واٹساپ دعوتی مواد عید الاضحی، عشرۂ ذوالحجہ

عید الاضحی، عشرۂ ذوالحجہ

26 پیغامات

1 عَشرۂ ذُوالْحِجَّہ کی فضیلت

────────────────────
🕋 عَشرۂ ذُوالْحِجَّہ کی فضیلت 🕋
────────────────────

🌟 سال کے بارہ مہینوں میں ذُوالْحِجَّہ کے ابتدائی دس دن وہ عظیم ایام ہیں جنہیں کتاب و سنت میں بےپناہ فضیلت حاصل ہے۔

📖 اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
وَالفَجْرِ، وَلَيَالٍ عَشْرٍ...
[سورہ الفجر: 1-3]
🔹 جمہور مفسرین کے نزدیک "لَيَالٍ عَشْرٍ" سے مراد ذُوالْحِجَّہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔
📌 اللہ کا ان راتوں کی قسم کھانا ہی ان کی فضیلت کے لیے کافی ہے!

🌺 صحیح بخاری میں حدیث ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
❝اللہ کو ان دس دنوں میں نیک عمل اتنا محبوب ہے جتنا کسی اور دن میں نہیں❞
صحابہؓ نے عرض کیا:
یارسول اللہ! جہاد بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
❝جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو جان و مال کے ساتھ نکلا اور کچھ واپس نہ آیا❞
[ 969 :صحیح بخاری]

📌 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عَشرۂ ذُوالْحِجَّہ کے نیک اعمال، عام دنوں کے بڑے بڑے اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔

📚 بعض علماء نے فرمایا:
👉 دن کے اعتبار سے ذُوالْحِجَّہ کے ابتدائی دس ایام افضل ہیں (یوم عرفہ کی وجہ سے)
👉 راتوں کے اعتبار سے رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں افضل ہیں (شبِ قدر کی وجہ سے)
[مرعاة المفاتيح: 2/357]

🔹 یہ بھی اس عشرہ کی خصوصیت ہے کہ:
نماز، روزہ، حج، عمرہ، قربانی — جیسی عظیم عبادات ایک ساتھ اسی عشرہ میں جمع ہوتی ہیں۔

🌿 لہٰذا...!
ان مبارک دنوں میں ان عبادات کا خاص اہتمام کریں:
📍 نماز
📍 روزہ
📍 تلاوتِ قرآن
📍 ذکر و اذکار، تسبیح، تہلیل، تکبیر و تحمید
📍 صدقہ و خیرات

📌 ان ایام میں نیکیوں کا وزن بہت بھاری ہے، اس موقع کو غنیمت جانیں!

📚 حوالہ:
[مرعاة المفاتيح: 2/357]

──────────────
📤 شیئر کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں!

2 عشرۂ ذی الحجہ اور قربانی کرنے والوں کے لیے اہم ہدایت

━━━━━━━━━━━
📿 عشرۂ ذی الحجہ اور قربانی کرنے والوں کے لیے اہم ہدایت
━━━━━━━━━━━
🔸 جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے عشرۂ ذی الحجہ شروع ہونے کے بعد جسم کے کسی بھی حصے کے بال کاٹنے یا ناخن ترشوانے کی ممانعت ہے۔

📖 صحیح مسلم کی روایت میں فرمایا گیا:
"جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔"
(صحیح مسلم: 5117)

📌 اس حدیث کی روشنی میں:
▪️ بال یا ناخن کاٹنا حرام ہے۔
▪️ امام احمد، اسحاق، داود ظاہری اور بعض شوافع کے نزدیک یہی راجح ہے۔
▪️ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مباح ہے۔

━━━━━━━━━━━
📿 جو قربانی نہ کر سکے ان کے لیے کیا حکم ہے؟
━━━━━━━━━━━
❇️ جن کے پاس استطاعت نہیں، ان پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔
البتہ سنن ابی داؤد میں اشارہ ملتا ہے کہ اگر کوئی قربانی نہ کر سکے تو:
✂️ اپنے بال اور ناخن کاٹ لے
🧼 صفائی کرے
تو اللہ کے ہاں اسے مکمل قربانی کا ثواب حاصل ہو گا۔
(سنن ابی داؤد: 2789)

📚 علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا،
لیکن شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور بعض دیگر محدثین کے نزدیک یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔

📌 مکمل حوالہ جات اور دلائل کے لیے مکمل مضمون پڑھیں:
👇👇👇
https://tohed.com/afe162
━━━━━━━━━━━
🤲 اللہ ہمیں صحیح علم، اخلاص اور سنت کی پیروی کی توفیق دے۔ آمین

3 عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل اور تکبیرات کا مشروع ہونا

🟫 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🕋 عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل اور تکبیرات کا مشروع ہونا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تہلیل: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه»
تکبیر: «اللّٰهُ أَكْبَر»
تحمید: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ»

یہ اذکار عشرۂ ذوالحجہ کے خاص اعمال میں سے ہیں، جن کا صریح ذکر احادیث میں ملتا ہے۔

📖 اصل دلیل (حدیث ابنِ عمرؓ)

عربی:
«ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه العمل فيهن من هذه الأيام العشر، فَأَكْثِرُوا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد»
حوالہ: مسند احمد (صحیح)، رقم 5446

ترجمہ:
“اللہ کے نزدیک (ذوالحجہ کے) دس دنوں سے زیادہ عظیم اور ان دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں؛ لہٰذا ان ایام میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کہا کرو۔”

فقہی نکتہ: اس حدیث کی بنیاد پر علماء نے واضح کیا کہ ابتداے ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ (ایامِ تشریق کے آخر) تک ہر وقت — زمان و مکان کی قید کے بغیر — تکبیر/تہلیل/تحمید مشروع و مستحب ہیں۔

🕯️ صحابہؓ کا عمل (بخاری کی روایت)

عربی:
«أن أبا هريرة وابن عمر رضي الله عنهما كانا يخرجان إلى السوق في أيام العشر، فيكبران ويكبر الناس بتكبيرهما»
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل في أیام التشریق

ترجمہ:
“ابوہریرہؓ اور ابن عمرؓ عشرۂ ذوالحجہ میں بازار جاتے، بلند آواز سے تکبیر کہتے، اور لوگوں کی تکبیروں سے ماحول گونج اٹھتا۔”

🧭 ائمہ کے آثار/تصریحات

  • امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ: «وكان مشايخنا يقولون بالتكبير في أيام العشر كلّها»
    حوالہ: مرعاة المفاتیح 2/357

  • علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ:
    “تکبیرات شروعِ ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک مشروع و مستحب ہیں؛ صرف نمازوں کے بعد یا مردوں/شہریوں تک محدود سمجھنا درست نہیں — یہ ایام ہر مسلمان کے لیے ہر جگہ عام ہیں۔”
    حوالہ: مرعاة المفاتیح 2/357


🕯️ کلماتِ تکبیر (احادیث و آثار سے ثابت)

  1. «اللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، وَاللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْد»
    سند: صحیح
    حوالہ: مصنف ابن أبی شیبہ، حدیث 5646

  2. «اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْد»
    سند: صحیح
    حوالہ: مصنف ابن أبی شیبہ 5645، الأوسط للطبرانی 4/301، السنن الکبری للبیہقی 3/314–315

  3. «اللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا»
    سند: صحیح
    حوالہ: السنن الکبری للبیہقی 3/316، فضائل الأوقات ص 424، رقم 227

حافظ ابن حجرؒ: “الفاظِ تکبیر میں سب سے زیادہ صحیح و معتبر یہی الفاظ ہیں۔”
حوالہ: فتح الباری 2/462

نوٹ: یہ صیغے صحابہ و تابعین کے آثار سے ثابت ہیں؛ صحیح مرفوع حدیث میں الفاظِ تکبیر متعین نہیں۔


✅ عشرہ زوالحجہ میں کرنے کے کام:

  • کثرت سے: تہلیل، تکبیر، تحمید

  • نمازوں کی پابندی + نوافل/تلاوت

  • روزہ (بالخصوص 9 ذوالحجہ/عرفہ — مقیم، غیر حاجی)

  • صدقہ و خیرات، صلہ رحمی

  • قربانی کی نیت ہو تو بال/ناخن نہ کاٹنا (مسلم 5117)

🤲 اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الذَّاكِرِينَ فِي هَذِهِ الأَيَّامِ الْمُبَارَكَةِ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا يَا كَرِيمُ.

4 عشرۂ ذوالحجہ کے روزے اور یومِ عرفہ کی فضیلت

📿 عشرۂ ذوالحجہ کے روزے اور یومِ عرفہ کی فضیلت 📿
━━━━━━━━━━━━━━━

🌙 ذوالحجہ کے ابتدائی 9 دنوں کے روزے:
ازواجِ مطہرات میں سے ایک سے روایت ہے:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ...»
📗 [صحیح سنن ابی داود: حدیث 2437]

یعنی رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے نو دنوں، یوم عاشوراء، اور ہر مہینہ میں تین دن کے روزے رکھتے تھے۔

📌 اس حدیث سے ذوالحجہ کے ابتدائی 9 دنوں میں نفلی روزوں کا استحباب معلوم ہوتا ہے۔

🤔 اعتراض اور اس کا جواب:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
«مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ»
📘 [صحیح مسلم: حدیث 2789]
🔸 ترجمہ: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرہ (ذوالحجہ) میں کبھی روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔"

علماء کے جوابات:
1️⃣ حضرت عائشہؓ نے یہ بات اپنے علم کے مطابق کہی۔
2️⃣ ممکن ہے بیماری یا سفر کی وجہ سے نبی ﷺ نے روزہ نہ رکھا ہو۔
3️⃣ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اوقات آپ ﷺ کسی عمل کو امت پر فرضیت کے خوف سے چھوڑ دیتے تھے۔

📚 تفصیل کے لیے رجوع کریں:
▫️ فتح الباری: جلد 2، صفحہ 559، حدیث 969
▫️ شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 8، صفحہ 312، حدیث 2781

━━━━━━━━━━━━━━━
🕋 یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت:
━━━━━━━━━━━━━━━

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
«سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ»
📕 [صحیح مسلم: حدیث 1162]
🔸 ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “یہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔”

🔹 غیر حاجیوں کے لیے یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے۔
🔹 حجاج کے لیے بہتر ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں تاکہ عرفات میں مکمل طاقت کے ساتھ دعا و ذکر میں مشغول رہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━
📅 یومِ عرفہ کا روزہ کب رکھا جائے؟
━━━━━━━━━━━━━━━

یوم عرفہ = 9 ذوالحجہ
یعنی جس دن حجاج میدان عرفہ میں وقوف کرتے ہیں۔

🔍 دو موقف:
1️⃣ ہر ملک کی مقامی رؤیت کے مطابق 9 ذوالحجہ کو روزہ رکھا جائے۔
📌 دلیل: حدیث «تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ» (سنن ابی داود 2437)

2️⃣ وہ دن منتخب کیا جائے جب حجاج عرفات میں وقوف کر رہے ہوں، یعنی سعودی رؤیت کی بنیاد پر۔
📌 دلیل: حدیث «صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ» (صحیح مسلم 1162)

🔸 بعض علماء کا موقف ہے کہ برصغیر کے حساب سے جب 9 ذی الحجہ ہوتی ہے، تو سعودی عرب میں 10 یا 11 ہو چکی ہوتی ہے، جو یوم عرفہ نہیں ہوتا۔

📌 دونوں موقف کے دلائل موجود ہیں، جس پر جس کو اطمینان ہو، وہ عمل کر سکتا ہے۔

⭐ میرا ذاتی رجحان پہلے موقف کی طرف ہے (مقامی رؤیت کے مطابق 9 ذی الحجہ کو روزہ رکھا جائے)
کیونکہ:
▪️ دین میں سہولت اور آسانی ہے
▪️ پہلے لوگ وقوف عرفہ کی صحیح تاریخ جاننے سے قاصر تھے
▪️ ایسی مشقت دین میں مطلوب نہیں – تکلیف مالا یطاق

🔖 واللہ أعلم بالصواب

5 کیا ہر عیب قربانی کے لیے رکاوٹ ہے؟

────────────────────
📌 کیا ہر عیب قربانی کے لیے رکاوٹ ہے؟
────────────────────

قربانی ایک اہم شرعی فریضہ ہے جس کے لیے شریعت نے واضح ہدایات دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے وہ عیوب بھی بیان کر دیے ہیں جو قربانی کی قبولیت میں مانع ہیں۔

❖ ہر عیب قربانی کو نامنظور نہیں کرتا، بلکہ صرف مخصوص بڑے عیوب کو رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔
اگر ہر قسم کا عیب قربانی کے لیے مانع ہوتا تو اس کا واضح حکم دیا جاتا۔

✨ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ چند بڑے عیوب کے سوا باقی کسی عیب کو قربانی کے لیے رکاوٹ نہیں سمجھا گیا۔

════════════════════
🔸 قربانی کے عیوب 🔸
════════════════════

قربانی کے جانور کا دوندا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے:

📗 صحیح مسلم:
❝ ضَحُّوا بِالثَّنِيَّةِ مِنَ الْمَعْزِ. ❞
➤ "قربانی کا جانور دوندا ہونا چاہیے۔"
(صحیح مسلم: ١٩٦٣)

اس کے علاوہ، قربانی کے جانور کو درج ذیل عیوب سے پاک ہونا چاہیے:

📜 سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

❝ أَرْبَعٌ لاَ تُجْزِئُ فِي الأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لاَ تُنْقِي. ❞
➤ "چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں:
1️⃣ ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو۔
2️⃣ ایسا بیمار جانور جس کی بیماری نمایاں ہو۔
3️⃣ ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔
4️⃣ ایسا لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔"
(📚 مسند الإمام أحمد: 4/84، سنن أبو داود: 2802، سنن الترمذی: 1497، سنن النسائی: 4374، سنن ابن ماجہ: 314)

────────────────────
🔍 مزید تفصیل:
────────────────────

📜 سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے جانور کی آنکھوں اور کانوں کو بغور دیکھنے کا حکم دیا۔
(📚 سنن الترمذی: 1503، سنن النسائی: 4381، سنن ابن ماجہ: 3143)

📜 سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مزید بیان ہے:

❝ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُضَحَّى بِمَقْطُوعِ الأُذُنِ وَالْقَرْنِ. ❞
➤ "نبی اکرم ﷺ نے کٹے ہوئے کان اور ٹوٹے سینگ والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا۔"
(📚 سنن أبو داود: 2805، سنن الترمذی: 1503، سنن النسائی: 4382، سنن ابن ماجہ: 3145)

════════════════════
🟢 خصی جانور کی قربانی
════════════════════

نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے مخصوص عیوب بیان کیے ہیں، اور خصی جانور ان میں شامل نہیں ہے۔ اس کے بارے میں محدثین اور فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لہٰذا، خصی جانور کی قربانی کو جائز سمجھا گیا ہے۔

📚 علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
❝ اس بارے میں کوئی اختلاف ہمارے علم میں نہیں آیا۔ ❞
(المغنی: 3/476، 9/442)

📚 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے:
❝ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ❞
(📘 مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راہویہ بروایۃ إسحاق بن منصور الکوسج: 368/2)

════════════════════
❓ کیا صرف خصی ہونا ہی عیب ہے؟
════════════════════

کئی اور ایسے عیوب ہیں جو عموماً جانور میں پائے جاتے ہیں، مگر انہیں قربانی کے لیے رکاوٹ نہیں سمجھا جاتا، جیسے:

▪️ جانور کا قد چھوٹا ہونا۔
▪️ جانور کا رنگ بھدا ہونا، جس سے اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔
▪️ مادہ جانور کا حاملہ نہ ہونا۔

یہ تمام عیوب اس لیے قربانی میں مانع نہیں بنتے کیونکہ شریعت نے انہیں قربانی کے عیوب میں شامل نہیں کیا ہے۔

✨ اسی طرح خصی جانور کو بھی عیب نہیں سمجھا جاتا۔

════════════════════
📌 خلاصہ
════════════════════

➤ صرف چند مخصوص بڑے عیوب ہی قربانی کے جانور کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔
➤ خصی جانور اور دیگر چھوٹے عیوب قربانی کو نامنظور نہیں کرتے، جب تک کہ شریعت نے انہیں واضح طور پر بیان نہ کیا ہو۔

6 قربانی کے وقت اونٹ کو کھڑا رکھنا سنت ہے

عن زياد بن جبير رضي الله عنه قال:
"رأيت ابن عمر أتى على رجل قد أناخ بدنته، فنحرها، فقال: ابعثها قياماً مقيّدة، سنّة محمد ﷺ"
(صحیح البخاری، کتاب الحج، باب نحر الابل مقيدة، ح: 1713)
(صحیح مسلم، کتاب الحج، باب نحر البدن قیاماً مقيدة، ح: 1320)

📚 ترجمہ:
زیاد بن جبیرؒ فرماتے ہیں:
"میں نے سیدنا ابن عمرؓ کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے اونٹ کو بٹھا کر قربان کیا، تو آپؓ نے فرمایا: اونٹ کو کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ کر قربانی کرو، یہی سنتِ محمد ﷺ ہے۔"

📌 شرح حدیث:
اونٹ کو قربانی کے وقت کھڑا رکھ کر بائیں پاؤں کو باندھ دینا سنت نبوی ﷺ اور عمل صحابہ ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ تھا۔

🗣 شرح المفردات:
🔸 أناح: عرب میں اونٹ کو بٹھانے کی مخصوص آواز۔
🔸 فعل: ماضی، واحد مذکر، باب افعال۔

👤 راوی الحدیث:
زیاد بن جبیرؒ ثقہ تابعی تھے، اور آپ کے والد بھی جلیل القدر تابعی تھے۔ تعلق قبیلہ بنو ثقیف سے تھا۔

7 اونٹ اور گائے کتنے افراد کی طرف سے کفایت کرتے ہیں؟

────────────────────
📌 اونٹ اور گائے کتنے افراد کی طرف سے کفایت کرتے ہیں؟
────────────────────

📖 حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"أمرنا رسول الله ﷺ أن نشترك فى الإبل والبقر كل سبعة منا فى بدنة"
"رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں (ایسے) شریک ہوں کہ ہر سات افراد ایک اونٹ یا گائے میں شریک ہوں۔"
(مسلم: 1318، کتاب الحج: باب الاشتراك فى الهدى)

📖 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
"فذبحنا بقرة عن سبعة، والبعير عن عشرة"
"ہم نے گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔"
(صحیح ابن ماجہ: 2536، کتاب الأضحیٰ: باب لمن لم تجزئ البدنة والبقرة)

📌 وضاحت:
ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں —
🔹 اگر قربانی حج یا عمرہ کے موقع پر بطور ہدی ہو، تو اونٹ یا گائے سات افراد کی طرف سے کفایت کرتے ہیں۔
🔹 اور اگر صرف عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی ہو تو اونٹ دس افراد کی طرف سے کفایت کر سکتا ہے، جیسا کہ ابن عباسؓ کی حدیث سے واضح ہے۔

──────────────
📚 سنت کے مطابق قربانی کا علم حاصل کیجیے اور دوسروں تک پہنچائیے 🕌

8 اشعار (منیٰ میں قربانی سے پہلے اونٹ کو داہنی جانب زخم دینا)

━━━━━━━━━━ ❀ ━━━━━━━━━━
📜 اشعار (منیٰ میں قربانی سے پہلے اونٹ کو داہنی جانب زخم دینا)
✦ سنتِ نبوی ﷺ، اور اس پر سلف صالحین کا عمل ✦
━━━━━━━━━━ ❀ ━━━━━━━━━━

ہدی (منیٰ میں قربانی) کےلیے اونٹ کو داہنی جانب جو زخم لگایا جاتا تھا، اسے ‘‘ اشعار’’ کہتے ہیں۔ یہ نبی اکرمﷺ کی سنت مبارکہ ہے، جیسا کہ:

❀ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

صلّی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بذی الحلیفۃ، ثمّ دعا بناقتہ، فأشعرھا فی صفحۃ سنامھا الأیمن، وسلت الدّم، وقلّدھا نعلین، ثمّ رکب راحتلہ، فلمّا استوت بہ علی البیداء أھلّ بالحجّ۔

‘‘ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ مقام پر ادا کی، پھر اپنی اونٹنی منگوائی، اس کی کوہان کی دائیں جانب اشعار کیا اور خون کو آس پاس لگا دیا اور اس کے گلے میں دو جوتے لٹکا دئیے، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب وہ سواری آپﷺ کو لے کر بیداء پر چڑھ گئی تو آپﷺ نے حج کا تلبیہ پڑھا۔’’

(صحیح مسلم: ۱۲۴۳)

امام ترمذیؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

والعمل علی ھذا عند أھل العلم من أصحاب النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم و غیرھم، یرون الإشعار، وھو قول الثّوریّ والشّافعیّ و أحمد وإسحاق۔

‘‘ اسی پر نبی اکرمﷺ کے صحابہ اور دوسرے اہل علم کا عمل ہے، وہ اشعار کو جائز سمجھتے ہیں۔ امام سفیان ثوری، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔’’

(سنن الترمذی، تحت حدیث: ۹۰۶)

❀ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں:

فتلت قلائد بُدن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بیدی، ثمّ أشعرھا وقلّدھا۔

‘‘ میں نے رسول اللہﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے قلا دے اپنے ہاتھ سے بٹے، پھر آپﷺ نے ان کو اشعار کیا اور قلادے پہنائے۔’’

(صحیح البخاری: ۱۶۹۶، صحیح مسلم: ۳۶۲/۱۳۲۱)

واضح رہے کہ امام ابو حنیفہ اشعار، جو کہ نبی اکرمﷺ کی سنت ہے، کومثلہ کہتے ہیں، یعنی امام صاحب اسے جائز نہیں سمجھتے۔ بعض الناس نے امام صاحب کے قول کی یہ تاویل کی ہےکہ جب لوگوں نے اشعار میں مبالغہ کیا تو اس وقت امام صاحب نے مثلہ کہا ہے۔

لیکن یہ تاویل سراسر باطل ہے، کیونکہ اس پرکوئی دلیل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے اس مسئلہ میں امام صاحب کا خوب ردّ کیا ہے۔ ائمہ دین، محدثین کرام اور علمائے عظامؒ کے اقوال ملاحظہ ہوں:

📚 ائمہ کرام کے اقوال

❀ حافظ نوویؒ (۶۴۱۔۶۷۶ھ) لکھتے ہیں:

و قال أبو حنیفۃ: الإشعار بدعۃ، لأنّہ یخالف الٔاحادیث الصحیۃ المشھور فی الإشعار، وأمّا قولہ: إنّہ مثلۃ، فلیس کذلک، بل ھذا کالفصد والحجامۃ والکّی والوسم۔

‘‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ اشعار بدعت ہے، کیونکہ یہ مثلہ ہے۔ ان کا یہ قول اشعار کے بارے میں بہت سی صحیح اور مشہور احادیث کے خلاف ہے۔ رہا ان کا اشعار کو مثلہ کہنا تو یہ درست نہیں، کیونکہ اشعار ایسے ہی ہے، جیسے فصد، سنگی، داغ دینا اور نشان لگانا ہوتاہے۔’’

(شرح صحیح مسلم للنووی: ۴۰۷/۱)

❀ امام وکیع بن جراحؒ (م ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں:

لا تنظروا إلی قول أھل الرّأی فی ھذا، فإنّ الإشعار سنّۃ، وقولھم بدعۃ۔

‘‘ تم اس بارے میں اہل الرائے (ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب) کے قول کو نہ دیکھو۔ اشعار سنت ہے، جبکہ (اس کو بدعت کہنے پر مبنی) ان کا قول خود بدعت ہے۔’’

(سنن الترمذی، تحت حدیث: ۹۰۶،وسندہٗ صحیحٌ)

❀ ابوالسائب بن جنادہ کہتے ہیں:

کنا عند و کیع، فقال لرجل عندہ ممن ینظر فی الرأی: أشعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویقول أبو حنیفۃ: ھو مثلۃ، قال الرجل: فإنہ قد روی عن إبراھیم النخعی أنہ قال الإشعار مثلۃ، قال فرأیت وکیعا غضب غضبا شدیدا، وقال: أقول لک قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و تقول: قال إبراھیم، ما أحقک بأن تجس ثم لا تخرج حتی تنزع عن قولک ھذا۔

‘‘ ہم امام وکیعؒ کے پاس تھے۔ انہوں نے اپنے پاس بیھٹے ہوئے ایک آدمی، جو کہ رائے میں دلچسپی رکھتا تھا، سے فرمایا، اللہ کے رسولﷺ نے اشعار کیا ہے، امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے! آدمی کہنے لگا، ابراہیم نخعیؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے اشعار کو مثلہ کہا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ امام وکیعؒ سخت غصہ میں آ گئے اور فرمانے لگے، میں تجھے رسول اللہﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ابراہیم نخعی اس طرح کہتے ہیں۔ میں تجھے اس قابل سمجھتا ہوں کہ تجھے قید کر لیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے، جب تک تو اپنے اس قول سے باز نہ آ جائے۔’’

(سنن الترمذی، تحت حدیث: ۹۰۶، وسندہٗ صحیحٌ)

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ اہل سنت کے بہت بڑے امام وکیعؒ کس قدر اتباع سنت کے جذبہ سے سرشار ہیں؟ حدیث رسول کے خلاف کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ حدیث کے خلاف رائے پیش کرنے والوں پر شدید غصے کا اظہار فرما رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان کو ایسا ہی جذبہ و صادقہ نصیب فرمائے۔ آمین

❀ امام ابن خزیمہؒ (م ۳۱۱ھ) حدیث ابن عباس پر یوں باب قائم کرتے ہیں:

باب إشعار البُدن فی شقّ السّنام الأیمن، وسلت الدّم عنھا، ضدّقول من زعم أنّ إشعار البُدن مثلۃ، فسمّی سنّۃ النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم مثلۃ بجھلہ۔

‘‘ قربانی کے اونٹوں کی کوہان کی دائیں جانب اشعار کرنے اور خون کو لتھڑنے کا بیان، اس شخص کے ردّ میں جو یہ دعوی کرتا ہے کہ اونٹوں کو اشعار کرنا مثلہ ہے، اس نے اپنی جہالت کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کی سنت کا نام مثلہ رکھ دیا ہے۔’’

(صحیح ابن خزیمۃ: ۱۵۳/۴، ح: ۲۵۷۵)

❀ امام ابن عبدالبرؒ (م ۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

و ھذا الحکم لا دلیل علیہ إلّا التّوھّم والظّنّ، ولا تترک السّنن بالظّنون۔

‘‘ (امام ابو حنیفہ کے) اس فیصلے پر کوئی دلیل نہیں، سوائے توہم پرستی اور ظن وتخمین کے، جبکہ سنتوں کو ظن و تخمین کی وجہ سے نہیں چھوڑا جا سکتا۔’’

(الاستذکار لابن عبدالبر: ۲۶۴/۴)

❀ علامہ ابن حزمؒ (م ۴۵۶ھ) اس بارے میں لکھتے ہیں:

فقال أبو حنیفۃ: أکرہ الإشعار، وھومثلۃ، قال علیّ: ھذا طامّۃ من طوام العالم أن یکون مثلۃ شیء فعلہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، أف لکل عقل یتعقب حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویلزمہ أن تکون الحجامۃ، وفتح العرق مثلہ، فیمنع من ذلک، وأن یکون القصاص من قطع الأنف، و قلع الأسنان، وجدع الاذنین مثلۃ، و أن یکون قطع السارق و المحارب مثلۃ، والرجم للزانی المحصن مثلۃ، والصلب للمحارب مثلۃ، إنما المثلۃ فعل من بلغ نفسہ مبلغ انتقاد فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فھذا ھو الذی مثل بنفسہ، والإشعار کان فی حجۃ الوداع والنھی عن المثلۃ کان قبل قیام ذلک بأعوام، فصح أنہ لیس مثلۃ، وھذہ قولۃ لا یعلم لابی حنیفۃ فیھا متقدم من السلف، ولا موافق من فقھاء أھل عصرہ إلا من ابتلاہ اللہ بتقلیدہ، و نعوذ باللہ من البلاء۔

‘‘ امام ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ میں اشعار کو مکروہ سمجھتا ہوں، یہ تو مثلہ ہے، لیکن یہ کسی عالم کی ہفوات میں سے ہے کہ جس کام کو رسول اللہﷺ نے کیا ہے، اسے وہ مثلہ قرار دے۔ ہر اس شخص پر افسوس ہے، جو رسول اللہﷺ کے فیصلے پر گرفت کرتا ہے۔ ایسی عقل پر یہ لازم آتا ہے کہ اس کے نزدیک سنگی لگوانا، فصد کھولنا وغیرہ بھی مثلہ ہو اور وہ اس سے بھی رک جائے، نیز اس کے نزدیک ناک کاٹنے، دانت اکھیڑنے، کان کاٹنے وغیرہ کا قصاص لینا بھی مثلہ ہو اور چوری اور فسادی آدمی کا ہاتھ کاٹنا بھی مثلہ ہو، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا بھی مثلہ ہو، زمین میں فساد کرنے والے کو سولی دینا بھی مثلہ ہو۔ دراصل مثلہ تو اس نے کیا ہے، جس نے اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کے فعل مبارک پر تنقید تک پہنچا دیا ہے، یہ وہ شخص ہے، جس نے اپنے نفس کا مثلہ کیا ہے۔ حالانکہ اشعار حجۃ الوداع میں کیا گیا تھا اور مثلہ سے ممانعت اس سے کئی سال پہلے ہو چکی تھی۔ ثابت ہو کہ یہ مثلہ نہیں۔

یہ امام ابو حنیفہ کا ایسا قول ہے، جس میں ان کا کوئی سلف نہیں، نہ ہی ان کے ہم زمانہ فقہائے کرام میں سے کسی نے ان کی موافقت کی ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالی نے ان کی تقلید کی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ہم فتنہ (تقلید) سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں۔’’

(المحلی لابن حزم: ۱۱۲-۱۱۱/۷)

9 دورانِ حج یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کے چار اعمال میں ترتیب واجب نہیں

🕋 دورانِ حج یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کے چار اعمال میں ترتیب واجب نہیں 🌟

📜 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
{ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ . فَقَالَ: رَجُلٌ لَمْ أَشْعُرْ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ . اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ . وَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ . فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ }

سنن ابو داود حدیث نمبر: 2014

📖 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں کھڑے ہوئے تو لوگ آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے:

👤 ایک شخص نے کہا:
“مجھے پتہ نہیں چلا اور میں نے قربانی سے پہلے ہی سر منڈوا دیا۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
”اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔”

👤 پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا:
“مجھے پتہ نہیں چلا اور میں نے رمی سے پہلے قربانی کر دی۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
”اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔”

📌 اس دن آپ ﷺ سے کسی بھی چیز کے آگے پیچھے ہو جانے کے بارے میں جو بھی سوال کیا گیا،
آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ:
”کوئی حرج نہیں ہے، اب کر لو۔”

📚 شرح المفردات:
🔹 لم أشعر:
مجھے پتہ نہ تھا، معلوم نہ تھا، شعور نہ تھا۔
/ واحد مذکر و مؤنث متکلم، فعل مضارع منفی معلوم، باب نَصَرَ يَنْصُرُ۔

🔹 لا حرج:
کوئی حرج نہیں ہے، کوئی گناہ نہیں ہے۔

📘 شرح الحديث:
📝 ابن دقیق العید رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں کہ:

🕋 یوم النحر کے چار اعمال یہ ہیں:
1️⃣ رمی جمار
2️⃣ قربانی کرنا
3️⃣ سر منڈوانا یا بال چھوٹے کرنا
4️⃣ طواف افاضہ کرنا

🌟 یہی مشروع ترتیب ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
📖 [شرح عمدة الأحكام لابن دقيق العيد: 77/3]

✨ افضل یہی ہے کہ ہر رکن بالترتیب ادا کیا جائے
لیکن اگر لاعلمی میں ترتیب درست نہ رہے تو:
❌ کوئی گناہ نہیں
❌ نہ ہی اسے دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے

📌 جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے۔

10 ذذبح کے وقت بہنے والا خون بالاتقاق حرام ہے، اس کے علاوہ حلال جانور کے تمام اعضاء و اجزا ء حلال ہیں

🌟 ذبح کے وقت بہنے والا خون بالاتقاق حرام ہے، اس کے علاوہ حلال جانور کے تمام اعضاء و اجزا ء حلال ہیں،
لیکن حنفیوں، دیوبندیوں اور بریلویوں کے نزدیک حلال جانور میں سات اجزاء حرام ہیں۔

🔹 ابنِ عابدین حنفی لکھتے ہیں :
📚 المكروه تحريما من الشاة سيع : الفرض، والخصية، الخدة، والدم المسفوح، المرارة، والمثانة، والمذاكبر۔

✍️ ”شاة (بکری، بکرے، بھیڑ اور دبنے) میں یہ سات چیزیں مکروہ تحریمی ہیں : فرج (پیشاب کی جگہ)، کپورے، غدود، ذبح کے وقت بہنے والا خون، پتہ، مثانہ اور نر کا آلہ تناسل۔“
📘 [العفودالدرية لابن عابدين : 56]

🔹 جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی صاحب کہتے ہیں :

✍️ ”سات چیزیں حلال جانور کی کھانی منع ہیں : ذکر، فرج مادہ، مثانہ، غدود، حرام مغز جو پشت کے مہرہ میں ہوتا ہے، خصیہ، پتہ یعنی مرارہ جو کلیجہ میں تلخ پانی کا ظرف ہے۔”
📘 [تذكرة الرشيد : 174/1]

🔹 جناب احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :

✍️ ”حلال جانور کے بعض اعضاء حرام ہیں، جیسے خون، پتہ، فرج، خصیہ وغیرہ۔”
📘 [تفسير نور العرفان از نعيمي : ص 547]

🔹 یہی بات احمد رضا خان بریلوی صاحب نے بھی کہی ہے۔
📘 [فتاوي رضويه : 234/20]

📜 اب ان کے دلائل کا مختصر تحقیقی جائزہ:
🔹 دلیل نمبر: ➊
📖 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

كان رسول الله ﷺ يكره من الشاة سبعا :
➊ المرارة ➋ المثانة ➌ الحياء ➍ الذكر ➎ الأنثيين ➏ الغدة ➐ الدم

📘 [المعجم الاوسط للطبراني : 9480]

🛑 تبصرہ:

❌ اس کی سند موضوع (من گھڑت) ہے، کیونکہ:

یعقوب بن اسحاق کا تعین اور توثیق درکار ہے۔

یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
◈ ابن الملقن: "ضعفه الجمهور" 📘 [البدر المنير : 3/227]

عبد الرحمن بن زید بن اسلم متروک راوی ہے۔
◈ حافظ ہیثمی: "الأكثر على تضعيفه" 📘 [مجمع الزوائد : 2/20]

🔹 دلیل نمبر: ➋
📖 مجاہد بن جبر تابعی کہتے ہیں:

كان رسول الله ﷺ يكره من الشاة سبعا :
➊ الدم ➋ الحياء ➌ الأنثيين ➍ الغدة ➎ الذكر ➏ المثانة ➐ المرارة

📘 [مصنف عبدالرزاق : 4/55، ح 8771، السنن الكبري للبيهقي : 7/10]

🛑 تبصرہ:

مرسل روایت ہے = ضعیف

راوی واصل بن ابی جمیل ضعیف ہے
◈ یحییٰ بن معین: "لا شيء" 📘 [الجرح والتعديل : 9/30]
◈ دارقطنی: "ضعيف" 📘 [السنن : 3/76]
◈ ابن الجوزی، ابن شاہین: ضعفاء میں ذکر کیا
◈ ابن القطان: "واصل لم تثبت عدالته" 📘 [التقدير : 2/200]

❗ ابن عباس سے منسوب روایت بھی موضوع ہے
→ راوی: عبر بن موسی الوجہیی متروک الحدیث
📘 [السنن الكبرى للبيهقي : 70]

✅ خلاصہ تحقیق:
🔻 حلال جانور میں صرف دمِ مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون) حرام ہے۔
باقی تمام اجزاء حلال ہیں۔
❌ سات اجزاء کو حرام کہنا بے بنیاد اور ضعیف روایات پر مبنی ہے۔

📎 اضافی فائدہ: اوجھڑی اور گردے کا مسئلہ
🟤 اوجھڑی:

◈ عبد الحئی لکھنوی حنفی: "اوجھڑی مکروہ ہے" 📘 [فتاوی عبدالحئی : 7/397]
◈ احمد رضا خان بریلوی: "اوجھڑی مکروہ ہے" 📘 [ملفوظات : ص 35]

🟤 گردہ:

◈ رشید احمد گنگوہی: "بعض روایات میں گردہ کی کراہت ہے" 📘 [تذكرة الرشيد : 1/147]

🔍 سوال: کیا اس پر کوئی صحیح دلیل ہے؟ ❓
→ جواب: ❌ نہیں!

⚖️ امام ابو حنیفہ سے منسوب قول؟
🟡 احمد رضا خان بریلوی نقل کرتے ہیں:

"خون تو بحکم قرآن حرام ہے، باقی چیزیں میں مکروہ سمجھتا ہوں"
📘 [فتاويٰ رضويه : 20/234]

🛑 چیلنج: اس قول کو باسند صحیح امام ابو حنیفہ سے ثابت کریں۔
ورنہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔

🟢 الحاصل:
💠 حلال جانور میں ذبح کے وقت بہنے والے خون کے علاوہ
کوئی بھی عضو یا جزو حرام یا مکروہ نہیں ❗

🕋 ﴿ قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا ﴾
📖 [الأنعام: 145]

11 ایک قربانی پورے گھر کے لیئے کافی ہے

🌟 ایک قربانی پورے گھر کے لیئے کافی ہے 🌟

📜 احناف کے علاوہ تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک قربانی ایک گھرانے کے تمام افراد کی طرف سے بطور سنت کفایہ، کافی ہوگی، جیسے کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا:

> ❝رسول اللہ ﷺ کے دور میں عید قربان پر قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟❞
تو انہوں نے کہا:
"ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا، وہ خود بھی اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے، حتی کہ لوگ اس عمل پر فخر کرنے لگے اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا جو آپ کو نظر آرہا ہے"
📘 (ترمذی: 1505) ➤ اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔

📚 تحفۃ الاحوذى ميں ہے:

> ✨ "يہ حديث اس كى صريح نص اور دليل ہے كہ ايك بكرى آدمى اور اس كے گھروالوں كى جانب سے كافى ہے چاہے ان كى تعداد زيادہ ہى ہو، اور حق بھى يہى ہے۔"

📖 حافظ ابن قيم رحمہ اللہ "زاد المعاد" ميں كہتے ہيں:

> 🌿 "اور نبى كريم ﷺ كے طريقہ اور سنت ميں يہ بھى شامل ہے كہ ايك بكرى آدمى اور اس كے گھر والوں كى جانب سے كافى ہے چاہے ان كى تعداد كتنى بھى زيادہ ہو۔"

📕 امام شوكانى "نيل الاوطار" ميں لكھتے ہيں:

> 🕋 "حق يہى ہے كہ ايك بكرى ايك گھر والوں كى جانب سے كافى ہے چاہے ان كى تعداد سو يا اس سے زيادہ ہى كيوں نہ ہو، جيسا كہ سنت سے اس كا فيصلہ ہو چكا ہے۔"
🔚 (انتهى مختصرا)

👳‍♂️ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

> 🕊 "ثواب ميں شراكت كى كوئى حصر نہيں ہے، ديكھيں نبى كريم ﷺ نے سارى امت كى جانب سے قربانى كى، اور ايك شخص اپنى اور اپنے گھر والوں كى جانب سے ايك ہى قربانى كرتا ہے چاہے ان كى تعداد ايك سو ہى كيوں نہ ہو۔"
📖 ديكھيں: الشرح الممتع (5 / 275)

🧾 سعودی عرب کی مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

> ❓ ايك خاندان بائيس افراد پر مشتمل ہے، اور آمدنى ايك ہى ہے، اور خرچ بھى ايك، اور وہ سب قربانى بھى ايك ہى كرتے ہيں، مجھے علم نہيں كہ آيا ان كے ليے يہ ايك قربانى كافى ہے يا كہ انہيں دو قربانياں كرنا ہونگى؟

📘 كميٹى كا جواب تھا:

> ✅ "اگر تو خاندان بڑا ہے اور اس كے افراد زيادہ ہيں اور وہ ايك ہى گھر ميں سكونت پذير ہوں تو ان سب كى جانب سے ايك ہى قربانى كافى ہے، اور اگر وہ ايك سے زيادہ كريں تو يہ افضل ہے۔"
📚 ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء (11 / 408)

12 فضائل طواف بیت اللہ

──────────────────
🕋 فضائل طواف بیت اللہ 🕋
──────────────────

🌟 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
❝ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے اور دو رکعت نماز پڑھے،
تو اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ ❞
📘 (ابن ماجه : ٢٩٥٦، وسندہ حسن)

🌿 نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
❝ جس نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے،
تو اللہ تعالیٰ ہر قدم پر اس کے گناہ معاف فرماتا ہے،
ہر قدم پر نیکی لکھتا ہے،
اور ہر قدم پر اس کا درجہ بلند فرماتا ہے۔ ❞
📘 (الترمذی : ٩٥٩، وسندہ حسن)

🤲 اللہ ہمیں بیت اللہ کے بار بار دیدار اور طواف کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

──────────────────
📌 شیئر کریں، ثوابِ جاریہ بنائیں
──────────────────

13 مرحومین کی طرف سے قربانی کا حکم

╔════◇🌙◇════╗
      📌 مرحومین کی طرف سے قربانی کا حکم
╚════◇🌙◇════╝

❓ سوال:
کیا والدین یا دیگر مرحومین کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے؟
جیسے کہ مشہور ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک قربانی اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے کیا کرتے تھے؟

📚 جواب از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ:
میت کی طرف سے قربانی کرنے کے جواز پر جو روایت پیش کی جاتی ہے، وہ روایت ابو الحسناء نامی راوی کے مجہول ہونے کی بنا پر ضعیف ہے۔

◈ تاہم، صدقہ کے بارے میں جو عمومی دلائل احادیث و آثار میں موجود ہیں، ان کی روشنی میں میت کی طرف سے قربانی جائز ہے۔
◈ ایسی صورت میں قربانی کا سارا گوشت صدقہ کر دینا چاہیے۔

📖 شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کا قول:
“أحب إلي أن يتصدق عنه ولا يضحى عنه، وإن ضحى فلا يأكل منها شيئاً ويتصدق بها كلها”
میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور قربانی نہ کی جائے، تاہم اگر کوئی قربانی کرے تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ سارا گوشت صدقہ کر دے۔
📘 (سنن ترمذی، ابواب الأضاحی، باب ما جاء في الأضحية عن الميت، حدیث: 1495)

14 اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

╔════◇🌙◇════╗
        📌 اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
╚════◇🌙◇════╝

📌 دلیل نمبر ۱: حدیثِ جابر بن سمرہؓ
عن جابر بن سمرۃ:
أن رجلاً سأل رسول اللہ ﷺ: أأتوضأ من لحوم الغنم؟
قال: "ان شئت فتوضا، وان شئت فلا توضا"
قال: أتوضأ من لحوم الإبل؟
قال: "نعم، فتوضأ من لحوم الإبل"
قال: أصلی فی مرابض الغنم؟
قال: "نعم"
قال: أصلی فی مبارك الإبل؟
قال: "لا"

ترجمہ:
سیدنا جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر چاہو تو وضو کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو"
اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو"
عرض کی: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں"
عرض کی: کیا میں اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لوں؟
فرمایا: "نہیں"
(صحیح مسلم: حدیث ۳۶۰)

📌 دلیل نمبر ۲: حدیثِ براء بن عازبؓ
عن البراء بن عازب:
سئل رسول اللہ ﷺ عن الوضوء من لحوم الإبل،
فقال: "توضؤوا منها"
وسئل عن الوضوء من لحوم الغنم،
فقال: "لا توضؤوا منها"

ترجمہ:
سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے گوشت سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا،
تو فرمایا: "اس سے وضو کرو",
اور جب بکری کے گوشت کے متعلق پوچھا گیا،
تو فرمایا: "اس سے وضو نہ کرو".
(سنن ترمذی: ۸۱، سنن ابی داود: ۱۸۴، ابن ماجہ: ۴۸۴ — سند صحیح)

📌 دلیل نمبر ۳: اثرِ جابر بن سمرہؓ
عن جابر بن سمرۃ:
كنا نتوضأ من لحوم الإبل، ولا نتوضأ من لحوم الغنم.

ترجمہ:
ہم صحابہ کرام اونٹ کے گوشت سے وضو کرتے تھے لیکن بکری کے گوشت سے وضو نہیں کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۱/۴۶، حدیث ۵۱۷ — سند صحیح)

📚 ائمہ و محدثین کی آراء
🔹 ۱. امام ترمذیؒ (۲۰۰–۲۷۹ھ):
باب ما جاء في الوضوء من لحوم الإبل
یہ باب اونٹ کے گوشت سے وضو کے بارے میں روایات پر مشتمل ہے۔
”یہی قول امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ کا بھی ہے۔”

🔹 ۲. امام احمد بن حنبلؒ و امام اسحاقؒ:
ان دونوں کا بھی یہی مؤقف ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

🔹 ۳. امام ابوداودؒ (۲۰۲–۲۷۵ھ):
باب: الوضوء من لحوم الإبل
(سنن ابی داود: ۱۸۴)

🔹 ۴. امام ابن ماجہؒ (۲۰۹–۲۷۳ھ):
باب: ما جاء في الوضوء من لحوم الإبل
(سنن ابن ماجہ: ۴۹۴)

🔹 ۵. امام ابن خزیمہؒ (۲۲۳–۳۱۱ھ):
باب: الأمر بالوضوء من أكل لحوم الإبل
(صحیح ابن خزیمہ: ۱/۲۱، حدیث ۳۱)

🔹 ۶. امام ابن حبانؒ (م ۳۰۴ھ):
ذکر الأمر بالوضوء من أكل لحم الجزور
(صحیح ابن حبان: ۳/۴۳۱، حدیث ۱۱۵۴)

🔹 ۷. حافظ ابن حزمؒ (م ۴۵۶ھ):
”اونٹ کا گوشت، چاہے کچا ہو یا پکا، اگر علم ہو کہ یہ اونٹ کا ہے تو وضو توڑ دیتا ہے۔”
(المحلّی: ۱/۲۴۱)

🔹 ۸. امام بیہقیؒ (م ۴۵۸ھ):
باب: التوضی من لحوم الإبل
(السنن الکبری: ۱/۱۵۹)

”اس جیسے کمزور دلائل کی وجہ سے صحیح احادیث کو نہیں چھوڑا جا سکتا۔”
(السنن الکبری: ۱/۱۵۸–۱۵۹)

🔹 ۹. امام ابن المنذرؒ (م ۳۱۸ھ):
”اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو واجب ہے، کیونکہ دونوں حدیثیں صحیح اور مضبوط سند کی حامل ہیں۔”
(الاوسط: ۱/۱۳۸)

🔹 ۱۰. حافظ نوویؒ:
”یہی مذہب (کہ اونٹ کا گوشت وضو توڑ دیتا ہے) دلیل کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔”
(شرح صحیح مسلم: ۱/۱۸۵)

15 احرام میں کعب کو کھلا رکھنا ضروری ہے، نہ کہ پوری پاؤں کی پشت

🕋✨ احرام میں کعب (ankle-bone) کو کھلا رکھنا ضروری ہے، نہ کہ پوری پاؤں کی پشت ✨🕋

🌙 1. لغوی تحقیق
╭─⊱ تعریفِ کعب ⊰─╮
❈ «ٱلْكَعبانِ العِظْمانِ النَّاتِئانِ عِندَ مَفْصِلِ السّاقِ وَالْقَدَمِ»
“کعب وہ دو اُبھری ہڈیاں ہیں جو ساق اور قدم کے جوڑ پر ہیں۔” (لسان العرب)
╰──────────────────────────╯
اصمعی کا ردّ ☪️
«وَأَنْكَرَ الأَصمعيُّ قَوْلَ الناس: إِنَّهُ في ظَهْرِ القَدَمِ» (لسان العرب)
🔹 لغوی طور پر کعب صرف ٹخنے کی ابھری ہڈی ہے، پشتِ قدم نہیں۔

📜 2. حدیثی دلائل
حدیثِ ابن عمرؓ 🕌
«لا يَلْبَسُ المُحْرِمُ… ولا الخِفَافَ إلّا أحدٌ لا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، ثُمَّ لْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ» (بخاری 1543؛ مسلم 1177)
“محرم موزے نہ پہنے… ہاں جسے نعلین نہ ملیں وہ موزے پہن لے، پھر انہیں دو ٹخنوں سے نیچے کاٹ دے۔”
🔸 فقہی نکتہ: رسول ﷺ نے صرف کعبین کھلے رکھنے کا حکم دیا؛ اگر پوری مِشطِ قدم کھولنا شرط ہوتا تو اسی مقام پر واضح فرما دیتے۔

📚 3. اقوالِ متقدّمین
╭───────────❂───────────╮
أبو عبید قاسم بن سلّام (م 224ھ)
عربی متن: «ٱلكعبُ الَّذِي في أَصْلِ القَدَمِ مُنْتَهى السّاقِ إلَيْهِ»
ترجمہ: “کعب وہ جگہ ہے جو قدم کی جڑ پر واقع ہے جہاں ساق آ کر ختم ہوتی ہے۔”
حوالہ: (غریب الحدیث، ج 3، ص 185)
ابن عبد البرّ (م 463ھ)
عربی متن: «ٱلكعبانِ العِظْمانِ النَّاتِئانِ عَنِ الجَنْبَيْنِ»
ترجمہ: “کعب وہ دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پاؤں کے پہلوؤں پر نمایاں ہوتی ہیں۔”
حوالہ: (التمهید، ج 13، ص 65)
امام نووی (م 676ھ)
عربی متن:
«اتفق العلماءُ على أن المرادَ بالكعبين العِظْمانِ النَّاتِئان بين الساقِ والقدم»
ترجمہ: “علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کعبین سے مراد وہ دو اُبھری ہڈیاں ہیں جو ساق اور قدم کے بیچ میں ہیں۔”
حوالہ: (شرح صحیح مسلم، ج 8، ص 196)
ابن قدامہ (م 620ھ)
عربی متن:
«والكعابُ المشهورةُ هي الَّتِي ذَكَرْنَاها»
ترجمہ: “مشہور و معروف کعبین وہی ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے (یعنی ٹخنے کی اُبھری ہڈیاں)۔”
حوالہ: (المغنی، ج 3، ص 208)

╰───────────❂───────────╯

🏛️ 4. اقوالِ متأخّرین
حافظ ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)
عربی متن: «هذا ضعيفٌ، لا يُعرَفُ عند أهل اللُّغة أن الكعبَ هو ظهرُ القدم»
ترجمہ: “یہ قول ضعیف ہے؛ لغت کے ماہرین کے نزدیک کعب کو پاؤں کی پشت کہنا نا معلوم ہے۔”
حوالہ: (فتح الباری، ج 3، ص 307)
اللجنة الدائمة للبحوث والإفتاء (سعودیہ)
عربی متن: «لا يلزم أن يكون ظهرُ القدم مكشوفًا؛ إنما الواجب كشفُ الكعبين في النعلين»
ترجمہ: “احرام کے جوتے میں پاؤں کی پشت کا کھلا ہونا ضروری نہیں؛ لازم صرف یہ ہے کہ کعبین کھلے ہوں۔”
حوالہ: (فتاوى اللجنة الدائمة، ج 11، ص 183)
شیخ محمد بن صالح العثیمین (م 1421ھ)
عربی متن: «المقصود أن تكون النعلان تحت الكعبين، وأما ظهرُ القدم فليس بشرطٍ في الإحرام»
ترجمہ: “مقصود یہ ہے کہ نعلین کعبین سے نیچے ہوں، رہا پاؤں کا اوپری حصہ تو احرام میں اس کا کھلا ہونا شرط نہیں۔”
حوالہ: (الشرح الممتع، ج 7، ص 161)

🟢 5. حنفیہ کے استدلال کا جائزہ
بعض متاخر احناف نے لغت غریب سے ہٹ کر “کعب = پشتِ قدم” مانا، لیکن
لغت کے تمام مصادر اس کی تردید کرتے ہیں۔
حدیثِ ابن عمرؓ میں ‌«أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ» موجود ہے؛ اگر زیادہ کھلا رکھنا مقصود ہوتا تو الفاظ ظَهرِ القَدَم آتے۔
امام نووی نے اسے “اجماع کے خلاف شاذ قول” قرار دیا۔

🌟 6. خلاصہ و نتیجہ
╭═══════════════════╮
🟠 لغت: کعب فقط دونوں ٹخنے ہیں۔
🟠 حدیث: نعل کاٹنے کی حد ٹخنوں سے نیچے؛ مِشطِ قدم کھولنے کا ذکر نہیں۔
🟠 فقہ: جمہور کا فتویٰ—چپل/سینڈل جو ٹخنے کھلے رکھے ✔️ جائز ہے؛ پشتِ قدم کا کھلا ہونا ❌ لازمی نہیں۔
╰═══════════════════╯
✨ لہٰذا “احرام میں پاؤں کی اوپری ہڈی بھی لازماً کھلی رہے” کہنا بلا دلیل ہے۔ صحیح موقف یہی ہے کہ صرف دونوں ٹخنے ظاہر ہوں۔
واللّٰه أعلم بالصواب.

16 منی میں نماز قصر کا بیان

🌙 منی میں نماز قصر کا بیان 🕋

🕌 حج کے دوران منی میں نماز قصر پڑھی جائے گی۔ امام بخاریؒ نے اس پر ایک مستقل باب قائم کیا ہے، اور بطورِ استدلال درج ذیل احادیث ذکر فرمائی ہیں:

📖 حدیث 1
«عن عبد الله ـ رضى الله عنه ـ قا ل صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ، وأبي بكر وعمر، ومع عثمان صدرا من إمارته ثم أتمها‏»
📚 [بخاری: 1082]
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمرؓ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت (یعنی چار رکعت والی نمازوں میں) قصر پڑھی۔ سیدنا عثمانؓ کے ساتھ بھی ان کے دور خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی تھیں، لیکن بعد میں آپؓ نے پوری پڑھنا شروع کیں۔

📖 حدیث 2
«أنبأنا أبو إسحاق، قال سمعت حارثة بن وهب، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم آمنا ما كان بمنى ركعتين‏»
📚 [بخاری: 1083]
ہمیں ابو اسحاقؒ نے خبر دی، انہوں نے حارثہؓ سے سنا، اور انہوں نے وہبؓ سے کہ آپ نے فرمایا:
نبی کریم ﷺ نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی۔

📖 حدیث 3
«عن عبد الرحمن بن يزيد، يقول صلى بنا عثمان بن عفان ـ رضى الله عنه ـ بمنى أربع ركعات، فقيل ذلك لعبد الله بن مسعود ـ رضى الله عنه ـ فاسترجع ثم قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين، وصليت مع أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ بمنى ركعتين، وصليت مع عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه ـ بمنى ركعتين، فليت حظي من أربع ركعات ركعتان متقبلتان‏»
📚 [بخاری: 1084]
عبدالرحمن بن یزیدؓ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں عثمان بن عفانؓ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تھی، لیکن جب اس کا ذکر عبداللہ بن مسعودؓ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:
🔁 انا للہ وانا الیہ راجعون
پھر کہنے لگے:
میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے، ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں، اور عمر بن خطابؓ کے ساتھ بھی دو رکعتیں۔
🌟 کاش میرے حصے میں ان چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہوتیں۔

📌 نتیجہ:
مذکورہ بالا روایات سے واضح ہوتا ہے کہ دورانِ حج منیٰ میں نماز قصر (یعنی دو رکعت) پڑھی جائے گی، حتیٰ کہ اگر حالتِ امن بھی ہو۔

🤲 اللہ ہمیں سنت کے مطابق عبادات کی توفیق دے، آمین۔

17 عید الاضحی کے دن تکبیرات کہنا سنت ہے، جیسا کہ قرآن، حدیث اور صحابہ کرام کے آثار سے ثابت ہے۔

عید الاضحی کے دن تکبیرات کہنا سنت ہے، جیسا کہ قرآن، حدیث اور صحابہ کرام کے آثار سے ثابت ہے۔

➊ قرآن مجید سے دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(سورۃ البقرۃ: 185)
(اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔)

یہ آیت عید کی تکبیرات کے مشروع ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس دن اللہ کی بڑائی بیان کریں۔

➋ حدیث مبارکہ سے دلیل
رسول اللہ ﷺ کے عید کے دن تکبیرات بلند کرنے کا عمل احادیث میں ثابت ہے:

➊ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
"أن رسول الله ﷺ كان يخرج يوم الفطر والأضحى رافعًا صوته بالتكبير.”
(رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے تو بلند آواز میں تکبیرات کہتے۔)
(المعجم الكبير للطبراني: 11367، صحیح السند)

➋ حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"كان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يكبر يوم الفطر حتى يأتي المصلى ويكبر حتى يأتي الإمام.”
(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن مسلسل تکبیرات پڑھتے رہتے یہاں تک کہ وہ عیدگاہ پہنچ جاتے اور امام کے آنے تک تکبیرات جاری رکھتے۔)
(سنن الدارقطني: 171، صحیح)

➌ صحابہ کرام کا عمل
◈ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
"كبروا، فإنها سنة.”
(تکبیرات کہو، کیونکہ یہ سنت ہے۔)
(مصنف ابن أبي شيبة: 5633)

◈ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
"كبروا الله في أيام العيد.”
(عید کے دنوں میں اللہ کی تکبیرات کہو۔)
(السنن الكبرى للبيهقي: 6237)

◈ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تکبیر کے یہ الفاظ منقول ہیں:
"اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.”
(مصنف ابن أبي شيبة: 5635، سند صحیح)

◈ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ایک اور صیغہ مروی ہے:
"اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.”
(السنن الكبرى للبيهقي: 6236)

➍ تکبیرات کے مکمل الفاظ (مسنون صیغے)
عید کی تکبیرات مختلف الفاظ میں ثابت ہیں، جن میں سب سے مشہور اور مستند یہ ہیں:

(1) حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا صیغہ:
"اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.”
(مصنف ابن أبي شيبة: 5635)

(2) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا صیغہ:
"اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.”
(السنن الكبرى للبيهقي: 6236)

(3) عام طور پر پڑھی جانے والی تکبیرات:
"اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.”

➎ تکبیرات کا وقت
◈ عید الفطر: چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر نمازِ عید تک مسلسل پڑھنا مستحب ہے۔

◈ عید الاضحی: 9 ذو الحجہ (یوم عرفہ) کی فجر سے لے کر 13 ذو الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے کہنا واجب ہے (یہ تکبیراتِ تشریق ہیں)۔

نتیجہ
عید کی تکبیرات قرآن و حدیث اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سنت کے مطابق بلند آواز میں تکبیرات پڑھیں اور عید کے دن اللہ کی کبریائی کو بلند کریں، تاکہ ہماری خوشیاں بھی عبادت میں شمار ہوں اور شیطان حسرت میں مبتلا ہو۔

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ!

18 یومِ عرفہ کا روزہ - دو سال کے گناہوں کی معافی

────────────────────────
🌙 یومِ عرفہ کا روزہ - دو سال کے گناہوں کی معافی 🌙
────────────────────────

📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"
(صحیح مسلم: 1162، سنن ابی داود: 2425، سنن النسائی: 2384، سنن ابن ماجہ: 1730)
📚 حدیث: حسن صحیح

📅 یومِ عرفہ 9 ذوالحجہ کو کہا جاتا ہے،
جب حجاج کرام میدان عرفات میں وقوف، ذکر و دعا میں مشغول ہوتے ہیں۔
🔹 ان کے لیے اس دن روزہ رکھنا مستحب نہیں ہے۔
🔹 البتہ غیر حاجیوں کے لیے یہ روزہ بڑی فضیلت کا باعث ہے۔

✨ اس دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللّٰہ ہمیں اس دن کی قدر کرنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲🏼

19 یومِ عرفہ کا فضیلت

📜 حدیث:

"ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبداً من النار من يوم عرفة، وإنه ليدنو، ثم يباهي بهم الملائكة، فيقول: ما أراد هؤلاء؟"

📖 ترجمہ:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے زیادہ بندوں کو آزاد فرماتے ہوں، جتنا عرفہ کے دن۔ بے شک وہ (اللہ) قریب آتا ہے، پھر فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ان بندوں کا ارادہ کیا ہے؟"

📝 حوالہ جات:

صحیح مسلم (1348)

سنن النسائی (3014)

ابن ماجہ، الدارقطنی، البیہقی، ابن عساکر

سلسلہ احادیث صحیحہ از علامہ البانی: 2551

📌 اہم نکتہ: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ یوم عرفہ اللہ کے قرب کا خاص دن ہے۔ اس دن کی عبادت، دعا، اور توبہ بہت ہی عظیم اجر کا باعث بنتی ہے۔ بندے اگر اخلاص سے رجوع کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ سے نجات عطا فرماتا ہے۔

🤲 اس دن میں ہمیں زیادہ سے زیادہ:

روزہ رکھنا

توبہ و استغفار کرنا

دعاؤں کا اہتمام کرنا

ذکر و تسبیح میں مشغول رہنا چاہیے۔

📅 یاد رکھیں: یوم عرفہ 9 ذوالحجہ کو ہوتا ہے، اور حاجی و غیر حاجی دونوں کے لیے اس دن کی عبادات کا بے حد اجر ہے۔

20 قربانی کے جانور کی عمر – تحقیقی خلاصہ

━━━━━━━━━━ 🌙 ✦ ✦ 🌙 ━━━━━━━━━━
📘 قربانی کے جانور کی عمر – تحقیقی خلاصہ
━━━━━━━━━━ 🌙 ✦ ✦ 🌙 ━━━━━━━━━━

🔖 قربانی کے صحیح احکام کو سمجھنے کے لیے جانور کی کم از کم عمر کا جاننا ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ:

❝ لا تذبحوا إلا مسنةً إلا أن یعسر علیکم، فتذبحوا جذعةً من الضأن ❞
(صحیح مسلم)

🔸 ترجمہ:
"قربانی میں صرف مسنہ (بالغ، ثنیہ) جانور ذبح کرو، تاہم اگر میسر نہ ہو تو بھیڑ (ضأن) کا جزعہ (ایک سالہ) جائز ہے۔"

📌 اس سے اصولی بات سامنے آتی ہے:
➠ مسنہ جانور قربانی کے لیے لازم ہے
➠ بھیڑ کے جزعہ کی مخصوص رعایت دی گئی

🔷 ➊ بھیڑ (ضأن) کا جزعہ – عمر و تعریف

📚 جمہور کا موقف:
جزعہ ضأن وہ ہے جو ایک سال مکمل کر چکا ہو۔

❖ فمن الضأن ما أكمل السنة وهو قول الجمهور
(فتح الباری، پ 23، ص 329)

❖ الجزع من الضأن ما له سنة تامة… هذا هو الأشهر عن أهل اللغة
(نیل الاوطار، ج 5، ص 202)

❖ ومن الضأن ما تمت له سنة
(تحفۃ الاحوزی، ج 2، ص 55)

📌 نتیجہ:
جمہور محدثین و فقہاء کے مطابق جزعہ ضأن = ایک سال مکمل کرنے والا بھیڑ کا بچہ

📚 احناف و بعض حنابلہ کا موقف:
6 ماہ کی بھیڑ بھی قربانی کے لیے جائز ہے۔

❖ والجزع من الضأن ما تمت له ستة أشهر في مذهب الفقهاء
(ہدایہ، ج 4، ص 34)

❖ نصف سنة وهو قول الحنفية وحنابلة
(فتح الباری، پ 23، ص 329)

🔸 تاہم جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ قول راجح نہیں۔

🔷 ➋ بکری (معز) کا جزعہ – عمر و حکم

📖 حدیثِ ابو بردہ بن نیارؓ:
انہوں نے عید سے قبل قربانی کی اور فرمایا کہ میرے پاس موٹی تازہ جزعہ بکری ہے:

❝ اذبحها ولا تصلح لغیرک ❞
(بخاری، مسلم)

📌 تشریح:
➠ یہ اجازت صرف ابو بردہؓ کے لیے تھی
➠ عام مسلمانوں کے لیے جزعہ معز (ایک سالہ بکری) قربانی میں جائز نہیں

📚 اقوالِ ائمہ:

❖ الجذع من المعز لا يجزي عن أحد…
(عون المعبود، ج 3، ص 54)

❖ وهذا متفقٌ عليه
(نیل الاوطار، ج 5، ص 202)

📘 لغوی تعریف:

❖ الجزع من البقر والمعز ما دخل في السنة الثانية
(تحفۃ الاحوزی، ج 2، ص 355)

🔸 نتیجہ:
بکری کا جزعہ = ایک سال مکمل کر کے دوسرے میں داخل ہونے والا جانور
➠ عام حکم میں یہ قربانی کے لیے کافی نہیں

🔷 ➌ گائے (بقر) کا جزعہ – عمر و حکم

❖ الجزع من المعز والبقر ما دخل في السنة الثانية
(تحفۃ الاحوزی، ج 2، ص 355)

📌 نتیجہ:
گائے کا جزعہ وہ ہے جو ایک سال مکمل کر چکا ہو
➠ لیکن قربانی میں گائے کا جزعہ جائز نہیں
➠ صرف مسنہ (ثنیہ) گائے قربانی میں درست ہے

🔷 ➍ اونٹ (ابل) کا جزعہ – عمر و حکم

❖ الجزع من الإبل ما دخل في الخامسة
(فتح الباری، پ 23، ص 324)

📌 یعنی:
➠ اونٹ کا جزعہ = چار سال مکمل کر کے پانچویں میں داخل
➠ مگر قربانی کے لیے جائز نہیں
➠ صرف ثنیہ اونٹ (چھٹے سال والا) درست ہے

🔷 ➎ مسنہ (ثنیہ) کی تعریف و پہچان

📖 رسول اللہ ﷺ کا فرمان:

❝ لا تذبحوا إلا مسنة ❞
(صحیح مسلم)

📚 تشریحات:

❖ المسنة هي الثنية من کل شيء، والثنية أكبر من الجزعة بسنة
(نووی، ج 2، ص 155)

❖ المسن الثني الذي يلقي سنَّه… في السنة الثالثة، وفي الإبل السادسة
(فتح الباری، پ 23، ص 328)

🔸 یعنی:
"مسنہ" وہ ہے جس کے سامنے کے دودھ کے دانت گر چکے ہوں اور نئے دانت آ گئے ہوں۔

📌 جانوروں کے ثنیہ (مسنہ) ہونے کی عمر:

جانور کم از کم عمر (ثنیہ)

اونٹ: 5 سال مکمل + چھٹے میں داخل
گائے: 2 سال مکمل + تیسرے میں داخل
بکری: 2 سال مکمل + تیسرے میں داخل
بھیڑ: 2 سال مکمل (ثنیہ)، لیکن 1 سالہ جزعہ بھی جائز

🔷 ➏ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا عمل

❖ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہمیشہ ثنیہ جانور قربان کرتے، خواہ بھیڑ ہی کیوں نہ ہو۔
(مصفیٰ، ج 1، ص 181؛ زرقانی، ج 3، ص 223)

🔸 یعنی:
سنت پر عمل اور احتیاط کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا۔

🔷 ➐ خلاصۂ بحث:

✅ عام قاعدہ: صرف مسنہ (ثنیہ) جانور ہی قربانی کے لیے جائز ہے
✅ استثناء: صرف بھیڑ (ضأن) کا ایک سالہ جزعہ
🚫 گائے، بکری، اونٹ کا جزعہ قربانی میں جائز نہیں
📌 دانت کا بدل جانا ثنیہ ہونے کی علامت
📝 علاقائی فرق کی صورت میں دانت کا معیار معتبر ہو گا

🔷 ➑ اختتامی بات

🕋 قربانی عبادت ہے
🔎 اس میں علم، احتیاط، اور اتباعِ سنت ضروری ہے
⚠️ بے دلیل رائے یا جذباتی فتوے سے اجتناب کریں
📘 محدثین و فقہاء کی تصریحات ہی اصل رہنمائی ہیں۔

❖ وَ اللهُ أَعلَمُ بِالصَّوابِ ❖

━━━━━━━━━━ 🔗 ━━━━━━━━━━
📎 مکمل مضمون اور حوالہ جات پڑھنے کے لیے:
👉 https://tohed.com/0f4fd7
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

21 قربانی میں شریک تمام افراد کا صحیح العقیدہ اور موحّد ہونا لازم

┏━❀•••✧❁✧•••❀━┓
🌙 قربانی میں شریک تمام افراد کا
صحیح العقیدہ اور موحّد ہونا لازم
┗━❀•••✧❁✧•••❀━┛

🕋 ایامِ اضحیٰ میں قربانی کا معیار:
صحیح قربانی وہ ہے جو:
📌 خالص توحید
📌 پاکیزہ کمائی
📌 اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔

اس تفصیلی مضمون میں تین بنیادی سوالات کے تحقیقی جوابات شامل ہیں:

━━━━━━━━━━━━━━
❓ سوال نمبر 1:
گائے یا اونٹ میں شریک تمام افراد کا موحّد مسلمان ہونا شرط ہے؟

✅ جی ہاں!
📍 تمام حصے دار صحیح العقیدہ مسلمان ہوں۔
📍 غیر مسلم، بدعتی یا بے نماز شخص کی شرکت سے پوری قربانی باطل ہو جاتی ہے۔
📚 یہ موقف حافظ عبدالقادر روپڑیؒ کا ہے (فتویٰ: تنظیم اہل حدیث، 21 دسمبر 1973ء) اور ائمۂ حدیث نے اسے قبول کیا ہے۔

📝 نیت کی وحدت بھی شرط ہے:
تمام افراد کی نیت صرف "قربانی" ہو۔
❌ عقیقہ، نذر یا صدقہ وغیرہ کی نیت شامل نہ ہو۔
📖 حدیث:
«وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى»
ترجمہ: "اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"
(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث 1)

🔢 حصص کی تعداد:
▫️ گائے میں سات
▫️ اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں
بشرطیکہ اوپر کی دونوں شرائط پوری ہوں۔

━━━━━━━━━━━━━━
❓ سوال نمبر 2:
اگر پہلے سے خریدا ہوا جانور دبلا ہو تو بہتر جانور لینا جائز ہے؟

✅ جی ہاں!
📍 اگر جانور شرعی معیار پر پورا اترتا ہو (یعنی لاغر ہو لیکن عیب دار نہ ہو) تو وہ قربانی کے لیے کافی ہے۔
📍 البتہ صاحبِ حیثیت شخص ثواب کی نیت سے بہتر جانور لینا چاہے تو یہ جائز اور مستحب ہے۔

📚 حدیث:
عن ابن عمر رضي الله عنهما:
«فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ فَابْنَةُ لَبُونٍ…»
ترجمہ: "پچیس اونٹوں پر زکوٰۃ میں بنتِ مخاض ہے، اگر وہ میسر نہ ہو تو ابنۃ لبون (یعنی بڑی عمر والی اونٹنی) دی جا سکتی ہے۔"
(صحیح البخاری، کتاب الزکاة، حدیث 1454)

📖 امام ابن قدامہؒ لکھتے ہیں:
«وَإِنْ بَاعَ الْهَدْيَ وَاشْتَرَى خَيْرًا مِنْهُ جَازَ»
ترجمہ: "اگر کوئی قربانی کا (کم تر) جانور بیچ کر اس سے بہتر جانور خریدے تو یہ جائز ہے۔"
(المغنی، ج 8، ص 638)

━━━━━━━━━━━━━━
❓ سوال نمبر 3:
حدیث کے لفظ «مسنّة» کا صحیح مفہوم کیا ہے؟

🔍 لغوی تحقیق:
«مسنّة» (نون مشدد) مادّہ س ن ن سے ہے،
معنی: "دو دانت والا جانور"
یہ «مسنّن» کا مؤنث ہے، اور اس کا تعلق دانت (سِنّ) سے ہے، نہ کہ سال (سنة) سے۔

📚 حدیث:
عن جابر رضي الله عنه:
«لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ»
ترجمہ: "دو دانت والا (مسنّہ) جانور ہی ذبح کرو، اگر تم پر مشکل ہو جائے تو جذعہ دنبہ (چھوٹا مگر مکمل دانت والا) ذبح کر لو۔"
(صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، حدیث 1963)

✳️ فقہی تطبیق:
▫️ بکری، گائے اور اونٹ — ان سب میں اگر دو مستقل دانت نکل آئیں تو وہ "مسنّہ" ہے۔
▫️ عمر کا تخمینہ اجتہادی سہولت ہے، اصل معیار دانت ہی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━
📖 قربانی اور تقویٰ کی بنیاد:
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ﴾
(المائدہ: 27)
ترجمہ: "اللہ صرف پرہیزگاروں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔"

📚 حدیث:
عن أبي هريرة رضي الله عنه:
«إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ، لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا»
ترجمہ: "بے شک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک (مال و عمل) ہی قبول فرماتا ہے۔"
(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، حدیث 1015)

⚠️ اگر ایک شریک کا مال حرام ہو تو پوری قربانی کی روح فوت ہو جاتی ہے، کیونکہ قبولیت کا قانون اجتماعی عمل پر یکساں نافذ ہوتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━
🧾 جامع نتیجہ:
✔️ تمام شریک مسلمان، موحّد، نمازی اور حلال کمائی والے ہوں
❌ اگر ایک بھی خلافِ شرع شریک ہو تو پوری قربانی ناقابلِ قبول ہو جاتی ہے۔

✔️ شرعاً لاغر مگر صحت مند جانور بدلنا ضروری نہیں
✅ لیکن افضل یہ ہے کہ بہتر جانور لیا جائے، نیت ثواب ہو۔

✔️ حدیث میں لفظ «مسنّة» سے مراد دو دانت والا جانور ہے؛
📌 عمر کا اندازہ اجتہادی سہولت ہے، نص کا بدل نہیں۔

🤲 وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا نِيَّةً خَالِصَةً، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا عَلَى سُنَّةِ رَسُولِكَ ﷺ
آمین یا رب العالمین! 🤲

━━━━━━━━━━━━━━
📤 اس پیغام کو ثوابِ جاریہ سمجھ کر آگے ضرور پھیلائیں۔

22 عیدُالاضحیٰ کے گوشت کی تقسیم – قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ سے رہنمائی

🕌 عیدُالاضحیٰ کے گوشت کی تقسیم – قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ سے رہنمائی 🕌

────────────────────────────

📖 1) قرآنی اصول
• ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ – سورۂ حج 22:28
“اس (قربانی) کا گوشت خود بھی کھاؤ اور محتاج مفلس کو کھلاؤ۔”

• ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ – سورۂ حج 22:36
“خود کھاؤ اور اُس کو بھی دو جو سوال نہ کرے اور اسے بھی جو مانگ لے۔”
👉 مقدار متعین نہیں، صرف کھانا + کھلانا لازم۔

────────────────────────────

📜 2) حدیث نبوی ﷺ
«إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ؛ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا»
“میں نے (گزشتہ سال) تمہیں ضرورت مندوں کی آمد کے سبب روکا تھا؛ اب تم کھاؤ، ذخیرہ بھی رکھو اور صدقہ بھی کرو.”
صحیح مسلم 1971
👉 تین کام بتائے گئے؛ تین برابر حصے مقرر نہیں کیے گئے۔

────────────────────────────

🗝️ 3) آثارِ صحابہؓ
• عبداللہ بن عباسؓ
«يُطْعِمُ أَهْلَ بَيْتِهِ الثُّلُثَ، وَفُقَرَاءَ جِيرَانِهِ الثُّلُثَ، وَيَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثِ»
“وہ ایک تہائی گھر والوں کو، ایک تہائی فقیر پڑوسیوں کو دیتے اور ایک تہائی صدقہ کرتے تھے۔”
(أبو موسى الأصفہانی، الوظائف)

• عبداللہ بن عمرؓ
«الضَّحَايَا ثُلُثٌ لَكَ، وَثُلُثٌ لِأَهْلِكَ، وَثُلُثٌ لِلْمَسَاكِينِ»
“قربانی کا ایک تہائی تمہارے لیے، ایک تہائی گھر والوں کے لیے، اور ایک تہائی مساکین کے لیے ہے۔”
(ابن قدامہ، المغنی 9/488)
👉 یہ تقسیم مستحب ہے، فرض نہیں۔

────────────────────────────

⚖️ 4) فقہی خلاصہ

حنفیہ و حنابلہ: تین ⅓ حصے کرنا مستحب۔

شافعیہ: آدھا خود + آدھا صدقہ کافی۔

معاصر فتویٰ (ابن بازؒ، اسلام ویب): اصل شرط یہ ہے کہ فقراء کو معقول حصہ ملے؛ برابری لازمی نہیں۔

────────────────────────────

📝 5) عملی ترتیب (سہل اور مسنون)
1️⃣ کم از کم: کچھ خود کھاؤ، کچھ صدقہ دو۔
2️⃣ افضل:
• تقریباً ⅓ صدقہ (غرباء/مساکین)
• ⅓ ہدیہ (رشتہ دار/پڑوسی/دوست)
• ⅓ گھر والے
(ضرورت ہو تو فقراء کا حصہ بڑھا دو۔)
3️⃣ گوشت محفوظ (فریز) کرنا جائز؛ تین دن کی پرانی ممانعت منسوخ ہو چکی۔
4️⃣ قصّاب کی اُجرت گوشت یا چمڑے سے نہیں؛ نقد الگ دو۔

────────────────────────────

✨ خلاصۂ کلام

“صدقہ مقدم، رشتہ دار بعد میں، باقی خود کیلئے۔”
تین حصے کرنا سنتِ صحابہؓ ہے، لیکن فرض نہیں۔ اصل مقصد محتاجوں کو حصہ پہنچانا اور ﷲ کی رضا حاصل کرنا ہے۔

اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا وَمِنْكُم۔

23 تکبیراتِ عیدین

━━━━━━━━━━━
📌 تکبیراتِ عیدین
━━━━━━━━━━━
🌙 نبی کریم ﷺ کا فرمان:
عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز میں پہلی رکعت میں سات (۷) تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ (۵) تکبیریں کہنا مسنون ہے، اور دونوں رکعتوں میں تکبیروں کے بعد قراءت کی جائے۔
📚 سنن ابی داود: ۱/۱۷۰، حدیث: ۱۱۵۱

🟢 اس حدیث کو امام احمد، علی بن المدینی، امام بخاری وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
📖 الخصیص الحبیر: ۲/۸۴، نیل المقصود: حدیث ۱۵۱

━━━━━━━━━━━
📍 چند فوائد:
━━━━━━━━━━━
➖ عید کی نماز میں ۱۲ تکبیریں مسنون ہیں (۷ + ۵)
➖ یہ عمل صحابہ کرام جیسے ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابن عمرؓ سے بھی ثابت ہے۔
➖ رفع یدین کا ثبوت بھی موجود ہے:
"آپ ﷺ ہر تکبیر پر رفع یدین کرتے تھے۔"
📚 مسند احمد: حدیث ۶۱۷۵
➖ امام بیہقی اور ابن المنذر نے بھی رفع یدین کو سنت قرار دیا ہے۔
➖ ہر تکبیر پر ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں، یعنی ۱۲ تکبیریں = ۱۲۰ نیکیاں!
📚 معجم الکبیر، مجمع الزوائد

💠 سجدہ تلاوت کی تکبیر پر بھی رفع یدین کا ثبوت ہے
➖ امام احمد رحمہ اللہ بھی ایسا کرتے تھے۔
📖 کتاب المسائل: جلد ۱، ص ۴۸۱

📌 مکمل تفصیل و حوالہ جات کے لیے درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
👇👇
https://tohed.com/5cfa07
━━━━━━━━━━━
📤 اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ سنت زندہ ہو 💬
━━━━━━━━━━━

24 تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا چاہیے یا نہیں؟

❓ سوال:
تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا چاہیے یا نہیں؟
(سائل: محمد بن ذکی، ریاض، سعودی عرب)

🟢 جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

✅ تکبیراتِ عیدین کے وقت رفع یدین کرنا مسنون ہے، کیونکہ یہ عمل صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

📖 حدیث:
"كان يرفع يديه في كل تكبيرة كبيرها قبل الركوع"
(یعنی: نبی کریم ﷺ ہر تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے، خاص طور پر رکوع سے پہلے والی بڑی تکبیریں۔)

🔹 حوالہ جات:
• سنن ابی داود: 722
• مسند احمد: 2/133-134

🔍 فہمِ محدثین:
امام بیہقی اور ابن المنذر رحمہما اللہ نے اس حدیث کو تکبیراتِ عیدین پر منطبق کیا ہے۔

📌 نتیجہ:
تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین سنت ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

📌 والله أعلم بالصواب

25 عورتیں اور عیدین کی نماز

━━━━━━━━━━━
📖 عورتیں اور عیدین کی نماز
━━━━━━━━━━━
عن أم عطية رضي الله عنها قالت:
أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نُخرجهن في الفطر والأضحى: العواتق، والحيّض، وذوات الخدور... ويشهدن الخير ودعوة المسلمين.
(صحیح مسلم، حدیث: 2056)

🟢 ترجمہ:
حضرت اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر ہم دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشین خواتین کو باہر نکالیں۔
🔹 حائضہ خواتین نماز سے علیحدہ رہیں، لیکن خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔
میں نے عرض کی: اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اسے اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔“

━━━━━━━━━━━
📌 اہم نکات:
━━━━━━━━━━━
➖ خواتین کو عید کے اجتماع میں شرکت کی ترغیب
➖ پردہ کا اہتمام برقرار رکھتے ہوئے دینی شرکت
➖ باہمی مدد، تعاون اور اسلامی اخوت کا سبق
➖ حائضہ عورتیں نماز نہیں پڑھتیں، لیکن دعاؤں اور خیر کے مواقع میں شریک رہتی ہیں

📚 ماخذ: صحیح مسلم، حدیث: 2056

━━━━━━━━━━━
🤝 دینی اجتماعات میں شرکت کا جذبہ پیدا کریں اور سنت کو زندہ کریں!
━━━━━━━━━━━

26 یوم عرفہ کی طرح، یوم النحر اور 12 ذوالحجہ کے خطبات بھی مسنون ہیں

━━━━━━━━━━━━━━━
📌 یوم عرفہ کی طرح، یوم النحر اور 12 ذوالحجہ کے خطبات بھی مسنون ہیں
━━━━━━━━━━━━━━━

🕌 امام حج کے لیے مستحب ہے کہ وہ یوم النحر کو خطبہ دے
➊ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
❝ خطبنا النبى صلى الله عليه وسلم يوم النحر ❞
🌿 ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (10 ذوالحجہ) کو خطبہ دیا ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
👂 لوگو! معلوم ہے کہ یہ کون سا دن ہے؟
ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے…
پھر فرمایا:
❓ کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟
ہم بولے: ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔
پھر پوچھا:
📅 یہ مہینہ کون سا ہے؟
ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔
پھر فرمایا:
❓ کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟
ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں!
پھر پوچھا:
🏙️ یہ شہر کون سا ہے؟
ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
پھر فرمایا:
❓ کیا یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟
ہم نے عرض کیا: ضرور ہے۔
📢 پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت، اس مہینے اور اس شہر میں ہے تا آنکہ تم اپنے رب سے جا ملو……“
📚 [بخاري: 1741 ، مسلم: 1679]

➋ حضرت ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
عید الاضحٰی کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عضباء اونٹنی پر خطبہ دیتے دیکھا۔
📚 [حسن: صحیح ابو داود: 1721 ، احمد: 12 – 213 ، ابو داود: 1954]

🌙 ایامِ تشریق کے دوران بھی خطبہ دیا گیا

➊ ابو نجیح بنو بکر کے دو آدمیوں سے روایت:
❝ رأينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يبخـطـب بين أوسط أيام التشريق ❞
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایام تشریق کے درمیانی دن (12 ذوالحجہ) میں خطبہ دیتے دیکھا۔
📚 [صحیح ابو داود: 1720 ، 1952]

➋ ابو نضرہ کی روایت:
📢 ”اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوی کے ساتھ۔ کیا میں نے تبلیغ کر دی؟“
👥 صحابہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی ہے۔
📚 [أحمد: 411/5]

📌 یہ احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایامِ تشریق کے درمیانی دن میں بھی منٰی میں خطبہ مسنون ہے۔
📖 [نيل الأوطار: 441/3 ، الأم: 327/2 ، شرح المهذب: 226/8 ، المغنى: 319/5 … الخ]

📍 معلوم ہوا کہ دوران حج تین خطبے مشروع ہیں:

➊ عرفہ کے دن (9 ذوالحجہ)
➋ نحر کے دن (10 ذوالحجہ)
➌ ایام تشریق کے وسط میں (12 ذوالحجہ)