◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: ما هذان اليومان؟ قالوا: كنا نلعب فيهما فى الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله قد أبدلكم بهما خيرا منهما يوم الأضحى، ويوم الفطر.
”رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ اہلِ مدینہ نے دو دن مقرر کیے ہوئے تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہم زمانۂ جاہلیت سے ہی ان دو دنوں میں کھیل کود کرتے چلے آ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔“
📖 سنن ابی داود: 1134، سنن النسائی: 1556 — سند صحیح
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1134/
🔗https://tohed.com/hadith/nasai/1556/
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ 1/294 نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
📖 بلوغ المرام من أدلة الأحكام: 497
مسند احمد 3/250 میں حمید الطویل نے سماع کی تصریح کی ہے۔
➤ بطورِ تہوار اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں۔ تیسری عید کا کوئی تصور نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدِ غدیرِ خم
━━━━━━━━━━━━━━
شیعہ عیدِ غدیرِ خم مناتے ہیں۔ اس دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ:
”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔“
یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اعزاز ہے۔
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سب مسلمانوں کے ہیں، صرف شیعہ کے تو نہیں۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ اس دن ایک بہت بڑی عید کا اہتمام کریں، کیونکہ اگر خوشی کے موقع پر عید منانا قرآنی حکم ہے تو یہ موقع بھی خوشی کا ہے؟
لیکن جو احباب عید میلاد پر ”خوشی والی آیت“ کو دلیل بناتے ہیں، وہ اسی خوشی والی آیت سے ثابت کی جانے والی عیدِ غدیرِ خم کو بدعت کہتے ہیں۔
❓ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس اعزاز پر انہیں خوشی نہیں؟
یا پھر ان کا استدلال ہی خطا ہے؟
━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدِ میلادِ عیسیٰ علیہ السلام
━━━━━━━━━━━━━━
عیسائی لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے میلاد کے قائل ہیں۔ وہ ان کے دنیا میں آنے کی خوشی میں جشن مناتے ہیں اور اسے عید قرار دیتے ہیں۔
لیکن مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ہمیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں آمد کی خوشی عیسائیوں سے زیادہ ہے، اور آج بھی مسلمان ان کے دوبارہ نزول کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ان کے ایمان کا جزوِ لازم ہے۔
تو کیا اس بنیاد پر ان کا یومِ ولادت بھی بطورِ عید منانا چاہیے؟
کیا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے؟
اگر یہ خوشی کا اظہار ہے تو کیا ہم بھی خوشی کے اظہار کے لیے عیدِ میلادِ عیسیٰ علیہ السلام منائیں؟
نیز:
”سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی خوشیاں منا رہے ہیں“
کا نعرہ یہاں بھی بلند کیا جائے؟
کیا لوگوں سے یہ کہا جائے کہ:
”آپ کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں آنے کی خوشی نہیں، اسی لیے آپ ان کا یومِ ولادت نہیں مناتے، لہٰذا آپ گستاخِ عیسیٰ نبی اللہ ہیں؟“
━━━━━━━━━━━━━━
📌 عید المائدہ یا عید العشاء
━━━━━━━━━━━━━━
◈ مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب لکھتے ہیں:
عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی:
﴿رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾
”اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان نازل فرما، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، اور ہمیں رزق عطا فرما، اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔“
📖 سورۃ المائدہ: 114
مفتی احمد یار خاں نعیمی صاحب لکھتے ہیں:
”معلوم ہوا کہ مائدہ آنے کے دن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے عید کا دن بنایا۔“
📖 جاء الحق: 1/231
➤ عیدیں ہر شریعت کی اپنی ہوتی ہیں۔ ہمیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ دی گئی ہیں۔
ورنہ جس دن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عید منائی، اس دن آپ عید کیوں نہیں مناتے؟
❓ کیا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خوشی میں شریک نہیں؟
اگر شریک ہیں، اور یقیناً ہیں، تو اس ”کارِ خیر“ سے پیچھے رہ جانے کا کیا جواز ہے؟
━━━━━━━━━━━━━━
📌 عیدُ الاُم — مدر ڈے
━━━━━━━━━━━━━━
اہلِ یورپ مدر ڈے مناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دن ماں جیسی انمول نعمت کے نام ہونا چاہیے۔
حالانکہ ہمارے معاشرے میں ماں کو جو تقدس اور احترام حاصل ہے، اہلِ یورپ کے ہاں تو اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
تو ہم لوگ ماں کے نام سے عید کیوں نہیں بنا لیتے؟
❓ کیا ہمیں ماں سے محبت نہیں؟
❓ یا ہم ماں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں سمجھتے؟
آخر میں عرض ہے کہ کسی روز وقت نکال کر ان اشیاء کی فہرست بھی پیش کر دیجیے جنہیں آپ خدا کی نعمتیں جانتے ہیں، اور ان کی عیدوں کا شیڈول بھی سامنے لے آئیے، تاکہ آپ کے اس دعوے پر عمل ہو سکے کہ:
”کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز ہے، نیز جس دن اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو، اس دن کو عید منانا جائز ہے۔“
گستاخی معاف، مگر سوال یہ ہے:
❓ عید میلاد کا ذکر فقہِ حنفیہ میں کیوں نہیں ملتا؟
━━━━━━━━━━━━━━
📚 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف
━━━━━━━━━━━━━━
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:
أما اتخاذ موسم غير المواسم الشرعية كبعض ليالي شهر ربيع الأول التى يقال: إنها ليلة المولد، أو بعض ليالي رجب، أو ثامن عشر ذي الحجة، أو أول جمعة من رجب، أو ثامن شوال الذى يسميه الجهال: عيد الأبرار، فإنها من البدع التى لم يستحبها السلف ولم يفعلوها، والله سبحانه وتعالى أعلم.
”شریعت کی مقرر کردہ عیدوں کے علاوہ دوسری عیدیں، مثلاً ربیع الاول میں عید میلاد، رجب کی بعض راتیں، اٹھارہ ذی الحجہ، رجب کا پہلا جمعہ، یا آٹھ شوال کی عید، جسے جاہل لوگ عید الابرار کا نام دیتے ہیں، اس لیے بدعت ہیں کہ سلف رحمہم اللہ نے نہ انہیں منایا اور نہ انہیں مستحب سمجھا۔“
واللہ اعلم
📖 الفتاویٰ الکبریٰ: 4/414
📖 مجموع الفتاویٰ: 25/298