اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ عبد اللہ بن زمعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں صالح پیغمبر کی اونٹنی اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بد بخت اس کام کے لیے تیار ہوا وہ ایک جری، شریر اور مضبوط شخص (قدار بن سالف) تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح تھا [بخاري۔ كتاب التفسير]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔