[3] آپ کا ذکر بلند ہونے کے مختلف ذرائع، پہلا ذریعہ خود کفار مکہ تھے :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر کی بلندی کا آغاز ابتدائے نبوت ہی سے شروع ہو گیا تھا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ ہی سے لیا۔ مثل مشہور ہے۔ عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد (یعنی بعض دفعہ دشمن بھی ایسی شرارتیں کرنے لگتا ہے جس میں ہماری بھلائی ہوتی ہے) کفار مکہ نے اسلام کو زک پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے سد باب کے طور پر جو ذریعے اختیار کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ حج کے موقعہ پر تمام عرب قبائل حج کی غرض سے مکہ آتے تھے تو کفار نے آپس میں یہ طے کیا کہ ان وفود کو مل کر انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے متنفر کیا جائے اور کہا جائے کہ کہیں فلاں شخص کے دام فریب میں نہ آجانا۔ اس کے پاس ایسا جادو ہے جو بھائی کو بھائی سے، باپ کو بیٹے سے اور بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں کافروں کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مہم چلاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے تھے لیکن باہر سے آنے والے لوگ بھی آخر اتنے بدھو تو نہیں ہوتے تھے جو فوراً کافروں کی بات کا یقین کر لیتے۔ لہٰذا ان کی اس مخالفانہ مہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فائدے پہنچے۔ ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر عرب کے کونے کونے میں ہونے لگا۔ دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ جس شخص کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کی اصل حقیقت تو معلوم کرنی چاہیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پیشتر عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں رہا تھا جس میں کوئی نہ کوئی مسلمان موجود نہ ہو اور وہاں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جاتا ہو۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے جس طرح ﴿لَااِلٰهَاِلَّااللّٰهُ﴾ کا اقرار ضروری تھا۔ اسی طرح ﴿مُحَمَّدٌرَّسُوْلُاللّٰهِ﴾ کا اقرار بھی ضروری تھا۔ علاوہ ازیں مکہ میں تو آپ کے دشمن صرف قریش مکہ تھے مگر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف گروہ ایک کے بجائے چار بن گئے۔ ایک قریش مکہ، دوسرے یہود مدینہ، تیسرے مدینہ اور عرب بھر کے مشرک قبائل اور چوتھے منافقین جو مدینہ کے علاوہ دوسری بستیوں میں بھی موجود تھے۔ اور ان کی ہمدردیاں ہر دشمن اسلام گروہ سے وابستہ ہوتی تھیں۔ انہوں نے اسلام کی راہ روکنے کے لیے قریش مکہ کی روش اور اس سے ملتے جلتے طریقے اختیار کیے اور یہ سب لوگ آپ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے۔ لیکن ان کے نتائج بھی ان کی توقعات کے برعکس برآمد ہوئے اور دس سال کے قلیل عرصہ میں سارا عرب مسلمان ہو کر دن میں کئی کئی بار ﴿لا الٰه الا الله﴾ کے ساتھ ﴿محمد رسول اللّٰه﴾ کی صدائیں بلند کرنے لگا۔ اذان میں، اقامت (تکبیر تحریمہ) میں، درود میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر لازمی تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی تحریک عرب سے باہر نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ پھر یہ حالت ہو گئی کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اوقات اذان و نماز کی وجہ سے غالباً دن میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کا آوازہ بلند نہ کیا جا رہا ہو اور یہ سلسلہ تا قیامت بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی تھی جب مکہ کے لوگوں کے علاوہ آپ کو کوئی جانتا تک نہ تھا۔ اور وہ بھی آپ کے دشمن اور آپ کی ہستی کو دنیا سے ختم کر دینے پر تلے ہوئے تھے۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی خود قرآن کی صداقت پر کھلا ہوا ثبوت ہے۔ اس وقت کون یہ اندازہ کر سکتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر اس شان کے ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔