ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الضحى (93) — آیت 5

وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾
اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہو جائے گا۔ En
اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
En
تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور آپ کا پروردگار آپ کو جلد ہی اتنا کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش [4] ہو جائیں گے
[5] یتیم ہونے پر آپ کو بہترین سرپرست ملتے رہے :۔
آپ کی پیدائش سے دو ماہ پیشتر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو آپ کی سرپرستی کا ذمہ آپ کے دادا عبد المطلب نے لیا جو اپنی صلبی اولاد سے بڑھ کر آپ پر شفقت اور پیار کرتے تھے۔ ابھی چھ ہی سال کے تھے کہ والدہ ماجدہ بھی انتقال کر گئیں اور آپ دونوں طرف سے یتیم ہو گئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہربان دادا عبد المطلب کی بھی وفات ہو گئی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے چچا ابو طالب نے سنبھالی۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برادری کے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہو گئے تو ابو طالب نے اسلام نہ لانے کے باوجود ہر تنگی ترشی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ برادری کی دشمنی اور عداوت کا سارا بار اپنے سر مول لیا اور ہر طرح کے خطرات سے بے نیاز ہو کر نبوت کے آغاز سے دس سال بعد تک آپ کی سرپرستی اور حفاظت کی ذمہ داری کو بڑے احسن طریقے سے نباہا۔ حتیٰ کہ شعب ابی طالب کے تین سال بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محصور رہے۔ 10 نبوی میں یہ سہارا بھی ختم ہو گیا یعنی ابو طالب کی وفات ہو گئی۔ اس کے تھوڑی ہی مدت بعد اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ (اوس اور خزرج) کو اسلام کی نعمت عطا فرمائی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت عقبہ کے بعد مدینہ تشریف لے گئے۔ انصار مدینہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا جو ذمہ لیا تھا اسے جس جراتمندانہ طریق سے انہوں نے پورا کیا وہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ احسان بتایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یتیم ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرپرست ایسے عطا کیے جاتے رہے جو اپنی جان سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز رکھتے تھے۔