یعنی جس طرح ہم نے تمہاری یتیمی کے دوران ہر مرحلہ پر تمہارا خیال رکھا اسی طرح تم بھی یتیموں سے بہترین سلوک کرو۔ نہ انہیں دباؤ نہ ان پر سختی کرو، نہ انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دو بلکہ ان کی ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مسلمانوں کو بھی یتیموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ: میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور انہیں تھوڑا سا کھول دیا۔ [بخاری، کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔