واٹساپ دعوتی مواد اللہ کہاں ہے؟

اللہ کہاں ہے؟

7 پیغامات

1 📘 اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ: اللہ تعالیٰ عرش پر بلند ہے

اہلِ سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر بلند ہے، اور یہ اس کی ذاتی، ازلی اور ابدی صفت ہے۔

اس مسئلے میں دو گروہوں نے اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کی ہے:

➊ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔

➋ دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کائنات کے اوپر ہے، نہ نیچے، نہ جہان کے اندر ہے، نہ باہر، نہ دائیں، نہ بائیں، نہ آگے، نہ پیچھے، نہ کائنات سے متصل ہے، نہ اس سے منفصل۔

یہ تعبیرِ عقیدہ اسلافِ امت سے ثابت نہیں۔ تاہم یہ لوگ اپنے عقیدے پر قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے وہ دلائل پڑھے تھے جو یہ حضرات پیش کرتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً پڑھے تھے، بلکہ یاد بھی کیے تھے۔

تو پھر یہ دلائل پڑھنے کے باوجود انہوں نے یہ عقائد کیوں نہ اپنائے؟

اس کی صرف دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں:

➊ یا تو سلفِ امت ان دلائل کو جاننے کے باوجود ماننے پر تیار نہیں تھے۔

➋ یا پھر ان دلائل سے وہ عقائد ثابت ہی نہیں ہوتے، جو یہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ائمۂ سلف نے اپنے عقائد کی بنیاد قرآن و حدیث پر رکھی ہے۔ وہ قرآن و سنت کے تابع تھے، جبکہ مبتدعین نے پہلے عقائد وضع کیے، پھر نصوصِ قرآن و سنت کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ یوں ان کے عقائد ائمۂ سلف کے اجماع کے خلاف ہو گئے۔

📗 اہلِ کلام کی تاویل

اہلِ کلام نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو سے مراد صفات کی بلندی لی ہے، ذات کی بلندی نہیں۔

📙 صفتِ معیت کا صحیح مفہوم

اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے علو ثابت کیا ہے۔ جس آیت سے اہلِ ضلال نے استدلال کیا ہے، وہ ان کے اس باطل دعوے پر دلالت ہی نہیں کرتی، کیونکہ معیت سے حلول لازم نہیں آتا۔

جیسا کہ عربوں کا کہنا ہے:

◈ (القمر معنا)
“چاند ہمارے ساتھ ہے۔”
حالانکہ چاند آسمان پر ہوتا ہے۔

◈ (زوجتي معي)
“میری بیوی میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ ممکن ہے وہ مشرق میں ہو اور وہ مغرب میں ہو۔

لہٰذا معیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساتھ والا ہمیشہ ساتھ والے کی جگہ ہی میں ہو، بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے معیت کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔

کبھی کہا جاتا ہے:

◈ (هذا لبن معه ماء)
“اس دودھ میں پانی ملا ہوا ہے۔”
یہ معیت اختلاط کا تقاضا کرتی ہے۔

اور آدمی کہتا ہے:

◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”
حالانکہ سامان اس کے گھر میں رکھا ہوتا ہے۔

اور اگر وہ سامان اٹھائے ہوئے ہو تو بھی یہی کہتا ہے:

◈ (متاعي معي)
“میرا سامان میرے ساتھ ہے۔”

اس صورت میں سامان اس کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔

پس یہ ایک ہی لفظ ہے، مگر اضافت کے بدلنے سے اس کے معانی بھی بدل جاتے ہیں۔

📕 باطل لوازمات

یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، کئی باطل لوازمات کو لازم کرتا ہے:

➊ تعدد یا اجزا لازم آئیں گے۔
یہ لازم بلا شبہ باطل ہے، اور لازم کا بطلان، ملزوم کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔

➋ جب آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کئی جگہوں میں لوگوں کے ساتھ ہے، تو لازم آئے گا کہ لوگوں کی زیادتی سے وہ زیادہ اور کمی سے کم ہو جائے۔

➌ اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کو ناپاک اور گندگی والی جگہوں سے پاک نہیں سمجھتے، کیونکہ جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، تو بیت الخلا اور گندگی کے ڈھیر بھی “ہر جگہ” میں داخل ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے خلاف نہایت سنگین بات ہے۔

لہٰذا یہ نظریہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔
قرآن و سنت سے کسی طور بھی اس کے لیے کوئی دلیل مترشح نہیں ہو سکتی، نہ مطابقتی، نہ تضمنی اور نہ التزامی۔

📒 باری تعالیٰ کے لیے جہت کا اثبات

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت ثابت نہیں کی جا سکتی۔
ان کا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو جہت کے ساتھ موصوف کیا جائے تو اس سے جسم لازم آئے گا، اور چونکہ ان کے نزدیک تمام اجسام ایک جیسے ہیں، اس لیے اس سے تمثیل لازم آئے گی۔ اسی بنا پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جہت کا انکار کر دیا۔

ہم کہتے ہیں کہ جہت کی نفی سے تو اللہ تعالیٰ کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ ہم عدم کے سوا کسی ایسی چیز کو نہیں جانتے جو:

نہ کائنات کے اوپر ہو،
نہ نیچے،
نہ دائیں،
نہ بائیں،
نہ آگے،
نہ پیچھے،
نہ متصل،
نہ منفصل۔

اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ اگر ہمیں کہا جائے کہ عدم کو الفاظ میں بیان کرو، تو اس کے لیے جہت کی نفی سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ملیں گے۔

باقی یہ اعتراض کہ جہت کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، تو یہ باطل ہے؛ کیونکہ یہ اعتراض تب درست ہو جب ہم خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت و مشابہت ثابت کریں۔

حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے ہی ثابت کرتے ہیں جیسے اس کی شان اور عظمت کے لائق ہیں۔
نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔

اگر جسم سے آپ کی مراد وہ چیز ہے جو مختلف اجزا سے مل کر بنی ہو اور ان اجزا کے بغیر قائم نہ رہ سکتی ہو، تو ہم بھی ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت نہیں کرتے۔

لہٰذا جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علو کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔

یہ دراصل سلفِ صالحین پر بے اعتمادی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانتے تھے۔
پس سلف پر بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراض کرنے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔

2 📘 اللہ کی صفتِ علو قرآن کی روشنی میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے کا واضح بیان موجود ہے، اور اس کے لیے وہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو علو و بلندی پر دلالت کرتے ہیں۔

➊ ”مِن“ (جانب / اوپر) کے ساتھ بلندی کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ﴾
”وہ اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے ہیں۔“
📖 النحل: 50

➋ ایسے الفاظ کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کے اوپر ہونے کا بیان
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ﴾
”اور وہ اپنے بندوں کے اوپر غالب و حاکم ہے۔“
📖 الأنعام: 18، 61

➌ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتوں کے چڑھنے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ﴾
”فرشتے اور روح الامین (جبریل علیہ السلام) اس کی طرف چڑھتے ہیں۔“
📖 المعارج: 4

نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”وہ فرشتے (آسمان کی طرف) چڑھتے ہیں جنہوں نے تمہارے اندر رات گزاری ہوتی ہے، پھر اللہ ان سے پوچھتا ہے...“
📖 صحیح البخاری: 7429
📖 صحیح مسلم: 623

➍ اللہ تعالیٰ کی طرف اعمال کے چڑھنے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ﴾
”اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں۔“
📖 فاطر: 10

➎ اپنی بعض مخلوق کو اپنی طرف اٹھانے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ﴾
”بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔“
📖 النساء: 158

نیز فرمایا:

﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ﴾
”بے شک میں آپ کو پورا پورا لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“
📖 آل عمران: 55

➏ مطلق بلندی کا تذکرہ
یہ ایسی بلندی ہے جو ذات، قدر، شرف اور تمام مراتبِ علو کو شامل ہے:

﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾
”اور وہ بلند اور عظیم ہے۔“
📖 البقرة: 255

﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾
”اور وہ بلند اور بڑا ہے۔“
📖 سبأ: 23

﴿إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾
”بے شک وہ بلند، حکمت والا ہے۔“
📖 الشورى: 51

➐ کتاب کے اوپر سے نازل ہونے کی صراحت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾
”کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز و علیم کی طرف سے ہے۔“
📖 غافر: 2

﴿تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
”کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز و حکیم کی طرف سے ہے۔“
📖 الزمر: 1

﴿تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾
”یہ رحمن و رحیم ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“
📖 فصلت: 2

﴿تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴾
”یہ حکمت والے، خوبیوں والے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“
📖 فصلت: 42

﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ﴾
”کہہ دیجیے کہ اسے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے۔“
📖 النحل: 102

اور فرمایا:

﴿حم ۝ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝ أَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴾
”حم۔ قسم ہے روشن کتاب کی! بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا، یقیناً ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہماری طرف سے حکم ہوتا ہے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔“
📖 الدخان: 1-5

➑ بعض مخلوقات کو اپنے قرب سے خاص کرنے کی صراحت
اور یہ بھی کہ بعض مخلوقات دوسری مخلوقات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں:

﴿إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾
”بے شک وہ مخلوق جو آپ کے رب کے پاس ہے، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتی۔“
📖 الأعراف: 206

﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾
”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور جو مخلوق اس کے پاس ہے وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتی۔“
📖 الأنبياء: 19

📌 خلاصہ
قرآنِ مجید کی یہ تمام آیات اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بلند ہے، اپنے عرش پر مستوی ہے، اور اپنی تمام مخلوقات سے اوپر ہے، جبکہ اس کا علم، سمع، بصر اور قدرت ہر چیز کو محیط ہے۔

3 📘 اللہ کی صفتِ علو صحیح احادیث کی روشنی میں

نبی ﷺ نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے لکھی ہے:

«إِنَّهَا عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ»
”وہ عرش کے اوپر، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔“
📖 صحیح البخاری: 7553
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7553/

📖 صحیح مسلم: 2751
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2751/

📗 اللہ تعالیٰ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کی وضاحت

اس بات کی تصریح کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہے، اہلِ سنت کے مفسرین کے ہاں اس کی دو معروف تفسیریں ہیں، اور اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں:

➊ پہلی تفسیر:
کلمہ ”في“، ”على“ کے معنی میں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر، عرش پر ہے۔

➋ دوسری تفسیر:
کلمہ ”السماء“ سے مراد علو و بلندی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بلندی میں ہے۔

اسے ان دو معانی کے علاوہ کسی اور معنی پر محمول کرنا جائز نہیں۔

📙 خاص عرش پر مستوی ہونے کی تصریح

کلمہ ”على“ کے ساتھ یہ تصریح بھی آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر عرش پر مستوی ہے، اور عرش تمام مخلوقات سے بلند ترین مخلوق ہے۔

📕 اللہ تعالیٰ کی طرف ہاتھ اٹھانے کی تصریح

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا»
”جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو حیا آتی ہے کہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔“
📖 مسند البزار: 2510
📖 المعجم الكبير للطبراني: 8130
📖 المستدرك للحاكم: 1/535
📌 اسے ابنِ حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

📒 نزولِ الٰہی کی حدیث

یہ بھی صریح احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔

تمام لوگوں کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ نزول اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے۔

📗 حجۃ الوداع میں آسمان کی طرف اشارہ

نبی اکرم ﷺ، جو اپنے رب کی ذات و صفات کو سب سے زیادہ جانتے تھے، انہوں نے سب سے بڑے مجمع، عظیم دن اور عظیم مقام یعنی حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:

«أَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟»
”تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گے؟“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

«نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ، وَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ»
”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔“

اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا:

”اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ“
”اے اللہ! گواہ رہ۔“
📖 صحیح مسلم: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

📘 نبی ﷺ کا سوال: اللہ کہاں ہے؟

نبی اکرم ﷺ، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جانتے تھے، اپنی امت کے لیے سب سے بڑھ کر خیر خواہ تھے، اور حق بات کو سب سے زیادہ فصاحت کے ساتھ بیان فرمانے والے تھے، ان کا کئی مرتبہ یہ سوال کرنا:

«أَيْنَ اللَّهُ؟»
”اللہ کہاں ہے؟“

یہ بھی اس باب میں واضح دلیل ہے۔

اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر ماننے والی لونڈی کے بارے میں گواہی دی کہ:

وہ مومنہ ہے۔
📖 صحیح مسلم: 537
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/

📙 موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ

قرآنِ مجید میں مذکور ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے، تو فرعون نے آسمان کی طرف چڑھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے معبود کے بارے میں جھانک سکے، پھر آپ کو جھوٹا ثابت کرے۔

چنانچہ اس نے کہا:

﴿يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ ۝ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا﴾
”اے ہامان! میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا، تاکہ میں آسمانوں کے راستوں تک پہنچ جاؤں، پھر موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں، اور بے شک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔“
📖 المؤمن: 36-37

📕 واقعۂ معراج

نبی کریم ﷺ شبِ معراج میں بار بار موسیٰ علیہ السلام اور اپنے رب کے درمیان آتے جاتے رہے۔
آپ ﷺ اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے، پھر نیچے موسیٰ علیہ السلام کی طرف آتے۔
📖 صحیح البخاری: 3207
📖 صحیح مسلم: 162

📗 اہلِ جنت کے لیے دیدارِ الٰہی

کتاب و سنت میں اہلِ جنت کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا ثبوت موجود ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ جنت اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جیسے سورج اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں، جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ اوپر ہی دیکھیں گے۔

ایک روایت میں ہے:

«بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ، إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الْجَبَّارُ جَلَّ جَلَالُهُ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، وَقَالَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ...»

”اہلِ جنت اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اٹھائیں گے، تو دیکھیں گے کہ اللہ جل جلالہ ان کے اوپر سے ان پر جلوہ فرما ہے، اور فرمائے گا: اے اہلِ جنت! تم پر سلام ہو۔“

پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ﴾
”نہایت مہربان رب کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔“
📖 يس: 58

پھر اللہ تعالیٰ ان سے اوجھل ہو جائے گا، مگر اس کی رحمت اور برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔

📖 سنن ابن ماجه: 184
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/184/

📖 مسند البزار: 2253
📌 اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں فضل بن عیسیٰ الرقاشی ہے، جو منکر الحدیث ہے۔

📒 اہلِ سنت اور جہمیہ کا اختلاف

اللہ تعالیٰ کی صفتِ فوقیت یعنی اوپر ہونے کا انکار دراصل اسی وقت ممکن ہے جب رویتِ باری تعالیٰ کا بھی انکار کیا جائے۔
اسی لیے جہمیہ نے ان دونوں صفات کا انکار کیا، جبکہ اہلِ سنت نے دونوں کا اقرار اور دونوں کی تصدیق کی ہے۔

جس نے رویت کی نفی کی اور علو کا بھی انکار کیا، وہ تذبذب کا شکار ہو گیا؛ نہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔

4 📘 اللہ کی صفتِ علو پر دلالت کرنے والی حدیثِ جاریہ اور اس پر سلف کا فہم

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

«كانت لي جارية ترعى غنما لي قبل أحد والجوابية، فاطلعت ذات يوم، فإذا الذئب قد ذهب بشاة عن غنمها، وأنا رجل من بني آدم آسف كما يأسفون، لكني صككتها صكة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعظم ذلك علي، قلت: يا رسول الله! أفلا أعتقها؟ قال: ائتني بها، فأتيته بها، فقال لها: أين الله؟ قالت: في السماء، قال: من أنا؟ قالت: أنت رسول الله، قال: أعتقها، فإنها مؤمنة.»

’’میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوّابیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا ریوڑ میں سے ایک بکری لے گیا۔ میں بھی آدم زاد تھا، سو مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوا جیسے دوسروں کو ہوتا ہے، لیکن میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس بات کو مجھ پر بہت گراں سمجھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ میں اسے آپ کے پاس لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں کے اوپر۔ فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔‘‘

📖 (صحیح مسلم: 537)

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/

✦ یہ حدیث نصِ صریح ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔

◈ امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھ) لکھتے ہیں:

«هذا يدل على أن الله تعالى على عرشه فوق السماء.»

’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے۔‘‘

📖 (الإبانة في أصول الديانة، ص 109)

◈ امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ (463ھ) لکھتے ہیں:

«معاني هذا الحديث واضحة يستغني عن الكلام فيها، وأما قوله: أين الله؟ فقالت: في السماء، فعلى هذا أهل الحق.»

’’اس حدیث کا مفہوم بالکل واضح ہے، جس پر مزید کلام کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال: اللہ کہاں ہے؟ اور لونڈی کا جواب: آسمانوں کے اوپر ہے، تو اہلِ حق کا یہی عقیدہ ہے۔‘‘

📖 (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 22/80)

◈ امام عثمان بن سعید دارمی رحمۃ اللہ علیہ (280ھ) لکھتے ہیں:

«قول رسول الله: إنها مؤمنة، دليل على أنها لو لم تؤمن بأن الله في السماء لم تكن مؤمنة، وأنه لا يجوز في الرقبة المؤمنة إلا من يحد الله أنه في السماء، كما قال الله ورسوله.»

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے مومنہ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ اس بات پر ایمان نہ رکھتی کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے تو وہ مومنہ نہ ہوتی۔ نیز مومن گردن کی آزادی میں وہی غلام یا لونڈی کافی ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر تسلیم کرے۔‘‘

📖 (نقض الإمام الدارمي على بشر المريسي: 1/226)

◈ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (748ھ) لکھتے ہیں:

«هكذا رأينا في كل من يسأل: أين الله؟ يبادر بفطرته ويقول: في السماء، في الخبر مسألتان: إحداهما: شرعية قول المسلم: أين الله؟ وثانيهما: قول المسؤول: في السماء، فمن أنكر هاتين المسألتين، فإنما ينكر على المصطفى صلى الله عليه وسلم.»

’’جس سے بھی پوچھا جائے کہ اللہ کہاں ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق فوراً یہی کہتا ہے: آسمانوں میں ہے۔ اس حدیث میں دو مسئلے ہیں:
➊ ایک یہ کہ مسلمان کے لیے یہ پوچھنا مشروع ہے کہ اللہ کہاں ہے؟
➋ دوسرا یہ کہ جس سے سوال کیا جائے، اس کا یہ کہنا بھی مشروع ہے کہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔
پس جو شخص ان دو باتوں کا انکار کرتا ہے، وہ دراصل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار کرتا ہے۔‘‘

📖 (العلو، ص 26)

5 📘 اللہ کی صفت علو کے اثبات پر صحیح احادیث

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ﴾

’’رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ فجر اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں، پھر رات کو تمہارے ساتھ رہنے والے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اللہ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہوتا ہے: میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز میں مشغول تھے، اور جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے تو تب بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7429، صحیح مسلم: 632
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7429/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/632/

امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:

﴿ فِي الْخَبَرِ مَا بَانَ وَثَبَتَ وَصَحَّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاءِ، وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَصْعَدُ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا، لَا كَمَا زَعَمَتِ الْجَهْمِيَّةُ الْمُعَطِّلَةُ أَنَّ اللَّهَ فِي الدُّنْيَا كَهُوَ فِي السَّمَاءِ، وَلَوْ كَانَ كَمَا زَعَمَتْ لَتَقَدَّمَتِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَوْ نَزَلَتْ إِلَى أَسْفَلِ الْأَرَضِينَ إِلَى خَالِقِهِمْ، عَلَى الْجَهْمِيَّةِ لَعَائِنُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ ﴾

’’یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اللہ عزوجل آسمان کے اوپر ہے اور فرشتے دنیا سے اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ جہمیہ معطلہ کا یہ کہنا باطل ہے کہ اللہ زمین میں بھی اسی طرح ہے جیسے آسمان میں ہے۔ اگر معاملہ ویسا ہی ہوتا جیسا جہمیہ کہتے ہیں، تو فرشتے زمین میں اللہ کے پاس جاتے یا نیچے زمینوں کی طرف اترتے، اوپر نہ چڑھتے۔ جہمیہ پر اللہ تعالیٰ کی مسلسل لعنتیں ہوں!‘‘

📖 کتاب التوحید لابن خزیمہ: 2/892

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ﴾

’’رحمٰن انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم کرتے ہیں۔ تم اہلِ زمین پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔‘‘

📖 مسند الحمیدی: 591، مسند الإمام أحمد: 2/160، سنن أبي داود: 4941، سنن الترمذي: 1924
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4941/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1924/

✦ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح‘‘ اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/159) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
✦ اس کا راوی ابو قابوس ’’حسن الحدیث‘‘ ہے۔ امام ترمذی، امام ابن حبان رحمہما اللہ اور دیگر اہلِ علم نے اس کی توثیق کی ہے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روز خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا:

﴿ أَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ﴾

’’جب تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے دین پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی، پھر لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ۔‘‘

📖 صحیح مسلم: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ﴾

’’جو شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ چیز ہی چڑھتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے، پھر اسے اس کے لیے بڑھاتا اور پروان چڑھاتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7430، صحیح مسلم: 1014
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7430/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1014/

6 📘 اللہ کی صفتِ علو سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

① سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

﴿ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ فِي السَّمَاءِ حَيٌّ، لَا يَمُوتُ ﴾

’’جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، تو بے شک اللہ آسمان میں زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘

📖 التاريخ الكبير للبخاري: 1/202، مسند البزار: 103، الرد على المريسي للدارمي: 1/518-519
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ ﴾

’’اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے علی بن منذر کے، اور وہ ثقہ ہیں۔‘‘

📖 مجمع الزوائد: 8/332

✦ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
📖 کتاب العرش: 2/159

② سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

﴿ وَيْلٌ لِدَيَّانِ الْأَرْضِ مِنْ دَيَّانِ السَّمَاءِ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ، إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِالْعَدْلِ، فَقَضَى بِالْحَقِّ، وَلَمْ يَقْضِ عَلَى هَوًى، وَلَا عَلَى قَرَابَةٍ، وَلَا عَلَى رَغْبَةٍ، وَلَا حُبٍّ، وَجَعَلَ كِتَابَ اللَّهِ مِرْآةً بَيْنَ عَيْنَيْهِ ﴾

’’قیامت کے دن زمین کے قاضی کے لیے آسمان کے قاضی کی طرف سے ہلاکت ہے، سوائے اس شخص کے جو عدل کا حکم دے، حق کے مطابق فیصلہ کرے، خواہشِ نفس، قرابت داری، رغبت یا محبت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے، بلکہ کتاب اللہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے۔‘‘

📖 الرد على المريسي للدارمي: 1/515-516، العلو للذهبي: ص 78
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

③ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿ مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى أُخْرَى مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِلَى الْكُرْسِيِّ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ إِلَى الْمَاءِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَاللَّهُ عَلَى الْعَرْشِ، وَيَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ ﴾

’’ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ زمین اور آسمانِ دنیا کے درمیان بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان سے کرسی تک پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور کرسی سے پانی تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ عرش پانی پر ہے، اور اللہ عرش پر ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔‘‘

📖 كتاب التوحيد لابن خزيمة: 1/242-243، ح 149، الرد على الجهمية للدارمي: 81، الرد على المريسي للدارمي: 1/422، المعجم الكبير للطبراني: 9/202، العظمة لأبي الشيخ: 2/888-889، التمهيد لابن عبد البر: 7/139، الأسماء والصفات للبيهقي: 851
📌 اس کی سند حسن ہے۔

④ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

﴿ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ ﴾

’’اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی ہے۔‘‘

📖 مسند الإمام أحمد: 1/276، ح 349، الرد على الجهمية للدارمي: ص 57، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/8
📌 اس کی سند حسن ہے۔

7 📘 اللہ کی صفتِ علو سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

⑤ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

﴿ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ أَصْحَابٌ لَهُ، وَوُضِعَتْ سُفْرَةٌ لَهُ، فَمَرَّ بِهِمْ رَاعِي غَنَمٍ، قَالَ: فَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هَلُمَّ يَا رَاعِي، هَلُمَّ، فَأَصِبْ مِنْ هَذِهِ السُّفْرَةِ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَتَصُومُ فِي مِثْلِ هٰذَا الْيَوْمِ الْحَارِّ شَدِيدِ سَمُومِهِ وَأَنْتَ فِي هٰذِهِ الْجِبَالِ تَرْعَى هٰذَا الْغَنَمَ؟ فَقَالَ لَهُ: أَيْ وَاللّٰهِ أُبَادِرُ أَيَّامِي الْخَالِيَةَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْتَبِرَ وَرَعَهُ: فَهَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنَا شَاةً مِنْ غَنَمِكَ هٰذِهِ فَنُعْطِيَكَ ثَمَنَهَا وَنُعْطِيَكَ مِنْ لَحْمِهَا فَتُفْطِرَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِي بِغَنَمٍ، إِنَّهَا غَنَمُ سَيِّدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا عَسَى سَيِّدُكَ فَاعِلًا إِذَا فَقَدَهَا، فَقُلْتَ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَوَلَّى الرَّاعِي عَنْهُ وَهُوَ رَافِعٌ أُصْبُعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: أَيْنَ اللّٰهُ؟ قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يُرَدِّدُ قَوْلَ الرَّاعِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ الرَّاعِي: فَأَيْنَ اللّٰهُ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَ إِلَى مَوْلَاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ الْغَنَمَ وَالرَّاعِيَ، فَأَعْتَقَ الرَّاعِيَ، وَوَهَبَ لَهُ الْغَنَمَ ﴾

’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کے مضافات میں تشریف لے گئے۔ ساتھیوں نے دسترخوان بچھایا۔ وہاں سے بکریوں کے ایک چرواہے کا گزر ہوا، اس نے سلام کیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جوابِ سلام کے بعد فرمایا: آئیے اے چرواہے! آئیے، اس دسترخوان سے کچھ کھائیے۔
اس نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔
آپ نے فرمایا: اتنے سخت گرم اور لو والے دن روزہ، جبکہ تم ان پہاڑوں میں بکریاں چرا رہے ہو؟
اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے خالی دنوں کے لیے جلدی کر رہا ہوں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے تقویٰ و ورع کو جانچنے کے لیے فرمایا: کیا تم اپنی ان بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچ سکتے ہو؟ ہم تمہیں اس کی قیمت بھی دے دیں گے اور اس کے گوشت میں سے تمہیں بھی دیں گے تاکہ تم اس سے افطار کر لو۔
چرواہے نے کہا: یہ بکریاں میری نہیں، یہ تو میرے مالک کی ہیں۔
آپ نے فرمایا: پھر تمہارے مالک کا کیا بگڑے گا اگر تم کہہ دو کہ اسے بھیڑیا کھا گیا؟
یہ سن کر چرواہا انگلی آسمان کی طرف اٹھاتا ہوا واپس مڑ گیا اور کہنے لگا: فَأَيْنَ اللّٰهُ؟ یعنی پھر اللہ کہاں ہے؟
امام نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بار بار چرواہے کی یہی بات دہراتے رہے: چرواہا کہتا تھا: پھر اللہ کہاں ہے؟
پھر جب آپ مدینہ واپس آئے تو اس چرواہے کے مالک کو بلایا، اس سے وہ چرواہا اور بکریاں خرید لیں، پھر چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں اسے ہبہ کر دیں۔‘‘

📖 شعب الإيمان للبيهقي: 4908
📌 اس کی سند حسن ہے۔

⑥ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

﴿ بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَخِيهِ: اعْلَمْ لِي عِلْمَ هٰذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ ﴾

’’سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا: اس شخص کے حالات معلوم کرو جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 3522، صحیح مسلم: 2474

⑦ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿ وَأَيْمُ اللّٰهِ، إِنِّي لَأَخْشَى لَوْ كُنْتُ أُحِبُّ قَتْلَهُ لَقُتِلْتُ، تَعْنِي عُثْمَانَ، وَلٰكِنْ عَلِمَ اللّٰهُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ أَنِّي لَمْ أُحِبَّ قَتْلَهُ ﴾

’’اللہ کی قسم! مجھے خوف ہے کہ اگر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کو پسند کرتی تو میں بھی ماری جاتی، لیکن عرش کے اوپر سے اللہ جانتا ہے کہ میں ان کے قتل کو پسند نہیں کرتی تھی۔‘‘

📖 الرد على الجهمية للدارمي: 83
📌 اس کی سند صحیح ہے۔

⑧ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلٰكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا ﴾

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آئیے، ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے چلتے ہیں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔
جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔
شیخین نے فرمایا: آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ اللہ کے پاس اس کے رسول کے لیے بہتر اجر و خیر ہے۔
انہوں نے فرمایا: میں اس لیے نہیں رو رہی کہ مجھے یہ علم نہیں کہ اللہ کے پاس اس کے رسول کے لیے بہتر چیز ہے، بلکہ میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
یہ سن کر انہوں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی رلا دیا، پھر وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔‘‘

📖 صحیح مسلم: 2454

⑨ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَقُولُ: إِنَّ اللّٰهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ ﴾

’’ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 7421