سائل کا معنی کوئی چیز مانگنے والا بھی ہے اور کوئی بات پوچھنے والا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اگر تم سے کوئی چیز مانگنے والا آئے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور دے دو اور دینے کو کچھ نہ ہو تو نرمی سے معذرت کر دو۔ یعنی سائل کو جھڑک دینا جائز نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ 1۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا کوئی شخص اپنی حاجت بیان کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے فرماتے کہ تم بھی سفارش کرو۔ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی زبان سے جو چاہے گا حکم دے گا۔ [بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا] 2۔ عبد الرحمٰن بن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”بعض دفعہ کوئی سائل میرے دروازے پر آن کھڑا ہوتا ہے جسے میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا تو میں کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فقیر کو دینے کے لیے بکری کے ایک جلے ہوئے کھر کے سوا کچھ نہ پاؤ تو وہی اس کے ہاتھ میں رکھ دو“ [ترمذی۔ ابواب الزکوٰۃ، باب ماجاء فی حق السائل] 3۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے آدمی کی خبر نہ دوں جو سب سے بد تر ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”ہاں بتائیے“ فرمایا: ”وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ کچھ نہ دے“ [نسائي۔ كتاب الزكٰوة، عمن يسئل باللٰه عزوجل ولا يعطي به]
عادی سائل کو جھڑکنے میں مضائقہ نہیں :۔
البتہ اگر مانگنے والا عادی سائل ہو اور چمٹ کر سوال کرنے والا ہو تو اسے جھڑکنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے سائلوں کو بھی اس آیت کی رو سے کچھ نہ کچھ دے ہی دیتے تھے۔ مگر یہ دینا آپ کو سخت ناگوار ہوتا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے: 1۔ سیدنا معاویہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے چمٹ کر سوال نہ کیا کرو۔ جو شخص بھی تم میں سے مجھ سے کوئی سوال کرتا ہے تو میں اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا ہوں۔ حالانکہ میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اس طرح اس چیز میں برکت نہیں رہتی جو میں اسے دیتا ہوں۔“ [مسلم، كتاب الزكوٰة باب النهي عن المسئلة] 2۔ سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کی۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم اس کے مستحق تو اور لوگ تھے۔“ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے دو باتوں میں سے مجھے کسی ایک بات پر مجبور کر دیا یا تو بے حیائی اور ڈھٹائی سے مجھ سے مانگیں یا میں ان کے آگے بخیل ٹھہروں اور میں بخل کرنے والا نہیں ہوں“ [مسلم، کتاب الزکوۃ۔ باب اعطاء المؤلفۃ۔۔] ایسی ہی احادیث سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ غیر مستحق 'عادی قسم کے اور چمٹ کر سوال کرنے والوں کو جھڑکنے میں کچھ حرج نہیں۔ اور اگر سائل کے معنی کوئی بات یا مسئلہ پوچھنے والا لیا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ سوال کرنے والا غیر مہذب، اجڈ قسم کا انسان ہو۔ ایسے شخص کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ لاعلمی کو جہالت پر محمول کرتے ہوئے مسئلہ بتا دینا اور پوری طرح سمجھا دینا چاہیے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ علم رکھنے والا خود اپنے علم کا زعم اور غرور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو اور اپنی اسی بد مزاجی پر عام لوگوں کو کوئی سوال کرنے یا مسئلہ پوچھنے پر جواب دینا پسند ہی نہ کرے اور انہیں جھڑک دے۔ یہ بڑے گناہ کی بات ہے اور اس آیت میں اسی چیز سے منع کیا گیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔