اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔
En
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
En
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے [1،2] جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا
[1] اس سورت کی ابتدائی 5 آیات غار حرا میں نازل ہوئیں اور انہی آیات سے آپ کی نبوت کا اور وحی کا آغاز ہوا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یوں شروع ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سچے ہونے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آجاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی بھلی لگنے لگی۔ آپ غار حرا میں جا کر عبادت کیا کرتے اور کئی کئی راتیں وہاں رہتے، گھر نہ آتے اور توشہ ساتھ لے جاتے پھر اپنے گھر سیدہ خدیجہؓ کے پاس آتے اور اتنا ہی توشہ اور لے جاتے۔ یہاں تک کہ غار حرا میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔ وحی کا آغاز کیسے ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ (جبریل علیہ السلام) آیا اور کہنے لگا: ”پڑھیے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان پڑھ ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے کہ پھر فرشتہ نے مجھے بڑے زور سے بھینچا۔ پھر چھوڑا اور کہا: ”پڑھیے“ میں نے کہا: میں ان پڑھ ہوں۔ پھر دوبارہ اس نے مجھے زور سے بھینچا۔ چھوڑا اور کہا ”پڑھیے“ میں نے کہا:”میں پڑھا لکھا نہیں“ فرشتہ نے پھر تیسری بار زور سے بھینچا۔ پھر چھوڑا اور کہا: ﴿اقرأ باسم... لويعلم﴾ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کو لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کا گوشت (ڈر کے مارے) پھڑک رہا تھا۔ آ کر سیدہ خدیجہؓ سے فرمایا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا دو۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہؓ سے کہا: ”خدیجہ! پتا نہیں مجھے کیا ہوا۔ مجھے تو اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سارا واقعہ سنایا۔ سیدہ خدیجہؓ کہنے لگیں۔ ”ہرگز ایسا نہ ہو گا۔ بلکہ آپ خوش ہو جائیے۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کبھی ضائع نہ کرے گا۔“ نبوت سے پہلے آپ کا کردار :۔
کیونکہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرابتداروں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ ناتوانوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں۔ محروم لوگوں کو (ضرورت کی) اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور مصائب میں حق کی پاسداری کرتے ہیں“ پھر سیدہ خدیجہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زادہ بھائی تھے۔ یعنی ان کا باپ اور ورقہ کا باپ بھائی بھائی تھے۔ دور جاہلیت میں وہ عیسائی ہو گئے تھے (کیونکہ اس وقت یہی دین حق تھا) وہ عربی لکھنا خوب جانتے تھے اور انجیل کا عربی زبان میں ترجمہ لکھا کرتے تھے جتنی کہ اللہ کو منظور ہوتا۔ وہ بہت بوڑھے تھے اور اندھے ہو گئے تھے۔
ورقہ بن نوفل کا آپ کو تسلی دینا :۔
سیدہ خدیجہؓ نے ان سے کہا:” بھائی ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو“ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا۔ وہ کہنے لگے:”یہ تو وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ پر اترتا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں (مکہ سے) نکال دے گی۔“ ہجرت کی بات پر آپ کا تعجب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:”کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟“ ورقہ کہنے لگے ”ہاں! کیونکہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں وہ جو بھی لایا اسے تکلیف ہی دی گئی اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو تمہاری بھر پور مدد کروں گا“ پھر اس واقعہ سے تھوڑی ہی مدت بعد ورقہ فوت ہو گئے۔ اور وحی کا آنا بھی موقوف رہا جس کی وجہ سے آپ غمگین رہا کرتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
آیت نمبر 6 سے آخر تک کی چودہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دار ارقم سے نکل کر بیت اللہ شریف میں نماز ادا کرنا شروع کی تھی۔ ان آیات میں بھی مخاطب کا نام نہیں لیا گیا مگر جو صفات بیان کی گئیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا روئے سخن ابو جہل کی طرف ہے جو آپ کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا کرتا تھا۔ اور ایسا واقعہ کوئی ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ پیش آیا تھا۔
آیت نمبر 6 سے آخر تک کی چودہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دار ارقم سے نکل کر بیت اللہ شریف میں نماز ادا کرنا شروع کی تھی۔ ان آیات میں بھی مخاطب کا نام نہیں لیا گیا مگر جو صفات بیان کی گئیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا روئے سخن ابو جہل کی طرف ہے جو آپ کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا کرتا تھا۔ اور ایسا واقعہ کوئی ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ پیش آیا تھا۔
[2] آغاز وحی میں ہی تین اہم سوالوں کا جواب :۔
ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل نے غار حرا میں جو وحی آپ پر پیش کی۔ وہ مکتوب شکل میں تھی۔ ورنہ آپ کو جواب میں ما انا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر کوئی استاد کسی بچہ کو یا شاگرد کو زبانی پڑھائے تو اسے ایسا فقرہ جواب میں کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وحی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کیا گیا۔ کائنات کی تخلیق کس نے کی؟ کیسے ہوئی؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ابتدائے نوع انسانی سے ہی صاحب فکر انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔ اسی سوال کا جواب سب سے پہلے دیا گیا اور بتایا گیا کہ کائنات از خود ہی مادہ سے پیدا نہیں ہو گئی۔ نہ یہ حسن اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے نام سے یعنی بسم اللہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وحی پڑھنا شروع کیجیے۔