ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العلق (96) — آیت 18

سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾
ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ En
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
En
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ ہم عذاب کے فرشتوں کو بلائیں [12] گے
[12] اس آیت کا سبب نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کعبہ میں) نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابو جہل آیا اور کہنے لگا: کیا میں تمہیں اس کام سے منع نہیں کر چکا۔ تین بار اس نے یہ الفاظ دہرائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو اسے سخت سست کہا۔ ابو جہل کہنے لگا: یہ تو تم جانتے ہو کہ کسی کے ہم نشین مجھ سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ اپنے ہم نشین بلا لے، ہم دوزخ کے فرشتے بلاتے ہیں۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر وہ اپنے ہم نشین بلاتا تو اللہ کے فرشتے اسے پکڑ لیتے [ترمذي۔ ابواب التفسير]
﴿زبانيه﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿الزبانية﴾ ﴿زبانيه﴾ سے مراد بالاتفاق دوزخ کے عذاب دینے والے فرشتے ہیں۔ ﴿زباني العقرب﴾ بمعنی بچھو کا ڈنک۔ اس لحاظ سے ایسے فرشتے مراد ہیں جو سخت دکھ دینے والے اور بے رحم ہونگے۔ نیز ﴿زبانية﴾ سے مراد پولیس بھی ہے اور یہ قتادۃ کا قول ہے اور زبن کے معنی دھکے دے کر نکال دینا بھی ہے۔ جیسے بادشاہوں اور بڑے لوگوں کے ہاں چوبدار ہوتے ہیں جو اس غرض سے رکھے جاتے ہیں کہ جس سے سرکار ناراض ہو اسے دھکے مار کر نکال دیں۔ مراد یہ ہے کہ ابو جہل اپنی مجلس کے لوگوں کو جس پر اسے بڑا ناز ہے بلا کر دیکھ لے ہم عذاب دینے والے فرشتوں سے ان کی بری طرح گت بنا دیں گے۔