وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّلۡمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡہَا رَضُوۡا وَ اِنۡ لَّمۡ یُعۡطَوۡا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡخَطُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
En
اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں
En
ان میں وه بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ اور ان میں کوئی ایسا ہے جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ [62] پر الزام لگاتا ہے۔ اگر انہیں کچھ مل جائے [63] تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں
[62] صدقات کی تقسیم میں منافقوں کا الزام:۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا، جس سے مٹی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے کہا: اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو مجھ پر اطمینان نہیں حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔“ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اپنا تہمد پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا ”اللہ کے رسول! اللہ سے ڈریئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے لیے بربادی ہو۔ کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟“ وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ “ خالد کہنے لگے: کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے لوگوں کے دلوں میں نقب لگانے اور ان کے پیٹوں کو چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اس کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔“ ابو سعید کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کروں گا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب بعث على بن ابي طالب۔ بر كتاب استتابته المرتدين۔ مسلم كتاب الزكوٰة۔ باب اعطاء المؤلفة القلوب وذكر الخوارج]
[63] منافقوں کے نزدیک انصاف کا معیار:۔
منافقوں کا مطمح نظر محض ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک صدقات کی تقسیم میں انصاف کی صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ انہیں ضرور کچھ ملنا چاہیے۔ اگر انہیں کچھ مل جائے تو باقی سب ٹھیک ہے اور خوش بھی ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں کچھ نہ ملے تو ان کے نزدیک انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے لہٰذا وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
تقسیم صدقات میں آپ کا مطمح نظر:۔
یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے رشتہ داروں پر حرام تھا اس لیے یہ تو گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ شاید کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے رکھ لیا ہو یا اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہو۔ منافقوں کو اعتراض صرف یہ ہوتا تھا کہ فلاں کو کیوں دیا اور مجھے کیوں نہ دیا یا فلاں کو زیادہ کیوں دیا اور مجھے کم کیوں دیا۔ اور یہ اعتراض محض ان کی حرص اور تنگ نظری اور آپ کی ذات پر عدم اعتماد کی بنا پر ہوتا تھا۔ اور آپ صدقات کی تقسیم میں جس چیز کو ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: عمرو بن تغلبؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”میں بعض لوگوں کو (مال وغیرہ) دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا۔ جنہیں میں دیتا ہوں وہ اس لیے نہیں دیتا کہ مجھے زیادہ محبوب ہیں بلکہ اس لیے کہ میں ان میں بے چینی اور بوکھلا پن پاتا ہوں اور جنہیں نہیں دیتا تو ان کی سیر چشمی اور بھلائی پر بھروسہ کرتا ہوں جو اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ مل جاتے تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ [بخاري۔ كتاب الجمعه۔ باب خطبة الجمعة]