ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البينة (98) — آیت 6

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ شَرُّ الۡبَرِیَّۃِ ؕ﴿۶﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی لوگ مخلوق میں سب سے برے ہیں۔ En
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہیں
En
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا [8] ہے وہ یقیناً دوزخ کی آگ میں ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہی لوگ بد ترین خلائق ہیں
[8] کفر کے درجے :۔
کفر کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ ایک دوسرے سے کم و بیش ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ کی ذات کا سرے سے انکار کر دینا بھی کفر ہے۔ نماز کو عمداً چھوڑ دینا بھی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک جیسے تو نہیں ہو سکتے۔ یہود اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں حتیٰ کہ آخرت پر بھی پورا پورا ایمان رکھتے تھے۔ مگر ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں اور ہمیں بس چند دن ہی آگ چھوئے گی۔ تو اللہ نے ان کے اس عقیدہ کو بھی کفر سے تعبیر کیا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا کفر مشرکوں کے کفر سے کم تر درجہ کا ہے جو سرے سے انسان کی دوبارہ زندگی کے ہی قائل نہ تھے۔ اس آیت میں کفر کی سب قسمیں مراد ہیں۔