1 📘 اقامتِ فرض کے بعد سنتیں اور نوافل پڑھنے کا حکم
جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو اس کے بعد فرض نماز کے علاوہ کوئی سنت یا نفل نماز پڑھنا جائز نہیں، خواہ:
➤ صف میں کھڑے ہو کر پڑھی جائے
➤ صف کے پیچھے پڑھی جائے
➤ نماز کے بعد کلام کیا جائے یا نہ کیا جائے
یہ حکم فجر کی سنتوں سمیت تمام نوافل کو شامل ہے۔
📖 حدیث نمبر 1 (بنیادی و اصل دلیل)
🔹 حدیثِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
عربی متن:
«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»
اردو ترجمہ:
“جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی (نفلی) نماز نہیں ہوتی۔”
📚 مسند الإمام أحمد: 2/331
📚 صحیح مسلم: 710
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/710/?hid=10615
وضاحت:
یہ حدیث مرفوعاً (نبی ﷺ کا فرمان) اور موقوفاً (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ) دونوں طرح ثابت ہے۔
اصولی قاعدہ ہے کہ موقوف روایت، مرفوع حدیث کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہے۔
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نفل نماز، اقامت کے بعد پڑھنا ممنوع ہے۔
📚 ائمہ و محدثین کی تصریحات
🔹 (1) امام ترمذی رحمہ اللہ (209–279ھ)
عربی متن:
«والعمل على هذا عند بعض أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم…»
اردو ترجمہ:
“بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر اہلِ علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو آدمی صرف فرض نماز ہی پڑھے۔ امام سفیان ثوری، امام عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔”
📚 سنن ترمذی: 421
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/421/
🔹 (2) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (223–311ھ)
انہوں نے اس حدیث پر باب قائم کیا:
عربی متن:
«باب النهي عن أن يصلي ركعتي الفجر بعد الإقامة…»
اردو ترجمہ:
“اس بات کا بیان کہ فجر کی دو رکعت سنتیں اقامت کے بعد پڑھنا منع ہے، اس شخص کے قول کے خلاف جو یہ کہتا ہے کہ امام فرض نماز پڑھا رہا ہو تو سنتیں ادا کی جا سکتی ہیں۔”
📚 صحیح ابن خزیمہ: 2/169، حدیث 1123
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1123/
🔹 (3) امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ)
عربی متن:
«ذكر البيان بأن حكم صلاة الفجر وحكم غيرها من الصلوات في هذا الزجر سواء»
اردو ترجمہ:
“اس بات کا بیان کہ اس ممانعت میں نمازِ فجر اور دیگر نمازوں کا حکم ایک ہی ہے۔”
📚 صحیح ابن حبان: حدیث 2193
🔗 https://tohed.com/hadith/sahih-ibn-hibban/2193/