1 📘 عذابِ قبر قرآنِ مجید کی روشنی میں — پہلی آیت (حصہ اول)
➊ آیتِ کریمہ
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ ﴾
ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔
🔹 حوالہ: البقرة:154
اس آیت میں شہداء کی جس زندگی کا ذکر ہوا ہے یقیناً وہ برزخ ہی کی زندگی ہے اور برزخ ایک مستقل جہان ہے جو موت سے لے کر قیامت تک کے لیے ہے۔ برزخی زندگی ہر انسان کے لیے ہے، خواہ وہ شہید ہو یا غیر شہید۔
➋ علامہ آلوسی
إن الحياة فى البرزخ ثابتة لكل من يموت من شهيد أو غيره
ترجمہ: یقیناً برزخی زندگی ہر مرنے والے کے لیے ثابت ہے، شہید ہو یا کوئی اور ہو۔
🔹 حوالہ: تفسیر روح المعانی 2/21
➌ امام قرطبی
ويكون فيه دليل على عذاب القبر
ترجمہ: اور اس آیت میں عذاب قبر پر بھی دلیل ہے۔
🔹 حوالہ: تفسير القرطبی 2/168
یاد رہے کہ برزخی زندگی اپنی تمام صورت میں تو سب کے لیے ہے لیکن قرآن مجید نے شہداء کی تعظیم و تکریم کے لیے خصوصیت سے ان کو أحياء کہا ہے۔
➍ سورۃ آل عمران کی آیات
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ. فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ. يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ.﴾
🔹 حوالہ: آل عمران 169–171
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جائیں انھیں مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں… اور بے شک اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
یہ سب کچھ برزخ میں ہے، کیونکہ انھیں یہ نعمتیں مل رہی ہیں اور ظاہر ہے کہ ابھی قیامت نہیں آئی۔
➎ روایت: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما
"سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے اور پوچھا: جابر! کیا بات ہے؟ میں تمھیں شکستہ خاطر دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والد (جنگ احد میں) شہید ہو گئے اور قرض اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گئے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں یہ بشارت نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ سے ان کی کیسے ملاقات ہوئی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا مگر پردے کے پیچھے سے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر اس سے آمنے سامنے باتیں کیں اور پوچھا: ”کچھ آرزو کرو جو میں تمھیں عطا کروں۔“ تیرے باپ نے کہا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندگی عطا کر دے، تاکہ میں دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ بات طے ہو چکی ہے کہ لوگ دوبارہ دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔
راوی کہتا ہے یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔"
🔹 حوالہ: ترمذی 3010 — شیخ البانی نے حسن کہا ہے