تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک نفاق رکھ دیا جس میں وہ اس سے ملیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے اللہ سے اس کی خلاف ورزی کی جو اس سے وعدہ کیا تھا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔
En
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دنوں تک، کیونکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدے کا خلاف کیا اور کیوں کہ جھوٹ بولتے رہے
En
77۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لئے نفاق ڈال دیا جس دن وہ اس سے ملیں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی [93] کی اور اس لیے بھی کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے
[93] ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اپنے دل کی خوشی کے بجائے زکوٰۃ کو تاوان سمجھ کر یا معاشرہ کے دباؤ کے تحت مجبور ہو کر بادل نخواستہ زکوٰۃ ادا کرے وہ منافق ہے اور دوسرے یہ کہ ایسے منافق کی زکوٰۃ قبول نہیں کی جائے گی اور اگر وہ ازخود ادا کر بھی دے تو اس کا آخرت میں اسے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ منافقوں کا قصور یہی نہیں ہوتا تھا کہ دعا کے وقت جو وہ انفاق فی سبیل اللہ کا وعدہ کرتے تھے وہ پورا نہ کرتے تھے بلکہ آپ کے محصل کے سامنے جھوٹ بول کر ٹال مٹول بھی کرتے رہتے تھے۔ جبکہ آج کل کے بعض نام نہاد مسلمانوں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔