[3] اس آیت میں اگر انسان سے مراد عام انسان لیا جائے تو بھی درست ہے۔ ہر انسان جب نیند سے بیدار ہوتا یا کسی اتفاقی حادثہ سے بے ہوش ہو جانے کے بعد ہوش میں آتا ہے اور اجنبی صورت حال دیکھتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہی کرتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور میں اس وقت کہاں ہوں؟ پھر جب ذرا ہوش ٹھکانے آجائیں گے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ میدان محشر کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور اگر انسان سے مراد ایسا انسان لیا جائے جو آخرت کا منکر تھا۔ وہ تو دیوانگی اور حیرانی کے عالم میں پوچھے گا کہ اس زمین کو کیا ہو گیا ہے پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کی یہ حیرانی حسرت و یاس میں تبدیل ہونے لگے گی اور اسے یقین ہو جائے گا کہ جن باتوں کا وہ ساری زندگی منکر رہا ہے۔ آج وہ واقع ہونے لگی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔