واٹساپ دعوتی مواد اللہ کہاں ہے؟

اللہ کہاں ہے؟

26 پیغامات

1 📘 اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ: اللہ تعالیٰ عرش پر بلند ہے

اہلِ سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر بلند ہے، اور یہ اس کی ذاتی، ازلی اور ابدی صفت ہے۔

اس مسئلے میں دو گروہوں نے اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کی ہے:

➊ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔

➋ دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کائنات کے اوپر ہے، نہ نیچے، نہ جہان کے اندر ہے، نہ باہر، نہ دائیں، نہ بائیں، نہ آگے، نہ پیچھے، نہ کائنات سے متصل ہے، نہ اس سے منفصل۔

یہ تعبیرِ عقیدہ اسلافِ امت سے ثابت نہیں۔ تاہم یہ لوگ اپنے عقیدے پر قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے وہ دلائل پڑھے تھے جو یہ حضرات پیش کرتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً پڑھے تھے، بلکہ یاد بھی کیے تھے۔

تو پھر یہ دلائل پڑھنے کے باوجود انہوں نے یہ عقائد کیوں نہ اپنائے؟

اس کی صرف دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں:

➊ یا تو سلفِ امت ان دلائل کو جاننے کے باوجود ماننے پر تیار نہیں تھے۔

➋ یا پھر ان دلائل سے وہ عقائد ثابت ہی نہیں ہوتے، جو یہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ائمۂ سلف نے اپنے عقائد کی بنیاد قرآن و حدیث پر رکھی ہے۔ وہ قرآن و سنت کے تابع تھے، جبکہ مبتدعین نے پہلے عقائد وضع کیے، پھر نصوصِ قرآن و سنت کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ یوں ان کے عقائد ائمۂ سلف کے اجماع کے خلاف ہو گئے۔

📗 اہلِ کلام کی تاویل

اہلِ کلام نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو سے مراد صفات کی بلندی لی ہے، ذات کی بلندی نہیں۔

📙 صفتِ معیت کا صحیح مفہوم

اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے علو ثابت کیا ہے۔ جس آیت سے اہلِ ضلال نے استدلال کیا ہے، وہ ان کے اس باطل دعوے پر دلالت ہی نہیں کرتی، کیونکہ معیت سے حلول لازم نہیں آتا۔

جیسا کہ عربوں کا کہنا ہے:

◈ (القمر معنا)
“چاند ہمارے ساتھ ہے۔”
حالانکہ چاند آسمان پر ہوتا ہے۔

◈ (زوجتي معي)
“میری بیوی میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ ممکن ہے وہ مشرق میں ہو اور وہ مغرب میں ہو۔

لہٰذا معیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساتھ والا ہمیشہ ساتھ والے کی جگہ ہی میں ہو، بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے معیت کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔

کبھی کہا جاتا ہے:

◈ (هذا لبن معه ماء)
“اس دودھ میں پانی ملا ہوا ہے۔”
یہ معیت اختلاط کا تقاضا کرتی ہے۔

اور آدمی کہتا ہے:

◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ سامان اس کے گھر میں رکھا ہوتا ہے۔

اور اگر وہ سامان اٹھائے ہوئے ہو تو بھی یہی کہتا ہے:

◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”

اس صورت میں سامان اس کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔

پس یہ ایک ہی لفظ ہے، مگر اضافت کے بدلنے سے اس کے معانی بھی بدل جاتے ہیں۔

📕 باطل لوازمات

یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، کئی باطل لوازمات کو لازم کرتا ہے:

➊ تعدد یا اجزا لازم آئیں گے۔
یہ لازم بلا شبہ باطل ہے، اور لازم کا بطلان، ملزوم کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔

➋ جب آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کئی جگہوں میں لوگوں کے ساتھ ہے، تو لازم آئے گا کہ لوگوں کی زیادتی سے وہ زیادہ اور کمی سے کم ہو جائے۔

➌ اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کو ناپاک اور گندگی والی جگہوں سے پاک نہیں سمجھتے، کیونکہ جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، تو بیت الخلا اور گندگی کے ڈھیر بھی “ہر جگہ” میں داخل ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے خلاف نہایت سنگین بات ہے۔

لہٰذا یہ نظریہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔
قرآن و سنت سے کسی طور بھی اس کے لیے کوئی دلیل مترشح نہیں ہو سکتی، نہ مطابقتی، نہ تضمنی اور نہ التزامی۔

📒 باری تعالیٰ کے لیے جہت کا اثبات

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ثابت نہیں کی جا سکتی۔
ان کا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو جہت کے ساتھ موصوف کیا جائے تو اس سے جسم لازم آئے گا، اور چونکہ ان کے نزدیک تمام اجسام ایک جیسے ہیں، اس لیے اس سے تمثیل لازم آئے گی۔ اسی بنا پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جہت کا انکار کر دیا۔

ہم کہتے ہیں کہ جہت کی نفی سے تو اللہ تعالیٰ کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ ہم عدم کے سوا کسی ایسی چیز کو نہیں جانتے جو:

نہ کائنات کے اوپر ہو،
نہ نیچے،
نہ دائیں،
نہ بائیں،
نہ آگے،
نہ پیچھے،
نہ متصل،
نہ منفصل۔

اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ اگر ہمیں کہا جائے کہ عدم کو الفاظ میں بیان کرو، تو اس کے لیے جہت کی نفی سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ملیں گے۔

باقی یہ اعتراض کہ جہت کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، تو یہ باطل ہے؛ کیونکہ یہ اعتراض تب درست ہو جب ہم خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت و مشابہت ثابت کریں۔

حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے ہی ثابت کرتے ہیں جیسے اس کی شان اور عظمت کے لائق ہیں۔
نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔

اگر جسم سے آپ کی مراد وہ چیز ہے جو مختلف اجزا سے مل کر بنی ہو اور ان اجزا کے بغیر قائم نہ رہ سکتی ہو، تو ہم بھی ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت نہیں کرتے۔

لہٰذا جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علو کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔

یہ دراصل سلفِ صالحین پر بے اعتمادی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانتے تھے۔
پس سلف پر بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراض کرنے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔

2 📘 اللہ کی صفتِ علو قرآن کی روشنی میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے کا واضح بیان موجود ہے، اور اس کے لیے وہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو علو و بلندی پر دلالت کرتے ہیں۔

➊ ”مِن“ (جانب / اوپر) کے ساتھ بلندی کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ﴾
”وہ اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے ہیں۔“
📖 النحل: 50

➋ ایسے الفاظ کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کے اوپر ہونے کا بیان
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ﴾
”اور وہ اپنے بندوں کے اوپر غالب و حاکم ہے۔“
📖 الأنعام: 18، 61

➌ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتوں کے چڑھنے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ﴾
”فرشتے اور روح الامین (جبریل علیہ السلام) اس کی طرف چڑھتے ہیں۔“
📖 المعارج: 4

نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”وہ فرشتے (آسمان کی طرف) چڑھتے ہیں جنہوں نے تمہارے اندر رات گزاری ہوتی ہے، پھر اللہ ان سے پوچھتا ہے...“
📖 صحیح البخاری: 7429
📖 صحیح مسلم: 623

➍ اللہ تعالیٰ کی طرف اعمال کے چڑھنے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ﴾
”اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں۔“
📖 فاطر: 10

➎ اپنی بعض مخلوق کو اپنی طرف اٹھانے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾
”بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔“
📖 النساء: 158

نیز فرمایا:

﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾
”بے شک میں آپ کو پورا پورا لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“
📖 آل عمران: 55

➏ مطلق بلندی کا تذکرہ
یہ ایسی بلندی ہے جو ذات، قدر، شرف اور تمام مراتبِ علو کو شامل ہے:

﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾
”اور وہ بلند اور عظیم ہے۔“
📖 البقرة: 255

﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾
”اور وہ بلند اور بڑا ہے۔“
📖 سبأ: 23

﴿إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾
”بے شک وہ بلند، حکمت والا ہے۔“
📖 الشورى: 51

➐ کتاب کے اوپر سے نازل ہونے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾
”کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز و علیم کی طرف سے ہے۔“
📖 غافر: 2

﴿تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
”کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز و حکیم کی طرف سے ہے۔“
📖 الزمر: 1

﴿تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾
”یہ رحمن و رحیم ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“
📖 فصلت: 2

﴿تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴾
”یہ حکمت والے، خوبیوں والے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“
📖 فصلت: 42

﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ﴾
”کہہ دیجیے کہ اسے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے۔“
📖 النحل: 102

اور فرمایا:

﴿حم ۝ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝ أَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴾
”حم۔ قسم ہے روشن کتاب کی! بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا، یقیناً ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہماری طرف سے حکم ہوتا ہے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔“
📖 الدخان: 1-5

➑ بعض مخلوقات کو اپنے قرب سے خاص کرنے کی صراحت
اور یہ بھی کہ بعض مخلوقات دوسری مخلوقات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں:

﴿إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾
”بے شک وہ مخلوق جو آپ کے رب کے پاس ہے، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتی۔“
📖 الأعراف: 206

﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾
”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور جو مخلوق اس کے پاس ہے وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتی۔“
📖 الأنبياء: 19

📌 خلاصہ
قرآنِ مجید کی یہ تمام آیات اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بلند ہے، اپنے عرش پر مستوی ہے، اور اپنی تمام مخلوقات سے اوپر ہے، جبکہ اس کا علم، سمع، بصر اور قدرت ہر چیز کو محیط ہے۔

3 📘 اللہ کی صفتِ علو صحیح احادیث کی روشنی میں

نبی ﷺ نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے لکھی ہے:

«إِنَّهَا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ»
”وہ عرش کے اوپر، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“
📖 صحیح البخاری: 7553
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7553/

📖 صحیح مسلم: 2751
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2751/

📗 اللہ تعالیٰ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کی وضاحت

اس بات کی تصریح کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہے، اہلِ سنت کے مفسرین کے ہاں اس کی دو معروف تفسیریں ہیں، اور اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں:

➊ پہلی تفسیر:
کلمہ ”في“، ”على“ کے معنی میں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر، عرش پر ہے۔

➋ دوسری تفسیر:
کلمہ ”السماء“ سے مراد علو و بلندی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بلندی میں ہے۔

اسے ان دو معانی کے علاوہ کسی اور معنی پر محمول کرنا جائز نہیں۔

📙 خاص عرش پر مستوی ہونے کی تصریح

کلمہ ”على“ کے ساتھ یہ تصریح بھی آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر عرش پر مستوی ہے، اور عرش تمام مخلوقات سے بلند ترین مخلوق ہے۔

📕 اللہ تعالیٰ کی طرف ہاتھ اٹھانے کی تصریح

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا»
”جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو حیا آتی ہے کہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔“
📖 مسند البزار: 2510
📖 المعجم الكبير للطبراني: 8130
📖 المستدرك للحاكم: 1/535
📌 اسے ابنِ حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

📒 نزولِ الٰہی کی حدیث

یہ بھی صریح احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔

تمام لوگوں کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ نزول اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے۔

📗 حجۃ الوداع میں آسمان کی طرف اشارہ

نبی اکرم ﷺ، جو اپنے رب کی ذات و صفات کو سب سے زیادہ جانتے تھے، انہوں نے سب سے بڑے مجمع، عظیم دن اور عظیم مقام یعنی حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:

«أَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟»
”تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گے؟“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

«نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ، وَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ»
”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔“

اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا:

”اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ“
”اے اللہ! گواہ رہ۔“
📖 صحیح مسلم: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

📘 نبی ﷺ کا سوال: اللہ کہاں ہے؟

نبی اکرم ﷺ، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جانتے تھے، اپنی امت کے لیے سب سے بڑھ کر خیر خواہ تھے، اور حق بات کو سب سے زیادہ فصاحت کے ساتھ بیان فرمانے والے تھے، ان کا کئی مرتبہ یہ سوال کرنا:

«أَيْنَ اللَّهُ؟»
”اللہ کہاں ہے؟“

یہ بھی اس باب میں واضح دلیل ہے۔

اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر ماننے والی لونڈی کے بارے میں گواہی دی کہ:

وہ مومنہ ہے۔
📖 صحیح مسلم: 537
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/

📙 موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ

قرآنِ مجید میں مذکور ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے، تو فرعون نے آسمان کی طرف چڑھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے معبود کے بارے میں جھانک سکے، پھر آپ کو جھوٹا ثابت کرے۔

چنانچہ اس نے کہا:

﴿يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ ۝ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا﴾
”اے ہامان! میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا، تاکہ میں آسمانوں کے راستوں تک پہنچ جاؤں، پھر موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں، اور بے شک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔“
📖 المؤمن: 36-37

📕 واقعۂ معراج

نبی کریم ﷺ شبِ معراج میں بار بار موسیٰ علیہ السلام اور اپنے رب کے درمیان آتے جاتے رہے۔
آپ ﷺ اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے، پھر نیچے موسیٰ علیہ السلام کی طرف آتے۔
📖 صحیح البخاری: 3207
📖 صحیح مسلم: 162

📗 اہلِ جنت کے لیے دیدارِ الٰہی

کتاب و سنت میں اہلِ جنت کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا ثبوت موجود ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ جنت اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جیسے سورج اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں، جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ اوپر ہی دیکھیں گے۔

ایک روایت میں ہے:

«بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ، إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الْجَبَّارُ جَلَّ جَلَالُهُ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، وَقَالَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ...»

”اہلِ جنت اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اٹھائیں گے، تو دیکھیں گے کہ اللہ جل جلالہ ان کے اوپر سے ان پر جلوہ فرما ہے، اور فرمائے گا: اے اہلِ جنت! تم پر سلام ہو۔“

پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ﴾
”نہایت مہربان رب کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔“
📖 يس: 58

پھر اللہ تعالیٰ ان سے اوجھل ہو جائے گا، مگر اس کی رحمت اور برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔

📖 سنن ابن ماجه: 184
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/184/

📖 مسند البزار: 2253
📌 اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں فضل بن عیسیٰ الرقاشی ہے، جو منکر الحدیث ہے۔

📒 اہلِ سنت اور جہمیہ کا اختلاف

اللہ تعالیٰ کی صفتِ فوقیت یعنی اوپر ہونے کا انکار دراصل اسی وقت ممکن ہے جب رویتِ باری تعالیٰ کا بھی انکار کیا جائے۔
اسی لیے جہمیہ نے ان دونوں صفات کا انکار کیا، جبکہ اہلِ سنت نے دونوں کا اقرار اور دونوں کی تصدیق کی ہے۔

جس نے رویت کی نفی کی اور علو کا بھی انکار کیا، وہ تذبذب کا شکار ہو گیا؛ نہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔

4 📘 اللہ کی صفتِ علو پر دلالت کرنے والی حدیثِ جاریہ اور اس پر سلف کا فہم

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

«كانت لي جارية ترعى غنما لي قبل أحد والجوابية، فاطلعت ذات يوم، فإذا الذئب قد ذهب بشاة عن غنمها، وأنا رجل من بني آدم آسف كما يأسفون، لكني صككتها صكة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعظم ذلك علي، قلت: يا رسول الله! أفلا أعتقها؟ قال: ائتني بها، فأتيته بها، فقال لها: أين الله؟ قالت: في السماء، قال: من أنا؟ قالت: أنت رسول الله، قال: أعتقها، فإنها مؤمنة.»

’’میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوّابیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا ریوڑ میں سے ایک بکری لے گیا۔ میں بھی آدم زاد تھا، سو مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوا جیسے دوسروں کو ہوتا ہے، لیکن میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس بات کو مجھ پر بہت گراں سمجھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ میں اسے آپ کے پاس لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں کے اوپر۔ فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔‘‘

📖 (صحیح مسلم: 537)

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/

✦ یہ حدیث نصِ صریح ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔

◈ امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھ) لکھتے ہیں:

«هذا يدل على أن الله تعالى على عرشه فوق السماء.»

’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے۔‘‘

📖 (الإبانة في أصول الديانة، ص 109)

◈ امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ (463ھ) لکھتے ہیں:

«معاني هذا الحديث واضحة يستغني عن الكلام فيها، وأما قوله: أين الله؟ فقالت: في السماء، فعلى هذا أهل الحق.»

’’اس حدیث کا مفہوم بالکل واضح ہے، جس پر مزید کلام کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال: اللہ کہاں ہے؟ اور لونڈی کا جواب: آسمانوں کے اوپر ہے، تو اہلِ حق کا یہی عقیدہ ہے۔‘‘

📖 (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 22/80)

◈ امام عثمان بن سعید دارمی رحمۃ اللہ علیہ (280ھ) لکھتے ہیں:

«قول رسول الله: إنها مؤمنة، دليل على أنها لو لم تؤمن بأن الله في السماء لم تكن مؤمنة، وأنه لا يجوز في الرقبة المؤمنة إلا من يحد الله أنه في السماء، كما قال الله ورسوله.»

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے مومنہ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ اس بات پر ایمان نہ رکھتی کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے تو وہ مومنہ نہ ہوتی۔ نیز مومن گردن کی آزادی میں وہی غلام یا لونڈی کافی ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر تسلیم کرے۔‘‘

📖 (نقض الإمام الدارمي على بشر المريسي: 1/226)

◈ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (748ھ) لکھتے ہیں:

«هكذا رأينا في كل من يسأل: أين الله؟ يبادر بفطرته ويقول: في السماء، في الخبر مسألتان: إحداهما: شرعية قول المسلم: أين الله؟ وثانيهما: قول المسؤول: في السماء، فمن أنكر هاتين المسألتين، فإنما ينكر على المصطفى صلى الله عليه وسلم.»

’’جس سے بھی پوچھا جائے کہ اللہ کہاں ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق فوراً یہی کہتا ہے: آسمانوں میں ہے۔ اس حدیث میں دو مسئلے ہیں:
➊ ایک یہ کہ مسلمان کے لیے یہ پوچھنا مشروع ہے کہ اللہ کہاں ہے؟
➋ دوسرا یہ کہ جس سے سوال کیا جائے، اس کا یہ کہنا بھی مشروع ہے کہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔
پس جو شخص ان دو باتوں کا انکار کرتا ہے، وہ دراصل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار کرتا ہے۔‘‘

📖 (العلو، ص 26)

5 📘 اللہ کی صفت علو کے اثبات پر صحیح احادیث

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ﴾

’’رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ فجر اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں، پھر رات کو تمہارے ساتھ رہنے والے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہوتا ہے: میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز میں مشغول تھے، اور جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے تو تب بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7429، صحیح مسلم: 632
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7429/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/632/

امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:

﴿ فِي الْخَبَرِ مَا بَانَ وَثَبَتَ وَصَحَّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاءِ، وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَصْعَدُ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا، لَا كَمَا زَعَمَتِ الْجَهْمِيَّةُ الْمُعَطِّلَةُ أَنَّ اللَّهَ فِي الدُّنْيَا كَهُوَ فِي السَّمَاءِ، وَلَوْ كَانَ كَمَا زَعَمَتْ لَتَقَدَّمَتِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَوْ نَزَلَتْ إِلَى أَسْفَلِ الْأَرَضِينَ إِلَى خَالِقِهِمْ، عَلَى الْجَهْمِيَّةِ لَعَائِنُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ ﴾

’’یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اللہ عزوجل آسمان کے اوپر ہے اور فرشتے دنیا سے اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ جہمیہ معطلہ کا یہ کہنا باطل ہے کہ اللہ زمین میں بھی اسی طرح ہے جیسے آسمان میں ہے۔ اگر معاملہ ویسا ہی ہوتا جیسا جہمیہ کہتے ہیں، تو فرشتے زمین میں اللہ کے پاس جاتے یا نیچے زمینوں کی طرف اترتے، اوپر نہ چڑھتے۔ جہمیہ پر اللہ تعالیٰ کی مسلسل لعنتیں ہوں!‘‘

📖 کتاب التوحید لابن خزیمہ: 2/892

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ﴾

’’رحمٰن انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم کرتے ہیں۔ تم اہلِ زمین پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔‘‘

📖 مسند الحمیدی: 591، مسند الإمام أحمد: 2/160، سنن أبي داود: 4941، سنن الترمذي: 1924
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4941/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1924/

✦ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح‘‘ اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/159) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
✦ اس کا راوی ابو قابوس ’’حسن الحدیث‘‘ ہے۔ امام ترمذی، امام ابن حبان رحمہما اللہ اور دیگر اہلِ علم نے اس کی توثیق کی ہے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روز خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا:

﴿ أَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ﴾

’’جب تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے دین پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی، پھر لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ۔‘‘

📖 صحیح مسلم: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ﴾

’’جو شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ چیز ہی چڑھتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے، پھر اسے اس کے لیے بڑھاتا اور پروان چڑھاتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7430، صحیح مسلم: 1014
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7430/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1014/

6 📘 اللہ کی صفتِ علو سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

① سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

﴿ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ فِي السَّمَاءِ حَيٌّ، لَا يَمُوتُ ﴾

’’جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، تو بے شک اللہ آسمان میں زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘

📖 التاريخ الكبير للبخاري: 1/202، مسند البزار: 103، الرد على المريسي للدارمي: 1/518-519
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ ﴾

’’اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے علی بن منذر کے، اور وہ ثقہ ہیں۔‘‘

📖 مجمع الزوائد: 8/332

✦ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
📖 کتاب العرش: 2/159

② سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

﴿ وَيْلٌ لِدَيَّانِ الْأَرْضِ مِنْ دَيَّانِ السَّمَاءِ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ، إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِالْعَدْلِ، فَقَضَى بِالْحَقِّ، وَلَمْ يَقْضِ عَلَى هَوًى، وَلَا عَلَى قَرَابَةٍ، وَلَا عَلَى رَغْبَةٍ، وَلَا حُبٍّ، وَجَعَلَ كِتَابَ اللَّهِ مِرْآةً بَيْنَ عَيْنَيْهِ ﴾

’’قیامت کے دن زمین کے قاضی کے لیے آسمان کے قاضی کی طرف سے ہلاکت ہے، سوائے اس شخص کے جو عدل کا حکم دے، حق کے مطابق فیصلہ کرے، خواہشِ نفس، قرابت داری، رغبت یا محبت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے، بلکہ کتاب اللہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے۔‘‘

📖 الرد على المريسي للدارمي: 1/515-516، العلو للذهبي: ص 78
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

③ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿ مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى أُخْرَى مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِلَى الْكُرْسِيِّ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ إِلَى الْمَاءِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَاللَّهُ عَلَى الْعَرْشِ، وَيَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ ﴾

’’ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ زمین اور آسمانِ دنیا کے درمیان بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان سے کرسی تک پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور کرسی سے پانی تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ عرش پانی پر ہے، اور اللہ عرش پر ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔‘‘

📖 كتاب التوحيد لابن خزيمة: 1/242-243، ح 149، الرد على الجهمية للدارمي: 81، الرد على المريسي للدارمي: 1/422، المعجم الكبير للطبراني: 9/202، العظمة لأبي الشيخ: 2/888-889، التمهيد لابن عبد البر: 7/139، الأسماء والصفات للبيهقي: 851
📌 اس کی سند حسن ہے۔

④ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

﴿ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ ﴾

’’اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی ہے۔‘‘

📖 مسند الإمام أحمد: 1/276، ح 349، الرد على الجهمية للدارمي: ص 57، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/8
📌 اس کی سند حسن ہے۔

7 📘 اللہ کی صفتِ علو سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

⑤ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

﴿ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ أَصْحَابٌ لَهُ، وَوُضِعَتْ سُفْرَةٌ لَهُ، فَمَرَّ بِهِمْ رَاعِي غَنَمٍ، قَالَ: فَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هَلُمَّ يَا رَاعِي، هَلُمَّ، فَأَصِبْ مِنْ هَذِهِ السُّفْرَةِ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَتَصُومُ فِي مِثْلِ هٰذَا الْيَوْمِ الْحَارِّ شَدِيدِ سَمُومِهِ وَأَنْتَ فِي هٰذِهِ الْجِبَالِ تَرْعَى هٰذَا الْغَنَمَ؟ فَقَالَ لَهُ: أَيْ وَاللّٰهِ أُبَادِرُ أَيَّامِي الْخَالِيَةَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْتَبِرَ وَرَعَهُ: فَهَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنَا شَاةً مِنْ غَنَمِكَ هٰذِهِ فَنُعْطِيَكَ ثَمَنَهَا وَنُعْطِيَكَ مِنْ لَحْمِهَا فَتُفْطِرَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِي بِغَنَمٍ، إِنَّهَا غَنَمُ سَيِّدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا عَسَى سَيِّدُكَ فَاعِلًا إِذَا فَقَدَهَا، فَقُلْتَ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَوَلَّى الرَّاعِي عَنْهُ وَهُوَ رَافِعٌ أُصْبُعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: أَيْنَ اللّٰهُ؟ قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يُرَدِّدُ قَوْلَ الرَّاعِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ الرَّاعِي: فَأَيْنَ اللّٰهُ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَ إِلَى مَوْلَاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ الْغَنَمَ وَالرَّاعِيَ، فَأَعْتَقَ الرَّاعِيَ، وَوَهَبَ لَهُ الْغَنَمَ ﴾

’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کے مضافات میں تشریف لے گئے۔ ساتھیوں نے دسترخوان بچھایا۔ وہاں سے بکریوں کے ایک چرواہے کا گزر ہوا، اس نے سلام کیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جوابِ سلام کے بعد فرمایا: آئیے اے چرواہے! آئیے، اس دسترخوان سے کچھ کھائیے۔
اس نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔
آپ نے فرمایا: اتنے سخت گرم اور لو والے دن روزہ، جبکہ تم ان پہاڑوں میں بکریاں چرا رہے ہو؟
اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے خالی دنوں کے لیے جلدی کر رہا ہوں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے تقویٰ و ورع کو جانچنے کے لیے فرمایا: کیا تم اپنی ان بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچ سکتے ہو؟ ہم تمہیں اس کی قیمت بھی دے دیں گے اور اس کے گوشت میں سے تمہیں بھی دیں گے تاکہ تم اس سے افطار کر لو۔
چرواہے نے کہا: یہ بکریاں میری نہیں، یہ تو میرے مالک کی ہیں۔
آپ نے فرمایا: پھر تمہارے مالک کا کیا بگڑے گا اگر تم کہہ دو کہ اسے بھیڑیا کھا گیا؟
یہ سن کر چرواہا انگلی آسمان کی طرف اٹھاتا ہوا واپس مڑ گیا اور کہنے لگا: فَأَيْنَ اللّٰهُ؟ یعنی پھر اللہ کہاں ہے؟
امام نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بار بار چرواہے کی یہی بات دہراتے رہے: چرواہا کہتا تھا: پھر اللہ کہاں ہے؟
پھر جب آپ مدینہ واپس آئے تو اس چرواہے کے مالک کو بلایا، اس سے وہ چرواہا اور بکریاں خرید لیں، پھر چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں اسے ہبہ کر دیں۔‘‘

📖 شعب الإيمان للبيهقي: 4908
📌 اس کی سند حسن ہے۔

⑥ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

﴿ بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَخِيهِ: اعْلَمْ لِي عِلْمَ هٰذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ ﴾

’’سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا: اس شخص کے حالات معلوم کرو جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 3522، صحیح مسلم: 2474

⑦ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿ وَأَيْمُ اللّٰهِ، إِنِّي لَأَخْشَى لَوْ كُنْتُ أُحِبُّ قَتْلَهُ لَقُتِلْتُ، تَعْنِي عُثْمَانَ، وَلٰكِنْ عَلِمَ اللّٰهُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ أَنِّي لَمْ أُحِبَّ قَتْلَهُ ﴾

’’اللہ کی قسم! مجھے خوف ہے کہ اگر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کو پسند کرتی تو میں بھی ماری جاتی، لیکن عرش کے اوپر سے اللہ جانتا ہے کہ میں ان کے قتل کو پسند نہیں کرتی تھی۔‘‘

📖 الرد على الجهمية للدارمي: 83
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

⑧ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلٰكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا ﴾

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آئیے، ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے چلتے ہیں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔
جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔
شیخین نے فرمایا: آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ اللہ کے پاس اس کے رسول کے لیے بہتر اجر و خیر ہے۔
انہوں نے فرمایا: میں اس لیے نہیں رو رہی کہ مجھے یہ علم نہیں کہ اللہ کے پاس اس کے رسول کے لیے بہتر چیز ہے، بلکہ میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
یہ سن کر انہوں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی رلا دیا، پھر وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔‘‘

📖 صحیح مسلم: 2454

⑨ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَقُولُ: إِنَّ اللّٰهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ ﴾

’’ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7421

8 📘 آیاتِ قرب و معیت سے متعلق شبہات کا ازالہ — فہمِ سلف کی روشنی میں

اس سے پہلے ہم قرآنِ مجید، صحیح احادیث اور صحابۂ کرام کے آثار کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو پر دلائل پیش کر چکے ہیں۔
آیئے، اب جہمی نظریات رکھنے والے حضرات کے شبہات کا جائزہ لیتے ہیں۔

━━━━━━━━━
➊ زمین و آسمان میں وہی رب ہے
━━━━━━━━━

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَاوَاتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِۖ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ﴾

📖 (الأنعام: 3)

ترجمہ:
“اور وہی اللہ آسمانوں اور زمین میں ہے، تمہاری پوشیدہ اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے، اور جو کچھ تم کماتے ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔”

اس آیت کا معنی کیا ہے؟
بعض حضرات اس آیت کا یہ معنی کرتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہے۔
لیکن ان کی یہ دلیل درست نہیں۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

اختلف مفسرو هذه الآية على أقوال، بعد الاتفاق على تخطئة قول الجهمية الأول القائلين بأنه، تعالى عن قولهم علوا كبيرا، في كل مكان، وهذا اختيار ابن جرير.

“اس آیت میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں، لیکن سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جہمیہ کی یہ بات غلط ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ایسی باتوں سے بہت بلند و پاک ہے۔ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔”

📚 (تفسير القرآن العظيم لابن كثير: 240/3، سلامة)

━━━━━━━━━
➋ نماز میں اللہ کے سامنے ہونے کا مفہوم
━━━━━━━━━

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه، فإن الله قبل وجهه إذا صلى.

“جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے۔”

📚 (صحیح البخاری: 406، صحیح مسلم: 547)

━━━━━━━━━
اسلافِ امت کی تصریحات
━━━━━━━━━

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:

قد نزع بهذا الحديث بعض من ذهب مذهب المعتزلة في أن الله عز وجل في كل مكان، وليس على العرش، وهذا جهل من قائله، لأن في الحديث الذي جاء فيه النهي عن البزاق في القبلة أنه يبزق تحت قدمه وعن يساره، وهذا ينقض ما أصلوه في أنه في كل مكان.

“بعض لوگ، جو معتزلہ کے مذہب کی طرف مائل ہیں، اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہر جگہ ہے اور (صرف) عرش پر نہیں ہے۔ یہ بات کہنے والے کی جہالت ہے، کیونکہ جس حدیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے سے منع کیا گیا ہے، اسی میں نمازی کو اپنے پاؤں کے نیچے اور بائیں جانب تھوکنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ یہ بات ان کے اس باطل اصول کو توڑ دیتی ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے۔”

📚 (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 157/14)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

حق على ظاهره، وهو سبحانه فوق العرش، وهو قبل وجه المصلي، بل هذا الوصف يثبت للمخلوقات، فإن الإنسان لو أنه يناجي السماء أو يناجي الشمس والقمر لكانت السماء والشمس والقمر فوقه وكانت أيضا قبل وجهه.

“یہ حدیث اپنے ظاہر معنی پر حق ہے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ عرش کے اوپر ہونے کے باوجود نمازی کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ بلکہ یہ وصف تو مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی انسان آسمان، سورج یا چاند سے مخاطب ہو تو آسمان، سورج اور چاند اس کے اوپر بھی ہوتے ہیں اور اس کے سامنے بھی۔”

📚 (الفتاوى الحموية الكبرى: 118/2، مجموع الفتاوى: 107/5)

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:

إن الله سبحانه وتعالى قبل وجه المصلي، ولا يلزم من المقابلة أن يكون بينه وبين الجدار أو السترة التي يصلي إليها، فهو قبل وجهه وإن كان على عرشه، ومثال ذلك: الشمس حين تكون في الأفق عند الشروق أو الغروب فإن من الممكن أن تكون قبل وجهك وهي في العلو.

“اللہ سبحانہ وتعالیٰ نمازی کے سامنے ہوتا ہے۔ اس سامنے ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نمازی اور دیوار کے درمیان ہو یا نمازی اور اس سترے کے درمیان ہو جس کی طرف وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اللہ اپنے عرش پر ہونے کے باوجود نمازی کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جب سورج طلوع یا غروب کے وقت افق میں ہوتا ہے تو اس کا آپ کے سامنے ہونا ممکن ہوتا ہے، حالانکہ وہ بلندی پر ہوتا ہے۔”

📚 (القول المفيد: 6/2)

9 📘 قربِ باری تعالیٰ اور جہمی استدلالات

➌ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾
📖 (ق: 16)

ترجمہ:
“اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔”

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ﴾
📖 (الواقعة: 85)

ترجمہ:
“اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہیں، لیکن تم دیکھتے نہیں۔”

ان آیاتِ بینات کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، درست نہیں۔
سلفِ صالحین نے ان آیات کا معنی کچھ یوں بیان فرمایا ہے:

━━━━━━━━━
فہمِ سلف کی روشنی میں آیت کا معنی
━━━━━━━━━

ان دونوں آیات کی تفسیر میں سلفِ صالحین اور ائمۂ اہلِ سنت والجماعت کی دو آراء منقول ہیں:

➊ بعض اہلِ علم نے اس سے فرشتے مراد لیے ہیں۔
➋ بعض نے اس سے اللہ تعالیٰ کا علم مراد لیا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

“اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے فرشتے قریب المرگ انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تاویل علمِ باری تعالیٰ سے کی ہے، اور انہوں نے یہ تاویل اس لیے اختیار کی ہے تاکہ حلول اور اتحاد لازم نہ آئے، کیونکہ یہ دونوں عقیدے بالاتفاق باطل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان باطل باتوں سے پاک اور بلند ہے۔

البتہ آیتِ کریمہ کے الفاظ بذاتِ خود حلول اور اتحاد کے متقاضی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ: میں اس سے اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں، بلکہ فرمایا: ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، اور یہاں مراد اللہ کے فرشتے ہیں، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ﴾
📖 (الحجر: 9)

‘بے شک ہم نے ہی ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔’

چنانچہ فرشتے ہی اللہ کے حکم سے اس ذکر، یعنی قرآنِ کریم، کو لے کر اترے تھے۔ اسی طرح فرشتے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قدرت کے ساتھ قریب المرگ انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔”

📚 (تفسير ابن كثير: 398/7، سلامة)

━━━━━━━━━
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وضاحت
━━━━━━━━━

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

“اس آیت سے مراد اللہ کا قرب ہے یا فرشتوں کا قرب، اس میں اختلاف ہے۔ اگر یہاں فرشتوں کا قرب مراد ہو، تو فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿إِذۡ يَتَلَقَّى ٱلۡمُتَلَقِّيَانِ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ قَعِيدٞ﴾

‘جب دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دو لکھنے والے لکھ رہے ہوتے ہیں’

اس بات کی دلیل بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ خبر دی کہ وہ انسان کے دل کی بات جانتا ہے، پھر یہ بتایا کہ کراماً کاتبین فرشتے اس کے قریب ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ فرمایا گیا:

‘ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، جب دو لکھنے والے لکھ رہے ہوتے ہیں۔’

یعنی یہ قرب اس وقت ہوتا ہے جب دو لکھنے والے فرشتے اس کے اعمال لکھ رہے ہوتے ہیں۔

اور جس معنی پر بھی یہ آیت محمول کی جائے، یہ بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی قدرت انسان کے ساتھ عام اور ہمہ وقت متعلق ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ذات کسی ایک خاص وقت کے ساتھ مقید نہیں۔

یہ آیت اس آیت کی طرح ہے:

﴿أَمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُونَ﴾

‘کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور سرگوشیاں نہیں سنتے؟ کیوں نہیں! ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیں۔’

اور سورۂ ق کے آغاز میں فرمایا:

﴿قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ﴾

‘جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے، یقیناً ہم اسے جانتے ہیں، اور ہمارے پاس ایک محفوظ کتاب ہے۔’

لہٰذا اس قرب میں کوئی مجاز لازم نہیں آتا۔ بحث صرف اس جملے میں ہے:

﴿وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ﴾
‘اور ہم زیادہ قریب ہیں’

یہاں یا تو اللہ نے اپنے فرشتوں کو مراد لیا ہے یا اپنی ذات کو، لیکن ہر ایک کا قرب اپنے حسبِ حال ہے۔ فرشتوں کا قریب المرگ شخص سے قرب ایک خاص وقت میں ہوتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا قرب مطلق معنی میں ہے۔

اگر اس آیت میں ذاتِ باری تعالیٰ مراد لی جائے، تو اس سے ذاتی قرب لازم آئے گا۔ اس بارے میں دو قول ہیں:

➊ متکلمین اور بعض صوفیہ کا قول یہ ہے کہ وہ اس کا اثبات کرتے ہیں۔
➋ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾

‘ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے، اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔’

یہاں علم کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ قرب سے مراد علم کا قرب ہے۔

اسی طرح سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

‘تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم سمیع اور قریب ذات کو پکار رہے ہو۔ تم جس کو پکار رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔’

اس آیتِ کریمہ میں قرب کی تفسیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ علم کے معنی میں بھی ہو سکتی ہے، اور سیاق اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اور جس معنی پر سیاق دلالت کرے، وہی ظاہرِ خطاب ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی نزاع نہیں۔

پہلے بھی یہ بات گزر چکی ہے کہ ہم ہر اس چیز کی مذمت نہیں کرتے جسے تاویل کہا جائے اور جس میں کفایت ہو، بلکہ ہم ان تاویلات کی مذمت کرتے ہیں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں یا قرآن کی تفسیر محض اپنی رائے سے کی جائے۔”

📚 (مجموع الفتاوى: 2019/6)

10 📘 معیتِ باری تعالیٰ

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡآخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ﴾

📖 (الحديد: 3)

ترجمہ:
“وہ اوّل بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

اللهم أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء.

“اے اللہ! تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں۔ تو آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں۔ اور تو باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔”

📚 (صحیح مسلم: 2713)

━━━━━━━━━
اسلافِ امت کی وضاحت
━━━━━━━━━

امام ابو بکر آجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں:

مما يحتج به الحلولية مما يلبسون به على من لا علم معه، يقول الله عز وجل: ﴿هو الأول والآخر والظاهر والباطن﴾، وقد فسر أهل العلم هذه الآية: هو الأول قبل كل شيء من حياة وموت، والآخر بعد كل شيء بعد الخلق، وهو الظاهر فوق كل شيء، يعني ما في السماوات، وهو الباطن دون كل شيء يعلم ما تحت الأرضين، ودل على هذا آخر الآية: ﴿وهو بكل شيء عليم﴾.

“حلولیہ کی ان دلیلوں میں سے ایک دلیل، جن کے ذریعے وہ بے علم لوگوں پر تلبيس کرتے ہیں، یہ آیتِ کریمہ ہے:

﴿هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡآخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُ﴾
‘وہ اوّل ہے، آخر ہے، ظاہر ہے اور باطن ہے۔’

حالانکہ اہلِ علم نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اللہ کے اوّل ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر چیز سے پہلے تھا، چاہے وہ زندگی ہو یا موت۔ اور اس کے آخر ہونے سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے فنا ہو جانے کے بعد بھی وہ باقی رہے گا۔

اسی طرح اس کے ظاہر ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ آسمانوں کی ہر مخلوق سے اوپر اور بلند ہے۔ اور اس کے باطن ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ زمینوں کے نیچے موجود چیزوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

اس کی دلیل خود اسی آیت کا آخری حصہ ہے:

﴿وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ﴾
‘اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔’”

📚 (كتاب الشريعة: 1100/3)

━━━━━━━━━
خلاصۂ کلام
━━━━━━━━━

ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ معیتِ الٰہی سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، بلکہ وہ اپنے علم، سمع، بصر، قدرت اور احاطۂ کامل کے ساتھ اپنی مخلوق کے ساتھ ہے، جبکہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش کے اوپر اور تمام مخلوقات سے بلند ہے۔

پس “الظاهر” کا معنی بلندی اور علو ہے، اور “الباطن” کا معنی یہ ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے مخفی نہیں۔

11 📘 معیتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیات کی سلف نے کیا تفسیر کی؟ — حصہ اوّل

━━━━━━━━━
آیت نمبر ➊
━━━━━━━━━

﴿هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۖ وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ﴾

📖 (الحديد: 4)

ترجمہ:
“وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا۔ وہ زمین میں داخل ہونے والی، اس سے نکلنے والی، آسمان سے اترنے والی اور اس میں چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔”

━━━━━━━━━
آیت نمبر ➋
━━━━━━━━━

﴿أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ﴾

📖 (المجادلة: 7)

ترجمہ:
“کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے؟ جب تین آدمی سرگوشی کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، اور جب پانچ ہوتے ہیں تو وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ لوگ سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال کی خبر دے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

━━━━━━━━━
آیت نمبر ➌
━━━━━━━━━

﴿يَسۡتَخۡفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ إِذۡ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرۡضَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡلِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٗا﴾

📖 (النساء: 108)

ترجمہ:
“وہ لوگوں سے چھپتے ہیں، لیکن اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ رات کے وقت ایسی باتوں کی تدبیریں کرتے ہیں جو اسے پسند نہیں۔ اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔”

━━━━━━━━━
آیات کا معنی و مفہوم
━━━━━━━━━

ان آیات کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام مخلوقات کے ساتھ ہے۔
وہ ان کے تمام حالات و واقعات سے خوب باخبر ہے۔
معیت کی اس قسم کو معیتِ عامہ کہا جاتا ہے۔

ایک معیتِ خاصہ بھی ہوتی ہے، اور اس پر یہ آیتِ کریمہ دلیل ہے:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحۡسِنُونَ﴾
📖 (النحل: 128)

ترجمہ:
“بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکی کرنے والے ہیں۔”

نیز فرمایا:

﴿إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِي ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا﴾
📖 (التوبة: 40)

ترجمہ:
“جب نبی ﷺ دو میں سے ایک تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، اس وقت آپ ﷺ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”

یہاں معیتِ خاصہ مراد ہے، اور اس کا معنی نصرت، تائید اور مدد ہے۔

━━━━━━━━━
شیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کی وضاحت
━━━━━━━━━

شیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:

معية الله التي ذكرها في كتابه، نوعان: معية العلم والإحاطة، وهي المعية العامة، فإنه مع عباده أينما كانوا، ومعية خاصة، وهي: معيته مع خواص خلقه بالنصرة، واللطف، والتأييد.

“اللہ تعالیٰ کی وہ معیت، جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب میں کیا ہے، دو قسم کی ہے:

➊ معیتِ علم و احاطہ — اور یہی معیتِ عامہ ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔
➋ معیتِ خاصہ — اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے خاص بندوں کے ساتھ نصرت، لطف اور تائید کے ساتھ ہونا ہے۔”

📚 (تفسير السعدي: 14)

━━━━━━━━━
ائمۂ اہلِ سنت اس کا کیا معنی بیان کرتے ہیں؟
━━━━━━━━━

امام ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ﴾
📖 (المجادلة: 7)

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

هو فوق العرش وعلمه معهم أينما كانوا.

“وہ عرش کے اوپر ہے، لیکن اس کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے، وہ جہاں بھی ہوں۔”

📚 (مسائل الإمام أبي داود: ص 263، تفسير الطبري: 12/28-13، الشريعة للآجري: 655، الأسماء والصفات للبيهقي: 341/2-342، ح: 909، التمهيد لابن عبد البر: 139/7، وسنده حسن)

امام مقاتل بن حیان رحمہ اللہ ﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ﴾
📖 (المجادلة: 7)

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

هو على العرش، وعلمه معهم.

“اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، لیکن اس کا علم ان کے ساتھ ہے۔”

📚 (تفسير الطبري: 12/28، الشريعة للآجري: 655، وسنده صحيح)

📝 جاری ہے

12 📘 معیتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیات کی سلف نے کیا تفسیر کی؟ — حصہ دوم

━━━━━━━━━
ائمۂ اہلِ سنت کی تصریحات
━━━━━━━━━

امام عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ (276ھ) لکھتے ہیں:

ہم فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْ﴾

کے بارے میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
جیسے آپ کسی ایسے آدمی سے کہیں جو کسی دور علاقے کی طرف جا رہا ہو، اور آپ نے اسے اپنے معاملات میں سے کوئی کام سونپا ہو:

“جس کام کو میں نے تیرے سپرد کیا ہے، اس میں سستی اور کوتاہی سے بچنا، میں تمہارے ساتھ ہوں۔”

اس سے آپ کی مراد یہ ہوتی ہے کہ تیری کوتاہی مجھ سے مخفی نہیں رہے گی، میں پوری نگرانی اور معاملات کی پڑتال کروں گا۔

جب یہ مفہوم ایک مخلوق کے لیے ممکن ہے، جو غیب نہیں جانتی، تو خالق کے لیے بدرجۂ اولیٰ ممکن ہے، جو عالم الغیب ہے۔

لہٰذا اللہ کے ہر جگہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ کا کوئی معاملہ اس سے مخفی نہیں۔ وہ علم اور تدبیر کے اعتبار سے ہر جگہ ہے۔

پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ حلول کے طور پر ہر جگہ موجود ہے، حالانکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ﴾

“رحمٰن عرش پر مستوی ہوا۔”

یعنی مستقر ہوا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَإِذَا ٱسۡتَوَيۡتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى ٱلۡفُلۡكِ﴾

“اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر ٹھہر جاؤ۔”

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِلَيۡهِ يَصۡعَدُ ٱلۡكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّٰلِحُ يَرۡفَعُهُ﴾

“اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل انہیں بلند کرتا ہے۔”

اگر اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ساتھ بذاتہٖ موجود ہوتا، تو پھر اس کی طرف چیزیں کیسے بلند ہوتیں؟
نیک اعمال اس کی طرف کیسے چڑھتے؟
اور قیامت کے دن فرشتے اور روح الامین اس کی طرف کیسے اوپر جائیں گے؟

چڑھنے کا معنی ہی اوپر جانا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان کی طرف چڑھا، یعنی اوپر گیا۔

اللہ تعالیٰ ذو المعارج ہے۔
یہ معارج کیا ہیں؟
جب اللہ کے لیے اوپر اور نیچے برابر ہوں، تو پھر فرشتے اعمال لے کر کس کی طرف پہنچاتے ہیں؟

اگر یہ لوگ اپنی فطرت اور اپنی تخلیقی بناوٹ سے حاصل ہونے والی معرفتِ الٰہی کی طرف لوٹ آئیں، تو انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ بلند ہے اور بلند جگہ پر ہے۔

➊ ذکر کے وقت دل اوپر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
➋ دعا کے وقت ہاتھ اوپر ہی اٹھتے ہیں۔
➌ اوپر کی طرف ہی فراخی اور نصرت کی امید کی جاتی ہے۔
➍ وہیں سے رزق نازل ہوتا ہے۔
➎ اوپر ہی کرسی، عرش، حجابات اور فرشتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَ﴾

“بے شک جو تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اور وہ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔”

شہداء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ﴾

“وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔”

ان کو شہداء اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے گواہ ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿لَوۡ أَرَدۡنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهۡوٗا لَّٱتَّخَذۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّآ﴾

“اگر ہم ارادہ کرتے کہ ہم کوئی کھیل کی چیز بنائیں تو اسے اپنے پاس سے بناتے۔”

یعنی اگر ہم بیوی یا اولاد بنانے کا ارادہ کرتے، تو اپنے پاس سے بناتے، تمہارے پاس سے نہیں، کیونکہ کسی کی اولاد اور بیوی اسی کے پاس سے ہوتی ہے، کسی اور کے پاس سے نہیں۔

پھر عرب اور عجم کی تمام قومیں، جب تک اپنی فطرتِ سلیم پر قائم رہیں، یہی کہیں گی کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے۔

📚 (تأويل مختلف الحديث، ص: 182-183)

━━━━━━━━━
امام عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ کی وضاحت
━━━━━━━━━

امام عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ (280ھ) لکھتے ہیں:

اس سلسلے میں جہمیوں میں سے ایک نے ایسی زندیقانہ بات کہی کہ مجھے اسے نقل کرتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔ پھر ایک دوسرے جہمی نے اپنے ساتھی کی بے دینی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس آیت سے استدلال کرنا چاہا:

﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ﴾
📖 (المجادلة: 7)

ہم نے جواب دیا کہ یہ آیت ہماری دلیل ہے، تمہاری نہیں۔ بلکہ یہ آیت تمہارے خلاف ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر رہتے ہوئے ہر سرگوشی پر حاضر ہے اور ہر شخص کے ساتھ ہے، کیونکہ اس کا علم ان سب کو محیط ہے اور اس کی بصر ان میں نافذ ہے۔

کوئی چیز اس کے سمع و بصر کے سامنے آڑ نہیں بن سکتی۔
لوگ کسی چیز کے ذریعے اس سے چھپ نہیں سکتے۔

وہ اپنی کامل شان کے ساتھ اپنے عرش کے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور پوشیدہ و مخفی چیزوں کو جانتا ہے۔
وہ اپنے عرش کے اوپر سے ہی کسی کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

وہ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، کیونکہ اس سے کوئی چیز دور نہیں، اور آسمان و زمین میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔

پس اللہ تعالیٰ تین سرگوشی کرنے والوں کا چوتھا، چار کا پانچواں، اور پانچ کا چھٹا اس معنی میں ہوتا ہے کہ اس کا علم ان کے ساتھ ہے، نہ کہ وہ اپنی ذات کے ساتھ زمین میں ان کے درمیان موجود ہوتا ہے، جیسا کہ تم نے دعویٰ کیا ہے۔

اور علماء نے بھی اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔

📚 (الرد على الجهمية: 42/1-43)

📝 سورۂ المجادلہ آیت نمبر 7 کی تفسیر آگے جاری ہے…

13 📘 معیتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیات کی سلف نے کیا تفسیر کی؟ — حصہ سوم

━━━━━━━━━
ائمۂ اہلِ سنت کی مزید تصریحات
━━━━━━━━━

امام ابوالحسن الأشعری رحمہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:

إنه يعلم السر وأخفى من السر، ولا يغيب عنه شيء في السماوات والأرض حتى كأنه حاضر مع كل شيء، وقد دل الله عز وجل على ذلك بقوله: ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾، وفسر ذلك أهل العلم بالتأويل أن علمه محيط بهم حيث كانوا.

“اللہ تعالیٰ مخفی اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے، اور آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہو سکتی، یہاں تک کہ گویا وہ ہر چیز کے ساتھ حاضر ہے۔ اللہ عزوجل نے اس بات کو اپنے اس فرمان سے واضح فرمایا ہے:

﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾
‘اور وہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو۔’

اہلِ علم نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم انہیں محیط ہے، وہ جہاں بھی ہوں۔”

📚 (رسالة أهل الثغر، ص: 234)

━━━━━━━━━
امام ابو بکر محمد بن حسین الآجری رحمہ اللہ (360ھ)
━━━━━━━━━

امام آجری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

الذي يذهب إليه أهل العلم أن الله عز وجل سبحانه على عرشه فوق سماواته، وعلمه محيط بكل شيء، قد أحاط علمه بجميع ما خلق في السماوات العلا، وبجميع ما في سبع أرضين وما بينهما وما تحت الثرى، يعلم السر وأخفى، ويعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور، ويعلم الخطرة والهمة، ويعلم ما توسوس به النفوس، يسمع ويرى، ولا يعزب عن الله عز وجل مثقال ذرة في السماوات والأرضين وما بينهن، إلا وقد أحاط علمه به، فهو على عرشه سبحانه العلي الأعلى، ترفع إليه أعمال العباد، وهو أعلم بها من الملائكة الذين يرفعونها بالليل والنهار. فإن قال قائل: فإيش معنى قوله: ﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ﴾ الآية التي بها يحتجون؟ قيل له: علمه عز وجل، والله على عرشه، وعلمه محيط بهم، وبكل شيء من خلقه، كذا فسره أهل العلم، والآية يدل أولها وآخرها على أنه العلم. فإن قال قائل: كيف؟ قيل: قال الله عزوجل: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ﴾ إلى آخر الآية، ثم قال: ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾، وابتدأ الله عزوجل الآية بالعلم وختمها بالعلم، فعلمه عز وجل محيط بجميع خلقه، وهو على عرشه، وهذا قول المسلمين.

“اہلِ علم کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے، اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ بلند آسمانوں میں، ساتوں زمینوں میں، زمین و آسمان کے درمیان، اور زمین کے نیچے جتنی بھی مخلوق ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم کے احاطے میں ہے۔

وہ پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔
وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے بھید جانتا ہے۔
وہ خیالات اور ارادوں کو جانتا ہے۔
وہ نفسوں کے وسوسوں کو جانتا ہے۔
وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔

آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان کی ذرہ برابر چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کا علم اسے محیط ہوتا ہے۔

پس وہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بلند و بالا عرش پر ہے، اس کی طرف بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اور وہ ان اعمال کو ان فرشتوں سے بھی زیادہ جانتا ہے جو دن رات انہیں اوپر لے جاتے ہیں۔

اگر کوئی کہے کہ پھر اس آیت کا کیا معنی ہے، جس سے جہمی لوگ استدلال کرتے ہیں:

﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ﴾

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا علم مراد ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہے، جبکہ اس کا علم ان سرگوشی کرنے والوں کو اور اس کی تمام مخلوق کو محیط ہے۔

اہلِ علم نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے، اور اس آیت کے آغاز اور اختتام دونوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں علم مراد ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آغاز میں فرمایا:

﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ...﴾

اور آخر میں فرمایا:

﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو علم سے شروع فرمایا اور علم ہی پر ختم فرمایا۔
پس اللہ تعالیٰ کا علم تمام مخلوق کو محیط ہے، اور وہ خود اپنے عرش پر ہے۔
یہی مسلمانوں کا قول ہے۔”

📚 (كتاب الشريعة: 1075/3-1076)

━━━━━━━━━
امام ثعلبی رحمہ اللہ (427ھ)
━━━━━━━━━

امام ثعلبی رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ﴾

کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

بالعلم يسمع نجواهم ويعلم فحواهم.

“اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ ان کی سرگوشیاں سنتا ہے اور ان کی باتوں کے مفہوم کو جانتا ہے۔”

📚 (الكشف والبيان في تفسير القرآن: 258/9)

━━━━━━━━━
امام ابو عمر احمد بن محمد بن عبداللہ الطلمنكي رحمہ اللہ (429ھ)
━━━━━━━━━

امام طلمنکی رحمہ اللہ اپنی کتاب الوصول إلى علم الأصول میں لکھتے ہیں:

أجمع المسلمون من أهل السنة، على أن معنى ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾ ونحو ذلك من القرآن أن ذلك علمه، وأن الله فوق السموات بذاته، مستويا على عرشه كيف شاء.

“اہلِ سنت والجماعت کے مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾

اور اس جیسی دوسری قرآنی آیات سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے، جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔”

📚 (تلبيس الجهمية لابن تيمية: 38/2، اجتماع الجيوش الإسلامية لابن القيم، ص: 142، العلو للذهبي: 264)

14 📘 معیتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیات کی سلف نے کیا تفسیر کی؟ — حصہ چہارم

━━━━━━━━━
ائمۂ اہلِ سنت کی مزید تصریحات
━━━━━━━━━

امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:

أما احتجاجهم بقوله عز وجل: ﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا﴾، فلا حجة لهم في ظاهر هذه الآية، لأن علماء الصحابة والتابعين الذين حملت عنهم التأويل في القرآن قالوا في تأويل هذه الآية: هو على العرش وعلمه في كل مكان، وما خالفهم في ذلك أحد يحتج بقوله.

“رہا ان کا فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا﴾

سے دلیل لینا، تو اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں، کیونکہ علمائے صحابہ کرام اور ان سے تفسیرِ قرآن سیکھنے والے تابعینِ عظام نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ:

اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔

اور اس بارے میں صحابہ و تابعین کی مخالفت کسی ایسے شخص نے نہیں کی، جس کی بات حجت بن سکے۔”

📚 (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 138/7-139)

━━━━━━━━━
حافظ بغوی رحمہ اللہ (510ھ)
━━━━━━━━━

حافظ بغوی رحمہ اللہ سورۂ الحدید، آیت نمبر 4 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

فِي العِلم

“یعنی علم میں (اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے)۔”

📚 (تفسير البغوي: 207/4)

━━━━━━━━━
قوام السنہ، امام ابو القاسم الاصبہانی رحمہ اللہ (535ھ)
━━━━━━━━━

امام ابو القاسم الاصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إن قيل: قد تأولتم قوله عز وجل: ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾ وحملتموه على العلم، قلنا: ما تأولنا ذلك، وإنما الآية دلت على أن المراد بذلك العلم، لأنه قال في آخرها: ﴿إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾.

“اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم نے فرمانِ باری تعالیٰ:

﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾

میں تاویل کی ہے اور اسے علم پر محمول کیا ہے، تو ہم کہیں گے کہ ہم نے اس میں تاویل نہیں کی، بلکہ آیتِ کریمہ خود دلالت کرتی ہے کہ یہاں مراد علم ہے، کیونکہ اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

‘بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔’”

📚 (الحجة في بيان المحجة: 291/2)

━━━━━━━━━
مفسر کبیر، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ)
━━━━━━━━━

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ سورۂ الحدید، آیت نمبر 4 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

أي يطلع عليهم، يسمع كلامهم وسرهم ونجواهم، ورسله أيضا مع ذلك تكتب ما يتناجون به، مع علم الله به وسمعه له، كما قال تعالى: ﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾، ﴿أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ﴾، ولهذا حكى غير واحد الإجماع على أن المراد بهذه الآية معية علمه تعالى، ولا شك في إرادة ذلك.

“یعنی اللہ تعالیٰ ان پر مطلع ہے، ان کی باتوں، رازوں اور سرگوشیوں کو سنتا ہے، اور اس کے فرشتے بھی ان کی سرگوشیاں لکھتے ہیں، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود انہیں جانتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔

جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾
‘کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے رازوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے، اور اللہ تمام پوشیدہ چیزوں کا خوب جاننے والا ہے۔’

اور فرمایا:

﴿أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ﴾
‘کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور سرگوشیاں نہیں سنتے؟ کیوں نہیں! ہمارے فرشتے بھی ان کے پاس ان کی باتیں لکھتے ہیں۔’

اسی وجہ سے کئی علماء نے اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت میں معیت سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے، اور اس مراد میں کوئی شک نہیں۔”

📚 (تفسير القرآن العظيم: 42/8)

━━━━━━━━━
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ)
━━━━━━━━━

علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وهو معهم أي بالعلم والرؤية والسمع، هذا قول أهل السنة، وقالت الجهمية والقدرية والمعتزلة: هو بكل مكان.

“فرمانِ باری تعالیٰ:

‘اور وہ ان کے ساتھ ہے’

کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ علم، رؤیت اور سمع کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کا یہی موقف ہے، جبکہ جہمیہ، قدریہ اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے۔”

📚 (تفسير القرطبي: 379/5)

━━━━━━━━━
خلاصۂ کلام
━━━━━━━━━

سورۂ الحدید کی آیت نمبر 4 پر غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتدا بھی علم سے کی ہے اور خاتمہ بھی علم کے ساتھ فرمایا ہے۔

اسی لیے اہلِ سنت والجماعت اجماعی طور پر اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ علم کے اعتبار سے ہے۔

اس تفسیر پر متعدد ائمہ نے اجماع نقل کیا ہے، جن میں:

➊ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ — (التمهيد: 138/7)
➋ امام ابو عمر الطلمنكي رحمہ اللہ — (اجتماع الجيوش الإسلامية لابن القيم، ص: 142)
➌ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی یہ اجماع نقل کرتے ہیں۔

لہٰذا ائمہ اہلِ سنت کی اس متفقہ تفسیر کے برخلاف، اہلِ بدعت اپنی الگ تفسیر پیش کرتے ہیں، پھر بھی اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں۔

عقل، دیانت اور انصاف کا تقاضا کیا ہے؟
فیصلہ قارئین خود کریں۔

15 📘 نزولِ باری تعالیٰ صحیح احادیث کی روشنی میں

اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ یہ نزول حقیقی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک برحق صفت ہے۔ یہ عقیدہ احادیثِ صحیحہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، اور ائمۂ محدثین رحمہم اللہ کی تصریحات بھی اس پر شاہد ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

﴿يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي، فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي، فَأَغْفِرَ لَهُ؟﴾

ترجمہ:
’’ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں؟‘‘

📖 صحیح البخاری: 1145 ، صحیح مسلم: 758

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1145/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/758/

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:

﴿هٰذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي صِحَّتِهِ﴾

ترجمہ:
’’اس حدیث کی صحت میں محدثینِ کرام کا کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

📖 التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 134/7

📚 نزولِ باری تعالیٰ کے متعلق احادیث درج ذیل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں:

➊ سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما
📖 صحیح مسلم: 172/758

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/758/

➋ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
📖 مسند الإمام أحمد: 210/1 ، وسنده حسن

حافظ منذری رحمہ اللہ
📖 الترغيب والترهيب: 165/1
اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ
📖 مجمع الزوائد: 2211
نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

➌ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ
📖 مسند الإمام أحمد: 81/4 ، مسند الدارمي: 1488 ، السنة لعبد الله بن أحمد بن حنبل: 1199 ، وسنده صحيح

➍ رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ
📖 مسند الإمام أحمد: 16/4 ، مسند الطيالسي: ص 182 ، النزول للدارقطني: 68 ، وسنده صحيح

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
📖 الإصابة في تمييز الصحابة: 284/3

➎ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
📖 النزول للدارقطني: 100 ، وسنده صحيح

📚 احادیثِ نزولِ باری تعالیٰ کو درج ذیل ائمۂ دین اور علمائے کرام رحمہم اللہ نے متواتر قرار دیا ہے:

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ
📖 العلو: ص 110 ، 116

◈ حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ
📖 الصارم المنكي: ص 220

◈ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ
📖 شرح حديث النزول: ص 107

◈ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ
📖 مختصر الصواعق: 248/2

◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ
📖 فتح المغيث: 43/3

◈ علامہ کتانی رحمہ اللہ
📖 نظم المتناثر: ص 114-115 عن السيوطي موافقًا له

16 📘 نزولِ باری تعالیٰ سے متعلق سلف کا عقیدہ — حصہ اوّل

شیخ الاسلام امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (238ھ) فرماتے ہیں:

﴿جَمَعَنِي وَهٰذَا الْمُبْتَدِعُ، يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، مَجْلِسُ الْأَمِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاهِرٍ، فَسَأَلَنِي الْأَمِيرُ عَنْ أَخْبَارِ النُّزُولِ، فَسَرَدْتُهَا، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَفَرْتُ بِرَبٍّ يَنْزِلُ مِنْ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، فَقُلْتُ: آمَنْتُ بِرَبٍّ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾

ترجمہ:
’’میں اور یہ بدعتی، یعنی ابراہیم بن ابی صالح، امیر عبداللہ بن طاہر کی مجلس میں جمع ہوئے۔ امیر نے مجھ سے نزولِ باری تعالیٰ کی احادیث کے بارے میں پوچھا، تو میں نے وہ احادیث بیان کر دیں۔ اس پر ابراہیم کہنے لگا: میں ایسے رب کا انکار کرتا ہوں جو ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف نزول کرے۔ میں نے کہا: میں اس رب پر ایمان رکھتا ہوں جو جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔‘‘

📖 الأسماء والصفات للبيهقي: 197/2
📖 وفي نسخة: 375/2-376 ، ح: 951
📖 وسنده صحيح

امام ترمذی رحمہ اللہ (279ھ) فرماتے ہیں:

﴿قَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هٰذَا الْحَدِيثِ وَمَا يُشْبِهُ هٰذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالُوا: قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هٰذَا، وَيُؤْمَنُ بِهَا، وَلَا يُتَوَهَّمُ، وَلَا يُقَالُ: كَيْفَ، هٰكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هٰذِهِ الْأَحَادِيثِ: أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ، هٰكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هٰذِهِ الرِّوَايَاتِ، وَقَالُوا: هٰذَا تَشْبِيهٌ﴾

ترجمہ:
’’بہت سے اہلِ علم نے اس حدیث اور اس جیسی دیگر روایات کے بارے میں، جو صفاتِ باری تعالیٰ اور ہر رات اللہ تعالیٰ کے آسمانِ دنیا پر نزول سے متعلق ہیں، فرمایا ہے کہ ان روایات کو ثابت مانا جائے، ان پر ایمان رکھا جائے، ان میں وہم و گمان سے کام نہ لیا جائے، اور یہ نہ کہا جائے کہ: کیسے؟ اسی طرح امام مالک بن انس، امام سفیان بن عیینہ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمہم اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ان صفات والی احادیث کے بارے میں فرمایا: انہیں بلا کیف جاری کرو۔ اہلِ سنت والجماعت کے اہلِ علم کا بھی یہی موقف ہے۔ جبکہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا اور کہا کہ یہ تو تشبیہ ہے۔‘‘

📖 جامع الترمذي، تحت الحديث: 662

امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) لکھتے ہیں:

﴿بَابُ ذِكْرِ أَخْبَارٍ ثَابِتَةِ السَّنَدِ صَحِيحَةِ الْقِوَامِ، رَوَاهَا عُلَمَاءُ الْحِجَازِ وَالْعِرَاقِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي نُزُولِ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ، نَشْهَدُ شَهَادَةَ مُقِرٍّ بِلِسَانِهِ، مُصَدِّقٍ بِقَلْبِهِ، مُسْتَيْقِنٍ بِمَا فِي هٰذِهِ الْأَخْبَارِ مِنْ ذِكْرِ نُزُولِ الرَّبِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ نَصِفَ الْكَيْفِيَّةَ، لِأَنَّ نَبِيَّنَا الْمُصْطَفَى ﷺ لَمْ يَصِفْ لَنَا كَيْفِيَّةَ نُزُولِ خَالِقِنَا إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، وَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لَمْ يَتْرُكْ وَلَا نَبِيُّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيَانَ مَا بِالْمُسْلِمِينَ الْحَاجَةُ إِلَيْهِ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ، فَنَحْنُ قَائِلُونَ مُصَدِّقُونَ بِمَا فِي هٰذِهِ الْأَخْبَارِ مِنْ ذِكْرِ النُّزُولِ، غَيْرَ مُتَكَلِّفِينَ الْقَوْلَ بِصِفَتِهِ أَوْ بِصِفَةِ الْكَيْفِيَّةِ، إِذِ النَّبِيُّ ﷺ لَمْ يَصِفْ لَنَا كَيْفِيَّةَ النُّزُولِ﴾

ترجمہ:
’’یہ باب ان احادیث کے ذکر میں ہے جن کی سند ثابت اور متن صحیح ہے، جنہیں حجاز اور عراق کے علماء نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ربِّ جلیل ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔ ہم زبان کے اقرار، دل کی تصدیق اور کامل یقین کے ساتھ ان احادیث میں مذکور نزولِ رب پر ایمان رکھتے ہیں، مگر اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے، کیونکہ ہمارے نبی مصطفی ﷺ نے ہمارے خالق کے آسمانِ دنیا پر نزول کی کیفیت بیان نہیں فرمائی، بلکہ صرف یہ بتایا کہ وہ نزول فرماتا ہے۔ اور اللہ جلّ وعلا اور اس کے نبی ﷺ نے دین کے جس معاملے کی مسلمانوں کو ضرورت تھی، اس کی وضاحت چھوڑ نہیں دی۔ لہٰذا ہم ان احادیث میں مذکور نزول کے قائل اور ان کی تصدیق کرنے والے ہیں، مگر اس کی صفت یا کیفیت بیان کرنے کا تکلف نہیں کرتے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نزول کی کیفیت بیان نہیں فرمائی۔‘‘

📖 كتاب التوحيد: 288/2-290

✦ حاصلِ کلام:
سلفِ صالحین رحمہم اللہ کا عقیدہ یہ تھا کہ نزولِ باری تعالیٰ سے متعلق صحیح احادیث کو بلا تکییف، بلا تمثیل، اور بلا تحریف قبول کیا جائے، ان پر ایمان رکھا جائے، اور ان کی کیفیت میں بحث نہ کی جائے۔

جاری ہے...

17 📘 نزولِ باری تعالیٰ سے متعلق سلف کا عقیدہ — حصہ دوم

امام ابوالحسن الأشعری رحمہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:

﴿يُصَدِّقُونَ بِالْأَحَادِيثِ الَّتِي جَاءَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ﴾

ترجمہ:
’’اہلِ سنت رسول اللہ ﷺ سے مروی ان تمام احادیث کی تصدیق کرتے ہیں جن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔‘‘

📖 مقالات الإسلاميين: 295/1

امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں:

﴿بَابُ الإِيمَانِ وَالتَّصْدِيقِ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ، الإِيمَانُ بِهٰذَا وَاجِبٌ، وَلَا يَسَعُ الْمُسْلِمَ الْعَاقِلَ أَنْ يَقُولَ: كَيْفَ يَنْزِلُ؟ وَلَا يَرُدُّ هٰذَا إِلَّا الْمُعْتَزِلَةُ﴾

ترجمہ:
’’یہ باب اس بیان میں ہے کہ اللہ عزوجل ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔ اس پر ایمان اور تصدیق رکھنا واجب ہے۔ کسی عاقل مسلمان کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ کس طرح نزول فرماتا ہے؟ اس کا انکار صرف معتزلہ کرتے ہیں۔‘‘

📖 كتاب الشريعة: 1126/3

امام ابو سعید عثمان بن سعید الدارمی رحمہ اللہ (280ھ) لکھتے ہیں:

﴿مِمَّا يُعْتَبَرُ بِهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي النُّزُولِ، وَيُحْتَجُّ بِهِ عَلَى مَنْ أَنْكَرَهُ، قَوْلُهُ تَعَالَى: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ﴾
﴿البقرة: 210﴾

ترجمہ:
’’جن آیات سے نزولِ باری تعالیٰ کا اعتبار حاصل ہوتا ہے اور جن سے منکرین کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے، ان میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:**

﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ﴾
﴿البقرة: 210﴾

ترجمۂ آیت:
’’کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ اور فرشتے بادلوں کے سایوں میں آئیں؟‘‘

پھر امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ جو قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے تمام آسمانوں سے نزول فرمانے پر قادر ہے، وہ ہر رات ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف نزول فرمانے پر بھی قادر ہے۔ اگر یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی نزول والی حدیث کو رد کرتے ہیں، تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا جواب دیں گے؟‘‘

📖 الرد على الجهمية: ص 74

✦ حاصلِ کلام:
سلفِ صالحین رحمہم اللہ کے ہاں یہ عقیدہ بالکل واضح تھا کہ نزولِ باری تعالیٰ برحق ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اس کی کیفیت میں کلام نہیں کیا جائے گا، اور جو صحیح احادیث اس بارے میں وارد ہوئی ہیں، انہیں قبول اور تسلیم کیا جائے گا۔

جاری ہے...

18 📘 نزولِ باری تعالیٰ سے متعلق سلف کا عقیدہ

امام عبد الرحمن بن اسماعیل الصابونی رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:

﴿يُثْبِتُ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ نُزُولَ الرَّبِّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ تَشْبِيهٍ لَهُ بِنُزُولِ الْمَخْلُوقِينَ، وَلَا تَمْثِيلٍ، وَلَا تَكْيِيفٍ، بَلْ يُثْبِتُونَ مَا أَثْبَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَيَنْتَهُونَ فِيهِ إِلَيْهِ، وَيُمِرُّونَ الْخَبَرَ الصَّحِيحَ الْوَارِدَ بِذِكْرِهِ عَلَى ظَاهِرِهِ، وَيَكِلُونَ عِلْمَهُ إِلَى اللَّهِ﴾

ترجمہ:
’’اصحابُ الحدیث اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول کو ثابت مانتے ہیں، مگر اسے مخلوق کے نزول کے ساتھ نہ تشبیہ دیتے ہیں، نہ مثال بیان کرتے ہیں اور نہ ہی کیفیت بیان کرتے ہیں، بلکہ وہ اسی چیز کو ثابت کرتے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے ثابت فرمایا ہے، اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ نیز نزولِ الٰہی کے بارے میں وارد شدہ صحیح خبر کو اس کے ظاہر پر جاری رکھتے ہیں اور اس کے علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے ہیں۔‘‘

📖 عقيدة السلف وأصحاب الحديث: ص 40

⚠️ تنبیہ:
جدید جہمیہ اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حقیقی نزول کا انکار کرتے ہیں، بلکہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد خصوصی رحمت کا نزول ہے، یا حکم نازل ہوتا ہے، یا فرشتہ اترتا ہے، یا نزولِ اجلال مراد ہے، وغیرہ وغیرہ۔

یہ تمام تاویلات قرآن، حدیث، اجماعِ امت، اور ائمۂ محدثین و سلفِ صالحین رحمہم اللہ کی متفقہ تصریحات کے خلاف ہیں، لہٰذا یہ ناقابلِ التفات ہیں۔

⚠️ مزید تنبیہ:
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ: اللہ تعالیٰ جب نزول فرماتے ہیں تو کیا اس وقت عرش خالی ہو جاتا ہے؟
تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ سوال بدعت ہے۔

اس نزول کی کیفیت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
جس مسئلے کے بارے میں شریعت خاموش ہے، ہم بھی اس میں خاموش رہیں گے۔
صحابۂ کرام اور محدثینِ عظام نے اس بارے میں سکوت کیا ہے، لہٰذا ہم بھی سکوت کریں گے۔
واللہ الحمد!

🌿 فائدہ:
احادیثِ نزولِ باری تعالیٰ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بلند ہے، ہر جگہ موجود نہیں۔

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:

﴿فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاءِ عَلَى الْعَرْشِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ، كَمَا قَالَتِ الْجَمَاعَةُ، وَهُوَ مِنْ حُجَّتِهِمْ عَلَى الْمُعْتَزِلَةِ وَالْجَهْمِيَّةِ فِي قَوْلِهِمْ: إِنَّ اللَّهَ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَرْشِ﴾

ترجمہ:
’’حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے، جیسا کہ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ یہی حدیث معتزلہ اور جہمیہ کے خلاف ان کی دلیل ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، عرش پر نہیں۔‘‘

📖 التمهيد: 129/7

ایک دوسرے مقام پر امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿عَلَى هٰذَا أَهْلُ الْحَقِّ﴾

ترجمہ:
’’اہلِ حق کا یہی عقیدہ ہے۔‘‘

📖 التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 80/22

یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو عرش پر بلند ماننے کے بجائے ہر جگہ موجود مانتا ہے، وہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ بلکہ تمام محدثینِ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک حق پر نہیں ہے۔
والحمد للہ علیٰ ذلک!

✦ الحاصل:
نزولِ باری تعالیٰ، صفاتِ باری تعالیٰ میں سے ایک صفتِ فعلیہ ہے، اور یہ نزول حقیقی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہے۔

19 📘 حسین بن منصور حلاج صوفی حلولی، علمائے اہلِ سنت کی نظر میں — حصہ اوّل

حسین بن منصور حلاج (309ھ) زندیق اور حلولی تھا۔ اس کے کفر و الحاد پر علمائے حق کا اجماع و اتفاق ہے۔ اس کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ اللہ ہر چیز میں حلول کر گئے ہیں۔ یہی عقیدہ وحدۃ الوجود کی بنیاد ہے۔ اس کے کفر و الحاد کی وجہ سے علما نے اس کا خون جائز قرار دیا تھا، اور بالآخر اسے قتل کر دیا گیا تھا۔

✍️ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں:

لا أرى يتعصب للحلاج إلا من قال بقوله الذي ذكر أنه عين الجمع، فهذا هو قول أهل الوحدة المطلقة، ولهذا ترى ابن عربي صاحب الفصوص يعظمه ويقع في الجنيد.

’’میں حلاج کے حق میں اسی شخص کو تعصب رکھتے دیکھتا ہوں جو اسی کے جیسے عقیدے کا قائل ہو۔ اس سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے (خالق و مخلوق کے درمیان) جمع کو لازم کیا تھا۔ یہی وحدتِ مطلقہ (وحدت الوجود) والوں کا عقیدہ ہے۔ اسی لیے آپ الفصوص کے مصنف ابن عربی کو دیکھیں گے کہ وہ حلاج کی تعظیم کرتا ہے اور جنید کی گستاخی کرتا ہے۔‘‘

📖 لسان المیزان: 2/315

✍️ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں:

اتفق علماء العصر على إباحة دم الحلاج.

’’اس زمانے کے تمام علما حلاج کے خون کے مباح ہونے پر متفق ہو گئے تھے۔‘‘

📖 تلبيس إبليس: 1/154

✍️ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (773ھ) لکھتے ہیں:

قد اتفق علماء بغداد على كفر الحلاج وزندقته، وأجمعوا على قتله وصلبه، وكان علماء بغداد إذ ذاك هم علماء الدنيا.

’’بغداد کے علما حلاج کے کافر و زندیق ہونے پر متفق ہو گئے تھے، اور انھوں نے اسے قتل کرنے اور سولی پر لٹکانے پر اجماع کر لیا تھا۔ اس وقت علمائے بغداد ہی دنیا کے کبار علما شمار ہوتے تھے۔‘‘

📖 البداية والنهاية: 14/832، هجر

✦ جاری ہے۔۔۔

20 📘 حسین بن منصور حلاج صوفی حلولی، علمائے اہلِ سنت کی نظر میں — حصہ دوم

✍️ ابو حامد علامہ غزالی رحمہ اللہ (505ھ) لکھتے ہیں:

شطح سے مراد ہم دو طرح کا علمِ کلام لیتے ہیں، جسے بعض صوفیا نے گھڑا ہے۔ ان میں سے ایک تو اللہ کے ساتھ عشق اور اس وصال کے بلند بانگ دعوے ہیں، جو ظاہری اعمال (نماز، روزہ وغیرہ) سے مستغنی کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی لوگ اتحاد (وحدت الوجود)، (خالق و مخلوق کے درمیان) پردے اٹھ جانے، اللہ تعالیٰ کے مشاہدے اور بلاواسطہ کلام کے دعوؤں تک پہنچ گئے ہیں۔

چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) یوں کہا گیا اور ہم نے یوں کہا۔ اس بارے میں وہ حسین بن منصور حلاج سے مشابہت رکھتے ہیں، جسے اس جیسی باتیں کرنے کی وجہ سے سولی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ وہ دلیل میں اسی منصور کا قول أنا الحق یعنی میں ہی اللہ ہوں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ابو یزید بسطامی کا یہ قول بھی اپنی دلیل بناتے ہیں کہ اس نے کہا:

سبحاني سبحاني
یعنی:
میں پاک ہوں، میں پاک ہوں۔

علمِ کلام کی یہ قسم لوگوں میں بہت نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، یہاں تک کہ فلاح کی راہ پر چلنے والے لوگوں کی ایک بڑی جماعت نے اپنی راہِ فلاح چھوڑ دی اور اس طرح کے دعاوی شروع کر دیے۔ وجہ یہ ہے کہ علمِ کلام کی اس قسم کو طبیعت بہت پسند کرتی ہے، کیونکہ اس میں اعمال کو چھوڑنے کے باوجود مقامات و احوال کے ساتھ تزکیۂ نفس کا دعویٰ موجود ہے۔

ان بددماغ لوگوں کو اپنے لیے اس طرح کے دعاوی کرنے سے اور بے وقوفی پر مبنی چکنے چپڑے کلمات کہنے سے آپ نہیں روک سکتے۔ جب بھی ان پر اس بات کا اعتراض کیا گیا تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اس انکار کا مبدا علم و جدال ہے، علم پردہ ہے اور جدال عملِ نفس ہے، جبکہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے نور کے مکاشفہ کے ذریعے باطن سے نکلتی ہیں۔

یہ اور اس طرح کی دیگر خرافات کا شر علاقوں میں پھیل گیا ہے اور عوام میں ان کا نقصان بہت بڑھ گیا ہے، یہاں تک کہ جو اس طرح کی بکواس کرے، اسے قتل کرنا دینِ اسلام میں دس افراد کی جان بچانے سے بہتر ہے۔

📖 احیاء علوم الدين: 1/30

✍️ نیز علامہ غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

من هنا نشأ خيال من ادعى الحلول والاتحاد وقال: أنا الحق، وحوله يدندن كلام النصارى في دعوى اتحاد اللاهوت والناسوت أو تدرعها بها أو حلولها فيها على ما اختلف فيهم عبارتهم، وهو غلط محض.

’’یہیں سے اس شخص کا خیال جنم لیتا ہے جو حلول و اتحاد کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے: أنا الحق یعنی میں ہی اللہ ہوں۔ لاہوت کے ناسوت میں متحد ہو جانے یا اس میں چھپ جانے یا اس میں حلول کر جانے کے بارے میں نصاریٰ کی کلام بھی اسی کے لگ بھگ ہے، اگرچہ اس بارے میں ان کی عبارات مختلف ہیں۔ یہ عقیدہ سراسر غلط ہے۔‘‘

📖 احیاء علوم الدين: 2/292

✍️ علامہ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:

تدبر يا عبد الله، نحلة الحلاج الذي هو من رؤوس القرامطة، ودعاة الزندقة، وأنصف وتورع، واتق ذلك، وحاسب نفسك، فإن تبرهن لك أن شمائل هذا المرء شمائل عدو للإسلام، محب للرئاسة، حريص على الظهور بباطل وبحق، فتبرأ من نحلته، وإن تبرهن لك والعياذ بالله أنه كان، والحالة هذه . محفا هاديا ، مهديا، فجدد إسلامك، واستغت بربك أن يوفقك للحق ، وأن يثبت قلبك على دينه، فإنما الهدى نور يقذفه الله في قلب عبده المسلم، ولا قوة إلا بالله.

’’اللہ کے بندے! حلاج کے مذہب پر غور کریں، جو کہ قرامطہ (غالی اور خطرناک قسم کے رافضی لوگوں) کا ایک سردار اور الحاد و بے دینی کا زبردست داعی تھا۔ آپ انصاف و غیر جانبداری سے کام لیں، اس سے بچ جائیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔

اگر واضح ہو جائے کہ اس شخص کے خصائل اسلام دشمن، حکومت پسند اور باطل و حق کے اختلاط کے ساتھ غلبہ حاصل کرنے کے خواہش مند شخص کے خصائل ہیں، تو فوراً اس کے مذہب سے دستبردار ہو جائیے۔

اور اللہ نہ کرے، اگر اس صورتِ حال کے باوجود آپ کو وہ حق بجانب، ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ نظر آئے، تو تجدیدِ اسلام کیجیے اور اپنے رب سے مدد مانگیے کہ وہ آپ کو حق کی توفیق دے اور آپ کے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھے، کیونکہ ہدایت تو ایک نور ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندے کے دل میں جاگزیں کر دیتا ہے۔ گمراہی سے بچنے اور حق کو پانے کی قوت و طاقت صرف اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔‘‘

📖 سیر أعلام النبلاء: 14/345

✦ جاری ہے۔۔۔

21 📘 حسین بن منصور زندیق کے عقیدۂ حلول کا دورِ حاضر میں دفاع — حصہ سوم

بعض متاخرین نے حسین بن منصور حلاج کے قول أنا الحق کی ایسی تاویلات پیش کی ہیں، جن سے اس کے عقیدۂ حلول کا دفاع ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں:

✍️ مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

’’جیسے شجرۂ طور بلا اختیار کلمۂ إني أنا الله کا مظہر تصرفِ حق سے ہو گیا، اسی طرح منصور بھی بلا اختیار کلمۂ أنا الحق کا مظہر تصرفِ حق سے ہو گیا۔‘‘

📖 بوادر النوادر، ص: 398

✍️ نیز لکھتے ہیں:

’’دوسرے معنی محتمل یہ ہے کہ میں نے یہ راز ظاہر نہیں کیا، خود محبوب ہی نے ظاہر کیا، یعنی أنا الحق کے ساتھ وہی متکلم ہیں، جیسا شجرۂ طور سے کلامِ حق أنا الله کا ظہور ہوا۔‘‘

📖 اشعار الغيور بما في اشعار ابن منصور، ص: 143

✍️ مزید لکھتے ہیں:

’’اسی ظہور کے ایک درجہ کو تجلی بھی کہتے ہیں، جیسے شجرۂ طور میں بھی تجلی تھی۔ اگر کسی انسانِ کامل میں کلام کی جلی ہو جائے، تو بعد کیا ہے؟‘‘

📖 ایضاً، ص: 147

✍️ نیز کہتے ہیں:

’’شجرۂ موسیٰ علیہ السلام سے أنا الحق کی آواز آئی، تو اس پر کسی نے انکار نہیں کیا اور حضرت منصور پر انکار کیا؟‘‘

📖 الکلام الحسن، حصہ دوم، ص: 61

✍️ مزید یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپ نے سورۃ القصص، آیت نمبر 30 کا ترجمہ یہ کیا ہے:

’’اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ رب العالمین ہوں۔‘‘

✍️ تھانوی صاحب کے استاذ، جناب محمد یعقوب نانوتوی صاحب کہتے ہیں:

’’یہی غلبہ تو شجرۂ طور پر ہو گیا تھا، جو مظہر ہو گیا إني أنا الله کا۔‘‘

📖 معارف الاکابر از محمد اقبال قریشی، ص: 373

✍️ مولانا ظفر احمد تھانوی لکھتے ہیں:

’’ایک تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت ابن منصور کی زبان کلامِ حق کی ترجمان تھی۔ ان کی زبان سے اسی طرح أنا الحق نکلا تھا، جیسا کہ شجرۂ موسیٰ سے إني أنا الله رب العالمين کی آواز آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ درخت نے اپنے کو اللہ رب العالمین نہیں کہا تھا، بلکہ اس وقت وہ کلامِ الٰہی کا ترجمان تھا۔

اسی طرح ابن منصور کے متعلق بھی خیال کیا جا سکتا ہے، اور غلبۂ حالات و واردات میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عارف کی زبان سے اللہ تعالیٰ تکلم فرماتے ہیں، جس کو سالکین اصحابِ حال سمجھ سکتے ہیں۔

پس یہ تو مسلم ہو سکتا ہے کہ ابن منصور کی زبان سے أنا الحق نکلا ہو، مگر یہ مسلم نہیں کہ ابن منصور نے خود أنا الحق کہا تھا۔‘‘

📖 سیرت منصور حلاج، ص: 50

✍️ مولانا انور شاہ کشمیری صاحب کہتے ہیں:

إنه إذا صح للشجرة أن ينادى فيها ب إني أنا الله ، فما بال المتقرب بالنوافل أن لا يكون الله سمعه وبصره كيف وأن ابن آدم الذي خلق على صورة الرحمن ليس بأدون من شجرة موسى عليه الصلاة والسلام.

’’جب درخت میں إني أنا الله (میں ہی اللہ ہوں) کے الفاظ کے ساتھ ندا لگائی جا سکتی ہے، تو نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے والے شخص کے متعلق ایسا کیونکر نہیں ہو سکتا کہ اللہ اس کا کان اور آنکھ بن جائے، کیونکہ ابنِ آدم، جس کی تخلیق رحمن کی صورت کے مطابق ہوئی ہے، موسیٰ علیہ السلام کے درخت سے حقیر نہیں ہے۔‘‘

📖 فیض الباري على صحيح البخاري: 4/429

➤ اس پر اتنا ہی کہا جائے گا کہ اہلِ سنت میں سے کوئی بھی اس عقیدے کا قائل نہیں ہے۔ اس کی ایسی تاویلیں کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ سلفِ امت کی راہ اپنا لی جاتی۔

22 📘 حسین بن منصور زندیق کے عقیدۂ حلول کا رد — ائمۂ اہلِ سنت کی روشنی میں

✍️ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:

زعمت الجهمية كما زعمت النصارى أن كلمة الله تعالى حواها بطن مريم رضي الله عنها، وزادت الجهمية عليهم، فزعمت أن كلام الله مخلوق حل في شجرة، وكانت الشجرة حاوية له، فلزمهم أن تكون الشجرة بذلك الكلام متكلمة، ووجب عليهم أن مخلوقا من المخلوقين كلم موسى صلى الله عليه وسلم، وأن الشجرة قالت: يا موسى إني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني، فلو كان كلام الله مخلوقا في شجرة لكان المخلوق قال: يا موسى إني أنا الله أنا فاعبدني، وقد قال تعالى: (ولكن حق القول منى لاملكن جهنم من الجنة والناس اجمعين)، وكلام الله من الله تعالى، فلا يجوز أن يكون كلامه الذي هو منه مخلوقا في شجرة مخلوقة، كما لا يجوز أن يكون علمه الذي هو منه مخلوقا في غيره، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا.

ترجمہ:
نصاریٰ کی طرح جہمیہ نے بھی یہ خیال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو مریم رضی اللہ عنہا نے اپنے پیٹ میں سمو لیا تھا۔ جہمی لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی کلام مخلوق تھی، جو کہ ایک درخت میں داخل ہو گئی تھی اور اس درخت نے اس کلام کو اپنے اندر سمو لیا تھا۔

اس طرح جہمی لوگوں پر یہ کہنا لازم آتا ہے کہ درخت ہی اس کلام کے ساتھ متکلم تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ایک مخلوق نے ہی کلام کی تھی، اور درخت ہی نے کہا تھا:

يا موسى إني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني

یعنی:
اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی الٰہ نہیں، چنانچہ میری ہی عبادت کرو۔

اگر یہ اللہ تعالیٰ کی کلام درخت میں پیدا کر دی گئی تھی، تو پھر مخلوق نے ہی موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا تھا، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ولكن حق القول مني لأملأن جهنم من الجنة والناس أجمعين﴾

ترجمہ:
لیکن میری بات ثابت ہو چکی ہے کہ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا۔

کلامُ اللہ، اللہ تعالیٰ ہی سے ہے، چنانچہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ کلام جو اللہ کی طرف سے تھی، وہ ایک مخلوق درخت میں پیدا کر دی گئی تھی، جیسا کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وہ علم، جو اسی سے ہے، وہ کسی غیر میں پیدا کر دیا گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ ان خرافات سے بہت بلند ہے۔

📖 الإبانة عن أصول الديانة، ص: 68

🔹 تنبیہ:

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ اثر منسوب ہے:

رأيت الشجرة التي نودي منها موسى عليه السلام، سمرة خضراء.

ترجمہ:
میں نے اس درخت کو دیکھا ہے جس سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی گئی تھی، وہ سرسبز تھا۔

📖 تفسیر ابن جریر: 19/573

➤ اس کی سند سخت ضعیف ہے۔

اس کی علتیں یہ ہیں:

➊ سفیان بن وکیع جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔

➋ امام ابو معاویہ اور امام اعمش رحمہما اللہ دونوں مدلس ہیں، اور یہاں سماع کی تصریح موجود نہیں۔

➌ ابو عبیدہ نے اپنے والد سے نہیں سنا، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

إنه عند الأكثر لم يسمع من أبيه.

ترجمہ:
جمہور کے نزدیک ابو عبیدہ نے اپنے والد (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے نہیں سنا۔

📖 موافقة الخبر الخبر: 1/364

23 📘 صوفیا کے عقیدۂ حلول اور اس کے خطرات

اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہے اور اپنی مخلوق سے جدا ہے۔ یہ اہلِ سنت کا اجماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے۔ اس اجماعی و اتفاقی عقیدے کے خلاف بعض گمراہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ مخلوق میں حلول کر گیا ہے، یعنی خالق اور مخلوق کا فرق مٹ گیا ہے۔ یہ دونوں عقیدے اجماعِ اہلِ حق اور اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔

◈ اگر خالق اور مخلوق کا ایک ہی وجود ہو، تو خالق مخلوق کو کسی چیز کا حکم کیسے دے گا اور کسی چیز سے منع کیسے کرے گا؟

◈ اگر خالق اور مخلوق کا ایک ہی وجود ہو، تو اس میں تخلیقِ الٰہی کا انکار لازم آتا ہے، کیونکہ کوئی خود اپنا خالق نہیں ہو سکتا۔

◈ عقیدۂ حلول سے اللہ تعالیٰ کے مالکُ الملک ہونے کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ کوئی خود اپنا مالک نہیں ہو سکتا۔

◈ اس عقیدے سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رزق نہیں دیتا، نہ ہی کسی کو ہدایت وغیرہ دیتا ہے، کیونکہ اس کے سوا کوئی وجود ہی نہیں۔

◈ اس عقیدے سے یہ خرابی لازم آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی روزہ رکھتا ہے، قیام کرتا ہے، رکوع و سجود کرتا ہے اور موت و مرض کا شکار ہوتا ہے۔

◈ اس عقیدے کے مطابق بتوں کے پجاریوں نے بھی اللہ ہی کی عبادت کی تھی، کیونکہ اس کے سوا کوئی وجود ہی نہیں۔

◈ جس نے الوہیت کا دعویٰ کیا، مثلاً فرعون، دجال وغیرہ، اس عقیدے کے مطابق ان کا دعویٰ بھی برحق قرار پاتا ہے۔ اسی طرح شیطان یا خواہشِ نفس کا ہر پجاری اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ٹھہرتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک شیطان کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا۔

◈ عقیدۂ حلول سے لازم آتا ہے کہ کتے، خنزیر وغیرہ بھی الٰہ ہیں، کیونکہ وحدت الوجود کے مطابق ان کا اپنا کوئی الگ وجود نہیں، بلکہ سب ایک ہی وجود ہیں۔

◈ اس سے عقلی طور پر محال چیزوں کا اعتقاد لازم آتا ہے، کیونکہ اگر اللہ کے سوا باقی وجود متحد ہوں تو تین صورتیں بنتی ہیں:

➊ ایک یہ کہ دوسری کا وجود بھی باقی رہے۔ اس صورت میں وجود دو ہو جائیں گے۔

➋ دوسری صورت یہ کہ دونوں معدوم ہو جائیں۔ اس طرح ایک تیسری چیز وجود میں آ جائے گی۔

➌ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک باقی رہے اور دوسری معدوم ہو جائے۔ اس صورت میں اتحاد سرے سے ہوگا ہی نہیں۔

◈ اس عقیدے سے فطرت اور شرائع کی مخالفت لازم آتی ہے، کیونکہ کسی آسمانی شریعت نے اس کو جائز قرار نہیں دیا، نہ ہی عقلِ سلیم اس کی اجازت دیتی ہے۔

◈ بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان عبادت کے ذریعے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے دنیا و جہان کی ہر چیز میں اللہ نظر آنے لگتا ہے یا وہ ہر مخلوق کو اللہ سمجھنے لگتا ہے۔ صوفیوں کی اصطلاح میں اس عقیدے کو ’’وحدت الوجود‘‘ کہا جاتا ہے۔

◈ پھر عبادت میں مزید ترقی کے بعد، ان کے بقول، انسان اللہ کی ذات میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ اور انسان دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ اس عقیدے کو ’’وحدت الشہود‘‘ یا ’’فنا فی اللہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

◈ ان کے نزدیک انسان کے دل کا آئینہ اس قدر صاف و شفاف ہو جاتا ہے کہ اللہ کی ذات خود اس انسان میں داخل ہو جاتی ہے، جسے ’’عقیدۂ حلول‘‘ کہا جاتا ہے۔

➤ یہ محض کفریہ عقیدہ ہے، جو نصاریٰ کے عقائد سے ماخوذ ہے، اور قرآن و حدیث اور فطرت — تینوں کے قطعی خلاف ہے۔

24 📘 ابن عربی اور عقیدۂ وحدۃ الوجود

ابن عربی، المعروف بہ محی الدین (638ھ)، بالاتفاق زندیق اور کافر تھا۔ فلسفہ اور وحدۃ الوجود کے تصوف پر مبنی اس کے کفریہ عقیدہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (748ھ) لکھتے ہیں:

من أردإ تواليفه كتاب الفصوص، فإن كان لا كفر فيه، فما في الدين كفر، نسأل الله العفو والنجاة.

اس (ابن عربی) کی سب سے بدترین کتاب الفصوص ہے۔ اگر اس میں کفر نہیں، تو پھر دین میں کہیں بھی کفر موجود نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور نجات کا سوال کرتے ہیں۔

📖 سیر أعلام النبلاء: 48/23

علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ (771ھ) لکھتے ہیں:

من كان من هؤلاء الصوفية المتأخرين كابن عربي وغيره، فهم ضلال جهال، خارجون عن طريقة الإسلام، فضلا عن العلماء.

“متاخرین صوفیا میں سے جو ابن عربی وغیرہ جیسے لوگ ہیں، وہ گمراہ، جاہل اور اسلام کے راستے سے نکلے ہوئے ہیں، چہ جائیکہ کہ وہ علماء شمار ہوں۔”

📖 تنبيه الغبي على تكفير ابن عربي للبقاعي، ص: 143

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (852ھ) ابن الفارض کے حالاتِ زندگی میں لکھتے ہیں:

قد كنت سألت شيخنا الإمام سراج الدين البلقيني عن ابن عربي، فبادر الجواب بأنه كافر.

“میں نے اپنے شیخ، امام سراج الدین عمر بن رسلان البلقینی (807ھ) سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فوراً جواب دیا: وہ کافر ہے۔”

📖 لسان الميزان: 318/4

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (774ھ) ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کے بارے میں لکھتے ہیں:

فيه أشياء كثيرة ظاهرها كفر صريح.

“اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا ظاہر صریح کفر ہے۔”

📖 البداية والنهاية: 253/17

✦ جاری۔۔۔

25 📘 ابن عربی اور عقیدۂ وحدۃ الوجود

علامہ بقاعی رحمۃ اللہ علیہ (885ھ) لکھتے ہیں:

وبعد، فإني لما رأيت الناس مضطربين في ابن عربي المنسوب إلى التصوف الموسوم عند أهل الحق بالوحدة، ولم أر من شفى القلب في ترجمته، وكان كفره في كتابه الفصوص أظهر منه في غيره، أجبت أن أذكر منه ما كان ظاهرا، حتى يعلم حاله، فيهجر مقاله، ويعتقد انحلاله، وكفره وضلاله، وأنه إلى الهاوية مآبه ومآله.

“حمد و صلاۃ کے بعد، جب میں نے لوگوں کو اس ابن عربی کے بارے میں مضطرب (مختلف الرائے) دیکھا، جو تصوف کی طرف منسوب ہے اور اہلِ حق کے نزدیک وحدت الوجودی تھا، اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے اس کے حالات اس طرح لکھے ہوں کہ دل کو تسلی ہو، جبکہ اس کا کفر اس کی کتاب الفصوص میں دوسری کتب کی نسبت زیادہ ظاہر تھا، تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں اس کے ایسے ظاہری اقوال و احوال ذکر کروں جن سے اس کی حقیقت واضح ہو جائے، تاکہ اس کے اقوال کو چھوڑ دیا جائے، اس کے اسلام سے خارج ہونے، کافر و گمراہ ہونے، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہونے کا عقیدہ رکھا جائے۔”

📖 تنبيه الغبي، ص: 21

پچاس کے قریب علمائے کرام اور قاضیوں نے اسے زندیق، ملحد اور کافر کہا ہے۔ ملا علی القاری حنفی نے اس کے کافر ہونے کے بارے میں الرَّدُّ عَلَى الْقَائِلِينَ بِوَحْدَةِ الوُجُودِ نامی کتاب بھی لکھی ہے۔

حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (911ھ) لکھتے ہیں:

يحرم تحريما غليظا أن يفسر القرآن بما لا يقتضيه جوهر اللفظ، كما فعل ابن عربي المبتدع، الذي ينسب إليه كتاب الفصوص الذي هو كفر كله.

“قرآنِ کریم کے الفاظ جس معنی کا تقاضا نہ کریں، اس طرح قرآنِ کریم کی تفسیر کرنا سخت حرام ہے، جیسا کہ ابن عربی بدعتی نے کیا ہے۔ اس کی طرف الفصوص نامی کتاب منسوب ہے، جو سراسر کفر ہے۔”

📖 التحبير في علم التفسير، ص: 537

26 📘 سابقہ امتوں میں عقیدۂ توحید: فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی عورت کا ایمان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مررت ليلة أسري بي برائحة طيبة، فقلت: ما هذه الرائحة يا جبريل؟ قال: هذه ماشطة بنت فرعون كانت تمشطها، فوقع المشط من يدها، فقالت: بسم الله، قالت ابنة فرعون: أبي؟ قالت: ربي ورب أبيك، قالت: أقول له إذا، قالت: قولي له، قال لها: أولك رب غيري؟ قالت: ربي وربك الذي في السماء.

’’جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے گزرا۔ میں نے کہا: جبریل! یہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت (اور اس کے بیٹے) کی خوشبو ہے۔ وہ اسے کنگھی کر رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی۔ اس نے کہا: بسم اللہ۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا اللہ سے تمہاری مراد میرے والد ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں، بلکہ میرا اور تمہارے والد کا رب۔ اس نے کہا: تب تو میں اپنے والد کو بتاؤں گی۔ اس نے کہا: بتا دینا۔ فرعون کو بتایا گیا، تو اس نے کہا: کیا میرے علاوہ تمہارا کوئی رب ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا اور تمہارا رب وہ ہے، جو آسمان میں ہے۔‘‘

📖 مسند الإمام أحمد: 310/1
📖 مسند أبي يعلى الموصلي: 25/7
📖 الأحاديث المختارة للضياء المقدسي: 288
✦ واللفظ له، وسنده حسن

اس حدیث کو امام ابن حبان (2904) اور امام حاکم (496/2) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إسناده لا بأس به.

’’اس کی سند میں کوئی خرابی نہیں ہے۔‘‘

📖 تفسير ابن كثير: 29/5