ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 59

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۙ وَ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ سَیُؤۡتِیۡنَا اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ رَسُوۡلُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾
اور کاش کہ وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔ En
اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)
En
اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دیئے ہوئے پر خوش رہتے اور کہہ دیتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی ذات سے ہی توقع رکھنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے [64] جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا تھا اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل سے (بہت کچھ) دے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں
[64] یعنی منافقوں کے حق میں بہتر یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اعتماد کرتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں پہلے ہی دے رکھا ہے اور اب جو رسول نے انہیں دیا ہے اس پر قناعت کرتے اور راضی ہو جاتے اور اگر انہیں بزعم خود کچھ کسر لگ گئی تھی تو آئندہ کے لیے اللہ کے فضل و کرم پر نگاہ رکھتے۔