ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العلق (96) — آیت 7

اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿ؕ۷﴾
اس لیے وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔ En
جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے
En
اس لئے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا [7] ہے
[7] آیت نمبر 6 اور آیت نمبر 7 میں انسانوں کی اکثریت یا خدا فراموش انسان کی ایک عام خصلت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی کو سیر ہو کر کھانے کو ملنے لگتا ہے اور اس پر خوش حالی کا دور آتا ہے تو وہ اپنے جیسے انسانوں کو درکنار اپنے خالق و مالک کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی سرکشی اور بغاوت پر اتر آتا ہے۔