ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البينة (98) — آیت 7

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۷﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ En
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں
En
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہی لوگ بہترین خلائق [9] ہیں
[9] ﴿برية﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿برية﴾ ﴿برء﴾ سے مشتق ہے یعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، لہٰذا ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے۔ بریة میں شامل ہے۔ یعنی پوری مخلوق۔ ساری کائنات، زمین و آسمان اور دیگر سیارے سب اس میں شامل ہیں۔ ان دو آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کافر تمام مخلوق سے بد تر مخلوق ہیں کیونکہ انہوں نے عقل و تمیز ہونے کے باوجود اپنے خالق و مالک کے حق کو نہیں پہچانا۔ اور مومن جو نیک اعمال بجا لاتے رہے تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔ حتیٰ کہ فرشتوں سے بھی بہتر ہیں۔ اس لیے کہ فرشتوں کو خیر و شر کا اختیار ہی نہیں دیا گیا۔ ان کی اطاعت الٰہی اضطراری ہے اختیاری نہیں۔ جبکہ مومنوں کی اطاعت اختیاری ہوتی ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ عام مومن عام فرشتوں سے اور مقرب مومن مقرب فرشتوں سے افضل ہیں اور افضل الخلائق ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق سے، جن میں سب فرشتے بھی شامل ہیں، افضل ہیں۔