1 🌿 بدعت کی لغوی تعریف 🌿
علامہ مجد الدین یعقوب بن محمد فیروز آبادیؒ رقمطراز ہیں:
﴿بدعة بالكسر: الحدث فى الدين بعد الإكمال أو ما استحدث بعد النبى من الأهواء والاعمال .﴾
📗 القاموس المحيط: 3/3
بدعت : باء کے کسرہ کے ساتھ : ایسی چیز جو تکمیلِ دین کے بعد نکالی جائے یا وہ چیز جو رسول اللہ ﷺ کے بعد خواہشات و اعمال کی صورت میں پیدا کی جائے۔
📚 علامہ محمد بن ابی بکر الرازیؒ فرماتے ہیں:
﴿البدعة: الحديث فى الدين بعد الإكمال .﴾
📘 مختار الصحاح ، ص : 44
’’بدعت تکمیلِ دین کے بعد کسی چیز کو دین میں نیا ایجاد کرنا ہے۔‘‘
🌸 ابو اسحٰق الشاطبیؒ فرماتے ہیں:
’’اصل مادہ اس کا بدع ہے‘‘، جس کا مفہوم ہے بغیر کسی نمونے کے چیز کا ایجاد کرنا۔
اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ﴾
یعنی: آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ نمونے کے بغیر بنانے والا۔
مزید فرمایا:
﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾
📖 (الاحقاف : 9)
’’آپ کہہ دیں! میں اللہ کی طرف سے رسالت لے کر آنے والا پہلا نیا آدمی نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت رسول آچکے ہیں۔‘‘
اسی طرح جب کہا جاتا ہے:
’’ابْتَدَعَ فُلَانٌ بِدْعَةٌ‘‘
یعنی اس نے ایسا طریقہ شروع کیا جس کی طرف پہلے کسی نے سبقت نہیں کی۔
📘 الاعتصام ، الباب الاول : 36/1
ان ائمہ لغات کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ بدعت کا مفہوم یہ ہے کہ ایسی چیز ایجاد کی جائے جس کی مثال یا نمونہ پہلے موجود نہ ہو۔
🌷 بدعت کی اصطلاحی تعریف 🌷
حافظ ابن کثیرؒ رقمطراز ہیں کہ:
﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ﴾ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔
یہی لغوی تقاضا ہے، اس لیے کہ لغت میں ہر نئی چیز کو بدعت کہا جاتا ہے۔
اور بدعت کی دو اقسام ہیں👇
⚖ (1) بدعتِ شرعی:
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
💡 (2) بدعتِ لغوی:
جیسے امیرالمؤمنین عمرؓ نے لوگوں کے جمع ہو کر تراویح پڑھنے کے متعلق فرمایا:
"یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے"
📗 تفسير ابن كثير 348/1، بتحقيق عبد الرزاق المهدى، تفسير سورة البقرة آيت :117
📖 امام عبد الرحمٰن بن رجبؒ فرماتے ہیں:
﴿والمراد بالبدعة: مما لا أصل له فى الشريعة يدل عليه فأما ما كان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعا وإن كان بدعة لغة﴾
📘 جامع العلوم والحكم : 127/2
’’بدعت سے مراد وہ نو ایجاد چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو جو اس پر دلالت کرے۔
بہر کیف جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو جو اس پر دلالت کرے تو وہ شرعی بدعت نہیں اگرچہ لغت کے اعتبار سے بدعت ہو۔‘‘
📙 مولوی عبد الغنی خان حنفی اپنی کتاب
"الـجـنة لأهل السنة" (ص: 161)
میں ’’البحر الرائق‘‘ اور ’’در مختار‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’بدعت وہ چیز ہے جو ایسے حق کے خلاف ایجاد کی گئی ہو جو رسول اللہ ﷺ سے اخذ کیا گیا ہو — علم، عمل یا حال میں — اور کسی شبہ کی بنیاد پر اسے اچھا سمجھ کر دینِ قویم اور صراطِ مستقیم بنا لیا گیا ہو۔‘‘
🌺 نتیجہ:
ان ائمہ اور حنفی اکابر کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ:
ہر وہ نیا کام جسے ثواب و عبادت سمجھ کر دین میں داخل کر لیا گیا ہو وہ بدعت ہے۔
لفظ ’’کل‘‘ عموم پر دلالت کرتا ہے۔
جس طرح:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
کا مطلب ہے ’’ہر نفس کو موت آئے گی‘‘،
اسی طرح:
كل بدعة ضلالة
کا مطلب ہے ’’دین میں ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔
لہٰذا یہ کہنا کہ بدعتِ حسنہ بھی ہوتی ہے، غلط ہے۔
کیونکہ اگر کوئی کہے کہ شرکِ حسنہ یا کفرِ حسنہ بھی ہوتا ہے —
تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا؟