ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العلق (96) — آیت 2

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾
اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ En
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
En
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ (اور) انسان کو خون کے [3] لوتھڑے سے پیدا کیا
[3] یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس کائنات میں انسان کا کیا مقام ہے؟
اور جواب یہ ہے کہ جیسے کائنات کی ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے، ویسے ہی انسان بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ مخلوق کو یہ کسی طرح جائز نہیں کہ وہ اپنے ہی جیسی مخلوق کے آگے سر جھکائے۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک معجز نما طریق سے پیدا کیا۔ استقرار حمل کے بعد وہ ایک بے جان لوتھڑا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے کئی مراحل گزارے۔ اس لوتھڑے پر اس کے اعضاء کے نقش و نگار بنائے۔ جسم کے اندرونی اعضاء پیدا کیے پھر اس میں کئی طرح کی ظاہری اور باطنی قوتیں پیدا کر کے اسے ماں کے پیٹ سے باہر نکالا۔