ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزلزال (99) — آیت 6

یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾
اس دن لوگ الگ الگ ہو کر واپس لوٹیں گے، تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ En
اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں
En
اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اس دن لوگ متفرق [5] ہو کر واپس لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے [6] جائیں
[5] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسان متفرق اور الگ ہو جائیں گے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اللہ کے ہاں باز پرس ہو گی۔ اور دوسرا یہ کہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ شرابیوں کا گروہ الگ ہو گا، زانیوں کا الگ، چوروں کا الگ، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا الگ، غرض ہر انسان اپنے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے گا۔
[6] یہاں صرف اعمال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی سب قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں گے اور اس کی صورت وہی ہو گی جو اوپر مذکور ہوئی۔ یعنی ان کے اعمال کی فلمیں ہر ایک کو دکھا دی جائیں گی۔ تاکہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے حوالہ کر دیا جائے گا کہ وہ خود اپنے اعمال کو ٹھیک طرح پڑھ لے اور دیکھ بھال کر لے۔