واٹساپ دعوتی مواد عذاب قبر

عذاب قبر

61 پیغامات

1 📘 عذابِ قبر قرآنِ مجید کی روشنی میں — پہلی آیت (حصہ اول)

➊ آیتِ کریمہ

﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ ‎﴾
ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔

🔹 حوالہ: البقرة:154

اس آیت میں شہداء کی جس زندگی کا ذکر ہوا ہے یقیناً وہ برزخ ہی کی زندگی ہے اور برزخ ایک مستقل جہان ہے جو موت سے لے کر قیامت تک کے لیے ہے۔ برزخی زندگی ہر انسان کے لیے ہے، خواہ وہ شہید ہو یا غیر شہید۔

➋ علامہ آلوسی

إن الحياة فى البرزخ ثابتة لكل من يموت من شهيد أو غيره
ترجمہ: یقیناً برزخی زندگی ہر مرنے والے کے لیے ثابت ہے، شہید ہو یا کوئی اور ہو۔

🔹 حوالہ: تفسیر روح المعانی 2/21

➌ امام قرطبی

ويكون فيه دليل على عذاب القبر
ترجمہ: اور اس آیت میں عذاب قبر پر بھی دلیل ہے۔

🔹 حوالہ: تفسير القرطبی 2/168

یاد رہے کہ برزخی زندگی اپنی تمام صورت میں تو سب کے لیے ہے لیکن قرآن مجید نے شہداء کی تعظیم و تکریم کے لیے خصوصیت سے ان کو أحياء کہا ہے۔

➍ سورۃ آل عمران کی آیات

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ. فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ. يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ.﴾

🔹 حوالہ: آل عمران 169–171

ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جائیں انھیں مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں… اور بے شک اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

یہ سب کچھ برزخ میں ہے، کیونکہ انھیں یہ نعمتیں مل رہی ہیں اور ظاہر ہے کہ ابھی قیامت نہیں آئی۔

➎ روایت: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما

"سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے اور پوچھا: جابر! کیا بات ہے؟ میں تمھیں شکستہ خاطر دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والد (جنگ احد میں) شہید ہو گئے اور قرض اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گئے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں یہ بشارت نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ سے ان کی کیسے ملاقات ہوئی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا مگر پردے کے پیچھے سے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر اس سے آمنے سامنے باتیں کیں اور پوچھا: ”کچھ آرزو کرو جو میں تمھیں عطا کروں۔“ تیرے باپ نے کہا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندگی عطا کر دے، تاکہ میں دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ بات طے ہو چکی ہے کہ لوگ دوبارہ دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔
راوی کہتا ہے یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔"

🔹 حوالہ: ترمذی 3010 — شیخ البانی نے حسن کہا ہے

2 📘 عذابِ قبر قرآنِ مجید کی روشنی میں — پہلی آیت (حصہ دوم)

➏ روایت: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

"سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا:
”شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ہیں، ان کے لیے عرش الہی میں قندیلیں لٹکتی ہیں، یہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں، پھر ان قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کے رب نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا: کیا تمھیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ تو انھوں نے کہا: ہمیں کسی چیز کی خواہش نہیں، ہم تو جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے تین بار یہی سوال کیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اب جواب دیے بغیر کوئی چارہ نہیں تو کہا: اے پروردگار! ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحیں واپس دنیا میں لوٹا دے تاکہ ہم تیری راہ میں پھر جہاد کریں اور پھر شہید ہوں۔"

🔹 حوالہ: صحیح مسلم — کتاب الامارة، رقم: 1887

➐ “لَا تَشْعُرُونَ” کی وضاحت اور برزخی زندگی

"شہداء کی اس زندگی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے لا تشعرون فرمایا ہے، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ تم شہداء کی اس حیات کو محسوس نہیں کر سکتے، اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کیسی ہے، اور نہ ہی تم اپنے حواس یعنی ناک، کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں کے ذریعے سے ان کا حال معلوم کر سکتے ہو، کیونکہ وہ تو اب برزخ کے معاملات میں سے ہے جبکہ برزخ کے معاملات کا علم وحی الہی کے بغیر ناممکن ہے۔

لا تشعرون برزخ کی حیات شعور میں آنے والی نہیں، اس لیے کہ جسم الگ ہے اور روح الگ ہے، اور بسا اوقات تو جسم کو پرندے اور درندے کھا جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسے حیات کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انھیں وہاں رزق بھی دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ ہمارے شعور سے باہر ہے۔

معلوم ہوا کہ عالم برزخ ہماری عقل و شعور میں نہیں آ سکتا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی بتا دی ہے۔ اب خواہ مخواہ اس کی کیفیت جاننے کی کوشش کرنا اور یہ کہنا کہ یہ حیات عقل میں نہیں آتی، کم از کم کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔"

➑ مومنوں کا اجر اور برزخی نعمتیں

"﴿بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَاكِن لَّا تَشْعُرُونَ﴾ کے شہداء کو مردہ مت کہو، کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، لیکن وہ زندگی ایسی ہے جس کا ہم شعور نہیں پا سکتے، مگر شعور نہ پانے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت شدہ حقائق تو نہیں بدل سکتے۔

سورۃ آل عمران کی مذکورہ بالا آیات میں شہداء کی اسی برزخی زندگی اور انھیں وہاں ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں فرمایا: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ اور اللہ تعالیٰ یقیناً مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا، یعنی جس طرح شہداء پر اللہ تعالیٰ نے عالم برزخ میں اپنی نعمتیں نازل کی ہیں، ان کے اجر و ثواب کو ضائع نہیں کیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مومن کو برزخ میں اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور ان کے اجر کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔

یہاں أجر المؤمنين کے الفاظ بھی قابل غور ہیں:
اولاً: اللہ تعالیٰ نے یہاں أجر الشهداء یا أجر المقتولين نہیں فرمایا۔
ثانیاً: المؤمنين پر الف لام استغراق کا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کسی بھی مومن کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ شہید ہو یا غیر شہید۔

جس طرح شہداء اور عام مومنوں کو برزخ میں اجر و ثواب ملے گا، اس کے برعکس کافروں، فاجروں، منکرین قرآن و سنت کو قبر میں عذاب بھی ہوگا۔"

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

3 📘 دوسری آیت — حصّہ 1

➋ آیتِ کریمہ

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ‎﴾
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں قول ثابت (کلمہ طیبہ) پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

🔹 حوالہ: ابراہیم: 27

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ پر ایمان والوں کو اس دنیا میں بھی ہر طرح کی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت کی بھی ہر مشکل گھڑی میں انھیں ثابت قدمی نصیب فرمائے گا، إن شاء اللہ۔

تمام مفسرین، محدثین اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔

➊ روایت: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ

إذا أقعد المؤمن فى قبره أتي ثم شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فذلك قوله يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
ترجمہ: مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، پھر وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا...﴾ کا۔

🔹 حوالہ: بخاری 1369 — کتاب الجنائز

➋ امام محمد بن بشار رحمہ اللہ کی روایت

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ
ترجمہ: یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
🔹 حوالہ: ایضا

➌ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت

المسلم إذا سئل فى القبر يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فذلك قوله يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
ترجمہ: مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوگا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ کا یہی مطلب ہے۔

🔹 حوالہ: بخاری 4699 — کتاب التفسير

➍ امام الربيع رحمہ اللہ

"کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ بے شک یہ امت (محمدیہ) بھی اپنی قبروں میں سوال کی جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ مومن کو اس کی قبر میں سوالات کے وقت ثابت قدم رکھے گا۔"

🔹 حوالہ: تفسیر طبری 13/252

امام قتادہ رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

🔹 حوالہ: ایضا

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

4 📘 دوسری آیت — حصّہ 2

➎ القول الثابت کی تفسیر

القول الثابت سے مراد کلمہ طیبہ ہے۔

الحیاة الدنيا سے مراد یہی دنیا کی زندگی ہے جو آج ہم بسر کر رہے ہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو آنے والی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے۔

وَفِي الْآخِرَةِ سے مراد وہ زندگی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوگی۔

جیسا کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن بندے کی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

"وَإِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ"
ترجمہ: بے شک مومن بندہ جب دنیا سے کوچ کرنے لگتا ہے اور آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے۔

🔹 حوالہ: مسند احمد 4/288

➏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

فجمع الله ريقي وريقه فى آخر يوم من الدنيا وأول يوم من الآخرة
ترجمہ: پس اللہ نے میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن جمع کر دیا۔

🔹 حوالہ: بخاری 4451 — کتاب المغازی

➐ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ صفیہ بنت ابی عبید

انہوں نے اپنی موت کے قریب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا:

إني فى آخر يوم من أيام الدنيا وأول يوم من الآخرة
ترجمہ: بے شک میں ایامِ دنیا کے آخری دن میں ہوں اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں۔

🔹 حوالہ: نسائی 88 — کتاب المواقيت (البانی: حسن)

ان تمام احادیث میں موت کے بعد آنے والی زندگی کو آخرت کہا گیا ہے۔

➑ ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی حفظہ اللہ

"ان تمام احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں موت کے بعد کے لیے آخرت کا نام ایک جانی پہچانی حقیقت تھی۔ قرآن و حدیث میں مرنے کے بعد کے لیے اور قیامت کے دن کے لیے آخرت کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ البتہ بعض اہل علم نے مرنے کے بعد سے قیامت تک کے احوال کے لیے برزخی زندگی اور عالم برزخ کی اصطلاح ایجاد کی ہے تاکہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کے وقفہ اور قیامت کے دن دونوں میں فرق واضح ہو جائے۔ ورنہ مرنے کے بعد کے لیے آخرت کی اصطلاح ہی استعمال کرنا زیادہ درست ہے۔"

🔹 حوالہ: عقیدہ عذاب قبر، ص 43

معلوم ہوا کہ آخرت سے مراد صرف قیامت ہی نہیں بلکہ عالمِ برزخ بھی آخرت کا حصہ ہے۔

5 📘 دوسری آیت — حصّہ 3

➒ قبر آخرت کی پہلی گھاٹی ہے

إن القبر أول منزل من منازل الآخرة
ترجمہ: بے شک قبر آخرت کی گھاٹیوں میں سے پہلی گھاٹی ہے۔

🔹 حوالہ: ترمذی 2308 — کتاب الزہد (البانی: حسن)

علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"آخرت سے مراد عالمِ برزخ ہے اور قرائن بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قیامت میں قولِ ثابت پر قائم رہنا کون سی بڑی بات ہوگی جبکہ ہر چیز اس وقت واضح اور نمایاں ہوگی۔ اس لیے اس آیت میں آخرت سے عالمِ برزخ کے سوا اور کچھ مراد نہیں ہوسکتا، اور حدیث میں تصریح ہے کہ قبر یعنی برزخ آخرت کی منزلوں میں سب سے پہلی منزل ہے۔"

🔹 حوالہ: سیرت النبی ﷺ از شبلی نعمانی 4/343 — حذیفہ اکیڈمی

اب جب یہ ثابت ہو گیا کہ عالمِ برزخ بھی آخرت ہی کا حصہ ہے تو اس آیت پر اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور اسے عذابِ قبر کے بارے میں نصِ صریح مان لینا چاہیے تھا۔

لیکن منکرینِ عذابِ قبر نے اس آیت پر طرح طرح کے اعتراضات عائد کیے۔

📘 اعتراضات اور جوابات

➊ اعتراض ①

"اس آیت میں دنیا اور آخرت کا ذکر ہے، برزخ کا ذکر نہیں، لہٰذا برزخ میں ثابت قدمی کیسے مراد لی جا سکتی ہے؟"

جواب:

1️⃣ گزشتہ سطور میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عالمِ برزخ پر بھی آخرت کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ وہ آخرت ہی کا حصہ ہے اور آخرت کی پہلی گھاٹی ہے۔
2️⃣ عدم ذکر = عدمِ وجود نہیں۔
قرآن نے کہاں برزخ میں ثابت قدمی کی نفی کی ہے؟

➋ اعتراض ②

"برزخ عارضی اور عبوری ہے، جبکہ آخرت حقیقی اور ابدی ہے۔ دونوں ایک نہیں ہوسکتے۔"

جواب:

1️⃣ ہم نے کہا ہی کب کہ آخرت صرف برزخ ہے؟
ہم تو یہ کہتے ہیں کہ برزخ بھی آخرت کا حصہ ہے — جیسے مقدمہ اور اصل۔

2️⃣ اگر آپ فرق کرنا چاہتے ہیں تو کیجیے، مگر کیا مرنے کے بعد انسان سفرِ آخرت پر نہیں چل پڑتا؟

جیسے کوئی کراچی کے سفر پر نکل جائے — راستے میں ہو تب بھی کہا جاتا ہے “وہ کراچی چلا گیا ہے”۔

3️⃣ اگر ایک مومن کو عارضی جگہ (برزخ) میں ثابت قدمی کی ضرورت پڑے، تو اللہ اسے کیوں نہ دے؟
جبکہ دنیا بھی تو آخرت کے مقابلے میں عارضی ہے، اور یہاں “فی الحیاة الدنیا” کے الفاظ موجود ہیں۔

➌ عملی دلیل (حدیث)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

استغفروا لأخيكم ثم وسلوا له بالتثبيت فإنه الآن يسأل
ترجمہ: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو اور اس کی ثابت قدمی کے لیے دعا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جا رہا ہے۔

🔹 حوالہ: ابوداؤد 3221 — کتاب الجنائز (البانی: صحیح)

یعنی قبر میں سوال کے وقت ثابت قدمی ملتی ہے، اور یہی آیت ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ کی تفسیر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

6 📘 تیسری آیت

➌ آیتِ کریمہ

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

ترجمہ: جس کسی نے بھی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت، لیکن وہ مومن ہو تو اسے ہم یقیناً نہایت پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور دیں گے۔
🔹 حوالہ: النحل:97

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جس کسی نے بھی اچھے اعمال کیے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مومن ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم اسے حیاتِ طیبہ بھی دیں گے اور اچھے اعمال کا بدلہ بھی۔

ایک جگہ نُحْيِيَنَّهُ اور دوسری جگہ نَجْزِيَنَّهُمْ فرمایا۔
نُحْيِي اور نَجْزِي دونوں مضارع کے صیغے ہیں، اور مضارع حال اور مستقبل دونوں کے لیے آتا ہے۔

یہاں کسی خاص عالم کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ مطلق ارشاد ہے، اس لیے گرائمر کی رو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو دنیا، برزخ اور قیامت—یعنی تمام جہانوں میں—حیاتِ طیبہ اور جزائے حسنہ عطا فرمائے گا۔

➊ دنیا میں حیاتِ طیبہ

دنیا میں حیاتِ طیبہ سے مراد پاک زندگی میں
حلال روزی، قناعت، سچی عزت، سکون، اطمینان، دل کی تونگری، اللہ کی محبت اور لذت شامل ہیں۔

مطلب یہ کہ ایمان اور عملِ صالح سے صرف اخروی زندگی ہی نہیں بلکہ دنیوی زندگی بھی سکھ اور چین سے گزرتی ہے۔
🔹 حوالہ: اشرف الحواشی، ص 334، حاشیہ 10

➋ آخرت میں حیاتِ طیبہ

آخرت میں حیاتِ طیبہ کی اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ اس دنیا کی زندگی سے بہتر ہوگی۔

➌ حیاتِ طیبہ: جسم اور روح دونوں کے لیے

آیت
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا﴾
سے معلوم ہوتا ہے کہ حیاتِ طیبہ عملِ صالح کرنے والوں کو ملتی ہے، اور عملِ صالح جسم اور روح دونوں مل کر کرتے ہیں۔

لہٰذا حیاتِ طیبہ میں بھی روح اور جسم دونوں شریک ہوتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

7 📘 چوتھی آیت — حصّہ 1

➍ آیتِ کریمہ

﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾

ترجمہ: اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم مرگ کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا کر یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لاؤ، نکالو اپنی جانیں۔ آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس وجہ سے کہ تم اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللہ کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔

🔹 حوالہ: الأنعام:93

علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رقمطراز ہیں:

وفي هذا دليل على عذاب القبر ونعيمه

ترجمہ: اور اس آیت میں عذاب قبر اور (اس میں ملنے والی) نعمتوں پر دلیل ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر السعدی

علامہ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب احوال القبور واحوال اھلھا الی النشور میں اور امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کتاب الروح میں اس آیت کو عذاب قبر کی دلیل قرار دیا ہے۔

فرشتے جب ظالموں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں بطور زجر و توبیخ کہتے ہیں کہ اپنی جانیں نکال کر ہمارے حوالے کرو۔

پھر فرمایا جاتا ہے: آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، یعنی آخرت کے عذاب کی ابتدا اسی وقت سے ہو جاتی ہے۔

یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

8 📘 چوتھی آیت — حصّہ 2

سورۃ الانفال میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾
ترجمہ: اور اگر تو دیکھے کہ جس وقت فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں اور (کہتے ہیں) جلنے کا مزہ چکھو۔

🔹 حوالہ: الأنفال:50

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ بعض مفسرین نے اسے جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کے بارے میں قرار دیا ہے، لیکن آیت عام ہے اور ہر کافر و مشرک کو شامل ہے، اور مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں۔

🔹 حوالہ: تفسیر احسن البیان، ص 239، حاشیہ 4

اسی طرح سورۃ محمد میں فرمایا:

﴿فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ﴾
ترجمہ: پھر کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔

🔹 حوالہ: محمد:27

مولانا عبد الرحمن رحمہ اللہ ان آیات کے متعلق فرماتے ہیں کہ قبضِ روح کے ساتھ ہی اللہ کے نافرمان عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، خواہ میت کا جسم جلا دیا جائے، درندے کھا جائیں یا سمندر میں بہا دیا جائے، عالم برزخ میں روح اور جسم دونوں کو ان کے اعمال کے مطابق تکلیف یا راحت دی جاتی ہے۔

🔹 حوالہ: عالم برزخ، ص 110–111

تفسیر اشرف الحواشی میں ہے کہ ﴿الْيَوْمَ﴾ سے مراد وہ دن ہے جس میں عذاب قبر کی ابتدا ہوتی ہے، اور اس آیت میں عذاب قبر کی طرف صاف اشارہ ہے۔

🔹 حوالہ: اشرف الحواشی، ص 168، حاشیہ 4

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

9 📘 چوتھی آیت — حصّہ 3

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

اليوم آج سے مراد قبضِ روح کا دن ہے، اور یہی عذاب کے آغاز کا وقت بھی ہے، جس کا مبدأ قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے، ورنہ فرشتوں کے ہاتھ پھیلانے اور جان نکالنے کا حکم دینے کے ساتھ یہ کہنے کا کوئی معنی نہیں رہتا کہ آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔
قبر سے مراد برزخ کی زندگی ہے، یعنی دنیا کی زندگی کے بعد اور آخرت کی زندگی سے قبل کی درمیانی زندگی، جو انسان کی موت سے قیامت کے وقوع تک ہوتی ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر احسن البیان، ص 181، حاشیہ 5

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

اليوم مرنے کے وقت سے غیر متناہی مدت تک ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر مظہری 4/188 — ایچ ایم سعید کمپنی

📘 اعتراضات اور جوابات

➊ اعتراض ①

محمد فاضل صاحب لکھتے ہیں کہ لفظ اليوم سے وفات کا دن مراد لینا درست نہیں، کیونکہ اليوم کا لفظ قرآن میں قیامت اور حشر کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، اور اليوم سے قبر یا برزخ مراد لینا تاویل نہیں بلکہ تحریف ہے۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص 18

جواب

جن سورتوں کے حوالے دیے گئے ہیں، ان میں اکثر مقامات پر يوم آیا ہے، اليوم نہیں۔
يوم الفصل، يوم التغابن، يوم العظيم، يوم الدين اور يوم الحساب ہماری بحث سے خارج ہیں، کیونکہ یہاں بحث صرف لفظ اليوم کی ہے۔

قرآن میں جہاں اليوم سے قیامت مراد ہے وہاں کوئی قرینہ موجود ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ المعارج آیت 44 اور سورۃ النباء آیت 39 میں ہے۔

لیکن جہاں کوئی قرینہ موجود نہ ہو، وہاں اليوم سے وہی دن مراد ہوتا ہے جس دن کی بات ہو رہی ہو۔

مثال کے طور پر:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
(المائدة:3)

اور:

﴿الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ﴾
(المائدة:5)

یہاں اليوم سے قیامت کا دن مراد نہیں۔

اسی طرح اگر یہاں ﴿الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ﴾ سے قیامت کا دن مراد ہوتا تو جان کنی کے وقت اس کا ذکر بے معنی ہو جاتا، جبکہ یہاں عذاب کا اعلان قبضِ روح کے وقت کیا جا رہا ہے۔

➋ اعتراض ②

لفظ عذاب الهون قرآن میں دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے آیا ہے، لیکن قبر یا برزخ کے لیے نہیں، لہٰذا اس آیت سے عذاب قبر ثابت نہیں ہوتا۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص 18

جواب

عذاب الهون دنیا میں بھی ہو سکتا ہے اور آخرت میں بھی، تو یہ ماننے میں کیا مانع ہے کہ وہ برزخ میں بھی ہو؟

کیا عدمِ ذکر سے عدمِ شی لازم آتا ہے؟

سورۃ الأحقاف میں سیاق و سباق کے باعث عذاب الهون سے آخرت کا عذاب مراد ہے،
سورۃ حم السجدہ میں سیاق کے باعث دنیا کا عذاب مراد ہے، اور یہاں سیاق و سباق واضح طور پر بتا رہا ہے کہ قبضِ روح کے وقت ہی ذلت آمیز عذاب شروع ہو جاتا ہے، جس کی جھلک سورۃ الانفال آیت 50 اور سورۃ محمد آیت 27 میں بیان کر دی گئی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

10 📘 پانچویں آیت

➎ آیتِ کریمہ

﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ.‏ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ.‏ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ﴾

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس بات پر) قائم رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں (اور کہتے ہیں) خوف نہ کھاؤ اور نہ ہی غم کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیے گئے ہو۔ ہم تمہارے دوست تھے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (رہیں گے)، اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ سب کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور جو تم مانگو گے، یہ سب کچھ بطور مہمان نوازی اللہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے ہے۔

🔹 حوالہ: فصلت: 30–32

ان آیات میں مستقیم الحال لوگوں کے لیے فرشتوں کے نزول اور ان کی طرف سے ملنے والی خوشخبریوں کا ذکر ہے۔
یہ خوشخبریاں کہاں ملتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ — دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔

آخرت کی ابتدا موت کی آخری سانس سے ہوتی ہے، جس میں عالمِ برزخ اور عالمِ حشر دونوں شامل ہیں، اور جیسا کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ عالم برزخ بھی عالم آخرت ہی کا حصہ ہے۔

اس طرح یہ بشارتیں دنیا، برزخ اور حشر—تینوں جہانوں میں ملتی ہیں۔

اقوالِ مفسرین

امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وقال زيد بن أسلم يبشرونه عند موته وفي قبره وحين يبعث… وهذا القول يجمع الأقوال كلها وهو حسن جدا وهو الواقع
ترجمہ: زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ ملائکہ مستقیم الحال لوگوں کو موت کے وقت، قبر میں اور قبر سے اٹھتے وقت خوشخبریاں سناتے ہیں، اور یہ قول تمام اقوال کو جامع ہے، بہت ہی اچھا ہے اور حقیقت کے مطابق ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر 5/479 — دار الکتب

امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین مقامات پر بشارت ملے گی:
مرتے وقت، قبر کے اندر، اور قبر سے اٹھتے وقت۔

🔹 حوالہ: تفسیر القرطبی، جز 25، ص 313

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

11 📘 چھٹی آیت — حصّہ 1

➏ آیتِ کریمہ

﴿الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ.‏ فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ.‏ وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ.‏ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ.‏ الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾

ترجمہ: وہ لوگ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے، فرشتے جب ان کی روح قبض کرنے لگے تو وہ کہتے ہیں ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں! اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا۔
اور پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا؟ وہ کہتے ہیں اچھا۔ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے…
وہ لوگ جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوں، کہتے ہیں: سلامتی ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔

🔹 حوالہ: النحل: 28–32

سورۃ النحل کی ان آیات میں سب سے پہلے کافروں کی موت کا ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ عاجزی سے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے، مگر فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔

آیت نمبر 29 میں کافروں کو مرنے سے پہلے ہی جہنم کی وعید سنائے جانے کا ذکر ہے:
﴿فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ﴾

آیت نمبر 30، 31 اور 32 میں پرہیزگاروں کا ذکر ہے کہ انھیں دنیا ہی میں بتا دیا جاتا ہے کہ آخرت کا گھر بہتر ہے، اور موت کے وقت فرشتے انھیں جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

12 📘 چھٹی آیت — حصّہ 2

حاصلِ کلام:

فرشتے انسان کو مرتے وقت ہی اس کے انجام سے آگاہ کر دیتے ہیں۔
بدکاروں سے کہا جاتا ہے: ﴿فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ﴾
اور پرہیزگاروں سے کہا جاتا ہے: ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ﴾
یوں عذاب و ثواب مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔

اقوالِ مفسرین

امام ابن کثیر رحمہ اللہ آیت نمبر 28 اور 29 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہوئیں اور جسموں پر قبر میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی، پھر قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نارِ جہنم میں داخل ہوں گی، اب نہ موت ہوگی اور نہ تخفیف۔

🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر (اردو) 3/138 — قدوسیہ

امام قرطبی رحمہ اللہ ﴿فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

اى يقال لهم ذلك عند الموت، وقيل هو بشارة لهم بعذاب القبر اذهو باب من ابواب جهنم للكافرين

ترجمہ: یہ بات انھیں موت کے وقت کہی جائے گی، اور کہا گیا ہے کہ یہ ان کے لیے عذابِ قبر کی بشارت ہے، کیونکہ قبر کفار کے لیے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر القرطبی 10/91

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ موت کے فوراً بعد ان کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور جسم قبر میں رہتے ہیں، پھر قیامت کے دن روحیں جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔

🔹 حوالہ: تفسیر احسن البیان، ص 352، حاشیہ 5

13 📘 چھٹی آیت — حصّہ 3

انسان کو موت کے وقت ہی اس کے اچھے یا برے انجام سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔
اسی پر دلالت کرنے والی احادیث درج ذیل ہیں:

حدیث نمبر ①

عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:
الميت تحضره الملائكة فإذا كان الرجل صالحا قالوا: أخرجي أيتها النفس الطيبة كانت فى الجسد الطيب…

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتے ہیں: اے پاک روح! پاک جسم سے نکل آ، تجھے رحمت، جنت کی نعمتوں اور راضی رب کی خوشخبری ہے… یہاں تک کہ روح کو عزت کے ساتھ آسمانوں میں لے جایا جاتا ہے۔
اور اگر وہ برا ہو تو کہا جاتا ہے: اے خبیث روح! خبیث جسم سے نکل، تجھے عذاب، گرم پانی اور پیپ کی بشارت ہے… پھر اسے آسمان سے واپس قبر میں لوٹا دیا جاتا ہے۔

🔹 حوالہ: ابن ماجہ، کتاب الزهد، رقم 4262 — (البانی: صحیح)

https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4262/

حدیث نمبر ②

عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:
إن المؤمن إذا احتضر أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء…

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم کے ساتھ آتے ہیں اور کہتے ہیں: اے روح! اللہ کی رحمت، خوشبو اور راضی رب کی طرف نکل… مومن کی روح مشک سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے اور اسے اہل ایمان کی روحوں کے پاس لے جایا جاتا ہے۔
اور کافر کی روح انتہائی بدبودار ہوتی ہے اور اسے کفار کی روحوں کی جگہ (سجین) میں لے جایا جاتا ہے۔

🔹 حوالہ: سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1712

https://tohed.com/hadith/silsilah-sahihah/1712/

حدیث نمبر ③

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال:
إذا خرجت روح المؤمن تلقاها ملكان يصعدانها…

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں، آسمان والے کہتے ہیں: پاک روح آئی ہے جو زمین سے آئی ہے، اللہ تجھ پر اور اس جسم پر رحمت کرے جسے تو آباد رکھتی تھی…
اور کافر کی روح کے بارے میں کہا جاتا ہے: ناپاک روح آئی ہے، پھر حکم ہوتا ہے کہ اسے اس کی مقررہ جگہ (سجین) میں لے جایا جائے۔

🔹 حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الجنة، باب عرض المقعد على الميت وعذاب القبر، رقم 7221

https://tohed.com/hadith/muslim/2872/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━

14 📘 ساتویں آیت — حصہ اوّل

➐ آیتِ کریمہ

﴿فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ.
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

ترجمہ:
پس اسے اللہ نے ان تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں، اور آلِ فرعون پر برا عذاب آن پڑا۔ آگ ہے جس پر یہ ہر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا) کہ آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔

🔹 حوالہ: غافر: 45–46

یہ آیات عذابِ قبر کے اثبات میں نصِ صریح اور نہایت مضبوط دلیل ہیں۔

حتیٰ کہ منکرینِ عذابِ قبر بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ چنانچہ فاضل صاحب لکھتے ہیں:

ان آیات کو عذابِ برزخ کی سب سے اہم اور قوی ترین دلیل قرار دیا جاتا ہے۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 20

🔹 پہلی واضح دلیل

قیامت قائم ہونے سے پہلے آلِ فرعون کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ عذاب قیامت کا نہیں، کیونکہ قیامت کے لیے الگ فرمایا گیا:

﴿وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

لہٰذا قیامت سے پہلے کا یہ عذاب عذابِ قبر (برزخ) ہے۔

یہ حکم صرف آلِ فرعون کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام مجرمین کے لیے ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

➊ حدیث

«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ…»

ترجمہ:
تم میں سے جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو جنت میں، اور اگر دوزخی ہو تو دوزخ میں، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اٹھائے۔

🔹 حوالہ: بخاری 1379، مسلم

📌 معلوم ہوا کہ صبح و شام آگ پر پیشی عام مجرموں کے لیے بھی ہے، اور یہی عذابِ قبر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

15 📘 ساتویں آیت — حصہ دوم

🔹 دوسری واضح دلیل

اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے عذاب کو الگ اور زیادہ سخت قرار دیا ہے:

﴿وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے جو عذاب دیا جا رہا تھا وہ کم درجے کا عذاب تھا، اور وہی عذابِ برزخ / عذابِ قبر ہے۔
اسی لیے پہلے فرمایا:

﴿سُوءُ الْعَذَابِ ۝ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا﴾

اقوالِ ائمہ و مفسرین

➊ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

احتج اصحابنا بهذه الآية على إثبات عذاب القبر… فثبت أن هذا العرض إنما حصل بعد الموت وقبل يوم القيامة
ترجمہ: ہمارے ائمہ نے اس آیت سے عذابِ قبر پر استدلال کیا ہے، کیونکہ صبح و شام آگ پر پیشی نہ دنیا میں ہوئی اور نہ قیامت میں، بلکہ موت کے بعد اور قیامت سے پہلے ہوئی، اور یہی عذابِ قبر ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر کبیر، بحوالہ تحفۃ الأحوذی 9/266

➋ امام حسن بن محمد نیساپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وفي الآية دلالة ظاهرة على إثبات عذاب القبر
ترجمہ: اس آیت میں عذابِ قبر کے اثبات پر واضح دلیل ہے۔

🔹 حوالہ: تحفۃ الأحوذی 9/266

➌ امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ آیت اہلِ سنت کے اس عقیدے پر بہت بڑی دلیل ہے کہ عالمِ برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر (اردو) 4/529

➍ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ذهب الجمهور أن هذا العرض هو في البرزخ
ترجمہ: جمہور علماء کے نزدیک یہ آگ پر پیشی برزخ میں ہوتی ہے۔

🔹 حوالہ: در منثور 4/495

➎ امام سدّی، ہذیل بن شرحبیل رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

آلِ فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں میں رکھی گئیں اور قیامت تک روزانہ صبح و شام آگ پر پیش کی جاتی ہیں۔

🔹 حوالہ: تفسیر الثعلبی 8/278

➏ حضرت عکرمہ اور محمد بن کعب رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

یہ آیت عذابِ قبر پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ عذابِ آخرت کو اللہ تعالیٰ نے الگ ذکر فرمایا ہے۔

🔹 حوالہ: ایضاً

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 نتیجہ:

آلِ فرعون کو قیامت سے پہلے صبح و شام آگ پر پیش کیا جانا عذابِ قبر ہے، اور قیامت کے دن اس سے کہیں زیادہ سخت عذاب ہوگا۔

16 📘 ساتویں آیت — اعتراضات و جوابات (حصہ اوّل)

📘 اعتراض ①

منکرینِ عذابِ قبر کہتے ہیں کہ آلِ فرعون کو حشر تک صرف آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، آگ میں ڈالا نہیں جاتا۔
لہٰذا آگ کے سامنے پیش ہونا عذاب نہیں ہو سکتا۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 20

📘 جواب

اس اعتراض میں خود یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ آلِ فرعون کو برزخ میں صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے — فلله الحمد۔

اب اصل سوال یہ ہے:

کیا آگ پر پیش ہونا عذاب نہیں؟

کیا قرآن نے کہیں یہ کہا ہے کہ یہ پیشی عزت یا راحت کے لیے ہے؟

کیا یہ پیشی أهلاً وسهلاً کہنے کے لیے ہے؟

دنیا کی آگ (جو جہنم کی آگ سے 69 گنا کم ہے) کے سامنے بیٹھنا بھی ناقابلِ برداشت ہے، تو جہنم کی آگ کے سامنے پیش ہونا عذاب کیوں نہ ہوگا؟

گوشت کو بھی آگ پر پیش کر کے جلایا جاتا ہے، پھر اس کا حال سب کے سامنے ہے۔

علامہ بدیع الدین راشدیؒ فرماتے ہیں:

آگ پر پیش ہونا بذاتِ خود عذاب ہے، کیونکہ جہنم کے پانی کا حال یہ ہے:
﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ﴾
(18-الکہف:29)

جب جہنم کا پانی چہرے جلا دے تو آگ پر پیشی کا کیا عالم ہوگا؟

🔹 حوالہ: عذاب قبر کی حقیقت، ص: 30

📘 اعتراض ②

﴿أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے پہلے کم درجے کا عذاب تھا، من گھڑت اور قرآن کے خلاف ہے۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 20

📘 جواب

اس میں قرآن کی مخالفت کہاں ہے؟
کیا قرآن نے ﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾ کو عذاب ماننے سے منع کیا ہے؟

ایک شخص کو آگ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور دوسرے کو آگ میں ڈال دیا جائے —
کیا عقل مند کہے گا کہ پہلے کو عذاب نہیں؟

پھر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے کی باری آنے والی ہے —
یہ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کا عذاب ہے۔

لہٰذا ﴿أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ قیامت کے دن ہوگا
اور اس سے پہلے برزخی عذاب ہونا قرآن کے خلاف نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

17 📘 ساتویں آیت — اعتراضات و جوابات (حصہ دوم)

📘 اعتراض ③

اگر آگ پر پیش کیا جانا واقعی عذاب ہوتا تو قرآن خود ہی
عذابِ ادنیٰ / عذابِ خفیف جیسی صراحت کر دیتا۔
چونکہ آیت میں ایسا نہیں کہا گیا، اس لیے آگ پر پیشی کو عذابِ قبر کہنا غلط ہے۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 20

📘 جواب

یہ کہنا درست نہیں، کیونکہ قرآن نے آگ پر پیشی کو خود سُوءُ الْعَذَابِ کہا ہے:

﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ۝ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾

یہاں النَّارُ يُعْرَضُونَ،
سُوءُ الْعَذَابِ کا بدل ہے،
اور بدل اور مبدل منہ ایک ہی ہوتے ہیں بلکہ بدل ہی مقصود ہوتا ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر الثعلبی 8/277

لہٰذا آگ پر پیشی خود عذاب ہے۔

📘 اعتراض ④

جیسے دنیا کی عدالت میں فیصلہ ہونے سے پہلے قید سزا نہیں سمجھی جاتی،
اسی طرح قبر کی مدت کو سزا کہنا غلط ہے۔

🔹 حوالہ: ایضاً

📘 جواب

یہ مثال ہی غلط ہے، کیونکہ
دنیا کے قوانین کو آخرت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا میں بھی حوالات میں بند ہونا
جسمانی نہ سہی مگر ذہنی سزا ضرور ہوتی ہے۔
مجرم آنے والی بڑی سزا کے تصور سے ہی عذاب میں ہوتا ہے۔

اسی طرح قبر میں عذاب
قیامت کے بڑے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔

📘 اعتراض ⑤

فیصلے سے پہلے عذاب دینا اللہ تعالیٰ پر الزام ہے،
جبکہ دنیا کی عدالتیں ایسا نہیں کرتیں۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 21

📘 جواب

یہ الزام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے،
جسے قرآن خود بیان کرتا ہے:

➊ ﴿لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا﴾
(الروم:41)

➋ ﴿لَّهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَقُّ﴾
(الرعد:34)

➌ ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا﴾
(الأنعام:65)

➍ ﴿فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ﴾
(العنكبوت:40)

اگر قیامت سے پہلے عذاب نہ ہوتا
تو نوح، عاد، ثمود، فرعون سب کہہ سکتے تھے:
“اے اللہ! حساب کے دن سے پہلے ہمیں کیوں پکڑا؟”

لیکن قرآن واضح کرتا ہے کہ
دنیا میں بھی عذاب ہوتا ہے
اور برزخ میں بھی
اور قیامت میں سب سے سخت۔

📌 نتیجہ یہ کہ:

قیامت سے پہلے عذاب ہونا
اللہ تعالیٰ پر الزام نہیں
بلکہ اس کا ثابت شدہ قانون ہے۔

18 📘 آٹھویں آیت — عذابِ قبر کی صریح دلیل

➑ آیتِ کریمہ

﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾

ترجمہ:
اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں جو نفاق میں پختہ ہو چکے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ ہم عنقریب انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے، پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

🔹 حوالہ: التوبہ: 101

🔹 آیت کی وضاحت

اس آیت میں نہایت واضح انداز میں تین عذابوں کا ذکر ہے:

➊ پہلا عذاب
➋ دوسرا عذاب
➌ عَذَابٍ عَظِيمٍ (بڑا عذاب)

یہ بات بالاتفاق تسلیم شدہ ہے کہ ﴿عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾ سے مراد قیامت کا عذاب ہے۔

لہٰذا اس سے پہلے مذکور ﴿مَرَّتَيْنِ﴾ (دو مرتبہ عذاب) قیامت سے پہلے کے عذاب ہیں۔

🔹 ائمہ سلف کی تصریحات

➊ امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
﴿مَرَّتَيْنِ﴾ سے مراد دنیا کا عذاب اور قبر کا عذاب ہے۔
اسی کی تائید امام قتادہؒ اور امام ابن جریجؒ سے بھی منقول ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر طبری 6/455

➋ سیدنا ابن عباسؓ کا واقعہ:

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے خطبے میں فرمایا:
“اے فلاں! نکل جا، تو منافق ہے”
آپ ﷺ نے کئی لوگوں کو مسجد سے نکلوا دیا، یوں ان کا نفاق کھل گیا اور وہ سخت رسوا ہوئے۔
یہ پہلا عذاب تھا،
اور دوسرا عذاب عذابِ قبر ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر (اردو) 2/606

➌ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:

امام طبری، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے سیدنا ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ
یہ رسوائی پہلا عذاب تھا
اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔

امام حسن بصریؒ سے بھی صراحتاً منقول ہے:
﴿سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ﴾
یعنی دنیا کا عذاب اور قبر کا عذاب۔

امام طبریؒ نے مختلف اقوال ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
زیادہ غالب قول یہی ہے کہ ایک عذاب قبر کا ہے
اور دوسرا دنیا میں کسی نہ کسی صورت میں۔

🔹 حوالہ: فتح الباری 7/296 (دارالسلام)

19 📘 نویں آیت — حصہ 1

➒ آیتِ کریمہ

﴿مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا﴾
ترجمہ: اور وہ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈبو دیے گئے پھر آگ میں ڈال دیے گئے پس نہ پایا انھوں نے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی مدد کرنے والا۔

🔹 حوالہ: نوح:25

اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو جس قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا وہ قوم کفر و شرک میں اس انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ انھیں توحید کی دعوت دینا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف تھا۔ لیکن جناب نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی… قوم پر آپ کی تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ الٹا انھوں نے نہ صرف آپ کی دعوت کو جھٹلایا بلکہ آپ کو… مسخرا پن کرنے کو اپنا معمول بنا لیا۔

اللہ تعالیٰ کا بھی یہ قانون ہے کہ جب کوئی قوم ظلم و زیادتی، بغاوت و سرکشی کی انتہا کو پہنچ جائے تو وہ اس کی گرفت سے نہیں بچ سکتی۔ اسی طرح جب قوم نوح کی ہلاکت کا وقت آیا تو… ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا… اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کو بچا لیا باقی ساری قوم پانی میں غرق کر دی۔ اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
﴿مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا﴾

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ پانی میں ڈبو دیے گئے اور پھر آگ میں داخل کر دیے گئے یعنی غرق ہوتے ہی آتش برزخ میں جھونک دیے گئے۔ یہ آیت بھی عذاب قبر کے وقوع اور عالم برزخ کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔

اقوالِ مفسرین

➊ علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فأدخلوا نارا هي نار البرزخ والمراد عذاب القبر ومن مات فى ماء أو نار أو أكلته السباع أو الطير مثلا أصابه ما يصيب المقبور من العذاب
ترجمہ: پھر وہ آگ میں داخل کیے گئے یہ برزخ کی آگ ہے اور مراد قبر کا عذاب ہے اور جو کوئی بھی پانی میں ڈوب کر یا آگ میں جل کر مر جائے یا اسے درندے یا پرندے کھا جائیں تو اس کو بھی وہی عذاب ہوتا ہے جو قبر میں دفن شدہ مردوں کو ہوتا ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر روح المعانی 15/135

➋ امام فخر الدین الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تمسك أصحابنا فى إثبات عذاب القبر بقوله ﴿أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا﴾ …
(مکمل عبارت وہی ہے جو اوپر درج ہے)

🔹 حوالہ: تفسیر کبیر 19/145

➌ قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں:

آگ سے مراد ہے عالم برزخ یعنی قبر کی آگ…

🔹 حوالہ: تفسیر مظهری (اردو) 12/109

20 📘 نویں آیت — حصہ 2 (اعتراضات و جوابات)

📘 اعتراض ①

﴿فَأُدْخِلُوا نَارًا﴾ میں فأدخلوا صیغۂ ماضی ہے،
حالانکہ قرآن میں ماضی کا صیغہ کبھی مستقبلِ یقینی کے لیے بھی آتا ہے،
لہٰذا اس سے عذابِ قبر ثابت نہیں ہوتا۔

🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 16

📘 جواب

یہ تاویل بے جا مجاز ہے۔

جب اصل کلام حقیقت پر دلالت کرے تو مجاز کی طرف جانا درست نہیں۔

یہاں فاء ترتیب اور فوریت کے لیے ہے، یعنی:

➊ پہلے غرق کیا گیا
➋ اسی کے فوراً بعد آگ میں داخل کیا گیا

اگر مراد قیامت ہوتی تو ثم آتا،

لیکن یہاں ﴿فَأُدْخِلُوا﴾ آیا ہے،
جو تعقیب بلا مہلت پر دلالت کرتا ہے۔

📘 اعتراض ②

اگر قیامت سے پہلے عذاب مان لیا جائے تو
یہ قرآن کے اس اصول کے خلاف ہے کہ سزا حساب کے بعد ہوتی ہے۔
لہٰذا یہاں عذابِ قبر مراد نہیں۔

📘 جواب

یہ بات خود قرآن کے خلاف ہے۔
قومِ نوح دنیا ہی میں غرق کر دی گئی — کیا یہ عذاب نہیں تھا؟

اگر دنیا میں عذاب ممکن ہے
تو برزخ میں کیوں ناممکن؟

قرآن نے خود فرمایا:
﴿مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا﴾
یہ عذاب قیامت سے بہت پہلے آ چکا تھا۔

لہٰذا قیامت سے پہلے عذاب کا ہونا نہ تضاد ہے، نہ خلافِ قرآن۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

21 📘 نویں آیت — حصہ 3 (اعتراضات و جوابات)

📘 اعتراض ③

آیت میں لفظ نَارًا آیا ہے،
اور آگ کا ذکر قرآن میں صرف دوزخ کے لیے ہوتا ہے،
لہٰذا یہاں قبر یا برزخ کی آگ مراد نہیں ہو سکتی۔

📘 جواب

ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ آگ دوزخ کے علاوہ کوئی اور آگ ہے،
بلکہ یہ دوزخ ہی کی آگ ہے جو برزخ میں دکھائی جاتی ہے۔

دنیا کی آگ بھی دوزخ کی آگ ہی کا حصہ ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے:

➊ حدیث

«نَارُكُمْ هٰذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ»
ترجمہ: تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

🔹 حوالہ: صحیح مسلم 7165

جب دنیا کی آگ بھی دوزخ کی آگ کا حصہ ہے

تو برزخ کی آگ دوزخ سے جدا کیسے ہو سکتی ہے؟

📘 اعتراض ④

عذابِ قبر کی احادیث میں آگ کے عذاب کا ذکر نہیں ملتا۔

📘 جواب

یہ دعویٰ غلط ہے۔

➊ سیدنا ابو ہریرہؓ کی حدیث میں ہے:

کافر کے لیے قبر میں جہنم کی طرف سے دروازہ کھولا جاتا ہے
اور اسے بتایا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے۔

🔹 حوالہ: صحیح ابن حبان 3103

➋ حدیثِ براء بن عازبؓ میں ہے:

«فَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسُمُومِهَا…»
ترجمہ: اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے،
جہنم کی گرمی اور زہریلی ہوا اسے آنے لگتی ہے…

🔹 حوالہ: مسند احمد 4/288

لہٰذا یہ کہنا کہ
کسی حدیث میں آگ کے عذاب کا ذکر نہیں
سراسر لاعلمی ہے۔

📌 نوٹ

ضروری نہیں کہ عذاب صرف آگ ہی سے ہو،
عذاب کی متعدد صورتیں ہیں،
جیسے حدیث میں آیا:
«وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجًا»

اگر کسی حدیث میں آگ کا ذکر نہ ہو
تو اس سے آگ کے عذاب کی نفی لازم نہیں آتی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

22 📘 دسویں آیت — حصہ اوّل

➓ آیتِ کریمہ

﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ۝ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ۝ قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ﴾

ترجمہ:
اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو اس کے لیے تنگ زندگی ہے، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا؟ فرمایا جائے گا: اسی طرح ہماری آیات تیرے پاس آئیں تو نے انہیں بھلا دیا، اور آج تجھے بھلا دیا گیا۔

🔹 حوالہ: طٰہٰ: 124–126

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو الگ سزائیں بیان فرمائیں:

➊ معيشةً ضنكًا (تنگ زندگی)
➋ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جانا

چونکہ قیامت کی سزا الگ ذکر کر دی گئی، اس لیے معيشةً ضنكًا قیامت کی سزا نہیں ہو سکتی۔

🔹 ذکر سے مراد کیا ہے؟

ذکر سے مراد:

➊ اللہ کا ذکر (نماز، تسبیح، تہلیل)
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾
🔹 حوالہ: البقرة:152

➋ قرآن مجید
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ﴾
🔹 حوالہ: الحجر:9

➌ رسول اللہ ﷺ
﴿قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ۝ رَّسُولًا﴾
🔹 حوالہ: الطلاق:10–11

امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
ذکر سے مراد یہاں رسول ﷺ بھی ہیں، کیونکہ قرآن پہنچانے والے وہی ہیں۔

🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر (اردو) 5/446

لہٰذا جو قرآن اور حدیث سے روگردانی کرے گا، وہ ذکر سے اعراض کرنے والا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

23 📘 دسویں آیت — حصہ دوم

🔹 معيشةً ضنكًا کس جہان میں؟

اب سوال یہ ہے کہ تنگ زندگی کہاں ہوگی؟

دنیا میں؟ برزخ میں؟ یا آخرت میں؟

آخرت مراد نہیں، کیونکہ اس کے لیے الگ فرمایا:

﴿وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾

اب باقی دو جہان بچے: دنیا اور برزخ۔

آیت میں کسی ایک کی تخصیص نہیں، لہٰذا دونوں شامل ہوں گے۔

دنیا میں یہ بات مشاہدہ ہے کہ:
➊ بہت سے اللہ کے نافرمان عیش و عشرت میں رہے (فرعون، قارون، نمرود)
➋ اور بہت سے انبیاء و اولیاء سخت تنگی میں رہے

لہٰذا اگر صرف دنیا مراد لی جائے تو آیت کا عموم ٹوٹ جاتا ہے۔
اس لیے معيشةً ضنكًا کا اصل مصداق برزخ کی زندگی ہے۔

🔹 نبی ﷺ کی صریح تفسیر

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے کافر کے قبر کے حالات بیان کر کے فرمایا:

جب کافر قبر میں سوالات کے جواب نہ دے سکے گا تو
اس کے لیے جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا،
پھر قبر اس پر تنگ کر دی جائے گی
یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔

پھر فرمایا:

﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾

یہی معيشةً ضنكًا ہے۔

🔹 حوالہ: صحیح ابن حبان 3103 (حسن)

24 📘 دسویں آیت — حصہ سوم

🔹 صحابہؓ اور سلف کی صریح تفسیر

➊ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
جب کافر مر جاتا ہے تو اسے قبر میں بٹھایا جاتا ہے، اس سے سوال ہوتا ہے، وہ جواب نہیں دے پاتا، پھر قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے۔
پھر آپؓ نے یہ آیت پڑھی:
﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾
اور فرمایا: معيشةً ضنكًا عذابِ قبر ہے۔

🔹 حوالہ: احوال القبور لابن رجب، ص 49

➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کافر کی قبر اس پر بند کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر اُدھر ہو جاتی ہیں،
اور یہی وہ معيشةً ضنكًا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر الطبری 8/472

➌ امام ابو صالح، امام سدّی
دونوں سے معيشةً ضنكًا کی تفسیر عذابِ قبر ہی منقول ہے۔

🔹 حوالہ: ایضاً

🔹 ائمۂ تفسیر کا فیصلہ

➊ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
صحیح قول یہ ہے کہ معيشةً ضنكًا سے مراد عذابِ قبر ہے۔
یہی قول ابو سعید خدریؓ، ابن مسعودؓ اور ابو ہریرہؓ سے مروی ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر القرطبی 11/259

➋ امام شوکانیؒ فرماتے ہیں:
احادیث و آثار کا مجموعہ اس بات کو راجح بناتا ہے
کہ معيشةً ضنكًا سے مراد عذابِ قبر ہے۔

🔹 حوالہ: فتح القدیر 3/392

➌ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ لکھتے ہیں:
امام بغویؒ، ابو ہریرہؓ، ابن مسعودؓ اور ابو سعید خدریؓ
سب نے معيشةً ضنكًا کو عذابِ قبر کہا ہے۔

🔹 حوالہ: تفسیر مظهری 7/435

📌 نتیجہ :

﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا﴾
کی تفسیر نبی ﷺ، صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمۂ تفسیر کے نزدیک
بالاجماع عذابِ قبر ہے،
اور یہ آیت بھی عذابِ قبر پر نہایت واضح اور مضبوط دلیل ہے۔

25 📘 گیارھویں آیت — حصہ اوّل

⓫ آیتِ کریمہ

﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ۝ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۝ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۝ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ﴾

ترجمہ:
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے۔ پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے۔ ہرگز نہیں! اگر تمہیں یقینی علم ہوتا تو تم ایسا ہرگز نہ کرتے۔
🔹 حوالہ: التكاثر: 1–5

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا پرستی اور مال و جاہ کی حرص کے بدترین انجام سے خبردار کیا ہے۔
﴿حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ یہ غفلت موت تک جاری رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان قبر میں جا پہنچتا ہے۔

علامہ عبد الرحمن مبارکپوریؒ فرماتے ہیں:
أى حتى متم ودفنتم فى المقابر
یعنی یہاں تک کہ تم مر گئے اور قبروں میں دفن کر دیے گئے۔
🔹 حوالہ: تحفة الأحوذی 9/266

🔹 ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ کی تکرار

یہ تکرار تاکید اور وعید بعد وعید کے لیے ہے:
➊ پہلی وعید: عذابِ برزخ
➋ دوسری وعید: عذابِ آخرت

امام فخر الدین رازیؒ لکھتے ہیں:
أحدها أنه للتأكيد وأنه وعيد بعد وعيد
یہ تاکید ہے اور ایک وعید کے بعد دوسری وعید ہے۔
🔹 حوالہ: تفسیر کبیر، ج 32، ص 78

26 📘 گیارھویں آیت — حصہ دوم

🔹 سلف و مفسرین کی صریح توضیحات

➊ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ سے مراد قبر میں نازل ہونے والا عذاب ہے،
اور ﴿ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ سے مراد عذابِ آخرت ہے۔
پس تکرار دو حالتوں کے لیے ہے: پہلی قبر، دوسری آخرت۔
🔹 حوالہ: تفسیر القرطبی 20/160

➋ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:
پہلا ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ قبور میں،
اور دوسرا نشور (حشر) کے بارے میں ہے۔
🔹 حوالہ: روح المعانی 30/403

➌ امام مجاہدؒ اور امام حسن بصریؒ:
یہ وعید کے بعد وعید ہے۔
🔹 حوالہ: فتح القدیر (جدید) ص 1651

🔹ائمۂ تفسیر

امام فخر الدین رازیؒ دوسری جہت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پہلا ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ موت کے وقت،
دوسرا قبر کے سوال (من ربك) کے وقت،
اور تیسرا قیامت کے وقت (نِداء اور امتیاز) کے لیے ہے۔
🔹 حوالہ: تفسیر کبیر، ج 32، ص 78

امام طبریؒ فرماتے ہیں:
یہ آیات عذابِ قبر کی صحت پر دلیل ہیں، کیونکہ اللہ نے ان لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ جب وہ قبریں دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ ان کے ساتھ کیا پیش آ رہا ہے۔
🔹 حوالہ: تفسیر الطبری 12/679

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
پہلا علم قبروں میں، اور دوسرا موت/قبر کے سوال اور پھر آخرت میں ہے۔
🔹 حوالہ: تفسیر القرطبی 10/118

27 📘 بارھویں آیت — عذابِ قبر پر واضح دلیل

⓬ آیتِ کریمہ

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۝ وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾

ترجمہ:
آپ کہہ دیجیے! اے یہودیو! اگر تمہارا خیال ہے کہ سب لوگوں کے سوا تم ہی اللہ کے دوست ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور وہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، اس وجہ سے جو کچھ ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
🔹 حوالہ: الجمعۃ: 6–7

یہود یہ دعوے کرتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور دوست ہیں، جہنم میں نہیں جائیں گے، اور اگر گئے بھی تو چند دن کے لیے، بلکہ جنت صرف ہمارے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے ان جھوٹے دعوؤں کا امتحان یہ رکھا کہ اگر واقعی انجام جنت ہے تو موت کی تمنا کرو، کیونکہ موت ہی جنت تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی:
﴿وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا﴾
وہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ مرتے ہی ان کی بداعمالیوں کی سزا شروع ہو جائے گی۔

اگر مرنے کے بعد قبر میں کوئی جزا و سزا نہ ہوتی تو یہاں
﴿فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ﴾
کہنے کا کوئی معنی نہ تھا، بلکہ
فتمنوا الحشر یا فتمنوا القيامة
کہا جاتا۔

یہود اس حقیقت کو جانتے تھے کہ
دنیا سے نکلتے ہی فوراً وعید ان کو آ لے گی، اسی لیے موت کی تمنا کرنا اپنے ہی خلاف فیصلہ تھا۔

اقوالِ علماء

علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:
فعلموا أنهم لو تمنوا لماتوا من ساعتهم ولحقهم الوعيد
ترجمہ: وہ جانتے تھے کہ اگر ہم موت کی تمنا کریں گے تو اسی وقت مر جائیں گے اور وعید ہمیں آ لے گی۔
🔹 حوالہ: روح المعانی 28/404

مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ فرماتے ہیں:
یہودیوں نے اس آیت کے نزول کے بعد زبانی طور پر بھی موت کی تمنا نہیں کی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مرنے کے ساتھ ہی جنت نہیں بلکہ جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا، اسی لیے وہ زندگی کے انتہائی حریص بن گئے۔
🔹 حوالہ: تیسیر القرآن 4/444

28 📘 تیرھویں آیت — حصہ اوّل

⓭ آیتِ کریمہ

﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ۝ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ۝ وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾

ترجمہ:
اے اطمینان والی روح! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
🔹 حوالہ: الفجر: 27–30

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کا انجام بیان فرمایا ہے کہ فرشتے ان کی روحوں کو خوشخبری دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف لوٹ چلو، وہ تم سے راضی ہے اور تم بھی اس سے راضی ہو۔

یہ خطاب مومن کی روح کو موت کے وقت ہوتا ہے، اور بعض اہلِ علم کے نزدیک موت کے وقت، قبر سے اٹھتے وقت اور قیامت کے دن بھی ہوتا ہے۔

احادیثِ صحیحہ سے وضاحت

➊ سیدنا ابو ہریرہؓ کی حدیث میں ہے کہ مومن کی موت کے وقت رحمت کے فرشتے کہتے ہیں:

أخرجي راضية مرضية عنك إلىٰ روح الله وريحان ورب غير غضبان
ترجمہ:
اے روح! اللہ کی رحمت، جنت کی خوشبو اور اس رب کی طرف نکل چل جو تجھ سے ناراض نہیں۔
🔹 حوالہ: مستدرک حاکم 1/354
🔹 حکم: هذه الأسانيد كلها صحيحة (امام حاکم)

➋ ابن ماجہ کی روایت میں ہے:

أخرجي أيتها النفس الطيبة… وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان
ترجمہ:
اے پاک روح! پاک جسم سے نکل آ، اللہ کی رحمت، جنت کی خوشبو اور اس رب کی بشارت لے جو ناراض نہیں۔
🔹 حوالہ: ابن ماجہ 4262 (البانی: صحیح)

➌ سیدنا براء بن عازبؓ کی روایت:

أيتها النفس الطيبة أخرجي إلىٰ مغفرة من الله ورضوان
ترجمہ:
اے پاک روح! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضامندی کی طرف نکل چل۔
🔹 حوالہ: مسند احمد 4/288

29 📘 تیرھویں آیت — حصہ دوم

سلف و مفسرین کی تصریحات

➊ الشیخ عبد الحق الحقانیؒ فرماتے ہیں:
یہ خطاب بوقتِ مرگ نیک لوگوں سے ہوتا ہے، کیونکہ یہ بھی قیامتِ صغریٰ ہے۔ رحمت کے فرشتے نہایت نرمی سے کہتے ہیں: اے نفسِ مطمئنہ! اپنے رب کی طرف چل، وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔
🔹 حوالہ: تفسیر حقانی 8/132

➋ امام ابو صالحؒ فرماتے ہیں:
﴿ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً﴾ موت کے وقت کہا جائے گا،
اور ﴿فَادْخُلِي فِي عِبَادِي﴾ قیامت کے دن کہا جائے گا۔
🔹 حوالہ: تفسیر الطبری 30/209

➌ اسامہ بن زیدؒ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:
یہ جنت کی بشارت موت کے وقت، جمع کیے جانے کے دن، اور بعث کے وقت دی جائے گی۔
🔹 حوالہ: ایضاً

➍ امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت مومن سے کہا جائے گا کہ اپنے رب، اس کے ثواب، اس کی جنت اور رضامندی کی طرف لوٹ چل—وہ تجھ سے راضی ہے اور تجھے بھی راضی کر دے گا۔
🔹 حوالہ: تفسیر ابن کثیر (اردو) 5/636

➎ مودودی:
یہ بات موت کے وقت بھی اور قیامت کے روز بھی کہی جائے گی؛ ہر مرحلے پر مومن کو اطمینان دیا جائے گا کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف جا رہا ہے۔
🔹 حوالہ: تفہیم القرآن 6/334

➏ سید احمد حسن محدث دہلویؒ:
نیک لوگوں کو قبضِ روح، دفن، قبر سے اٹھنے اور قیامت کے دن فرشتے نجات کی خوشخبری دیتے ہیں۔
🔹 حوالہ: احسن التفاسیر 7/299

➐ علامہ زمخشریؒ فرماتے ہیں:
یہ خطاب موت کے وقت، بعث کے وقت، اور جنت میں داخل ہوتے وقت کہا جائے گا۔
🔹 حوالہ: تفسیر الکشاف 4/752

➑ در منثور و جامع البیان میں ہے:
سیدنا ابو بکرؓ نے آیت سنی تو کہا: کتنا اچھا قول ہے! نبی ﷺ نے فرمایا: فرشتہ یہ قول تم سے موت کے وقت کہے گا۔
🔹 حوالہ: در منثور 8/470؛ الطبری 30/209

➒ مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ اور ڈاکٹر محمد لقمان السلفیؒ:
یہ خطاب موت کے وقت، بعث کے وقت، اور فیصلے کے بعد—ہر مرحلے پر—مومن کو دیا جائے گا۔
🔹 حوالہ: تیسیر القرآن 4/641؛ تیسیر الرحمن 2/1738

کافروں کے لیے اس کے برعکس خطاب

➊ حدیثِ براء بن عازبؓ:
أيتها النفس الخبيثة أخرجي إلىٰ سخط من الله وغضب
ترجمہ:
اے خبیث روح! اللہ کے غضب اور ناراضگی کی طرف نکل چل۔

➋ حدیثِ ابو ہریرہؓ:
أخرجي أيتها النفس الخبيثة… وأبشري بحميم وغساق وآخر من شكله أزواج
ترجمہ:
اے خبیث روح! ذلت کے ساتھ نکل، کھولتے پانی، پیپ اور دوسرے عذابوں کی بشارت لے۔

30 📌 سلسلہ اثبات عقیدہ عذاب قبر اب تک کا خلاصہ

ہم نے عذابِ قبر کے اثبات پر قرآنِ مجید کی 13 واضح آیات اور
ان پر منکرینِ عذابِ قبر کے تمام اہم اعتراضات کے مدلل جوابات
آپ کی خدمت میں پیش کر دیے ہیں۔

🔹 اگلے حصے میں

ہم عذابِ قبر کے اثبات پر 6 صحیح احادیث
اور ان پر منکرین کے اعتراضات کے تفصیلی جوابات
پیش کریں گے۔

📘 ان شاء اللہ

31 📘 عذابِ قبر کے اثبات پر 6 صحیح احادیث اور ان پر منکرین کے اعتراضات کے جوابات

عذاب قبر کے متعلق بہت ساری احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں جنہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم نے روایت کیا ہے، مثلاً سیدہ عائشہ، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر ، انس بن مالک، ابو سعید خدری، براء بن عازب، زید بن ثابت، اسماء بنت ابی بکر صدیق اور ہانی مولی عثمان رضوان اللہ علیھم اجمعین وغیرہم نے۔

ان احادیث کی تعداد تواتر کو پہنچ چکی ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:
فأما أحاديث عذاب القبر ومسألة منكر ونكير فكثيرة متواترة عن النبى صلى الله عليه وسلم
یعنی عذاب قبر کی احادیث اور منکر و نکیر کے سوال (کی احادیث) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت اور تواتر کے ساتھ (مروی) ہیں۔
🔹 حوالہ: فتاوى شيخ الاسلام ابن تیمیه: 4/285

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد تواترت الأخبار عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فى ثبوت عذاب القبر ونعيمه
اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر اور نعمت قبر کے ثبوت میں تواتر کے ساتھ احادیث مروی ہیں۔
🔹 حوالہ: شرح عقيده الطحاوية: 450

یہاں ہم صرف وہی احادیث نقل کریں گے جن پر منکر عذاب قبر فاضل صاحب نے اپنے 36 صفحات کے کتابچے میں اعتراضات کیے ہیں…

📘 حدیث نمبر ①

عن ابن عباس قال: مر النبى صلى الله عليه وسلم بقبرين فقال: إنهما ليعذبان وما يعذبان فى كبير، أما أحدهما فكان لا يستتر من البول، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة ثم أخذ جريدة رطبة فشقها نصفين، فغرز فى كل قبر واحدة. قالوا: يا رسول الله لم فعلت هذا؟ قال: لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا .

ترجمہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر سے گزرے تو فرمایا: ”ان دونوں قبروں والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔“ پھر آپ نے ایک ہری ٹہنی لے کر اسے دو ٹکڑے کیا اور ہر قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا… فرمایا: ”شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے۔“

🔹 حوالہ: بخاری، کتاب الوضوء، رقم: 218

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

32 📘 حدیث نمبر ① — اعتراضات و جوابات

📘 اعتراض ➊
محمد فاضل صاحب اس حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث کئی لحاظ سے قرآن کے صریح خلاف ہے۔
قرآن میں عذابِ قبر کا کہیں بھی اشارہ نہیں۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 26

📘 جواب:
گزارش ہے کہ یہ حدیث کسی بھی لحاظ سے قرآنِ مجید کے خلاف نہیں۔
قرآنِ مجید نے عذابِ قبر کے برحق ہونے کی طرف واضح اشارات دیے ہیں، جیسا کہ پہلے بالتفصیل بیان کیا جا چکا ہے۔

ہم انتہائی ہمدردی کے ساتھ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ بقول آپ کے اگر قرآن میں عذابِ قبر کا کہیں بھی اشارہ نہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں قرآن میں اس کے اشارات مل گئے، مگر آپ کو نظر نہ آئے؟

یاد رکھیں کہ اگر کسی خبر کے بارے میں نفی اور اثبات دونوں جمع ہو جائیں تو اصولاً اثبات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مثلاً اگر عمرو کہے کہ زید نے فلاں کام کیا ہے، اور بکر اس کی نفی کرے، تو عمرو کی بات کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ بکر نے تو اپنے علم کے مطابق نفی کی ہے۔

یہاں بھی آپ کی طرف سے کی گئی نفی پر ہمارا اثبات مقدم ہے، ان شاء اللہ۔

اگر آپ برا نہ محسوس کریں تو ہم یہ بھی پوچھ سکتے ہیں:
کیا آپ نے پورا قرآنِ مجید پڑھا ہے؟
اگر پڑھا ہے تو کیا کسی مستند عالمِ دین سے پڑھا ہے؟
کیا آپ نے قرآن کو اسی فہم کے ساتھ سمجھا ہے جس فہم کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو سمجھایا تھا؟

کیا آپ کسی مستند دلیل سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ یا سلف صالحینؒ میں سے کسی نے یہ کہا ہو کہ قرآن میں عذابِ قبر کا ذکر نہیں؟

ہم مانتے ہیں کہ آپ کو اور آپ کے حواریوں کو قرآن سے عذابِ قبر کا اشارہ نہ ملا ہو، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی کم علمی کی بنیاد پر یہ نعرہ لگا دیا جائے کہ قرآن میں عذابِ قبر کا ذکر ہی نہیں۔

📘 اعتراض ➋
وحی غیر متلو کی بات بھی نہیں کہی جا سکتی، کیونکہ وحی غیر متلو کے ذریعے صرف وحی متلو (قرآن) کے احکام پر عمل کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
🔹 حوالہ: ایضاً

📘 جواب:
الحمد للہ، ثم الحمد للہ!
کم از کم آپ نے حدیثِ رسول ﷺ کو وحی غیر متلو تو تسلیم کیا۔

اب جب آپ حدیث کو وحی غیر متلو مانتے ہیں تو عذابِ قبر کو بھی ماننا پڑے گا، کیونکہ عذابِ قبر وحی متلو (قرآن) اور وحی غیر متلو (حدیث) دونوں سے ثابت ہے۔

ہم آپ سے پوچھتے ہیں:
کیا آپ اپنے اس دعوے پر ایک بھی آیت یا حدیث پیش کر سکتے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ وحی غیر متلو صرف قرآن کے احکام پر عمل کے طریقے ہی سکھاتی ہے اور بس؟

کیا وحی غیر متلو کے ذریعے قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر نہیں کی جا سکتی؟
اگر نہیں، تو کیوں؟
اور اگر کسی مسئلے یا اس کے کسی جز پر قرآن خاموش ہو اور وحی غیر متلو اس کی وضاحت کر دے، تو کیا آپ اس کے بھی منکر ہوں گے؟

ذرا غور کیجیے کہ کہیں آپ کے یہ اعتراضات براہِ راست خالقِ کائنات کے فیصلوں پر اعتراض تو نہیں بن رہے۔

یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے:
وہ چاہے تو کسی مسئلے کو وحی متلو کے ذریعے بیان کرے
اور چاہے تو وحی غیر متلو کے ذریعے
ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ اس پر اعتراض کریں۔

قرآن تو بار بار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر معاملے میں رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے، چاہے اس کا تعلق عقیدے سے ہو، عبادات سے ہو یا معاملات سے:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
ترجمہ: اور تمہیں جو کچھ بھی رسول دے، اسے لے لو، اور جس سے روکے، اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب والا ہے۔
🔹 حوالہ: الحشر: 7

33 📘 حدیث نمبر ① — اعتراضات و جوابات

📘 اعتراض ➌
یہ ٹہنیاں جب تک ہری رہیں گی تسبیح کرتی رہیں گی، یہ بات قرآن کے صریح خلاف ہے، کیونکہ قرآن کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ ہر وقت اللہ کی تسبیح، تعریف اور پاکی بیان کرتا ہے۔
(بنی اسرائیل:44، الحدید:1، الصف:11، الجمعة:1، التغابن:1)
لہٰذا قبر کی مٹی کے تمام ذرات بھی ہر آن تسبیح میں مصروف ہیں، اس لیے نبی ﷺ قرآن کے خلاف بات نہیں فرما سکتے۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 26

📘 جواب:
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ذریعے بتایا کہ جب تک وہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی، عذاب میں تخفیف رہے گی۔
یہی حدیث کا صحیح اور واضح مفہوم ہے۔

لیکن فاضل صاحب نے حدیث کے الفاظ بدل کر خود سے یہ عبارت گھڑ لی کہ
“جب تک ٹہنیاں ہری رہیں گی تسبیح کرتی رہیں گی، اسی وجہ سے عذاب میں کمی رہے گی”۔

🔹 پہلی بات:
یہ الفاظ حدیث کے نہیں بلکہ فاضل صاحب کے خود ساختہ ہیں۔
حدیث میں تسبیح کا کوئی ذکر نہیں، تسبیح والی بات شارحینِ حدیث کی توضیح ہے، حدیث کا متن نہیں۔
اگر یہ الفاظ بعینہٖ حدیث میں ہیں تو فاضل صاحب حوالہ پیش کریں، جبکہ پورے کتابچے میں کہیں حوالہ موجود نہیں۔

🔹 دوسری بات:
خود فاضل صاحب کی عبارت میں بھی یہ نہیں لکھا کہ خشک ٹہنیاں تسبیح نہیں کرتیں، اور نہ کسی صحیح حدیث میں خشک چیزوں کی تسبیح کی نفی کی گئی ہے۔

🔹 تیسری بات:
اگر بالفرض اس عبارت کو مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر تسبیح عذاب میں تخفیف کا سبب بنے۔
حدیث میں صرف اسی خاص عمل کے ساتھ تخفیف کی خبر دی گئی ہے، عام قاعدہ بیان نہیں کیا گیا۔

📘 اعتراض ➍
عذابِ قبر غیب کا معاملہ ہے اور غیب کا علم رسول اللہ ﷺ کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتا، اس کی نفی خود قرآن میں موجود ہے۔
🔹 حوالہ: ایضاً

📘 جواب:
الحمد للہ!
آپ نے خود مان لیا کہ عذابِ قبر غیب کا معاملہ ہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں۔

غیب کا ذاتی علم اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں، لیکن
اللہ تعالیٰ جس غیب پر چاہے اپنے نبی کو وحی کے ذریعے مطلع کر دیتا ہے۔

عالمِ برزخ بھی امورِ غیب میں سے ہے، اور اس کے حالات جتنے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی ﷺ کو بتائے، آپ ﷺ نے اسی طرح بغیر کمی بیشی امت تک پہنچا دیے۔

جنت، دوزخ، حشر، میزان — سب امورِ غیب ہیں، اور سب وحی کے ذریعے معلوم ہوئے۔
اگر اس اعتراض کو مان لیا جائے تو پھر قرآن بھی محفوظ نہیں رہتا، کیونکہ قرآن بھی غیب کی خبریں دیتا ہے۔

کیا اسی اصول پر آپ قرآن کے بھی منکر بن جائیں گے؟

📌 معلوم ہوا کہ
عذابِ قبر کا انکار دراصل وحی کے ذریعے ثابت غیب کا انکار ہے،
نہ کہ عقل یا قرآن کی کوئی مضبوط دلیل۔

34 📘 حدیث نمبر ① — اعتراضات و جوابات

📘 اعتراض ➎
پیشاب سے عدمِ احتیاط کے معاملے میں نہ صرف قرآن خاموش ہے بلکہ احادیث بھی خاموش ہیں، اس لیے یہ معاملہ نہ محلِّ غور ہے اور نہ محلِّ استدلال۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 27

📘 جواب:

سب سے پہلے یہ اصول واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کا کسی مسئلے پر خاموش ہونا اس مسئلے کے انکار کی دلیل نہیں بنتا۔
اگر ایسا اصول مان لیا جائے تو دین کا بڑا حصہ ہی منہدم ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں:

﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾
ترجمہ:
آپ کہہ دیجیے کہ جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا، سوائے مردار، بہتے خون، خنزیر کے گوشت اور اس چیز کے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔
🔹 حوالہ: الأنعام: 145

اس آیت میں صرف چار چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے، حالانکہ خود فاضل صاحب بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں، مثلاً:
کتا، بلی، بھیڑیا، شیر، سانپ، بچھو، پیشاب، پاخانہ وغیرہ۔

اب سوال یہ ہے:
اگر قرآن میں ان سب کی صراحت نہیں، تو کیا یہ سب حلال ہو گئیں؟
یقیناً نہیں۔

بالکل اسی طرح پیشاب سے عدمِ احتیاط کے بارے میں قرآن کا خاموش ہونا انکار کی دلیل نہیں۔

🔹 یہ کہنا کہ احادیث بھی خاموش ہیں، صریح جہالت ہے
کیونکہ احادیث میں پیشاب سے عدمِ احتیاط پر واضح طور پر عذابِ قبر کا ذکر موجود ہے۔

📘 حدیث ①

عن عبد الرحمن بن حسنة قال:
… فسمع ذلك فقال:
«ألم تعلموا ما لقي صاحب بني إسرائيل؟ … فنهاهم فعذب فى قبره»

ترجمہ:
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم نہیں جانتے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا کیا حال ہوا تھا؟ جب ان میں کسی کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتے تھے، اس شخص نے انہیں اس سے منع کیا، تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔”
🔹 حوالہ: ابوداؤد، کتاب الطهارة، رقم: 22
🔹 حکم: موقوف — البانیؒ کے نزدیک صحیح

📘 حدیث ②

عن أبى هريرة قال قال رسول الله ﷺ:
«أكثر عذاب القبر من البول»

ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“عذابِ قبر کی اکثریت پیشاب (سے عدمِ احتیاط) کی وجہ سے ہوتی ہے۔”
🔹 حوالہ: ابن ماجہ، کتاب الطهارة، رقم: 348
🔹 حکم: صحیح (البانیؒ)

35 📘 حدیث نمبر ① — اعتراضات و جوابات

اعتراض ➏
چغلی پر جو عذاب دیا جائے گا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے، مگر وہ عذاب حشر کے دن فیصلے کے بعد آخرت میں ہوگا، قبر یا برزخ میں نہیں۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 27

📘 جواب:
آپ کتاب و سنت سے اپنے اس دعوے کی کوئی صریح دلیل پیش کریں کہ چغل خور کو برزخ میں عذاب نہیں ہوگا۔

یہ بات ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ اَشَدُّ العذاب تو فیصلے کے بعد قیامت کے دن ہوگا،
لیکن اَدنیٰ عذاب دنیا اور برزخ میں دینا اللہ تعالیٰ کا ثابت شدہ قانون ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
ترجمہ:
اور ہم انہیں بڑے عذاب (قیامت) سے پہلے ہلکے عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے، شاید وہ باز آ جائیں۔
🔹 حوالہ: السجدة: 21

یہ آیت صریح دلیل ہے کہ قیامت سے پہلے بھی عذاب دیا جاتا ہے—اور یہی دنیا اور برزخ کا عذاب ہے۔

📘 اعتراض ➐
کسی خارجی چیز (جیسے ٹہنی) کے ذریعے اللہ کے مقرر کردہ عذاب میں کمی یا تخفیف ہونا،
اللہ کی قدرت و اختیار کے ناقص ہونے پر دلیل ہے،
لہٰذا یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 27

📘 جواب:
جواب سے پہلے ایک سیدھا سوال:
آپ ہر اعتراض کے آخر میں جو کہتے ہیں کہ “یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے”،
براہِ کرم یہ بھی بتا دیں کہ کس راوی نے یہ حدیث گھڑی؟

اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ فلاں راوی نے حدیث گھڑی ہے تو یہ امت پر آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا۔

کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ
امام بخاری، امام مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی اور دیگر ائمۂ حدیث رحمہ اللہ علیہم
من گھڑت احادیث روایت کریں گے؟

اگر کسی نے آپ کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈالا ہے تو
پہلے محدثینِ کرام کی محنت، دیانت اور اصولِ حدیث کا مطالعہ کریں،
پھر اس طرح کے دعوے کریں۔

اب اصل بات:
اگر اللہ تعالیٰ خود کسی خارجی سبب کے ذریعے عذاب میں کمی یا تخفیف کر دے،
تو اس میں اللہ کی قدرت کی نفی کہاں سے لازم آتی ہے؟

اللہ تعالیٰ تو:

﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ﴾
ترجمہ:
جو چاہے کرتا ہے۔

وہ سزا بھی دے سکتا ہے
اور سزا میں تخفیف بھی—
یہ اس کی قدرت کی کمی نہیں بلکہ کمالِ اختیار کی دلیل ہے۔

اللہ تعالیٰ مالکُ الملک ہے،
بندے اس کے حکم کے پابند ہیں۔

اور ہمارا ایمان ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے یہ عمل اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیا، کیونکہ:

﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾
ترجمہ:
اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، وہ تو وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔

🔹 معلوم ہوا کہ
یہ اعتراض نہ حدیث کو گراتا ہے
اور نہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو،
بلکہ خود اعتراض فہمِ دین کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

36 📘 حدیث نمبر ② (اصل حدیث)

عن أبى سعيد الخدري، عن زيد بن ثابت قال:
قال وسعيد: ولم أشهده من النبى صلى الله عليه وسلم، ولكن حدثنيه زيد بن ثابت قال:
بينما النبى صلى الله عليه وسلم فى حائط لبني النجار على بغلة له، ونحن معه، إذ حادت به فكادت تلقيه، وإذا أقبر ستة أو خمسة أو أربعة…
فقال: «إن هذه الأمة تبتلى فى قبورها، فلولا أن لا تدافنوا، لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر الذى أسمع منه»
ثم قال: «تعوذوا بالله من عذاب النار… تعوذوا بالله من عذاب القبر… تعوذوا بالله من الفتن… تعوذوا بالله من فتنة الدجال…»

ترجمہ:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے خود نبی ﷺ سے نہیں سنی بلکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنی۔
وہ کہتے تھے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بنی نجار کے باغ میں ایک خچر پر جا رہے تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اچانک وہ خچر بدک گیا اور قریب تھا کہ آپ کو گرا دے۔ وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “کوئی جانتا ہے کہ یہ قبریں کن کی ہیں؟”
ایک شخص نے کہا: میں جانتا ہوں۔
آپ نے فرمایا: “یہ کب مرے تھے؟”
اس نے کہا: زمانۂ شرک میں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “بے شک اس امت کو اس کی قبروں میں آزمایا جائے گا، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردے دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب سنا دے جو میں سن رہا ہوں۔”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کی پناہ مانگو آگ کے عذاب سے”
“اللہ کی پناہ مانگو قبر کے عذاب سے”
“اللہ کی پناہ مانگو ظاہر و باطن فتنوں سے”
“اللہ کی پناہ مانگو دجال کے فتنے سے”

🔹 حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الجنة ونعيمها، باب عرض المقعد على الميت وعذاب القبر، رقم: 2867

37 📘 حدیث نمبر ② — اعتراضات و جوابات

📘 اعتراض ➊

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر والوں کے عذاب کا علم نبی ﷺ سے پہلے آپ کے خچر کو ہوا، کیا یہ رسول ﷺ کی توہین نہیں؟
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 27

📘 جواب

➊ سب سے پہلے فاضل صاحب یہ ثابت کریں کہ حدیث کے الفاظ میں کہیں یہ موجود ہے کہ خچر کو عذابِ قبر کا علم نبی ﷺ سے پہلے ہو گیا تھا اور نبی ﷺ کو بعد میں معلوم ہوا۔
یہ دعویٰ محض خود ساختہ مفہوم ہے، حدیث میں اس کا کوئی وجود نہیں۔

➋ خچر کے بدکنے سے صحابہؓ کے دلوں میں فطری طور پر سوال پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہوا۔
نبی ﷺ نے اسی موقع اور حکمت کے تحت حقیقت بیان فرمائی، نہ کہ اس لیے کہ آپ کو پہلے علم نہ تھا۔

➌ اگر جانور کا کسی غیبی امر پر ردِّ عمل ظاہر ہونا رسول کی توہین ہے، تو پھر قرآن کی یہ آیات کیسے قابلِ قبول ہوں گی؟

﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ … فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ﴾
(النمل: 20–25)

ہدہد نے واضح طور پر کہا کہ اسے ایسی بات کا علم ہوا جو حضرت سلیمان علیہ السلام کو نہیں تھا۔
کیا قرآن نے یہ واقعہ بیان کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام کی توہین کی؟
یقیناً نہیں۔
تو یہاں بھی یہی اصول لاگو ہوگا۔

اصل میں یہ اعتراض حدیث پر نہیں بلکہ قرآن کے طرزِ بیان پر اعتراض بن جاتا ہے۔

38 📘 حدیث نمبر ② — اعتراضات و جوابات

📘 اعتراض ➋

قبرستانوں میں جانور عام طور پر چرते پھرتے ہیں، کبھی بدک کر بھاگتے نہیں، اس لیے یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے۔
🔹 حوالہ: ایضاً

📘 جواب

➊ جانوروں کا کسی چیز سے ڈرنا یا نہ ڈرنا عادت پر منحصر ہوتا ہے۔
جو جانور قبرستانوں میں رہنے کے عادی ہوں وہ نہیں بدکتے، اور جو اجنبی ہوں وہ ڈر جاتے ہیں۔

➋ بالکل اسی طرح جیسے شہر کے رہنے والے شور کے عادی ہو جاتے ہیں اور اجنبی شور سے پریشان ہو جاتا ہے، یہی حال جانوروں کا ہے۔

➌ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر وقت اہلِ قبور کی چیخ و پکار سنائی دے:
🔹 اللہ چاہے تو سنائے، چاہے تو نہ سنائے
🔹 بسا اوقات عذاب میں کمی ہو جاتی ہے
🔹 چیخ و پکار سزا کے لیے لازمی نہیں

ڈاکٹر ابو جابر حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ
جانور بھی دو قسم کے ہوتے ہیں:
حساس اور غیر حساس—
اسی طرح قبر کی آوازوں پر بھی کچھ بدکتے ہیں اور کچھ عادی ہو جاتے ہیں۔

🔹 حوالہ: ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 18، ص 45

📌 نتیجہ :
یہ حدیث نہ عقل کے خلاف ہے، نہ قرآن کے،
بلکہ عذابِ قبر کے اثبات پر نہایت واضح، صحیح اور قوی دلیل ہے،
اور اس پر کیے گئے اعتراضات درحقیقت فہمِ نصوص کی کمزوری کا نتیجہ ہیں۔

39 📘 حدیث نمبر ③ — اصل حدیث (حصہ اوّل)

حدیث

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:
«إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ»
وفي رواية مسلم: «إِذَا انْصَرَفُوا»

ترجمہ:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔”

🔹 حوالہ:
بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، رقم: 1374
مسلم، کتاب الجنة ونعيمها، باب عرض المقعد على الميت وعذاب القبر، رقم: 7217

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

40 📘 اعتراض ➊ اور اس کا جواب (حصہ دوم)

یہ حدیث قرآن کے قطعی خلاف ہے، کیونکہ قرآن میں ہے کہ مردہ زندوں کی پکار نہیں سن سکتا۔
🔹 حوالہ: ایضاً

📘 جواب

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حدیث میں کسی کی پکار سننے کا ذکر نہیں بلکہ صرف
جوتوں کی آواز (قرع نعالهم) سننے کا ذکر ہے۔

اعتراض کرنے سے پہلے کم از کم حدیث کو عربی متن سمیت پڑھ لینا چاہیے۔

عام اصول یہی ہے کہ مردہ زندوں کی آواز یا پکار نہیں سنتا، اور نہ زندہ اتنی قدرت رکھتے ہیں کہ مردوں کو سنائیں۔
البتہ اگر اللہ تعالیٰ کسی خاص وقت میں، کسی خاص آواز کو سنانا چاہے تو اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔

یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ مردہ ہمیشہ اور ہر چیز سنتا ہے، بلکہ یہ ایک خاص استثناء ہے۔

حافظ محمد عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جو بات خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد میں بند رہتی ہے، یعنی جس محل میں وارد ہو وہیں تک محدود رہتی ہے۔

آگے فرماتے ہیں کہ مردے کا سننا خلافِ قیاس ہے، اس لیے جہاں جہاں حدیث میں سماع ثابت ہو وہیں تک مانا جائے گا، عام قاعدہ نہیں بنایا جائے گا۔
🔹 حوالہ: سماع موتی، ص: 22–24

اب حدیث کے الفاظ پر غور کریں:

➊ «إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ»
جب قبر میں رکھا جاتا ہے — اس سے پہلے کچھ نہیں سنتا۔

➋ «وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ»
جب ساتھی واپس پلٹتے ہیں — اس سے پہلے نہیں سنتا۔

➌ «قَرْعَ نِعَالِهِمْ»
صرف جوتوں کی آواز — نہ بات، نہ پکار۔

یہ محض چند لمحوں کے لیے دی گئی سماعت ہے، تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ جن لوگوں کے ساتھ وہ دنیا میں مگن تھا، وہ اسے قبر میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، اور اس کی حسرت و ندامت میں اضافہ ہو۔

یہ قرآن کے خلاف نہیں بلکہ عام اصول سے مستثنیٰ ایک خاص صورت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

41 📘 قرآنی مثالیں: عام حکم، خاص استثناء (حصہ سوم)

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر عام حکم آیا ہے مگر خاص افراد اس سے مستثنیٰ ہیں:


﴿قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ﴾
“انسان ہلاک ہو، وہ کتنا ناشکرا ہے۔”
(عبس: 17)
کیا انبیاء علیہم السلام ناشکرے تھے؟ نہیں — وہ اس عموم سے مستثنیٰ ہیں۔


﴿مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ﴾
“انسان کو نطفے سے پیدا کیا۔”
(عبس: 18–19)
مگر آدم، حوا اور عیسیٰ علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہیں۔


﴿ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ﴾
“پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔”
(عبس: 20)
حالانکہ خیر کا راستہ اکثر مشکل ہوتا ہے۔


﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾
“ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔”
(التين: 4)
حالانکہ بہت سے لوگ پیدائشی عیوب کے ساتھ ہوتے ہیں۔

ان تمام مثالوں میں عمومی خطاب ہے، مگر خاص صورتیں مستثنیٰ ہیں۔

بالکل اسی طرح
مردے کا عام طور پر نہ سننا ایک اصول ہے،
مگر جوتوں کی آواز سننا ایک خاص استثناء ہے۔

📌 معلوم ہوا کہ یہ حدیث
نہ قرآن کے خلاف ہے،
نہ عقل کے،
بلکہ نصوصِ شرعیہ کے اس اصول کے عین مطابق ہے
کہ عام حکم میں خاص استثناء ہو سکتا ہے۔

42 📘 حدیث نمبر ④ — اصل حدیث (حصہ اوّل)

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبى ﷺ قال:

«العبد إذا وضع فى قبره وتولى وذهب أصحابه حتى إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان فأقعداه فيقولان له: ما كنت تقول فى هذا الرجل محمد؟
فإن كان مؤمنًا قال: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال له: انظر إلى مقعدك من النار أبدلك الله به مقعدًا من الجنة، فيراهما جميعًا.
وأما الكافر أو المنافق فيقول: لا أدري، كنت أقول ما يقول الناس، فيقال: لا دريت ولا تليت، ثم يُضرب بمطرقةٍ من حديد ضربةً بين أذنيه، فيصيح صيحةً يسمعها من يليه إلا الثقلين»

ترجمہ:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: اس شخص محمد ﷺ کے بارے میں تم کیا کہتے تھے؟
مومن کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس سے کہا جاتا ہے: جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ، اللہ نے اس کے بدلے جنت میں تیرا ٹھکانا بنا دیا ہے۔ پس وہ جنت اور جہنم دونوں دیکھتا ہے۔
اور رہا کافر یا منافق، تو وہ کہتا ہے: مجھے معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے سمجھا، نہ پڑھا۔ پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے زور سے مارا جاتا ہے، وہ ایسی چیخ مارتا ہے کہ انسان اور جن کے سوا سب سنتے ہیں۔

🔹 حوالہ: بخاری، کتاب الجنائز، باب الميت يسمع قرع النعال، رقم: 1338

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

43 📘 اعتراض اور اس کا جواب (حصہ دوم)

فاضل صاحب صحیح بخاری کی حدیث کے الفاظ

«ثم يُضرب بمطرقةٍ من حديد»

سے بدک کر اسے قرآن کے خلاف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں:

“قبر میں مردے کو گرز سے مارنے کی بات قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ گرز سے مارنا صرف دوزخ کے لیے مخصوص ہے۔”
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 29

📘 جواب

حدیث کے الفاظ ہیں:
ثم يُضرب بمطرقةٍ من حديد
یعنی: پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے مارا جاتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ﴾
“اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔”
🔹 حوالہ: الحج: 21

اب سوال یہ ہے کہ
اس میں خلافِ قرآن کون سی بات ہے؟

قرآن نے یہ کہیں نہیں کہا کہ
لوہے کے گرز صرف دوزخ میں ہی استعمال ہوں گے اور قبر میں نہیں۔

یہ بالکل ممکن ہے — بلکہ نصوص کے مطابق درست ہے —
کہ منکرینِ حق کو قبر میں بھی لوہے کے گرزوں سے مارا جائے
اور جہنم میں بھی، کیونکہ کتاب و سنت میں اس کی نفی کہیں موجود نہیں۔

جبکہ فاضل صاحب کے دعوے کی
یعنی قبر میں لوہے کے گرز استعمال نہیں ہو سکتے
کوئی ایک دلیل بھی نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث میں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ
ہر بات کو بغیر سمجھے “خلافِ قرآن” کہہ دینا
نہ علم ہے اور نہ دیانت۔
آگے چل کر واضح کیا جائے گا کہ
واقعی خلافِ قرآن کسے کہتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

44 📘 حدیث نمبر ⑤ — اصل حدیث

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

إذا قبر الميت أو قال أحدكم آتاه ملكان أسودان أزرقان يقال لأحدهما المنكر وللآخر النكير فيقولان ما كنت تقول فى هذا الرجل فيقول ما كان يقول هو عبد الله ورسوله أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقالان قد كنا نعلم أنك تقول هذا ثم يفسح له فى قبره سبعون ذراعا فى سبعين ثم ينور له فيه ثم يقال له نم فيقول أرجع إلى أهلي فأخبرهم فيقولان نم كنومة العروس الذى لا يوقظه إلا أحب أهله إليه حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك وإن كان منافقا قال سمعت الناس يقولون فقلت مثله لا أدري فيقولان قد كنا نعلم أنك تقول ذلك فيقال للأرض التئمي عليه فتلتئم عليه فتختلف فيها أضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك.

ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب میت دفن کی جاتی ہے (یا فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دفن کیا جاتا ہے) تو اس کے پاس دو سیاہ رنگ اور نیلگوں آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں، ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تم کیا کہتے تھے؟
مومن وہی جواب دیتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
فرشتے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے۔ پھر اس کی قبر ستر در ستر ہاتھ فراخ کر دی جاتی ہے، قبر کو روشن کر دیا جاتا ہے، پھر کہا جاتا ہے سو جاؤ۔ وہ کہتا ہے میں اپنے اہل و عیال کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ انہیں خبر دوں۔ فرشتے کہتے ہیں دلہن کی نیند سو جاؤ، جسے اس کے گھر والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص کے سوا کوئی نہیں جگاتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا۔
اور اگر منافق ہو تو کہتا ہے میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی کہتا رہا، مجھے معلوم نہیں۔ فرشتے کہتے ہیں ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے۔ پھر زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اسے جکڑ لے، قبر اسے جکڑ لیتی ہے، اس کی پسلیاں ایک دوسری میں پیوست ہو جاتی ہیں، اور وہ قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔

🔹 حوالہ: ترمذی، ابواب الجنائز، باب عذاب القبر، رقم: 1071
🔹 حکم: حسن (الشیخ الألبانی)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

45 📘 حدیث نمبر ⑤ — اعتراض اور جواب

مردے کو قبر اس قدر دباتی ہے کہ اس کی دونوں پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں،
حالانکہ قرآن میں تو دوزخ میں ستر گز لمبی زنجیر سے جکڑ کر انتہائی تنگ جگہ ڈالنے کا ذکر ہے،
لہٰذا یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔
🔹 حوالہ: عذاب قبر، ص: 29

📘 جواب

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ﴾
ترجمہ:
پھر اسے ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔
🔹 حوالہ: الحاقة: 32

اب خود غور کریں:
یہ زنجیروں میں جکڑا جانا برزخ میں ہوگا یا حشر میں؟

اگر برزخ میں ہوگا تو بات واضح ہے، کیونکہ زنجیروں میں جکڑا جانا بھی عذاب ہے اور اس سے عذاب قبر ثابت ہوتا ہے۔
اور اگر حشر میں ہوگا تو پھر بھی کوئی تضاد نہیں، کیونکہ
قبر میں پسلیوں کا مل جانا ایک عذاب ہے
اور حشر میں زنجیروں میں جکڑا جانا دوسرا عذاب۔

یہ بھی ممکن ہے کہ زنجیروں میں جکڑا جانا دونوں مقامات پر ہو،
تو اس صورت میں بھی قرآن اور حدیث میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔

البتہ راجح یہی ہے کہ
پسلیوں کا ادھر اُدھر ہو جانا قبر میں ہوگا
اور زنجیروں میں جکڑا جانا حشر کے دن۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

46 📘 حدیث نمبر ⑥ — اصل حدیث

عن البراء بن عازب رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:

**يأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له من ربك فيقول ربي الله فيقولان له ما دينك فيقول ديني الإسلام فيقولان ما هذا الرجل الذى بعث فيكم فيقول هو رسول الله فيقولان له وما يدريك فيقول قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت فذلك قوله ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾ الآية قال فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فأفرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابا إلى الجنة ويفتح قال فيأتيه من روحها وطيبها ويفسح له فيها مد بصره وأما الكافر فذكر موته قال ويعاد روحه فى جسده ويأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان من ربك فيقول هاه هاه لا أدري فيقولان له ما دينك فيقول هاه هاه لا أدري فيقولان ما هذا الرجل الذى بعث فيكم فيقول هاه هاه لا أدري فينادي مناد من السماء أن كذب فافرشوه من النار وألبسوه من النار وافتحوا له بابا إلى النار قال فيأتيه من حرها وسمومها قال ويضيق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه زاد فى حديث جرير ثم يقيض له أعمى أصم معه مطرقة من حديد لو ضرب بها جبل لصار ترابا فيضربه بها ضربة يسمعها ما بين المشرق والمغرب إلا الثقلين فيصير ترابا ثم تعاد فيه الروح.**

ترجمہ:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مومن کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔
پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔
پھر پوچھتے ہیں: یہ کون شخص تھا جو تم میں بھیجا گیا؟ وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔
پھر پوچھتے ہیں: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔
یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تصدیق ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾
پھر آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ، اسے جنت کا لباس پہناؤ اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔
چنانچہ اس کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جنت کی خوشبو اور ہوا اس تک پہنچتی ہے اور اس کی قبر حدِ نظر تک کشادہ کر دی جاتی ہے۔

اور کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، پھر دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔
پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔
پھر پوچھتے ہیں: یہ کون شخص تھا جو تم میں بھیجا گیا؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔
پھر آسمان سے منادی اعلان کرتا ہے: اس نے جھوٹ کہا ہے، اس کے لیے آگ کا بستر بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤ اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دو۔
چنانچہ جہنم کی گرمی اور اس کی زہریلی ہوا اس تک پہنچتی ہے، اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں پیوست ہو جاتی ہیں۔
جریر کی روایت میں اضافہ ہے کہ پھر اس پر ایک اندھا بہرا فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ہتھوڑا ہوتا ہے، اگر وہ اس سے پہاڑ پر مارے تو پہاڑ مٹی بن جائے۔ وہ اس کو ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اس کی آواز مشرق و مغرب میں انسانوں اور جنوں کے سوا سب سنتے ہیں، وہ مٹی بن جاتا ہے، پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے۔

🔹 حوالہ: ابو داؤد، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، رقم: 4753

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

47 📘 *حدیث نمبر ⑥ — اعتراض اور جواب*

📘 **اعتراض**
قبر یا برزخ میں منکر و نکیر کا **من ربك، من نبيك، ما دينك** کے سوالات کرنا اور صحیح یا غلط جواب پر جنت یا دوزخ دکھایا جانا ہر لحاظ سے غیر صحیح ہے، کیونکہ دنیا ہی امتحان گاہ ہے اور مدتِ حیات ہی وقتِ امتحان ہے۔
جیسا کہ فرمایا:
﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾
ترجمہ: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔
🔹 حوالہ: **الحجر: 99**
(عذاب قبر: 30)

📘 **جواب**
یاد رہے کہ **اصل امتحان گاہ قبر اور برزخ** ہیں۔ دنیا کو جو امتحان گاہ کہا جاتا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے تعلیمی اداروں میں **سالانہ امتحان سے پہلے ٹیسٹ** ہوتے ہیں۔

**مثال:**
سکول میں طالب علم پورا سال تیاری کرتا ہے، دورانِ سال ٹیسٹ بھی دیتا ہے۔ پھر سالانہ امتحان آتا ہے جس میں وہی لکھتا ہے جس کی تیاری کی ہوتی ہے۔ اس کے بعد **نتیجہ** آتا ہے—کامیاب خوش اور ناکام پریشان۔

اسی طرح **دنیا دارُالعمل** ہے:
یہاں ہر انسان اگلی زندگی کے لیے تیاری کرتا ہے—کوئی اچھی، کوئی بری۔

**برزخ دارُالامتحان** ہے:
یہاں بندے کا امتحان ہوتا ہے، اور سب سے پہلے سوالات ہوتے ہیں:
➊ **من ربك**
➋ **من نبيك**
➌ **ما دينك**

ان سوالوں کے درست جواب **وہی دے سکتا ہے** جس نے دارُالعمل (دنیا) میں اچھی تیاری کی ہو۔

جیسے دنیا میں امتحان کے بعد طالب علم کو اپنی کارکردگی کا اندازہ ہو جاتا ہے—اچھے پیپر پر خوشی اور برے پیپر پر پریشانی—ویسے ہی **قبر میں سوال و جواب کے بعد** کامیاب کو پہلے ہی کامیابی کی خوشخبری اور ناکام کو ناکامی کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔ یہی وہاں کا قانون ہے۔

اور جیسے دنیا میں **نتیجہ آنے سے پہلے** ہی خوشی یا پریشانی ایک قسم کی راحت یا عذاب بن جاتی ہے، **اسی طرح قبر میں بھی** ہوتا ہے۔ پھر **روزِ محشر** جب اصل نتیجہ سنایا جائے گا تو کامیاب کو **دایاں ہاتھ** اور ناکام کو **بایاں ہاتھ** میں نامۂ اعمال دے کر بالترتیب جنت اور جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

﴿وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
ترجمہ: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

48 📘اب تک کا خلاصہ

الحمدللہ!
قرآنِ مجید کی 13 صریح آیات اور 6 صحیح احادیث کی روشنی میں
عذابِ قبر کا واضح ثبوت اور
منکرینِ عذابِ قبر کے تمام اہم اعتراضات کے مدلل جوابات
آپ کی خدمت میں پیش کیے جا چکے ہیں۔

🔹 اب اس سلسلے کے آخری حصے میں
ہم منکرینِ عذابِ قبر کے چند بناوٹی اور خود ساختہ اصولوں کا
تفصیلی اور علمی جائزہ پیش کریں گے۔

📘 ان شاء اللہ

49 📘 منکرینِ عذابِ قبر کے بناوٹی اصول — پہلا اصول (حصہ 1)

📌 اصول:

صرف وہی احادیث و آثار قبول کیے جائیں گے جو قرآن کے مطابق ہوں، جو قرآن کے مطابق نہ ہوں وہ رد ہیں۔

🔹 جواب بعون الوہاب:

یہ اصول من گھڑت، باطل اور شریعت میں بے اصل ہے۔

➊ نہ قرآنِ مجید میں اور نہ کسی صحیح حدیث میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ:
جو حدیث قرآن کے مطابق ہو وہ قبول ہے اور جو نہ ہو وہ رد۔

اس اصول کی دلیل کے طور پر ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
«ما أتاكم عني فاعرضوه على كتاب الله…»

مگر محدثین کے نزدیک یہ روایت موضوع (گھڑی ہوئی) ہے:

امام عبدالرحمن بن مہدیؒ: اسے زنادقہ اور خوارج نے گھڑا

امام یحییٰ بن معینؒ: یہ حدیثِ رسول نہیں

امام شافعیؒ: کسی معتبر راوی سے ثابت نہیں

علامہ البانیؒ: یہ روایت موضوع ہے

➋ خود اس روایت کا مضمون ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ قرآن تو رسول ﷺ کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیتا ہے:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾
ترجمہ:
اور رسول تمہیں جو کچھ دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔
(59-الحشر:7)

﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾
ترجمہ:
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
(4-النساء:80)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

50 📘 پہلا اصول — مزید علمی رد (حصہ 2)

🔹 چند بنیادی سوالات

➊ اگر حدیث صرف اسی وقت مانی جائے جب وہ قرآن کے مطابق ہو،
تو پھر حدیث کی ضرورت ہی کیا رہی؟ قرآن اکیلا کافی تھا۔

➋ کیا یہ ممکن ہے کہ صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہو؟
ہرگز نہیں، کیونکہ جس پر قرآن نازل ہوا وہ خود قرآن کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔

➌ یہ اصول قرآن کی کس آیت سے ثابت ہے؟
کوئی ایک آیت پیش نہیں کی جاتی۔

➎ نماز کی رکعات (فجر 2، ظہر 4، عصر 4، مغرب 3، عشاء 4)
قرآن کی کس آیت سے ثابت ہیں؟
اگر احادیث قبول ہیں تو پھر کس اصول پر؟

🔹 ایک اہم فرق سمجھیں

خلافِ قرآن ہونا اور چیز ہے

قرآن کی تشریح و توضیح کرنا اور چیز ہے

اگر قرآن خاموش ہو اور حدیث کسی حکم کو بیان کرے تو یہ مخالفت نہیں،
بلکہ قرآن کی منشاء ہے، کیونکہ قرآن نے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

مثالیں:

نماز کا طریقہ

زکوٰۃ کی مقدار

حج و عمرہ کے مناسک

نکاح میں بعض رشتوں کی حرمت

یہ سب حدیث سے ثابت ہیں، قرآن خاموش ہے، مگر کوئی مسلمان انہیں خلافِ قرآن نہیں کہتا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

51 📘 پہلا اصول — فیصلہ کن رد (حصہ 3)

🔹 قرآن میں بظاہر تعارض اور اس کی تطبیق

قرآن میں بعض آیات بظاہر ایک دوسری کے مخالف لگتی ہیں، مگر اہلِ ایمان رد نہیں کرتے بلکہ تطبیق کرتے ہیں:

﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾
ترجمہ:
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔
(28-القصص:56)

﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
ترجمہ:
اور بے شک آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
(42-الشورى:52)

اسی طرح:

﴿كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ﴾
ترجمہ:
سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
(4-النساء:78)

﴿وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ﴾
ترجمہ:
اور جو برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
(4-النساء:79)

اہلِ ایمان ان آیات میں تطبیق کرتے ہیں، رد نہیں کرتے۔

📌 آخری سوال منکرین سے

آج تک آپ لوگوں نے:

قرآن کے مطابق احادیث کا کوئی باقاعدہ مجموعہ کیوں تیار نہیں کیا؟

قرآن کے خلاف احادیث کی فہرست کیوں پیش نہیں کی؟

اگر واقعی آپ کا اصول علمی ہوتا تو یہ کام کب کا ہو چکا ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اصول حدیث سے جان چھڑانے کا بہانہ ہے،
کیونکہ حدیث قرآن کی تشریح کر دیتی ہے اور باطل نظریات بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

52 📘 منکرینِ عذابِ قبر کے بناوٹی اصول — دوسرا اصول (حصہ 1)

📌 اصول:

احادیث عقل کے خلاف ہیں، اس لیے قابلِ قبول نہیں۔

🔹 جواب:

➊ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل دی ہے، مگر ہر انسان کی عقل ایک جیسی نہیں۔
ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی عقل سب سے اعلیٰ ہے، تو اب فیصلہ کون کرے کہ کس کی عقل معیار ہے؟

دنیا میں کوئی ایسا آلہ موجود نہیں جس سے یہ طے ہو سکے کہ:
جو بات فلاں عقل کے مطابق ہو وہی حق ہے، اور جو اس کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔

اگر عقل کو معیار بنایا جائے تو پھر ہر شخص کا دین الگ ہو جائے گا۔

➋ ایک ہی عقل ایسی ہے جو تمام عقلوں پر فوقیت رکھتی ہے، اور وہ ہے
سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی عقل۔

جو بات حدیثِ رسول ﷺ سے ثابت ہو جائے، وہ عقل کے خلاف نہیں ہو سکتی،
کیونکہ آپ ﷺ کی عقل تمام انسانوں کی عقلوں سے اعلیٰ ہے۔

لہٰذا اگر کوئی حدیث کسی کی عقل میں نہ آئے تو یہ حدیث کا عیب نہیں،
بلکہ اس عقل کی کمی ہے جو اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔

➌ انسان کی عقل انتہائی محدود ہے، جبکہ کائنات لا محدود ہے۔
محدود عقل لا محدود حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

عقل کی مثال آنکھ کی طرح ہے
اور وحی کی مثال سورج کی مانند۔

آنکھ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتی ہے،
مگر سورج پر اعتراض نہیں کرتی۔
اگر آنکھ سورج کو سمجھنے لگے تو اندھی ہو جائے گی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

53 📘 دوسرا اصول — مزید وضاحت (حصہ 2)

وحی عقل کے تابع نہیں، بلکہ عقل وحی کے تابع ہے۔
جب عقل کو وحی کے تابع رکھا جائے تو یہی عقل
ایمان، یقین اور ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے۔

اور جب عقل کو وحی سے آزاد چھوڑ دیا جائے
تو وہ شترِ بے مہار بن کر
ضلالت اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔

🔹 عقل کا صحیح دائرہ کار

مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ فرماتے ہیں:
عقل کو دین کے انتخاب میں حق دیا گیا ہے،
لیکن دین کو قبول کرنے کے بعد
عقل کو یہ حق نہیں کہ وہ
وحی سے ثابت عقائد اور احکام میں
ردّ و بدل شروع کر دے۔

عقل کے درست کام یہ ہیں:

● وحی کے احکام کی حکمتیں سمجھنا
● احکام کے نفاذ کے عملی طریقے سوچنا
● زمانے کے نظریات کے مقابلے میں وحی کی برتری ثابت کرنا
● تحریف شدہ ادیان کے مقابلے میں اسلام کا دفاع کرنا
● نفس و آفاق کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا

لیکن اگر عقل
نصوصِ قطعیہ (کتاب و سنت) کے مقابلے میں
اجتہاد کرنے لگے
تو یہ تحریف کہلائے گی۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾
ترجمہ:
کہہ دیجیے! میرا راستہ یہ ہے کہ میں اور میرے پیروکار
سمجھ بوجھ کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
(يوسف:108)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

54 📘 دوسرا اصول — آخری وضاحت (حصہ 3)

➊ قبر اور برزخ کی زندگی کا ادراک
عقل کے بس کا کام نہیں،
کیونکہ عقل اور حواس ہمیں
صرف مادی دنیا کے لیے دیے گئے ہیں۔

عالمِ غیب کے حقائق
وحی کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں،
تجربے کے ذریعے نہیں۔

جزء، کل کا احاطہ نہیں کر سکتا،
جیسے قطرہ سمندر کو نہیں سمو سکتا۔

➋ یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ
عقل آج کسی چیز کو نہ سمجھے
اور کل سمجھ لے۔

چند صدیاں پہلے انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا
کہ ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ
ایک دوسرے سے براہِ راست بات کریں گے،
آج یہ حقیقت ہے۔

تو جو چیز آج عقل میں نہیں آ رہی
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باطل ہے۔

➌ اگر عقل کے نہ سمجھنے پر
ہر چیز کو رد کیا جائے
تو قرآن کی بہت سی باتیں بھی
رد کرنی پڑیں گی۔

مثلاً وضو میں
صرف نجس جگہ دھونے کے بجائے
پورے اعضاء دھونا —
عقل اسے ضروری نہیں سمجھتی،
مگر شریعت اسے لازم قرار دیتی ہے۔

حافظ ثناء اللہ مدنیؒ فرماتے ہیں:
شریعت میں کیڑے نکالنا عقل کا کام نہیں،
بلکہ عقل کو صحیح نہج پر رکھنا بندے کی ذمہ داری ہے،
اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے
جب وہ مکمل طور پر کتاب و سنت کے تابع ہو جائے۔

اہلِ اعتزال نے عقل کو وحی پر مقدم کیا
تو معجزات، کرامات،
عذابِ قبر اور احوالِ برزخ
سب کا انکار کر بیٹھے —
اور یہی گمراہی کا راستہ ہے۔

📌 نتیجہ یہ کہ:
عذابِ قبر کا انکار
حدیث کا نہیں
بلکہ وحی کے مقابلے میں عقل کو حاکم بنانے کا نتیجہ ہے۔

55 📘 منکرینِ عذابِ قبر کے بناوٹی اصول — تیسرا اصول (حصہ 1)

📌 اصول:

عذابِ قبر اور اس سے متعلق احادیث تجربہ و مشاہدہ کے خلاف ہیں، اس لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

🔹 جواب:

➊ یہ اصول بذاتِ خود باطل ہے، کیونکہ برزخ کے معاملات کو تجربہ و مشاہدہ پر قیاس کرنا جہالت ہے۔
انسان صرف اسی چیز کا مشاہدہ کر سکتا ہے جس کا تعلق اس دنیا سے ہو،
جبکہ برزخ اور آخرت کسی اور جہان کے حقائق ہیں جن کا ادراک اس دنیا میں ممکن نہیں۔

مثال:
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو اگر بتایا جائے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں جائے گا جہاں
وسیع آسمان، پھیلی زمین، نعمتیں اور مصیبتیں ہوں گی،
تو وہ ان باتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا،
کیونکہ اس نے اس دنیا کو دیکھا ہی نہیں۔
جب وہ اس دنیا میں آئے گا تب ہی حقیقت سمجھے گا۔
بالکل یہی معاملہ عالمِ برزخ کا ہے۔

➋ اگر ایمان صرف تجربہ و مشاہدہ پر ہو تو پھر یہ ایمان بالغیب نہیں رہے گا،
حالانکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم غیب پر ایمان لائیں۔
جنت، جہنم، میزان، حشر—
یہ سب بھی نہ دیکھے گئے ہیں، نہ تجربے میں آئے ہیں،
پھر بھی ان پر ایمان فرض ہے۔
اسی طرح عذابِ قبر پر ایمان بھی لازم ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

56 📘 تیسرا اصول — تجربہ کی حد (حصہ 2)

➊ مٹی کی خاصیت ہے کہ جو چیز اس میں دفن کی جائے وہ اسے گلانے لگتی ہے،
خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔
لیکن اس کے باوجود متعدد مستند واقعات ایسے ہیں
جن میں سالہا سال بعد بھی لاشیں بالکل محفوظ پائی گئیں۔

📌 چند ثابت شدہ واقعات

🔹 واقعہ ① (غزوۂ اُحد)
سیدنا جابرؓ نے چھ ماہ بعد اپنے والد کی قبر کھولی،
جسم بالکل محفوظ تھا، صرف کان کا کچھ حصہ متاثر تھا۔
📖 بخاری: 1351

🔹 واقعہ ② (عمرو بن الجموحؓ)
غزوۂ اُحد کے 46 سال بعد قبر کھولی گئی،
لاشیں بالکل ویسی ہی تھیں جیسے کل دفن کی گئی ہوں۔
📖 موطأ امام مالک: 1023

🔹 واقعہ ③ (1980ء سیلاب)
چالیس پچاس سال پہلے فوت شدہ صالح شخص کی لاش
بالکل محفوظ پائی گئی۔
📖 قیامت اور حیات بعد الموت ص: 407

🔹 واقعہ ④ (قاری نعیم الحق نعیمؒ)
پانچ ماہ بعد قبر کھلی،
کفن، جسم، داڑھی، زخم سب محفوظ۔
📖 الاعتصام 56/31

🔹 واقعہ ⑤ (حافظ محمد شریف بھٹویؒ)
دو سال بعد قبر کھلی،
کفن سفید، جسم سلامت،
چہرہ ایسے مڑا جیسے سوئے ہوئے شخص کا۔

یہ سب واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ
مٹی ہر جسم کو لازماً نہیں گلاتی،
بلکہ یہ سب اللہ کی مشیت پر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

57 📘 تیسرا اصول — فیصلہ کن جواب (حصہ 3)

➊ اگر کسی چیز کا عقل یا تجربہ میں نہ آنا
اس کے باطل ہونے کی دلیل ہوتا،
تو آج بھی بہت سی سائنسی حقیقتیں رد کی جاتیں
جو ماضی میں ناقابلِ تصور تھیں
(جیسے دور بیٹھ کر براہِ راست گفتگو)۔

➋ عقل محدود ہے اور عالمِ غیب لا محدود،
لہٰذا عقل سے غیب کا انکار کرنا دانشمندی نہیں۔

➌ تجربہ کو وحی پر مقدم کرنا
بالآخر وحی کے انکار تک لے جاتا ہے،
جیسا کہ تاریخ میں معتزلہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے ساتھ ہوا۔

📌 حقیقت یہ ہے:
عذابِ قبر کا انکار
نہ عقل کی بنیاد پر ہے
نہ تجربہ کی بنیاد پر،
بلکہ ایمان بالغیب سے فرار کا نام ہے۔

اور مومن کا راستہ یہ ہے کہ
وہ ان امور کو ویسے ہی مان لے
جیسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائے ہیں۔

58 📘 ایک مشہور اعتراض — دو موتیں اور دو زندگیاں (حصہ 1)

📌 اعتراض:

قرآنِ مجید میں انسان کی دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے، لہٰذا قبر یا برزخ کی زندگی کا کوئی وجود نہیں۔

منکرین عام طور پر یہ آیت پیش کرتے ہیں:

﴿ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ۝ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾
ترجمہ:
پھر اس کے بعد تم سب یقیناً مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن تم سب اٹھائے جاؤ گے۔
(23-المؤمنون:15–16)

🔹 جواب:

یہ آیت عام اور اجتماعی زندگی کے بارے میں ہے، یعنی قیامت کے دن تمام اگلے پچھلے انسان زندہ کیے جائیں گے۔

یہ بات درست ہے کہ قیامت سے پہلے ایسی عام زندگی نہیں ہوگی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے کوئی خاص زندگی نہیں۔

قرآنِ مجید میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں موت کے بعد، قیامت سے پہلے خاص زندگی ثابت ہوتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

59 📘 خاص زندگی کی قرآنی مثالیں (حصہ 2)

مثال ① (بنی اسرائیل کا مقتول)

﴿فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ﴾
ترجمہ:
ہم نے کہا اس (گائے) کا ایک ٹکڑا مقتول پر مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
(2-البقرة:72–73)

👉 ایک خاص شخص قیامت سے پہلے زندہ کیا گیا۔

مثال ② (ہزاروں کا مرنا اور زندہ ہونا)

﴿فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ﴾
ترجمہ:
اللہ نے ان سے کہا مر جاؤ، پھر انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔
(2-البقرة:243)

👉 اجتماعی مگر عارضی زندگی، قیامت نہیں۔

مثال ③ (سو سال بعد زندہ ہونا)

﴿فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ﴾
ترجمہ:
اللہ نے اسے سو سال کے لیے موت دی، پھر اسے زندہ کیا۔
(2-البقرة:259)

👉 ایک فرد، ایک خاص زندگی، قیامت سے پہلے۔

مثال ④ (بنی اسرائیل پر بجلی)

﴿ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ﴾
ترجمہ:
پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا۔
(2-البقرة:56)

👉 یہ سب مثالیں واضح کرتی ہیں کہ

موت کے بعد، قیامت سے پہلے خاص زندگی ممکن اور ثابت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

60 📘 دو مستقل زندگیاں اور برزخ کی حقیقت (حصہ 3)

🔹 وضاحت:

قرآنِ مجید میں دو مستقل زندگیاں ہیں:

➊ دنیا کی زندگی
➋ آخرت کی زندگی

مستقل زندگی وہ ہوتی ہے جس میں روح مکمل طور پر جسم میں داخل ہو کر پورے بدن میں تصرف کرے۔
یہ کیفیت یا تو دنیا میں ہوتی ہے یا قیامت کے بعد آخرت میں۔

🔹 عالمِ قبر / برزخ

برزخ میں مکمل دنیاوی یا اخروی زندگی نہیں بلکہ ایک خاص اور عارضی زندگی ہے:

جسم قبر میں ہے

روح اپنے مناسب مقام پر

عذاب یا نعمت شروع ہو چکی

مگر قیامت جیسا مکمل حساب نہیں

اسی لیے اہلِ علم نے
عالمِ برزخ کو آخرت کی زندگی کا مقدمہ کہا ہے۔

📌 نتیجہ:
قرآن میں دو مستقل زندگیاں ہونے کا ذکر
برزخی زندگی کے انکار کی دلیل نہیں،
بلکہ قرآن خود ثابت کرتا ہے کہ
موت کے بعد، قیامت سے پہلے خاص زندگی ممکن ہے
اور یہی عذابِ قبر / نعمتِ قبر ہے۔

61 📌 اختتامِ سلسلہ — اثباتِ عقیدۂ عذابِ قبر

الحمدللہ!
اثباتِ عقیدۂ عذابِ قبر سے متعلق یہ پورا سلسلہ یہاں مکمل ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں ہم نے:
🔹 قرآنِ مجید کی 13 صریح آیات
🔹 6 صحیح و ثابت احادیث
🔹 اور منکرینِ عذابِ قبر کے تمام معروف اعتراضات

کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا،
اور ان کے علمی، اصولی اور مدلل جوابات کتاب و سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں واضح کیے۔

اسی طرح آخر میں
🔹 منکرین کے خود ساختہ اصول
(قرآن کے مطابق حدیث، عقل، تجربہ و مشاہدہ، دو موتیں اور دو زندگیاں وغیرہ)
کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ ثابت کیا گیا کہ یہ اصول
نہ قرآن سے ثابت ہیں، نہ حدیث سے، بلکہ محض انکارِ حدیث اور انکارِ غیب کے بہانے ہیں۔

📘 نتیجہ یہی ہے کہ:
عذابِ قبر ایک قطعی، ثابت اور مسلم عقیدہ ہے
جس کا انکار قرآن، سنتِ رسول ﷺ اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں
حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے
اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین