واٹساپ دعوتی مواد والدین کے حقوق و فرائض

والدین کے حقوق و فرائض

50 پیغامات

1 والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا

🌴 بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الْـحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن 🌴
🍃 وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی أَشْرَفِ الْمُرْسَلِیْن 🍃
───────────────
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا
───────────────
❀ ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
“اور تیرے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔”
(الإسراء 17:23)
❀ ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾
“اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف اٹھا کر پیٹ میں اٹھایا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا۔”
(الأحقاف 46:15)
❀ ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾
“اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ (اچھا سلوک کرنے کی) نصیحت کی ہے... میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔”
(لقمان 31:14)
❀ ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
“اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے۔”
(البقرة 2:83)
❀ ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا﴾
“اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی۔”
(العنكبوت 29:8)
❀ ﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
“اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔”
(النساء 4:36)
───────────────
🌸 اللہ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ بہترین سلوک کی توفیق عطا فرمائے 🌸
───────────────

2 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
کافر ماں باپ کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا
❶ 🕋 عن أسماء بنت أبى بكر قالت أتتني أمي راغبة فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم فسألت النبى أصلها قال نعم وفي رواية قدمت أمي وهى مشركة
💠 ” اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئی اور وہ مشرکہ تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں اس سے حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس سے صلہ رحمی کر، اچھا سلوک کر۔“
📘 (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب صلة الوالد المشرك: 5978)
──────────────────
سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار
❷ 🕋 عن أبى هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي قال أمك قال ثم من قال أمك قال ثم من قال أمك قال ثم من قال ثم أبوك
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پوچھنے لگا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ کس کا حق ہے کہ میں اس کے ساتھ حسن سلوک کروں۔ آپ نے فرمایا: تیری ماں کا۔ پوچھا کہ پھر کس کا؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں کا۔ پوچھا پھر کس کا؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں کا۔ پوچھا: پھر کس کا؟ آپ نے فرمایا: پھر تیرے باپ کا۔“
📘 (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب من أحق بحسن الصحبة: 5971؛ صحيح مسلم، کتاب البر والصلة: 6501)
──────────────────
❸ 🕋 عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال قلت يا رسول الله من أبر قال أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك
💠 ” ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنے باپ سے۔“
📘 ([حسن] ابوداود، باب فی برالوالدین: 5139)
──────────────────
❹ 🕋 عن المقدام بن معديكرب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله يوصيكم بأمهاتكم ثلاثا إن الله يوصيكم بآبائكم
💠 ” مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک تمہیں وصیت کرتے ہیں یہ کہ تم اپنی ماؤں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی۔ (پھر فرمایا) کہ اللہ پاک تمہیں وصیت کرتے ہیں یہ کہ تم اپنے باپوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
📘 ([صحيح] ابن ماجه، ابواب الادب، باب بر الوالدين: 3661)
──────────────────
سب سے پسندیدہ عمل
❺ 🕋 عن عبد الله قال سألت النبى صلى الله عليه وسلم أى العمل أحب إلى الله قال الصلاة على وقتها قال ثم أى قال ثم بر الوالدين قال ثم أى قال الجهاد فى سبيل الله
💠 ” عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ پھر انہوں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپ نے فرمایا: ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ پھر انہوں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“
📘 (صحيح البخاري، كتاب الادب، باب قوله ووصينا الانسان بوالديه: 5970)

3 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
اللہ کی خوشنودی والدین کی خوشنودی میں ہے
❻ 🕋 عن عبد الله بن عمرو عن النبى صلى الله عليه وسلم قال رضى الرب فى رضى الوالد وسخط الرب فى سخط الوالد
💠 ” عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب کی خوشنودی والد کی خوشنودی میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔“
📘 ([صحيح] الترمذي، ابواب البر والصلة ، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين: 1899، ابن حبان ج 1 حدیث: 328؛ المستدرك: 7331)
🩵 (نوٹ) اس حدیث میں والد سے مراد ماں باپ دونوں ہیں۔
⋆ المراد بالوالد الجنس او اذا كان حكم الوالد هذا فحكم الوالدة اقوى وبالاعتبار اولى
💡 فائدہ: اگر کسی انسان پر اس کے والدین راضی ہیں تو سمجھو اس کا اللہ اس پر راضی ہے اور اگر اس پر اس کے والدین ناراض ہیں تو سمجھو اس کا اللہ بھی اس پر ناراض ہے۔ اس رضا و غضب سے مراد اسلام کے تابع رضا و غضب ہے۔
📗 (تحفة الاحوذی)
──────────────────
❼ 🕋 عن عبد الرحمن بن عوف قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال الله تعالى أنا الرحمن وهى الرحم شققت لها من اسمي من وصلها وصلته ومن قطعها بتته
💠 ” عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں مہربان ہوں اور یہ قرابت داری ہے میں نے اپنے نام سے اس کا نام کاٹ کر دیا ہے جو اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹوں گا۔“
📘 ([صحیح] ابوداود، كتاب الزكاة، باب في صلة الرحم: 1694)
💡 فائدہ: یعنی جو رشتہ داری کو ملائے گا، جوڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کا تعلق اپنے ساتھ جوڑ لیں گے۔ اور جو رشتہ داری کو ختم کرے، اسے توڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کا تعلق اپنے ساتھ سے توڑ دیں گے۔ اور عام رشتہ داروں میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق والدین کا ہے۔
──────────────────
والدین جنت کا بہترین دروازہ ہیں
❽ 🕋 عن أبى الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه
💠 ” ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والدین جنت کا بہترین دروازہ ہیں یہ تیری مرضی ہے کہ تو اس دروازے کو ضائع کرے یعنی ان کو ناراض کر کے یا اس کی حفاظت کرے ان کی خدمت کر کے ان کو خوش کر کے۔“
📘 ([صحيح] ترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين: 1900، ابن ماجه، کتاب الطلاق، باب الرجل يامره ابوه بطلاق امرأته: 2089)
💡 فائدہ: اس حدیث کے مطابق ماں باپ جنت کا سب سے بہترین دروازہ ہیں یعنی جنت میں جانے کے لیے سب سے اچھا عمل والدین کی خدمت، ان کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔
──────────────────
❾ 🕋 عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة فقلت من هذا قالوا حارثة بن النعمان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كذلكم البر كذلكم البر وكان أبر الناس بأمه
💠 ” عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا میں نے قرآن پڑھنے کی آواز سنی۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے کہا: یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ نیکی کرنے کا ثواب اسی طرح ہے۔ نیکی کرنے کا ثواب اسی طرح ہے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے بڑھ کر سلوک کیا کرتا تھا۔“
📘 (مستدرك حاكم 7247؛ قال الحافظ فى التلخيص على شرط البخاري ومسلم. وقال الألباني: هذا سند صحيح على شرط الشيخين. وقد اخرجه ابن وهب فى الجامع 22 واللفظ له والحاكم 208/3 والحميدي 136/1 / 285 وابو يعلى 399/7 عن سفيان عنه وصححه الحاكم على شرطهما ووافقه الذهبي؛ سلسلة الأحاديث الصحيحة ج 2 ص 582 رقم 913)
🩵 (فائدہ) اسی وجہ سے یعنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے وہ قرآن زمین پر پڑھتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پڑھنے کی آواز جنت میں سنی۔

4 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
جنت والدین کے قدموں کے نیچے ہے
❿ 🕋 عن معاوية بن جاهمة أن جاهمة جاء إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أردت أن أغزو وقد جئت أستشيرك فقال هل لك من أم قال نعم قال فالزمها فإن الجنة عند رجليها
💠 ” معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے باپ جاہمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں جہاد میں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں ہے؟ (یعنی زندہ ہے) اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اس کو لازم پکڑ یعنی اس کی خدمت کر بے شک جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔“
📘 (حسن صحيح النسائي، كتاب الجهاد، باب الرخصة في التخلف لمن له والدة: 3104)
──────────────────
⓫ 🕋 عن جاهمة قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أستشيره فى الجهاد فقال النبى صلى الله عليه وسلم ألك والدان قلت نعم قال الزمهما فإن الجنة تحت أرجلھما
💠 ” جاہمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کرنے کا مشورہ طلب کرنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: انہیں لازم پکڑ کیونکہ جنت ان دونوں کے پاؤں تلے ہے۔“
📘 ([صحيح] معجم الكبير للطبراني جلد 2 ص 289 رقم 2202؛ وقال فى المجمع 8/138؛ رواه الطبراني فى الاوسط ورجاله ثقات)
💡 فائدہ: والدین کے قدموں کے نیچے جنت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اللہ انسان کو جنت عطا فرما دیتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید بیوی کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور وہ بیوی کو خوش رکھنے کے لیے سب کو ناراض کر دیتے ہیں حتی کہ ماں باپ کی بھی پروا نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ والدین کے حقوق بیوی سے مقدم ہیں۔
──────────────────
والدین اولاد کے حق میں مستجاب الدعاء ہیں اور نفل نماز پر والدین کی اطاعت مقدم ہے
⓬ 🕋 عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن دعوة المظلوم ودعوة المسافر ودعوة الوالد على ولده
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دعائیں مستجاب (قبول کی جانے والی) ہیں ان کے مستجاب اور قبول ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ (1) مظلوم کی دعا (2) مسافر کی دعا (3) والدین کی اولاد کے حق میں دعا۔“
📘 (حسن الترمذى، ابواب البر والصلة، باب ما جاء في دعاء الوالدين: 1905؛ ابن ماجه، أبواب الدعاء، باب دعوة الوالد ودعوة المظلوم: 3862)
──────────────────

5 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
نفل عبادت پر والدین کی اطاعت مقدم ہے
⑬ 🕋 عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال لم يتكلم فى المهد إلا ثلاثة عيسى ابن مريم وصاحب جريج وكان جريج رجلا عابدا فاتخذ صومعة فكان فيها فأتته أمه وهو يصلي فقالت يا جريج فقال يا رب أمي وصلاتي فأقبل علىٰ صلاته فانصرفت فلما كان من الغد أتته وهو يصلي فقالت يا جريج فقال يا رب أمي وصلاتي فأقبل علىٰ صلاته فانصرفت فلما كان من الغد أتته وهو يصلي فقالت يا جريج فقال يا رب أمي وصلاتي فأقبل علىٰ صلاته فقالت اللهم لا تمته حتىٰ ينظر إلىٰ وجوه المومسات فتذاكر بنو إسرائيل جريجا وعبادته وكانت امرأة بغي يتمثل بحسنها فقالت إن شئتم لأفتننه لكم قال فتعرضت له فلم يلتفت إليها فأتت راعيا كان يأوي إلىٰ صومعته فأمكنته من نفسها فوقع عليها فحملت فلما ولدت قالت هو من جريج فأتوه فاستنزلوه وهدموا صومعته وجعلوا يضربونه فقال ما شأنكم قالوا زنيت بهذه البغي فولدت منك فقال أين الصبي فجاءوا به فقال دعوني حتىٰ أصلي فصلىٰ فلما انصرف أتى الصبي فطعن فى بطنه وقال يا غلام من أبوك قال فلان الراعي قال فأقبلوا علىٰ جريج يقبلونه ويتمسحون به وقالوا نبني لك صومعتك من ذهب قال لا أعيدوها كما كانت من طين ففعلوا وبينا صبي يرضع من أمه فمر رجل راكب علىٰ دابة فارهة وشارة حسنة فقالت أمه اللهم اجعل ابني مثل هذا فترك الثدي وأقبل إليه فنظر إليه فقال اللهم لا تجعلني مثله ثم أقبل علىٰ ثديه فجعل يرتضع قال فكأني أنظر إلىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحكي ارتضاعه بإصبعه السبابة فى فيه فجعل يمصها قال ومروا بجارية وهم يضربونها ويقولون زنيت سرقت وهى تقول حسبي الله ونعم الوكيل فقالت أمه اللهم لا تجعل ابني مثلها فترك الرضاع ونظر إليها فقال اللهم اجعلني مثلها
💠 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی لڑکا جھولے میں نہیں بولا مگر تین لڑکے ایک تو عیسی علیہ السلام دوسرے جریج کے ساتھی اور جریج کا قصہ یہ ہے کہ وہ ایک عابد شخص تھا سو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اس میں رہتا تھا۔
اس کی ماں آئی وہ نماز پڑھ رہا تھا ماں نے پکارا: او جریج! پس اس نے کہا: اے رب میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں آخر وہ نماز میں ہی رہا۔ اس کی ماں چلی گئی پھر جب دوسرا دن ہوا پھر آئی اور پکارا: او جریج! پس اس نے کہا: اے رب میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں آخر وہ نماز میں ہی رہا۔ اس کی ماں چلی گئی پھر جب تیسرا دن ہوا پھر آئی اور پکارا او جریج! پس اس نے کہا: اے رب میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں آخر وہ نماز میں ہی رہا۔ اس کی ماں بولی: یا اللہ! اس کو مت مار جب تک بد کار عورتوں کا منہ نہ دیکھے (بددعا کی)۔
پھر بنی اسرائیل نے جریج اور اس کی عبادت کا چرچہ شروع کیا اور بنی اسرائیل میں ایک بد کار عورت تھی جس کی خوبصورتی سے لوگ مثال دیتے تھے وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو فتنہ میں ڈالوں۔ پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس طرف خیال بھی نہ کیا۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کے عبادت خانہ کے قریب ٹھہرا کرتا تھا۔ اور اجازت دی (اس عورت نے) اس چرواہے کو اپنے ساتھ صحبت کرنے کی اس چرواہے نے صحبت کی پس وہ بدکار عورت حاملہ ہو گئی جب اس نے بچہ جنا تو بولی یہ بچہ جریج کا ہے۔ (جھوٹ بولا) لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے اور اس کو عبادت خانہ سے اتارا اور عبادت خانہ گرا دیا اور اس کو مارنے لگے (دیکھئے ماں کی بددعا کیسے لگی)۔
وہ بولا کیا ہوا ہے تمہیں؟ انہوں نے کہا تم نے اس بد کار عورت سے زنا کیا ہے اس نے تجھ سے ایک بچہ بھی جنا ہے۔ جریج نے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس بچہ کو لائے۔ جریج نے کہا: ذرا مجھ کو چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور بچے کے پاس آیا اور اس کے پیٹ کو ٹھونسا دیا اور کہا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا فلاں چرواہا۔ یہ سن کر لوگ دوڑے جریج کی طرف اور اس کو چومنے چاٹنے لگے اور کہنے لگے تیرا عبادت خانہ ہم سونے سے بنا دیتے ہیں۔ وہ بولا مٹی سے بنا دو جیسے پہلے تھا۔
ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی تو اس کے قریب سے ایک سوار گزرا جس نے بہت اچھی پوشاک پہن رکھی تھی۔ اس عورت نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس شخص جیسا کر دے۔ تو بچہ ماں کی چھاتی چھوڑ کر اس سوار کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ! تو مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر مڑکر ماں کی چھاتی سے دودھ پینے لگا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری نظروں میں اس وقت بھی وہ منظر پھر رہا ہے وہ کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی چوس کر دکھائی تھی۔
اس کے بعد اس کے پاس سے لوگ ایک لونڈی کو لے کر گزرے تو اس عورت نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس لونڈی جیسا نہ بنانا۔ یہ سن کر پھر بچے نے اپنی ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور کہنے لگا: اے اللہ! مجھے اس جیسا بنا دے۔ اس کی ماں نے پوچھا: کیوں، تو ایسا کیوں بنا چاہتا ہے؟ بچہ کہنے لگا کہ وہ سوار ایک ظالم شخص تھا جب کہ اس لونڈی کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے ایسا نہیں کیا۔“
📘 (مسلم، کتاب البر والصلة، باب تقديم بر الوالدين على التطوع بالصلوة وغيرها: 6509)
💡 فائدہ: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ماں کی دعا اولاد کے حق میں یا بددعا اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے، قبول فرما لیتے ہیں، اور والدین کی بد دعا اولاد کو بھی نہیں چھوڑتی۔
──────────────────

6 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
والدین کی اطاعت دنیاوی مشکلات کا مداوا ہے
⑭ 🕋 عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بينما ثلاثة نفر يتمشون أخذهم المطر فأووا إلىٰ غار فى جبل فانحطت علىٰ فم غارهم صخرة من الجبل فسدت عليهم فقال بعضهم لبعض انظروا أعمالا عملتموها لله صالحة فادعوا الله بها لعله يفرجها فقال أحدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران ولي امرأة ولي صغار كنت أرعى عليهم فإذا رحت عليهم فحلبت بدأت بوالدي أسقيهما قبل بني وإنه نأىٰ بي الشجر فما أتيت حتىٰ أمسيت فوجدتهما قد ناما فحلبت كما كنت أحلب فجئت بالقدح فقمت عند رءوسهما أكره أن أوقظهما من نومهما وأكره أن أسقي الصغار قبلهما والصغار يتضاغون عند قدمي فلم يزل ذلك دأبي ودأبهم حتىٰ طلع الفجر فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا فرجة نرىٰ منها السماء ففرج الله لهم فرجة حتىٰ رأوا منها السماء وقال الثاني اللهم إنه كانت لي ابنة عم أحبها كأشد ما يحب الرجال النساء فطلبت إليها نفسها فأبت حتىٰ آتيها بمائة دينار فسعيت حتىٰ جمعت مائة دينار فأتيتها بها فلما قدرت بين رجليها قالت يا عبد الله اتق الله ولا تفتح الخاتم إلا بحقه فقمت عنها اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا منها فرجة ففرج لهم وقال الآخر اللهم إني كنت استأجرت أجيرا بفرق من أرز فلما قضىٰ عمله قال أعطني حقي فعرضت عليه حقه فرغب عنه فلم أزل أزرعه له حتىٰ جمعت منه بقرا وراعيها فجاءني فقال اتق الله ولا تظلمني فأعطني حقي فقلت اذهب إلىٰ تلك البقر وراعيها فخذها فقال اتق الله ولا تستهزئ بي فقلت إني لا أستهزئ بك خذ تلك البقر وراعيها فأخذها فذهب بها فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج ما بقي ففرج الله عنهم
💠 ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے تین اشخاص راستے میں جارہے تھے اتنے میں بارش شروع ہوئی وہ پہاڑ کی ایک غار میں گھس گئے۔ اتفاقاً پہاڑ کا ایک پتھر غار کے منہ پہ آ گرا منہ بند ہو گیا۔
اب کیا کریں؟ آپس میں صلاح کرنے لگے بھائی ایسا کرو کہ تم لوگوں نے جو نیک اعمال خالص اللہ کے لیے کئے ہیں ان کے ذریعے سے دعا مانگو شاید اللہ مشکل آسان کر دے تم کو نجات دلوائے۔
پھر ایک شخص ان تینوں میں یوں کہنے لگا یا اللہ! تو جانتا ہے میرے ماں باپ دونوں بوڑھے تھے اور میرے بچے بھی چھوٹے چھوٹے موجود تھے۔ ان کی پرورش کے لیے جانوروں کو چرایا کرتا تھا جب شام کو گھر آتا تو دودھ دوہتا تو سب سے پہلے اپنے ماں باپ کو پلاتا پھر اپنے بچوں کو۔ ایک دن ایسا ہوا جانور دور دراز ایک درخت چرنے کے لیے چلے گئے اور مجھ کو دیر ہوگئی میں شام تک نہیں آیا۔ (جب گھر پہنچا )دیکھا تو میرے والدین سو گئے ہیں۔
میں نے عادت کے مطابق دودھ دوہا اور صبح تک دودھ لیے ان کے سرہانے کھڑا رہا مجھے یہ اچھا نہیں معلوم ہوا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور نہ میں نے اس کو پسند کیا کہ پہلے بچوں کو دودھ دوں۔ گورات بھر بچے میرے پاؤں کے پاس چلاتے رہے۔ دودھ مانگتے رہے (مگر میں نے نہ دینا تھا نہ دیا )صبح تک یہی حال رہا اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام خالص تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس پتھر کو اتنا ہٹا دے کہ ہم آسمان کو دیکھیں تو اللہ تعالی نے اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ آسمان دیکھنے لگے۔
پھر دوسرے شخص نے دعا مانگی: اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ میں اپنی چچا زاد بہنوں میں سے ایک لڑکی سے شدید محبت کرتا تھا اتنی شدید محبت جتنی مرد عورت سے کر سکتا ہے۔ اس لڑکی نے کہا: تو مجھے اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک سو 100 دینار ادا نہ کرے۔ میں نے سو دینار حاصل کرنے کے لیے کوشش کی اور جمع کر لیے لیکن جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا (زنا کا ارادہ کیا) تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور نا جائز طریقے سے مہر نہ توڑ۔ یہ سن کر میں اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ اے اللہ! جیسا کہ تو جانتا ہے یہ کام میں نے تیری رضا کی خاطر کیا تو ہمارا راستہ کھول دے۔ چنانچہ ان کے لیے دو تہائی راستہ کھل گیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! جیسا کہ تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور کو ایک فرق مونجی کے عوض ملازم رکھا تھا اور جب( کام کے بعد) اسے اُجرت دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور میں نے وہ مونجی زمین میں بو دی اور (اس کی آمدنی اتنی ہوئی کہ) میں نے اس سے گائیں اور چرواہا خرید لیا۔ وہ مزدور آیا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے بندے مجھے میرا حق ادا کر دے۔ میں نے اس سے کہا: جاؤ وہ گائیں اور ان کا چرواہا لے لو، وہ سب تمہارا ہے۔ وہ کہنے لگا: کیا تم مجھے سے مذاق کر رہے ہو؟ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کر رہا بلکہ وہ سب ہے ہی تمہارا۔ اے اللہ جیسا کہ تو جانتا ہے، اگر یہ سب میں نے تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے اور ہماری مشکل آسان کر دے۔ چنانچہ ان کا راستہ کھل گیا اور ان کی مصیبت ٹل گئی۔
📘 (البخاري، كتاب الادب، باب اجابة دعاء من بر والديه: 5974)
💡 فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت سے اللہ دنیا کی مشکلات اور پریشانیوں سے بھی نجات دے دیتے ہیں۔
──────────────────
والدین کی اطاعت گناہوں کا کفارہ ہے
⑮ 🕋 عن ابن عمر أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني أصبت ذنبا عظيما فهل لي توبة قال هل لك من أم قال لا قال هل لك من خالة قال نعم قال فبرها
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے ایک بڑا گناہ کیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تیری ماں ہے؟ ایک روایت میں ہے کیا تیرے والدین ہیں۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تیری خالہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ نیک سلوک کر۔“
📘 (صحيح الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء في بر الخالة: 1904)
──────────────────
⑯ 🕋 عن ابن عمر قال أتى النبى رجل فقال يا رسول الله إني أذنبت ذنبا كبيرا فهل لي من توبة قال ألك والدان قال لا قال فلك خالة قال نعم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فبرها إذا
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت سے گناہ کیے ہیں۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تیرے والدین ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تیری خالہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تب تو اس کے ساتھ نیک سلوک کر۔“
📘 (مستدرك حاكم الرقم 7261)
💡 فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت سے، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے، اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں کو بھی معاف فرما دیتے ہیں۔

7 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
والدین کی اطاعت گناہوں کا کفارہ ہے
⑮ 🕋 عن ابن عمر أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني أصبت ذنبا عظيما فهل لي توبة قال هل لك من أم قال لا قال هل لك من خالة قال نعم قال فبرها
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے ایک بڑا گناہ کیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تیری ماں ہے؟ ایک روایت میں ہے کیا تیرے والدین ہیں۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تیری خالہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ نیک سلوک کر۔“
📘 (صحيح الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء في بر الخالة: 1904)
──────────────────
⑯ 🕋 عن ابن عمر قال أتى النبى رجل فقال يا رسول الله إني أذنبت ذنبا كبيرا فهل لي من توبة قال ألك والدان قال لا قال فلك خالة قال نعم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فبرها إذا
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت سے گناہ کیے ہیں۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تیرے والدین ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تیری خالہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تب تو اس کے ساتھ نیک سلوک کر۔“
📘 (مستدرك حاكم الرقم 7261)
💡 فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت سے، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے، اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں کو بھی معاف فرما دیتے ہیں۔

8 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
والدین کی اطاعت سے رزق میں فراخی
⑰ 🕋 عن أنس بن مالك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من سره أن يبسط له فى رزقه أو ينسأ له فى أثره فليصل رحمه
💠 ” انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی بڑھے یا اس کا اثر (یعنی عمر) دراز ہو تو اپنے ناتے کو ملائے۔“
📘 (مسلم، كتاب البر والصلة، باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها: 6523)
💡 فائدہ: انسان کے سب رشتوں ناتوں سے بہترین اور قریب ترین رشتہ والدین کا رشتہ ہے تو معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے اللہ انسان کا اثر دراز فرمادیتے ہیں اور رزق میں فراخی فرمادیتے ہیں۔
──────────────────
⑱ 🕋 عن أبى هريرة عن النبى قال تعلموا من أنسابكم ما تصلون به أرحامكم فإن صلة الرحم محبة فى الأهل مثراة فى المال منسأة فى الأثر
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نسبوں سے اتنا سیکھو جس کے ساتھ تم اپنے ناتوں کو ملاؤ کیونکہ ناتوں کو ملانا اہل خانہ میں محبت کا، مال میں کثرت کا اور اثر (یعنی عمر) میں وسعت کا سبب ہے۔“
📘 (صحيح الترمذى، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في تعليم النسب: 1979)
──────────────────
والدین کی اجازت سے جہاد کرے
⑲ 🕋 عن عبد الله بن عمرو قال جاء رجل إلى رسول الله فاستأذنه فى الجهاد فقال أحيا والداك قال نعم قال ففيهما فجاهد
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد میں جانے کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا: تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں جہاد کرے (یعنی ان کی خدمت کر) اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اپنے ماں باپ کے پاس جا اور ان کی اچھی طرح خدمت کر۔“
📘 (البخاري، كتاب الجهاد، باب الجهاد باذن الابرين: 3004)
💡 فائدہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری جلد 2 ص 883 میں پہلے یہ باب قائم کیا ہے
"باب لا يجاهد إلا بإذن الوالدين"
کہ آدمی نہ جہاد کرے مگر والدین کی اجازت سے۔
پھر یہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما والی حدیث ذکر کی ہے یعنی امام بخاری اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت کر رہے ہیں کہ آدمی والدین کی اجازت کے بغیر جہاد نہ کرے۔
──────────────────
⑳ 🕋 عن عبد الله بن عمرو قال أتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني جئت أريد الجهاد معك أبتغي وجه الله والدار الآخرة ولقد أتيت وإن والدي ليبكيان قال فارجع إليهما فأضحكهما كما أبكيتهما
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے کہا: میں اللہ کی رضا اور اخروی گھر طلب کرتے ہوئے آپ کے ساتھ جہاد میں جانا چاہتا ہوں اور میں اس حال میں آیا ہوں کہ میرے والدین رو رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان کی طرف لوٹ جا، انہیں ہنسا جیسے انہیں رلایا ہے۔“
📘 (صحيح ابن ماجه، كتاب الجهاد، باب الرجل يغزو وله أبوان: 2782؛ ابوداود، كتاب الجهاد، باب في الرجل يغزو وابواه كارمان. واللفظ له: 2028)
──────────────────
㉑ 🕋 أن رجلا هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن فقال هل لك أحد باليمن قال أبواي قال أذنا لك قال لا قال فارجع إليهما فاستأذنهما فإن أذنا لك فجاهد وإلا فبرهما
💠 ” ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لایا۔ آپ نے فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہے؟ اس نے کہا: میرے والدین ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارے والدین نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس ہو جا اور اپنے والدین سے اجازت لے، اگر ماں باپ تجھے اجازت دیں تو جہاد کر، وگرنہ والدین کے ساتھ نیکی کر۔“
📘 (ابوداود، كتاب الجهاد، باب في الرجل يغزو وابواه کارهان: 2530)

9 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
اولاد کا مال والدین کا مال ہے
㉒ 🕋 عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إن لي مالا وولدا وإن والدي يحتاج مالي قال أنت ومالك لوالدك إن أولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم
💠 ” صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، میرے پاس مال ہے اور میرا والد میرے مال کا محتاج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی سے ہے تم اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ۔“
📘 ([حسن] ابوداود، كتاب البيوع، باب في الرجل يأكل من مال ولده: 3530)
💡 فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کا مال والدین کا ہے۔ جب والدین کو ضرورت پڑ جائے اولاد کے مال کی تو والدین کو حق ہے کہ وہ جتنا چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہاں! والدین کو بھی چاہیے کہ ظلم و زیادتی سے بچیں اور اولاد کے درمیان انصاف کریں۔ آج کل معاشرہ اس کے برعکس ہے کہ مرد حضرات جو کماتے ہیں وہ سارے کا سارا بیوی کی جیب میں اور بیوی صاحبہ (ماشاء اللہ) اپنے خاوند کے والدین سے پوچھتی ہے کہ پانچ دس روپے چاہیے؟
بھائیو! یہ بات کتنی شرم کی ہے۔ ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور والدین کو بیوی پر ترجیح دینی چاہیے۔
──────────────────
والدین کے حکم سے بیوی کو طلاق دینا
㉓ 🕋 عن عبد الله بن عمر قال كانت تحتي امرأة وكنت أحبها وكان عمر يكرهها فقال لي طلقها فأبيت فأتى عمر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبى صلى الله عليه وسلم طلقها
💠 ” عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس کو چاہتا تھا لیکن عمر رضی اللہ عنہ (میرے باپ) اس کو برا جانتے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا: تو اسے طلاق دے دے۔ میں نہ مانا۔ وہ (عمر رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کے سامنے یہ بات عرض کی تو آپ نے (مجھے) فرمایا: اس عورت کو طلاق دے دو۔“
📘 ([صحيح] أبو داود، كتاب الادب، باب في بر الوالدين: 5138)
──────────────────
㉔ 🕋 عن أبى الدرداء قال إن رجلا أتاه فقال إن لي امرأة وإن أمي تأمرني بطلاقها فقال أبو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه
💠 ” ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میری ایک بیوی ہے اور میری ماں مجھے اسے طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا تھا کہ والد جنت کا بہترین دروازہ ہے۔ اگر تو چاہے تو (ان کی خدمت کر کے) اس دروازے کی حفاظت کر لے یا ان کی نافرمانی کر کے اسے ضائع کر لے۔“
📘 (صحيح الترمذى، كتاب ابواب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين: 1900)
🩵 نوٹ: والد سے مراد: ماں باپ ہیں۔ كما تقدم
💡 مطلب: ابودرداء رضی اللہ عنہ کا مقصد حدیث سنانے کا یہ تھا کہ ماں کی بات مان اور بیوی کو طلاق دے دے۔
💡 فائدہ: اگر ایک آدمی کے والدین اس کی بیوی سے خوش نہیں ہیں، ناراض ہیں، اس سے تنگ ہیں اور وہ اپنے بیٹے کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو بیٹے پر فرض ہے کہ والدین کا حکم مان کر بیوی کو طلاق دے بشرطیکہ واقعی اس کا قصور اور غلطی ہو۔
اور اگر اس کا قصور اور غلطی نہ ہو اور والدین اس کو شریعت کے خلاف حکم دیتے ہیں، کہتے ہیں رفع الیدین نہ کیا کر، دربار پر جایا کر، غیر اللہ کے نام پر گیارہویں دلوایا کر وغیرہ،
اور اگر وہ عورت ان بدعات کو نہیں مانتی تو پھر ایسی صورت میں والدین کی بات مان کر بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیے۔
──────────────────
والدین کا حق کیسے ادا ہو سکتا ہے
㉕ 🕋 عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يجزي ولد والدا إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق پورا نہیں کر سکتا مگر کہ وہ اپنے باپ کو غلام پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔“
📘 (صحيح مسلم، کتاب العتق، باب فضل عتق الوالد: 3799؛ الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في حق الوالدين: 1906)
💡 فائدہ: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان ساری عمر والدین کی خدمت کرتا رہے، ان کی اطاعت کرتا رہے، ان کے آگے "اف" تک نہ کہے، اپنی کمر پر اٹھا کر والدین کو حج کروائے، پھر بھی والدین کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا۔
ہاں، والدین کے حق ادا کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ والدین کو غلام لونڈی کی صورت میں پائے اور ان کو خرید کر آزاد کر دے۔
──────────────────
والدین کے دوستوں سے صلہ رحمی
㉖ 🕋 عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أبر البر صلة المرء أهل ود ابيه بعد ان يولي
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکیوں میں سے بڑی نیکی، آدمی کا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرنا ہے۔“
📘 (صحیح ابوداود، کتاب الادب، باب في بر الوالدين: 5143)

10 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
والدین کے لیے دعا
نیک بخت اولاد کی سعادت مندی یہ ہے کہ ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرے کیونکہ اس کی تعلیم قرآن و حدیث میں دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے لیے دعا کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ تم اس طرح دعا کیا کرو:
❀ ﴿رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾
💠 ” اے میرے رب! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم کر۔“
📘 (الإسراء 17:24)
❀ ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ﴾
💠 ” اے رب ہمارے! مجھے، میرے ماں باپ اور مومنوں کو جس دن عملوں کا حساب ہونے لگے، بخش دے۔“
📘 (إبراهيم 14:41)
──────────────────
㉗ 🕋 عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال القنطار اثنا عشر ألف أوقية كل أوقية خير مما بين السماء والأرض وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الرجل لترفع درجته فى الجنة فيقول أنىٰ هذا فيقال باستغفار ولدك لك
💠 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”خزانہ بارہ ہزار اوقیہ کا ہے، ہر اوقیہ آسمان و زمین کے درمیان کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جنت میں شخص کا درجہ بڑھایا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے یہ کیوں ہوا ہے؟ تو اسے بتایا جاتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے بخشش طلب کی ہے۔“
📘 ([حسن] ابن ماجه، كتاب الادب، باب بر الوالدين: 3660)
💡 بعض علما کا اسے ضعیف قرار دینا درست نہیں۔
──────────────────
کافر اور مشرک والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ممنوع ہے
جو والدین مشرک فوت ہو جائیں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا گناہ ہے اور ممنوع ہے۔
❀ ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾
💠 ” نبی اور اہل ایمان والوں کے لیے درست نہیں ہے کہ مشرکین کے لیے بخشش طلب کریں، اگر چہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔“
📘 (التوبة 9:113)
──────────────────
بے نماز والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ممنوع ہے
جو والدین بے نماز ہیں اور وہ اسی حالت میں مر جاتے ہیں تو ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرنا ممنوع ہے، اس لیے کہ بے نماز مشرک ہے اور مشرک کے لیے بخشش کی دعا کرنا ممنوع ہے۔ كما تقدم
──────────────────
بے نماز کافر اور مشرک ہے
❀ ﴿فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾
💠 ” اگر وہ توبہ کر لیں، نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔“
📘 (التوبة 9:11)
💡 فائدہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ دینی بھائی بننے کے لیے نماز کی ادائیگی شرط ہے، جو نماز نہیں پڑھتا وہ دینی بھائی نہیں ہے یعنی غیر مسلم ہے۔
──────────────────
㉘ 🕋 إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة
💠 ” بے شک مسلمان آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔“
📘 (صحيح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلوة: 246)
──────────────────
㉙ 🕋 قال النبى صلى الله عليه وسلم ليس بين العبد والشرك إلا ترك الصلاة فإذا تركها فقد أشرك
💠 ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے، تو جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا۔“
📘 (ابن ماجه، ابواب المساجد والجماعات، باب ما جاء فيمن ترك الصلوة: 1080)
💡 سند ضعیف لضعف يزيد بن ابان الرقاشي، مگر معنی حدیث صحیح ہے کیونکہ پچھلی حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔
──────────────────
㉚ 🕋 فمن تركها متعمدا فقد خرج من الملة
💠 ” جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی پس تحقیق وہ ملت (یعنی دین) سے خارج ہو گیا۔“
📘 ([حسن] الترغيب، الرقم: 797)

11 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝
والدین کی نافرمانی حرام ہے
㉛ 🕋 عن المغيرة بن شعبة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات
💠 ” مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں کی نافرمانی اور ستانا حرام قرار دیا ہے۔“
📘 (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5974)
──────────────────
㉜ 🕋 عن معاذ بن جبل قال أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات قال لا تشرك بالله شيئا وإن قتلت أو حرقت ولا تعقن والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك
💠 ” معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس کلمات کی وصیت کی۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، اگر چہ تجھے قتل کر دیا جائے یا تجھے جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا اگر چہ وہ دونوں تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے نکل جائے۔“
📘 (صحيح الترغيب والترهيب، باب الترهيب من عقوق الوالدين: 2516)
──────────────────
والدین کی نافرمانی بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے
㉝ 🕋 عن عبد الرحمن بن أبى بكرة عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قال ثلاثا قالوا بلى يا رسول الله قال الإشراك بالله وعقوق الوالدين
💠 ” ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے جو بڑے گناہ ہیں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“
📘 (صحيح البخاری، کتاب الادب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5976)
──────────────────
㉞ 🕋 عن أبى أمامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة لا يقبل الله منهم صرفا ولا عدلا عاق ومنان ومكذب بالقدر
💠 ” ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی تین آدمیوں کی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں فرماتے: والدین کا نافرمان، احسان جتلانے والا، اور تقدیر کو جھٹلانے والا۔“
📘 (كتاب السنة لابن أبي عاصم الرقم 323؛ قال الالبانی حسن والله اعلم)
──────────────────
والدین کو جھڑکنا اور ڈانٹنا حرام ہے
❀ ﴿فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا﴾
💠 ” پس ماں باپ کے لیے اف تک نہ کہو، ہوں تک نہ کرنا، اور نہ انہیں ڈانٹو جھڑکو۔“
📘 (الإسراء 17:23)
💡 فائدہ: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر والدین بڑھاپے کی وجہ سے کوئی ایسی بات کریں جو تمہیں ناپسند ہو تو پھر بھی تم نے "اف" تک نہیں کہنا۔ یعنی والدین کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی جس سے انہیں تکلیف یا پریشانی ہو۔
ان بھائیوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے جو والدین کو جھڑکتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، وگرنہ دنیا اور آخرت میں ذلت ان کا مقدر بن جائے گی۔
──────────────────
والدین کو پریشان کرنا جائز نہیں ہے
㉟ 🕋 عن عبد الله بن عمرو قال جاء رجل إلى رسول الله فقال جئت أبايعك علىٰ الهجرة وتركت أبوي يبكيان قال ارجع إليهما فأضحكهما كما أبكيتهما
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا: میں آپ سے ہجرت کرنے پر بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین روتے ہوئے چھوڑ آیا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو ان کی طرف لوٹ جا، انہیں ہنسا جیسے انہیں رلایا ہے۔“
📘 ([صحیح] ابوداود، كتاب الجهاد، باب في الرجل يغزو وابواه کارهان: 2528)
💡 فائدہ: ہجرت بہت اونچا اور افضل عمل ہے، اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت سے اللہ کریم انسان کی سابقہ زندگی کے تمام (صغیرہ و کبیرہ) گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
اتنا عظیم عمل ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی اجازت کے بغیر ہجرت کی بھی اجازت نہیں فرمائی۔

12 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝

والدین کے نافرمان کی ناک خاک آلود ہو
㊱ 🕋 عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال رغم أنفه ثم رغم أنفه ثم رغم أنفه قيل من يا رسول الله قال من أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی رسوا ہو) جو اپنے ماں باپ دونوں کو یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے، پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں نہ جائے۔“
📘 (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب رغم من ادرك ابويه او احدهما عند الكبير فلم يدخل الجنة: 6510)

💡 فائدہ: محترم بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس بدبخت کے لیے بددعا فرما رہے ہیں جو والدین کی خدمت کر کے جنت حاصل نہیں کرتا۔
سوچئے! جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا فرمائیں، وہ دنیا و آخرت میں کیسے عزت پاسکتا ہے، کیسے کامیاب ہو سکتا ہے؟

──────────────────

والدین کے نافرمان پر اللہ کی پھٹکار
㊲ 🕋 عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رقي المنبر فقال آمين آمين آمين فقيل له يا رسول الله ما كنت تصنع هذا فقال قال لي جبريل رغم أنف عبد أدرك رمضان فانسلخ منه لم يغفر له فقلت آمين ثم قال رغم أنف عبد أدرك والديه أو أحدهما فلم يدخله الجنة فقلت آمين ثم قال رغم أنف عبد ذكرت عنده فلم يصل عليك فقلت آمين
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو فرمایا: آمین آمین آمین۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا، اللہ اس آدمی کا ناک خاک آلود کرے یا اس پر اللہ کی پھٹکار ہو۔“
📘 (ابن خزيمة، باب فضائل شهر رمضان العبادة في رمضان: 1888)

⋆ جس نے رمضان کا ماہ پایا اور بخشا نہ گیا، تو میں نے کہا: آمین۔
⋆ پھر جبرئیل نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو یا اس پر پھٹکار ہو جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو پایا (پھر ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ تو میں نے کہا: آمین۔
⋆ پھر جبرئیل نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو یا اس پر پھٹکار ہو جس شخص کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے۔ تو میں نے کہا: آمین۔

💡 فائدہ: بھائیو! والدین کے نافرمان پر سید الملائکہ جبرئیل علیہ السلام بددعا فرما رہے ہیں اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہہ رہے ہیں۔

──────────────────

والدین کا نافرمان لعنتی ہے
㊳ 🕋 عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ملعون من عمل عمل قوم لوط ملعون من عمل عمل قوم لوط ملعون من عمل عمل قوم لوط ملعون من ذبح لغير الله ملعون من عق والديه
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص لعنتی ہے جس نے لوط علیہ السلام کی قوم کا عمل کیا — آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی — اور فرمایا: وہ شخص لعنتی ہے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اور وہ شخص بھی لعنتی ہے جس نے والدین کی نافرمانی کی۔“
📘 (الترغيب والترهيب، باب الترهيب من عقوق الوالدين؛ قال الألبانی حسن والله أعلم: 2515)

13 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝

والدین کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے
㊴ 🕋 عن أبى الطفيل عامر بن وائلة قال كنت عند على بن أبى طالب فأتاه رجل فقال ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يسر إليك قال فغضب وقال ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يسر إلى شيئا يكتمه الناس غير أنه قد حدثني بكلمات أربع قال فقال ما هن يا أمير المؤمنين قال قال لعن الله من لعن والده لعن الله من ذبح لغير الله لعن الله من آوى محدثا لعن الله من غير منار الأرض
💠 ” ابوطفیل عامر بن وائلہ بیان کرتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس راز کی کیا بات کرتے تھے؟ وہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ غصہ ہوئے اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کچھ بھی راز کی بات نہیں کرتے تھے کہ جسے لوگوں سے چھپاتے ہوں سوائے اس کے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کلمے بتائے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ کونسے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اپنے ماں باپ پر اللہ کی لعنت بھیجی (یعنی ان کو لعنتی کہا)، اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کیا، اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے بدعتی کو جگہ دی۔ اور اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے زمین کے نشانات کو تبدیل کیا۔“
📘 (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب تحريم الذبح لغير الله تعالى ولعن فاعله: 5124)

──────────────────

㊵ 🕋 عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه قيل يا رسول الله وكيف يلعن الرجل والديه قال يسب الرجل أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو لعنتی کہے۔ پوچھا گیا کیا آدمی اپنے والدین کو لعنتی کہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی دوسرے آدمی کے والد کو گالی دیتا ہے تو (جواباً) وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، یہ اُس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو (جواباً) وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
📘 (البخاری، کتاب الادب، باب لا يسب الرجل والديه: 5973)

──────────────────

㊶ 🕋 عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكبائر أن يشتم الرجل والديه قالوا يا رسول الله وهل يشتم الرجل والديه قال نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے والدین کو برا بھلا کہے — کبیرہ گناہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا آدمی اپنے والدین کو برا بھلا کہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ کسی آدمی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، تو (جواباً) وہ اس کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، یہ اُس کی ماں کو برا بھلا کہتا ہے تو (جواباً) وہ اس کی ماں کو برا بھلا کہتا ہے۔“
📘 (صحيح الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ماجاء في عقوق الوالدين: 1902)

💡 فائدہ: معلوم ہوا کہ جو کسی کے والدین کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کے والدین کو گالی دیتا ہے تو پہلے شخص نے گویا اپنے والدین کو گالی دی۔

──────────────────

والدین کا نافرمان جہنمی ہے
㊷ 🕋 عن عبد الله بن عمرو عن النبى صلى الله عليه وسلم قال لا يدخل الجنة منان ولا عاق ولا مدمن خمر
💠 ” عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نہیں داخل ہوگا بہت زیادہ احسان جتلانے والا، ماں باپ کا نافرمان، اور ہمیشہ شراب پینے والا۔“
📘 (صحيح سنن النسائى، كتاب الاشربة، باب الرواية في المدمنين في الخمر: 5672)

──────────────────

㊸ 🕋 عن عمرو بن مرة الجهني قال جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله شهدت أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وصليت الخمس وأديت زكاة مالي وصمت رمضان فقال النبى صلى الله عليه وسلم من مات علىٰ هذا كان مع النبيين والصديقين والشهداء يوم القيامة هكذا ونصب إصبعيه ما لم يعق والديه
💠 ” عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، میں پانچ نمازیں پڑھتا ہوں، اپنے مال کی زکوٰۃ دیتا ہوں، اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حالت پر مر جائے وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین (انتہائی سچے) اور شہداء کے ساتھ اس طرح ہوگا“ — اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کو کھڑا کیا — ”جب کہ اس نے والدین کی نافرمانی نہ کی ہوگی۔“
📘 (الترغيب والترهيب، باب الترهيب من عقوق الوالدين؛ قال الألباني صحيح والله أعلم: 2515)

💡 فائدہ: آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والا، نماز پڑھنے والا، زکوٰۃ دینے والا اور روزے رکھنے والا قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ والدین کا نافرمان نہ ہو۔
اگر وہ تمام نیک اعمال کے باوجود والدین کا نافرمان ہے تو وہ ان بلند درجوں کا مستحق نہیں ہوگا۔

14 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝

والدین کے نافرمان جنت میں داخل نہیں ہوں گے
㊹ 🕋 عن جبير بن مطعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يدخل الجنة قاطع رحم
💠 ” جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہ داری کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
📘 (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها: 6521)

💡 فائدہ: عام رشتے داروں سے قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جا سکتا، تو والدین سے قطع رحمی کرنے والا جنت میں کیسے جا سکتا ہے جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا سب سے زیادہ حکم ہے۔

──────────────────

قیامت کے دن اللہ والدین کے نافرمان کو نہیں دیکھے گا
㊺ 🕋 عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة العاق لوالديه والمرأة المترجلة والديوث وثلاثة لا يدخلون الجنة العاق لوالديه والمدمن علىٰ الخمر والمنان بما أعطى
💠 ” عبد الله رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین آدمیوں کی طرف اللہ تعالیٰ نہیں دیکھے گا:
● والدین کا نافرمان
● مردوں کی مشابہت کرنے والی عورت
● دیّوث (بے غیرت مرد)

تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:
● اپنے والدین کا نافرمان
● ہمیشہ شراب پینے والا
● اور دیئے ہوئے پر احسان جتانے والا۔“
📘 ([صحيح] النسائی، کتاب الزكوة، باب المنان بما اعطى: 2562)

──────────────────

والدین کے نافرمان کو دنیا میں سزا
㊻ 🕋 عن أبى بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من ذنب أجدر أن يعجل الله تعالى لصاحبه العقوبة فى الدنيا مع ما يدخر له فى الآخرة من البغي وقطيعة الرحم
💠 ” ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو جلد دنیا میں اس کا عذاب دے اور آخرت میں بھی اس کے عذاب کو اس کے لیے جمع رکھے (مگر دو گناہ اس لائق ہیں): بغاوت کرنا اور رشتوں ناتوں کو توڑنا۔“
📘 ([صحيح] أبو داود، كتاب الادب، باب في النهي عن البغي: 4902)

💡 فائدہ: انسان کے سب رشتوں ناتوں سے بہترین اور قریب ترین رشتہ والدین کا رشتہ ہے، تو جو والدین سے رشتہ نہیں جوڑے گا، ان کے حقوق پورے نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا میں جلد از جلد اسے کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا کر دے گا اور آخرت میں بھی اسے عذاب دے گا۔

──────────────────

والدین کے نافرمان پر دنیاوی عذاب کی مثال
㊼ 🕋 عن العوام بن حوشب قال نزلت مرة حيا وإلىٰ جانب ذلك الحي مقبرة فلما كان بعد العصر انشق منها قبر فخرج رجل رأسه رأس حمار وجسده جسد إنسان فنهق ثلاث نهقات ثم انطبق عليه القبر فإذا عجوز تغزل شعرا أو صوفا فقالت امرأة ترىٰ تلك العجوز قلت ما لها قالت تلك أم هذا قلت وما كان قصته قالت كان يشرب الخمر فإذا راح تقول له أمه يا بني اتق الله إلىٰ متىٰ تشرب هذه الخمر فيقول لها إنك تنهقين كما ينهق الحمار قالت فمات بعد العصر قالت فهو ينشق عنه القبر بعد العصر كل يوم فينهق ثلاث نهقات ثم ينطبق عليه القبر
💠 ” عوام بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ایک قبیلے میں اترا اور اس قبیلے کے قریب ایک قبرستان تھا۔ نمازِ عصر کے بعد قبرستان میں سے ایک قبر پھٹی، اس سے ایک ایسا انسان نکلا جس کا سر گدھے کا اور جسم انسان کا تھا۔ وہ گدھے کی طرح تین دفعہ رینکا، پھر قبر اس پر بند ہو گئی۔
اچانک وہاں ایک بڑھیا اون یا بال کات رہی تھی۔ عوام بن حوشب فرماتے ہیں: ایک عورت نے کہا کہ اس عورت کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: یہ بڑھیا (قبر سے نکلنے والے) اُس انسان کی ماں ہے۔ میں نے کہا: اس کا کیا قصہ ہے؟ اس نے کہا: یہ شراب پیتا تھا۔ جب شام کو گھر آتا تو اس کی ماں اسے کہتی: اے بیٹے! اللہ سے ڈر، کب تک شراب پیتا رہے گا؟ وہ (جواباً) کہتا: تو گدھے کی طرح رینکتی رہتی ہے۔
عورت نے کہا: یہ عصر کے بعد فوت ہوا اور اب ہر روز عصر کے بعد اس کی قبر پھٹتی ہے، وہ گدھے کی طرح تین بار رینکتا ہے، پھر قبر بند ہو جاتی ہے۔“
📘 (الترغيب والترهيب، باب الترهيب من عقوق الوالدين؛ قال الالباني حسن والله أعلم: 2017)

──────────────────

15 🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ماں باپ سے حسن سلوک پر 52 صحیح احادیث 🌿
╚══════════════════╝

والدین کی اطاعت شریعت کے خلاف میں نہیں کی جائے گی
❀ ﴿وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾
💠 ” اگر والدین کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے کچھ علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرنا، لیکن دنیا کے معاملات میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا۔“
📘 (لقمان 31:15)

📖 شانِ نزول:
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں قرآن مجید کی کئی آیتیں نازل ہوئیں۔ ان میں سے ایک یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب میری ماں نے قسم کھائی کہ وہ مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گی جب تک میں اسلام نہ چھوڑ دوں۔ نہ کھائے گی، نہ پیئے گی۔ وہ کہنے لگی: “اللہ نے تجھے ماں باپ کی اطاعت کا حکم دیا ہے، میں تیری ماں ہوں، میں تجھے حکم دیتی ہوں کہ دین اسلام چھوڑ دے۔”
تین دن وہ اسی حالت میں رہی، کچھ نہ کھایا نہ پیا، یہاں تک کہ غش آ گیا۔ پھر اس کے بھائی عمار نے پانی پلایا۔ (پانی پی کر) وہ سعد کو بددعا دینے لگی۔ اس موقع پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ ...﴾
📘 (مسلم، کتاب الفضائل، باب في فضل سعد بن ابی وقاص: 6238)

──────────────────

㊽ 🕋 عن على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا طاعة فى معصية الله إنما الطاعة فى المعروف
💠 ” علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف اچھے کاموں میں ہے۔“
📘 (مسلم، كتاب الامارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية: 4765)

──────────────────

㊾ 🕋 عن النواس بن سمعان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق
💠 ” نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔“
📘 ([صحيح] شرح السنة: 2455)

──────────────────

㊿ 🕋 عن على قال بعث النبى صلى الله عليه وسلم سرية فاستعمل عليهم رجلا من الأنصار وأمرهم أن يطيعوه فغضب عليهم فقال أليس أمركم النبى صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني قالوا بلى قال قد عزمت عليكم لما جمعتم لي حطبا وأوقدتم نارا ثم دخلتم فيها فجمعوا حطبا فأوقدوا فلما هموا بالدخول فجعل بعضهم ينظر إلىٰ بعض فقال قوم إنما تبعنا النبى صلى الله عليه وسلم فرارا من النار أفندخلها فبينما هم كذلك خمدت النار وسكن غضبه فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال لو دخلوها ما خرجوا منها أبدا إنما الطاعة فى المعروف
💠 ” حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ روانہ فرمایا اور اس کا امیر ایک انصاری کو مقرر فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی اطاعت کرنا۔ وہ شخص ان سے ناراض ہو گیا اور کہنے لگا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرو؟ سب نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو، آگ جلاؤ اور اس میں داخل ہو جاؤ۔
انہوں نے لکڑیاں جمع کیں، آگ جلائی، مگر جب داخل ہونے لگے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آگ سے بچنے کے لیے قبول کی تھی، کیا اب اسی میں کود جائیں؟ اتنے میں آگ بجھ گئی اور اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔
یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکلتے، اور ہمیشہ جہنم میں رہتے۔ اطاعت صرف جائز امور میں ہے۔“
📘 (البخاري، كتاب المغازي، باب سرية عبدالله بن حذافة: 4340)

──────────────────

(51) 🕋 عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
💠 ” عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسلم شخص پر سننا اور اطاعت کرنا ان چیزوں میں لازم ہے جنہیں وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔ جب نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے نہ اطاعت۔“
📘 ([صحیح] ابوداود، كتاب الجهاد، باب في الطاعة: 2626)

💡 فائدہ: قرآن و احادیث سے ثابت ہوا کہ شریعت کی مخالفت میں والدین کی بات تسلیم نہیں کی جائے گی۔ بلکہ دنیا کے کسی شخص — خواہ وہ والدین ہوں، امیر، استاد یا کوئی اور — کی بات شریعت کے خلاف نہیں مانی جائے گی۔
📿 فتفكر وتدبر وكن من الصالحين العاملين

──────────────────

قیامت کے دن اولاد کو باپ کے نام سے پکارا جائے گا یا ماں کے نام سے؟
📖 صحیح بات یہی ہے کہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں باب باندھا ہے:
”باب ما يُدعى الناس بآبائهم“ (لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا)
اور اس کے تحت یہ حدیث بیان کی:

(52) 🕋 عن ابن عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم قال إن الغادر يرفع له لواء يوم القيامة يقال هذه غدر فلان بن فلان
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی دھوکہ بازی ہے۔“
📘 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب ما يدعى الناس بآبائهم: 6177)

💡 فائدہ: باقی جن روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو ماں کے نام سے پکارا جائے گا وہ ضعیف ہیں۔

──────────────────

🌿 اختتامی پیغام:
اے اللہ! ہمیں اپنے والدین کے حقوق پہچاننے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے، ان کے لیے دعا کرنے اور ان کی خدمت کو عبادت سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔
اور ہمیں ان نافرمانوں میں شامل نہ فرما جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے بددعا فرمائی۔
آمین یا رب العالمین 🤲

──────────────────

16 🌿 ولادت کے بعد بچے کو میٹھی چیز کی گھٹی دینا — صحیح احادیث کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 ولادت کے بعد بچے کو میٹھی چیز کی گھٹی دینا — صحیح احادیث کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن عائشة
أن رسول الله كان يؤتى بالصبيان فيبرك عليهم ويحبكهم
💠 ” عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا، آپ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اور انہیں گھٹی دیتے تھے۔“
📘 (مسلم، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته: 5619)

──────────────────

◈ عن أسماء بنت أبي بكر
فأتيت المدينة فنزلت بقباء فولدته بقباء ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه فى حجره ثم دعا بتمرة فمضعها ثم تفل فى فيه فكان أول شيء دخل جوفه ريق رسول الله ثم حنكه بالتمرة ثم دعا له وبرك عليه
💠 ” اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: میں مدینہ آئی تو قبا میں ٹھہری، اور قبا ہی میں بچے کو جنم دیا۔ پھر میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی، آپ نے اسے اپنی گود میں رکھا، کھجور منگوائی، چبائی، اور اس کے منہ میں لعاب داخل کیا۔ تو سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔“
📘 (مسلم، کتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود: 5617)

──────────────────

◈ عن أبي موسى
قال: ولد لي غلام فأتيت به النبى صلى الله عليه وسلم فسماه إبراهيم فحنكه بتمرة ودعا له بالبركة
💠 ” ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجور کے ساتھ گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔“
📘 (البخاري، كتاب العقيقة، باب تسمية المولود غداة يولد: 5467؛ مسلم، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته: 5615)

──────────────────

◈ عن أنس بن مالك
قال لي أبو طلحة احفظه حتى تأتي به النبى صلى الله عليه وسلم فأتى به النبى صلى الله عليه وسلم وأرسلت معه بتمرات فأخذه النبى فقال: أمعه شيء؟ قالوا: نعم تمرات. فأخذها النبى فمضعها ثم أخذ من فيه فجعلها فى في الصبي وحنكه به وسماه عبد الله
💠 ” انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ میں بچہ لے گیا، کچھ کھجوریں بھی بھیجی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے ساتھ کوئی چیز ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، کچھ کھجوریں ہیں۔ آپ نے کھجور کو چبایا، بچے کے منہ میں رکھا اور اسے اس سے گھٹی دی، پھر اس کا نام عبد اللہ رکھا۔“
📘 (البخاري، كتاب العقيقة، باب تسمية المولود غداة يولد: 5470)

──────────────────

💡 فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے کہ نوزائیدہ بچے کو میٹھی چیز (خصوصاً کھجور) سے گھٹی دینا مستحب عمل ہے۔
اگر کھجور میسر نہ ہو تو کسی اور میٹھی چیز سے بھی گھٹی دینا جائز ہے۔
یہ عمل نبی ﷺ کی سنت کے مطابق برکت، صحت اور خیر و سعادت کی دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب — سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی توفیق نصیب ہو
──────────────────

17 🌿 بچے کی پیدائش کے وقت کان میں اذان و اقامت کہنا 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچے کی پیدائش کے وقت کان میں اذان و اقامت کہنا 🌿
╚══════════════════╝

📖 سوال:
کیا رسول اللہ ﷺ سے بچے کی پیدائش کے وقت کان میں اذان و اقامت کہنا ثابت ہے؟

💠 جواب:
صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بچے کی پیدائش کے وقت نہ اذان کہنا ثابت ہے اور نہ ہی اقامت کہنا ثابت ہے۔

اس سلسلے میں تین روایات پیش کی جاتی ہیں، لیکن تینوں ناقابلِ حجت ہیں:

──────────────────

➊ پہلی روایت

ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کان میں اذان دی۔
📘 (ترمذی، ابوداؤد وغیرہ)

❌ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں راوی عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے۔
📚 (التلخيص الحبير رقم 1985 – تقريب رقم 3065)

──────────────────

➋ دوسری روایت

حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
“جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو اسے ام الصبیان (یعنی بیماری) کی تکلیف نہیں ہوگی۔”

❌ یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
اس میں تین کمزور راوی ہیں:

1️⃣ مروان بن سالم الغفاری — منكر الحديث، كذاب، متروك الحديث
📚 (تهذيب التهذيب ج 5 ص 385؛ تقريب 6570)

2️⃣ یحییٰ بن العلاء — كذاب، متروك الحديث، رمي بالوضع
📚 (تهذيب ج 6 ص 162؛ تقريب 7618)

3️⃣ طلحہ العقیلی — مجہول
📚 (تقريب التهذيب رقم 3029)

لہٰذا یہ روایت ناقابلِ اعتماد ہے۔

──────────────────

➌ تیسری روایت

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی۔
📘 (رواه البيهقي في شعب الإيمان)

❌ یہ روایت بھی موضوع ہے کیونکہ اس میں راوی محمد بن یونس الکریمی ہے،
جس کے بارے میں محدثین کے اقوال:

امام ابن عدی: ”اس پر روایات گھڑنے کی تہمت ہے۔“

امام ابن حبان: ”اس نے ہزار سے زائد روایات گھڑی ہیں۔“

امام موسیٰ بن ہارون اور قاسم المطرزنی نے بھی اس کی تکذیب کی ہے۔
📚 (میزان الاعتدال رقم 37816؛ تهذيب رقم 6678)

──────────────────

💠 بعض علماء کی رائے:

شیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

“سنت کے اعتبار سے بچے کے کان میں اذان یا اقامت کہنا مشروع و مسنون نہیں، کیونکہ تمام روایات ضعیف یا موضوع ہیں۔”

البتہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:

“اس پر امت کا عمل رہا ہے۔”

اسی بنیاد پر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“یہ عمل امت کے تواترِ عملی سے ثابت ہے، اس لیے اسے جائز کہا جا سکتا ہے، مگر مسنون نہیں۔”

🔹 یعنی اذان کہنا جائز تو ہے مگر سنت نہیں،
اور اقامت والی روایت تو موضوع (من گھڑت) ہے۔

──────────────────

🌿 نتیجہ:

اذان دینا: صحیح سند سے ثابت نہیں، مگر امت کے عملی تواتر کی بنیاد پر جائز ہے۔

اقامت کہنا: باطل اور موضوع روایت پر مبنی ہے، لہٰذا ثابت نہیں۔

سنتِ نبوی ﷺ: صرف تحنیک (میٹھی چیز کی گھٹی دینا) ثابت ہے، نہ کہ اذان یا اقامت۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

18 🌿 عقیقہ کرنا فرض ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 عقیقہ کرنا فرض ہے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن سلمان بن عامر
قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:

مع الغلام عقيقة فاهريقوا عنه دما وآميطوا عنه الأذى
💠 ” سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ہر پیدا ہونے والے بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، پس اس بچے کی طرف سے خون بہا دو (یعنی جانور ذبح کرو) اور اس سے گندگی دور کرو۔“
📘 (صحيح البخاري، كتاب العقيقة، باب اماطة الأذى عن الصبي في العقيقة: 5472)

──────────────────

◈ عن عائشة
قالت: أمرنا رسول الله ﷺ أن نعق عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة
💠 ” عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔“
📘 (صحیح ابن ماجه، ابواب الذبائح، باب العقيقة: 3163)

💡 فائدہ: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لڑکا ہو یا لڑکی، ہر ایک کا عقیقہ مشروع و لازم ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کے حکم سے ثابت ہے۔

──────────────────

◈ عن سمرة
قال: قال رسول الله ﷺ:

الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه
💠 ” سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈھایا جائے۔“
📘 (صحيح الترمذی، ابواب الاضاحي، باب ما جاء في العقيقة: 1522؛ ابن ماجه، ابواب الذبائح، باب العقيقة: 3165)

──────────────────

◈ عن أم كرز
قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:

عن الغلام شاتان مكافتتان وعن الجارية شاة
💠 ” ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کی جائے۔“
📘 (صحيح ابن ماجه، ابواب الذبائح، باب العقيقة: 3163؛ الترمذي، أبواب الاضاحی، باب ما جاء في العقيقة: 5113)

──────────────────

◈ عن أبى بريدة
قال: كنا فى الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسه بدمها فلما جاء الله بالإسلام كنا نذبح شاة ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران
💠 ” ابو بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جاہلیت کے دور میں جب کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ اس کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا اور اس کے سر پر اس بکری کا خون لگاتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت سے نوازا تو ہم ایک بکری ذبح کرتے، اس کا سر منڈھاتے اور اس کے سر پر زعفران لگاتے۔“
📘 (صحیح ابوداود، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2843)

──────────────────

💡 فائدہ:
ان تمام احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ عقیقہ ساتویں دن کرنا سنتِ مؤکدہ بلکہ والدین پر لازم و واجب کے درجے میں ہے۔

اگر ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہ ہو تو جب بھی مالی وسعت ہو، والدین پر فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ کریں، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:

“بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے۔”

📘 (الترمذی: 1522)

یعنی جب تک والدین اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ نہیں کرتے، وہ ایک طرح سے دَین (قرض) کی حیثیت رکھتا ہے۔
جس طرح کوئی شخص قرض ادا کیے بغیر آزاد نہیں ہوتا، اسی طرح اولاد کا عقیقہ بھی ادا کیا جانا چاہیے۔

اگر کسی کے پاس ساتویں دن استطاعت تھی لیکن کسی وجہ سے تاخیر ہو گئی تو بعد میں بھی عقیقہ ادائیگی لازم ہے کیونکہ یہ والدین پر قرض ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

19 🌿 میت کی طرف سے عقیقہ 🌿

╔══════════════════╗
🌿 میت کی طرف سے عقیقہ 🌿
╚══════════════════╝

اگر بچہ پیدا ہونے کے سات روز گزر جانے کے بعد فوت ہوا ہے تو پھر بھی باپ پر اس کا عقیقہ کرنا ضروری ہے۔

لیکن اگر بچہ ساتواں دن آنے سے پہلے فوت ہو جائے،
تو پھر عقیقہ فرض نہیں،
کیونکہ حدیث کے الفاظ یوم السابع (یعنی ساتویں روز) کے ہیں —
اور جب اس پر ساتواں دن آیا ہی نہیں تو اس کا عقیقہ واجب نہیں ہوتا۔

──────────────────

جب بھی عقیقہ کیا جائے تو “عقیقہ” ہی ہوگا، عام صدقہ نہیں۔

◈ عن سمرة
قال: قال رسول الله ﷺ:

الغلام مرتهن بعقيقته
💠 ” سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے۔“
📘 (صحيح الترمذی، ابواب الاضاحي، باب ما جاء في العقيقة: 1522؛ ابن ماجه، ابواب الذبائح، باب العقيقة: 3165)

──────────────────

◈ عن أنس رضي الله عنه:

أن النبى صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بعد ما جاءته النبوة
💠 ” انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نبوت کے بعد اپنا عقیقہ خود کیا۔“
📘 ([حسن] الطبراني الأوسط الرقم 1994؛ مصنف عبدالرزاق، كتاب العقيقة، باب وجوب العقيقة: 7990)

💡 فائدہ: غور فرمائیں — نبی ﷺ نے چالیس سال کے بعد اپنا عقیقہ کیا،
پھر بھی اس پر “صدقہ” نہیں بلکہ “عقیقہ” کا لفظ ہی استعمال ہوا۔
لہٰذا جب بھی یہ عمل کیا جائے، اسے عقیقہ ہی کہا جائے گا، صدقہ نہیں۔

──────────────────

لڑکے کی طرف سے دو بکریاں، لڑکی کی طرف سے ایک بکری

◈ عن أم كرز
أنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة فقال:

عن الغلام شاتان، وعن الجارية شاة، لا يضر كم اذكرانا كن أم إناثا
💠 ” ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
لڑکے کے عقیقے میں دو بکریاں اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری۔
نر یا مادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
📘 (صحيح الترمذی، ابواب الاضاحي، باب ما جاء في العقيقة: 1513؛ ابوداود، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2835)

💡 فائدہ:
افضل یہی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں عقیقہ کی جائیں۔
تاہم بوقتِ ضرورت ایک بکری بھی کفایت کر جائے گی۔

📘 دلیل:
رسول اللہ ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا عقیقہ کیا۔
(ابوداؤد، الرقم: 2841)

جبکہ جس روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے دو دو مینڈھے کیے، وہ ضعیف ہے،
کیونکہ اس میں راوی قتادہ مدلس ہیں اور انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔

💡 قربانی کی طرح “اونٹ میں دس حصے” یا “گائے میں سات حصے” والا حساب عقیقے میں نہیں چلے گا۔
عقیقہ صرف بھیڑ یا بکری سے کیا جائے گا کیونکہ احادیث میں صرف انہی کا ذکر آیا ہے۔

نیز عقیقے کے جانور کا دوندا (عمر کی شرط) ہونا ضروری نہیں ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
─────────────────

20 🌿 بچے کے بال منڈوانے کے بعد سر پر خوشبو لگانا — احادیث کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچے کے بال منڈوانے کے بعد سر پر خوشبو لگانا — احادیث کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝

اسلام نے جاہلیت کی رسومات کو ختم کر کے ان کی جگہ پاکیزہ اور بابرکت سنتیں عطا فرمائیں۔
اسی طرح بچے کے سر پر خون لگانے کی جاہلی رسم کے بجائے خوشبو لگانے کی سنت عطا کی گئی۔

──────────────────

◈ عن أبى بريدة رضي الله عنه
قال: كنا فى الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسه بدمها فلما جاء الله بالإسلام كنا نذبح شاة ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران
💠 ” ابو بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جاہلیت کے دور میں جب کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ اس کے لیے ایک بکری ذبح کرتا اور اس کے سر پر بکری کا خون لگاتا۔
جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت دی تو ہم ایک بکری ذبح کرتے، بچے کا سر منڈھاتے اور اس پر زعفران لگاتے۔“
📘 ([صحيح] ابوداود، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2843؛ السنن الكبرى للبيهقي الرقم: 19288)

──────────────────

◈ عن عائشة رضي الله عنها
قالت: كانوا فى الجاهلية إذا عقوا عن الصبي خضبوا قطنة بدم العقيقة فإذا حلقوا رأس الصبي وضعوه على رأسه، فقال النبي ﷺ:

اجعلوا مكان الدم خُلُوقًا
💠 ” عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جاہلیت میں لوگ جب بچے کا عقیقہ کرتے تو عقیقے کے خون میں روئی بھگو کر بچے کے سر پر لگاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم خون کی جگہ خوشبو لگاؤ۔“
📘 ([صحيح] صححه ابن السكن كما في التلخيص رقم: 1983؛ ابن حبان رقم: 5284، باب العقيقة؛ السنن الكبرى للبيهقي رقم: 19289)

──────────────────

💡 فائدہ:

نبی کریم ﷺ نے خون لگانے کی رسم کو ختم کر کے زعفران یا خوشبو لگانے کا حکم دیا۔

یہ عمل تحنیک، عقیقہ، اور حلقِ رأس کے بعد مکمل سنت کے طور پر کیا جاتا ہے۔

خوشبو لگانے سے مقصد بچے کے سر کو پاکیزگی، خوشبو اور برکت دینا ہے، نہ کہ کوئی رسم یا بدعت۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

21 🌿 بچے کا اچھا نام رکھنا اور برا نام بدلنا — صحیح احادیث کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچے کا اچھا نام رکھنا اور برا نام بدلنا — صحیح احادیث کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝

اسلام میں نام کی بڑی اہمیت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے صرف نام رکھنے کی تاکید نہیں فرمائی بلکہ برے اور ناپسندیدہ نام بدلنے کو بھی سنت قرار دیا۔

──────────────────

◈ عن ابن عمر رضي الله عنهما
أن ابنة لعمر كانت يقال لها: عاصية، فسماها رسول الله ﷺ جميلة
💠 ” ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ (نافرمان) تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل کر جمیلہ (خوبصورت) رکھا۔“
📘 (صحيح مسلم، كتاب الأدب، باب استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن: 5604)

──────────────────

◈ عن سهل بن سعد رضي الله عنه
قال: قال النبي ﷺ لرجلٍ ما اسمك؟ قال: حَزْنٌ، قال: أنت سَهْلٌ
💠 ” رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی سے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے کہا: میرا نام حَزْن (سخت زمین) ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم سَہْل (نرم و ہموار) ہو۔“
📘 (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب اسم الحزن)

──────────────────

◈ عن رجلٍ قال:
سمع النبى ﷺ يسمون رجلا منهم عبد الحجر، فقال النبي ﷺ: ما اسمك؟ قال: عبد الحجر، قال: لا، أنت عبد الله
💠 ” نبی کریم ﷺ نے سنا کہ لوگ اپنے میں سے ایک شخص کو عبد الحجر (پتھر کا بندہ) کہتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: عبد الحجر۔
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم عبد اللہ ہو۔“
📘 (صحيح الأدب المفرد، رقم: 811)

──────────────────

◈ عن سمرة بن جندب رضي الله عنه
قال رسول الله ﷺ:

لا تسم غلامك رباحا، ولا يسارا، ولا أفلح، ولا نافعا
💠 ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے غلام کا نام رباح، یسار، افلح یا نافع نہ رکھو۔“
📘 (صحيح مسلم، كتاب الآداب، باب كراهية التسمية بالأسماء القبيحة: 5600)

──────────────────

◈ عن ابن عباس رضي الله عنهما
قال: كانت جويرية اسمها برة، فحوّل رسول الله ﷺ اسمها جويرية، وكان يكره أن يقال خرج من عند برة
💠 ” ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برة (نیکو کار) تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام جویریہ رکھا، کیونکہ آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کہ لوگ کہیں کہ آپ ‘برة’ (نیکی) کے پاس سے نکلے ہیں۔“
📘 (صحيح مسلم، كتاب الأدب، باب استحباب تغيير الاسم: 5606)

──────────────────

◈ عن أسامة بن أخدري رضي الله عنه
أن رجلا يقال له أصرم، فقال رسول الله ﷺ: ما اسمك؟ قال: أنا أصرم، قال: بل أنت زرعة
💠 ” اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص جس کا نام اصرَم تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: اصرم۔
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تمہارا نام زرعہ ہے۔“
📘 (صحيح أبوداود، كتاب الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح: 4954)

──────────────────

◈ عن عائشة رضي الله عنها
قالت: كان النبى ﷺ يغير الاسم القبيح
💠 ” عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ برے نام بدل دیتے تھے۔“
📘 (صحيح الترمذی، كتاب الأدب، باب ما جاء في تغيير الأسماء: 2839)

──────────────────

💡 فائدہ:

والدین پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کے لیے نیک، با معنی اور شرعی لحاظ سے درست نام رکھیں۔

جو نام شریعت کے منافی یا بُرے معنی رکھتا ہو، جیسے “عبدالنبی”، “عبدالرسول” یا کفریہ مفہوم والے نام — ان سے پرہیز کیا جائے۔

اگر پہلے سے ایسا نام رکھا گیا ہو تو اسے تبدیل کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

22 🌿 اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ نام 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ نام 🌿
╚══════════════════╝

──────────────────

اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نام

◈ عن ابن عمر رضي الله عنهما
قال رسول الله ﷺ:

أحب الأسماء إلى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن
💠 ” عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔“
📘 (صحيح أبوداود، كتاب الأدب، باب في تغيير الأسماء: 4949)

💡 فائدہ:
اللہ تعالیٰ کو وہ نام پسند ہیں جن میں عبودیت (بندگی) کا اظہار ہو۔
لہٰذا ایسے نام جو “عبد” سے شروع ہوں، جیسے:
عبدالرحیم، عبدالغفور، عبدالعزیز — یہ سب پسندیدہ ناموں میں شامل ہیں۔

──────────────────

اللہ کے ہاں سب سے بدترین اور برا نام “شہنشاہ” ہے

◈ عن أبى هريرة رضي الله عنه
قال: قال رسول الله ﷺ:

أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین اور برا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام شہنشاہ (ملك الأملاك) رکھا۔“
📘 (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب أبغض الأسماء إلى الله تعالى: 6205)

──────────────────

◈ وفي رواية مسلم:

أغيط رجل على الله يوم القيامة وأخبته وأغيظه عليه رجل كان يسمى ملك الأملاك، لا ملك إلا الله
💠 ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مغضوب، بدترین اور مبغوض شخص وہ ہوگا جس نے اپنا نام شہنشاہ (ملك الأملاك) رکھا، حالانکہ اللہ کے سوا کوئی شہنشاہ نہیں ہے۔“
📘 (صحيح مسلم، كتاب الأدب، باب تحريم التسمى ملك الأملاك وملك الملوك: 5611)

💡 فائدہ:
ایسے القابات جو اللہ کی شان میں شریک ہوں — جیسے شہنشاہ، سلطانِ عالم، ربّ العالمین وغیرہ —
ان کا استعمال حرام ہے۔
عام لوگ مذاق یا بڑائی کے اظہار میں کہتے ہیں: “فلاں بڑا شہنشاہ ہے” —
ایسے الفاظ سے اجتناب ضروری ہے،
کیونکہ اللہ کے سوا کوئی شہنشاہ نہیں۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

23 🌿 بچے کا ختنہ کرائیں — احادیث کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچے کا ختنہ کرائیں — احادیث کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝

اسلام میں ختنہ (Circumcision) صفائی، طہارت اور فطرتِ انسانی کا حصہ ہے۔
یہ عمل نبیوں اور رسولوں کی سنت رہا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اسے فطری عادات میں شامل فرمایا۔

──────────────────

◈ عن أبى هريرة رضي الله عنه
قال: سمعت النبى ﷺ يقول:

الفطرة خمس: الختان، والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط
💠 ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں:
➊ ختنہ کرانا
➋ زیر ناف صفائی (لوہا استعمال کرنا)
➌ مونچھیں کاٹنا
➍ ناخن تراشنا
➎ بغل کے بال اکھیڑنا“
📘 (صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب تقليم الأظفار: 5891)

💡 فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ختنہ فطرتِ اسلامیہ کا حصہ ہے۔
نبی ﷺ نے اس کو فطرت کی بنیادی علامتوں میں شمار کیا۔
بعض ضعیف روایات میں “ساتویں دن ختنہ” کا ذکر ہے، مگر وہ صحیح سند سے ثابت نہیں۔

──────────────────

ختنہ کرانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے

◈ قال رسول الله ﷺ:

اختتن إبراهيم وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم
💠 ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ بسولے کے ساتھ کیا جب ان کی عمر اسی (80) سال تھی۔“
📘 (صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قوله تعالى: واتخذ الله إبراهيم خليلا : 3356)

💡 فائدہ:
ختنہ تمام انبیائے کرام کی سنت رہا ہے، اور یہ عمل پاکیزگی، طہارت اور اطاعتِ الٰہی کی علامت ہے۔

──────────────────

صفائی کے دیگر اعمال کی زیادہ سے زیادہ مدت

◈ عن أنس بن مالك رضي الله عنه
قال:

وقت لنا رسول الله ﷺ في قص الشارب وتقليم الأظفار وحلق العانة ونتف الإبط أن لا نترك أكثر من أربعين يوماً
💠 ” انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال صاف کرنے میں وقت مقرر کیا کہ انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑا جائے۔“
📘 (صحيح النسائي، كتاب ذكر الفطرة، باب التوقيت في ذلك: 14)

💡 فائدہ:

ان صفائی کے اعمال کو چالیس دن سے زیادہ مؤخر کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔

ان کاموں میں سستی نہ کی جائے؛ یہ اسلام کی صفائی، طہارت اور نظم و ضبط کی تعلیمات میں سے ہیں۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

24 🌿 مائیں بچوں کو دودھ پلائیں — قرآن کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 مائیں بچوں کو دودھ پلائیں — قرآن کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝

❀ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾
💠 ”مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں۔“
📘 (البقرة 2:233)

• اللہ تعالیٰ نے ماں کو حکم دیا کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلائے۔
• ماں کا دودھ بچے کے لیے فطری رزق اور بہترین غذائیت ہے۔

──────────────────

ماں کے علاوہ کسی اور عورت کا دودھ پلانا بھی جائز ہے

❀ ﴿وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾
💠 ”اگر تم چاہو کہ اپنی اولاد کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلواؤ تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔“
📘 (البقرة 2:233)

• ضرورت یا مجبوری کے تحت دوسری عورت سے دودھ پلوانا جائز ہے۔
• ایسی صورت میں رضاعت کی محرمیت ثابت ہو جاتی ہے۔

──────────────────

دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے

❀ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾
💠 ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔“
📘 (البقرة 2:233)

• قرآن کریم نے رضاعت کی مدت 2 سال (24 مہینے) بیان فرمائی ہے۔
• جو ماں پوری مدت دودھ پلانا چاہے، یہ اس کے لیے افضل ہے۔

──────────────────

بعض علماء نے 2.5 سال (30 مہینے) کا قول بیان کیا ہے

❀ ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾
💠 ”اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔“
📘 (الأحقاف 46:15)

• بعض علماء نے اس آیت سے 2.5 سال رضاعت کا قول کیا ہے، لیکن یہ استدلال درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ:

آیت میں حمل + رضاعت دونوں کی مشترکہ مدت 30 مہینے بتائی گئی ہے۔

صرف رضاعت کی مدت اس آیت میں بیان نہیں۔

البقرة 2:233 صاف الفاظ میں رضاعت = 2 سال بیان کرتی ہے۔

• لہٰذا درست حکم یہ بنتا ہے:

کل مدت = 30 مہینے

رضاعت = 24 مہینے

باقی مدت = 6 مہینے = کم از کم حمل کی مدت

• یہی مفہوم قرآن کی تین آیات سے مکمل ہوتا ہے:

البقرة 2:233

لقمان 14

الأحقاف 15

──────────────────

خلاصہ

دودھ پلانے کی مدت: 2 سال (24 مہینے)

30 مہینے = حمل + رضاعت دونوں

کم از کم حمل: 6 مہینے

دودھ پلانا ماں کا حق بھی ہے اور بچے کا بہترین حق بھی

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

25 🌿 دودھ پلانے کی مدت سے پہلے بھی دودھ چھڑانا جائز ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 دودھ پلانے کی مدت سے پہلے بھی دودھ چھڑانا جائز ہے 🌿
╚══════════════════╝

❀ ﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾
💠 ”پس اگر والدین باہمی رضامندی اور مشورے سے قبل از وقت دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
📘 (البقرة 2:233)

فائدہ:
• اگر ماں اور باپ دونوں کے مشورے سے بچہ 2 سال سے پہلے دودھ چھوڑ سکتا ہو تو یہ جائز اور درست ہے۔
• اگر مشورہ اس بات پر ہو کہ بچے کو کسی دوسری عورت کا دودھ پلایا جائے، تو یہ بھی جائز ہے۔
• دودھ پلانے کی انتہائی مدت 2 سال ہے۔

──────────────────

خاوند کی اجازت کے بغیر دودھ چھڑانا گناہ ہے

◈ قال رسول الله ﷺ:

فإذا أنا بنساء تنهش نُدِيَّهُنَّ الحيّات
قلت: ما بال هؤلاء؟
قال: هؤلاء اللاتي يمنعن أولادهن البانَهن
💠 ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے عورتوں کو دیکھا کہ سانپ ان کے سینوں کو کاٹ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون عورتیں ہیں؟ جبریلؑ نے فرمایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ روک کر نہیں پلاتی تھیں۔“
📘 (النسائي الكبرى 1867؛ الحاكم 2837 — صحیح، على شرط مسلم)

فائدہ:
• جو عورتیں خاوند کی اجازت کے بغیر اپنی زیبائش یا آرام کے لیے بچوں کو دودھ چھڑا دیتی ہیں، وہ اللہ سے ڈریں۔
• ایسے لوگوں کا حشر قیامت کے دن برا ہوگا۔

──────────────────

رضیع (دودھ پیتے بچے) کے پیشاب کا حکم

❀ اگر بچہ (لڑکا) صرف دودھ پر زندہ ہے اور ٹھوس غذا نہیں کھاتا تو:
• اس کے پیشاب پر صرف پانی چھڑکنا کافی ہے، دھونا ضروری نہیں۔

❀ اس کی دلیل احادیث میں موجود ہے:

ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا:
بچے نے نبی ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا، آپ ﷺ نے پانی چھڑکا، دھویا نہیں۔
📘 (بخاری 223؛ مسلم 665)

نبی ﷺ کا عمومی حکم:

ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية
”لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے۔“
📘 (ابوداود 377)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ:

يغسل بول الجارية وينضح بول الغلام ما لم يطعم
”جب تک لڑکا کھانا نہ کھائے، اس کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں۔ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے۔“
📘 (ابوداود 377)

ام سلمہ رضی اللہ عنہا:
• دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارتی تھیں
• جب وہ کھانا کھانا شروع کرتا تو پھر دھوتی تھیں
📘 (ابوداود 379)

قتادہ رحمہ اللہ:

نضح (چھینٹے) کا حکم تب تک ہے جب بچہ کھانا نہ کھاتا ہو
📘 (ترمذی 71؛ ابوداود 378)

ابو السمح رضی اللہ عنہ:
حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے سینے پر پیشاب کیا، آپ نے فرمایا:

”بس پانی چھڑک دو، لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے، لڑکے کا چھڑکا جاتا ہے۔“
📘 (ابوداود 376؛ ابن ماجه 526؛ حاکم 604)

──────────────────

خلاصہ

والدین باہمی مشورے سے 2 سال سے پہلے دودھ چھڑا سکتے ہیں۔

خاوند کی اجازت کے بغیر دودھ چھڑانا حرام اور گناہ ہے۔

صرف دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا کافی ہے۔

لڑکی کے پیشاب کو ضرور دھویا جائے۔

جب بچہ کھانا کھانا شروع کر دے تو دونوں کا حکم ایک — دھونا واجب۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

26 🌿 اولاد کے اخراجات باپ کے ذمہ ہیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد کے اخراجات باپ کے ذمہ ہیں 🌿
╚══════════════════╝

❀ ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
💠 ”اور بچے کے باپ پر ان کا (بچوں کی ماں کا) کھانا اور لباس ہے۔“
📘 (البقرة 2:233)

فائدہ:
• جب مطلقہ ماں کو صرف دودھ پلانے کی وجہ سے خرچ دینا باپ پر لازم ہے،
تو یقیناً اولاد کے باقی اخراجات بھی باپ ہی کی ذمہ داری ہیں۔
• اسلام میں گھر کا سربراہ (باپ) بچوں کی خوراک، لباس، علاج، تعلیم اور ضروریات کا بنیادی ذمہ دار ہے۔

──────────────────

1) اولاد پر خرچ کرنا باپ کی ذمہ داری ہے

◈ عن أبي هريرة رضي الله عنه:
نبی ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا۔ ایک آدمی نے کہا:
“میرے پاس ایک دینار ہے!”
آپ ﷺ نے فرمایا:

اسے اپنے آپ پر خرچ کر۔
اس نے کہا: “میرے پاس ایک اور دینار ہے!”
آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنی اولاد پر خرچ کر۔
اس نے کہا: “ایک اور ہے!”
آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنی بیوی پر خرچ کر۔
اس نے کہا: “ایک اور ہے!”
آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنے خادم پر خرچ کر۔
پھر کہا: “میرے پاس اور بھی ہے۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
اب تم بہتر جانتے ہو (کہ کہاں خرچ کرنا ہے)۔

📘 [حسن] — ابوداود، كتاب الزكوة، باب في صلة الرحم: 6190

فائدہ:
• ترتیب بھی واضح ہو گئی:

خود پر

اولاد پر

بیوی پر

خادم پر

──────────────────

2) بہترین صدقہ اہلِ خانہ پر خرچ کرنا ہے

◈ قال رسول الله ﷺ:

خيرُ الصدقةِ ما كان عن ظهرِ غِنى، وابدأ بمن تعول
💠 ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا کے بعد ہو، اور خرچ کرنے میں اہل و عیال سے آغاز کرو۔“
📘 (صحیح البخاری 1426)

فائدہ:
• اپنے گھر والوں کا حق پورا کرنے کے بعد جو مال صدقہ کیا جاتا ہے، وہ سب سے بہترین صدقہ ہے۔

──────────────────

3) بیوی بچوں پر خرچ کرنا سب سے زیادہ اجر والا خرچ ہے

◈ عن أبي هريرة رضي الله عنه:
قال رسول الله ﷺ:

دينارٌ أنفقته في سبيل الله
ودينارٌ أنفقته في رقبة
ودينارٌ تصدقتَ به على مسكين
ودينارٌ أنفقته على أهلك
أعظمها أجراً الذي أنفقته على أهلك

💠 ”اللہ کے راستے، غلام آزاد کرانے، مسکینوں پر خرچ کرنے اور بیوی بچوں پر خرچ کرنے میں سے
سب سے زیادہ اجر والا خرچ وہ ہے جو تم اپنے گھر والوں پر کرو۔“
📘 (صحیح مسلم، كتاب الزكوة، باب فضل نفقة على العيال: 2311)

فائدہ:
• گھر والوں پر خرچ کرنا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اجر والا صدقہ ہے۔
• اولاد اور بیوی کے اخراجات پورے کرنا عبادت ہے، اور ثواب میں سب سے اعلیٰ عمل ہے۔

──────────────────

خلاصہ

اولاد کے تمام اخراجات (خوراک، کپڑا، علاج، تعلیم) باپ کی ذمہ داری ہیں۔

صدقے میں سب سے پہلا حق اولاد اور بیوی کا ہے۔

بیوی بچوں پر خرچ کرنا اللہ کے نزدیک سب سے افضل خرچ ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

27 🌿 اولاد کو اخراجات نہ دینا باعثِ گناہ ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد کو اخراجات نہ دینا باعثِ گناہ ہے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما:
قال رسول الله ﷺ:

كفى بالمرء إثماً أن يضيع من يَقوت
💠 ”آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے، انہیں ضائع کر دے۔“
📘 [حسن] ابوداود، كتاب الزكوة، باب في صلة الرحم: 1692

فائدہ:
• جس باپ کے ذمہ بچوں کا خرچ ہے اور وہ غفلت برت کر انہیں ضائع کرے،
وہ اللہ کے نزدیک گنہگار ہے۔
• گھر والوں کی ضروریات پوری نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

──────────────────

عورت اپنا صدقہ اور زکوٰۃ خاوند اور بچوں کو دے سکتی ہے

◈ عن زینب امرأة عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنهما:
نبی ﷺ نے فرمایا:

تصدقن يا معشر النساء ولو من حُليِّكن
”اے عورتو! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کیوں نہ ہو۔“

زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

میں نے اپنے شوہر عبد اللہ بن مسعود سے پوچھا:
“اگر میں تم پر صدقہ کروں تو کیا وہ میرا صدقہ شمار ہوگا؟”

انہوں نے مجھے خود نبی ﷺ کے پاس جانے کو کہا۔

میں گئی تو ایک انصاری عورت بھی وہی سوال لے کر آئی ہوئی تھی۔

ہم دونوں نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا:
“آپ نبی ﷺ کو بتا دیں کہ دو عورتیں پوچھ رہی ہیں کہ کیا وہ اپنے شوہر اور یتیم بچوں پر صدقہ کر سکتی ہیں؟”

بلال رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے پوچھا:
“کون سی زینب؟”
بلال نے کہا: “عبداللہ بن مسعود کی بیوی”

اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَهُمَا أَجْرَانِ: أجرُ القرابَةِ وأجرُ الصدقةِ
“انہیں دو اجر ملیں گے:

صلہ رحمی کا اجر

اور صدقہ کا اجر۔”
📘 مسلم، كتاب الزكوة، باب فضل النفقة على الأقربين: 2318

──────────────────

نبی ﷺ کا واضح فیصلہ (صحیح بخاری کی روایت)

◈ نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب کو فرمایا:

زوجُكِ وولدُكِ أحقُّ مَن تَصَدَّقتِ عليهم
💠 ”تیرے خاوند اور تیری اولاد سب سے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان پر صدقہ کرو۔“
📘 (صحيح البخاري 1462)

──────────────────

فقہی نتیجہ — بہت ضروری نکتہ

ان احادیث سے معلوم ہوا:

✔ 1) عورت اپنے خاوند کو صدقہ / زکوٰۃ دے سکتی ہے

شرط:
• خاوند زکوٰۃ کا مستحق ہو (فقیر یا محتاج ہو)
• عورت کی زکوٰۃ اس کے لیے حلال ہے

یہی قول:
• امام ثوری
• امام شافعی
• ابو حنیفہ کے دونوں شاگرد
• امام مالک کی ایک روایت
• امام احمد کی ایک روایت
• ائمہ زیدیہ (الہادی، الناصر، المؤید باللہ)

سب اسی کے قائل ہیں۔

✔ 2) عورت اپنی اولاد کو بھی زکوٰۃ دے سکتی ہے

اگر اولاد مستحق ہو۔

❌ 3) لیکن خاوند اپنی بیوی یا اپنی اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا

کیوں؟
• کیونکہ بیوی اور بچوں کا خرچ شرعاً اس کے اوپر فرض ہے۔
• وہ ان کا کفیل ہے، اس لیے زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔

✦ امام مازری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ فیصلہ اسی وقت دلیل بنتا ہے جب ثابت ہو کہ زینب کا صدقہ واجب صدقہ (یعنی زکوٰۃ) تھا،
اور یہ بات اس روایت سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ پوچھ رہی تھیں:
“أيَجزِي عَنِّي…؟”
یعنی: “کیا میری زکوٰۃ میرے شوہر پر دینا کافی ہوگا؟”

✔ 4) ماں پر بچے کے خرچ ضروری نہیں

والِأم لا يلزمها نفقة ابنها مع وجود أبيه
“ماں پر خرچ لازم نہیں جبکہ باپ موجود ہو”
📘 (نیل الأوطار 4/177)

──────────────────

خلاصہ

اولاد کا خرچ نہ دینا کبیرہ گناہ ہے۔

عورت اپنے خاوند یا اولاد کو زکوٰۃ یا صدقہ دے سکتی ہے (اگر وہ مستحق ہوں)۔

مرد اپنی بیوی یا اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کیونکہ خرچ اس کے اوپر فرض ہے۔

بچوں کے نان نفقہ کا حقیقی ذمہ دار باپ ہے، ماں نہیں (جب باپ موجود ہو)۔

اہل خانہ پر خرچ کرنا سب سے پہلے، سب سے افضل، اور سب سے زیادہ اجر والا عمل ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

28 🌿 بچوں کی تعلیم و تربیت — قرآن و سنت کی روشنی میں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچوں کی تعلیم و تربیت — قرآن و سنت کی روشنی میں 🌿
╚══════════════════╝
والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں، انہیں شریعت کا پابند بنائیں، دین کے ماحول میں رکھیں اور گھر کے اندر ایسا ماحول قائم کریں جو ایمان، اخلاق اور نیکی کا باعث ہو۔
کیونکہ بچے کی شخصیت پر ماحول اور والدین کے کردار کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
──────────────────
1) ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے
◈ عن أبي هريرة رضي الله عنه:
قال رسول الله ﷺ:

ما من مولود إلا يولد على الفطرة، فأبواه يُهوِّدانه أو يُنصِّرانه أو يُمجِّسانه
💠 ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی (عیسائی)، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“
📘 (صحيح البخاري 1358)

وضاحت:
• بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ مسلمان اور پاکیزہ فطرت پر ہوتا ہے۔
• والدین کی تربیت، گھر کا ماحول، اور معاشرتی اثرات اس کی شخصیت بناتے ہیں۔
• لہٰذا سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ خود بھی شریعت کے پابند رہیں اور اولاد کو بھی اسی راستے پر لگائیں۔
──────────────────
2) والدین کا فرض: خود بھی نیک بنیں اور اہلِ خانہ کو بھی نیکی کی طرف لے جائیں
❀ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
💠 ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔“
📘 (التحريم 66:6)
وضاحت:
• اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ:

خود بھی نیکی اختیار کرو

اپنے گھر والوں کی صحیح تربیت کرو
• اپنی اصلاح + اہلِ خانہ کی اصلاح → دونوں فرض ہیں۔

──────────────────
3) مفسر قرآن مجاہد رحمہ اللہ کی تفسیر:
◈ قال مجاهد:

أوصوا أنفسكم وأهليكم بتقوى الله وأدِّبوهم
💠 ”اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو اللہ کے ڈر کی وصیت کرو، اور انہیں ادب و تربیت سکھاؤ۔“
📘 (صحیح بخاری، کتاب التفسير، سورة التحريم)

مطلب:
• اولاد کو نماز، قرآن، اخلاق اور حلال و حرام کی تعلیم دو۔
• انہیں برائیوں سے روکو، دین سے دور کرنے والے ماحول سے بچاؤ۔
• یہ سب کچھ والدین کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
──────────────────
خلاصہ

ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔

والدین کی تربیت اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بھی بنا سکتی ہے — یا نیک مسلمان بھی۔

والدین پر فرض ہے کہ خود بھی نیک بنیں اور اپنے بچوں کو جہنم سے بچانے کی فکر کریں۔

قرآن کا حکم: اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ۔

اہلِ خانہ کی صحیح تربیت، ادب، اخلاق اور دین سکھانا والدین کی ذمہ داری ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

29 🌿 نیک تربیت دنیا و آخرت میں بلندی کا باعث ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 نیک تربیت دنیا و آخرت میں بلندی کا باعث ہے 🌿
╚══════════════════╝

اولاد کی نیک تربیت نہ صرف دنیا میں عزت، سکون، خوشی اور نیک نامی کا باعث بنتی ہے،
بلکہ مرنے کے بعد بھی یہ والدین کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔

نیک اولاد کی تربیت والدین کے درجات کی بلندی، مغفرت اور نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔
ان شاء اللہ۔

──────────────────

1) نیک تربیت — مرنے کے بعد بھی اجر جاری رہتا ہے

◈ عن أبي هريرة رضي الله عنه:
قال رسول الله ﷺ:

إذا ماتَ الإنسانُ انقطع عملُه إلا من ثلاثةٍ:
➊ صدقةٌ جارية
➋ أو علمٌ يُنتفعُ به
➌ أو ولدٌ صالحٌ يدعو له

💠 ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال ختم ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے:

صدقہ جاریہ

وہ علم جس سے نفع حاصل ہو

اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
📘 (صحيح مسلم 4223)

فائدہ:
• نیک اولاد، والدین کے لیے مرنے کے بعد بھی مستقل طور پر اجر کا ذریعہ بنتی ہے۔
• اولاد کا ہر نیک عمل والدین کو بھی پہنچتا ہے۔
• صدقہ جاریہ، نفع والا علم، اور نیک اولاد—تین ایسی چیزیں ہیں جو قبر میں بھی روشنی بنتی ہیں۔

──────────────────

2) اولاد کی دعا والدین کے درجے بڑھاتی ہے

◈ قال رسول الله ﷺ:

إن الرجلَ لَتُرفَعُ درجتُه في الجنة فيقول: أنَّى هذا؟
فيقال: باستغفارِ ولدِكَ لك

💠 ”جب ایک انسان کے درجات جنت میں بڑھائے جاتے ہیں تو وہ پوچھتا ہے: میرے درجات کیوں بلند ہو رہے ہیں؟
تو جواب ملتا ہے: تیرے اس نیک بیٹے کی وجہ سے جو تیرے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔“
📘 [حسن] ابن ماجه، كتاب الأدب، باب بر الوالدين: 3660

فائدہ:
• والدین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا براہ راست تعلق نیک اولاد سے ہے۔
• جتنا بچہ والدین کے لیے دعا کرے گا، اللہ اتنا انہیں بلند مقام عطا کرے گا۔

──────────────────

3) اچھی تربیت — والدین کے لیے دائمی صدقہ

نیک اولاد کی تربیت:
• دنیا میں عزت
• خاندان میں رحمت
• والدین کے لیے سکون
• اور مرنے کے بعد مستقل ثواب

مثالیں:

اگر والدین نے اخلاق، نماز، قرآن، حلال و حرام کی تربیت دی
→ اولاد جب بھی نیک عمل کرے گی، ثواب والدین کو بھی ملے گا۔

اگر اولاد دین سیکھے، سکھائے، صدقہ کرے، لوگوں کو نفع پہنچائے
→ والدین قبر میں بھی اُس کا اجر پاتے رہیں گے۔

یعنی اولاد کی نیک تربیت والدین کی دائمی کمائی ہے۔

──────────────────

خلاصہ

نیک تربیت دنیا میں بھی نعمت ہے، آخرت میں بھی۔

نیک اولاد والدین کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔

نیک اولاد کی دعا سے قبر میں بھی والدین کے درجات بڑھتے رہتے ہیں۔

بچے کی تربیت والدین کا شرعی، اخلاقی اور دائمی فرض ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

30 🌿 اولاد کی نیک تربیت نہ کرنے سے قیامت کے دن مؤاخذہ ہوگا 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد کی نیک تربیت نہ کرنے سے قیامت کے دن مؤاخذہ ہوگا 🌿
╚══════════════════╝
جس طرح اولاد کی صحیح تربیت نہ کرنے سے دنیا میں رسوائی، اذیت، پریشانی اور ذلت اٹھانی پڑتی ہے،
اسی طرح قیامت کے دن بھی والدین سے سخت بازپرس ہوگی۔
اللہ تعالیٰ سوال کریں گے:
• کیا تم نے اپنی اولاد کی اچھی تربیت کی؟
• کیا تم نے انہیں نیکی کی طرف لگایا؟
• کیا تم نے انہیں برائی سے روکا؟
کیونکہ بچوں کی تربیت والدین کی شرعی ذمہ داری ہے۔
──────────────────
نبی ﷺ کا واضح اعلان: ہر شخص ذمہ دار ہے
◈ قال رسول الله ﷺ:

كُلُّكُم راعٍ وكلكم مسئولٌ عن رعيته
الإمامُ راعٍ ومسئولٌ عن رعيته
والرجلُ راعٍ في أهلِه وهو مسئولٌ عن رعيتِه
والمرأةُ راعيةٌ في بيتِ زوجِها ومسئولةٌ عن رعيتِها

💠 ”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اپنے زیرِ نگرانی لوگوں کے بارے میں جواب دہ ہے۔
امام قوم کا نگران ہے اور جواب دہ ہے۔
مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔
عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس کے متعلق جواب دہ ہے۔“
📘 (صحيح البخاري 893 — صحيح مسلم 4724)
──────────────────
فائدہ:

والدین کے لیے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت چھوڑ دینا بڑا جرم ہے۔

قیامت کے دن ان سے ان کے گھر والوں کے بارے میں سوال ہوگا۔

اگر والدین نے دنیا میں اولاد کو نیکی نہیں سکھائی، اور برائی سے نہیں روکا،
تو آخرت میں کڑی پکڑ ہوگی۔

ہر باپ اپنی اولاد کا نگران ہے، اور ہر ماں اپنے گھر کی نگران ہے۔

نگران کا معنی صرف محبت کرنا نہیں،
بلکہ نیکی کی طرف چلانا اور برائی سے روکنا ہے۔

──────────────────
خلاصہ

اولاد کی تربیت چھوڑ دینا دنیا و آخرت کی رسوائی ہے۔

ہر والدین قیامت کے دن اپنی اولاد کے بارے میں جواب دہ ہوں گے۔

مرد اور عورت دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔

نبی ﷺ نے اعلان کر دیا:
“ہر شخص نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔”

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

31 🌿 والدین بچوں کو عقیدۂ توحید اور نماز کی تعلیم دیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین بچوں کو عقیدۂ توحید اور نماز کی تعلیم دیں 🌿
╚══════════════════╝
1) والدین بچوں کو عقیدہ توحید کی تعلیم دیں
◈ عن ابن عباس قال: كنت خلف رسول الله ﷺ يوما فقال يا غلام إنى أعلمك كلمات: احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك ولو اجتمعتوا على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك رفعت الأقلام وجفت الصحف
”ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے پیچھے (سوار) تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا دھیان رکھ وہ تیرا دھیان رکھے گا اللہ کا دھیان رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا اور جب سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ، اور جان لے کہ اگر امت اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی فائدہ پہنچائیں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے مگر جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ جمع ہو جائیں کہ تجھے کوئی نقصان پہنچائیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے مگر جو اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے قلم خشک ہو گئے اور صحیفے لپیٹ دیئے گئے۔“
📘 حسن صحيح الترمذي ، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع: 2516
──────────────────
2) والدین اپنی اولاد کو نماز کا حکم دیں
◈ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
حافظوا على أبناء كم فى الصلوة تم تعودوا الخير فإنما الخير بالعادة.
”اپنے بچوں کی نماز کے بارے میں حفاظت کرو۔ پھر انہیں خیر کی عادت ڈالو اس لیے کہ خیر عادت کے ذریعے آتی ہے۔“
📘 بیهقی ج 3 ص 84
◈ قال رسول الله ﷺ: مروا أولادكم بالصلوة وهم أبناء سبع سنين
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کی ہو جائے۔“
📘 [صحيح] ابوداود، كتاب الصلوة، باب متى يؤمر الغلام بالصلوة: 495 ؛ المستدرك حاكم: 734
──────────────────
3) اولاد کو نماز نہ پڑھنے پر مارو جب وہ دس سال کی ہو جائے
◈ قال رسول الله ﷺ: مروا أولادكم بالصلوة وهم أبناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم أبناء عشر.
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور ان کو نماز (کے چھوڑنے پر) مارو جب وہ دس سال کے ہوں۔“
📘 صحیح ابوداود کتاب الصلوة ، باب متى يؤمر الغلام بالصلوة: 495
فائدہ:
بھائیو! رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگر بچے پیار و محبت سے نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو،

لیکن آج ہمارا معاملہ برعکس ہے

• بچے نماز چھوڑ دیں، قرآن پڑھنے مسجد نہ جائیں → کچھ نہیں کہا جاتا

• لیکن اگر سکول نہ جائیں → ڈانٹ، سزا، پابندیاں…

تلك إذا قسمة ضيزى

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

32 🌿 بچوں کے بستر علیحدہ علیحدہ کرو جب وہ دس سال کے ہو جائیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچوں کے بستر علیحدہ علیحدہ کرو جب وہ دس سال کے ہو جائیں 🌿
╚══════════════════╝
◈ قال رسول الله ﷺ:

واضربوهم عليها وهم أبناء عشر وفرقوا بينهم فى المضاجع.
💠 ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ (تمہاری اولاد) دس سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں نماز چھوڑنے پر مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔“
📘 [صحيح] ابوداود، كتاب الصلوة، باب متى يؤمر الغلام بالصلوة: 495

──────────────────
علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا قول:
◈ سواء كانوا ذكورا أو اناثا فيجب التفريق بينهم جميعا سواء اتحد الجنس او اختلف
💠 ”چاہے بچے مذکر ہوں یا مونث، ان کے بستر الگ کرنا واجب ہے۔ آگے فرماتے ہیں: چاہے دونوں مذکر ہوں یا دونوں مونث یا ایک مذکر ہو اور ایک مونث—ہر حالت میں ان کے بستر الگ کرنا ضروری ہے۔“
📘 (مشکوة البانی ج 1 ص 181)
──────────────────
علامہ مناوی رحمہ اللہ (فیض القدیر) فرماتے ہیں:
◈ فرقوا بين اولادكم في مضاجعهم التى تنامون فيها اذا بلغوا عشرا حذرا من غوائل الشهوة وان كن اخوات
💠 ”جب تمہاری اولاد دس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کے وہ بستر جہاں وہ سوتے ہیں، جدا جدا کر دو؛ شہوت کی مصیبتوں سے ڈرتے ہوئے—اگرچہ وہ بہنیں ہی کیوں نہ ہوں۔“
📘 (مرعاة، جلد 2 ص 278)
──────────────────
شیخ محمد بن جمیل زینو رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
• اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دس سال کی عمر سے بچوں کے بستر لازمی طور پر الگ کیے جائیں۔
• دس سال کے بچے کو نہ والدین کے ساتھ سونا چاہیے،
اور نہ ہی دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ ایک بستر میں سونا چاہیے۔
• یہ وہ عمر ہے جس میں بچوں میں جنسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے،
اس لیے تربیت اور عفت و طہارت کے تقاضوں کے مطابق ان کے بستر الگ رکھے جائیں۔
• پیار اپنی جگہ، مگر حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے۔
──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

33 🌿 بچوں سے پیار اور محبت کریں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بچوں سے پیار اور محبت کریں 🌿
╚══════════════════╝

1) بچوں سے پیار کرنا سنتِ رسول ﷺ ہے

◈ عن عائشة قالت:
جاء أعرابي إلى النبى ﷺ فقال: تقبلون الصبيان فما نقبلهم.
فقال النبي ﷺ: أو أملك لك إن نزع الله من قلبك الرحمة
💠 ”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک بدوی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: کیا تم بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ ہم ان کو بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے شفقت اور رحمت نکال لی ہے تو اس کا میں مالک نہیں ہوں۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الولد وتقبيله: 5998

──────────────────

2) نبی کریم ﷺ کی محبت — بچے کو چومنے پر رحمت

◈ عن أبى هريرة قال:
قبل رسول الله ﷺ الحسن بن على
وعنده الأقرع بن حابس التميمي جالسا
فقال الأقرع: إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحدا
فنظر إليه رسول الله ﷺ ثم قال: من لا يرحم لا يرحم.
💠 ”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔
پاس ہی اقرع بن حابس بیٹھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الولد وتقبيله: 5997

──────────────────

3) بچوں کو گلے لگانا — محبتِ نبوی ﷺ

◈ عن يعلى العامري:
أنه قال: جاء الحسن والحسين يسعيان إلى النبى ﷺ
فضمهما إليه وقال: إن الولد مبخلة مجبنة
💠 ”یعلی عامری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے،
تو آپ ﷺ نے دونوں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا:
اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔“
📘 صحیح ابن ماجه، كتاب الادب، باب بر الوالد الاحسان الى البنات: 3666

──────────────────

4) رسول اللہ ﷺ کا اپنی نواسی کو اُٹھا کر نماز پڑھنا

◈ ”رسول اللہ ﷺ نے اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو اٹھا کر نماز پڑھی۔
جب رکوع اور سجدہ کرتے تو اسے نیچے اُتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الولد وتقبيله: 5996

فائدہ:
• بچوں سے پیار کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
• جو بچوں سے محبت کرتا ہے، اللہ اس پر رحم کرتا ہے۔
• نبی ﷺ کی سنت ہے کہ بچے کو بوسہ دینا، گلے لگانا، گود میں لینا جائز اور باعثِ محبت ہے۔

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 بچوں سے پیار اور شفقت نہ کرنے والوں کے لیے سخت ڈانٹ 🌿
╚══════════════════╝

◈ وعن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:

ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يعرف شرف كبيرنا.
💠 ”عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
📘 صحیح الترمذی، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة الصبيان: 1920

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

34 🌿 لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک دوزخ کی آگ سے رکاوٹ کا سبب ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک دوزخ کی آگ سے رکاوٹ کا سبب ہے 🌿
╚══════════════════╝

◈ قالت: جاءتني امرأة ومعها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فأخذتها فقسمتها بين ابنتيها ولم تأكل منها شيئا ثم قامت فخرجت وابنتاها فدخل على النبى ﷺ فحدثته حديثها.
فقال النبي ﷺ:

من ابتلي من البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار.

”عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت میرے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں نے اس کو وہی دے دی اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو آدھی آدھی دے دی اور خود کچھ نہ کھایا پھر کھڑی ہوئی اور وہ بیٹیوں سمیت چلی گئی۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے میں نے آپ کو اس بات کی خبر دی آپ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو بچیاں دے کر آزمایا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو یہ بچیاں آگ اور اس آدمی کے درمیان رکاوٹ بن جائیں گیں۔“
📘 صحیح بخاری 1418؛ صحیح مسلم 6693

──────────────────

◈ من كان له ثلاث بنات فصبر عليهن واطعمهن وسقاهن وكساهن من جدته كن له حجابا من النار يوم القيامة
”جس آدمی کی تین بچیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، اپنی کمائی سے انہیں کھلائے پلائے اور انہیں لباس مہیا کرے تو وہ بچیاں قیامت کے دن آگ سے اس کے لیے تحفظ کا سامان بن جائیں گی۔“
📘 [صحیح] ابن ماجه 3669

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ماں باپ جنتی ہیں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:

ما من رجل تدرك له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبتاه أو صحبهما إلا أدخلتاه الجنة

”ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کی دو بیٹیاں ہوں، جب تک وہ اس کے ساتھ رہتی ہیں یا وہ ان کے ساتھ رہتا ہے وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ دونوں اس کے جنت میں داخل ہونے کا سبب بن جاتی ہیں۔“

◈ عن الحسن عن الأحنف قال:
دخلت على عائشة امرأة معها ابنتان لها فأعطتها ثلاث تمرات فأعطت كل واحدة منهما تمرة ثم صدعت الباقية بينهما، قالت: فأتى النبى ﷺ فحدثته فقال:

ما عجبك قد دخلت به الجنة

”حسن، احنف کے چاچا روایت کرتے ہیں… نبی کریم ﷺ آئے تو (عائشہؓ نے) واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو تعجب کیوں کرتی ہے! تحقیق وہ عورت اس کھجور کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی ہے۔“
📘 صحیح ابن ماجه 3668

◈ من كان له ثلاث بنات يؤويهن ويكفيهن ويرحمهن فقد وجبت له الجنة البتة
فقال رجل: واثنتين يا رسول الله؟
قال: واثنتين.

”جس کی تین بیٹیاں ہوں، ان کو ٹھکانہ دے، ان کے اخراجات پورے کرے، ان پر رحم کرے — اس کے لیے جنت لازم ہو گئی۔ ایک شخص نے پوچھا: اور دو کا؟ فرمایا: اور دو کا بھی۔“
📘 [حسن] الأدب المفرد للبخاري 78

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 بچیوں کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوگا 🌿
╚══════════════════╝

◈ وعن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:

من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة وهو هكذا
وضم أصابعه

”انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے… آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا کہ قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح ساتھ ہوں گے۔“
📘 صحیح مسلم 6695

◈ ”انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں پھر وہ اللہ تعالیٰ کا خوف کھا کر ان کی پرورش کرتا رہے وہ میرے ساتھ اس طرح جنت میں ہوگا اور آپ ﷺ نے درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔“
📘 (مسند أبو يعلى)

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

35 🌿 والدین بچوں کے درمیان برابری کا برتاؤ کریں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین بچوں کے درمیان برابری کا برتاؤ کریں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن النعمان بن بشير أنه قال:
إن أباه أتى به رسول الله ﷺ فقال: إنى نحلت ابني هذا غلاما كان لي.
فقال رسول الله ﷺ: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟
فقال: لا،
فقال رسول الله ﷺ: فارجعه.

⋆ وفي رواية أنه قال:
أعطاني أبى عطية. فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله ﷺ.
فأتى رسول الله ﷺ فقال:
إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية امرتني أن أشهدك يا رسول الله!
قال: أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟
قال: لا،
قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم
قال: فرجع أبى فرد عطيته.

⋆ وفي رواية أنه قال:
لا أشهد على جور.

”حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس کا والد اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بیان کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام کا عطیہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اس کی مثل عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ عطیہ اس لڑکے سے واپس لے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: کیا تجھے پسند ہے کہ تیری ساری اولاد تیری ایک جیسی فرمانبردار ہوں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ عطیہ (درست) نہیں۔

ایک اور روایت میں ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے میرے والد نے عطیہ دیا۔ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (میری ماں) نے کہا: میں خوش نہیں جب تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنائے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بیان کیا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے پیٹ سے اپنے لڑکے (نعمان) کو عطیہ دیا ہے اور اے اللہ کے رسول! اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناؤں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: بھلا تو نے اپنی تمام اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں برابری کا برتاؤ کرو۔

اس نے بیان کیا کہ وہ (یہ سن کر) واپس چلے گئے اور عطیہ واپس لے لیا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“

📘 صحیح مسلم، كتاب الهبات، باب كراهية تفضيل بعض الأولاد في الهبة: 4177
📘 صحیح بخاری، كتاب الهبات، باب الهبة للولد: 2586

──────────────────

فائدہ:
• معلوم ہوا کہ عطیات میں لڑکا اور لڑکی برابر ہیں—والدین اپنی زندگی میں اگر کچھ تقسیم کریں تو سب اولاد کو برابر دیا جائے۔

• یہ عطیہ ہے، وراثت نہیں — اس لیے اس میں لڑکا لڑکی برابر ہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"اعدلوا بین أولادکم" — اپنی اولاد میں برابری کرو۔

• لیکن اگر والدین وفات کے بعد وراثت تقسیم ہو تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہوگا:

❀ ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾
📘 (النساء 4:11)

یعنی وراثت میں لڑکے کا حصہ لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ہوگا — یہ شریعت کا قطعی حکم ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

36 🌿 اولاد کے فوت ہو جانے پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد کے فوت ہو جانے پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنسوة من الأنصار:
لا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد فتحتسبه إلا دخلت الجنة.
فقالت امرأة منهن أو اثنان يا رسول الله! قال: أو اثنان.
وفي رواية لهما: ثلثة لم يبلغوا الحنث

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو گئے اس نے صبر سے کام لیا تو وہ عورت جنت میں داخل ہوگی۔ ان میں سے ایک عورت نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا دو بچوں کا بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دو بچوں کا بھی یہی حکم ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه: 6698
مسلم اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: تین بچے جو بلوغت سے پہلے فوت ہو گئے۔

──────────────────

◈ عن أبى حسان قال: قلت لأبي هريرة إنه قد مات لي ابنان فما أنت محدثي عن رسول الله بحديث يطيب به أنفسنا عن موتانا؟ قال: قال: نعم صغارهم دعاميص الجنة يتلقى أحدهم أباه أو قال: أبويه ، فيأخذ بثوبه أو قال بيده كما أخذ أنا بصنفة ثوبك هذا فلا يتناهى أو قال: فلا ينتهي حتى يدخله الله وأباه فى الجنة.

ابو حسان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے ہیں۔ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث سنائے گا جو ہمیں فوت ہونے والے کی جانب سے سکون عطا کرے، خوش کرے۔ انہوں نے کہا: ہاں، چھوٹے بچے جنت میں بلا رکاوٹ چلتے پھرتے ہوں گے۔ وہ اپنے والد یا والدین سے ملیں گے تو اس کے لباس یا اس کے ہاتھ کو پکڑیں رکھیں گے جس طرح میں تیرے کپڑے کی ایک جانب پکڑتا ہوں اور اس سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دیں گے۔
صحیح مسلم كتاب البر والصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه: 6701

فائدہ: ایک روایت میں ماں باپ دونوں کا ذکر ہے بلکہ اگر بچہ باپ کو جنت میں داخل کرائے گا تو ماں کو بالا ولی داخل کرائے گا اس لیے کہ ماں کا مقام تو باپ سے زیادہ ہے۔
مرعاة : ج 5 ص 502

──────────────────

◈ عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول الله تعالى : ما لعبدى المؤمن عندى جزاء إذا قبضت صفيه من أهل الدنيا ثم احتسبه إلا الجنة

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرماتے ہیں: میرے ہاں مومن انسان کے لیے جب میں اس کے محبوب انسان کو فوت کرلوں اور وہ اس کی وفات پر صبر کرے جنت کا مقام ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذي يبتغي به وجه الله: 6424

فائدہ: صفیہ (محبوب انسان) سے مراد اولاد، بھائی وغیرہ۔
مرعاة : ج 5 ص 472

──────────────────

◈ قال رسول الله: ما من مسلمين يموت بينهما ثلاثة أولاد لم يبلغوا الحنث إلا غفر الله لهما بفضل رحمته إياهم.

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمانوں کے (یعنی ماں باپ کے) تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو اللہ ان دونوں کو بخش دے گا بچوں پر شفقت کی وجہ سے۔“
النسائي، كتاب الجنائز، باب من يتوفى له ثلاثة: 1874

──────────────────

◈ عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله: ما من الناس مسلم يموت له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث إلا أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم.

”انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے (مذکر یا مؤنث) فوت ہو جائیں بالغ ہونے سے پہلے۔ ان بچوں پر شفقت کی وجہ سے اللہ اس مسلمان کو ضرور جنت میں داخل فرمادے گا۔“
صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ما قيل في اولاد المسلمين: 1381

──────────────────

37 🌿 اولاد کے فوت ہو جانے پر صبر کرنے سے جہنم سے نجات 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد کے فوت ہو جانے پر صبر کرنے سے جہنم سے نجات 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن أبى سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ:
ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها إلا كان لها حجابا من النار
فقالت امرأة: واثنين؟
فقال: واثنين

”ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عورت اپنی اولاد سے تین بچوں کو آگے بھیج دے تو بچے اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ اور پردہ بنیں گے۔ ایک عورت نے کہا: کیا یہ حکم دو بچوں کے لیے بھی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، دو بچوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب العلم: 101؛ کتاب الجنائز: 1249

یعنی اگر دو بچے بھی فوت ہو جائیں تو پھر بھی وہ ماں دوزخ سے محفوظ ہو جائے گی۔

──────────────────

◈ عن أبى هريرة عن النبى ﷺ قال:
لا يموت لمسلم ثلاثة من الولد فتَلِجَ النار إلا تحله القسم

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے جب تین بچے فوت ہو جائیں تو وہ صرف قسم پورا کرنے کے لیے دوزخ میں داخل ہوگا۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب فضل من مات له ولد: 1251

نسائی کی روایت میں مسلمان میاں بیوی دونوں کا ذکر ہے۔

فائدہ:
یہاں "دوزخ میں داخل ہونا" سے مراد دوزخ سے گزرنا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

❀ ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾
”تم میں سے ہر ایک اس سے گزرنے والا ہے (یعنی پل صراط سے)“
📘 (مريم 19:71)

──────────────────

◈ عن أبى هريرة قال:
جاءت امرأة إلى رسول الله ﷺ بابن لها يشتكي
فقالت: يا رسول الله أخاف عليه وقد قدمت ثلاثة
فقال رسول الله ﷺ:
قد احتطرتِ بحِظارٍ شديدٍ من النار

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور ﷺ کے پاس ایک بیمار بچہ لائی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ڈرتی ہوں کہ یہ بھی فوت نہ ہو جائے، جبکہ میرے پہلے تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے جہنم سے بچنے کے لیے بہت مضبوط آڑ بنا لی ہے۔“
📘 صحیح النسائی، کتاب الجنائز، باب من قدم ثلاثۃ: 1877

──────────────────

فائدہ:
اولاد کے فوت ہو جانے پر صبر کرنے والے مسلمان والدین کے لیے
• جنت کی بشارت
• اور جہنم سے نجات
صرف انہی کے لیے ثابت ہے
جو سچے مسلمان ہوں، جیسا کہ ساری احادیث صاف بیان کرتی ہیں۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

38 🌿 اولاد وغیرہ کے فوت ہو جانے پر نوحہ کرنا حرام ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اولاد وغیرہ کے فوت ہو جانے پر نوحہ کرنا حرام ہے 🌿
╚══════════════════╝

1) نوحہ کرنا کفریہ عمل ہے

◈ عن أبى هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:
اثنتان فى الناس هما بهم كفر: الطعن فى النسب، والنياحة على الميت.

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں دو کفریہ باتیں پائی جاتی ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“
📘 صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب اطلاق اسم الكفر على الطعن: 227

──────────────────

◈ أن النبى ﷺ قال:
أربع فى أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر فى الأحساب، والطعن فى الأنساب، والإستسقاء بالنجوم، والنياحة.

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں چار خصلتیں جاہلیت کی رہیں گی جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے:

خاندانی فخر،

نسب میں طعنہ زنی،

ستاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا،

اور نوحہ کرنا۔“
📘 صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب التشديد في النياحة: 2160

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 نوحہ کرنے والوں کو قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا 🌿
╚══════════════════╝

2) نوحہ کرنے والی عورت کا قیامت کے دن عذاب

◈ عن أبى مالك الأشعري قال: قال رسول الله ﷺ:
النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة، وعليها سربال من قطران، ودرع من جرب.

”ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا، اس پر گندھک کی قمیص اور خارش والا کرتہ ہوگا۔“
📘 صحیح مسلم، كتاب الجنائز، باب التشديد في النياحة: 2160

──────────────────

3) چیخ کر رونے پر عذاب — عام رونے پر نہیں

◈ عن عبد الله بن عمر قال: قال النبي ﷺ:
إن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب،
ولكن يعذب بهذا — وأشار إلى لسانه.

”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ آنکھ کے آنسو پر عذاب دیتا ہے، نہ دل کے غم پر؛
لیکن اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے — اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔“
📘 صحیح بخاری 1304؛ صحیح مسلم 2176

فائدہ:
• آنسو آ جانا یا دل غمگین ہونا جائز ہے۔
• لیکن آواز نکال کر، چیخ کر، خود پر مار کر یا نوحہ کر کے رونا—حرام ہے اور عذاب کا سبب بنتا ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

39 🌿 جس گھر میں نوحہ ہوتا ہے اس گھر میں شیطان داخل ہوتا ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 جس گھر میں نوحہ ہوتا ہے اس گھر میں شیطان داخل ہوتا ہے 🌿
╚══════════════════╝
◈ عن أم سلمة قالت:
لما مات أبو سلمة، قلت: غريب وفي أرض غربة لأبكينه بكاء يتحدث عنه
فكنت قد تهيأت للبكاء عليه إذ أقبلت امرأة من الصعيد تريد أن تسعدني
فاستقبلها رسول الله ﷺ فقال:

أتريدين أن تدخلى الشيطان بيتا أخرجه الله منه مرتين؟
فكففت عن البكاء فلم أبك.

”ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ابوسلمہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا: اجنبی تھا اور اجنبی سرزمین میں فوت ہوا ہے، میں ضرور اس پر ایسا رُؤوں گی کہ لوگ باتیں کریں گے۔
میں رونے کے لیے تیار ہی تھی کہ مدینہ کی ایک عورت آئی جو میری مدد کرنا چاہتی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: کیا تو چاہتی ہے کہ اس گھر میں شیطان داخل کرے جسے اللہ نے دو مرتبہ نکالا ہے؟
پھر آپ ﷺ نے یہ جملہ دوبارہ فرمایا۔
یہ سن کر میں رونے سے رک گئی۔“
📘 صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب البكاء على الميت: 2134
──────────────────
╔══════════════════╗
🌿 اولاد وغیرہ کے فوت ہو جانے پر آنسو بہانا جائز ہے 🌿
╚══════════════════╝
1) نبی کریم ﷺ کا اپنے بیٹے ابراہیم پر آنسو بہانا
◈ عن أنس بن مالك قال:
دخلنا مع رسول الله ﷺ على أبى سيف القين وكان ظئرا لإبراهيم
فأخذ رسول الله ﷺ إبراهيم فقبله وشمه
ثم دخلنا عليه بعد ذلك وإبراهيم يجود بنفسه
فجعلت عينا رسول الله ﷺ تذرفان
فقال له عبد الرحمن بن عوف: وأنت يا رسول الله؟
فقال: يا ابن عوف إنها رحمة
ثم أتبعها بأخرى فقال:

إن العين تدمع والقلب يحزن
ولا نقول إلا ما يرضى ربنا
وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون.

”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں… جب ابراہیم (بچہ) جان کنی کے عالم میں تھا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابنِ عوف! یہ رحمت ہے۔
پھر فرمایا: آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے، اور ہم صرف وہی کہتے ہیں جسے اللہ پسند کرتا ہے،
اور اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر غمگین ہیں۔“
📘 صحیح بخاری: 1303
──────────────────
2) دل کا غم اور آنکھوں کے آنسو — جائز ہیں
◈ عن عبد الله بن عمر قال: قال النبي ﷺ:
إن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب.
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ آنسو بہانے پر عذاب دیتا ہے نہ دل کے غم پر۔“
📘 صحیح بخاری: 1304
──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

40 🌿 باپ، مسلمان اولاد وغیرہ کی نماز جنازہ پڑھے اگر وہ باپ کی زندگی میں مر جائیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 باپ، مسلمان اولاد وغیرہ کی نماز جنازہ پڑھے اگر وہ باپ کی زندگی میں مر جائیں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن البراء بن عازب قال:
أمرنا النبى ﷺ بسبع ونهانا عن سبع
أمرنا باتباع الجنازة وعيادة المريض….. الى آخره.

”براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا۔
آپ ﷺ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے اور بیمار کی عیادت کا حکم فرمایا۔“
📘 صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الامر باتباع الجنائز: 1239

──────────────────

◈ عن أبى هريرة أن رسول الله ﷺ قال:
من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا
وكان معه حتى يصلي عليها ويُفرغ من دفنها
فإنه يرجع من الأجر بقيراطين
كل قيراط مثل أُحد
ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط.

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جس نے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان و احتساب کے ساتھ شرکت کی
اور نماز جنازہ ادا کرنے اور دفن سے فارغ ہونے تک ساتھ رہا،
اسے دو قیراط ثواب ملے گا —
اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔

اور جس نے صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر دفن سے پہلے واپس چلا گیا،
اسے ایک قیراط ثواب ملے گا۔“
📘 بخاری، باب اتباع الجنائز من الإيمان: 1323

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

41 🌿 مردہ پیدا ہونے والے بچے کا نمازِ جنازہ پڑھا جائے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 مردہ پیدا ہونے والے بچے کا نمازِ جنازہ پڑھا جائے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن المغيرة بن شعبة أن النبى صلى الله عليه وسلم قال:
الراكب يسير خلف الجنازة
والماشي يمشي خلفها وأمامها وعن يمينها وعن يسارها قريبا منها
والسقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة.

”مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سوار جنازہ کے پیچھے چلے،
اور پیدل چلنے والا آگے، پیچھے، دائیں، بائیں — قریب رہ کر چلے،
اور ناکامل (کچا) بچے پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے
اور اس کے والدین کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے۔“
📘 صحیح ابو داود، کتاب الجنائز، باب المشی امام الجنازۃ: 3180

──────────────────

فائدہ

• "سِقْط" یا ناکامل بچہ: وہ بچہ ہے جس کے چار ماہ مکمل ہو چکے ہوں اور اس میں روح پھونکی جا چکی ہو۔
• چاہے وہ پیدا ہونے کے بعد فوت ہو یا مردہ پیدا ہو — اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
• چار ماہ سے پہلے (120 دن سے پہلے) اس کی نماز جنازہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ شرعاً "میت" کے حکم میں نہیں آتا۔

──────────────────

روح پھونکے جانے کا ثبوت

◈ قال رسول الله ﷺ:
إن أحدكم يجمع خلقه فى بطن أمه أربعين يوما
ثم يكون فى ذلك علقة مثل ذلك
ثم يكون فى ذلك مضغة مثل ذلك
ثم يرسل الله الملك فينفخ فيه الروح

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کا آغاز ماں کے پیٹ میں 40 دن نطفے کی صورت میں ہوتا ہے،
پھر 40 دن خون کے لوتھڑے کی صورت میں،
پھر 40 دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں،
پھر اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔“
📘 صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن أمه: 7633

──────────────────

ضعیف روایت کی تنبیہ

”اگر بچہ چیخ مارے تب نماز جنازہ ہوگی“ — یہ ضعیف روایت ہے۔
اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔

──────────────────

نوٹ:

• مردہ پیدا ہونے والا بچہ مسلمان ہے۔
• اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔

◈ كما قال النبي ﷺ:
كل مولود يولد على الفطرة.

”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔“
📘 بخاری: 1358

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

42 🌿 نابالغ بچے کا نماز جنازہ نہ پڑھنا بھی جائز ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 نابالغ بچے کا نماز جنازہ نہ پڑھنا بھی جائز ہے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن عائشة قالت:
مات إبراهيم بن النبى ﷺ وهو ابن ثمانية عشر شهرا فلم يصل عليه رسول الله ﷺ

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم نے اٹھارہ ماہ کی عمر میں وفات پائی، آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی۔“
📘 حسن — ابوداود، کتاب الجنائز، باب في الصلوة على الطفل: 3187

فائدہ:
• نابالغ بچے کی نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے تو بہتر ہے،
• نہ پڑھی جائے تو بھی جائز ہے — نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔

نوٹ:
ابوداود (2/98، حدیث 3188) میں دو روایات ہیں جن میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی — یہ دونوں روایات ضعیف و منکر ہیں۔

43 🌿 بلوغت سے پہلے فوت ہونے والے بچے جنتی ہیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 بلوغت سے پہلے فوت ہونے والے بچے جنتی ہیں 🌿
╚══════════════════╝
اس مسئلے میں علماء کا اختلاف رہا ہے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ جو بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں وہ جنتی ہیں۔
یہی موقف ائمہ اربعہ، امام بخاری، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم رحمہم اللہ کا ہے۔
📘 مرعاة 1/181
──────────────────
1) نبی کریم ﷺ نے خواب میں ابراہیم کو جنت میں بچوں کے ساتھ دیکھا
◈ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کی حالت میں جب ابراہیم کو جنت میں دیکھا تو ان کے اردگرد بچے تھے تو فرشتوں نے آپ کو بتلایا کہ آپ نے جنت میں ابراہیم کے ارد گرد جو بچے دیکھے تھے جو بلوغت سے پہلے فوت ہو گئے تھے بعض صحابہ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔
📘صحیح بخاری، کتاب تعبير الرؤيا ، باب تعبير الرؤيا بعد صلاة الصبح: 7047
──────────────────
2) ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے
◈ قال النبي ﷺ:
كل مولود يولد على الفطرة.
”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔“
📘 بخاری: 1358
──────────────────
"الله أعلم بما كانوا عاملين" — یہ کب کا قول ہے؟
نوٹ:
جن احادیث میں آیا ہے:
"اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے"
یہ احادیث اس وقت کی ہیں جب اس مسئلے پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔
وحی کے بعد نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ سب بچے فطرت پر ہیں اور خواب میں بھی انہیں جنت میں دیکھا۔
📘 مرعاة 1/181
──────────────────
╔══════════════════╗
🌿 ”قیامت کے دن بچوں کا امتحان ہوگا“ — یہ رائے ضعیف دلائل پر مبنی ہے 🌿
╚══════════════════╝
کچھ علماء نے کہا کہ نابالغ بچوں کا قیامت کے دن امتحان ہوگا —
لیکن اس موقف کی تمام پیش کردہ احادیث ضعیف ہیں:
(1) مسند بزار 3/34
• اس مفہوم کی دو احادیث ہیں:
– پہلی میں عطیہ بن سعد عوفی ہے (ضعیف)
– دوسری میں لیث بن ابی سلیم ہے (ضعیف)
(2) ابن حبان 7313
متن: ”چار لوگ قیامت کے دن احتجاج کریں گے:
بہرا، احمق، بوڑھا، اور وہ جو فترہ کے دور میں مرا“
❌ اس حدیث میں مولود (بچہ) کا ذکر نہیں۔
❌ سند میں قتادہ مدلس ہے اور "عن" سے روایت کر رہا ہے (سماع ثابت نہیں)۔
(3) مسند احمد 16344 / مسند اسحاق
❌ اس میں بھی مولود کا ذکر نہیں۔
❌ اس کی سند میں بھی قتادہ مدلس ہے اور "عن" سے روایت کر رہا ہے۔
نتیجہ:
نابالغ بچوں کے امتحان والی ساری روایات ضعیف اور غیر قابلِ احتجاج ہیں۔
لہٰذا صحیح بات وہی ہے جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر ائمہ نے اختیار کی:
بلوغت سے پہلے مرنے والے تمام بچے — مسلمان ہوں یا غیرمسلم — جنتی ہیں۔
کیونکہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

44 🌿 والدین بچیوں کو بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نہ جانے دیں جب وہ بالغ ہو جائیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین بچیوں کو بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نہ جانے دیں جب وہ بالغ ہو جائیں 🌿
╚══════════════════╝
کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
❀ ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾
”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیمی جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔“
📘 (الأنفال 8:33)
فائدہ:
• اس آیت میں اللہ نے عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ گھروں میں ٹک کر رہو، بغیر ضرورت کے باہر نہ نکلو۔
• عورت کا اصل دائرہ عمل گھر ہے، سیاست و بازار نہیں۔
• اگر باہر جانے کی ضرورت ہو تو بے پردہ، خوشبو لگا کر، زیب و زینت دکھا کر، فیشن کے ساتھ نہ نکلو۔
• سادہ لباس، بغیر خوشبو، مکمل پردہ اور چادر کے ساتھ باہر نکلو۔
📘 تفسیر ابن کثیر، جلد 3 ص 569
──────────────────
╔══════════════════╗
🌿 والدین بچیوں کو پردہ کا حکم دیں جب وہ بالغ ہو جائیں 🌿
╚══════════════════╝
کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
❀ ﴿‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
”عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادر لٹکایا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جاتی ہے پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“
📘 (الأحزاب 33:59)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر:
⋆ أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن فى حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رؤوسهن بالجلابيب ويبدين عينا واحدة
”اللہ نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ ضرورت سے نکلیں تو اپنے چہرے کو اوپر سے چادر کے ذریعے ڈھانپ لیں اور راستہ دیکھنے کیلئے صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“
📘 تفسیر ابن کثیر، جلد 3 ص 569
فائدہ:
• جلابیب (جلباب) بڑی چادر ہے جس سے پورا بدن ڈھک جاتا ہے۔
• چادر لٹکانے سے مراد چہرے پر گھونگھٹ ڈالنا ہے۔
• عہدِ رسالت میں عورتیں سادہ ہوتی تھیں—ایک چادر سے پردہ کافی تھا۔
• بعد میں جب بے پردگی، فیشن اور زیب و زینت عام ہو گئی تو برقعہ زیادہ مناسب رہا۔
• آج کل چادر کو بہانہ بنا کر بے پردگی کی جاتی ہے—
پہلے چادر، پھر صرف دوپٹہ، پھر وہ بھی نہیں… یہ گمراہی ہے۔
احسن البیان میں انتباہ:
• پردہ علما کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔
• پردے سے اعراض، انکار، یا مزاح کرنا کفر تک لے جا سکتا ہے۔
──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

45 🌿 والدین بیٹیوں کو گھر سے نکلنے کے وقت خوشبو استعمال نہ کرنے دیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین بیٹیوں کو گھر سے نکلنے کے وقت خوشبو استعمال نہ کرنے دیں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن أبي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:
المرأة إذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا كذا يعني زانية

”ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ اس اس طرح ہے یعنی وہ زانیہ ہے (یعنی سخت گناہ گار)۔“
📘 [حسن] الترمذي، أبواب الاستيذان: 2786
📘 ابوداود، كتاب الترجل، باب ما جاء في المرأة تتطيب للخروج: 4173

──────────────────

◈ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:
لا تقبل صلوة لامرأة تطيبت لهذا المسجد حتى ترجع فتغتسل غسلها من الجنابة

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کے لیے نکلتی ہے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی
جب تک وہ (گھر واپس آ کر) جنابت کے غسل کی طرح غسل نہ کر لے۔“
📘 [صحيح] ابوداود: 4173
📘 النسائي، كتاب الزينة، باب اغتسال المرأة من الطيب: 5127

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

46 🌿 والدین اپنی بیٹیوں کو بغیر محرم کے سفر کی اجازت نہ دیں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین اپنی بیٹیوں کو بغیر محرم کے سفر کی اجازت نہ دیں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ:
لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم

”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“
📘 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم الى حج وغيره: 3272

فائدہ:
• وہ معلمات و مبلغات بھی اللہ سے ڈریں جو بغیر محرم کے مختلف علاقوں میں تبلیغ کے لیے جاتی ہیں۔
• اور وہ عورتیں بھی جو بغیر محرم کے حج یا عمرے پر جاتی ہیں — یہ سب جائز نہیں۔

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 والدین اپنی بیٹیوں کو غیر محرم کے ساتھ خلوت سے منع کریں 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ:
لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم

”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے،
مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو۔“
📘 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم: 3272

فائدہ:
ترمذی اور مسند احمد میں حدیث ہے:

◈ ”جو مرد غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرے گا تو ان دونوں میں تیسرا شیطان ہو گا جو انہیں برائی کی طرف مائل کرے گا۔“

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

47 🌿 مناسب رشتہ ملتے ہی لڑکی کی شادی جلدی کرے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 مناسب رشتہ ملتے ہی لڑکی کی شادی جلدی کرے 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن على أن النبى صلى الله عليه وسلم قال له:
يا على ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا

”علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اے علی! تین کام اہم ہیں، ان میں تاخیر نہ کرنا:

نماز کو جب اس کا وقت آ جائے،

جنازہ جب حاضر ہو جائے،

اور وہ عورت جو بلا خاوند ہے، جب تو اس کا کوئی مناسب رشتہ پائے۔“
📘 [حسن] الترمذي، كتاب الصلوة، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل: 171

──────────────────

◈ عن أبى هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إن لا تفعلوه تكن فتنة فى الأرض وفساد عريض

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تمہارے پاس ایسا شخص منگنی کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اس لڑکی کا نکاح اس سے کر دو۔
اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بہت بڑا فساد برپا ہوگا۔“
📘 [صححه الألباني] الترمذي، كتاب النكاح، باب ما جاء في من ترضون دينه فزوجوه: 1084

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 والدین اپنی اولاد کا نکاح مشرک مرد یا مشرکہ عورت سے مت کرائیں 🌿
╚══════════════════╝

❀ ﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا﴾
”اور مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرو — مومن لونڈی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں اچھی لگے۔
اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔“
📘 (البقرة 2:221)

فائدہ:
• اس گناہ میں بہت سے مسلمان مبتلا ہیں،
اپنی اولاد کا نکاح مشرک لڑکے یا لڑکی سے کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

• یاد رکھیں:

مسلمان مرد کے لیے مشرکہ عورت سے نکاح حرام ہے۔

مسلمان عورت کا مشرک مرد سے نکاح بھی حرام ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا صاف اور قطعی حکم ہے۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

48 🌿 والدین بیٹیوں کے لیے پاک دامن اور دین دار لڑکے اور بیٹوں کے لیے دین دار لڑکی تلاش کریں 🌿

╔══════════════════╗
🌿 والدین بیٹیوں کے لیے پاک دامن اور دین دار لڑکے اور بیٹوں کے لیے دین دار لڑکی تلاش کریں 🌿
╚══════════════════╝
❀ ﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ﴾
”ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔“
📘 (النور 24:26)
❀ ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾
”زانی مرد سوائے زانیہ عورت یا مشرکہ عورت کے کسی سے شادی نہیں کرتا اور زانیہ عورت سے سوائے زانی یا مشرک مرد کے کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ ہر مومن پر حرام کیا گیا ہے۔“
📘 (النور 24:3)
فائدہ:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توبہ کے بغیر زانی مرد کا پاک دامن عورت سے نکاح حرام ہے اور پاک دامن مرد کا زانیہ عورت سے نکاح بھی حرام ہے،
کیونکہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾۔
📘 ابن کثیر، جلد 2 ص 421
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے اور اس خلاف رائے والوں کی سخت تردید کی ہے۔
📘 فتاویٰ، جلد 2 ص 61، 74
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے:
──────────────────
مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کا واقعہ
◈ عن مرثد بن أبى مرثد الغنوي… قال:
جئت إلى النبي ﷺ فقلت: يا رسول الله أنكح عناق؟
قال: فسكت عني
فنزلت: ﴿والزانية لا ينكحها إلا زانٍ أو مشرك﴾
فدعاني فقرأها علي وقال: لا تنكحها
”مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا کر مدینہ لے جایا کرتے تھے اور مکہ میں ایک بدکار عورت رہتی تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ اس کی (اسلام لانے سے پہلے) معشوقہ تھی۔ تو مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر یہ آیت اتری ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ یعنی زانیہ عورت سے وہی نکاح کرتا ہے جو خود زانی ہو یا مشرک ہو۔ مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے یہ آیت پڑھ کر مجھے سنائی اور فرمایا: مت نکاح کر اس سے۔“
📘 [صحیح] ابوداود، كتاب النكاح: 2051
──────────────────
کوڑے کھائے ہوئے زانی کا حکم
◈ ”جو شخص زانی (حد کا سزا یافتہ) ہو وہ نکاح نہ کرے مگر اسی درجے کی عورت یعنی زانیہ سے۔“
📘 [صحیح] ابوداود، كتاب النكاح: 2052
──────────────────
توبہ کا دروازہ
اگر زانی مرد سچی توبہ کر لے تو اس کا نکاح پاک دامن عورت سے جائز ہے۔
ایسے ہی زانیہ عورت اگر سچی توبہ کرے تو پاک دامن مرد سے نکاح جائز ہے۔
📘 ابن کثیر (ج 3 ص 421)
──────────────────
╔══════════════════╗
🌿 بیٹی یا بیٹے کے لیے رشتہ دین داری کی بنیاد پر ہو 🌿
╚══════════════════╝
◈ عن أبى هريرة عن النبى ﷺ قال:
النكاح المرأة لأربع: لمالها، ولحسبها، ولجمالها، ولدينها
فاظفر بذات الدين تربت يداك
”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے:

مال

حسب و نسب

خوبصورتی

اور دین

پس تُو دین دار عورت کو اختیار کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“
📘 صحیح بخاری، كتاب النكاح، باب الأكفاء في الدين: 5090
──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

49 🌿 اہل کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے 🌿

╔══════════════════╗
🌿 اہل کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے 🌿
╚══════════════════╝

❀ ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ﴾
”اور مومنات میں سے پاک دامن عورتیں (تمہارے لیے حلال ہیں) اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان کی پاک دامن عورتیں بھی (تمہارے لیے حلال ہیں)، یعنی یہود و نصاریٰ کی عورتیں۔“
📘 (المائدة 5:5)

فائدہ:
• یعنی یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح درست ہے اگر وہ پاک دامن ہوں۔
• شرط: بدکار، آوارہ اور آزاد خیال عورت نہیں ہونی چاہیے۔
• نوٹ: مسلمان عورت کا نکاح یہودی یا عیسائی مرد سے حرام ہے۔
• مسلمان مرد کا نکاح یہودی/عیسائی عورت سے جائز ہے۔

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 والدین اپنی مسلمان بیٹی کا نکاح بے نماز مرد سے نہ کریں 🌿
╚══════════════════╝

کیونکہ بے نمازی کافر ہے اور مسلمان عورت کا نکاح کافر سے جائز نہیں۔

نوٹ:
• مسلمان مرد کا نکاح بے نمازی عورت سے یا کلمہ گو مشرکہ عورت سے جائز ہے،
کیونکہ وہ اہلِ کتاب کی حکم میں ہے، اور اہلِ کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح جائز ہے۔
(كما تقدم)

──────────────────

╔══════════════════╗
🌿 باپ اپنی لڑکی کی شادی سے پہلے اس سے اجازت لے 🌿
╚══════════════════╝

1) ثیبہ (شوہر دیدہ) لڑکی کی اجازت ضروری ہے

◈ عن خنساء بنت خدام:
أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك فأتت رسول الله ﷺ فرد نكاحها.

”خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ثیبہ تھیں اور وہ اس نکاح سے خوش نہ تھیں۔
وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو توڑ دیا۔“
📘 [صحیح] بخاری، كتاب النكاح: 5138

──────────────────

2) کنواری لڑکی کی اجازت بھی ضروری ہے

◈ عن ابن عباس قال:
إن جارية بكرا أتت النبى ﷺ فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبى ﷺ.

”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے اور وہ اس نکاح سے ناخوش ہے۔
آپ ﷺ نے اسے (قبول یا فسخ کرنے کا) اختیار دے دیا۔“
📘 [صحیح] ابوداود، كتاب النكاح: 2096

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────

50 🌿 لڑکی اپنے ولی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی 🌿

╔══════════════════╗
🌿 لڑکی اپنے ولی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی 🌿
╚══════════════════╝

◈ عن أبى موسى أن النبى صلى الله عليه وسلم قال:
لا نكاح إلا بولي

”ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔“
📘 [صحیح] ابوداود، كتاب النكاح، باب في الولي: 2083

──────────────────

◈ عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:
أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل
فنکاحها باطل
فنکاحها باطل

”عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،
اس کا نکاح باطل ہے،
اس کا نکاح باطل ہے۔“
📘 [صحیح] الترمذي، كتاب النكاح، باب ما جاء لا نكاح إلا بولي: 1102

──────────────────

◈ عن أبى هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
لا تزوج المرأة المرأة ولا تزوج المرأة نفسها
فإن الزانية هي التي تزوج نفسها

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرائے
اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے،
کیونکہ جو عورت اپنا نکاح خود کرتی ہے وہ زنا کرنے والی ہے۔“
📘 [صحیح] ابن ماجه، كتاب النكاح، باب لا نكاح إلا بولي: 1882

──────────────────

فائدہ:

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں — احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔

ولی سے مراد وہ شخص ہے جو عورت کے عَصَبہ میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہو۔

عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، نہ کسی عورت کو نکاح کرا سکتی ہے۔

نکاح کے لیے ولی کی اجازت + عورت کی رضامندی دونوں ضروری ہیں۔

──────────────────
📚 واللہ اعلم بالصواب
──────────────────