ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البينة (98) — آیت 1

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔ En
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی
En
اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ) En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو کافر [1،2] تھے وہ (اپنے کفر سے) الگ ہونے والے [3] نہ تھے تا آنکہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آجائے
[1] سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب (جو نہایت خوش الحان قاری تھے) سے فرمایا کہ:”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا کی سورت پڑھ کر سناؤں“ ابی بن کعب کہنے لگے:”کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''ہاں'' پھر ابی بن کعب رضی اللہ نے کہا: ”کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، میرا ذکر آیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں “یہ سن کر ابی کی آنکھوں سے (خوشی کے) آنسو بہنے لگے۔ قتادہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ سورت سنائی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
[2] اہل کتاب اور مشرکین میں فرق اور اس کے چند پہلو :۔
اس آیت میں کافروں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اہل کتاب اور دوسرے مشرکین۔ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی۔ اگرچہ ان کی کتابوں میں تحریف بھی ہو چکی تھی اور انسانی اضافے بھی تھے اور مشرکین سے مراد عرب کے بت پرست اور ایران کے آتش پرست تھے جن کے پاس سرے سے کوئی الہامی کتاب موجود ہی نہ تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نصاریٰ بھی مشرک تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو تین خداؤں میں کا ایک خدا قرار دیتے تھے۔ ان میں سے بعض حضرات عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا سمجھتے تھے اور بعض انہیں اللہ ہی قرار دیتے تھے۔ بعض لوگ الوہیت میں سیدہ مریم کو بھی شریک بناتے تھے۔ اسی طرح یہود بھی عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے مگر ان کے ایسے واضح شرک کے باوجود انہیں مشرک نہیں کہا بلکہ اہل کتاب کے نام سے ہی پکارا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے دین کی اصل بنیاد توحید ہی تھی اور وہ توحید ہی کے قائل تھے مگر شیطانی اغوا اور بیرونی فلسفیانہ افکار و نظریات نے انہیں بعض شرکیہ عقائد میں ملوث کر دیا تھا جبکہ مشرکوں کے دین کی اصل بنیاد ہی شرک تھا اور توحید انہیں سخت ناگوار تھی جیسا کہ کفار مکہ کی اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ پھر اسلام نے اہل کتاب اور مشرکین کے اس فرق کو بعض شرعی احکام میں پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً اہل کتاب کا ذبیحہ کھانا جائز ہے اور مشرکوں کا ذبیحہ کھانا جائز نہیں۔ اسی طرح کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے مگر مشرکہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اہل کتاب سے جزیہ لے کر ایک اسلامی ریاست کا فرد تسلیم کیا جا سکتا ہے مگر مشرکوں کے لیے ایک اسلامی ریاست میں ایسی گنجائش نہیں۔
کافروں کی قسمیں :۔
علاوہ ازیں کفر و شرک کے بھی کئی درجے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی منکر ہیں۔ کچھ دوسرے اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اللہ کا شریک بنا ڈالتے ہیں۔ کچھ اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کے رسولوں کے یا بعض رسولوں کے منکر ہیں۔ کچھ لوگ آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے اور کچھ لوگ آخرت پر یقین تو رکھتے ہیں مگر ساتھ ساتھ ایسے عقیدے بھی وضع کر رکھے ہیں کہ قانون جزا و سزا کو بے کار بنا دیتے ہیں۔ کچھ عقائد میں درست ہوں تو ان کے اعمال ایمان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ایسے سب لوگ درجہ بدرجہ کفار و مشرکین ہی کے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
[3] یعنی یہ اہل کتاب و مشرکین اور ان کے ذیلی فرقے، خواہ وہ کتنی ہی تعداد میں ہوں، سب کے سب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور اپنے عقائد و نظریات انہیں اس قدر پسندیدہ اور مرغوب ہیں وہ ان سے اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جن سے ان کا جدا ہونا ناممکن تھا۔ ان میں سے کوئی اپنا دین چھوڑنے پر تیار نہ تھا۔ اس کی صرف ایک ہی صورت تھی کہ اللہ کی طرف سے کوئی ایسی روشن اور واضح دلیل آجائے جو ان پر ان کی غلط فہمیاں اور گمراہیاں منکشف کر دے۔