ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العلق (96) — آیت 14

اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾
تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ En
کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے
En
کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ تو کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ [10] رہا ہے
[10] یعنی ایک طرف تو اللہ کا ایک بندہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، وہ خود بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ دوسروں کو بھی اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری طرف اللہ کا باغی ہے دعوت حق کو ٹھکراتا ہے اور از راہ تکبر منہ پھیر کر چل دیتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ ذرا سوچو! اس اللہ کے باغی کی عقل پر پتھر نہیں پڑ گئے۔ اسے یہ بھی خیال نہیں آتا کہ کسی کے اعمال خواہ اسے ناپسند ہوں بہرحال اسے اللہ کی عبادت سے کبھی نہ روکنا چاہیے۔ پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اللہ اس کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس اللہ کے باغی کو بھی۔ ان میں سے جو شخص جس سلوک کا مستحق ہو گا اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرے گا۔