہ سے ہیں، بغیر کسی تیسرے فریق کے شخصی وسیلے کے۔ اس لئے سیڑھی اور چھت والی مثال بالکل باطل ہے۔

░ دوسری عقلی دلیل: بادشاہ اور وزیر والی مثال

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ تک پہنچنے کے لئے پہلے وزیروں سے ملنا پڑتا ہے، ویسے اللہ تک رسائی کے لئے اولیاء کی ضرورت ہے۔

جواب:
بادشاہ تک رسائی اس لئے مشکل ہے کہ وہ کمزور اور محتاج انسان ہے، ہر ایک کو براہ راست نہیں ملتا، اس لئے وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن اللہ کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ اللہ تو دل کی پکار بھی براہ راست سنتا ہے:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
ترجمہ: "اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیجئے) کہ میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”
📚 (البقرة: 186)

لہٰذا اللہ تک پہنچنے کے لئے کسی وزیر، دربان یا ولی کی ضرورت نہیں۔

░ تیسری عقلی دلیل: پولیس اور ماں والی مثال

دعوتِ اسلامی کے سربراہ الیاس قادری صاحب کی ایک وائرل ویڈیو ہے جس میں وہ کہتے ہیں: اگر چوری ہو جائے تو ہم پولیس سے مدد لیتے ہیں، کھانے کے لئے ماں سے مدد لیتے ہیں، تو کیا یہ بھی شرک ہے؟ مدد تو صرف اللہ سے مانگنی چاہیے۔

جواب:
اس بچگانہ دلیل کا جواب بہت آسان ہے۔ کیا ہم مرے ہوئے پولیس والوں سے مدد لیتے ہیں؟ یا ان پولیس والوں سے جو موقع پر موجود ہی نہیں؟ کیا ہم مری ہوئی ماں سے روٹی مانگتے ہیں؟ یا زندہ اور موجود ماں سے جو واقعی مدد کر سکتی ہے؟ یہ سب ماتحت الاسباب مدد ہے، جس کے جائز ہونے پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔”
📚 (المائدہ: 2)

لیکن اصل مسئلہ مافوق الاسباب (اسباب سے ہٹ کر) مدد مانگنے کا ہے، یعنی غیبی طور پر کسی سے فریاد کرنا جو مدد پر قادر ہی نہ ہو۔ مثلاً عبدالقادر جیلانی کو ’’غوث الاعظم‘‘ (سب سے بڑا فریاد رس) مان کر "یا غوث الاعظم مدد” کے نعرے لگانا، یہ صریح شرک ہے، بالکل ویسا ہی جیسا ہندو اپنے مندروں میں کرتے ہیں۔