19۔ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ آپ اس کی بات نہ مانئے اور سجدہ کر کے (اپنے پروردگار کا) قرب [13] حاصل کیجئے
[13] سجدہ کی فضیلت :۔
یعنی اس بد کردار شخص کی بات مان کر کعبہ میں نماز کی ادائیگی سے رکنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اسی طرح نماز ادا کرتے رہو۔ جیسے پہلے ادا کرتے رہے ہو۔ واضح رہے کہ یہاں سجدہ سے مراد صرف سجدہ نہیں بلکہ نماز ہے اور عربوں کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی چیز کا جزء اشرف بول کر اس سے کل یا اصل چیز مراد لیتے ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر نمازیں ادا کریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہو گا۔ لہٰذا نمازیں بکثرت ادا کیا کیجیے۔ سجدہ کی فضیلت سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔ ربیعہ بن کعب اسلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ہی رات کو رہا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاجت اور وضو کے لیے پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ کیا مانگتا ہے۔ میں نے عرض کیا ”جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:”کچھ اور بھی؟“ میں نے عرض کیا: ”بس یہی کچھ چاہتا ہوں“ آپ نے فرمایا:”اچھا تو کثرت سجود کو اپنے اوپر لازم کر لو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو“ [مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ باب فضل السجود والحث علیہ] 2۔ اس سورۃ کے اختتام پر بھی سجدہ تلاوت کرنا چاہیے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورت: ﴿اِذَاالسَّمَاءُانْشَقَّتْ﴾ اور سورۃ اقراء میں سجدہ کیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں