ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشمس (91) — آیت 14

فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پیس کر ہلاک کر دیا، پھر اس ( بستی) کو برابر کر دیا۔ En
مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا
En
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعﺚ ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ لیکن انہوں نے رسول کو جھٹلایا [13] اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں [14] تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی پاداش میں ایسی آفت نازل کی کہ انہیں زمین بوس کر کے برابر کر دیا۔
[13] یعنی ان لوگوں نے سیدنا صالحؑ کی تنبیہ کو چنداں اہمیت نہ دی اور اس تنبیہ کو جھوٹ ہی سمجھا۔
[14] اونٹنی کو ہلاک کرنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا جو خود بھی زانی اور ایک زانیہ عورت کا عاشق تھا۔ اسی زانیہ عورت کی انگیخت پر اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ پھر ساری قوم کے لوگوں سے خفیہ مشورے کر کے ان کو ہمنوا بنا لیا تھا۔ اسی لیے اونٹنی کو ہلاک کرنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی ہے اور عذاب بھی صرف اونٹنی کو ہلاک کرنے والے پر نہیں بلکہ ساری قوم پر آیا تھا۔