3۔ کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ناراض [2] ہوا ہے
[2] اس سورت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا میں نازل ہوئی جو سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ اس بار وحی کی کوفت کا تو یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر آکر سیدہ خدیجہؓ کو یہ واقعہ سنایا تو بتایا کہ ﴿اني خشيت علٰي نفسي﴾ کہ مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے اور لذت و سرور کا یہ حال تھا کہ آپ اس واقعہ کے بعد ہر وقت جبرائیل کی آمد کے منتظر رہتے تھے لیکن وحی کچھ عرصہ کے لیے بند ہو گئی یہ عرصہ کتنا تھا؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اسی وقفہ کو فترۃ الوحی کہتے ہیں۔ اس دوران آپ کو خود بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ کہیں میرا پروردگار مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گیا؟ اور کافر تو بہرحال ایسے موقع کی تلاش میں رہتے تھے جس سے وہ اپنے اندر کا ابال نکال سکیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج ناساز ہوا اور دو تین راتیں (نماز تہجد کے لیے) اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت (عوراء بنت حرب، ابو سفیان کی بہن اور ابو لہب کی بیوی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھتی ہوں کہ ”تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے دو تین راتوں سے اسے تیرے پاس نہیں دیکھا“ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] [3] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان خوشخبری دی اور اس وقت دی جبکہ اس کے پورا ہونے کے آثار دور دور تک کہیں نظر نہ آتے تھے۔ نیز اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار مکہ کی ایذا دہی اور ظلم و جور سے نہ گھبرائیں۔ کیونکہ آپ کی زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہو گا۔ بالفاظ دیگر رفتہ رفتہ آپ کے عز و شرف میں لگاتار ترقی ہوتی رہے گی۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آخرت میں آپ کو جو بلند مقام عطا ہو گا وہ کائنات میں کسی دوسرے کو عطا نہیں ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔