1 📘 اتباعِ سنت اور فہمِ سلف کی اہمیت
ایمان کی سلامتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی سے ممکن ہے، ورنہ انسان گمراہ ہو جاتا اور راہِ راست سے بھٹک جاتا ہے۔
راہِ راست کو سبیل المؤمنین بھی کہا جاتا ہے، یعنی صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ ہدیٰ کا راستہ۔ جس طرح اور جس طریقے سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، ہم پر بھی لازم ہے کہ اسی طریقے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔
➤ یہی نجات کا راستہ ہے اور اسی میں عافیت اور راحت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾
ترجمہ:
”اور جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہلِ ایمان کے راستے کے سوا کسی دوسرے راستے کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔“
📖 سورۃ النساء: 115
◈ علامہ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ
وفات: 1376ھ
فرماتے ہیں:
«وَيَدُلُّ مَفْهُومُهَا عَلَى أَنَّ مَنْ لَمْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ، وَاتَّبَعَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَنْ كَانَ قَصْدُهُ وَجْهَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ رَسُولِهِ وَلُزُومَ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ صَدَرَ مِنْهُ مِنَ الذُّنُوبِ أَوِ الْهَمِّ بِهَا مَا هُوَ مِنْ مُقْتَضَيَاتِ النُّفُوسِ، وَغَلَبَاتِ الطِّبَاعِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُوَلِّيهِ نَفْسَهُ وَشَيْطَانَهُ، بَلْ يَتَدَارَكُهُ بِلُطْفِهِ، وَيَمُنُّ عَلَيْهِ بِحِفْظِهِ، وَيَعْصِمُهُ مِنَ السُّوءِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى عَنْ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ، أَيْ: بِسَبَبِ إِخْلَاصِهِ صَرَفْنَا عَنْهُ السُّوءَ، وَكَذَٰلِكَ كُلُّ مُخْلِصٍ، كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ عُمُومُ التَّعْلِيلِ»
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا، طریقۂ سلف کی پیروی کرتا، رضائے الٰہی کا طالب رہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کوشاں ہوتا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہتا ہے، پھر اس سے تقاضائے بشریت کے تحت کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے یا وہ کسی گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے، تو مالکِ کریم اسے اس کے نفس اور شیطان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے، بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا بچاؤ فرماتے، اپنی حفاظت سے نوازتے اور اسے برائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
﴿كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾
”اسی طرح ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھا، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے مخلص بندوں میں سے تھے۔“
یعنی ان کے اخلاص کے سبب ہم نے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ آیت کے الفاظ کا عموم بتاتا ہے کہ اس میں تمام مخلص لوگ شامل ہیں۔
📚 تفسیر السعدی، صفحہ: 202
➤ سلفِ صالحین کے ساتھ وابستہ رہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہی کامیاب رہے گا۔
قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے جس پر محدثینِ کرام کا اتفاق ہو۔
◈ امام اوزاعی رحمہ اللہ
وفات: 157ھ
فرماتے ہیں:
«عَلَيْكَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ، وَإِنْ رَفَضَكَ النَّاسُ، وَإِيَّاكَ وَآرَاءَ الرِّجَالِ، وَإِنْ زَخْرَفُوهُ بِالْقَوْلِ، فَإِنَّ الْأَمْرَ يَنْجَلِي، وَأَنْتَ عَلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ»
”سلف کے آثار اور عقائد سے وابستہ رہیں، اگرچہ لوگ آپ کو چھوڑ دیں، اور لوگوں کی آراء سے بچیں، اگرچہ وہ انہیں خوب صورت الفاظ سے مزین کر کے پیش کریں، کیونکہ حقیقت بالآخر واضح ہو جائے گی اور آپ سیدھے راستے پر قائم ہوں گے۔“
📚 شرف أصحاب الحديث للخطيب، صفحہ: 6
📚 الشريعة للآجري، صفحہ: 127
اس کی سند صحیح ہے۔
◈ علامہ ابوالمظفر سمعانی رحمہ اللہ
وفات: 489ھ
فرماتے ہیں:
«شِعَارُ أَهْلِ السُّنَّةِ اتِّبَاعُهُمُ السَّلَفَ الصَّالِحَ، وَتَرْكُهُمْ كُلَّ مَا هُوَ مُبْتَدَعٌ مُحْدَثٌ»
”اہلِ سنت کا شعار سلفِ صالحین کی پیروی کرنا اور ہر نئی ایجاد کردہ بدعت سے اجتناب کرنا ہے۔“
📚 الحجة في بيان المحجة: 395/1
◈ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ»
”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت کے مطابق نہیں چلیں گے اور میری سنت کو اختیار نہیں کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیطانوں کے دل ہوں گے۔“
📖 صحیح مسلم: 1847
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1847/
ان لوگوں اور ان کی ایجاد کردہ بدعات سے بچنے کے لیے فہمِ سلف کی پیروی ضروری ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کے ایمان کے لیے معیار قرار دیا ہے۔ یہی وہ چشمۂ صافی ہے جس سے سیراب ہونے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔
ورنہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے لاکھ دعوے کرے، وہ اپنی محبت میں سچا نہیں ہو سکتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آئے دن آپ کے دین میں نئی نئی بدعات داخل کرتے رہیں، بلکہ محبت کا معیار صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ اسلام کا طرزِ عمل ہے۔
اسلافِ امت ہی کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ:
❓ کیا کسی شخص کا یومِ ولادت بطور عید منایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
پھر اس سوال کا جواب تلاش کر کے اسے نوکِ قلم سے گزار دیا ہے اور رحمتِ الٰہی کے زیرِ سایہ منہجِ سلف کی نشان دہی کر دی ہے۔
اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک اہم کام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
🤲 دعا ہے کہ مالکِ کائنات ہماری اس کاوش کو مبارک بنائے، امتِ محمدیہ کو بدعت کی بھول بھلیوں سے نکالے اور اسے راہِ سلف کا پیروکار بنائے۔
آمین یا رب العالمین