ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 126

اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾
اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔ En
کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں
En
اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

126۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک بار یا دو بار [145] کوئی نہ کوئی مصیبت پیش آ جاتی ہے پھر بھی یہ لوگ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں
[145] یعنی کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں سال میں ایک یا دو دفعہ ان کی رسوائی نہ ہوتی ہو۔ کبھی ان کی کوئی سازش پکڑی جاتی ہے کبھی ان کا راز فاش ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی جنگ پیش آجاتی ہے جو ان کے ایمان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ کبھی یہ لوگ خود ہی ایسی بکواس کر بیٹھتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں رسوا ہونا پڑتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع پیش آتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ سیدھی راہ پر آ جائیں مکر و فریب اور جھوٹ سے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے دلوں کی نجاست میں ہر آن اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔