1 📘 اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ: اللہ تعالیٰ عرش پر بلند ہے
اہلِ سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر بلند ہے، اور یہ اس کی ذاتی، ازلی اور ابدی صفت ہے۔
اس مسئلے میں دو گروہوں نے اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کی ہے:
➊ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔
➋ دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کائنات کے اوپر ہے، نہ نیچے، نہ جہان کے اندر ہے، نہ باہر، نہ دائیں، نہ بائیں، نہ آگے، نہ پیچھے، نہ کائنات سے متصل ہے، نہ اس سے منفصل۔
یہ تعبیرِ عقیدہ اسلافِ امت سے ثابت نہیں۔ تاہم یہ لوگ اپنے عقیدے پر قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے وہ دلائل پڑھے تھے جو یہ حضرات پیش کرتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً پڑھے تھے، بلکہ یاد بھی کیے تھے۔
تو پھر یہ دلائل پڑھنے کے باوجود انہوں نے یہ عقائد کیوں نہ اپنائے؟
اس کی صرف دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں:
➊ یا تو سلفِ امت ان دلائل کو جاننے کے باوجود ماننے پر تیار نہیں تھے۔
➋ یا پھر ان دلائل سے وہ عقائد ثابت ہی نہیں ہوتے، جو یہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
ائمۂ سلف نے اپنے عقائد کی بنیاد قرآن و حدیث پر رکھی ہے۔ وہ قرآن و سنت کے تابع تھے، جبکہ مبتدعین نے پہلے عقائد وضع کیے، پھر نصوصِ قرآن و سنت کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ یوں ان کے عقائد ائمۂ سلف کے اجماع کے خلاف ہو گئے۔
📗 اہلِ کلام کی تاویل
اہلِ کلام نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو سے مراد صفات کی بلندی لی ہے، ذات کی بلندی نہیں۔
📙 صفتِ معیت کا صحیح مفہوم
اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے علو ثابت کیا ہے۔ جس آیت سے اہلِ ضلال نے استدلال کیا ہے، وہ ان کے اس باطل دعوے پر دلالت ہی نہیں کرتی، کیونکہ معیت سے حلول لازم نہیں آتا۔
جیسا کہ عربوں کا کہنا ہے:
◈ (القمر معنا)
“چاند ہمارے ساتھ ہے۔”
حالانکہ چاند آسمان پر ہوتا ہے۔
◈ (زوجتي معي)
“میری بیوی میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ ممکن ہے وہ مشرق میں ہو اور وہ مغرب میں ہو۔
لہٰذا معیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساتھ والا ہمیشہ ساتھ والے کی جگہ ہی میں ہو، بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے معیت کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔
کبھی کہا جاتا ہے:
◈ (هذا لبن معه ماء)
“اس دودھ میں پانی ملا ہوا ہے۔”
یہ معیت اختلاط کا تقاضا کرتی ہے۔
اور آدمی کہتا ہے:
◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ سامان اس کے گھر میں رکھا ہوتا ہے۔
اور اگر وہ سامان اٹھائے ہوئے ہو تو بھی یہی کہتا ہے:
◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”
اس صورت میں سامان اس کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔
پس یہ ایک ہی لفظ ہے، مگر اضافت کے بدلنے سے اس کے معانی بھی بدل جاتے ہیں۔
📕 باطل لوازمات
یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، کئی باطل لوازمات کو لازم کرتا ہے:
➊ تعدد یا اجزا لازم آئیں گے۔
یہ لازم بلا شبہ باطل ہے، اور لازم کا بطلان، ملزوم کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
➋ جب آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کئی جگہوں میں لوگوں کے ساتھ ہے، تو لازم آئے گا کہ لوگوں کی زیادتی سے وہ زیادہ اور کمی سے کم ہو جائے۔
➌ اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کو ناپاک اور گندگی والی جگہوں سے پاک نہیں سمجھتے، کیونکہ جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، تو بیت الخلا اور گندگی کے ڈھیر بھی “ہر جگہ” میں داخل ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے خلاف نہایت سنگین بات ہے۔
لہٰذا یہ نظریہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔
قرآن و سنت سے کسی طور بھی اس کے لیے کوئی دلیل مترشح نہیں ہو سکتی، نہ مطابقتی، نہ تضمنی اور نہ التزامی۔
📒 باری تعالیٰ کے لیے جہت کا اثبات
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ثابت نہیں کی جا سکتی۔
ان کا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو جہت کے ساتھ موصوف کیا جائے تو اس سے جسم لازم آئے گا، اور چونکہ ان کے نزدیک تمام اجسام ایک جیسے ہیں، اس لیے اس سے تمثیل لازم آئے گی۔ اسی بنا پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جہت کا انکار کر دیا۔
ہم کہتے ہیں کہ جہت کی نفی سے تو اللہ تعالیٰ کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ ہم عدم کے سوا کسی ایسی چیز کو نہیں جانتے جو:
نہ کائنات کے اوپر ہو،
نہ نیچے،
نہ دائیں،
نہ بائیں،
نہ آگے،
نہ پیچھے،
نہ متصل،
نہ منفصل۔
اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ اگر ہمیں کہا جائے کہ عدم کو الفاظ میں بیان کرو، تو اس کے لیے جہت کی نفی سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ملیں گے۔
باقی یہ اعتراض کہ جہت کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، تو یہ باطل ہے؛ کیونکہ یہ اعتراض تب درست ہو جب ہم خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت و مشابہت ثابت کریں۔
حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے ہی ثابت کرتے ہیں جیسے اس کی شان اور عظمت کے لائق ہیں۔
نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔
اگر جسم سے آپ کی مراد وہ چیز ہے جو مختلف اجزا سے مل کر بنی ہو اور ان اجزا کے بغیر قائم نہ رہ سکتی ہو، تو ہم بھی ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت نہیں کرتے۔
لہٰذا جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علو کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔
یہ دراصل سلفِ صالحین پر بے اعتمادی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانتے تھے۔
پس سلف پر بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراض کرنے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔