ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 80

اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾
ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کیا ایسے فاسق لوگوں کو رب کریم ہدایت نہیں دیتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں (اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت [95] کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا
[95] آپ کا عبد اللہ بن ابی منافق کا جنازہ پڑھانے کی وجوہ:۔
غزوہ تبوک سے واپسی کے تھوڑی ہی مدت بعد عبد اللہ بن ابی بن سلول کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بیٹے کا نام بھی عبد اللہ تھا اور یہ پکے سچے مسلمان صحابی تھے اور اپنے باپ کی کرتوتوں سے خوب واقف تھے۔ جب غزوہ بنی مصطلق کے واپسی سفر کے دوران عبد اللہ بن ابی نے کہا تھا کہ مدینہ جا کر عزت والا (یعنی خود) ذلت والے کو مدینہ سے نکال کر باہر کرے گا۔ تو یہ اپنے باپ کی راہ روک کر کھڑے ہو گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ میری بھی نظروں میں چونکہ تم ہی ذلیل ہو لہٰذا تمہیں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی تب عبد اللہ رضی اللہ نے اپنے باپ کو مدینہ میں داخل ہونے دیا تھا۔ مگر باپ کی وفات پر خون نے جوش مارا اور طبیعت میں رحم، ہمدردی اور پدرانہ شفقت کے جذبات ابھر آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتہ مانگا تاکہ اس میں باپ کو دفن کریں تاکہ شاید کچھ عذاب میں کمی واقع ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وجوہ کی بنا پر اسے کرتہ دے دیا ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی طبیعت میں رحم اور عفو کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، دوسرے یہ کہ اساریٰ بدر کے فیصلہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس ننگے تھے۔ وہ طویل القامت تھے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی سے قمیص مانگی جو سیدنا عباسؓ کے قد کے موافق تھی۔ وہ اس نے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس احسان کا بدلہ چکا دیں۔ اور تیسرے یہ کہ اس حالت میں عبد اللہ صحابی کا دل شکستہ نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی درخواست پر اس منافق کا جنازہ پڑھانے کے لیے اس کے ساتھ ہوئے نیز اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن بھی لگایا۔ مزید تفصیل درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے:
سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو اس کے بیٹے عبد اللہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ اپنا کرتہ عنایت فرمائیے تاکہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرتہ دے دیا۔ پھر اس نے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے لوگوں پر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مجھے (منع نہیں کیا بلکہ) اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے تو ان لوگوں کے لئے دعا کرے یا نہ کرے اگر تو ستر بار بھی ان کے لیے دعا کرے تب بھی اللہ انہیں بخشے گا نہیں۔ میں ایسا کروں گا کہ ستر بار سے زیادہ دفعہ اس کے لیے دعا کروں گا۔“ سیدنا عمرؓ کہنے لگے کہ وہ تو منافق تھا اور اس کی کئی کرتوتیں یاد دلائیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے باوجود) اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقوں میں جب کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھو اور نہ ہی (دعائے خیر کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا [9: 84] [بخاري۔ كتاب التفسير نيز كتاب الجنائز۔ باب الكفن فى القميص مسلم۔ كتاب فضائل الصحابه۔ باب من فضائل عمر] نیز اسی سورۃ کی آیت نمبر 84 کا حاشیہ نمبر 99 بھی اسی سے متعلق ہے۔