اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾
جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔
جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا [1] دی جائے گی
[1] یعنی زمین پر لگاتار زلزلے آئیں گے اور یہ علاقائی قسم کے نہیں ہوں گے۔ بلکہ پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ان مسلسل اور متواتر زلزلوں کی وجہ سے زمین میں کوئی نشیب و فراز باقی نہیں رہے گا۔ اور ایسے زلزلے نفخہ صور ثانی کے وقت آئیں گے نفخہ صور اول کے وقت جو زلزلہ آئے گا اس سے قیامت برپا ہو گی اور سب جاندار مخلوق مر جائے گی۔ نفخہ صور ثانی کے وقت شدید زلزلوں سے زمین کے نشیب و فراز ختم کر کے اسے ہموار اور چٹیل میدان بنا دیا جائے گا۔ دریاؤں، پہاڑوں، سمندروں غرضیکہ ہر چیز کو ختم کر دیا جائے گا جس سے اس زمین کی ہیئت ہی بدل جائے گی پھر اس پر میدان محشر قائم ہو گا۔