آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ آپ کی رضاعت کا مسئلہ سامنے آیا تو سب دائیوں نے آپ کی رضاعت سے اس بنا پر انکار کر دیا کہ آپ یتیم ہیں۔ والد موجود نہیں گھرانہ بھی اتنا مالدار نہیں تو یہاں سے کیا ملے گا۔ آخر یہ سعادت حلیمہ سعدیہ کے ہاتھ آئی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعت کو اس لیے قبول کر لیا کہ کسی امیر گھرانے کا بچہ انہیں ملا ہی نہیں تھا اور انہوں نے یہ سمجھ کر رضاعت قبول کی کہ کچھ ہونا بہرحال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب فوت ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آ گئے۔ ابو طالب خود عیالدار اور مفلس تھے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قیراط کی مزدوری پر مکہ والوں کی بکریاں بھی چرائی تھیں اور جو معاوضہ ملتا وہ ابو طالب کے حوالہ کر دیتے۔ ذرا بڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے تجارتی سفروں میں حصہ لینے لگے۔ حسن معاملت کی بنا پر انہی ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، امانت اور دیانت کا چرچا ہو گیا۔ اس پر مکہ کی ایک بیوہ اور مالدار خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضاربت کی بنا پر اچھی خاصی رقم دے دی۔ واپس آئے تو سیدہ خدیجہؓ کے غلام زید بن حارثہ نے، جو شریک سفر تھے آپ کی امانت، دیانت کی انتہائی تعریف کی۔ جس سے متاثر ہو کر سیدہ خدیجہؓ نے خود نکاح کی پیش کش کی۔ یہ خاتون مالدار بھی تھیں، حسین بھی تھیں۔ لہٰذا معززین مکہ کی طرف سے ان کو کئی بار نکاح کے پیغام آئے لیکن آپ سب کو رد کرتی رہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے خود نکاح کا پیغام بھیج دیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا اور 25 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ شادی ہو گئی۔ نکاح کے بعد سیدہ خدیجہؓ نے اپنا سارا مال و دولت اور غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحویل میں دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دنوں تو تجارت کی مگر جلدی ہی یہ سارا مال اللہ کی راہ میں محتاجوں، بیواؤں، بے روزگاروں اور ضرورتمندوں کو دے دیا کیونکہ آپ طبعاً امیری کی بجائے فقر کو پسند کرتے تھے اور یہی غنا کی سب سے بہترین قسم ہے کہ مالدار ہونے کے باوجود انسان فقر کو ترجیح دے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اموال غنائم میں پانچواں حصہ مقرر کر دیا اور اموال فے سارے کے سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحویل میں دے دیے۔ مگر اتنے مال و دولت اور حکومت کے باوجود آپ سارا مال و دولت تقسیم کر دیتے تھے۔ بقدر کفاف اپنی گھریلو ضرورتوں کے لیے رکھ لیتے تھے اور ساری زندگی دولت پر فقر کو ترجیح دی۔ اس آیت میں آپ کی ابتدائی مفلسی اور اس کے بعد آپ کے اسی قسم کے غنا کا ذکر ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں