[9] یعنی دنیا کے بادشاہوں میں بھی عدل کا یہ قانون رائج ہے کہ مجرموں کو سزا دیتے ہیں اور اچھے اور نمایاں کام کرنے والوں کو انعام دیتے ہیں۔ تو اللہ جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے ہاں ہی یہ قانون رائج نہ ہو گا؟ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ یہ دنیا چونکہ دار العمل ہے اس لیے ان گروہوں کا حساب اسی دنیا میں فوراً نہیں چکا دیا جاتا بلکہ اس جزا و سزا کو آخرت پر مؤخر کر دیا گیا ہے جو دار الجزاء ہے۔ البتہ اگر کسی فرد یا کسی قوم کا ظلم حد سے تجاوز کر جائے تو اللہ باقی لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کی خاطر اس دنیا میں بھی اسے عذاب سے دو چار کر کے اور تباہ کر کے دوسروں کو اس سے بچا لیتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ سورت پڑھے تو جب: ﴿اَلَيْسَاللّٰهُبِاَحْكَمِالْحٰكِمِيْنَ﴾ پر پہنچے تو اس کے بعد کہے: ﴿بَلٰيوَاَنَاعَلٰيذٰلِكَمِنَالشَّاهِدِيْنَ﴾[ترمذي۔ ابواب التفسير]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔