[15] یعنی دنیا دار بادشاہ جب کسی دوسری قوم یا ملک پر حملہ کرتے یا ان سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو اپنی اس کارروائی کے نتائج و عواقب پر نظر رکھتے ہیں کہ مثلاً اس حملہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ کہیں ہماری اپنی ہی رعیت تو اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہو گی؟ یا مخالف قوت ہمارے حملہ کے رد عمل کے طور پر کیا کچھ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے غرض بیسیوں قسم کے خیالات ان کے ذہن میں آتے ہیں جن کا توڑ وہ پہلے سوچ لیتے ہیں لیکن اللہ جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی بات کو سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔