اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ سنبھال لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔
En
(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں
آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو یہ کہتے ہیں ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے سے ہی درست کر لیا تھا، پھر تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں
En
50۔ اگر آپ کو کوئی بھلائی [54] ملے تو انہیں بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مصیبت آ پڑے تو کہتے ہیں۔ ”ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست رکھا تھا“ پھر وہ خوش خوش واپس چلے جاتے ہیں
[54] یعنی اگر فتح نصیب ہو تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ شکست سے دو چار ہونا پڑے تو کہتے ہیں کہ ہم نے از راہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیا تھا ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا یہی حشر ہونے والا ہے لہٰذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ پھر وہ خوشی خوشی ڈھیں گیں مارتے اور بغلیں بجاتے اپنی مجلسوں سے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔