واٹساپ دعوتی مواد › اتباع سنت و ترک بدعات

اتباع سنت و ترک بدعات

29 پیغامات

1 📘 اتباعِ سنت اور فہمِ سلف کی اہمیت

ایمان کی سلامتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی سے ممکن ہے، ورنہ انسان گمراہ ہو جاتا اور راہِ راست سے بھٹک جاتا ہے۔

راہِ راست کو سبیل المؤمنین بھی کہا جاتا ہے، یعنی صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ ہدیٰ کا راستہ۔ جس طرح اور جس طریقے سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، ہم پر بھی لازم ہے کہ اسی طریقے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔

➤ یہی نجات کا راستہ ہے اور اسی میں عافیت اور راحت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾

ترجمہ:

”اور جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہلِ ایمان کے راستے کے سوا کسی دوسرے راستے کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔“

📖 سورۃ النساء: 115

◈ علامہ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ
وفات: 1376ھ

فرماتے ہیں:

«وَيَدُلُّ مَفْهُومُهَا عَلَى أَنَّ مَنْ لَمْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ، وَاتَّبَعَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَنْ كَانَ قَصْدُهُ وَجْهَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ رَسُولِهِ وَلُزُومَ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ صَدَرَ مِنْهُ مِنَ الذُّنُوبِ أَوِ الْهَمِّ بِهَا مَا هُوَ مِنْ مُقْتَضَيَاتِ النُّفُوسِ، وَغَلَبَاتِ الطِّبَاعِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُوَلِّيهِ نَفْسَهُ وَشَيْطَانَهُ، بَلْ يَتَدَارَكُهُ بِلُطْفِهِ، وَيَمُنُّ عَلَيْهِ بِحِفْظِهِ، وَيَعْصِمُهُ مِنَ السُّوءِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى عَنْ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ، أَيْ: بِسَبَبِ إِخْلَاصِهِ صَرَفْنَا عَنْهُ السُّوءَ، وَكَذَٰلِكَ كُلُّ مُخْلِصٍ، كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ عُمُومُ التَّعْلِيلِ»

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا، طریقۂ سلف کی پیروی کرتا، رضائے الٰہی کا طالب رہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کوشاں ہوتا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہتا ہے، پھر اس سے تقاضائے بشریت کے تحت کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے یا وہ کسی گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے، تو مالکِ کریم اسے اس کے نفس اور شیطان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے، بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا بچاؤ فرماتے، اپنی حفاظت سے نوازتے اور اسے برائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

﴿كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾

”اسی طرح ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھا، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے مخلص بندوں میں سے تھے۔“

یعنی ان کے اخلاص کے سبب ہم نے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ آیت کے الفاظ کا عموم بتاتا ہے کہ اس میں تمام مخلص لوگ شامل ہیں۔

📚 تفسیر السعدی، صفحہ: 202

➤ سلفِ صالحین کے ساتھ وابستہ رہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہی کامیاب رہے گا۔

قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے جس پر محدثینِ کرام کا اتفاق ہو۔

◈ امام اوزاعی رحمہ اللہ
وفات: 157ھ

فرماتے ہیں:

«عَلَيْكَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ، وَإِنْ رَفَضَكَ النَّاسُ، وَإِيَّاكَ وَآرَاءَ الرِّجَالِ، وَإِنْ زَخْرَفُوهُ بِالْقَوْلِ، فَإِنَّ الْأَمْرَ يَنْجَلِي، وَأَنْتَ عَلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ»

”سلف کے آثار اور عقائد سے وابستہ رہیں، اگرچہ لوگ آپ کو چھوڑ دیں، اور لوگوں کی آراء سے بچیں، اگرچہ وہ انہیں خوب صورت الفاظ سے مزین کر کے پیش کریں، کیونکہ حقیقت بالآخر واضح ہو جائے گی اور آپ سیدھے راستے پر قائم ہوں گے۔“

📚 شرف أصحاب الحديث للخطيب، صفحہ: 6
📚 الشريعة للآجري، صفحہ: 127
اس کی سند صحیح ہے۔

◈ علامہ ابوالمظفر سمعانی رحمہ اللہ
وفات: 489ھ

فرماتے ہیں:

«شِعَارُ أَهْلِ السُّنَّةِ اتِّبَاعُهُمُ السَّلَفَ الصَّالِحَ، وَتَرْكُهُمْ كُلَّ مَا هُوَ مُبْتَدَعٌ مُحْدَثٌ»

”اہلِ سنت کا شعار سلفِ صالحین کی پیروی کرنا اور ہر نئی ایجاد کردہ بدعت سے اجتناب کرنا ہے۔“

📚 الحجة في بيان المحجة: 395/1

◈ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ»

”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت کے مطابق نہیں چلیں گے اور میری سنت کو اختیار نہیں کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیطانوں کے دل ہوں گے۔“

📖 صحیح مسلم: 1847

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1847/

ان لوگوں اور ان کی ایجاد کردہ بدعات سے بچنے کے لیے فہمِ سلف کی پیروی ضروری ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کے ایمان کے لیے معیار قرار دیا ہے۔ یہی وہ چشمۂ صافی ہے جس سے سیراب ہونے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔

ورنہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے لاکھ دعوے کرے، وہ اپنی محبت میں سچا نہیں ہو سکتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آئے دن آپ کے دین میں نئی نئی بدعات داخل کرتے رہیں، بلکہ محبت کا معیار صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ اسلام کا طرزِ عمل ہے۔

اسلافِ امت ہی کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ:

❓ کیا کسی شخص کا یومِ ولادت بطور عید منایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

پھر اس سوال کا جواب تلاش کر کے اسے نوکِ قلم سے گزار دیا ہے اور رحمتِ الٰہی کے زیرِ سایہ منہجِ سلف کی نشان دہی کر دی ہے۔

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک اہم کام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

🤲 دعا ہے کہ مالکِ کائنات ہماری اس کاوش کو مبارک بنائے، امتِ محمدیہ کو بدعت کی بھول بھلیوں سے نکالے اور اسے راہِ سلف کا پیروکار بنائے۔

آمین یا رب العالمین

2 📘 اتباعِ سنت اور فہمِ سلف کی اہمیت

ایمان کی سلامتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی سے ممکن ہے، ورنہ انسان گمراہ ہو جاتا اور راہِ راست سے بھٹک جاتا ہے۔

راہِ راست کو سبیل المؤمنین بھی کہا جاتا ہے، یعنی صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ ہدیٰ کا راستہ۔ جس طرح اور جس طریقے سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، ہم پر بھی لازم ہے کہ اسی طریقے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔

➤ یہی نجات کا راستہ ہے اور اسی میں عافیت اور راحت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾

ترجمہ:

”اور جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہلِ ایمان کے راستے کے سوا کسی دوسرے راستے کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔“

📖 سورۃ النساء: 115

◈ علامہ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ
وفات: 1376ھ

فرماتے ہیں:

«وَيَدُلُّ مَفْهُومُهَا عَلَى أَنَّ مَنْ لَمْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ، وَاتَّبَعَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَنْ كَانَ قَصْدُهُ وَجْهَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ رَسُولِهِ وَلُزُومَ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ صَدَرَ مِنْهُ مِنَ الذُّنُوبِ أَوِ الْهَمِّ بِهَا مَا هُوَ مِنْ مُقْتَضَيَاتِ النُّفُوسِ، وَغَلَبَاتِ الطِّبَاعِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُوَلِّيهِ نَفْسَهُ وَشَيْطَانَهُ، بَلْ يَتَدَارَكُهُ بِلُطْفِهِ، وَيَمُنُّ عَلَيْهِ بِحِفْظِهِ، وَيَعْصِمُهُ مِنَ السُّوءِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى عَنْ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ، أَيْ: بِسَبَبِ إِخْلَاصِهِ صَرَفْنَا عَنْهُ السُّوءَ، وَكَذَٰلِكَ كُلُّ مُخْلِصٍ، كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ عُمُومُ التَّعْلِيلِ»

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا، طریقۂ سلف کی پیروی کرتا، رضائے الٰہی کا طالب رہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کوشاں ہوتا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہتا ہے، پھر اس سے تقاضائے بشریت کے تحت کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے یا وہ کسی گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے، تو مالکِ کریم اسے اس کے نفس اور شیطان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے، بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا بچاؤ فرماتے، اپنی حفاظت سے نوازتے اور اسے برائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

﴿كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾

”اسی طرح ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھا، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے مخلص بندوں میں سے تھے۔“

یعنی ان کے اخلاص کے سبب ہم نے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ آیت کے الفاظ کا عموم بتاتا ہے کہ اس میں تمام مخلص لوگ شامل ہیں۔

📚 تفسیر السعدی، صفحہ: 202

➤ سلفِ صالحین کے ساتھ وابستہ رہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہی کامیاب رہے گا۔

قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے جس پر محدثینِ کرام کا اتفاق ہو۔

◈ امام اوزاعی رحمہ اللہ
وفات: 157ھ

فرماتے ہیں:

«عَلَيْكَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ، وَإِنْ رَفَضَكَ النَّاسُ، وَإِيَّاكَ وَآرَاءَ الرِّجَالِ، وَإِنْ زَخْرَفُوهُ بِالْقَوْلِ، فَإِنَّ الْأَمْرَ يَنْجَلِي، وَأَنْتَ عَلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ»

”سلف کے آثار اور عقائد سے وابستہ رہیں، اگرچہ لوگ آپ کو چھوڑ دیں، اور لوگوں کی آراء سے بچیں، اگرچہ وہ انہیں خوب صورت الفاظ سے مزین کر کے پیش کریں، کیونکہ حقیقت بالآخر واضح ہو جائے گی اور آپ سیدھے راستے پر قائم ہوں گے۔“

📚 شرف أصحاب الحديث للخطيب، صفحہ: 6
📚 الشريعة للآجري، صفحہ: 127
اس کی سند صحیح ہے۔

◈ علامہ ابوالمظفر سمعانی رحمہ اللہ
وفات: 489ھ

فرماتے ہیں:

«شِعَارُ أَهْلِ السُّنَّةِ اتِّبَاعُهُمُ السَّلَفَ الصَّالِحَ، وَتَرْكُهُمْ كُلَّ مَا هُوَ مُبْتَدَعٌ مُحْدَثٌ»

”اہلِ سنت کا شعار سلفِ صالحین کی پیروی کرنا اور ہر نئی ایجاد کردہ بدعت سے اجتناب کرنا ہے۔“

📚 الحجة في بيان المحجة: 395/1

◈ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ»

”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت کے مطابق نہیں چلیں گے اور میری سنت کو اختیار نہیں کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیطانوں کے دل ہوں گے۔“

📖 صحیح مسلم: 1847

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1847/

ان لوگوں اور ان کی ایجاد کردہ بدعات سے بچنے کے لیے فہمِ سلف کی پیروی ضروری ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کے ایمان کے لیے معیار قرار دیا ہے۔ یہی وہ چشمۂ صافی ہے جس سے سیراب ہونے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔

ورنہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے لاکھ دعوے کرے، وہ اپنی محبت میں سچا نہیں ہو سکتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آئے دن آپ کے دین میں نئی نئی بدعات داخل کرتے رہیں، بلکہ محبت کا معیار صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ اسلام کا طرزِ عمل ہے۔

اسلافِ امت ہی کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ:

❓ کیا کسی شخص کا یومِ ولادت بطور عید منایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

پھر اس سوال کا جواب تلاش کر کے اسے نوکِ قلم سے گزار دیا ہے اور رحمتِ الٰہی کے زیرِ سایہ منہجِ سلف کی نشان دہی کر دی ہے۔

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک اہم کام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

🤲 دعا ہے کہ مالکِ کائنات ہماری اس کاوش کو مبارک بنائے، امتِ محمدیہ کو بدعت کی بھول بھلیوں سے نکالے اور اسے راہِ سلف کا پیروکار بنائے۔

آمین یا رب العالمین

3 📘 اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کی روشنی میں

◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ»

”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔“

📖 صحیح البخاری: 7137
📖 صحیح مسلم: 1835

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/7137/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1835/

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتے آئے اور کہنے لگے:

«مَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ»

”جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان حق و باطل کا معیار ہیں۔“

📖 صحیح البخاری: 7281

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/7281/

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا:

«أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟ قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ»

”کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

”کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی؟“

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

”کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔“

📚 مسند الإمام أحمد: 93/2
اس کی سند صحیح ہے۔

◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ
وفات: 354ھ

نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«جُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي»

”ذلت اور رسوائی اس شخص کا مقدر بنا دی گئی ہے جو میرے حکم کی مخالفت کرے۔“

📚 مسند الإمام أحمد: 50/2
اس کی سند حسن ہے۔

اس روایت کی سند کو:

➊ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے
📚 اقتضاء الصراط المستقيم: 250/1
میں ”جید“ قرار دیا ہے۔

➋ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے
📚 سير أعلام النبلاء: 509/15
میں ”صالح“ کہا ہے۔

➌ حافظ عراقی رحمہ اللہ نے
📚 تخريج أحاديث الإحياء: 318
میں ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

➍ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے
📚 فتح الباري: 27/10
میں ”حسن“ کہا ہے۔

➤ ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سبب ہے۔

4 📘 اتباعِ رسول ﷺ اور اسلافِ امت کا منہج

◈ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:

أَضْلَلْتَ النَّاسَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ: تَأْمُرُ بِالْعُمْرَةِ فِي هَذِهِ الْعَشْرِ، وَلَيْسَتْ فِيهِنَّ عُمْرَةٌ، فَقَالَ: أَوَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا الَّذِي أَهْلَكَكُمْ، وَاللَّهِ مَا أَرَى إِلَّا سَيُعَذِّبُكُمْ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَجِيئُونِي بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ عُرْوَةُ: هُمَا وَاللَّهِ كَانَا أَعْلَمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَعَ لَهَا مِنْكَ.

ترجمہ:

عروہ رحمہ اللہ نے کہا:

”آپ نے لوگوں کو غلط راستے پر لگا دیا ہے۔“

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

”عروہ! کیا بات ہے؟“

انہوں نے عرض کیا:

”آپ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ ان دنوں میں عمرہ نہیں ہوتا؟“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

”آپ اس بارے میں اپنی والدہ، سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا، سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟“

عروہ رحمہ اللہ نے عرض کیا:

”سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے تو یہ کام نہیں کیا۔“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

”اللہ کی قسم! یہی چیز تم لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب میں مبتلا نہ کر دے۔ میں تمہیں نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم میرے سامنے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بات پیش کرتے ہو؟“

عروہ رحمہ اللہ نے کہا:

”اللہ کی قسم! وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو آپ سے زیادہ جاننے والے اور آپ سے بڑھ کر اس کی پیروی کرنے والے تھے۔“

📖 الفقيه والمتفقه للخطيب، اثر: 1458، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ خطیب بغدادی رحمہ اللہ اس اثر کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

قَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَلَى مَا وَصَفَهُمَا بِهِ عُرْوَةُ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُقَلَّدَ أَحَدٌ فِي تَرْكِ مَا ثَبَتَتْ بِهِ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:

”سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ عروہ رحمہ اللہ نے ان کا وصف بیان کیا ہے، لیکن کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی تقلید کرتے ہوئے اس امر کو چھوڑ دے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہو۔“

📖 الفقيه والمتفقه للخطيب، اثر: 1458

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 شیخین رضی اللہ عنہما اور عشرۂ ذوالحجہ میں عمرہ

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ شیخین، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما، سے عشرۂ ذوالحجہ میں عمرہ کرنے سے روکنا ثابت نہیں۔

کسی واجب یا مشروع کام پر کسی شخصیت کا عمل نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ اس کام کو ناجائز سمجھتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بالفرض اگر شیخین رضی اللہ عنہما ان دنوں میں عمرہ کو جائز نہ سمجھتے ہوں، تب بھی اسے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اسے عدمِ علم پر محمول کیا جائے گا۔

کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مجموعی طرزِ عمل یہی تھا کہ جب ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث پہنچتی تو وہ بلا تردد سرِ تسلیم خم کر دیتے تھے۔

➤ حاصلِ کلام یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت کے مقابلے میں کسی بھی شخصیت کا قول یا عمل حجت نہیں، خواہ وہ شخصیت علم، فضل اور اتباعِ سنت میں کتنی ہی بلند مرتبہ کیوں نہ رکھتی ہو۔

5 📘 اتباعِ رسول ﷺ اور اسلافِ امت کا منہج

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (م: 238ھ) نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے:

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: عَجَبًا لِتَرْكِ النَّاسِ هَذَا الْإِهْلَالَ، وَلِتَكْبِيرِهِمْ، مَا بِي إِلَّا أَنْ تَكُونَ التَّكْبِيرَةُ حَسَنًا، وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الْإِنْسَانَ مِنْ قِبَلِ الْإِثْمِ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ جَاءَهُ مِنْ نَحْوِ الْبِرِّ، لِيَدَعَ سُنَّةً وَلِيَبْتَدِعَ بِدْعَةً.

ترجمہ:

”سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تعجب ہے! لوگ تلبیہ چھوڑ کر تکبیر کہنے لگے ہیں۔ مجھے تکبیر سے کوئی اعتراض نہیں، تکبیر یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن شیطان انسان کے پاس پہلے گناہ کے راستے سے آتا ہے۔ جب انسان اس داؤ سے محفوظ ہو جائے تو پھر وہ نیکی کے راستے سے آتا ہے، تاکہ انسان ایک سنت چھوڑ دے اور بدعت اختیار کر لے۔“

📖 مسند إسحاق بن راهويه، اثر: 482، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ ابن جریج رحمہ اللہ کی عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت

ابن جریج رحمہ اللہ کی عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت سماع پر محمول ہوتی ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

عَطَاءٌ، فَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ أَقُلْ: سَمِعْتُ.

ترجمہ:

”عطاء رحمہ اللہ سے جو روایت میں بیان کرتا ہوں، وہ میں نے ان سے سنی ہوتی ہے، اگرچہ میں سماع کی صراحت کرتے ہوئے یہ نہ کہوں کہ میں نے سنا ہے۔“

📖 التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 241/2، 247، وسندہ صحیح

➤ لہٰذا اس اثر کی سند صحیح ہے، والحمد للہ۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا فرمان

امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ (م: 198ھ) فرمایا کرتے تھے:

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمِيزَانُ الْأَكْبَرُ، فَعَلَيْهِ تُعْرَضُ الْأَشْيَاءُ، عَلَى خُلُقِهِ وَسِيرَتِهِ وَهَدْيِهِ، فَمَا وَافَقَهَا فَهُوَ الْحَقُّ، وَمَا خَالَفَهَا فَهُوَ الْبَاطِلُ.

ترجمہ:

”رسول اللہ ﷺ سب سے بڑی کسوٹی ہیں۔ لہٰذا تمام چیزوں کو آپ ﷺ کے اخلاق، سیرت اور طریقۂ ہدایت پر پیش کیا جائے گا۔ جو چیز ان کے موافق ہو، وہ حق ہے اور جو ان کے مخالف ہو، وہ باطل ہے۔“

📖 الجامع لأخلاق الراوي للخطيب، اثر: 8، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام اوزاعی رحمہ اللہ کی نصیحت

امام اوزاعی رحمہ اللہ (م: 157ھ) نے مخلد بن حسین رحمہ اللہ سے فرمایا:

يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِذَا بَلَغَكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ، فَلَا تَظُنَّنَّ غَيْرَهُ، وَلَا تَقُولَنَّ غَيْرَهُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا إِنَّمَا كَانَ مُبَلِّغًا عَنْ رَبِّهِ.

ترجمہ:

”اے ابو محمد! جب آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے خلاف کوئی دوسری بات نہ سوچیں اور نہ ہی اس کے علاوہ کچھ کہیں، کیونکہ محمد ﷺ اپنے رب کی طرف سے وحی پہنچانے والے تھے۔“

📖 الفقيه والمتفقه للخطيب، اثر: 1498، وسندہ حسن

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ نیز امام اوزاعی رحمہ اللہ ناصحانہ انداز میں فرماتے ہیں:

اصْبِرْ نَفْسَكَ عَلَى السُّنَّةِ، وَقِفْ حَيْثُ وَقَفَ الْقَوْمُ، وَقُلْ بِمَا قَالُوا، وَكُفَّ عَمَّا كَفُّوا عَنْهُ، وَاسْلُكْ سَبِيلَ سَلَفِكَ الصَّالِحِ، فَإِنَّهُ يَسَعُكَ مَا وَسِعَهُمْ.

ترجمہ:

”اپنے نفس کو سنت پر مضبوطی سے قائم رکھیے، جہاں سلف ٹھہرے وہیں ٹھہر جائیے، وہی بات کہیے جو انہوں نے کہی، جس چیز سے وہ رکے رہے اس سے آپ بھی رک جائیے اور اپنے صالح اسلاف کے راستے پر چلتے رہیے۔ آپ کے لیے وہی کافی ہے جو ان کے لیے کافی تھا۔“

📖 حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبي نعيم الأصبهاني: 143/6، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا مکتوب

امام عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (م: 101ھ) نے لوگوں کی طرف یہ خط لکھا:

لَا رَأْيَ لِأَحَدٍ مَعَ سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:

”رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ طریقے کی موجودگی میں کسی اور کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔“

📖 التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة، اثر: 9335، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا فرمان

امام مالک بن انس رحمہ اللہ (م: 179ھ) فرماتے ہیں:

كُلَّمَا جَاءَنَا رَجُلٌ أَجْدَلُ مِنْ رَجُلٍ، أَرَادَنَا أَنْ نَرُدَّ مَا جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:

”ہمارے پاس یکے بعد دیگرے زیادہ بحث کرنے والے اور چرب زبان لوگ آتے رہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر اس وحی کو رد کر دیں جو جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آئے تھے۔“

📖 شرف أصحاب الحديث للخطيب، اثر: 1، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان

امام شافعی رحمہ اللہ (م: 204ھ) فرماتے ہیں:

يَسْقُطُ كُلُّ شَيْءٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَقُومُ مَعَهُ رَأْيٌ وَلَا قِيَاسٌ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَطَعَ الْعُذْرَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:

”فرمانِ رسول ﷺ کے مخالف ہر چیز باطل اور ساقط ہے۔ کوئی رائے یا قیاس آپ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں قائم نہیں رہ سکتا، کیونکہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے ذریعے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔“

📖 كتاب الأم: 193/2
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 241/9

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ حافظ نووی رحمہ اللہ کا فرمان

حافظ نووی رحمہ اللہ (م: 676ھ) لکھتے ہیں:

إِذَا ثَبَتَتِ السُّنَّةُ، لَا تُتْرَكُ لِتَرْكِ بَعْضِ النَّاسِ أَوْ أَكْثَرِهِمْ أَوْ كُلِّهِمْ لَهَا.

ترجمہ:

”جب نبی کریم ﷺ کی سنت ثابت ہو جائے تو بعض، اکثر یا تمام لوگوں کے اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اسے ترک نہیں کیا جائے گا۔“

📖 شرح صحيح مسلم: 186/4

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:

مِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّكَ لَا تَجِدُ أَحَدًا مِمَّنْ يَرُدُّ نُصُوصَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بِقَوْلِهِ، إِلَّا وَهُوَ يُبْغِضُ مَا خَالَفَ قَوْلَهُ، وَيَوَدُّ أَنَّ تِلْكَ الْآيَةَ لَمْ تَكُنْ نَزَلَتْ، وَأَنَّ ذَلِكَ الْحَدِيثَ لَمْ يَرِدْ، وَلَوْ أَمْكَنَهُ كَشْطُ ذَلِكَ مِنَ الْمُصْحَفِ لَفَعَلَهُ.

ترجمہ:

”یہ بات یقینی ہے کہ جو شخص اپنے قول کے ذریعے کتاب و سنت کی نصوص کو رد کرتا ہے، وہ ہر اس بات کو ناپسند کرتا ہے جو اس کے قول کے خلاف ہو۔ وہ یہ آرزو کرتا ہے کہ کاش یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی اور یہ حدیث وارد نہ ہوئی ہوتی۔ اگر اس کے بس میں ہوتا کہ اسے مصحف سے کھرچ کر نکال دے تو وہ ایسا بھی کر گزرتا۔“

📖 درء تعارض العقل والنقل: 217/5

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إِنَّ السَّعَادَةَ وَالْهُدَى فِي مُتَابَعَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ الضَّلَالَ وَالشَّقَاءَ فِي مُخَالَفَتِهِ، وَأَنَّ كُلَّ خَيْرٍ فِي الْوُجُودِ، إِمَّا عَامٌّ وَإِمَّا خَاصٌّ؛ فَمَنْشَؤُهُ مِنْ جِهَةِ الرَّسُولِ، وَأَنَّ كُلَّ شَرٍّ فِي الْعَالَمِ مُخْتَصٌّ بِالْعَبْدِ، فَسَبَبُهُ مُخَالَفَةُ الرَّسُولِ أَوِ الْجَهْلُ بِمَا جَاءَ بِهِ، وَأَنَّ سَعَادَةَ الْعِبَادِ فِي مَعَاشِهِمْ وَمَعَادِهِمْ بِاتِّبَاعِ الرِّسَالَةِ.

ترجمہ:

”انسانیت کی سعادت اور ہدایت رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں ہے، جبکہ آپ ﷺ کی مخالفت گمراہی اور بدبختی کا باعث ہے۔ دنیا میں موجود ہر عام و خاص بھلائی کا سرچشمہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں، اور بندے کے ساتھ پیش آنے والی ہر برائی کا سبب رسول اللہ ﷺ کی مخالفت یا آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات سے جہالت ہے۔ بندوں کی دنیا و آخرت کی سعادت کا مدار اتباعِ رسالت پر ہے۔“

📖 مجموع الفتاوى: 93/19

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا فرمان

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ (م: 751ھ) لکھتے ہیں:

مَنْ عَرَضَ أَقْوَالَ الْعُلَمَاءِ عَلَى النُّصُوصِ وَوَزَنَهَا بِهَا، وَخَالَفَ مِنْهَا مَا خَالَفَ النَّصَّ؛ لَمْ يُهْدِرْ أَقْوَالَهُمْ وَلَمْ يَهْضِمْ جَانِبَهُمْ، بَلِ اقْتَدَى بِهِمْ، فَإِنَّهُمْ كُلُّهُمْ أَمَرُوا بِذَلِكَ، فَمُتَّبِعُهُمْ حَقًّا مَنِ امْتَثَلَ مَا أَوْصَوْا بِهِ، لَا مَنْ خَالَفَهُمْ، فَخِلَافُهُمْ فِي الْقَوْلِ الَّذِي جَاءَ النَّصُّ بِخِلَافِهِ؛ أَسْهَلُ مِنْ مُخَالَفَتِهِمْ فِي الْقَاعِدَةِ الْكُلِّيَّةِ الَّتِي أَمَرُوا، وَدَعَوْا إِلَيْهَا مِنْ تَقْدِيمِ النَّصِّ عَلَى أَقْوَالِهِمْ، وَمِنْ هُنَا يَتَبَيَّنُ الْفَرْقُ بَيْنَ تَقْلِيدِ الْعَالِمِ فِي كُلِّ مَا قَالَ، وَبَيْنَ الِاسْتِعَانَةِ بِفَهْمِهِ وَالِاسْتِضَاءَةِ بِنُورِ عِلْمِهِ، فَالْأَوَّلُ يَأْخُذُ قَوْلَهُ مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ فِيهِ وَلَا طَلَبٍ لِدَلِيلِهِ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، بَلْ يَجْعَلُ ذَلِكَ كَالْحَبْلِ الَّذِي يُلْقِيهِ فِي عُنُقِهِ، يُقَلِّدُهُ بِهِ، وَلِذَلِكَ سُمِّيَ تَقْلِيدًا، بِخِلَافِ مَنِ اسْتَعَانَ بِفَهْمِهِ وَاسْتَضَاءَ بِنُورِ عِلْمِهِ فِي الْوُصُولِ إِلَى الرَّسُولِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ.

ترجمہ:

”جو شخص علماء کے اقوال کو نصوصِ شریعت پر پیش کرتا ہے، انہیں نصوص کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور جو قول نص کے مخالف ہو اسے رد کر دیتا ہے، وہ نہ علماء کے اقوال کو رائیگاں سمجھتا ہے اور نہ ان کی شان میں کمی کرتا ہے، بلکہ حقیقت میں وہ انہی کی پیروی کرتا ہے، کیونکہ تمام علماء نے اسی بات کا حکم دیا ہے۔

علماء کا حقیقی پیروکار وہی ہے جو ان کی وصیت پر عمل کرے، نہ کہ وہ جو ان کی ہدایت کی مخالفت کرے۔ کسی عالم کے اس قول کو ترک کر دینا جو نص کے خلاف ہو، اس بات سے کہیں آسان ہے کہ اس عالم کی بیان کردہ اس کلی بنیاد کی مخالفت کی جائے جس میں اس نے اپنے اقوال پر نصوص کو مقدم رکھنے کا حکم دیا اور اسی کی دعوت دی۔

یہیں سے ہر بات میں کسی عالم کی تقلید کرنے اور اس کے فہم سے مدد لے کر اس کے علم کی روشنی میں راہِ حق تلاش کرنے کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ انسان عالم کی بات کو اس میں غور کیے بغیر اور کتاب و سنت سے اس کی دلیل تلاش کیے بغیر قبول کر لیتا ہے، بلکہ اسے اس رسی کی طرح بنا لیتا ہے جو اس نے اپنی گردن میں ڈال رکھی ہو اور اسی کے ذریعے بندھا ہوا ہو۔ اسی وجہ سے اسے تقلید کہا جاتا ہے۔

اس کے برخلاف دوسری صورت یہ ہے کہ انسان کسی عالم کے فہم سے مدد لے، اس کے علم کی روشنی سے فائدہ اٹھائے اور اس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔“

📖 الروح، صفحہ: 264

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➤ حاصلِ کلام

رسول اللہ ﷺ کی سنت ہی حق و باطل کو پرکھنے کی سب سے بڑی کسوٹی ہے۔ کسی عالم، امام، بزرگ، جماعت، اکثریت، رائے یا قیاس کو آپ ﷺ کی ثابت شدہ سنت پر مقدم نہیں کیا جا سکتا۔

علماء کی حقیقی پیروی یہ نہیں کہ ان کی ہر بات بلا دلیل قبول کر لی جائے، بلکہ حقیقی پیروی یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کی روشنی میں کتاب و سنت تک پہنچا جائے اور جس مقام پر ان کا قول نصِ شرعی کے خلاف ہو، وہاں انہی کی وصیت کے مطابق نص کو مقدم رکھا جائے۔

6 📘 تکمیلِ دین

اللہ کریم نے قرآنِ مجید میں تکمیلِ دین کا مژدہ سنا دیا ہے۔ دین مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کو ایک کامل شریعت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں شریعت کے تمام احکام کے متعلق تفصیلی اور مدلل رہنمائی فراہم کر دی گئی ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

ترجمہ:

”آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔“

📖 سورۃ المائدہ: 3

━━━━━━━━━━━━━━

◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ
(متوفی: 774ھ) لکھتے ہیں:

«هَذِهِ أَكْبَرُ نِعَمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ؛ حَيْثُ أَكْمَلَ تَعَالَى لَهُمْ دِينَهُمْ، فَلَا يَحْتَاجُونَ إِلَى دِينٍ غَيْرِهِ، وَلَا إِلَى نَبِيٍّ غَيْرِ نَبِيِّهِمْ، صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَلِهَذَا جَعَلَهُ اللهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ، وَبَعَثَهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، فَلَا حَلَالَ إِلَّا مَا أَحَلَّهُ، وَلَا حَرَامَ إِلَّا مَا حَرَّمَهُ، وَلَا دِينَ إِلَّا مَا شَرَعَهُ»

”یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دین مکمل کر دیا ہے۔ اب انہیں کسی دوسرے دین کی حاجت ہے اور نہ اپنے نبی کے علاوہ کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر جن و انس، دونوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ چنانچہ حلال صرف وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا، حرام صرف وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا اور دین صرف وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع قرار دیا۔“

📚 تفسیر ابن کثیر: 465/2

━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام مالک بن انس رحمہ اللہ
(متوفی: 179ھ) فرماتے ہیں:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَلَفُهَا؛ فَقَدْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَانَ الرِّسَالَةَ، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

فَمَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ دِينًا، لَا يَكُونُ الْيَوْمَ دِينًا»

”اگر آج کوئی شخص امت میں ایسا نیا کام جاری کرتا ہے جس پر اسلافِ امت نہیں تھے تو وہ گویا یہ باور کرا رہا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغِ رسالت میں خیانت کی ہے۔ معاذ اللہ!

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

”آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔“

📖 سورۃ المائدہ: 3

لہٰذا جو چیز اس وقت دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔“

📚 الإحکام لابن حزم: 85/6
درجۂ سند: حسن

━━━━━━━━━━━━━━

➤ بدعت دراصل دین کے کامل ہونے پر اعتراض ہے

امام مالک رحمہ اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں یوں سمجھیے کہ اگر کوئی شخص بدعت جاری کرتا ہے تو گویا وہ یہ باور کرا رہا ہے کہ دین ناقص تھا، جسے اس نے مکمل کر دیا۔

گویا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ ایک کارِ ثواب تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کیا، لیکن اب وہ اسے بیان کر رہا ہے۔

یوں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

➤ ہر بدعت، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اس سے منع فرمایا ہے، اسی لیے سچے اہلِ ایمان بدعت کے تصور ہی سے کانپ اٹھتے ہیں۔

◈ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ»

”یقیناً میں تمہیں ایک ایسے روشن اور واضح راستے پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ میرے بعد اس راستے سے صرف وہی شخص منحرف ہوگا جو ہلاک ہونے والا ہے۔“

📚 مسند الإمام أحمد: 126/4
📚 سنن ابن ماجہ: 43
📚 السنۃ لابن ابی عاصم: 48
📚 المستدرک علی الصحیحین للحاکم: 96/1
درجۂ سند: حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/43/

◈ حافظ منذری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

📚 الترغیب والترہیب: 46/1

━━━━━━━━━━━━━━

➤ یاد رکھیے! ہمارا دین مکمل ہے، اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں۔

بدعت دراصل دین میں اضافہ ہے، اور دین میں اضافہ کرنا یہود و نصاریٰ کی روش کی پیروی ہے۔

یہود و نصاریٰ نے اپنے دین میں اس قدر اضافے کیے کہ رفتہ رفتہ ان کا اصل دین ہی ناپید ہوگیا۔

7 📘 بدعت کی مذمت

ہر بدعت ظلمت و ضلالت، اتباعِ نفس اور انہدامِ اسلام کا ذریعہ ہے، اور ہر بدعت سیئہ اور قبیحہ ہے۔ جس کام کی اصل قرآن و حدیث میں نہ ہو، وہ اچھا نہیں ہو سکتا۔

◈ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م: 790ھ) لکھتے ہیں:

اعلموا أن البدعة لا يقبل معها عبادة من صلاة ولا صيام ولا صدقة ولا غيرها من القربات، ومجالس صاحبها تنزع منه العصمة، ويوكل إلى نفسه، والماشي إليه وموقره معين على هدم الإسلام، فما الظن بصاحبها؟ وهو ملعون على لسان الشريعة، ويزداد من الله بعبادته بعدا، وهى مظنة القاء العداوة والبغضاء، ومانعة من الشفاعة المحمدية، ورافعة للسنن التى تقابلها، وعلى مبتدعها إثم من عمل بها، وليس له من توبة، وتلقى عليه الذلة والغضب من الله، ويبعد عن حوض رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويخاف عليه أن يكون معدودا فى الكفار الخارجين عن الملة، وسوء الخاتمة عند الخروج من الدنيا، ويسود وجهه فى الآخرة، ويعذب بنار جهنم، وقد تبرأ منه رسول الله صلى الله عليه وسلم وتبرأ منه المسلمون، ويخاف عليه الفتنة فى الدنيا زيادة إلى عذاب الآخرة

ترجمہ:
”جان لیجیے کہ بدعت کی موجودگی میں نماز، روزہ اور صدقہ وغیرہ کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ بدعتی کی مجالس سے عصمت چھین لی جاتی ہے اور وہ اپنے نفس کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ بدعتی کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے، اور جو شخص بدعتی کے پاس جاتا ہے، وہ اسلام کے انہدام میں اس کا معاون بنتا ہے۔

اس کی عبادت اسے اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتی ہے۔ بدعت بغض و عناد کا سبب ہے، نیز شفاعتِ رسول سے محروم کرتی اور سنتوں کو مٹاتی ہے۔ بدعت جاری کرنے والے پر ان تمام انسانوں کا گناہ ہوگا جو اس پر عمل کریں گے۔ اس کی معافی نہیں ہوگی۔ اس پر ذلت و رسوائی اور اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا۔

وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے دُور کر دیا جائے گا، ڈر ہے کہ وہ کفار میں شمار کیا جائے اور وقتِ آخر برے انجام کا شکار ہو۔ روزِ آخرت روسیاہ ہوگا اور اسے عذابِ جہنم سے دوچار کیا جائے گا۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیزاری کا اعلان کیا ہے اور مسلمان اس سے بری ہیں۔ شدید خدشہ ہے کہ عذابِ آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کوئی بڑا فتنہ اسے آن لے گا۔“

📖 الاعتصام: 106/1–107

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

إن أحسن الحديث كتاب الله، وأحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم، وشر الأمور محدثاتها، وإن الشقي من شقي فى بطن أمه، وإن السعيد من وعظ بغيره، فاتبعوا ولا تبتدعوا

ترجمہ:
”بہترین کلام کتاب اللہ ہے، بہترین منہج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور بدترین کام بدعت ہیں۔ بدبخت وہی ہے جو شکمِ مادر میں بدبخت لکھ دیا گیا تھا، اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔ لہٰذا آپ اتباع کریں، بدعات جاری نہ کریں۔“

📖 الاعتقاد للبيهقي: 306، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (م: 751ھ) لکھتے ہیں:

إن السنة بالذات تمحق البدعة، ولا تقوم لها، وإذا طلعت شمسها فى قلب العبد، قطعت من قلبه ضباب كل بدعة، وأزالت ظلمة كل ضلالة، إذ لا سلطان للظلمة مع سلطان الشمس، ولا يرى العبد الفرق بين السنة والبدعة، ويعينه على الخروج من ظلمتها إلى نور السنة؛ إلا المتابعة، والهجرة بقلبه كل وقت إلى الله، بالاستعانة والإخلاص، وصدق اللجإ إلى الله، والهجرة إلى رسوله، بالحرص على الوصول إلى أقواله وأعماله وهديه وسنته، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله؛ فهجرته إلى الله ورسوله، ومن هاجر إلى غير ذلك؛ فهو حظه ونصيبه فى الدنيا والآخرة، والله المستعان

ترجمہ:
”سنت بدعت کا قلع قمع کرتی ہے اور اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتی۔ جب آفتابِ سنت کسی دل میں طلوع ہو جاتا ہے تو اس سے بدعات کی گرد ختم کر دیتا ہے اور اس کے اندھیرے زائل کر دیتا ہے، کیونکہ سورج کے سامنے ظلمت کی طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

ایک عام آدمی سنت اور بدعت میں کوئی فرق نہیں کر پاتا۔ اسے بدعت کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے انوارِ سنت کی چھاؤں میں رہنا ہوگا۔ اسے اپنے دل کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی استعانت، اخلاص اور سچی تڑپ میں رکھنا ہوگا، اور سب کچھ چھوڑ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، اعمال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و منہج کی تلاش میں رہنا ہوگا۔

جس آدمی کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوئی، اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے، اور جس نے کسی غیر کی طرف ہجرت کی تو دنیا و آخرت میں وہی اس کا حصہ اور نصیب ہے۔ واللہ المستعان۔“

📖 مدارج السالکین: 374/1

8 📘 بدعت، خواہشِ نفس اور بے علمی کی مذمت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾

ترجمہ:
”اس چیز کا پیچھا مت کریں، جس کا آپ کو علم نہیں۔“

📖 سورۃ الإسراء: 36

━━━━━━━━━━━━━━━

مزید فرمایا:

﴿إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ﴾

ترجمہ:
”یہ لوگ محض ظن اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت آ چکی ہے۔“

📖 سورۃ النجم: 23

━━━━━━━━━━━━━━━

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ﴾

ترجمہ:
”نبی! اہلِ کتاب سے کہہ دیجیے، دین میں ناحق غلو مت کریں اور ان گمراہوں کی خواہشات پر نہ چلیں، جو خود پہلے گمراہ ہوئے، بہت سے انسانوں کو راہِ حق سے بھٹکایا اور سیدھی راہ سے دور ہو گئے۔“

📖 سورۃ المائدہ: 77

━━━━━━━━━━━━━━━

نیز فرمایا:

﴿وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾

ترجمہ:
”بہت سے لوگ محض جہالت کی بنا پر اپنی نفسانی خواہشات کے ذریعے گمراہی پھیلاتے ہیں۔“

📖 سورۃ الأنعام: 119

➤ ان آیات میں بدعتی کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ وہ گمراہی کو پھیلاتا ہے، قرآن و سنت کو چھوڑ دیتا ہے اور خواہشاتِ نفسانی کو اپنی زندگی کا اصل الاصول بنا لیتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ﴾

ترجمہ:
”تاکہ وہ روزِ قیامت اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اٹھائیں، اور ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنہیں انہوں نے بغیر علم کے گمراہ کیا۔ خبردار! بہت برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھائیں گے۔“

📖 سورۃ النحل: 25

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:

معلوم أن كل ما لم يسنه ولا استحبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أحد من هؤلاء الذين يقتدي بهم المسلمون فى دينهم؛ فإنه يكون من البدع المنكرات، ولا يقول أحد فى مثل هذا: إنه بدعة حسنة، إذا البدعة الحسنة عند من يقسم البدع إلى حسنة وسيئة لا بد أن يستحبها أحد من أهل العلم الذين يقتدى بهم، ويقوم دليل شرعي على استحبابها، وكذلك من يقول: البدعة الشرعية، كلها مذمومة لقوله صلى الله عليه وسلم فى الحديث الصحيح: كل بدعة ضلالة، ويقول: قول عمر فى التراويح: نعمت البدعة هذه، إنما أسماها بدعة باعتبار وضع اللغة، فالبدعة فى الشرع عند هؤلاء ما لم يقم دليل شرعي على استحبابه، ومال القولين واحد؛ إذ هم متفقون على أن ما لم يستحب أو يجب من الشرع؛ فليس بواجب ولا مستحب، فمن اتخذ عملا من الأعمال عبادة ودينا، وليس ذلك فى الشريعة واحبا ولا مستحبا، فهو ضال باتفاق المسلمين

ترجمہ:
”یہ بات واضح ہے کہ جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری نہیں فرمایا، نہ اسے پسند کیا اور نہ ہی ان اسلاف میں سے کسی نے اسے پسند کیا جن کی مسلمان اپنے دین میں پیروی کرتے ہیں، تو وہ منکر بدعات میں شمار ہوگا۔

جو لوگ بدعت کو حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کرتے ہیں، وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ بدعتِ حسنہ وہی ہو سکتی ہے جسے اہلِ علم میں سے کسی ایسے امام نے مستحب قرار دیا ہو جس کی پیروی کی جاتی ہے، اور اس کے استحباب پر کوئی شرعی دلیل بھی موجود ہو۔

اسی طرح جو لوگ کہتے ہیں کہ شرعی بدعت ساری کی ساری مذموم ہے، وہ اس صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

”ہر بدعت گمراہی ہے۔“

اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے تراویح کے متعلق فرمان:

«نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ»

”یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔“

کے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے لغوی اعتبار سے بدعت کہا تھا۔

پس ان کے نزدیک شرعی بدعت وہ ہے جس کے استحباب پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو۔

دونوں اقوال کا حاصل ایک ہی ہے، کیونکہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ جس چیز کو شریعت نے مستحب یا واجب قرار نہیں دیا، وہ نہ واجب ہے اور نہ مستحب۔

اسی طرح دونوں اس بات پر بھی متفق ہیں کہ جو شخص کسی ایسے عمل کو دین اور عبادت بنا لے جسے شریعت نے نہ واجب قرار دیا ہو اور نہ مستحب، تو ایسا شخص بالاتفاق گمراہ ہے۔“

📖 مجموع الفتاوى: 152/27

━━━━━━━━━━━━━━━

➤ معلوم ہوا کہ دین، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا نام ہے، اور اعمال کی قبولیت کے لیے بنیادی شرط قرآن و سنت کی پیروی ہے۔

9 📘 سنت کی پیروی اور بدعت سے اجتناب

◈ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

عطس رجل إلى جنب ابن عمر، فقال: الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال ابن عمر: وأنا أقول: الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكن ليس هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نقول إذا عطسنا، أمرنا أن نقول: الحمد لله على كل حال

ترجمہ:
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی نے چھینک لی اور کہا:

الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔

اس پر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی اللہ کی تعریف کرتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہوں، لیکن اس موقع پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں سکھایا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھینک کے وقت یہ دعا سکھائی ہے:

الحمد لله على كل حال

”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔“

📖 سنن الترمذي: 2738، مسند الحارث بغية الباحث: 807، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 265/4–266، شعب الإيمان للبيهقي: 8884، وسندہ حسن

🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2738/

امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح الإسناد“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔

حضرمی بن عجلان مولیٰ جارود کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔

📖 الثقات: 249/6

امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، جو کہ ان کی طرف سے توثیق ہے، جبکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں صدوق کہا ہے۔

📖 الکاشف: 239/1

مستدرک حاکم میں حضرمی بن لاحق چھپ گیا ہے، جو کہ وہم ہے۔

امام طبرانی رحمہ اللہ کی مسند الشامیین: 323 میں حسن سند کے ساتھ اس کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبى صلى الله عليه وسلم، يسألون عن عبادة النبى صلى الله عليه وسلم، فلما أخبروا كأنهم تقالوها، فقالوا: وأين نحن من النبى صلى الله عليه وسلم؟ قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، قال أحدهم: أما أنا؛ فإني أصلي الليل أبدا، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال آخر: أنا أعتزل النساء، فلا أتزوج أبدا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم، فقال أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله، إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني

ترجمہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے پاس تین شخص آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا احوال معلوم کیا۔ جب انہیں بتایا گیا تو ان کے ردِ عمل سے یوں محسوس ہوا کہ شاید وہ اس عبادت کو کم سمجھ رہے ہیں۔

چنانچہ کہنے لگے: ہم کہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہیں؟ آپ کی تو اگلی پچھلی تمام لغزشیں اللہ نے معاف کر دی ہیں۔

ایک نے کہا: میں ہمیشہ کے لیے ساری رات جاگ کر نماز ادا کرنے کا معمول بناؤں گا۔

دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔

تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم ہی لوگوں نے فلاں فلاں بات کہی ہے؟

اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔

لہٰذا جو شخص میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔“

📖 صحيح البخاري: 5053، صحيح مسلم: 1401

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/5053/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1401/

یہ حدیث صحیح بخاری حدیث: 7084 اور صحیح مسلم حدیث: 1847 میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/7084/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1847/

➤ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سنت کی پیروی ضروری ہے۔ اس میں کمی بیشی کرنا غلط ہے، ورنہ بظاہر نیک کام بھی بدعت بن جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا يستقيم قول إلا بعمل، ولا يستقيم قول وعمل إلا بنية، ولا يستقيم قول وعمل ونية، إلا بموافقة السنة

ترجمہ:
”عمل کے بغیر محض زبانی دعوے کی کوئی حیثیت نہیں، اور نیت کے بغیر قول و عمل درست نہیں ہو سکتے، اور کوئی قول، عمل اور نیت اس وقت تک معتبر نہیں جب تک سنت کے موافق نہ ہو۔“

📖 حلية الأولياء لأبي نعيم: 32/7، وسندہ حسن

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پہلے علمائے کرام کہا کرتے تھے:

الاعتصام بالسنة نجاة

”سنت کو مضبوطی سے تھامنا باعثِ نجات ہے۔“

📖 سنن الدارمي: 97، وسندہ صحیح

10 📘 سنت سے وابستگی اور بدعت کی ہلاکت خیزی

◈ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

”میری سنت سے منہ موڑنے والا میرے طریقے پر نہیں۔“

📖 صحیح ابن خزيمة: 197، وسندہ صحیح

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ صَاحِبِ كُلِّ بِدْعَةٍ

”اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی کے لیے توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے۔“

📖 المعجم الأوسط للطبراني: 4202، طبقات المحدثين بأصبهان لأبي الشّيخ الأصبهاني: 609/3، المختارة للحافظ الضياء المقدسي: 2054، وسندہ حسن

◈ حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔

📖 الترغيب والترهيب: 868

◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

رجاله رجال الصحيح، غير هارون بن موسى الفروي، وهو ثقة

”اس کے تمام راوی صحیح بخاری والے ہیں، سوائے ہارون بن موسیٰ فروی کے، اور وہ بھی ثقہ ہیں۔“

📖 مجمع الزوائد: 189/10

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

البدعة أحب إلى إبليس من المعصية، المعصية يتاب منها، والبدعة لا يتاب منها

”بدعت شیطان کو معصیتِ الٰہی سے زیادہ محبوب ہے۔ گناہ سے تو توبہ کر لی جاتی ہے، لیکن بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔“

📖 مسند علي بن الجعد: 1809، وسندہ حسن

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:

معنى قولهم: إن البدعة لا يتاب منها أن المبتدع الذى يتخذ دينا لم يشرعه الله ولا رسوله قد زين له سوء عمله فرآه حسنا، فهو لا يتوب ما دام يراه حسنا، لأن أول التوبة العلم بأن فعله سيء ليتوب منه، أو بأنه ترك حسنا مأمورا به أمر إيجاب أو استحباب ليتوب ويفعله، فما دام يرى فعله حسنا وهو سيء فى نفس الأمر، فإنه لا يتوب، ولكن التوبة منه ممكنة وواقعة بأن يهديه الله ويرشده، حتى يتبين له الحق، كما هدى سبحانه وتعالى من هدى من الكفار والمنافقين وطوائف من أهل البدع والضلال

ترجمہ:
”اہلِ علم کہتے ہیں کہ بدعت سے توبہ نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدعتی شریعتِ محمدیہ کے علاوہ کسی اور دین کا پیروکار ہوتا ہے، اس کے لیے برا عمل مزین کر دیا جاتا ہے اور وہ اسے اچھا سمجھتا رہتا ہے۔

چنانچہ وہ اس عمل سے توبہ نہیں کر سکتا، کیونکہ توبہ کے لیے اپنے عمل کو برا جاننا ضروری ہے، یا اس بات کا احساس ہونا ضروری ہے کہ میں نے واجب یا مستحب عمل کو ترک کر دیا ہے۔

لہٰذا جب تک وہ کسی برے کام کو اچھا سمجھتا رہے گا، تب تک توبہ نہیں کرے گا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر حق واضح کر کے اسے رشد و ہدایت سے نواز دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار، منافقین اور بہت سے بدعتیوں اور گمراہوں کو ہدایت دی ہے۔“

📖 مجموع الفتاوى: 9/10

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا، ثم قال: هذا سبيل الله، ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله، ثم قال: هذه سبل متفرقة على كل سبيل منها شيطان يدعو إليه، ثم قرأ:

﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾

ترجمہ:
”ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں مزید لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ دوسرے راستے ہیں، ان سب پر شیطان کا ڈیرہ ہے، وہ ان کی طرف بلا رہا ہے۔

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾

”یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کی طرف مت جاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔““

📖 سورۃ الأنعام: 153

📖 مسند الإمام أحمد: 435/1، مسند الطيالسي: 241، سنن الدارمي: 202، السنن الكبرى للنسائي: 11109، وسندہ حسن

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/11109/

اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الإسناد“ کہا ہے، نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ”صحیح“ کہا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ طیبی رحمہ اللہ (م: 743ھ) ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

قوله: الزائد فى كتاب الله، يجوز أن يراد به من يدخل فى كتاب الله ما ليس منه، أو أن يأول بما يأبى عنه اللفظ ويخالف المحكم، كما فعلت اليهود بالتوراة من التبديل والتحريف، والزيادة فى كتاب الله كفر، وتأويله بما يخالف الكتاب والسنة بدعة

ترجمہ:
”کتاب اللہ میں زیادتی سے مراد ان چیزوں کا اضافہ ہے جو کتاب اللہ میں نہیں تھیں، یا اس سے مراد یہود و نصاریٰ کی طرح تحریف و تبدل پر مبنی ایسی تاویل ہے جو ظاہرِ نص اور محکم کے مخالف ہو۔

کتاب اللہ میں زیادتی کفر ہے اور اس کی قرآن و سنت کے مخالف تاویل کرنا بدعت ہے۔“

📖 شرح المشكاة: 572/2

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ

”ہر عمل میں شدت ہوتی ہے، پھر بعد میں سستی آ جاتی ہے۔ جو شخص سستی کے ایام میں بھی میری سنت کا پیروکار رہا، وہ ہدایت پر رہا، اور جو سستی کے ایام میں کسی اور طرف نکل گیا، وہ ہلاک ہو گیا۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 158/2، السنة لابن أبي عاصم: 51، وسندہ صحیح

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

◈ خالد بن سعد مولیٰ ابی مسعود انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

دخل أبو مسعود على حذيفة، فقال: اعهد إلي، فقال له: ألم يأتك اليقين، فقال: بلى وعزة ربي، قال: فاعلم أن الضلالة حق الضلالة أن تعرف ما كنت تنكر وأن تنكر ما كنت تعرف، وإياك والتلون، فإن دين الله تعالى واحد

ترجمہ:
”سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے وصیت طلب کی۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کے پاس یقینی خبر یعنی وحی نہیں پہنچی؟

انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، میرے رب کی عزت کی قسم!

فرمایا: جان لیجیے کہ حقیقی گمراہی یہ ہے کہ جس چیز کو پہلے برا جانتے تھے اسے اچھا سمجھنے لگیں، اور جس چیز کو پہلے اچھا جانتے تھے اسے برا سمجھنے لگیں۔

دو رنگی سے بچیں اور یک رنگ رہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہی ہے۔“

📖 مسند علي بن الجعد: 3083، وسندہ حسن

11 📘 بدعت کیا ہے؟

◈ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (م: 855ھ) لکھتے ہیں:

هي ما لم يكن له أصل فى الكتاب والسنة وقيل: إظهار شيء لم يكن فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا فى زمن الصحابة رضي الله عنهم

”دین میں بدعت ہر اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو۔ دوسری تعریف یہ ہے کہ ایسا عمل جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہ پایا گیا ہو۔“

📖 عمدة القاري: 37/25

━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م: 790ھ) لکھتے ہیں:

طريقة فى الدين مخترعة تضاهي الشريعة يقصد بالسلوك عليها المبالغة فى التعبد لله سبحانه

”شریعت کی مشابہت میں نکالا گیا وہ طریقہ، جس کا مقصود عبادت میں مبالغہ ہو، بدعت کہلاتا ہے۔“

📖 الاعتصام: 30/1

━━━━━━━━━━━━━━

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:

إن البدعة هي الدين الذى لم يأمر الله به ورسوله، فمن دان دينا لم يأمر الله ورسوله به فهو مبتدع بذلك، وهذا معنى قوله تعالى:

﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ﴾

”بدعت وہ دین ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا، اور جس کا حکم شریعت میں نہ ہو، اس پر عمل کرنے والا بدعتی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی معنی ہے:

’کیا انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، جنہوں نے ان چیزوں کو دین بنا دیا ہے جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟‘“

📖 سورۃ الشوریٰ: 21
📖 الاستقامة: 5/1

━━━━━━━━━━━━━━

◈ نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إن البدعة ما لم يشرعه الله من الدين فكل من دان الشيء لم يشرعه الله فذلك بدعة وإن كان متأولا فيه

”بدعت وہ طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کیا۔ سو ہر وہ عمل بدعت ہے جسے اللہ نے مشروع نہ کیا ہو، بھلے وہ تاویل کی بنا پر اختیار کیا گیا ہو۔“

📖 الاستقامة: 428

━━━━━━━━━━━━━━

◈ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (م: 795ھ) لکھتے ہیں:

المراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له فى الشريعة يدل عليه وأما ما كان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعا وإن كان بدعة لغة

”بدعت سے مراد وہ چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل و دلیل نہ ہو۔ ہاں! جس کی شریعت میں اصل و دلیل موجود ہو، وہ شرعی بدعت نہیں، اگرچہ لغوی اعتبار سے بدعت ہو۔“

📖 جامع العلوم والحكم: 193

━━━━━━━━━━━━━━

◈ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں:

من تقرب إلى الله بعمل، لم يجعله الله ورسوله قربة إلى الله، فعمله باطل مردود عليه، وهو شبيه بحال الذين كانت صلاتهم عند البيت مكاء وتصدية، وهذا كمن تقرب إلى الله تعالى بسماع الملاهي، أو بالرقص، أو بكشف الرأس فى الإحرام، وما أشبه ذلك من المحدثات التى لم يشرع الله ورسوله التقرب بها بالكلية، وليس ما كان قربة فى عبادة يكون قربة فى غيرها مطلقا، فقد رأى النبى صلى الله عليه وسلم رجلا قائما فى الشمس، فسأل عنه، فقيل: إنه نذر أن يقوم ولا يقعد ولا يستظل وأن يصوم، فأمره النبى صلى الله عليه وسلم أن يقعد ويستظل، وأن يتم صومه، فلم يجعل قيامه وبروزه للشمس قربة يوفي بنذرهما. وقد روي أن ذلك كان فى يوم جمعة عند سماع خطبة النبى صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر، فنذر أن يقوم ولا يقعد ولا يستظل ما دام النبى صلى الله عليه وسلم يخطب، إعظاما لسماع خطبة النبى صلى الله عليه وسلم، ولم يجعل النبى صلى الله عليه وسلم ذلك قربة توفى بنذره، مع أن القيام عبادة فى مواضع أخر، كالصلاة والأذان والدعاء بعرفة، والبروز للشمس قربة للمحرم، فدل على أنه ليس كل ما كان قربة فى موطن يكون قربة فى كل المواطن، وإنما يتبع فى ذلك ما وردت به الشريعة فى مواضعها

”جس عمل کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرب کا ذریعہ نہ بنایا ہو، اس کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش کرنے کا عمل باطل اور مردود ہے۔

جیسے مشرکینِ مکہ بیت اللہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجا کر عبادت کرتے تھے۔ بدعی اعمال کے ذریعے حصولِ تقرب کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی آلاتِ موسیقی سننے، رقص کرنے، احرام کے علاوہ سر ننگا رکھنے، یا اس طرح کی دوسری بدعات کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کرے، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربِ الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ مشروع نہیں کیا۔

ایک عمل اگر کسی ایک عبادت میں بطورِ نیکی مشروع ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسری عبادات میں بھی اس کا کرنا نیکی بن جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ بتایا گیا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں، سائے میں نہیں آئے گا اور روزہ رکھے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ بیٹھ جائے، سائے میں آجائے، البتہ اپنا روزہ مکمل کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے کھڑے رہنے اور دھوپ میں رہنے کو ایسی نیکی قرار نہیں دیا جس کی نذر پوری کی جائے۔

روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے یہ نذر جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنتے ہوئے مانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے اور اس نے یہ نذر مانی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے رہیں گے، وہ تعظیماً خطبہ سننے کے لیے کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں اور سائے میں نہیں آئے گا۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی نیکی قرار نہیں دیا جس کی نذر پوری کرنا ضروری ہو۔

حالانکہ نماز، اذان اور عرفہ میں دعا کے وقت کھڑا ہونا عبادت ہے، اور محرم کے لیے سورج کے سامنے کھلے مقام پر ہونا بھی قربت کے اعمال میں شامل ہوسکتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ عمل جو کسی ایک مقام اور عبادت میں قربت ہو، ضروری نہیں کہ ہر مقام اور ہر عبادت میں بھی قربت بن جائے۔ بلکہ اس معاملے میں اسی طریقے کی پیروی کی جائے گی جو شریعت نے ہر مقام کے لیے مقرر کیا ہے۔“

📖 جامع العلوم والحكم: 178/1

➤ خلاصۂ تعریف:
بدعت سے مراد دین میں ایسا نیا طریقہ یا عمل داخل کرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہ کیا ہو، خواہ اسے نیکی، تعظیم یا حصولِ ثواب کے ارادے سے ہی کیوں نہ اختیار کیا جائے۔

12 📘 اسلام میں بدعتِ حسنہ (اچھی بدعت) نامی کوئی شے نہیں

اسلام دینِ کامل ہے، جس میں ایمان، عبادات اور اخلاقیات کے تمام اصول اور طریقے رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیے ہیں۔ دین میں کمی بیشی کرنا یا اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا ناپسندیدہ اور مردود عمل ہے، چاہے وہ بظاہر نیکی ہی کیوں نہ معلوم ہو۔

اسی حقیقت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے عمل سے واضح فرمایا۔ سنن ترمذی کی ایک روایت اس مسئلے میں نہایت اہم دلیل ہے۔

📖 حدیث کی دلیل

حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا زياد بن الربيع، حدثنا حضرمي مولى آل الجارود، عن نافع، ان رجلا عطس إلى جنب ابن عمر، فقال: الحمد لله والسلام على رسول الله، قال ابن عمر: وانا اقول الحمد لله والسلام على رسول الله، وليس هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا، ان نقول: ”الحمد لله على كل حال“، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث زياد بن الربيع.

حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب چھینکا، تو اس نے کہا:

«الحمد لله والسلام على رسول الله»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

”میں بھی الحمد لله والسلام على رسول الله کہتا ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس طرح نہیں سکھایا، بلکہ آپ ﷺ نے ہمیں یہ کہنا سکھایا ہے:

«الحمد لله على كل حال»“

📖 سنن الترمذی: 2738 — شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2738/

🔎 وضاحت

◈ درود و سلام پڑھنا عام حالات میں نیکی اور باعثِ اجر ہے۔

◈ مگر یہاں اس شخص نے درود و سلام کو ایک خاص موقع، یعنی چھینکنے کے بعد پڑھے جانے والے شکر کے کلمات کے ساتھ جوڑ دیا، حالانکہ اس موقع کے لیے نبی کریم ﷺ نے مخصوص الفاظ سکھائے ہیں۔

◈ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے واضح کر دیا کہ دینی معاملات میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا درست نہیں، چاہے وہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے اچھی اور باعثِ اجر ہی کیوں نہ ہو۔

◈ یہ طرزِ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت میں مقرر کردہ اذکار اور عبادات کے الفاظ اور طریقوں کو اپنی مرضی سے تبدیل یا ان میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

⚠️ بدعتِ حسنہ کے نظریے کا رد

بریلوی حضرات کے اصول کے مطابق اگر کسی عبادت یا ذکر میں بظاہر کوئی اچھی چیز شامل کر دی جائے تو اسے ”بدعتِ حسنہ“ کہا جاتا ہے۔

اگر یہ اصول درست ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کو نہ روکتے، بلکہ اس اضافے کو پسند کرتے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام پڑھنا تو بلاشبہ نیکی اور باعثِ اجر عمل ہے۔

لیکن صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ نے واضح طور پر اس اضافے کو رد فرمایا اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس موقع پر اس طرح نہیں سکھایا۔

➤ اس سے معلوم ہوا کہ دین کے کسی مقررہ عمل میں بظاہر نیکی پر مشتمل چیز کا اپنی طرف سے اضافہ کر دینا بھی درست نہیں، بلکہ سنت وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی۔

📌 حاصلِ کلام

✿ دین مکمل ہے اور اس میں اپنی طرف سے کسی قسم کی اختراع کی اجازت نہیں۔

✿ سنت میں جو الفاظ یا طریقہ مقرر کیا گیا ہے، اسی پر عمل کیا جائے۔

✿ بظاہر نیک معلوم ہونے والا اضافہ بھی اگر دین کے مقررہ طریقے میں اپنی طرف سے شامل کیا جائے تو وہ بدعت ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسے اضافوں کو رد فرمایا ہے۔

✿ ”بدعتِ حسنہ“ کا تصور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

13 📘 بدعتِ (حسنہ) کے رد میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل

📖 سنن دارمی میں صحیح سند سے منقول واقعہ

204 أخبرنا الحكم بن المبارك أخبرنا عمرو بن يحيى قال سمعت أبي يحدث عن أبيه قال كنا نجلس على باب عبد الله بن مسعود قبل صلاة الغداة فإذا خرج مشينا معه إلى المسجد فجاءنا أبو موسى الأشعري فقال أخرج إليكم أبو عبد الرحمن بعد قلنا لا فجلس معنا حتى خرج فلما خرج قمنا إليه جميعا فقال له أبو موسى يا أبا عبد الرحمن إني رأيت في المسجد آنفا أمرا أنكرته ولم أر والحمد لله إلا خيرا قال فما هو فقال إن عشت فستراه قال رأيت في المسجد قوما حلقا جلوسا ينتظرون الصلاة في كل حلقة رجل وفي أيديهم حصى فيقول كبروا مائة فيكبرون مائة فيقول هللوا مائة فيهللون مائة ويقول سبحوا مائة فيسبحون مائة قال فماذا قلت لهم قال ما قلت لهم شيئا انتظار رأيك وانتظار أمرك قال أفلا أمرتهم أن يعدوا سيئاتهم وضمنت لهم أن لا يضيع من حسناتهم ثم مضى ومضينا معه حتى أتى حلقة من تلك الحلق فوقف عليهم فقال ما هذا الذي أراكم تصنعون قالوا يا أبا عبد الرحمن حصى نعد به التكبير والتهليل والتسبيح قال فعدوا سيئاتكم فأنا ضامن أن لا يضيع من حسناتكم شيء ويحكم يا أمة محمد ما أسرع هلكتكم هؤلاء صحابة نبيكم صلى الله عليه وسلم متوافرون وهذه ثيابه لم تبل وآنيته لم تكسر والذي نفسي بيده إنكم لعلى ملة هي أهدى من ملة محمد أو مفتتحو باب ضلالة قالوا والله يا أبا عبد الرحمن ما أردنا إلا الخير قال وكم من مريد للخير لن يصيبه إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا أن قوما يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم وايم الله ما أدري لعل أكثرهم منكم ثم تولى عنهم فقال عمرو بن سلمة رأينا عامة أولئك الحلق يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج

📚 سنن الدارمی، المقدمة، باب في كراهية أخذ الرأي

🔗 https://www.islamweb.net/ar/library/content/8/207/%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D9%81%D9%8A-%D9%83%D8%B1%D8%A7%D9%87%D9%8A%D8%A9-%D8%A3%D8%AE%D8%B0-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%A3%D9%8A

🔎 روایت کا خلاصہ

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ مسجد میں کچھ لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہیں۔ ہر حلقے میں ایک شخص ہاتھ میں کنکریاں لیے کہتا ہے:

”سو مرتبہ اللہ اکبر کہو“

تو سب سو مرتبہ اللہ اکبر کہتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے:

”سو مرتبہ لا إله إلا الله کہو“

تو سب سو مرتبہ تہلیل کرتے ہیں، پھر کہتا ہے:

”سو مرتبہ سبحان الله کہو“

تو سب سو مرتبہ تسبیح کہتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:

”اپنے گناہ گنو، میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوگا۔ افسوس اے امتِ محمد! تمہاری ہلاکت کتنی جلدی آگئی! نبی کریم ﷺ کے صحابہ ابھی کثرت سے موجود ہیں، آپ ﷺ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ ﷺ کے برتن ابھی ٹوٹے نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا تو تم محمد ﷺ کی ملت سے زیادہ ہدایت یافتہ ملت پر ہو، یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو!“

انہوں نے کہا:

”اللہ کی قسم! اے ابوعبدالرحمن! ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی کا تھا۔“

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

”کتنے ہی لوگ خیر کا ارادہ کرتے ہیں، مگر اسے پا نہیں سکتے۔“

روایت کے آخر میں راوی عمرو بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

”بعد میں ہم نے دیکھا کہ ان حلقوں میں بیٹھنے والوں کی اکثریت نہروان کے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم پر نیزے چلا رہی تھی۔“

📖 سنن الدارمی: 210 — صحیح، الألبانی: السلسلۃ الصحیحۃ (2005)

✅ روایت کی صحت

اس واقعے کی سند صحیح ہے:

✔ تمام رواۃ ثقہ ہیں، جیسا کہ امام ابن معین، امام عجلی، ابن سعد اور ابن حبان رحمہم اللہ نے ان کی توثیق کی ہے۔

✔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

📚 السلسلۃ الصحیحۃ: 2005

✔ اس روایت کے متعدد شواہد مختلف کتبِ حدیث میں موجود ہیں، جو اس کی صحت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

🔍 وضاحت

➊ ذکرِ الٰہی بذاتِ خود نیکی ہے، مگر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کی اس مخصوص شکل کو رد فرمایا، کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نہیں تھی۔

➋ ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہی کلمات استعمال کیے تھے، یعنی:

◈ تکبیر: الله أكبر

◈ تہلیل: لا إله إلا الله

◈ تسبیح: سبحان الله

لیکن انہوں نے اس کے لیے ایک نیا طریقہ، اجتماعی انداز اور مخصوص گنتی کا طریقہ مقرر کر لیا تھا، جو دین میں اپنی طرف سے اضافہ تھا۔

➌ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے واضح فرمایا کہ دین میں ایجاد کردہ عمل گمراہی کا دروازہ کھول دیتا ہے، چاہے عمل کرنے والے کا ارادہ خیر اور نیکی ہی کیوں نہ ہو۔

⚠️ بدعتِ حسنہ کے دعوے کا رد

بریلوی مکتبِ فکر کے اصول کے مطابق یہ عمل ”بدعتِ حسنہ“ کہلاتا، کیونکہ:

❀ یہ ذکرِ الٰہی پر مشتمل تھا۔

❀ اس میں بظاہر کوئی گناہ نہیں تھا۔

❀ اسے کرنے والوں کی نیت بھی نیکی اور بھلائی کی تھی۔

لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی طرزِ عمل کو رد کرتے ہوئے فرمایا:

✿ ”یا تو تم محمد ﷺ کی ملت سے زیادہ ہدایت یافتہ ملت پر ہو، یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو!“

➤ یہ بدعتِ حسنہ کے نظریے کی کھلی تردید ہے۔

اور جب انہوں نے اپنے عمل کے دفاع میں کہا:

”ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی کا تھا۔“

تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

✿ ”کتنے ہی لوگ خیر کا ارادہ کرتے ہیں، مگر اسے پا نہیں سکتے۔“

➤ یعنی صرف نیت کا اچھا ہونا کسی عمل کو سنت نہیں بنا دیتا۔

14 📘 امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بدعتِ محمودہ اور بدعتِ مذمومہ کا مفہوم

❓ سوال

ما مراد الإمام الشافعي بتقسيمه البدعة إلى محمودة ومذمومة؟ أريد تفصيل لو سمحت عن معنى البدعة عند الإمام الشافعي.

یعنی:

”امام شافعی رحمہ اللہ نے جب بدعت کو محمودہ (اچھی) اور مذمومہ (بری) میں تقسیم کیا تو ان کا کیا مطلب تھا؟ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بدعت کا مفہوم کیا ہے؟“

📌 جواب و توضیح

امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:

«الْبِدْعَةُ بِدْعَتَانِ:
بِدْعَةٌ مَحْمُودَةٌ، وَبِدْعَةٌ مَذْمُومَةٌ.
فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ: فَهُوَ مَحْمُودٌ.
وَمَا خَالَفَ السُّنَّةَ: فَهُوَ مَذْمُومٌ.»

اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قیامِ رمضان کے متعلق قول سے استدلال کیا:

«نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هِيَ»

ترجمہ:

”بدعت دو قسم کی ہے: ایک محمود، یعنی قابلِ تعریف، اور دوسری مذموم، یعنی قابلِ مذمت۔ پس جو سنت کے موافق ہو وہ محمود ہے، اور جو سنت کے مخالف ہو وہ مذموم ہے۔“

امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی تائید میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قیامِ رمضان کے متعلق یہ قول ذکر کیا:

”یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔“

📚 حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم: 9/113

🔎 امام شافعی رحمہ اللہ کی مزید وضاحت

امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک اور قول یوں نقل ہوا ہے:

«المحدثات من الأمور ضربان:
أحدهما: ما أُحدث يخالف كتاباً أو سنة أو أثراً أو إجماعاً؛ فهذه البدعة الضلالة.
والثانية: ما أحدث من الخير، لا خلاف فيه لواحد من هذا؛ وهذه محدثة غير مذمومة.
وقد قال عمر، رضي الله عنه، في قيام شهر رمضان: نعمت البدعة هذه، يعني أنها محدثة لم تكن، وإذا كانت فليس فيها ردّ لما مضى.»

ترجمہ:

”نئی پیدا ہونے والی باتیں دو قسم کی ہیں:

➊ ایک وہ چیز جو قرآن، سنت، اثر یا اجماع کے خلاف ایجاد کی جائے؛ پس یہ بدعتِ ضلالت ہے۔

➋ دوسری وہ چیز جو خیر میں سے ایجاد ہو اور قرآن، سنت، اثر یا اجماع میں سے کسی کے خلاف نہ ہو؛ تو یہ ایسا نیا کام ہے جو مذموم نہیں۔

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان کے قیام کے متعلق فرمایا: ’یہ کتنی اچھی بدعت ہے‘، یعنی یہ ایک ایسا نیا انتظام تھا جو پہلے اس صورت میں موجود نہیں تھا، لیکن اس میں سابقہ شریعت کی کسی چیز کی مخالفت یا نفی نہیں تھی۔“

📚 مناقب الشافعی للبیہقی: 1/469

📌 بدعتِ لغوی اور بدعتِ شرعی کا فرق

امام شافعی رحمہ اللہ کے ان اقوال کو سمجھنے کے لیے بدعتِ لغوی اور بدعتِ شرعی کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔

➊ بدعتِ لغوی

لغت کے اعتبار سے ہر وہ چیز جو پہلے اس مخصوص صورت میں موجود نہ ہو، اسے ”بدعت“ یا نئی چیز کہا جا سکتا ہے۔

اس لغوی مفہوم کے اعتبار سے نئی چیزیں دو طرح کی ہو سکتی ہیں:

◈ ایسی نئی چیز جو شریعت کے اصولوں اور سنت کے موافق ہو، وہ محمود ہو سکتی ہے۔

◈ اور ایسی نئی چیز جو قرآن، سنت، آثارِ صحابہ یا اجماع کے خلاف ہو، وہ مذموم ہے۔

➋ بدعتِ شرعی

شرعی اصطلاح میں بدعت وہ دینی عمل ہے جس کی شریعت میں کوئی معتبر اصل نہ ہو اور جسے دین، عبادت یا تقربِ الٰہی کے طور پر ایجاد کیا جائے۔

اس اعتبار سے بدعتِ شرعی ہمیشہ مذموم ہے۔

📖 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کرکے فرمایا:

«نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ»

یعنی:

”یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔“

یہاں ”بدعت“ سے مراد بدعتِ شرعی نہیں، بلکہ لغوی اعتبار سے ایک نیا انتظام اور نئی صورت ہے۔

کیونکہ قیامِ رمضان اور تراویح کی جماعت کی اصل خود رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت تھی۔ نبی کریم ﷺ نے چند راتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جماعت کے ساتھ قیام کروایا، پھر اس اندیشے سے مستقل جماعت ترک فرمائی کہ کہیں یہ امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ دیکھیں https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1375/

لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی نئی عبادت ایجاد نہیں کی، بلکہ پہلے سے ثابت سنت کو ایک منظم اجتماعی صورت میں دوبارہ جاری فرمایا۔

📚 امام ابو شامہ رحمہ اللہ کی تشریح

امام ابو شامہ رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:

«ثمَّ الْحَوَادِث منقسمة الى بدع مستحسنة، والى بدع مستقبحة… واحتج بقول عمر رضي الله عنه في قيام رمضان: نعمت البدعة.»

ترجمہ:

”نئی پیدا ہونے والی چیزیں پسندیدہ اور ناپسندیدہ، دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ بدعت دو قسم کی ہے: جو سنت کے موافق ہو وہ محمود ہے اور جو سنت کے مخالف ہو وہ مذموم ہے۔ اور اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قیامِ رمضان کے متعلق قول ’نعمت البدعة‘ سے استدلال کیا۔“

📚 الباعث على إنكار البدع والحوادث، ص: 22

🔍 ”نعمت البدعة“ کا حقیقی مفہوم

بعض اہلِ علم نے واضح کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ”نعمت البدعة“ شرعی بدعت کے معنی میں نہیں، بلکہ صرف لغوی معنی میں ہے۔

کیونکہ تراویح خود سنت ہے، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک امام کے پیچھے جمع کرکے اس سنت کو منظم انداز سے دوبارہ زندہ فرمایا۔

امام ابو موسیٰ المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«قيام رمضان جماعةً، في حق التسمية: سنة غير بدعة.»

ترجمہ:

”رمضان کے قیام کو جماعت کے ساتھ قائم کرنا حقیقتِ تسمیہ کے اعتبار سے سنت ہے، بدعت نہیں۔“

📚 المجموع المغيث: 1/137

15 📘 بدعتِ شرعی ہمیشہ مذموم ہے

اسلامی اصطلاح میں بدعتِ شرعی وہ نئی دینی چیز ہے جس کی کوئی معتبر شرعی اصل موجود نہ ہو۔ سلف اور ائمہ کے کلام میں جہاں بعض نئی چیزوں کے لیے ”اچھی بدعت“ یا استحسان کے الفاظ آئے ہیں، وہاں مراد عموماً بدعتِ لغوی ہوتی ہے، نہ کہ شرعی بدعت۔

📖 امام ابن رجب رحمہ اللہ کی وضاحت

امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وأما ما وقع في كلام السلف من استحسان بعض البدع فإنما ذلك في البدع اللغوية، لا الشرعية…»

ترجمہ:

”سلف کے کلام میں بعض بدعتوں کو اچھا قرار دینے کے جو الفاظ ملتے ہیں، وہ صرف لغوی بدعت کے بارے میں ہیں، شرعی بدعت کے بارے میں نہیں۔“

📚 جامع العلوم والحكم: 2/783

📖 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی وضاحت

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فالبدعة في عرف الشرع مذمومة، بخلاف اللغة؛ فإن كل شيء أحدث على غير مثال يسمى بدعة، سواء كان محموداً أو مذموماً.»

ترجمہ:

”شرعی اصطلاح میں بدعت مذموم ہے، برخلاف لغوی معنی کے؛ کیونکہ لغت میں ہر وہ چیز جو کسی سابقہ مثال کے بغیر نئی پیدا کی جائے، بدعت کہلاتی ہے، خواہ وہ محمود ہو یا مذموم۔“

📚 فتح الباري: 13/253

🔎 امام شافعی رحمہ اللہ اور ”الاستحسان“

بعض لوگوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کے ”بدعتِ محمودہ“ والے قول سے یہ سمجھ لیا کہ وہ نئی دینی بدعات کو اچھا سمجھتے تھے، لیکن ان کے دوسرے صریح کلام سے واضح ہوتا ہے کہ وہ محض ذاتی رائے اور پسند کی بنیاد پر دین میں نئی چیز نکالنے کے سخت مخالف تھے۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«ولا يقول بما استحسن، فإن القول بما استحسن شيء يحدثه لا على مثال سبق.»

ترجمہ:

”کوئی شخص محض اپنی پسند اور استحسان کی بنیاد پر بات نہیں کرسکتا، کیونکہ استحسان کی بنیاد پر کہنا ایسی چیز ایجاد کرنا ہے جس کی کوئی سابقہ مثال موجود نہ ہو۔“

📚 الرسالة

اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول بھی منقول ہے:

«وإنما الاستحسان تلذذ.»

ترجمہ:

”استحسان محض نفسانی لذت اور اپنی پسند کی پیروی ہے۔“

➤ یعنی دین میں یہ اصول قابلِ قبول نہیں کہ کسی شخص کو کوئی عمل اچھا محسوس ہو تو وہ اسے محض اپنی پسند کی بنیاد پر شرعی حیثیت دے دے۔

🏛️ ائمہ کی شہادت

امام شافعی رحمہ اللہ کے سنت و آثار کی پیروی اور بدعت سے اجتناب پر بڑے ائمہ نے بھی شہادت دی ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«ما رأيت أحداً أتبع للأثر من الشافعي.»

ترجمہ:

”میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے زیادہ کسی شخص کو آثار و سنت کی پیروی کرنے والا نہیں دیکھا۔“

اسی طرح ابن الإمام سحنون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«لم يكن في الشافعي بدعة.»

ترجمہ:

”امام شافعی رحمہ اللہ میں بدعت کا کوئی اثر نہیں تھا۔“

🔍 جدید علماء کی توضیح

ڈاکٹر محمد حسین الجیزانی اپنی کتاب قواعد معرفة البدع میں بدعت کے لیے تین بنیادی قیدیں ذکر کرتے ہیں:

➊ وہ چیز نئی اور محدث ہو۔

➋ اس کا تعلق دین اور تقربِ الٰہی سے ہو۔

➌ اس کے لیے شریعت میں کوئی معتبر اصل موجود نہ ہو، نہ کوئی خاص دلیل اور نہ کوئی عام دلیل جس کے تحت وہ داخل ہوسکے۔

📚 قواعد معرفة البدع، ص: 22

وہ امام ابن رجب اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ کے اقوال سے اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ:

◈ جس دینی عمل کی کوئی شرعی اصل موجود نہ ہو، وہ بدعتِ شرعی ہے اور مذموم ہے۔

◈ اور جس نئی چیز کی شریعت میں کوئی اصل موجود ہو، اگرچہ وہ کسی نئی صورت یا انتظام کے ساتھ سامنے آئے، تو اسے لغوی اعتبار سے نئی چیز کہا جاسکتا ہے، لیکن وہ شرعی بدعت نہیں ہوتی۔

📌 امام شافعی رحمہ اللہ کے موقف کا خلاصہ

✿ بدعتِ محمودہ:

وہ نئی چیز جو سنت اور شریعت کے کسی معتبر اصل کے موافق ہو اور قرآن، سنت، آثار یا اجماع کے خلاف نہ ہو۔

➤ یہ حقیقت میں بدعتِ لغوی ہے، شرعی بدعت نہیں۔

✿ بدعتِ مذمومہ:

وہ نئی دینی چیز جو شریعت کی کسی اصل کے بغیر ایجاد کی جائے یا قرآن، سنت، آثارِ صحابہ یا اجماع کے خلاف ہو۔

➤ یہی بدعتِ شرعی ہے اور یہی مذموم و گمراہی ہے۔

⚠️ اہم نکتہ

امام شافعی رحمہ اللہ کے ”بدعتِ محمودہ“ کے قول کو بنیاد بنا کر ایسی نئی عبادات یا دینی طریقوں کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا جن کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو۔

کیونکہ خود امام شافعی رحمہ اللہ نے محمود چیز کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ سنت کے موافق ہو، جبکہ سنت کے خلاف چیز کو انہوں نے صراحت کے ساتھ بدعتِ مذمومہ قرار دیا ہے۔

➤ پس خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز شرعی دلیل اور اصل کے تحت ہو وہ شرعاً بدعت نہیں، اگرچہ لغوی طور پر نئی ہو؛ اور جو نئی دینی چیز کسی شرعی اصل کے بغیر ایجاد کی جائے، وہ بدعتِ شرعی ہے اور ہمیشہ مذموم ہے۔

16 📘 بدعتی حضرات کی بدعت کے جواز میں پیش کردہ دلیل

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

﴿مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾

ترجمہ:
”جس نے اسلام میں کوئی اچھی سنت جاری کی تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور ان لوگوں کا بھی اجر ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بُری سنت جاری کی تو اس پر اس کا گناہ ہے اور ان سب کا گناہ ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة أو سيئة، حدیث: 1017

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1017/

🔸 اہلِ بدعت کا استدلال:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نئی چیز یعنی ”بدعتِ حسنہ“ ایجاد کرنا درست ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ”سنتِ حسنہ“ کی تعریف فرمائی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📚 مکمل حدیث اور اس کا پس منظر

صحیح مسلم میں حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

﴿جاء ناس من الأعراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم الصوف، فرأى سوء حالهم قد أصابتهم حاجة، فحث الناس على الصدقة، فأبطؤوا عنه حتى رئي ذلك في وجهه، قال: ثم إن رجلاً من الأنصار جاء بصرة من ورق، ثم جاء آخر، ثم تتابعوا حتى عرف السرور في وجهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها، ولا ينقص من أجورهم شيء، ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ولا ينقص من أوزارهم شيء"﴾

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1017

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1017/

ترجمہ:

”کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اون کے کپڑے پہن رکھے تھے اور فقر و محتاجی کی بدترین حالت میں تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی، مگر وہ کچھ سست ہوگئے، یہاں تک کہ آپ کے چہرۂ انور سے ناگواری ظاہر ہونے لگی۔

پھر ایک انصاری ایک تھیلی چاندی کے درہموں کی لے آیا، اس کے بعد دوسرا آیا، پھر لوگ ایک کے بعد ایک آنے لگے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی جھلکنے لگی۔

تب آپ ﷺ نے فرمایا:

’جس نے اسلام میں کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے تو اس کے لیے ان سب کا اجر لکھا جائے گا، اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بُری سنت جاری کی اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے تو اس پر ان سب کا گناہ ہوگا، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔‘“

━━━━━━━━━━━━━━

🔎 تفصیلی وضاحت

➊ موقع و محل کی وضاحت

یہ دعویٰ باطل اور فہم میں خطا ہے، کیونکہ بدعتی حضرات نے حدیث کو اس کے اصل موقع و محل سے کاٹ کر پیش کیا ہے۔

اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی قرآنِ مجید کی یہ آیت پڑھے:

﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ﴾

ترجمہ:
”پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے۔“

📖 سورۃ الماعون: 4

اور اسی پر رک جائے، جبکہ اگلی آیت نہ پڑھے:

﴿ٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾

ترجمہ:
”جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔“

📖 سورۃ الماعون: 5

➤ اصل واقعہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فقراءِ مُضَر کی تنگدستی دیکھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔

➤ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے صدقہ پیش کیا، پھر دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی پیروی کی۔

➤ یہاں اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کوئی ”نئی بدعت“ ایجاد نہیں کی، بلکہ ایک مشروع عمل یعنی صدقہ کو زندہ کیا، جو پہلے سے قرآن و سنت میں موجود تھا، مگر اس موقع پر لوگوں نے اس میں سستی کی تھی۔

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً﴾
”جس نے کوئی اچھی سنت جاری کی۔“

نہ کہ:

﴿مَنْ ابْتَدَعَ بِدْعَةً حَسَنَةً﴾
”جس نے کوئی اچھی بدعت ایجاد کی۔“

📌 فرق کو سمجھنا ضروری ہے:

➊ سنت وہ ہے جو کتاب و سنت اور شرعی دلیل کے موافق ہو۔

➋ بدعت وہ ہے جو شریعت میں نئی چیز ہو اور کتاب و سنت سے ثابت نا ہو۔

17 📘 بریلوی حضرات کی بدعت کے جواز میں پیش کردہ ایک اور دلیل

اہلِ بدعت کہتے ہیں:

﴿مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ قَبِيحٌ﴾

ترجمہ:
”جو بات مسلمانوں کے نزدیک اچھی ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو مسلمانوں کے نزدیک بری ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔“

📖 روایت احمد وغیرہ

🔸 اہلِ بدعت کا استدلال:

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مسلمان کسی چیز کو اچھا سمجھ لیں تو وہ دین میں قابلِ قبول ہے، خواہ اس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

🔎 اس شبہہ کی تفصیلی وضاحت

➊ یہ اثر مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے

یہ قول نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں، بلکہ یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر ہے۔ لہٰذا اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہہ کر دین میں بدعت کے جواز کی دلیل بنانا درست نہیں۔

شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ مِنْ عَجَائِبِ الدُّنْيَا أَنْ يَحْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ فِي الدِّينِ بِدْعَةً حَسَنَةً، وَأَنَّ الدَّلِيلَ عَلَى حُسْنِهَا اعْتِيَادُ الْمُسْلِمِينَ لَهَا!! … وَخَفِيَ عَلَيْهِمْ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْقُوفٌ – أَيْ عَلَى الصَّحَابِيِّ – فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ فِي مُعَارَضَةِ النُّصُوصِ الْمَرْفُوعَةِ الْقَاطِعَةِ فِي أَنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ﴾

ترجمہ:
”یہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض لوگ اس اثر کو دین میں بدعتِ حسنہ کی دلیل بناتے ہیں، حالانکہ یہ موقوف ہے، یعنی صحابی کا قول ہے، نبی ﷺ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں۔ لہٰذا اسے نبی ﷺ کی واضح احادیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا، جن میں یہ صراحت ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“

📖 السلسلة الضعيفة، رقم: 533

━━━━━━━━━━━━━━

➋ معنی کے اعتبار سے یہ استدلال باطل ہے

اگر کوئی اس اثر کو حجت مان بھی لے تو بھی اس سے بدعتِ حسنہ پر دلیل لینا غلط ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

🔹 (الف)

یہ اثر اس حدیث کے خلاف ہوگا جس میں نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً﴾

ترجمہ:
”میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔“

📖 جامع الترمذی، حدیث: 2641

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2641/

اگر ہر وہ چیز جو مسلمانوں کو اچھی لگے، اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہو تو فرقہ بندی کا تصور ہی باطل ہو جائے گا۔

🔹 (ب)

اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جو چیز کچھ لوگوں کے نزدیک اچھی ہو، وہ عبادت کے طور پر قبول ہو سکتی ہے، اور جو کسی کے نزدیک بری ہو وہ مردود ہو۔ یہ بات نصوصِ شریعت کے خلاف ہے۔

➤ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اثر ان مسائل میں حجت ہے جن میں نصوصِ قرآن و سنت موجود نہ ہوں اور صحابہ کا اجماع ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

➌ اثر کا اصل مفہوم: اجماعِ صحابہ

اس اثر کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے موقع پر کہی تھی۔

ان کا مکمل قول یہ ہے:

﴿إِنَّ اللهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ، فَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ سَيِّئٌ﴾

📖 المستدرک للحاکم: 3/78

اور ایک روایت میں ہے:

﴿وَقَدْ رَأَى الصَّحَابَةُ جَمِيعًا أَنْ يَسْتَخْلِفُوا أَبَا بَكْرٍ﴾

ترجمہ:
”اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا، سب سے بہتر دل محمد ﷺ کا پایا، انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔ پھر ان کے بعد سب سے بہتر دل صحابہ کے پائے اور انہیں آپ کے مددگار بنایا۔ چنانچہ جو بات مسلمانوں، یعنی صحابہ، کے نزدیک اچھی ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو ان کے نزدیک بری ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ اور صحابہ نے سب نے اتفاق کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا جائے۔“

📌 یہاں ”المسلمون“ سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، نہ کہ ہر زمانے کے تمام لوگ۔

━━━━━━━━━━━━━━

➍ اہلِ علم یا معتبر عرف کی مراد

اگر بالفرض اس اثر کو عام مسلمانوں پر بھی محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاملات جن میں شریعت نے کوئی واضح نص نہ دی ہو، ان میں عرفِ عام کو معیار بنایا جائے، جیسا کہ فقہاء کا اصولی قاعدہ ہے:

﴿الْعُرْفُ مُحَكَّمٌ﴾

ترجمہ:
”عرف کو شرعی اعتبار حاصل ہے۔“

لیکن یہ صرف دنیاوی معاملات میں ہے، عبادات اور دین میں نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

➎ ابن مسعود رضی اللہ عنہ خود بدعت کے سخت مخالف تھے

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا:

﴿اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، عَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْعَتِيقِ﴾

ترجمہ:
”اتباع کرو اور بدعت مت ایجاد کرو، تمہارے لیے کافی کر دیا گیا ہے۔ تم پر لازم ہے کہ قدیم دین، یعنی سنت، کو لازم پکڑو۔“

📖 التخریج: أخرجه الخرائطي في «مكارم الأخلاق» (408)، وابن بطة في «الإبانة الكبرى» (174)، دون قوله: ”وكل بدعة ضلالة“ — إسناده صحيح۔

➤ تو جس صحابی رضی اللہ عنہ نے خود بدعت سے سختی سے روکا، اسی کے قول کو بدعتِ حسنہ کے جواز پر دلیل بنانا صریح تحریف ہے۔

18 📘 بریلوی حضرات کی بدعت کے جواز میں پیش کردہ ایک اور دلیل

اہلِ بدعت کہتے ہیں:

﴿مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ قَبِيحٌ﴾

ترجمہ:
”جو بات مسلمانوں کے نزدیک اچھی ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو مسلمانوں کے نزدیک بری ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔“

📖 روایت احمد وغیرہ

🔸 اہلِ بدعت کا استدلال:

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مسلمان کسی چیز کو اچھا سمجھ لیں تو وہ دین میں قابلِ قبول ہے، خواہ اس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

🔎 اس شبہہ کی تفصیلی وضاحت

➊ یہ اثر مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے

یہ قول نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں، بلکہ یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر ہے۔ لہٰذا اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہہ کر دین میں بدعت کے جواز کی دلیل بنانا درست نہیں۔

شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ مِنْ عَجَائِبِ الدُّنْيَا أَنْ يَحْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ فِي الدِّينِ بِدْعَةً حَسَنَةً، وَأَنَّ الدَّلِيلَ عَلَى حُسْنِهَا اعْتِيَادُ الْمُسْلِمِينَ لَهَا!! … وَخَفِيَ عَلَيْهِمْ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْقُوفٌ – أَيْ عَلَى الصَّحَابِيِّ – فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ فِي مُعَارَضَةِ النُّصُوصِ الْمَرْفُوعَةِ الْقَاطِعَةِ فِي أَنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ﴾

ترجمہ:
”یہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض لوگ اس اثر کو دین میں بدعتِ حسنہ کی دلیل بناتے ہیں، حالانکہ یہ موقوف ہے، یعنی صحابی کا قول ہے، نبی ﷺ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں۔ لہٰذا اسے نبی ﷺ کی واضح احادیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا، جن میں یہ صراحت ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“

📖 السلسلة الضعيفة، رقم: 533

━━━━━━━━━━━━━━

➋ معنی کے اعتبار سے یہ استدلال باطل ہے

اگر کوئی اس اثر کو حجت مان بھی لے تو بھی اس سے بدعتِ حسنہ پر دلیل لینا غلط ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

🔹 (الف)

یہ اثر اس حدیث کے خلاف ہوگا جس میں نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً﴾

ترجمہ:
”میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔“

📖 جامع الترمذی، حدیث: 2641

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2641/

اگر ہر وہ چیز جو مسلمانوں کو اچھی لگے، اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہو تو فرقہ بندی کا تصور ہی باطل ہو جائے گا۔

🔹 (ب)

اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جو چیز کچھ لوگوں کے نزدیک اچھی ہو، وہ عبادت کے طور پر قبول ہو سکتی ہے، اور جو کسی کے نزدیک بری ہو وہ مردود ہو۔ یہ بات نصوصِ شریعت کے خلاف ہے۔

➤ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اثر ان مسائل میں حجت ہے جن میں نصوصِ قرآن و سنت موجود نہ ہوں اور صحابہ کا اجماع ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

➌ اثر کا اصل مفہوم: اجماعِ صحابہ

اس اثر کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے موقع پر کہی تھی۔

ان کا مکمل قول یہ ہے:

﴿إِنَّ اللهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ، فَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ سَيِّئٌ﴾

📖 المستدرک للحاکم: 3/78

اور ایک روایت میں ہے:

﴿وَقَدْ رَأَى الصَّحَابَةُ جَمِيعًا أَنْ يَسْتَخْلِفُوا أَبَا بَكْرٍ﴾

ترجمہ:
”اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا، سب سے بہتر دل محمد ﷺ کا پایا، انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔ پھر ان کے بعد سب سے بہتر دل صحابہ کے پائے اور انہیں آپ کے مددگار بنایا۔ چنانچہ جو بات مسلمانوں، یعنی صحابہ، کے نزدیک اچھی ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو ان کے نزدیک بری ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ اور صحابہ نے سب نے اتفاق کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا جائے۔“

📌 یہاں ”المسلمون“ سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، نہ کہ ہر زمانے کے تمام لوگ۔

━━━━━━━━━━━━━━

➍ اہلِ علم یا معتبر عرف کی مراد

اگر بالفرض اس اثر کو عام مسلمانوں پر بھی محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاملات جن میں شریعت نے کوئی واضح نص نہ دی ہو، ان میں عرفِ عام کو معیار بنایا جائے، جیسا کہ فقہاء کا اصولی قاعدہ ہے:

﴿الْعُرْفُ مُحَكَّمٌ﴾

ترجمہ:
”عرف کو شرعی اعتبار حاصل ہے۔“

لیکن یہ صرف دنیاوی معاملات میں ہے، عبادات اور دین میں نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

➎ ابن مسعود رضی اللہ عنہ خود بدعت کے سخت مخالف تھے

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا:

﴿اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، عَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْعَتِيقِ﴾

ترجمہ:
”اتباع کرو اور بدعت مت ایجاد کرو، تمہارے لیے کافی کر دیا گیا ہے۔ تم پر لازم ہے کہ قدیم دین، یعنی سنت، کو لازم پکڑو۔“

📖 التخریج: أخرجه الخرائطي في «مكارم الأخلاق» (408)، وابن بطة في «الإبانة الكبرى» (174)، دون قوله: ”وكل بدعة ضلالة“ — إسناده صحيح۔

➤ تو جس صحابی رضی اللہ عنہ نے خود بدعت سے سختی سے روکا، اسی کے قول کو بدعتِ حسنہ کے جواز پر دلیل بنانا صریح تحریف ہے۔

19 📘 بدعات کے جواز پر بریلوی حضرات کی ایک اور دلیل کا خلاصہ

بریلوی حضرات یہ استدلال کرتے ہیں:

نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

یعنی:

”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔“

ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث «ہر بدعت گمراہی ہے» کے عموم کی تخصیص اور وضاحت کرتی ہے۔

ان کے مطابق اگر بدعت مطلق طور پر گمراہی ہوتی تو الفاظ یوں ہوتے:

”جو کوئی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے، وہ مردود ہے۔“

لیکن جب فرمایا گیا:

”جو ایسی چیز ایجاد کرے جو دین میں سے نہیں“

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایجاد شدہ امور دو قسم کے ہیں:

➊ جو دین کے خلاف ہوں، وہ مردود اور بدعتِ ضلالہ ہیں۔

➋ اور جو دین کے مطابق اور دلائل سے مؤید ہوں، وہ صحیح اور قابلِ قبول ہیں، اور یہی ”سنتِ حسنہ“ ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 اس بریلوی شبہے کی وضاحت

اہلِ سنت والجماعت کے اصول کے مطابق احادیث کی ایک روایت دوسری روایت کی شرح اور وضاحت کرتی ہے۔ اس دلیل کی حقیقت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

━━━━━━━━━━━━━━

➊ حدیث کی دوسری روایت

رسول اللہ ﷺ کا ایک اور فرمان ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1718

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

📌 ترجمہ:

”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا دین یا طریقہ نہ ہو، تو وہ مردود ہے۔“

یہ روایت صاف وضاحت کرتی ہے کہ ہر وہ عمل جس کی بنیاد نبی ﷺ کے دین اور طریقے پر نہ ہو، مردود ہے۔ اس میں صرف عمل کی اصل ہی نہیں بلکہ اس کا طریقہ، کیفیت اور ہیئت بھی داخل ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

➋ فہمِ سلف

سلفِ صالحین نے ہمیشہ انہی الفاظ کے مطابق اس حدیث کو سمجھا، اور ان کے نزدیک ”بدعت“ وہ عمل بھی تھا جو بظاہر دینی رنگ رکھتا ہو لیکن نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو۔

اسی لیے وہ ایسے کاموں کو بھی بدعت قرار دیتے تھے جن کی اصل عبادت میں تو موجود ہوتی، مگر ان کی کیفیت، ہیئت یا مخصوص طریقہ نیا وضع کیا گیا ہوتا۔

مثلاً:

◉ کسی خاص وقت یا جگہ کو مقرر کرکے ذکر و دعا کو لازم کر دینا۔

◉ جماعتی صورت میں ایسی عبادات کرنا جو نبی ﷺ سے اس مخصوص طریقے پر منقول نہ ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے ایسے اعمال کو بدعت قرار دیا، حالانکہ ان اعمال کی اصل عبادت مشروع ہوتی تھی۔

━━━━━━━━━━━━━━

➌ لغوی و نحوی وضاحت

حدیث کے الفاظ ہیں:

«لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا»

یعنی:

”جس پر ہمارا طریقہ نہ ہو۔“

ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ جو عمل نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق نہ ہو، وہ مردود ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین میں داخل کی جانے والی کوئی بھی نئی کیفیت، نئی ہیئت یا نئی شکل اگر رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے ثابت نہ ہو تو وہ بدعتِ مردودہ ہے، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی اچھی کیوں نہ معلوم ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 خلاصہ

بریلوی حضرات کی یہ تاویل کہ بدعت دو قسم کی ہے:

➊ بدعتِ حسنہ
➋ بدعتِ سیئہ

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک قرآن، سنت اور فہمِ سلف کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان بالکل واضح ہے:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

📖 صحیح مسلم، حدیث: 867

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/867/

📌 ترجمہ:

”ہر بدعت گمراہی ہے۔“

یہ الفاظ عموم پر دلالت کرتے ہیں اور اس میں کوئی استثناء مذکور نہیں۔

لہٰذا دین میں ہر وہ نیا کام جو بطورِ دین داخل کیا جائے اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے ثابت نہ ہو، بدعت اور گمراہی ہے، خواہ وہ بظاہر اچھا ہی کیوں نہ نظر آئے۔

دین کی اصل تکمیل رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہو چکی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ﴾

📖 سورۃ المائدہ: 3

📌 ترجمہ:

”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔“

━━━━━━━━━━━━━━

✍️ نتیجہ

اہلِ سنت والجماعت کا موقف یہی ہے کہ بدعت خواہ کسی بھی شکل میں ہو، اگر وہ دین میں بطورِ عبادت یا تقرب داخل کی گئی ہو اور نبی ﷺ کے طریقے سے ثابت نہ ہو تو وہ مردود ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے الفاظ:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

ہر بدعت کو شامل ہیں، اور اس عموم کو ایسی تاویل کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا جس کی دلیل خود کتاب و سنت اور فہمِ سلف سے ثابت نہ ہو۔

20 📘 بدعت کے جواز میں ایک بریلوی شبہ

بریلوی حضرات کی طرف سے یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے:

”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک اضافی اذان شروع کروائی، لہٰذا یہ بدعتِ حسنہ ہے۔“

اس شبہے کی حقیقت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

━━━━━━━━━━━━━━

➊ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہر ایک کے قول پر مقدم ہے

سب سے پہلے یہ اصول سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی بھی بات، خواہ کسی بڑے سے بڑے صحابی رضی اللہ عنہ یا امام نے کہی ہو، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں مستقل دلیل نہیں بن سکتی۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

📌 ترجمہ:

”ہر بدعت گمراہی ہے۔“

📖 صحیح مسلم، حدیث: 867

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/867/

اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے اپنی سنت کے ساتھ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید فرمائی:

«عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ»

📌 ترجمہ:

”تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو۔“

📖 سنن أبي داود، حدیث: 4607
📖 جامع الترمذي، حدیث: 2676

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4607/
🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2676/

پس معلوم ہوا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا وہ عمل جسے سنت کہا گیا ہے، نبی ﷺ کی سنت کے موافق ہوتا ہے، نہ کہ اس کے خلاف کوئی نئی شرعی عبادت۔

━━━━━━━━━━━━━━

➋ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اذان ایجاد نہیں کی، بلکہ اطلاع کے لیے ایک اضافی اعلان کروایا

صحیح بخاری میں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ»

📌 ترجمہ:

”نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کا اعلان اس وقت ہوتا تھا جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے الزوراء پر ایک اضافی اعلان کروایا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الجمعہ، حدیث: 912

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/912/

📌 یہاں واضح ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی نئی عبادت ایجاد نہیں کی، بلکہ لوگوں کی کثرت کے باعث ایک اضافی اعلان کروایا تاکہ بازار اور دور کے لوگ بھی جمعہ اور خطبے کے لیے بروقت تیار ہو سکیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

➌ یہ کام ایک مصلحت اور انتظامی ضرورت کے تحت تھا

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ کی آبادی بڑھ چکی تھی، شہر پھیل گیا تھا اور لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر انہوں نے ایک اضافی اعلان کروایا تاکہ لوگوں کو جمعہ کے وقت کی بروقت اطلاع ہو جائے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ نے امام ماوردی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:

«فَأَمَّا الْأَذَانُ الْأَوَّلُ فَمُحْدَثٌ، فَعَلَهُ عُثْمَانُ لِيَتَأَهَّبَ النَّاسُ لِحُضُورِ الْخُطْبَةِ عِنْدَ اتِّسَاعِ الْمَدِينَةِ وَكَثْرَةِ أَهْلِهَا»

📌 ترجمہ:

”پہلا اعلان، یعنی الزوراء پر ہونے والا اعلان، بعد میں شروع کیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ اس لیے کیا کہ شہر پھیل گیا تھا اور آبادی زیادہ ہو گئی تھی، تاکہ لوگ خطبے میں حاضری کے لیے تیار ہو سکیں۔“

📖 تفسیر القرطبی، تحت آیاتِ سورۃ الجمعہ

یہ دراصل مصلحتِ مرسلہ کی ایک مثال ہے، یعنی ایسی انتظامی ضرورت جس پر کوئی خاص نص موجود نہ ہو، لیکن وہ شریعت کے کسی حکم سے ٹکراتی بھی نہ ہو اور شریعت کے مقاصد کی خدمت کرتی ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━

➍ علماء کی وضاحت: یہ بدعتِ لغوی ہے، شرعی بدعت نہیں

لفظ ”بدعت“ لغوی اعتبار سے ہر نئی چیز کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں بدعت اس نئی چیز کو کہا جاتا ہے جو دین اور عبادت میں ایسی صورت سے داخل کی جائے جو نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«الْبِدْعَةُ عَلَى قِسْمَيْنِ: شَرْعِيَّةٌ… وَلُغَوِيَّةٌ؛ كَقَوْلِ عُمَرَ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ»

📌 ترجمہ:

”بدعت دو اعتبار سے بیان ہوتی ہے: ایک شرعی بدعت، اور دوسری لغوی بدعت؛ جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول: ’یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔‘“

📖 تفسیر ابن کثیر: 1/271

اسی طرح امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَأَمَّا مَا وَقَعَ فِي كَلَامِ السَّلَفِ مِنِ اسْتِحْسَانِ بَعْضِ الْبِدَعِ فَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْبِدَعِ اللُّغَوِيَّةِ لَا الشَّرْعِيَّةِ»

📌 ترجمہ:

”سلف کے کلام میں جہاں بعض بدعات کو اچھا کہا گیا ہے، وہاں اس سے مراد صرف لغوی بدعت ہے، شرعی بدعت نہیں۔“

📖 جامع العلوم والحكم، ص: 252

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ… فَلَا تَصْلُحُ مُعَارَضَةُ الْحَدِيثِ بِقَوْلِ الصَّاحِبِ»

📌 ترجمہ:

”اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول: ’یہ کتنی اچھی بدعت ہے‘… تو کسی صحابی کے قول کے ذریعے نبی ﷺ کی حدیث کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔“

📖 مجموع الفتاوى: 22/234

━━━━━━━━━━━━━━

📌 خلاصہ

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا جمعہ کے لیے اضافی اعلان کروانا اس بات کی دلیل نہیں کہ دین میں نئی عبادات ایجاد کرکے انہیں ”بدعتِ حسنہ“ قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے:

◉ کوئی نئی نماز ایجاد نہیں کی۔
◉ کوئی نیا ذکر مقرر نہیں کیا۔
◉ کوئی نئی عبادت وضع نہیں کی۔
◉ اذان کے الفاظ میں اضافہ نہیں کیا۔

بلکہ لوگوں کی کثرت اور شہر کے پھیلاؤ کی وجہ سے پہلے سے مشروع اذان کے ذریعے ایک اضافی اطلاع کا انتظام کیا۔

لہٰذا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ عمل عبادت میں شرعی اضافہ نہیں، بلکہ ایک انتظامی اور مصلحتی اقدام تھا۔

➤ اس بنا پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو بنیاد بنا کر شرعی بدعات کے جواز پر استدلال کرنا درست نہیں۔

21 📘 بدعت کے جواز پر بریلوی شبہ اور اس کا مدلل جواب

بریلوی حضرات کا کہنا ہے:

“نبی ﷺ نے کئی صحابہ کے ایسے اعمال کو برقرار رکھا جو پہلے سے دین میں مقرر نہ تھے، اس لیے یہ بدعتِ حسنہ کی مثالیں ہیں۔ مثلاً:

➊ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جنابت، یعنی غسل واجب ہونے کی حالت کے باوجود سخت سردی میں تیمم کر کے نماز پڑھائی، اور نبی ﷺ نے ان کے عمل کو برقرار رکھا۔

➋ ایک صحابی ہر رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے، نبی ﷺ نے ان کے عمل کو تسلیم فرمایا۔

➌ ایک صحابی نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا، اور آپ ﷺ نے اسے جائز قرار دیا۔

➍ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہر وضو کے بعد نفل پڑھتے تھے، نبی ﷺ نے ان کے اس عمل کی تعریف فرمائی۔

➎ ایک صحابی نے عطس کے بعد ایک نیا ذکر پڑھا، نبی ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔

➏ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ ﷺ نے ان کے عمل کو درست قرار دیا۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ نئی عبادات یا اذکار بھی بدعتِ حسنہ کے طور پر درست ہو سکتے ہیں۔”

━━━━━━━━━━━━━━━

📖 اس بریلوی شبہ کا مدلل جواب

➊ وحی کے زمانے کے اقرار اور بعد کے زمانے میں کیے جانے والے اعمال میں بنیادی فرق

نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کوئی اجتہادی عمل کرتے تو وہ زمانۂ وحی تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے اس عمل کی تائید یا تردید ممکن تھی۔

اگر وہ عمل درست ہوتا تو نبی ﷺ اس کا اقرار فرما دیتے، یعنی خاموشی یا صریح الفاظ کے ذریعے اسے منظور فرما دیتے، اور اگر وہ عمل غلط ہوتا تو آپ ﷺ اس کی اصلاح یا ممانعت فرما دیتے۔

📌 لیکن نبی ﷺ کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور اقرارِ نبوی ﷺ کا امکان بھی باقی نہ رہا۔

لہٰذا بعد کے زمانے میں ایجاد کیے جانے والے کسی عمل کو صحابۂ کرام کے ان اعمال پر قیاس کرنا، جنہیں خود رسول اللہ ﷺ کی منظوری حاصل ہوئی، درست نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➋ نبی ﷺ نے صحابہ کے بعض اجتہادی اعمال کی اصلاح بھی فرمائی

اگر ہر ایسے اجتہادی عمل کو، جو صحابی نے اپنی طرف سے کیا، “بدعتِ حسنہ” قرار دے دیا جائے تو پھر یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام کے بعض اجتہادات کو رد فرمایا اور ان کی اصلاح کی۔

مثلاً:

✿ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی دعا کے الفاظ کی اصلاح

رسول اللہ ﷺ نے انہیں سوتے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی:

﴿آمَنتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ﴾

سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اسے دہراتے ہوئے کہا:

“وَبِرَسُولِكَ”

تو نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿وَبِنَبِيِّكَ﴾

ترجمہ:
“اور تیرے نبی پر ایمان لایا، جسے تو نے بھیجا۔”

یعنی جب انہوں نے نبی کی جگہ رسول کا لفظ کہا تو نبی ﷺ نے اسی وقت الفاظ کی اصلاح فرما دی۔

📖 صحیح البخاری، حدیث: 247

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/247/

━━━━━━━━━━━━━━━

✿ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نکاح چھوڑنے کا ارادہ

سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے نکاح سے کنارہ کشی اختیار کرنے، یعنی تبتل اور رہبانیت کی خواہش ظاہر کی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سے منع فرمایا۔

📖 صحیح البخاری، حدیث: 5063

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/5063/

━━━━━━━━━━━━━━━

✿ تین صحابہ کا عبادت میں غلو کا ارادہ

تین صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق معلوم کرنے کے بعد اپنے لیے یہ طے کیا کہ:

➤ ایک ہمیشہ رات بھر نماز پڑھے گا۔

➤ دوسرا ہمیشہ روزے رکھے گا اور کبھی ناغہ نہیں کرے گا۔

➤ تیسرا عورتوں سے نکاح نہیں کرے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس طرزِ عمل کو رد کرتے ہوئے فرمایا:

﴿فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي﴾

ترجمہ:
“جو میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔”

📖 صحیح البخاری، حدیث: 5063
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1401

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/5063/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1401/

📌 اس سے واضح ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نئے اجتہادی عمل کو قبول نہیں فرماتے تھے، بلکہ صرف اسی عمل کو برقرار رکھتے تھے جو شریعت اور وحی کے مطابق ہوتا، جبکہ خلافِ شریعت عمل کی اصلاح یا ممانعت فرما دیتے تھے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➌ صحابۂ کرام کے بعض اجتہادی اعمال سنت کیوں بن گئے؟

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے جن اجتہادی اعمال کو نبی ﷺ نے برقرار رکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کی منظوری کے بعد شریعت کا حصہ بن گئے۔

یعنی اب وہ محض کسی صحابی کا ذاتی یا نیا عمل نہ رہا، بلکہ سنتِ تقریری بن گیا۔

اس لیے ایسے اعمال کو “بدعت” کہنا ہی درست نہیں۔

امام قسطلانی رحمہ اللہ، جو صحیح بخاری کے معروف شارح ہیں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے شہادت سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق فرماتے ہیں:

﴿وَإِنَّمَا صَارَ فِعْلُ خُبَيْبٍ سُنَّةً، لِأَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَيَاةِ الشَّارِعِ وَاسْتَحْسَنَهُ﴾

ترجمہ:
“خبیب رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اس لیے سنت بن گیا کہ انہوں نے یہ عمل شارع ﷺ کی زندگی میں کیا اور آپ ﷺ نے اسے پسند فرمایا۔”

📖 إرشاد الساري، 5/165

📌 پس سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کا عمل “بدعتِ حسنہ” نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی تقریر اور منظوری کی وجہ سے سنت بنا۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➍ اقرارِ نبوی ﷺ کا دروازہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بند ہو گیا

امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿فَكُلُّ مَنْ أَحْدَثَ شَيْئًا وَنَسَبَهُ إِلَى الدِّينِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَصْلٌ مِنَ الدِّينِ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، فَهُوَ ضَلَالَةٌ وَالدِّينُ بَرِيءٌ مِنْهُ﴾

ترجمہ:
“جو شخص کوئی نئی چیز ایجاد کرے، اسے دین کی طرف منسوب کرے، اور دین میں اس کی کوئی ایسی اصل موجود نہ ہو جس کی طرف وہ لوٹتی ہو، تو وہ گمراہی ہے اور دین اس سے بری ہے۔”

📖 جامع العلوم والحكم، ص: 252

📌 اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عمل رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش آیا اور آپ ﷺ نے اسے برقرار رکھا، وہ آپ ﷺ کی منظوری سے دین کا حصہ بن گیا۔

لیکن نبی ﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کوئی نئی عبادت، مخصوص ذکر، مخصوص طریقۂ عبادت یا دینی رسم ایجاد کرے اور پھر صحابۂ کرام کے زمانۂ وحی والے اجتہادات کو اس کے جواز کی دلیل بنائے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 خلاصۂ کلام

➊ نبی ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام کے بعض اجتہادی اعمال زمانۂ وحی میں کیے گئے۔

➋ ان اعمال میں سے جو درست تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا اقرار فرمایا اور وہ سنتِ تقریری بن گئے۔

➌ جو اعمال درست نہ تھے، نبی ﷺ نے ان کی اصلاح فرمائی یا ان سے منع کر دیا۔

➍ لہٰذا صحابۂ کرام کے وہ اعمال جنہیں نبی ﷺ کی منظوری حاصل ہوئی، انہیں “بدعتِ حسنہ” کہنا درست نہیں، کیونکہ اقرارِ نبوی ﷺ کے بعد وہ باقاعدہ سنت بن چکے تھے۔

➎ نبی ﷺ کی وفات کے بعد وحی اور اقرارِ نبوی ﷺ کا دروازہ بند ہو چکا ہے، اس لیے بعد میں ایجاد کی جانے والی نئی عبادات کو صحابۂ کرام کے ان اعمال پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

➏ اس بنا پر یہ استدلال غلط ہے کہ چونکہ نبی ﷺ نے بعض صحابہ کے اپنے اجتہاد سے کیے گئے اعمال کو قبول فرمایا، لہٰذا امت بھی اپنی طرف سے نئی عبادات ایجاد کر کے انہیں “بدعتِ حسنہ” قرار دے سکتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ رسول اللہ ﷺ کا واضح اور فیصلہ کن فرمان

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

﴿مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ﴾

ترجمہ:
“جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم اور طریقہ نہیں، تو وہ عمل مردود ہے۔”

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1718

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

➤ لہٰذا عبادات اور دینی اعمال میں اصل معیار یہ نہیں کہ کوئی عمل بظاہر اچھا محسوس ہوتا ہے، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ کیا وہ عمل رسول اللہ ﷺ کی سنت اور شریعت سے ثابت ہے یا نہیں۔

22 📘 نیکی کے عام دلائل سے بدعتِ حسنہ کا استدلال

بعض لوگ بدعت کو جائز قرار دینے کے لیے قرآن و حدیث کی عام نصوص پیش کرتے ہیں، جیسے:

➊ ﴿وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
📖 سورۃ الحج: 77

➋ ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾
📖 سورۃ آل عمران: 133

➌ «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
📖 صحیح البخاری، حدیث: 1

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1/

اور کہتے ہیں کہ چونکہ یہ آیات اور احادیث ہر قسم کے نیک عمل پر ابھارتی ہیں، اس لیے نئی بدعات بھی اسی کے تحت نیکی شمار ہوں گی۔

زیل میں اس شبہے کا جواب دیا جائے گا۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 بدعت کے جواز میں بریلوی شبہ

”چونکہ قرآن و حدیث میں نیکی کرنے، خیر کے کام بڑھانے اور نیت پر اجر ملنے کا ذکر ہے، اس لیے ہم دین میں نئی نئی عبادات ایجاد کر سکتے ہیں، اور یہ بدعتِ حسنہ کے حکم میں ہوں گی۔“

━━━━━━━━━━━━━━━

📚 اس بریلوی شبہ کا جواب

➊ نصوصِ عامہ (عام دلائل) کو سلف کے فہم سے سمجھنا ضروری ہے

امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عربی:

«لو كان دليلاً عليه؛ لم يعزب عن فهم الصحابة والتابعين ثم يفهمه هؤلاء… فما عمل به المتأخرون من هذا القسم مخالف لإجماع الأولين، وكل من خالف الإجماع فهو مخطئ.»

ترجمہ:
”اگر یہ (عام دلیل) بدعت پر دلیل ہوتی تو صحابہ اور تابعین کے فہم سے مخفی نہ رہتی۔ بعد والوں کا ایسا عمل دراصل پہلے والوں کے اجماع کے خلاف ہے، اور اجماع کے خلاف کرنے والا خطاکار ہے۔“

📖 حوالہ: الشاطبي، الاعتصام (2/655)

📌 مطلب یہ کہ اگر قرآن و سنت کی عام نصوص سے بدعت کا جواز نکلتا تو سب سے پہلے صحابہ اسے سمجھتے اور کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➋ صحابہ کا طرزِ عمل

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے عطس (چھینک) کے بعد کہا:

«الحمد لله والصلاة على رسول الله»

تو انہوں نے فوراً ٹوکا:

عربی:

«وأنا أقول: الحمد لله، والصلاة على رسول الله، وليس هكذا علمنا رسول الله ﷺ.»

ترجمہ:
”میں بھی کہتا ہوں: الحمد لله والصلاة على رسول الله، لیکن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسے نہیں سکھایا۔“

📖 جامع الترمذی، حدیث: 2738

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2738/

📌 یہاں صحابی رضی اللہ عنہ نے عام آیت:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ﴾
📖 سورۃ الأحزاب: 56

کے باوجود نیا طریقہ مسترد کیا، کیونکہ یہ نبی ﷺ کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق نہیں تھا۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➌ نبی ﷺ کا واضح اصول

نبی ﷺ نے فرمایا:

عربی:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ:
”جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا طریقہ نہ ہو تو وہ مردود ہے۔“

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1718

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

📌 اس سے واضح ہوا کہ نیکی کی نیت سے بھی اگر کوئی ایسا عمل کیا جائے جو دین میں شامل نہیں تو وہ مردود ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➍ بدعت کو نیکی سمجھنے کا نقصان

اگر عام نصوص کی بنیاد پر ہر نئی چیز کو نیکی مان لیا جائے تو پھر ہر شخص اپنی پسند کی عبادت ایجاد کرے گا۔ لیکن دین کی اصل بنیاد یہ ہے کہ عبادات صرف وہی ہوں گی جو نبی ﷺ نے سکھائی ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📜 امام اوزاعی رحمہ اللہ کا قول

امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا:

«اصبر نفسك على السنة، وقف حيث وقف القوم، وقل بما قالوا، وكف عما كفوا عنه، واسلك سبيل سلفك الصالح، فإنه يسعك ما وسعهم.»

ترجمہ:
”سنت پر اپنے آپ کو روکے رکھو، جہاں صحابہ رکے وہاں رک جاؤ، جو انہوں نے کہا وہی کہو، جس سے رکے وہی چھوڑ دو، اپنے سلف صالحین کے راستے پر چلو، تمہارے لیے وہی کافی ہے جو ان کے لیے کافی تھا۔“

📖 حوالہ: ابن بطہ، الإبانة الكبرى (1/305)

━━━━━━━━━━━━━━━

✅ خلاصہ

➤ قرآن و حدیث کی عام نصوص، جیسے ”نیکی کرو“ اور ”خیر میں سبقت لو“، سے نئی عبادات کا جواز نہیں نکلتا۔

➤ اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب سے پہلے نئی بدعات ایجاد کرتے، لیکن انہوں نے ہمیشہ بدعت سے منع کیا۔

➤ نبی ﷺ نے واضح فرما دیا کہ جو عمل دین کے طریقے پر نہ ہو، وہ مردود ہے۔

➤ عبادات صرف وہی معتبر ہیں جو نبی ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہیں، باقی سب بدعت اور گمراہی ہیں۔

23 📘 کیا نبی ﷺ کا کسی عمل کو چھوڑ دینا (ترک کرنا) دلیلِ حرمت ہے؟

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:

”نبی ﷺ کا کسی چیز کو نہ کرنا (ترک کرنا) اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عمل حرام ہے، جب تک اس کی حرمت پر کوئی صریح دلیل نہ ملے۔ لہٰذا نئی بدعات کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ نبی ﷺ نے وہ عمل نہیں کیا۔“

زیل میں ہم اس شبہے کا جائزہ لیں گے اور دکھائیں گے کہ نبی ﷺ کا ترک کرنا بذاتِ خود سنت ہے، اور آپ ﷺ کے چھوڑے ہوئے کاموں کو دین میں شامل کرنا بدعت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 بدعت کے جواز میں بریلوی شبہ

”رسول اللہ ﷺ نے جو عمل نہیں کیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمل حرام ہے، بلکہ اس کے جواز کا امکان ہے۔ لہٰذا ہم نئی بدعات ایجاد کر سکتے ہیں اور یہ ’بدعتِ حسنہ‘ ہوں گی۔“

━━━━━━━━━━━━━━━

📚 اس بریلوی شبہ کا جواب

➊ دین کی تکمیل کا اعلان

اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا:

عربی:

﴿ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی﴾

ترجمہ:
”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔“

📖 سورۃ المائدہ: 3

📌 جب دین مکمل ہو گیا تو اس کے بعد کوئی نئی عبادت ایجاد کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➋ نبی ﷺ کی سنت: ترک بھی ایک سنت ہے

عبادت دو طرح کی سنت پر مبنی ہے:

➊ سنتِ فعلیہ — جو نبی ﷺ نے کیا۔

➋ سنتِ ترکیہ — جو نبی ﷺ نے قصداً چھوڑ دیا۔

مثلاً:

➤ نبی ﷺ نے عید کی نماز کے لیے اذان نہیں دی، حالانکہ اذان ذکر ہے۔

➤ جنازے کے لیے بھی اذان نہیں دی۔

📌 اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مقامات پر اذان دینا بدعت ہے۔

امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عربی:

«فأما ما اتفق السلف على تركه فلا يجوز العمل به؛ لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به.»

ترجمہ:
”جس چیز کو سلف نے بالاتفاق چھوڑ دیا، اس پر عمل کرنا جائز نہیں، کیونکہ انہوں نے اسے علم کے ساتھ چھوڑا کہ اس پر عمل نہیں کیا جانا چاہیے۔“

📖 حوالہ: جامع العلوم والحكم، ص: 233

━━━━━━━━━━━━━━━

➌ نبی ﷺ کا واضح فرمان

نبی ﷺ نے فرمایا:

عربی:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ:
”جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں، تو وہ مردود ہے۔“

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1718

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

📌 اس سے پتا چلا کہ صرف نبی ﷺ کے طریقے پر ہونے والا عمل ہی دین ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➍ مثالیں

➊ نماز کے بعد اجتماعی دعا:
نبی ﷺ نے کبھی نہیں کی، حالانکہ دعا بہت افضل ہے۔ اس کا چھوڑ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اجتماعی شکل بدعت ہے۔

➋ اذان برائے عیدین یا جنازہ:
نبی ﷺ نے نہیں دی، اس لیے دین میں اس کو شامل کرنا بدعت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

➎ علما کی وضاحت

امام ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

عربی:

«ومن هاهنا يعلم أن القول باستحباب ذلك خلاف السنة؛ فإن تركه سنة كما أن فعله سنة.»

ترجمہ:
”یہاں سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے استحباب کا قول سنت کے خلاف ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا ترک بھی سنت ہے، جیسے ان کا فعل سنت ہے۔“

📖 حوالہ: إعلام الموقعين (2/281)

━━━━━━━━━━━━━━━

✅ خلاصہ

➤ نبی ﷺ کا ترک کرنا بھی سنت ہے، اور جس عبادت کو آپ ﷺ نے قصداً چھوڑا، اسے دین میں شامل کرنا بدعت ہے۔

➤ دین مکمل ہو چکا ہے؛ اس لیے نئی عبادات ایجاد کرنا شریعت سازی ہے۔

➤ صحابہ اور سلف نے اسی اصول پر بدعات سے سختی سے روکا۔

➤ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ ”نبی ﷺ کا نہ کرنا دلیلِ حرمت نہیں“ — بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نبی ﷺ کا نہ کرنا بذاتِ خود دلیل ہے کہ وہ عبادت نہیں ہے۔

24 📘 کیا دنیاوی ایجادات بھی بدعت ہیں؟ — ایک اہم علمی مغالطے کا ازالہ

یہ پیغام اس اہم علمی و فکری مغالطے کے ازالے کے لیے مرتب کیا جا رہا ہے جسے بعض حلقے، خصوصاً بریلوی حضرات، پھیلاتے ہیں کہ دنیاوی ایجادات بھی بدعت میں شامل ہیں۔

ان کے نزدیک اگر کسی چیز کا زمانۂ رسالت میں وجود نہ تھا تو وہ “بدعت” ہے، خواہ وہ دنیاوی معاملہ ہو یا دینی۔ اسی بنا پر وہ اکثر عوام کو شبہ میں ڈالتے ہیں اور اہلِ سنت کی طرف سے بدعت کے ردّ کو یہ کہہ کر مشتبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

➤ “اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو گاڑیاں، ہوائی جہاز، مائیکروفون اور موبائل بھی بدعت ہیں!”

ذیل میں ہم قرآن و سنت کی نصوص، ائمۂ سلف کے اقوال اور معاصر اہلِ علم کی وضاحتوں سے یہ بات کھول کر پیش کریں گے کہ:

➊ بدعت کا شرعی مفہوم صرف اور صرف دین میں نئی عبادت یا نیا دینی طریقہ ایجاد کرنا ہے۔

➋ دنیاوی ایجادات، عادات، سواریوں اور معاشرتی تبدیلیوں کا بدعتِ شرعی سے کوئی تعلق نہیں۔

➌ یہ خلطِ مبحث عوام کو دھوکے میں ڈالنے اور اصل بدعاتِ دینیہ، جیسے میلاد، گیارہویں، اضافی عبادات وغیرہ، کو جائز ثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

➤ پس اس مقالے کا مقصد یہ ہے کہ بدعت کے حقیقی مفہوم کو واضح کیا جائے اور بریلوی حضرات کے اس باطل اعتراض کا علمی رد کیا جائے کہ دنیاوی ایجادات بھی بدعت کے حکم میں داخل ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 بدعت کی شرعی تعریف

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ:
“جس نے ہمارے اس دین کے معاملے میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔”

📖 صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/2697/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

اور ایک دوسری روایت میں ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ:
“جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا دین قائم نہیں، تو وہ مردود ہے۔”

📖 صحیح مسلم: 1718

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

➤ ان دونوں نصوص سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بدعت وہی ہے جو دین میں نئے طور پر داخل کی جائے، جبکہ دنیاوی ایجادات اس دائرے میں شامل ہی نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📚 بدعتِ شرعی کی تین قیود

ڈاکٹر محمد حسین الجیزانی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

«البدعة الشرعية لا تكون إلا باجتماع ثلاثة قيود: الإحداث، وإضافته إلى الدين، وألا يستند إلى أصل شرعي.»

ترجمہ:
“شرعی بدعت صرف اسی وقت بدعت کہلائے گی جب تین شرطیں جمع ہو جائیں:

➊ کوئی نئی چیز ایجاد کی جائے۔

➋ اسے دین کے ساتھ منسوب کیا جائے۔

➌ اس کا کوئی شرعی اصل موجود نہ ہو۔”

📖 قواعد معرفة البدع، ص 18–23

➤ لہٰذا جو چیز صرف دنیاوی سہولت یا عادت کے دائرے میں ہے، وہ ان شرائط کے تحت بدعتِ شرعی میں داخل نہیں ہو سکتی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🚗 دنیاوی ایجادات کی حقیقت

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«أما العوائد عوائد الناس ومراكبهم وملابسهم ومآكلهم ودورهم وغير ذلك فهذه ما فيها بدعة… ليس هذا من البدع، هذه أمور جدت في عوائد الناس… وإن سميت بدعة من حيث اللغة… أما من حيث الدين من حيث الشرع فلا يكون من البدع إلا ما كان في الدين في القربات في التشريع.»

ترجمہ:
“جہاں تک لوگوں کی عادات، سواریوں، کپڑوں، کھانوں، گھروں اور دیگر دنیاوی چیزوں کا تعلق ہے، ان میں بدعت نہیں۔ یہ صرف عادات کی نئی صورتیں ہیں۔ ہاں! لغوی اعتبار سے نئی چیز کو بدعت کہا جا سکتا ہے، مگر شرعی اعتبار سے بدعت صرف وہ ہے جو دین اور عبادات میں ایجاد کی جائے۔”

📖 البدع في الأمور الدنيوية، فتویٰ ابن باز

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 بدعت اور دنیاوی ایجادات کے درمیان فرق

اب جب بدعت کی شرعی تعریف اور اس کی قیود واضح ہو گئیں تو ضروری ہے کہ دنیاوی ایجادات اور دینی بدعات کے درمیان فرق کو مزید کھولا جائے، تاکہ وہ مغالطہ دور ہو جسے بعض لوگ پھیلاتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📚 لغوی بدعت اور شرعی بدعت کا فرق

علماء نے واضح کیا ہے کہ ہر نئی چیز لغوی اعتبار سے “بدعت” کہلا سکتی ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں صرف وہی بدعت ہے جو دین میں نئی عبادت یا نیا دینی طریقہ بنا کر شامل کی جائے۔

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فكل من أحدث شيئًا ونسبه إلى الدين، ولم يكن له أصل من الدين يرجع إليه؛ فهو ضلالة، والدين منه بريء. وأما ما كان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعًا، وإن كان بدعة لغةً.»

ترجمہ:
“ہر وہ چیز جو دین کی طرف منسوب کر کے ایجاد کی جائے اور اس کا دین میں کوئی اصل نہ ہو، وہ ضلالت ہے اور دین اس سے بری ہے۔ اور جو چیز شرع میں کسی اصل پر قائم ہو، وہ شرعاً بدعت نہیں، اگرچہ لغوی اعتبار سے اسے بدعت کہا جا سکتا ہے۔”

📖 جامع العلوم والحكم، 2/127–128

25 📚 ائمۂ کرام کے اقوال

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«المراد بقوله: (كل بدعة ضلالة) ما أحدث ولا دليل له من الشرع بطريق خاص ولا عام.»

ترجمہ:
“حدیث کے الفاظ ‘ہر بدعت گمراہی ہے’ سے مراد وہ چیز ہے جو ایجاد کی گئی ہو اور جس کے لیے شرع میں نہ خاص اور نہ ہی عام کوئی دلیل موجود ہو۔”

📖 فتح الباری، 13/254

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 امام شاطبی رحمہ اللہ (ت 790ھ) فرماتے ہیں:

«البدعة طريقة في الدين مخترعة تضاهي الشرعية يقصد بالسلوك عليها المبالغة في التعبد لله سبحانه.»

ترجمہ:
“بدعت وہ ایجاد کردہ طریقہ ہے جو دین میں اس طرح داخل کیا جائے کہ وہ شریعت سے مشابہ لگے اور اس پر چلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مبالغہ کرنا ہو۔”

📖 الاعتصام، 1/37

➤ یہاں سے صاف واضح ہوتا ہے کہ بدعت کا دائرہ صرف دین کے ساتھ مخصوص ہے، نہ کہ دنیاوی ایجادات کے ساتھ۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🌍 دنیاوی ایجادات کی مثالیں

دنیاوی ایجادات، جیسے:

➊ ہوائی جہاز
➋ گاڑیاں
➌ موبائل فون
➍ مائیکروفون
➎ نئی عمارتیں اور گھروں کی طرزِ تعمیر
➏ جدید ہتھیار

یہ سب لغوی معنی میں “نئی چیزیں” ہیں، لیکن چونکہ ان کا تعلق عادات اور دنیاوی سہولتوں سے ہے، لہٰذا یہ شرعی بدعت نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی وضاحت

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:

«المقصود من هذا كله أن البدع هي ما يحدثه الناس في الشرائع لا في عادات الناس ومآكلهم ومشاربهم وسلاحهم وغير ذلك.»

ترجمہ:
“اس سب کا مقصود یہ ہے کہ بدعت وہ ہے جو لوگ شرعیات میں ایجاد کریں، نہ کہ لوگوں کی عادات، کھانے پینے، ہتھیاروں اور دیگر دنیاوی معاملات میں۔”

📖 البدع في الأمور الدنيوية، ابن باز

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 بدعت کی غلط فہمی اور بریلوی اعتراضات کا جواب

بریلوی حضرات جب بدعاتِ دینیہ، جیسے میلاد النبی، ایصالِ ثواب کی محفلیں، گیارہویں، مخصوص اذکار اور دیگر غیر ثابت رسومات، پر تنقید سن کر جواب نہیں دے پاتے تو عوام کو الجھانے کے لیے کہتے ہیں:

➤ “اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو پھر کار، ہوائی جہاز، مائیکروفون اور موبائل بھی بدعت ہیں!”

یہ اعتراض دراصل خلطِ مبحث (Mixing of Categories) ہے۔ یعنی شرعی بدعت اور لغوی بدعت کو ایک ہی چیز قرار دے کر اصل مسئلے کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ بدعتِ دینی اور دنیاوی ایجادات میں فرق

🔹 ➊ دینی بدعت

دینی بدعت وہ ہے جو دین میں عبادت اور تقربِ الٰہی کے طور پر ایجاد کی جائے۔

مثلاً:

➤ نماز کے اوقات یا رکعات میں اضافہ کرنا
➤ نئی عید مقرر کرنا
➤ میلاد النبی کو عبادت بنانا
➤ مخصوص اذکار و وظائف گھڑنا

یہ سب نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں داخل ہیں:

«وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

ترجمہ:
“اور نئی پیدا کردہ چیزوں سے بچو، بے شک ہر نئی پیدا کردہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”

📖 سنن أبي داود: 4607

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4607/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 ➋ دنیاوی ایجادات

دنیاوی ایجادات وہ ہیں جو انسانی زندگی کو سہل بنانے کے لیے وجود میں آئیں، مثلاً:

➤ سواریوں کی جدت: اونٹ ← گاڑی ← جہاز
➤ ہتھیاروں کی ترقی
➤ کھانے پینے اور لباس کی نئی شکلیں
➤ گھروں اور شہروں کی جدید تعمیر

یہ سب دینی بدعت کے زمرے میں نہیں آتے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

💡 مثال کے ذریعے فرق سمجھیں

اگر کوئی شخص یہ کہے:

➤ “ہم چھٹی نماز مقرر کریں گے تاکہ لوگ غفلت سے نکل آئیں۔”

یا یہ کہے:

➤ “ہفتے میں دو جمعے رکھیں تاکہ اجتماع زیادہ ہو۔”

تو یہ دینی بدعت ہے اور حرام ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ عبادت کے نظام میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا ہے۔

لیکن اگر کوئی یہ کہے:

➤ “ہم گاڑی یا ہوائی جہاز استعمال کریں گے تاکہ جلدی سفر ہو سکے۔”

یا یہ کہے:

➤ “ہم موبائل سے خطبات سنائیں گے تاکہ آواز سب تک پہنچے۔”

تو یہ دنیاوی سہولت ہے اور شریعت نے اس پر پابندی نہیں لگائی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 امام شاطبی رحمہ اللہ کی تنبیہ

امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«ومن البدع ما هو إضافي… كإحداث أذكار معينة وأوقات معينة لم ترد في الشرع، وإن كان أصل الذكر مشروعًا.»

ترجمہ:
“بدعات میں ایک قسم اضافی بدعت ہے، جیسے شرع میں ثابت اذکار کے علاوہ نئے اذکار مقرر کر لینا یا نئے اوقات طے کر لینا، اگرچہ اصل ذکر مشروع ہے۔”

📖 الاعتصام، 1/50

➤ یہ اصول میلاد اور دوسری ایجاد شدہ عبادات پر بالکل منطبق ہوتا ہے، مگر گاڑی، جہاز، موبائل یا دوسری دنیاوی ایجادات پر نہیں۔

26 📌 خلاصہ اور نتیجہ

اس پوری تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 ➊ بدعت کا شرعی مفہوم

بدعت صرف وہ چیز ہے جو دین میں عبادت یا تقربِ الٰہی کے طور پر ایجاد کی جائے۔

بدعتِ شرعی کے لیے تین بنیادی شرائط لازم ہیں:

➊ کوئی نئی چیز ایجاد کی جائے — الإحداث
➋ اسے دین کے ساتھ منسوب کیا جائے — إضافته إلى الدين
➌ اس کا کوئی شرعی اصل موجود نہ ہو — عدم الاستناد إلى أصل شرعي

➤ لہٰذا محض کسی چیز کا نیا ہونا اسے شرعی بدعت نہیں بنا دیتا، بلکہ اس کا دین میں بطور عبادت داخل کیا جانا ضروری ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 ➋ دنیاوی ایجادات

گاڑیاں، ہوائی جہاز، موبائل فون، مائیکروفون، جدید ہتھیار، نئی عمارتیں، نئے کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر جدید سہولتیں بدعتِ شرعی نہیں ہیں۔

یہ چیزیں صرف لغوی اعتبار سے نئی ہیں، کیونکہ:

➤ ان کا تعلق عبادات سے نہیں بلکہ دنیاوی عادات اور سہولتوں سے ہے۔
➤ انہیں دین کا حصہ یا تقربِ الٰہی کا مستقل ذریعہ قرار نہیں دیا جاتا۔
➤ اس لیے یہ بدعتِ شرعی کے دائرے میں داخل نہیں ہوتیں۔

➤ لغوی بدعت اور شرعی بدعت میں فرق نہ کرنا عوام کو مغالطے میں ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 ➌ بریلوی اعتراضات کا ردّ

جب دینی بدعات، جیسے:

➤ میلاد
➤ گیارہویں
➤ ایصالِ ثواب کی مخصوص محفلیں
➤ نئی عیدیں
➤ اضافی نمازیں
➤ مخصوص غیر ثابت اذکار و رسومات

پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو بعض بریلوی حضرات دنیاوی ایجادات کو درمیان میں لا کر یہ اعتراض پیش کرتے ہیں:

➤ “اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو کار، جہاز، موبائل اور مائیکروفون بھی بدعت ہیں!”

یہ اعتراض درست نہیں، کیونکہ شریعت نے دنیاوی سہولتوں کو بدعتِ شرعی قرار ہی نہیں دیا۔

اصل فرق یہ ہے کہ:

➤ دینی بدعت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور شریعت میں نئی چیز داخل کرنا ہے۔
➤ دنیاوی ایجاد انسانی زندگی میں سہولت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📚 اہلِ علم کی نصوص کا خلاصہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ:
“جس نے ہمارے اس دین کے معاملے میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔”

📖 صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/2697/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فكل من أحدث شيئًا ونسبه إلى الدين، ولم يكن له أصل من الدين… فهو ضلالة.»

ترجمہ:
“جو چیز دین میں ایجاد کی جائے، اسے دین کی طرف منسوب کیا جائے اور اس کی دین میں کوئی اصل موجود نہ ہو تو وہ ضلالت ہے۔”

📖 جامع العلوم والحكم، 2/128

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«ما أحدث ولا دليل له من الشرع بطريق خاص ولا عام.»

ترجمہ:
“وہی بدعت ہے جس کے لیے شرع میں نہ کوئی خاص دلیل ہو اور نہ کوئی عام دلیل۔”

📖 فتح الباری، 13/254

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«أما العوائد… فهذه ما فيها بدعة… أما من حيث الدين فلا يكون من البدع إلا ما كان في الدين.»

ترجمہ:
“جہاں تک عادات، سواریوں، کپڑوں، کھانوں اور دیگر دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تو ان میں بدعت نہیں۔ شرعی اعتبار سے بدعت صرف وہ ہے جو دین میں ایجاد کی جائے۔”

📖 فتاویٰ ابن باز، البدع في الأمور الدنيوية

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ حتمی نتیجہ

لہٰذا یہ بنیادی اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:

🔴 دین میں نئی عبادات = بدعت و گمراہی

🟢 دنیاوی ایجادات = سہولت و عادت، بدعتِ شرعی نہیں

➤ اسی اصول کی روشنی میں یہ اعتراض کہ:

“اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو کار، جہاز اور موبائل بھی بدعت ہیں!”

ایک باطل شبہ ہے، کیونکہ اس میں دینی بدعت اور دنیاوی ایجاد کو ایک ہی حکم میں شامل کر دیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں کے احکام الگ ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 اہلِ سنت والجماعت کا موقف

اہلِ سنت والجماعت کا موقف بالکل واضح ہے:

➊ دین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے مکمل فرما دیا ہے۔

➋ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طرف سے نئی عبادت، نئی عید، نیا مخصوص ذکر یا نیا دینی طریقہ ایجاد کرے۔

➌ دنیاوی معاملات، وسائل اور سہولتوں میں انسان اپنی ضرورت اور حالات کے مطابق نئی چیزیں اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم سے متصادم نہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾

ترجمہ:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔”

📖 سورۃ المائدۃ: 3

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ پس ثابت ہوا کہ:

➤ دنیاوی ایجادات کو شرعی بدعت قرار دینا بدعت کے حقیقی مفہوم سے ناواقفیت ہے۔

➤ دنیاوی ایجادات کو بنیاد بنا کر بدعاتِ دینیہ کا دفاع کرنا ایک علمی مغالطہ اور خلطِ مبحث ہے۔

➤ دین میں وہی عبادت معتبر ہے جو قرآن و سنت اور ثابت شرعی دلائل سے ثابت ہو۔

➤ جبکہ گاڑی، جہاز، موبائل، مائیکروفون اور دیگر جدید وسائل محض دنیاوی سہولتیں ہیں، ان کا بدعتِ شرعی سے کوئی تعلق نہیں۔

27 📘 بدعت کے رد پر اصول

🔹 اصول نمبر 1

واضح رہے کہ کسی بھی دینی امر کا حکم من جانبِ اللہ ہونا ضروری ہے۔ کوئی بھی کام دین سمجھ کر اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جا سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ اس کی اجازت نہ دے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو کھجوروں کی پیوند کاری کرتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے حکم کی تکمیل و تعمیل میں اس سے رک گئے، لیکن پھل بہت کم آئے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ﴾

ترجمہ:
”یقیناً میں بشر ہوں، جب آپ کو کوئی دینی حکم دوں تو اس پر سختی سے عمل پیرا ہو جائیں، اور جب دنیاوی امور میں اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو میں بشر ہوں۔“

📖 صحیح مسلم: 2362

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2362/

نیز فرمایا:

﴿أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ﴾

ترجمہ:
”دنیاوی امور کو آپ بہتر جانتے ہیں۔“

📖 صحیح مسلم: 2363

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2363/

مزید فرمایا:

﴿فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ﴾

ترجمہ:
”یہ میرا گمان تھا، اس کی بنا پر میرا مواخذہ نہ کیجیے، لیکن جب اللہ کی طرف سے کوئی چیز بیان کروں تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا، کیونکہ میں اللہ عزوجل پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا۔“

📖 صحیح مسلم: 2361

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2361/

➤ ان احادیثِ مبارکہ سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ دنیاوی کاموں میں جب تک ممانعت وارد نہ ہو، انہیں سرانجام دیا جا سکتا ہے، لیکن دین کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کا حکم ضروری ہے۔ جب تک شرعی دلیل نہ ملے، وہ کام کرنا ممنوع ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🔹 اصول نمبر 2

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا﴾

ترجمہ:
”ہر مومن جو آخرت کے لیے شریعت کے مطابق عمل کرے، اس کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔“

📖 سورۃ بنی اسرائیل: 19

اس آیتِ کریمہ میں سَعْيَهَا کے معنی معین عمل کے ہیں۔ مصدر کی اضافت تعیین کا فائدہ دیتی ہے۔

➤ وہی کوشش بارآور ثابت ہوگی اور وہی عمل قبول ہوگا جو قرآن و سنت سے ثابت ہوگا، اور جو ثابت نہ ہو اسے بدعت شمار کیا جائے گا۔

━━━━━━━━━━━━━━

🔹 اصول نمبر 3

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا:

”میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع۔“

پھر فرمایا:

﴿لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ﴾

ترجمہ:
”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“

📖 صحیح البخاری: 1610، صحیح مسلم: 1670

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1610/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1670/

➤ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ بعض جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو نہ کرنا بھی شرع کا حکم بن جاتا ہے۔ بدعات پر اس اصول کی تطبیق عین صادق آتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🔹 اصول نمبر 4

ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

﴿جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، قَالَ: جَلَسَ إِلَى عُمَرَ فِي مَجْلِسِكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ، قَالَ: هُمَا الْمَرْآنِ يُقْتَدَى بِهِمَا﴾

ترجمہ:
”میں شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ قریشی، جو کعبہ کے کنجی بردار تھے، کے پاس مسجدِ حرام میں بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی جگہ مسجدِ حرام میں تشریف فرما تھے اور فرمانے لگے:

میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں جو سونا اور چاندی ہے، وہ مسلمانوں میں تقسیم کر دوں۔

میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے۔

آپ نے فرمایا: کیوں؟

میں نے عرض کیا: آپ کے دو ساتھیوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، نے یہ کام نہیں کیا۔

تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

یہ دو ہستیاں مقتدا اور پیشوا ہیں۔“

📖 صحیح البخاری: 7275

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7275/

➤ اس سے ثابت ہوا:

”جس کام کا محرک موجود ہو، اس کے بارے میں شرعی ممانعت بھی ثابت نہ ہو، اور نہ ہی اسے سرانجام دینے میں کوئی رکاوٹ ہو، اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کیا ہو، تو اسے ترک کرنا سنت ہے اور اس پر عمل کرنا بدعتِ سیئہ و قبیحہ ہے۔“

28 اصول نمبر 5

◈ بدعت کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
لا يجعل أحدكم للشيطان شيئا من صلاته يرى أن حقا عليه أن لا ينصرف إلا عن يمينه لقد رأيت النبى صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره .
”اپنی نماز میں اس طرح شیطان کا حصہ نہ بنا لیں کہ (سلام کے بعد) دائیں جانب سے مقتدیوں کی طرف پھرنا اپنے اوپر لازم کر لیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی دفعہ بائیں جانب سے پھرتے دیکھا ہے۔“
صحيح البخاري : 852 ، صحیح مسلم : 707
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی جائز و مستحب کام پر اصرار کرنا، اس کے ساتھ واجب کا معاملہ کرنا، اسے شیطانی کام بنا دیتا ہے۔
◈ علامہ طیبی رحمہ اللہ (م : 743ھ) لکھتے ہیں :
فيه أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرحصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف بمن أصر على بدعة ومنكر .
”اس حدیث میں بیان ہے کہ جو شخص مستحب عمل پر دوام کرے، اسے عزیمت سمجھ کر رخصت پر عمل چھوڑ دے، تو شیطان نے اسے گمراہ کر دیا ہے، پھر اس کا کیا بنے گا، جو بدعت اور منکر عمل پر ہمیشگی کرتا ہے؟“
شرح المشکوۃ : 105/3

اصول نمبر 6
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : 774ھ) فرماتے ہیں :
أما أهل السنة والجماعة فيقولون فى كل فعل وقول لم يثبت عن الصحابة : هو بدعة؛ لأنه لو كان خيرا لسبقونا إليه، لأنهم لم يتركوا خصلة من خصال الخير إلا وقد بادروا إليها .
”اهل سنت والجماعت کا مذہب ہے کہ ہر وہ قول وفعل، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو بدعت ہے، اگر وہ کارِ خیر ہوتا ، تو وہ ہم سے پہلے یہ کام کر جاتے ، کیونکہ وہ کوئی نیک کام نہ چھوڑتے تھے ، بلکہ اس میں جلدی کرتے تھے۔“
تفسير ابن كثير : 567/5

29 📘 بدعتی کی مذمت

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ﴾

ترجمہ:
”جس نے بدعتی کی تعظیم کی، اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں معاونت کی۔“

📖 الشريعة للآجري: 2040، تاريخ ابن عساكر: 456/26، وسنده صحيح

ابوالفضل عباس بن یوسف شکلی ”مقبول الروایۃ“ ہیں۔

📖 تاريخ الإسلام للذهبي: 479/23، اور ایک نسخے میں: 282/7

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ﴾

ترجمہ:
”بدعت جاری کرنے والے یا بدعتی کو سہارا دینے والے پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہوتی ہے۔ اس کی کوئی فرض و نفل عبادت قبول نہیں ہوتی۔“

📖 مسند الطيالسي: 299، مسند المسدّد، اتحاف الخيرة المهرة: 6850، واللفظ له، مسند الإمام أحمد: 178/2، 180، 191، 192، 194، 211، وسنده حسن

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حدیث: 1413 میں ”حسن“ اور امام ابن الجارود رحمہ اللہ نے حدیث: 1073 میں ”صحیح“ کہا ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1413/

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ؟ وَاللهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ﴾

ترجمہ:
”میں حوضِ کوثر پر آپ کا انتظار کروں گا اور دیکھوں گا کہ آپ میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ وہاں کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اپنے ہیں، یہ میرے امتی ہیں۔ چنانچہ مجھ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا اعمال کیے؟ اللہ کی قسم! یہ لوگ برابر اپنی ایڑیوں کے بل پلٹتے رہے۔“

راویِ حدیث ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے:

”اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔“

📖 صحیح البخاری: 6593، صحیح مسلم: 2293

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6593/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2293/

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ﴾

ترجمہ:
”سنو! میں حوضِ کوثر پر آپ کا پیش رو ہوں گا اور آپ کی کثرت میرے لیے دوسری امتوں پر باعثِ فخر ہوگی۔ مجھے روزِ قیامت شرمندہ نہ کر دینا۔ سنو! میں کچھ افراد کو جہنم سے چھڑاؤں گا اور کچھ افراد مجھ سے چھین لیے جائیں گے اور جہنم رسید کر دیے جائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات جاری کیں۔“

📖 سنن ابن ماجہ: 3057، وسنده حسن، وأخرجه مسدّد في مسنده كما في مصباح الزجاجة: 207/3، وأحمد: 412/5، والنسائي الكبرى: 4099، وسنده صحيح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3057/

علامہ بوصیری رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔

📖 مصباح الزجاجة: 207/3

━━━━━━━━━━━━━━

◈ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا، وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ، وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ﴾

ترجمہ:
”روزِ قیامت سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا: ایک وہ شخص جسے کسی نبی نے قتل کیا، دوسرا وہ جس نے کسی نبی کو قتل کیا، تیسرا گمراہی کا امام اور چوتھا تصویر بنانے والا۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 497/1، وسنده حسن