ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشمس (91) — آیت 13

فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾
تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری (کا خیال رکھو)۔ En
تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو
En
انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاﻇت کرو) En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ تو اللہ کے رسول نے انہیں کہا: اللہ کی اونٹنی [12] اور اس کے پانی پینے کی باری (کے معاملہ میں بچو)
[12] ذکر قوم ثمود :۔
انہیں اللہ کے رسول یعنی صالحؑ نے پہلے ہی تاکید کر دی تھی کہ اللہ کی اس اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔ اور اسے اللہ کی اونٹنی اس لیے کہا کہ یہ ان کا منہ مانگا معجزہ تھا اور قدآور اور عظیم الجثہ اونٹنی ایک پہاڑ کے اندر سے ان کے مطالبہ پر نمودار ہوئی تھی۔ چونکہ یہ اونٹنی ان لوگوں کے مویشیوں جتنا پانی اکیلی ہی پی جاتی تھی اور پانی کی وہاں قلت بھی تھی۔ لہٰذا صالحؑ نے باری مقرر کر دی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی تاکید کر دی تھی کہ اس کے پانی پینے اور اور باری کے معاملہ میں کسی طرح کی گڑ بڑ نہ کرنا ورنہ تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا اور یہ قصہ پہلے متعدد مقامات پر تفصیل سے گزر چکا ہے۔