واٹساپ دعوتی مواد › عیدمیلاد

عیدمیلاد

9 پیغامات

1 📘 عید میلاد

عید میلاد کا قرآن و حدیث اور اجماعِ امت میں کوئی ثبوت نہیں۔ اگر اس کی کوئی دلیل ہوتی تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلفِ صالحین رحمہم اللہ کو اس کا علم ہوتا اور وہ ضرور اس پر عمل کرتے۔

◈ علامہ فاکہانی رحمہ اللہ (م: 734ھ) فرماتے ہیں:

إن عمل المولد بدعة مذمومة .

”عید میلاد مذموم بدعت ہے۔“

📖 الحاوي للفتاوي للسيوطي: 190/1، 24

◈ نیز فرماتے ہیں:

لا أعلم لهذا المولد أصلا فى كتاب ولا سنة، ولا ينقل عمله عن أحد من علماء الأمة الذين هم القدوة فى الدين المتمسكون بآثار المتقدمين، بل هو بدعة أحدثها البطالون وشهوة نفس اعتنى بها الأكالون .

”مجھے کتاب و سنت میں میلاد کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ یہ عمل ہمارے پیشوا اور فہمِ سلف کے امین علماء سے منقول نہیں ہے، بلکہ یہ بدعت ہے۔ اسے باطل پرستوں نے ایجاد کیا ہے۔ یہ نفسانی خواہش کا نتیجہ ہے، جسے شکم پرور لوگوں نے گھیر لیا ہے۔“

📖 الحاوي للسيوطي: 190/1–191

◈ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م: 790ھ) نے بھی عید میلاد کو بدعت قرار دیا ہے۔

📖 الاعتصام: 39/1

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م: 852ھ) فرماتے ہیں:

أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة .

”میلاد کی اصل بدعت ہے۔ یہ عمل تین مشہود لہا بالخیر زمانوں کے سلفِ صالحین رحمہم اللہ میں سے کسی سے منقول نہیں۔“

📖 الحاوي للفتاوي للسيوطي: 196/1

◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ (م: 902ھ) لکھتے ہیں:

لم يفعله أحد من القرون الثلاثة، إنما حدث بعد .

”یہ کام تینوں زمانوں، یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور تبع تابعین رحمہم اللہ میں سے کسی نے نہیں کیا۔ یہ تو بعد میں ایجاد ہوا۔“

📖 جاء الحق از نعیمی: 1/236

◈ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (م: 911ھ) فرماتے ہیں:

أول من أحدث فعل ذلك صاحب إربل الملك المظفر أبو سعيد كوكبري بن زين الدين على بن بكتكين .

”سب سے پہلے (موصل میں) جس نے اسے ایجاد کیا، وہ اربل کا بادشاہ مظفر ابوسعید کوکبری بن زین الدین علی بن بکتکین تھا۔“

📖 الحاوي للفتاوي: 189/1، 24

➤ اہلِ علم کی ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ عید میلاد سلفِ صالحین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں، بلکہ بعد کی ایجاد ہے۔

2 📘 عید میلاد کی شرعی حیثیت

کتاب و سنت میں عید میلاد النبی ﷺ کی کوئی اصل نہیں ملتی۔ اس کی ابتدا چوتھی صدی ہجری میں ہوئی، اور سب سے پہلے مصر میں فاطمی شیعوں نے اسے منایا۔

📖 الخطط للمقریزی: 1/490

اپنے نبی کے میلاد کو منانے والی یہ بدعت پہلے عیسائیوں میں شروع ہوئی، پھر مسلمانوں میں بھی در آئی۔ مروجہ عید میلاد النبی ﷺ، عید میلادِ عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہے اور بدعتِ سیئہ ہے، جبکہ کفار کی مشابہت اور ان کی رسومات پر عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں، بلکہ خیر القرون کے تینوں زمانوں میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ یہ بعد کی ایجاد ہے۔

◈ مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب نقل کرتے ہیں:

لم يفعله أحد من القرون الثلاثة، إنما حدث بعد.

”میلاد شریف قرونِ ثلاثہ میں کسی نے نہ کیا، بلکہ بعد میں ایجاد ہوا۔“

📖 جاء الحق: 1/236

◈ جناب غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:

”سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں، بجا ہے۔“

📖 شرح صحیح مسلم: 3/179

◈ جناب عبد السمیع رامپوری صاحب لکھتے ہیں:

”یہ سامانِ فرحت و سرور، اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ، اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوا، یعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔“

📖 انوار ساطعہ: 159

◈ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (م: 795ھ) رقم طراز ہیں:

أما ما اتفق السلف على تركه، فلا يجوز العمل به، لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به.

”جس کام کے چھوڑنے پر سلف کا اتفاق ہو، اسے کرنا جائز نہیں۔ انہیں یہ علم تھا کہ یہ قابلِ عمل نہیں، اس لیے اسے چھوڑ دیا۔“

📖 فضل علم السلف، ص: 31

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بقول بدعت کی نشانی یہ ہے کہ اس پر عمل کرنے کے لیے متشابہات کو بطورِ دلائل پیش کیا جاتا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ کی بات کسی نبّاض کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔

ملاحظہ کیجیے:

━━━━━━━━━━━━━━
🔹 شبہ نمبر 1
━━━━━━━━━━━━━━

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا﴾

”کہہ دیجیے! اللہ کے فضل و رحمت کی بنا پر خوش ہو جائیں۔“

📖 سورۃ یونس: 58

اس کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے:

”اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی مناؤ۔“

لیکن لغتِ عرب اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتی۔ تفصیل یہ ہے:

فَرِحَ کا معنی خوش ہونا یا خوشی محسوس کرنا ہوتا ہے، نہ کہ خوشی منانا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ﴾

”غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے (منافقین) خوش ہوئے۔“

📖 سورۃ التوبہ: 81

کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے جشن منایا تھا؟

اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ جب سورۃ البقرہ کی آیت 187 نازل ہوئی:

ففرحوا بها فرحا شديدا.

”اس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے۔“

📖 صحیح البخاری: 1915

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/1915/

کیا اس کا معنی یہ کیا جا سکتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جشن منایا، یعنی عیدِ نزولِ آیت؟

3 📘 اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: ما هذان اليومان؟ قالوا: كنا نلعب فيهما فى الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله قد أبدلكم بهما خيرا منهما يوم الأضحى، ويوم الفطر.

”رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ اہلِ مدینہ نے دو دن مقرر کیے ہوئے تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہم زمانۂ جاہلیت سے ہی ان دو دنوں میں کھیل کود کرتے چلے آ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔“

📖 سنن ابی داود: 1134، سنن النسائی: 1556 — سند صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1134/

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/1556/

اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ 1/294 نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

📖 بلوغ المرام من أدلة الأحكام: 497

مسند احمد 3/250 میں حمید الطویل نے سماع کی تصریح کی ہے۔

➤ بطورِ تہوار اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں۔ تیسری عید کا کوئی تصور نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدِ غدیرِ خم
━━━━━━━━━━━━━━

شیعہ عیدِ غدیرِ خم مناتے ہیں۔ اس دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ:

”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔“

یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اعزاز ہے۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سب مسلمانوں کے ہیں، صرف شیعہ کے تو نہیں۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ اس دن ایک بہت بڑی عید کا اہتمام کریں، کیونکہ اگر خوشی کے موقع پر عید منانا قرآنی حکم ہے تو یہ موقع بھی خوشی کا ہے؟

لیکن جو احباب عید میلاد پر ”خوشی والی آیت“ کو دلیل بناتے ہیں، وہ اسی خوشی والی آیت سے ثابت کی جانے والی عیدِ غدیرِ خم کو بدعت کہتے ہیں۔

❓ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس اعزاز پر انہیں خوشی نہیں؟

یا پھر ان کا استدلال ہی خطا ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدِ میلادِ عیسیٰ علیہ السلام
━━━━━━━━━━━━━━

عیسائی لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے میلاد کے قائل ہیں۔ وہ ان کے دنیا میں آنے کی خوشی میں جشن مناتے ہیں اور اسے عید قرار دیتے ہیں۔

لیکن مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ہمیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں آمد کی خوشی عیسائیوں سے زیادہ ہے، اور آج بھی مسلمان ان کے دوبارہ نزول کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ان کے ایمان کا جزوِ لازم ہے۔

تو کیا اس بنیاد پر ان کا یومِ ولادت بھی بطورِ عید منانا چاہیے؟

کیا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے؟

اگر یہ خوشی کا اظہار ہے تو کیا ہم بھی خوشی کے اظہار کے لیے عیدِ میلادِ عیسیٰ علیہ السلام منائیں؟

نیز:

”سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی خوشیاں منا رہے ہیں“

کا نعرہ یہاں بھی بلند کیا جائے؟

کیا لوگوں سے یہ کہا جائے کہ:

”آپ کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں آنے کی خوشی نہیں، اسی لیے آپ ان کا یومِ ولادت نہیں مناتے، لہٰذا آپ گستاخِ عیسیٰ نبی اللہ ہیں؟“

━━━━━━━━━━━━━━
📌 عید المائدہ یا عید العشاء
━━━━━━━━━━━━━━

◈ مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب لکھتے ہیں:

عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی:

﴿رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾

”اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان نازل فرما، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، اور ہمیں رزق عطا فرما، اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔“

📖 سورۃ المائدہ: 114

مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب لکھتے ہیں:

”معلوم ہوا کہ مائدہ آنے کے دن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے عید کا دن بنایا۔“

📖 جاء الحق: 1/231

➤ عیدیں ہر شریعت کی اپنی ہوتی ہیں۔ ہمیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ دی گئی ہیں۔

ورنہ جس دن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عید منائی، اس دن آپ عید کیوں نہیں مناتے؟

❓ کیا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خوشی میں شریک نہیں؟

اگر شریک ہیں، اور یقیناً ہیں، تو اس ”کارِ خیر“ سے پیچھے رہ جانے کا کیا جواز ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدُ الاُم — مدر ڈے
━━━━━━━━━━━━━━

اہلِ یورپ مدر ڈے مناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دن ماں جیسی انمول نعمت کے نام ہونا چاہیے۔

حالانکہ ہمارے معاشرے میں ماں کو جو تقدس اور احترام حاصل ہے، اہلِ یورپ کے ہاں تو اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔

تو ہم لوگ ماں کے نام سے عید کیوں نہیں بنا لیتے؟

❓ کیا ہمیں ماں سے محبت نہیں؟

❓ یا ہم ماں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں سمجھتے؟

آخر میں عرض ہے کہ کسی روز وقت نکال کر ان اشیاء کی فہرست بھی پیش کر دیجیے جنہیں آپ خدا کی نعمتیں جانتے ہیں، اور ان کی عیدوں کا شیڈول بھی سامنے لے آئیے، تاکہ آپ کے اس دعوے پر عمل ہو سکے کہ:

”کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز ہے، نیز جس دن اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو، اس دن کو عید منانا جائز ہے۔“

گستاخی معاف، مگر سوال یہ ہے:

❓ عید میلاد کا ذکر فقہِ حنفیہ میں کیوں نہیں ملتا؟

━━━━━━━━━━━━━━
📚 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف
━━━━━━━━━━━━━━

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:

أما اتخاذ موسم غير المواسم الشرعية كبعض ليالي شهر ربيع الأول التى يقال: إنها ليلة المولد، أو بعض ليالي رجب، أو ثامن عشر ذي الحجة، أو أول جمعة من رجب، أو ثامن شوال الذى يسميه الجهال: عيد الأبرار، فإنها من البدع التى لم يستحبها السلف ولم يفعلوها، والله سبحانه وتعالى أعلم.

”شریعت کی مقرر کردہ عیدوں کے علاوہ دوسری عیدیں، مثلاً ربیع الاول میں عید میلاد، رجب کی بعض راتیں، اٹھارہ ذی الحجہ، رجب کا پہلا جمعہ، یا آٹھ شوال کی عید، جسے جاہل لوگ عید الابرار کا نام دیتے ہیں، اس لیے بدعت ہیں کہ سلف رحمہم اللہ نے نہ انہیں منایا اور نہ انہیں مستحب سمجھا۔“

واللہ اعلم

📖 الفتاویٰ الکبریٰ: 4/414

📖 مجموع الفتاویٰ: 25/298

4 🔹 شبہ نمبر 2 ◈ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على حلقة يعني من أصحابه فقال: ما أجلسكم؟ قالوا: جلسنا ندعو الله ونحمده على ما هدانا لدينه، ومن علينا بك، قال: الله ما أجلسكم إلا ذلك؟ قالوا: الله ما أجلسنا إلا ذلك، قال: أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، وإنما أتاني جبريل عليه السلام فأخبرني أن الله عز وجل يباهي بكم الملائكة.

”نبی کریم ﷺ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک حلقے میں تشریف لائے اور فرمایا: تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کی حمد و تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت عطا فرمائی اور آپ ﷺ کی صورت میں ہم پر احسان فرمایا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟

انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم سے یہ قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں لی، بلکہ ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرماتا ہے۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 4/92، سنن النسائی: 5428، سنن الترمذی: 3379 — سند حسن

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/5428/

🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3379/

➤ اس حدیث سے مروجہ جشنِ عید میلاد کے جواز پر استدلال درست نہیں۔

کسی ثقہ امام نے اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت نہیں کیا۔ اس حدیث سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا وہ حلقہ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر اس کی حمد و تعریف بیان کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا، نہ کہ نبی کریم ﷺ کے یومِ ولادت پر جشن منا رہا تھا۔

مزید یہ کہ متعدد علماء نے اس جشن کو بدعتِ مذمومہ قرار دیا ہے۔

➤ مطلب یہ کہ عید میلاد عہدِ صحابہ میں موجود نہیں تھی۔

📖 المدخل: 2/229، 234

📖 الحاوی للفتاویٰ: 1/190–191

━━━━━━━━━━━━━━
🔹 شبہ نمبر 3
━━━━━━━━━━━━━━

◈ مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب لکھتے ہیں:

﴿رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا﴾

”عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ معلوم ہوا کہ مائدہ آنے کے دن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے عید کا دن بنایا۔“

📖 سورۃ المائدہ: 114

📖 جاء الحق: 1/231

➤ عیدیں ہر شریعت کی اپنی ہوتی ہیں۔ ہمیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ دی گئی ہیں۔

ورنہ جس دن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عید منائی، اس دن آپ عید کیوں نہیں مناتے؟

❓ کیا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خوشی میں شریک نہیں؟

اگر شریک ہیں، اور یقیناً ہیں، تو پھر اس ”کارِ خیر“ سے پیچھے رہ جانے کا کیا جواز ہے؟

5 📘 شبہ نمبر 4

قال عروة: وثويبة مولاة لأبي لهب، كان أبو لهب أعتقها، فأرضعت النبى صلى الله عليه وسلم، فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله بشر حيبة، قال له: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم غير أني سقيت فى هذه بعتاقتي ثويبة.

ترجمہ:
”عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تابعی کا بیان ہے کہ ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی، ابولہب نے اسے آزاد کر دیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ موت کے بعد اس کے اہل خانہ میں سے کسی نے خواب میں اسے بری حالت میں دیکھا۔ اس نے اس (ابولہب) سے پوچھا: تو نے کیا پایا ہے؟ ابولہب بولا کہ تمہارے بعد میں نے کوئی راحت نہیں پائی، ماسوائے اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے اس (انگوٹھے اور انگشتِ شہادت کے درمیان گڑھے) سے پلایا جاتا ہوں۔“

📖 مصنف عبدالرزاق: 62/9، حدیث: 16350

➤ اس کی سند امام عبدالرزاق صنعانی رحمہ اللہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔

📖 صحیح البخاری معلقاً: 764/2، تحت الحدیث: 5101، نصب الرایۃ للزیلعی: 168/3

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5101/

➤ یہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا مرسل قول ہے، لہٰذا ضعیف و ناقابلِ استدلال ہے۔

حیرانی ہے کہ جو لوگ عقائد میں خبرِ واحد کو حجت نہیں مانتے، وہ تابعی کے اس ”ضعیف“ قول سے استدلال لے رہے ہیں!

➤ ایک کافر کے بعض اہلِ خانہ کے خواب کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

یہ خواب نصِ قرآنی کے خلاف ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۝ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾

ترجمہ:
”ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا، اسے اس کے مال اور اعمال نے کچھ فائدہ نہ دیا۔“

📖 سورۃ المسد: 1–2

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا﴾

ترجمہ:
”ہم ان کے اعمال کا جائزہ لیں گے اور انہیں اڑتا ہوا غبار بنا دیں گے۔“

📖 سورۃ الفرقان: 23

➤ یہ ثابت نہیں کہ ابولہب نے اپنی لونڈی ثویبہ کو اس وجہ سے آزاد کیا تھا کہ اس نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشخبری سنائی تھی۔

لہٰذا نعیمی صاحب کا یہ کہنا درست نہیں:

”بات یہ تھی کہ ابو لہب حضرت عبداللہ کا بھائی تھا، اس کی لونڈی ثویبہ نے آکر اس کو خبر دی کہ آج تیرے بھائی عبداللہ کے گھر فرزند (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہوئے، اس نے خوشی میں اس لونڈی کو انگلی کے اشارے سے کہا کہ جا تو آزاد ہے۔“

📖 جاء الحق: 1/235

6 📘 شبہ نمبر 5

◈ سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

عن عمر بن الخطاب، أن رجلا من اليهود قال له: يا أمير المؤمنين، آية في كتابكم تقرءونها، لو علينا معشر اليهود نزلت، لاتخذنا ذلك اليوم عيدا، قال: أي آية؟ قال: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ قال عمر: قد عرفنا ذلك اليوم، والمكان الذي نزلت فيه على النبي صلى الله عليه وسلم، وهو قائم بعرفة يوم جمعة.

ترجمہ:
”ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! مسلمانوں کی کتاب میں ایک ایسی عظیم الشان آیت ہے، آپ اس آیت کی تلاوت کرتے ہیں، اگر وہ ہمارے دین میں نازل ہوتی تو ہم اسے عید کا دن قرار دیتے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سی آیت؟

اس نے کہا:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

”آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند کیا ہے۔“

📖 سورۃ المائدۃ: 3

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں اس دن اور اس جگہ سے واقف ہوں جہاں یہ آیت نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن عرفہ میں کھڑے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی۔“

📖 صحیح البخاری: 45، صحیح مسلم: 3017

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/45/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/3017/

اسی طرح یہ آیتِ کریمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھی تو ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا تھا۔ وہ کہنے لگا: اگر یہ آیت ہمارے دین میں نازل ہوتی تو ہم اس کے یومِ نزول کو یومِ عید بناتے۔

تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

إنها نزلت في يوم عيدين، في يوم جمعة، ويوم عرفة.

”یہ تو نازل ہی اس دن ہوئی تھی جس دن دو عیدیں، یعنی یومِ عرفہ اور یومِ جمعہ، اکٹھی تھیں۔“

📖 سنن الترمذی: 3044، وسندہ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3044/

➤ اس واقعے سے عیدِ میلاد کا استدلال اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم اور ائمۂ سنت رحمہم اللہ پر حرف گیری ہے۔

یہودی کی مراد صرف یہ تھی کہ ہمیں اس دن خوشی ہوتی، اور جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خوشی تو ہے، اور یہ آیت نازل بھی اس دن ہوئی جس دن دو عیدیں، یعنی دو خوشیاں، اکٹھی تھیں۔

➤ ویسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن کو ”عیدِ تکمیلِ دین“ کے نام سے خاص کیوں نہیں کیا؟

وہ ہر جمعہ کو عیدِ تکمیلِ دین قرار دے دیتے، یومِ عرفہ کو عیدِ تکمیلِ دین کا نام دیتے، یا کم از کم جب بھی جمعہ اور یومِ عرفہ اکٹھے ہوتے، اس دن کو عیدِ تکمیلِ دین کا نام دے لیا ہوتا۔ کچھ تو ہوتا!

آخر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟

➤ صاف ظاہر ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ایسا کام نہیں کرنا چاہتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ان کے ہاں ایسی خوشی کا وجود نہیں تھا جو تعلیماتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل نہ ہو۔

لہٰذا اس واقعے سے عیدِ میلاد کا استدلال ”سوال گندم، جواب چنا“ کی قبیل سے ہے۔

➤ ولے حیرت کہ جو لوگ بستیوں میں جمعہ کے قائل ہی نہیں، ان کے نزدیک جمعہ کو عید کہہ کر عیدِ میلاد کا استدلال کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟

مطلب جمعہ عید تو ہے، مگر صرف شہر والوں کے لیے؛ بستی والوں کے لیے تو وہ ایک عام دن ہے۔ اس دن بھی نمازِ ظہر ادا کریں گے۔

یا اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ جمعہ سرے سے عید ہی نہیں، شہریوں کے لیے بھی جمعہ صرف خانہ پُری کا نام ہے، ورنہ انہیں احتیاطی ظہر کا نہ کہتے۔

➤ پھر عیدِ میلاد شیعوں سے مستعار لی گئی ہے۔ کبھی سوچئے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ شیعہ فہمِ دین میں صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور ائمۂ محدثین رحمہم اللہ سے بڑھ گئے ہیں؟

کچھ نہ سمجھے، خدا کرے کوئی!

7 📘 وفاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت میں اختلاف کیا گیا ہے۔

◈ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ولد نبينا محمد صلى الله عليه وسلم فيه .

”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دس محرم کو ہوئی ہے۔“

📖 غنية الطالبين: 392/2، طبع بیروت

یہ اختلاف اپنی جگہ پر، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جو لوگ بارہ ربیع الاول کو جشنِ میلادِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں، ان کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخِ وفات کون سی ہے؟

◈ جناب احمد رضا خان صاحب کہتے ہیں:

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول دوشنبہ کو ہے اور اسی میں وفات شریف ہے۔“

📖 ملفوظات: 220/2

◈ نیز وفاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں:

”قول مشہور و معتمد جمہور دواز دہم ربیع الاول شریف ہے۔“

📖 فتاویٰ رضویہ: 415/26

جناب احمد رضا خاں کی تحقیق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات دونوں 12 ربیع الاول کو ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لوگ بارہ ربیع الاول کو ”بارہ وفات“ کہہ کر پکارتے تھے اور ”ختم شریف“ ہوتا تھا۔

بارہ ربیع الاول کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غم کے مارے کیا حالت تھی، غموں نے کس قدر انہیں نڈھال کر رکھا تھا، اور اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں وہ کس قدر غمگین تھے، اس کا کچھ اندازہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے:

لما كان اليوم الذى دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة أضاء منها كل شيء، فلما كان اليوم الذى مات فيه أظلم منها كل شيء، وما نفضنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الأيدي وإنا لفي دفنه حتى أنكرنا قلوبنا .

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہجرت فرما کر تشریف لائے تھے تو مدینہ کی ہر چیز خوشی سے چمک اٹھی تھی، مگر جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، مدینہ کی ہر چیز غم سے تاریک ہو گئی تھی۔ ہم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر رہے تھے، مٹی ابھی نہیں جھاڑی تھی اور ہمارے دل اس حادثۂ فاجعہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔“

📖 سنن الترمذي: 3618، سنن ابن ماجه: 1631 — وسنده حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3618/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1631/

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ ﴿6634﴾ نے ”صحیح“ کہا ہے، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ ﴿57/1﴾ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت ان الفاظ میں مروی ہے:

شهدته يوم دخل المدينة فما رأيت يوما قط، كان أحسن ولا أضوأ من يوم دخل علينا فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وشهدته يوم موته، فما رأيت يوما كان أقبح، ولا أظلم من يوم مات فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم .

”جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، میں اس دن مدینے ہی میں تھا۔ یہ اتنا خوب صورت دن تھا کہ اس سے زیادہ حسین اور روشن دن میں نے نہیں دیکھا، اور جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو بھی میں وہیں موجود تھا۔ میں نے اس سے زیادہ، غم کے حوالے سے، قبیح اور زیادہ تاریک دن نہیں دیکھا۔“

📖 سنن الدارمي: 89 — وسنده صحيح

8 📘 وفاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا غم

◈ رفیقِ غار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضر و سفر کے ساتھی اور خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی غم کی حالت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یوں بیان کرتی ہیں:

إن أبا بكر دخل على النبى صلى الله عليه وسلم بعد وفاته، فوضع فمه بين عينيه، وضع يديه على صدغيه، وقال: وانبياه، واخليلاه، واصفياه .

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے اپنا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیا اور اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں پر رکھ دیے، پھر کہنے لگے: ہائے میرے نبی! ہائے میرے خلیل! ہائے میرے دوست!“

📖 مسند الإمام أحمد: 31/6 — وسنده حسن

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے جری و بہادر صحابی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاتِ حسرت آیات کی خبر سن کر شدتِ غم میں گھٹنوں کے بل گر گئے تھے۔

◈ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

إن أبا بكر خرج وعمر بن الخطاب يكلم الناس فقال: اجلس يا عمر، فأبي عمر أن يجلس، فأقبل الناس إليه، وتركوا عمر، فقال أبو بكر: أما بعد فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم، فإن محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله فإن الله حي لا يموت، قال الله: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إلى قوله: الشّٰكِرِیْنَ [آل عمران: 144] ، وقال: والله لكأن الناس لم يعلموا أن الله أنزل هذه الآية حتى تلاها أبو بكر، فتلقاها منه الناس كلهم، فما أسمع بشرا من الناس إلا يتلوها . فأخبرني سعيد بن المسيب، أن عمر قال: والله ما هو إلا أن سمعت أبا بكر تلاها فعقرت، حتى ما تقلني رجلاي، وحتى أهويت إلى الأرض حين سمعته تلاها، علمت أن النبى صلى الله عليه وسلم قد مات .

”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر! بیٹھ جائیں، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہ بیٹھے۔ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے خطبۂ مسنونہ کے بعد فرمایا:

جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اللہ نے خود فرمایا ہے:

﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤي اَعۡقَابِكُمۡ ؕ وَ مَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰي عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡئًا ؕ وَ سَيَجۡزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ﴾

📖 آل عمران: 144

”محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں…“

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس آیت کے نزول کے متعلق پہلے کسی کو خبر ہی نہ تھی۔ لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سیکھی، لوگ سنتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔

راویِ حدیث امام زہری رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا:

”اللہ کی قسم! مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا۔ میں سکتہ میں آ گیا اور ایسے محسوس ہوا کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں سہار پائیں گے اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔ جب میں نے ان آیات کی تلاوت سنی تو مجھے یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واقعی وفات پا گئے ہیں۔“

📖 صحیح البخاری: 4454

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4454/

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جگر گوشۂ رسول سیدہ فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا کے غم کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

لما دفنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورجعنا قالت فاطمة: يا أنس، أطابت أنفسكم أن دفنتم رسول الله صلى الله عليه وسلم فى التراب ورجعتم .

”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہو کر واپس آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: انس! آپ نے کیسے گوارا کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی تلے دفن کر کے خود واپس چلے آئے؟“

📖 مسند الإمام أحمد: 204/3 — وسنده صحيح

➤ اور ہم اسی دن خوشی مناتے ہیں!

نادانستہ ہی سہی، لیکن یہ قباحت سرزد تو ہم سے ہو رہی ہے؟

صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ عید میلاد کے تحت بے شمار بدعات، خرافات، ہفوات، ترہات، بیسیوں محرمات اور منکرات نے جنم لیا ہے، مثلاً:

◉ روضۂ رسول کی شبیہ بنانا
◉ شرکیہ نعتیں پڑھنا
◉ مجلس کے آخر میں اس عقیدت سے قیام کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، العیاذ باللہ
◉ شیرینی تقسیم کرنا
◉ دیگیں پکانا
◉ دروازے اور پہاڑیاں بنانا
◉ عمارتوں پر چراغاں کرنا
◉ جھنڈیاں لگانا
◉ ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین شریفین کی تصویر بنانا
◉ مخصوص لباس پہننا
◉ تصویریں اتارنا
◉ رقص و وجد کا اہتمام کرنا
◉ شب بیداری کرنا
◉ اجتماعی نوافل ادا کرنا
◉ اجتماعی روزے رکھنا
◉ اجتماعی قرآن خوانی کرنا
◉ عورتوں اور مردوں کا اختلاط
◉ نوجوان لڑکوں کا جلوس میں شرکت کرنا اور عورتوں کا انہیں دیکھنا
◉ آتش بازی کرنا
◉ مشعل بردار جلوس نکالنا، جو کہ عیسائیوں کا وطیرہ ہے
◉ گانے بجانے
◉ فحاشی و عریانی
◉ فسق و فجور
◉ دکھاوا اور ریاکاری
◉ من گھڑت قصے کہانیوں اور جھوٹی روایات کا بیان
◉ انبیاء، ملائکہ اور صحابہ کرام کے بارے میں شرکیہ اور کفریہ عقیدے کا اظہار
◉ قوالی
◉ لہو و لعب
◉ مال و دولت اور وقت کا ضیاع وغیرہ

بلکہ اب تو ان پروگراموں میں بدامنی، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

➤ خدارا! ان برائیوں کا سدِباب کیجیے، جو اس صورت ہی ممکن ہے کہ بدعتِ میلاد سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔

9 📘 قیامِ میلاد کی شرعی حیثیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سن کر یا میلاد کا ذکر کرتے ہوئے تعظیماً کھڑے ہو جانے کا عمل بے ثبوت اور بے اصل ہے۔ اس کی بنیادیں محض نفسانی خواہشات پر اٹھائی گئی ہیں اور غلو اس کا نمایاں پہلو ہے۔

احکامِ شرعیہ کا ثبوت قرآن و حدیث، اجماعِ امت اور فہمِ سلف سے بیان ہوتا ہے، جبکہ ان تمام مصادر میں قیامِ میلاد کا ذکر تو درکنار، اس کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں ملتا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 کسی کی تعظیم میں کھڑا ہونا ناجائز ہے

◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ما كان أحد من الناس أحب إليهم شخصا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، كانوا إذا رأوه لا يقوم له أحد منهم، لما يعلمون من كراهيته لذلك.

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر محبت کسی نے نہیں کی، لیکن کوئی صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا نہیں ہوتا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 134/3، سنن الترمذي: 2754، وسنده صحيح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2754/

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی رحمہ اللہ (م: 942ھ) لکھتے ہیں:

جرت عادة كثير من المحبين إذا سمعوا بذكر وصفه صلى الله عليه وسلم أن يقوموا تعظيما له صلى الله عليه وسلم، وهذا القيام بدعة، لا أصل له.

”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بہت سے دعوے داروں میں یہ عادت رواج پا گئی ہے کہ وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صفت کا ذکر سنتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ قیام ایسی بدعت ہے جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں۔“

📖 سبل الهدى والرشاد: 415/1

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (م: 1304ھ) لکھتے ہیں:

منها أى من القصص المختلقة الموضوعة ما يذكرونه من أن النبى صلى الله عليه وسلم يحضر بنفسه فى مجالس وعظ عند ذكر مولده، بنوا عليه القيام عند ذكر المولد تعظيما وإكراما، وهذا أيضا من الأباطيل، لم يثبت ذلك بدليل، ومجرد الاحتمال والإمكان خارج عن حد البيان.

”اہلِ بدعت کے بیان کردہ من گھڑت قصوں میں ایک قصہ یہ بھی ہے کہ جن مجالس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مجالس میں بنفسِ نفیس تشریف فرما ہوتے ہیں۔ اسی کو بنیاد بنا کر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ذکر کے وقت قیام کی رسم ڈالی ہے۔ یہ جھوٹی باتیں ہیں، کسی دلیل سے ان کا ثبوت نہیں ملتا۔ یہ اعمال احتمالات و امکانات پر کھڑے کیے گئے ہیں اور ان پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔“

📖 الآثار المرفوعة لعبد الحي، ص: 46

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (م: 974ھ) کہتے ہیں:

نظير ذلك فعل كثير عند ذكر مولده صلى الله عليه وسلم، ووضع أمه له من القيام، وهو أيضا بدعة، لم يرد فيه شيء على أن الناس إنما يفعلون ذلك تعظيما له صلى الله عليه وسلم، فالعوام معذورون لذلك بخلاف الخواص.

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کا تعظیماً کھڑے ہو جانا بھی ایک بدعت ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ لوگ یہ عمل تعظیمِ رسول کی نیت سے کرتے ہیں، عوام بیچارے ناسمجھ معذور ہیں، جبکہ خواص کی پکڑ ضرور ہوگی۔“

📖 الفتاوى الحديثية، ص: 58

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ قیامِ میلاد کے حامیوں کے باہمی متضاد اقوال

پھر قیامِ میلاد کے حامیان خود باہم مختلف ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے بیانات باہم نہیں ملتے، اور بیان کا تضاد تحقیق کی عدالت میں قابلِ ملاحظہ اور قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

مثلاً:

➊ بعض لوگوں کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس اس محفل میں تشریف فرما ہوتے ہیں۔

➋ جبکہ بعض کہتے ہیں:

”تاہم یہ بات ممکنات میں سے ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحانی طور پر محفلِ میلاد میں تشریف لائیں ہیں۔“

➌ بعض نے کہا ہے:

”ایسا ہونا خوبصورت معجزہ ممکن ہے۔“ وغیرہ

➤ یہ سب ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ قرآن و سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔