واٹساپ دعوتی مواد فجر کی اقامت کے بعد سنتیں

فجر کی اقامت کے بعد سنتیں

8 پیغامات

1 📘 اقامتِ فرض کے بعد سنتیں اور نوافل پڑھنے کا حکم

جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو اس کے بعد فرض نماز کے علاوہ کوئی سنت یا نفل نماز پڑھنا جائز نہیں، خواہ:

➤ صف میں کھڑے ہو کر پڑھی جائے
➤ صف کے پیچھے پڑھی جائے
➤ نماز کے بعد کلام کیا جائے یا نہ کیا جائے

یہ حکم فجر کی سنتوں سمیت تمام نوافل کو شامل ہے۔

📖 حدیث نمبر 1 (بنیادی و اصل دلیل)

🔹 حدیثِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

عربی متن:
«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»

اردو ترجمہ:
“جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی (نفلی) نماز نہیں ہوتی۔”

📚 مسند الإمام أحمد: 2/331
📚 صحیح مسلم: 710

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/710/?hid=10615

وضاحت:
یہ حدیث مرفوعاً (نبی ﷺ کا فرمان) اور موقوفاً (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ) دونوں طرح ثابت ہے۔
اصولی قاعدہ ہے کہ موقوف روایت، مرفوع حدیث کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہے۔
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نفل نماز، اقامت کے بعد پڑھنا ممنوع ہے۔

📚 ائمہ و محدثین کی تصریحات

🔹 (1) امام ترمذی رحمہ اللہ (209–279ھ)

عربی متن:
«والعمل على هذا عند بعض أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم…»

اردو ترجمہ:
“بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر اہلِ علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو آدمی صرف فرض نماز ہی پڑھے۔ امام سفیان ثوری، امام عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔”

📚 سنن ترمذی: 421

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/421/

🔹 (2) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (223–311ھ)

انہوں نے اس حدیث پر باب قائم کیا:

عربی متن:
«باب النهي عن أن يصلي ركعتي الفجر بعد الإقامة…»

اردو ترجمہ:
“اس بات کا بیان کہ فجر کی دو رکعت سنتیں اقامت کے بعد پڑھنا منع ہے، اس شخص کے قول کے خلاف جو یہ کہتا ہے کہ امام فرض نماز پڑھا رہا ہو تو سنتیں ادا کی جا سکتی ہیں۔”

📚 صحیح ابن خزیمہ: 2/169، حدیث 1123

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1123/

🔹 (3) امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ)

عربی متن:
«ذكر البيان بأن حكم صلاة الفجر وحكم غيرها من الصلوات في هذا الزجر سواء»

اردو ترجمہ:
“اس بات کا بیان کہ اس ممانعت میں نمازِ فجر اور دیگر نمازوں کا حکم ایک ہی ہے۔”

📚 صحیح ابن حبان: حدیث 2193

🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2193/

2 📚 ائمہ و محدثین کی مزید تصریحات

🔹 (4) حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (368–463ھ)

عربی متن:
«والحجة عند التنازع السنة، فمن أوَّل بها فقد أفلح، ومن استعملها فقد نجا»

اردو ترجمہ:
“اختلاف کے وقت دلیل سنتِ نبوی ﷺ ہوتی ہے، جو شخص سنت کو اختیار کرے وہ کامیاب اور جو اس پر عمل کرے وہ نجات پا جاتا ہے۔”

📚 التمهيد لابن عبدالبر: 22/69

🔹 (5) حافظ خطابی رحمہ اللہ (319–388ھ)

عربی متن:
«في هذا بيان أنه ممنوع من ركعتي الفجر ومن غيرها من الصلوات إلا المكتوبة»

اردو ترجمہ:
“اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ (اقامت کے بعد) فجر کی دو رکعت سنتیں اور دیگر تمام نمازیں فرض کے سوا ممنوع ہیں۔”

📚 معالم السنن للخطابي: 1/274

🔹 (6) حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (508–597ھ)

عربی متن:
«ولا ينبغي أن يتشاغل بالأنقص مع حضور الأكمل… والحديث يرد هذا»

اردو ترجمہ:
“جب فرض نماز کا وقت آ جائے تو کم تر عبادت (نفل) میں مشغول ہونا مناسب نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا جو قول ہے کہ اگر رکوع فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو سنتیں پڑھ لی جائیں، یہ حدیث اس قول کا رد کرتی ہے۔”

📚 كشف المشكل من حديث الصحيحين: 1/1022

🔹 (7) حافظ نووی رحمہ اللہ (631–676ھ)

عربی متن:
«فيها النهي الصريح عن افتتاح نافلة بعد إقامة الصلاة…»

اردو ترجمہ:
“اس حدیث میں فرض نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز شروع کرنے کی صریح ممانعت ہے، خواہ وہ سننِ راتبہ ہوں یا دیگر نوافل۔ یہی مذہب امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور علماء کا ہے۔”

📚 شرح صحيح مسلم للنووي: 1/247

🔹 (8) حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (691–751ھ)

عربی متن:
«دلت السنة الصحيحة الصريحة أنه لا يجوز التنفل إذا أقيمت صلاة الفرض»

اردو ترجمہ:
“صحیح اور صریح سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز جائز نہیں۔”

📚 إعلام الموقعين: 2/375

🔹 (9) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773–852ھ)

عربی متن:
«فيه منع التنفل بعد الشروع في إقامة الصلاة سواء كانت راتبة أم لا»

اردو ترجمہ:
“اس حدیث میں اقامت شروع ہونے کے بعد نفل نماز کی ممانعت ہے، خواہ وہ سننِ راتبہ ہوں یا غیر راتبہ۔”

📚 فتح الباري: 3/368

🔹 (10) محدث عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (م 1353ھ)

عربی متن:
«لا يجوز الشروع في النافلة عند إقامة الصلاة من غير فرق بين ركعتي الفجر وغيرها»

اردو ترجمہ:
“یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اقامت کے وقت نفل نماز شروع کرنا جائز نہیں، اور فجر کی سنتوں اور دیگر نوافل میں کوئی فرق نہیں۔”

📚 تحفة الأحوذي: 1/323

📖 اضافی صحیح روایت (فائدہ)

عربی متن:
«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ»

اردو ترجمہ:
“جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو وہی نماز ہوگی جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔”

📚 المعجم الأوسط للطبراني: 8654
📚 شرح معاني الآثار: 1/371
(سند: حسن)

🟢 جامع و حتمی نتیجہ

✔ جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو:
✖ فجر کی سنتیں
✖ کوئی بھی نفل یا راتبہ
✖ صف میں یا صف سے باہر

پڑھنا جائز نہیں۔

✔ ایسی حالت میں فوراً فرض نماز میں شامل ہونا واجب ہے۔

3

📘دلیل نمبر ②: حدیثِ سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ

عربی متن:
«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَىٰ رَجُلًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَاثَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الصُّبْحُ أَرْبَعًا؟ الصُّبْحُ أَرْبَعًا؟»

اردو ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ نماز کی اقامت کے بعد فجر کی دو رکعت سنت پڑھ رہا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اس آدمی کو گھیر لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا فجر کی (فرض) نماز چار رکعتیں ہو گئی؟
کیا فجر کی (فرض) نماز چار رکعتیں ہو گئی؟”

📚 صحیح بخاری: 663
📚 صحیح مسلم: 711

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/663/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/711/?hid=10620

🔹 صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ

عربی متن:
«أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ الصُّبْحُ، فَرَأَىٰ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلًا يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟»

اردو ترجمہ:
“صبح کی نماز کی اقامت کہی جا چکی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مؤذن کی اقامت کے دوران نماز پڑھ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”

🧠 ائمہ و محدثین کی تشریحات

🔹 حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (368–463ھ)

عربی متن:
«كل ذلك إنكار منه ﷺ لذلك الفعل، فلا يجوز لأحد أن يصلي في المسجد ركعتي الفجر ولا شيئًا من النوافل إذا كانت المكتوبة قد قامت»

اردو ترجمہ:
“نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان: ‘کیا دو نمازیں اکٹھی پڑھنا چاہتے ہو؟’
اور اس آدمی سے یہ کہنا: ‘ان میں سے تیری نماز کون سی ہے؟’
اور حدیثِ ابن بحینہ میں: ‘کیا فجر کی نماز چار رکعتیں پڑھ رہے ہو؟’
یہ سب اس فعل پر نبی ﷺ کی طرف سے انکار ہے۔
کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد مسجد میں فجر کی دو رکعت سنت یا کوئی اور نفل نماز ادا کرے۔”

📚 التمهيد لابن عبدالبر: 22/68

🔹 مشہور فقیہ ابوالعباس القرطبی رحمہ اللہ (م 656ھ)

عربی متن:
«وهذا الإنكار حجة على من ذهب إلى جواز صلاة ركعتي الفجر في المسجد والإمام يصلي»

اردو ترجمہ:
“نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ‘کیا تم فجر کی فرض نماز چار رکعت پڑھ رہے ہو؟’
اس فعل پر انکار ہے، اور یہ ان لوگوں کے خلاف حجت ہے جو امام کے فرض پڑھانے کے دوران فجر کی سنتوں کو جائز سمجھتے ہیں۔”

📚 الفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم
باب: إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة…

🔹 حافظ نووی رحمہ اللہ (631–676ھ)

عربی متن:
«هو استفهام إنكار… ومعناه أنه لا يشرع بعد الإقامة للصبح إلا الفريضة»

اردو ترجمہ:
“‘کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھ رہے ہو؟’ یہ استفہامِ انکاری ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کی اقامت کے بعد صرف فرض نماز ہی مشروع ہے۔
جو شخص اقامت کے بعد دو رکعت نفل پڑھ کر پھر فرض پڑھے، وہ گویا فجر کی چار رکعتیں پڑھ رہا ہے۔”

📚 شرح صحيح مسلم للنووي: 1/247

🔹 علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (762–855ھ)

عربی متن:
«فدلّ هذا على أن لا صلاة بعد الإقامة إلا الصلاة المكتوبة»

اردو ترجمہ:
“نبی ﷺ کا یہ انکار اس بات پر دلیل ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فرض کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔
کیونکہ اگر آدمی اقامت کے بعد دو رکعت سنت اور پھر امام کے ساتھ دو رکعت فرض پڑھے تو وہ فجر کی چار رکعتیں پڑھنے والا بن جاتا ہے۔”

📚 عمدة القاري: 5/181

4 📘دلیل نمبر ➌: حدیثِ سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ

عربی متن:
«دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا فُلَانُ! بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ؟ أَبِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ أَمْ بِصَلَاتِكَ مَعَنَا؟»

اردو ترجمہ:
“ایک شخص مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ ﷺ صبح کی فرض نماز ادا فرما رہے تھے۔ اس شخص نے مسجد کے ایک کونے میں فجر کی دو رکعت سنت ادا کیں، پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گیا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا:
اے فلاں! تم نے اپنی فرض نماز کس کو شمار کیا؟
کیا اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی تھی، یا اس نماز کو جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی؟”

📚 صحیح مسلم: 712
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/712/

🧠 ائمہ و محدثین کی تشریحات

حافظ خطابی رحمہ اللہ (319–388ھ) فرماتے ہیں:

عربی متن:
«في هذا دليل على أنه إذا صادف إمامًا في الفريضة لم يشتغل بركعتي الفجر وتركهما إلى أن يقضيهما بعد الصلاة»

اردو ترجمہ:
“اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب آدمی امام کو فرض نماز میں پائے تو فجر کی دو رکعت سنتوں میں مشغول نہ ہو، بلکہ انہیں چھوڑ دے اور فرض نماز کے بعد ان کی قضا ادا کرے۔”

📚 معالم السنن للخطابي: 1/274

حافظ نووی رحمہ اللہ (631–676ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

عربی متن:
«فيه دليل على أنه لا يصلي بعد الإقامة نافلة وإن كان يدرك الصلاة مع الإمام، وردٌّ على من قال: إن علم أنه يدرك الركعة الأولى أو الثانية صلى النافلة»

اردو ترجمہ:
“اس حدیث میں دلیل ہے کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد نفلی نماز نہیں پڑھی جا سکتی، چاہے آدمی (نفل پڑھ کر بھی) امام کے ساتھ نماز پا لے۔
اور اس میں اس شخص کا ردّ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر یقین ہو کہ پہلی یا دوسری رکعت مل جائے گی تو اقامت کے بعد نفل پڑھ سکتا ہے۔”

📚 شرح صحیح مسلم للنووي: 1/247

📌 خلاصۂ

➤ اگر امام فرض نماز شروع کر چکا ہو
➤ یا فرض نماز کی اقامت ہو چکی ہو

تو:

✖ فجر کی سنتیں بھی نہیں پڑھی جائیں گی
✖ مسجد کے کونے میں یا صف سے باہر پڑھنا بھی جائز نہیں
✔ فرض نماز میں فوراً شامل ہونا لازم ہے
✔ سنتیں بعد میں قضا کی جائیں گی

یہ حدیث اور اس پر ائمۂ حدیث کی تصریحات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ
اقامت کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔

واللہ أعلم بالصواب۔

5 نمازِ فجر کی اقامت کے بعد سنتیں پڑھنے کا مسئلہ: دلیل نمبر ➃ تا ➓

🔹 دلیل نمبر ➃

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

عربی متن:
«إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَىٰ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: أَالصُّبْحُ أَرْبَعًا؟»

اردو ترجمہ:
نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ فجر کی اقامت کے بعد فجر کی دو رکعت سنت ادا کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”

📚 مسند البزار: 3260
(سند: صحیح)

🔹 دلیل نمبر ➄

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:

عربی متن:
«كُنْتُ أُصَلِّي وَأَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الإِقَامَةِ، فَجَذَبَنِي النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟»

اردو ترجمہ:
میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مؤذن نے اقامت شروع کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھینچا اور فرمایا:
“کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”

📚 مسند الطيالسي: 2736
📚 السنن الكبرى للبيهقي: 2/482
📚 صحیح ابن خزیمہ: 1124
📚 صحیح ابن حبان: 2469
(سند: حسن)

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1124/
🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2469/

🔹 دلیل نمبر ➅

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

عربی متن:
«أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَجَذَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِثَوْبِهِ وَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟»

اردو ترجمہ:
صبح کی نماز کی اقامت ہو گئی، تو ایک آدمی دو رکعت نفل پڑھنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا:
“کیا تم صبح کی (فرض) نماز چار رکعتیں ادا کر رہے ہو؟”

📚 مسند الإمام أحمد: 1/238
(سند: حسن)

🔹 دلیل نمبر ➆

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

عربی متن:
«أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَرَأَى النَّبِيُّ ﷺ نَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: أَصَلَاتَانِ؟»

اردو ترجمہ:
نماز کی اقامت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو (نفل) نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا دو نمازیں (فرض) پڑھ رہے ہو؟”

📚 التاريخ الصغير للبخاري: 2300
(سند: حسن)

🔹 ان دلائل پر ائمہ کی تصریح

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عربی متن:
«فهذه نصوص منقولة نقل المتواتر، لا يحلّ لأحد خلافها»

اردو ترجمہ:
“یہ نصوص تواتر کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہیں، کسی کے لیے ان کے خلاف عمل کرنا حلال نہیں۔”

📚 المحلىٰ لابن حزم: 3/108 (مسئلہ: 308)

🔹 دلیل نمبر ➇ (صحابی کا فتویٰ)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

عربی متن:
«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»

اردو ترجمہ:
“جب فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرضی نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔”

📚 مصنف ابن أبي شيبة: 2/76
(سند: صحیح)

🔹 دلیل نمبر ➈ (تابعی کا قول)

امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عربی متن:
«إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَرْكَعْ»

اردو ترجمہ:
“جب تم مسجد میں ہو اور نماز کی اقامت ہو جائے تو (نفل) نماز نہ پڑھو۔”

📚 مصنف ابن أبي شيبة: 2/77
(سند: صحیح)

🔹 دلیل نمبر ➓ (تابعی کا قول)

امام میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

عربی متن:
«إِذَا كَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ بِالإِقَامَةِ فَلَا تُصَلِّيَنَّ شَيْئًا حَتَّى تُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ»

اردو ترجمہ:
“جب مؤذن اقامت کی تکبیر کہہ دے تو فرض نماز ادا کرنے تک کوئی نماز نہ پڑھو۔”

📚 مصنف ابن أبي شيبة: 2/76
(سند: صحیح)

🧾 حتمی نتیجہ (ان دلائل کی روشنی میں)

✔ فرض نماز کی اقامت کے بعد
✖ فجر کی سنتیں
✖ کوئی بھی نفل یا راتبہ
✖ مسجد کے اندر، کونے میں یا صف کے پیچھے

کسی صورت میں جائز نہیں۔

✔ صحابہ، تابعین، ائمہ اربعہ اور محدثین کا متفقہ فہم یہی ہے۔
✔ فجر کی سنتوں کے لیے کوئی استثناء ثابت نہیں۔

واللہ أعلم بالصواب۔

6 ➊ بعض الناس کا مذہب! (فجر کی سنتیں بابِ مسجد پر)

ان احادیث مبارکہ کے خلاف بعض الناس کا مذہب ملاحظہ فرمائیں :

عربی متن:
«إن خشي أن تفوته ركعته من الفجر فى جماعة ويدرك ركعة من الفجر صلّى ركعتين عند باب المسجد، ثمّ دخل فصلّى مع القوم، وإن خاف أن تفوته الركعتان جميعا صلّى مع القوم ولم يصلّ ركعتي الفجر إلا يقضيهما»

اردو ترجمہ:
“اگر نمازی کو فجر کی جماعت میں ایک رکعت کے نکل جانے اور ایک رکعت پانے کا خدشہ ہو تو وہ مسجد کے دروازے کے پاس دو رکعتیں پڑھ لے، پھر جماعت میں داخل ہو کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اور اگر اسے دونوں رکعتوں کے نکل جانے کا خدشہ ہو تو وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے اور فجر کی دو رکعت سنت نہ پڑھے، نہ ان کی قضا کرے۔”

📚 كتاب الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني: 1/166
📚 الأوسط لابن المنذر: 5/233

➋ ان کی باطل تاویلات

(ا) امام طحاوی حنفی (238–321ھ) کی تاویل — حدیثِ ابو ہریرہؓ پر

عربی متن:
«فقد يجوز أن يكون أراد بهذا النهي عن أن يصلي غيرها في موطنها الذي يصلي فيه… لا من أجل أن يصلي في آخر المسجد، ثم يتنحى… فيخالط الصفوف ويدخل في الفريضة»

اردو ترجمہ:
“ممکن ہے کہ اس ممانعت سے مراد یہ ہو کہ آدمی فجر کی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز اسی جگہ نہ پڑھے، کیونکہ یوں وہ فجر کی فرض کو نفل کے ساتھ ملا دے گا۔ لہٰذا ممانعت اس بات سے تھی، اس بات سے نہیں تھی کہ وہ مسجد کے آخری حصے میں نفل پڑھ لے، پھر ہٹ کر صفوں میں مل جائے اور فرض میں داخل ہو جائے۔”

📚 شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/371

تبصرہ:
یہ تاویل باطل ہے۔ ائمہ محدثین میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اس مسئلے میں تمام صحیح احادیث اس تاویل کا ردّ کرتی ہیں۔

اس ضمن میں ابن ابی العز الحنفی (731–792ھ) کا قول قابلِ توجہ ہے:

عربی متن:
«ومن ظنّ أن يعرف الأحكام من الكتاب والسنّة بدون معرفة ما قاله الأئمة وأمثالهم فهو مخطئ»

اردو ترجمہ:
“جو آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ائمہ دین اور اسلافِ امت کے اقوال کی معرفت کے بغیر کتاب و سنت سے احکام سمجھ لے گا، وہ خطاکار ہے۔”

📚 الاتباع لابن أبي العز الحنفي: ص 43

(ب) امام طحاوی کی دوسری تاویل — حدیثِ ابن بحینہؓ و ابن سرجسؓ پر

عربی متن:
«إنه قد يجوز أن يكون قوله: كان خلف الناس… فكان شبيه المخالط لهم… وهذا مكروه عندنا، وإنما يجب أن يصليهما في مؤخر المسجد…»

اردو ترجمہ:
“ممکن ہے ‘لوگوں کے پیچھے’ سے مراد یہ ہو کہ وہ صفوں کے پیچھے اس طرح تھا کہ اس کے اور جماعت کے درمیان فاصلہ نہ تھا، گویا وہ ملا ہوا تھا۔ یہ صورت ہمارے نزدیک مکروہ ہے۔ ضروری ہے کہ وہ مسجد کے آخری حصے میں دو رکعتیں پڑھے، پھر چل کر آگے آئے۔”

📚 شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/371

تبصرہ:
یہ تاویل انتہائی بعید اور ائمہ محدثین کے اجماعی فہم کے خلاف ہے۔

علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی لکھتے ہیں:

عربی متن:
«وحمل الطحاوي هذه الأخبار على أنهم صلّوا في الصفوف… لكنه حمل من غير دليل معتدّ به، بل سياق بعض الروايات يخالفه»

اردو ترجمہ:
“طحاوی نے ان احادیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ انہوں نے صفوں میں نماز پڑھی تھی، اسی لیے روکا گیا؛ لیکن یہ حمل کسی معتبر دلیل کے بغیر ہے، بلکہ بعض روایات کا سیاق اس کی مخالفت کرتا ہے۔”

📚 التعليق المجد: ص 86

➌ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کا فیصلہ کن ردّ

عربی متن:
«ثم لو لم يأت حديث أبي هريرة أصلا لكان في حديث ابن سرجس وابن بحينة وابن عباس كفاية…»

اردو ترجمہ:
“اگر ابو ہریرہؓ کی حدیث سرے سے موجود بھی نہ ہوتی، تب بھی ابن سرجس، ابن بحینہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی احادیث اس شخص کے لیے کافی ہیں جو اپنے نفس کی خیرخواہی کرتا ہو اور خواہش نفس کے تحت ایسے لوگوں کی تقلید نہ کرتا ہو جو اللہ کے سامنے اسے کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔”

📚 المحلىٰ لابن حزم: 3/109 (مسئلہ: 308)

اور ان کی تاویل کو “کذب” قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

عربی متن:
«وهو كذب مجرد… لأن في الحديث نفسه: أنه لم يصلّهما إلا خلف الناس في جانب المسجد…»

اردو ترجمہ:
“یہ خالص جھوٹ ہے، کیونکہ خود حدیث میں موجود ہے کہ اس نے یہ دو رکعتیں لوگوں سے پیچھے مسجد کے ایک جانب میں پڑھی تھیں—بالکل اسی طرح جیسے یہ لوگ اپنے مقلدین کو حکم دیتے ہیں۔ پھر نبی ﷺ کا فرمان: ‘تم نے کون سی نماز شمار کی؟’ اور ‘کیا فجر چار رکعت پڑھ رہے ہو؟’ اس جھوٹ کو واضح کر دیتا ہے۔”

📚 المحلىٰ لابن حزم: 3/109–110 (مسئلہ: 308)

✅ خلاصہ

➤ بعض الناس کی یہ تاویلات باطل اور صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔
➤ نبی ﷺ کا انکار: «أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟» اور «بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ؟»
صاف بتاتا ہے کہ اقامت/جماعت کے بعد سنتیں شروع کرنا جائز نہیں—چاہے صف سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔

7 📘 تنبیہ: فجر کی اقامت کے بعد سنتوں کے جواز پر پیش کی جانے والی روایات کا علمی جائزہ

🔹 ایک ضعیف روایت اور اس کی حقیقت

روایت:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عربی متن:
«إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة إلا ركعتي الصبح»

ترجمہ:
“جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرضی نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی، ہاں فجر کی دو رکعت سنت ہو جاتی ہیں۔”

📚 السنن الكبرى للبيهقي: 2/483

تبصرہ (سندی حیثیت):

یہ روایت سخت ضعیف بلکہ بے اصل ہے، کیونکہ:

حجاج بن نصیر

  • جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف

  • حافظ ہیثمی: «الأكثرون على تضعيفه»

  • حافظ ابن حجر: «ضعيف كان يقبل التلقين»

  • حافظ ذہبی: متروک

📚 مجمع الزوائد: 8/32، 8/121
📚 تقريب التهذيب: 1139
📚 تلخيص المستدرك: 3/179

عباد بن كثير البصري

  • متروک
    📚 التقريب: 3139

ليث بن أبي سليم

  • ضعیف اور مختلط (جمہور کے نزدیک)

▶️ امام بیہقی رحمہ اللہ نے صراحت کی:
«وهذه الزيادة لا أصل لها»
“یہ زیادت بے اصل ہے۔”
📚 السنن الكبرى للبيهقي: 2/483

▶️ حافظ ابن القيم رحمہ اللہ:
اسے بھی بے اصل قرار دیا۔
📚 إعلام الموقعين: 2/375

🔹 بعض صحابہ کے موقوف آثار — تحقیقی جائزہ

(1) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

  • 📚 شرح معاني الآثار: 1/355 → ضعیف (یحییٰ بن ابی کثیر کی تدلیس)

  • 📚 مصنف ابن أبي شيبة: 2/250 → ضعیف (دلہم بن صالح)

(2) سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ

  • 📚 شرح معاني الآثار: 1/375 → ضعیف (ابو معاویہ الضریر کی تدلیس)

(3) سیدنا عبداللہ بن مسعود و ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم

  • 📚 مصنف ابن أبي شيبة: 2/251 → ضعیف (ابو اسحاق السبیعی مدلس)

(4) دیگر روایات

  • ابو اسحاق السبیعی کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف

🔹 صحیح سند کے ساتھ ثابت آثار

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما
📚 شرح معاني الآثار: 1/374 — سند صحیح

مسروق تابعی رحمہ اللہ
📚 شرح معاني الآثار: 1/376 — سند صحیح

امام حسن بصری رحمہ اللہ
📚 شرح معاني الآثار: 1/376

ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ
بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فجر کی سنتیں مسجد کے آخری حصے میں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوتے تھے۔
📚 شرح معاني الآثار: 1/375 — سند صحیح

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

  • گھر یا راستے میں سنتیں پڑھتے

  • مسجد کے اندر جماعت کے ساتھ سنتیں پڑھنا ثابت نہیں

🔹 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سخت انکار

عربی متن:
«إنه أبصر رجلا يصلي الركعتين والمؤذن يقيم، فحصبه وقال: أتصلي الصبح أربعا؟»

ترجمہ:
“آپ نے ایک آدمی کو دیکھا جو دو رکعت پڑھ رہا تھا جبکہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔ آپ نے کنکری ماری اور فرمایا: کیا تم صبح کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟”

📚 السنن الكبرى للبيهقي: 2/483
(سند: صحیح)

حاصلِ کلام

➤ فجر کی اقامت کے بعد سنتوں کے جواز پر پیش کی جانے والی مرفوع روایت بے اصل ہے۔
➤ صحابہ و تابعین سے جو آثار ملتے ہیں، ان میں مسجد کے اندر جماعت کے ہوتے ہوئے سنتیں پڑھنا ثابت نہیں۔
➤ صحیح و صریح احادیث، صحابہ کے فہم اور ائمہ محدثین کے اقوال کے مطابق:
اقامت کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔

والله أعلم بالصواب

8

📘 فجر کی سنتیں نماز کے بعد کب ادا کی جائیں؟

جب کوئی شخص فجر کی سنتیں ادا نہ کر سکے اور فرض نماز کی جماعت کھڑی ہو جائے تو صحیح احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اس کا درست طریقہ درج ذیل ہے:

➊ فرض نماز کے فوراً بعد فجر کی سنتیں ادا کرنا

اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور فجر کی جماعت کھڑی ہو، تو وہ سنتیں چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جائے۔
فرض نماز ادا کرنے کے بعد وہ وہیں کھڑے ہو کر فجر کی دو رکعت سنتیں ادا کر سکتا ہے۔

📖 دلیل:

عربی متن:
أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الصُّبْحَ، وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ

ترجمہ:
سیدنا قیس بن عمرو (یا قہد) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی فرض نماز ادا کی، جبکہ انہوں نے فجر کی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہو گئے اور دو رکعت سنت ادا کر لیں۔ رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے، مگر آپ ﷺ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔

📚 حوالہ:

  • صحیح ابن خزیمہ: 1116 🔗https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1116/

  • صحیح ابن حبان: 1563 🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/1563/

  • المستدرک للحاکم: 1/375
    (سند صحیح)

امام حاکم رحمہ اللہ:

إسناده صحيح على شرط الشيخين
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی ہے۔

➡️ یہ حدیث واضح نص ہے کہ اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں تو فرض نماز کے فوراً بعد ادا کی جا سکتی ہیں۔

➋ فجر کے بعد نفل نماز کی ممانعت کا محل

وہ احادیث جن میں فجر کے بعد نماز سے منع کیا گیا ہے، ان کا تعلق طلوعِ آفتاب کے بعد کے وقت سے ہے، نہ کہ فرض نماز کے فوراً بعد کے لمحے سے۔

📖 دلیل:

عربی متن:
فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ

ترجمہ:
(نبی ﷺ نے فرمایا:)
آئندہ ایسا نہ کرنا۔ جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو، پھر کسی ایسی مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو، تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔

📚 حوالہ:

  • مسند احمد: 4/160، 161

  • سنن ابی داود: 575، 576 🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/575/

  • سنن نسائی: 858 🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/858/

  • سنن ترمذی: 219 (حسن صحیح) 🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/219/

  • صحیح ابن خزیمہ: 1279 🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1279/

  • صحیح ابن حبان: 1565https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/🔗 1565/

➡️ اس سے معلوم ہوا کہ فجر کے بعد نفل نماز کا دروازہ بالکل بند نہیں، بلکہ اصل ممانعت طلوعِ آفتاب کے وقت سے متعلق ہے۔

➌ طلوعِ آفتاب کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرنا

اگر کوئی شخص فجر کی سنتیں فرض نماز کے فوراً بعد بھی ادا نہ کر سکے تو وہ طلوعِ آفتاب کے بعد بھی انہیں ادا کر سکتا ہے۔

📖 آثارِ صحابہ و تابعین:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
📚 مصنف ابن ابی شیبہ: 2/254 (سند صحیح)

جماعت میں شامل ہوئے، پھر اپنی جگہ بیٹھے رہے،
جب چاشت کا وقت ہوا تو دو رکعت سنت ادا کیں۔

قاسم بن محمد رحمہ اللہ:
📚 مصنف ابن ابی شیبہ: 2/254 (سند صحیح)

اگر میں فجر سے پہلے سنتیں نہ پڑھ سکوں تو سورج نکلنے کے بعد ادا کرتا ہوں۔

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اسی کے قائل ہیں:
سفیان ثوری، ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق
📚 سنن ترمذی: تحت الحدیث 423

⚠️ تنبیہ: ایک مشہور مگر ضعیف روایت

عربی متن:
لا تدعوا ركعتي الفجر ولو طردتكم الخيل

ترجمہ:
فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑو، اگرچہ دشمن کے گھوڑے تمہیں روند ڈالیں۔

📚 حوالہ:

  • مسند احمد: 2/405

  • سنن ابی داود: 1258

یہ روایت ضعیف ہے
کیونکہ اس کا راوی ابنِ سیلان مجہول ہے۔

📚 جرح:

  • نصب الراية: 2/161

  • ميزان الاعتدال: 2/547

➡️ فضیلت بہرحال صحیح احادیث سے ثابت ہے، مگر دلیل ہمیشہ صحیح ہونی چاہیے۔

🔚 خلاصہ (اہلِ حدیث کا مسلک)

◈ فجر کی سنتیں بہت مؤکد ہیں، انہیں بلاوجہ ترک نہ کیا جائے۔
◈ اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جائیں۔
◈ پھر:

  • یا تو فرض کے فوراً بعد سنتیں ادا کریں

  • یا طلوعِ آفتاب کے بعد ادا کریں

➡️ اس طریقے سے تمام صحیح احادیث پر عمل ہو جاتا ہے۔

والله أعلم بالصواب